وفیات مورخہ: 26/مئی
1702ء زیب النساء۔ دختر اورنگ زیب عالمگیر، شاعرہ
1883ء عبد القادر الجزائری۔ امیر، مجاہد جنگ آزادی الجزائر
1890ء نواب صدیق حسن خان۔ مفسر، محدث ، مصنف
1908ء مرزا غلام احمد قادیانی۔ متنبی گذاب
1927ء گرامی ( شیخ غلام قادر گرامی)۔ فارسی شاعر
1955ء محمد ناظم۔ ڈاکٹر ،
1978ء احمد ولی الدین۔ ،
1980ء غلام اللہ خان۔ شیخ القرآن، مولانا
1990ء عشرت علی۔ دادا ،
1998ء سردار محمد خان۔ فرہنگ نویس
2006ء ریاض الحق ریاض۔ ،
2006ء محمد عمر الداعوق۔ لبنانی داعی، بانی جماعۃ عباد الرحمن
2009ء سید ممتاز سعید۔ ،
2009ء محمد سرور۔ ڈاکٹر ،
2013ء محمد اصفہانی۔ مرزا ،
2015ء حیات نظامی۔ ،
2021ء خالد سعید۔
2021ء مفتی عبدالرزاق خان۔ مولانا مفتی بھوپال
https://telegram.me/ilmokitab
1702ء زیب النساء۔ دختر اورنگ زیب عالمگیر، شاعرہ
1883ء عبد القادر الجزائری۔ امیر، مجاہد جنگ آزادی الجزائر
1890ء نواب صدیق حسن خان۔ مفسر، محدث ، مصنف
1908ء مرزا غلام احمد قادیانی۔ متنبی گذاب
1927ء گرامی ( شیخ غلام قادر گرامی)۔ فارسی شاعر
1955ء محمد ناظم۔ ڈاکٹر ،
1978ء احمد ولی الدین۔ ،
1980ء غلام اللہ خان۔ شیخ القرآن، مولانا
1990ء عشرت علی۔ دادا ،
1998ء سردار محمد خان۔ فرہنگ نویس
2006ء ریاض الحق ریاض۔ ،
2006ء محمد عمر الداعوق۔ لبنانی داعی، بانی جماعۃ عباد الرحمن
2009ء سید ممتاز سعید۔ ،
2009ء محمد سرور۔ ڈاکٹر ،
2013ء محمد اصفہانی۔ مرزا ،
2015ء حیات نظامی۔ ،
2021ء خالد سعید۔
2021ء مفتی عبدالرزاق خان۔ مولانا مفتی بھوپال
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
آفتاب غروب ہوا، قرینۂ وثوق میں دل کہتا ہے کہ: آج خاکیوں کی رسائی افلاکیوں تک ہوگئی ہوگی،ان ساکنان خطۂ خاک پر کروبیوں اور آسمانی مخلوق رشک کرتے ہوں گے،ان کی زبانوں پر آبشاری نغمے، بدن پر آبی قطرات،آنکھوں سے برستے محسوسات،قلوب میں امڈتے جذبات،اوج فلک تک پہونچنے والی سسکیوں،چٹانوں کو چٹخادینے والے غلغلے،زلزلہ انگیز آہ و بکاء،تضرع و ابتہال، عاجزی و گریہ وزاری،تپتی سنگی سلوں پر بیٹھ کر عمرِ رفتہ کی خطاؤں پر توبہ و انابت،اقرارِ جرم، اشکہائے ندامت پر رحمت ربانی سایہ فگن ہوگئی ہوگی،خاک خشک نمناک مٹی سے بدل گئی ہوگی،دخول جنت بریں کا پروانہ واھب العطایا نے مرحمت فرمادیا ہوگاـ
حج مبارک!ے آہوان حرم
حج مبارک!ے آہوان حرم
❤2
*نہ کچھ کام آئے جناب منیری*
*(بھٹکل کے الحاج محی الدین منیری مرحوم کے عازمین حج بیت اللہ کی خدمت سے وابستہ چند واقعات۔ مولانا عبد المتین منیری)*
*شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کا جب بھی حج کا سفرہوتا۔ صابو صدیق مسافر خانہ ضرور تشریف لاتے ، میری ان سے ملاقاتیں رہتیں ، ان کی مجالس میں اٹھنا بیٹھنا ہوتا۔ آپ کے ایک خلیفہ تھے مولانا عبدالمنان صاحب۔ دہلی میں کوئی دینی مدرسہ چلاتے تھے۔ ایک مرتبہ جب حضرت مدنی ؒ سفرِ حج پر جانے لگے تو انہیں بھی حضرت کی معیت میں سفر کا شوق چراّیا۔ ان کی زبان میں بڑی روانی تھی ، عربی اور اردو دونوں زبانوں میں یہ شعر کہتے تھے۔ ایسا چرب زبان شخص اپنی عمر میں میں نے کم ہی دیکھا ہے۔ انہوں نے جہاز کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلے تھے*
مزید پڑھیے اس لنک پر
https://links.fikrokhabar.com/1e7311a9
*(بھٹکل کے الحاج محی الدین منیری مرحوم کے عازمین حج بیت اللہ کی خدمت سے وابستہ چند واقعات۔ مولانا عبد المتین منیری)*
*شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کا جب بھی حج کا سفرہوتا۔ صابو صدیق مسافر خانہ ضرور تشریف لاتے ، میری ان سے ملاقاتیں رہتیں ، ان کی مجالس میں اٹھنا بیٹھنا ہوتا۔ آپ کے ایک خلیفہ تھے مولانا عبدالمنان صاحب۔ دہلی میں کوئی دینی مدرسہ چلاتے تھے۔ ایک مرتبہ جب حضرت مدنی ؒ سفرِ حج پر جانے لگے تو انہیں بھی حضرت کی معیت میں سفر کا شوق چراّیا۔ ان کی زبان میں بڑی روانی تھی ، عربی اور اردو دونوں زبانوں میں یہ شعر کہتے تھے۔ ایسا چرب زبان شخص اپنی عمر میں میں نے کم ہی دیکھا ہے۔ انہوں نے جہاز کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے بڑے پاپڑ بیلے تھے*
مزید پڑھیے اس لنک پر
https://links.fikrokhabar.com/1e7311a9
فکرو خبر نیوز
نہ کچھ کام آئے جناب منیری (بھٹکل کے الحاج
شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کا جب بھی حج کا سفرہوتا۔ صابو صدیق مسافر خانہ ضرور تشریف لاتے ، میری ان سے ملاقاتیں رہتیں ، ان کی مجالس میں اٹھنا بیٹھنا ہوتا۔ آپ کے ایک خلیفہ
شیخ محمد عمر الداعوق ۔ لبنان میں اولین اسلامی تحریک کے بانی
تحریر : عبد المتین منیری
) تاریخ وفات 26 / مئی کی مناسبت سے ایک تحریر(
1979ء میں جب تلاش معاش کے لئے پہلے پہل دبی جانا ہوا تو دو ماہ بعد غالبا جولائی پندرھویں تھی، ہمارا وزارۃ العدل والشؤون الاسلامیہ والاوقاف کے آفس پہلی مرتبہ جانا ہوا تھا، اس زمانے میں متحدہ عرب امارات کی وزارتوں کے آفس بور سعید میں جہاں جامع بور سعید واقع ہے اس کے قبلہ رخ پرسات منزلہ دو لمبی رہائشی ٹائپ کی دو عمارتوں میں ہوا کرتے تھے، ان میں سے ہر دو عمارت میں کوئی چھ بلاک ہوا کرتے تھے، اس عمارت کو اس زمانے میں مبنی الوزارات کہا جاتا تھا۔ وزارۃ الھجرۃ والجوازات، وزارۃ العمل والشؤون الاجتماعیۃ، وزارۃ الاشغال، وزارۃ الاعلام، وزارۃ التربیۃ والتعلیم سب یہیں پر واقع تھیں،دائیں جانب کے پہلے بلاک کی دو منزلوں میں وزارۃ الھجرۃ تھی، تو اس سے اوپر تیسری اور چوتھی منزل میں وزارۃ الاوقاف تھی ، جہاں وزیر کا آفس تھا، اسی کو لگ کر نماز کے لئے ایک ہال تھا۔یہیں پر پہلی مرتبہ ظہر کی نماز میں امامت کرتے شیخ محمد عمر الداعوق کو ہم نے دیکھا تھا، گورا چٹھا رنگ، طویل قامت، ڈاڑھی اور بڑے سلیقے سے کٹے ہوئے، سفید عربی لباس، جس میں کہیں کوئی سلوٹ نظر نہیں آتی تھی ۔ نماز کے بعد مختصر درس ہوا، جو بڑے سہل اور آسان اور محبت بھرے انداز میں تھا، زندگی میں کئی ساری بڑی بڑی اور اہم شخصیات کو دیکھنا نصیب ہوا، لیکن ایسی نستعلیق خوبصورت جاذب نظر اور دل کو چھو لینے والی شخصیت شاذو نادر ہی دیکھنے کو ملی۔ اس زمانے میں آپ وزارۃالاوقاف میں بحیثیت واعظ فرائض انجام دیتے تھے، دبی کا ٹیلی ویژن صبح کا پروگرام تلاوت کے بعد آپ کے درس سے شروع ہوتا تھا۔ اور شیخ صاحب کی شخصیت عرب خاص وعام میں بڑی چہیتی بن گئی تھی، اس روز کے بعد سنہ ۱۹۹۹ء تک تقریبا روزانہ آپ کے پیچھے نماز ظہر پڑھنے کا موقعہ نصیب ہوا، اس دوران آپ کی شخصیت کو قریب سے جاننے کا موقعہ ملا۔
ہم نے دیکھا کہ اگر وہ چاہتے تو ان پر ہن برس سکتا تھا، بانی امارات شیخ زاید رحمۃ اللہ کے کئی ایک بچوں کے آپ اتالیق رہےتھے ، ریڈیو اور ٹی وی سے ان کی ماہانہ لاکھوں کی آمدنی ہوسکتی تھی، وہ ماذون شرعی تھی، نکاح پڑھوانے سے بھی بہت ساری آمدنی ممکن تھی، لیکن ان ذرائع آمدنی کو انہوں نے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا، نکاح پڑھوانے کا اجازت نامہ انہوں نے نوجوان شیخ مالک الشعار کو سونپ دیا، جو طرابلس ، لبنان سے تعلق رکھتے تھے،اور اوقاف میں ایک طویل عرصہ تک ہمارے ساتھ رہے تھے، پھر اپنے وطن میں منصب قضاء پر فائز رہے، وہاں دینی وا صلاحی میدانوں میں بڑی خدمت کی۔ شیخ صاحب کے پیچھے ضرورت مندوں اور حاجت مندوں کا تانتا لگا رہتا تھا، ان کے ہاتھ قرض خواہوں کے لئے ہمیشہ کشادہ رہتے تھے، اس کے لئے انہوں نے ایک اقرار نامہ بنایا تھا، جس پر قرض خواہ اور دو گواہوں کے دستخط ہوتے تھے۔ اس طرح وہ قرض دینے کے لئے قرآن کے احکامات کی اتباع کرتے تھے، وزارت میں مصلی سے متصل ایک کمرہ تھا، جس میں وہ زیادہ تر آرام کرتے تھے،اس کمرہ کو انہوں نے عجوبہ روزگار بنا دیا تھا۔ بغیر بجلی روازہ کھلنے اور دوسری ضروریات پوری ہونے کا آٹو میٹنک نظام بنادیا تھا۔
شیخ داعوق کی پیدا ئش سنہ 1910ء میں بیروت کے ایک معروف خاندان میں ہوئی تھی، یہ خاندان اندلس اور مراکش سے ہجرت کرتا ہوا،لبنان تک پہنچا تھا۔ آپ کے جد امجد نے وسط بیروت میں زاویۃ المغاربۃ ( مراکشی خانقاہ) کی تعمیر میں حصہ لیا تھا، آپ کے خاندان میں کئی بڑے سیاست دان اور تاجر پیدا ہوئے، ان میں انیسویں صدی کے عثمانی دور کے احمد الداعوق ہیں، جو بازار باشی کے لقب سے معروف ہوئے۔ 1918ء میں لبنان سے عثمانیوں کے نکل جانے کے بعد عمرمحمد الداعوق بیروت کے میئر اور جمعٰیۃ المقاصد الخیریۃ کے صدر بنے، اسی طرح فرانسیسی دور میں احمد الداعوق ، وزیر اعظم بنے۔
تعلیم : مکتبی تعلیم کے بعد آپ نے ٹیکنکل تعلیم حاصل کی، اور مدرسۃ الصنائع المھنیہ سے ڈگری حاصل کی۔ اور انجینیر محمد الداعوق کے نام سے جانے پہچانے لگے۔ دینی تعلیم کے لئے آپ نے شیخ سعدی یاسین الصباغ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ اور خود سے مطالعہ کرکے بھی اپنی دینی تعلیمی پیاس بجھائی۔
اس وقت فلسطین انگریزی تسلط میں آگیا تھا، اور وہاں کاریگروں کی بڑی مانگ ہوگئی تھی، تو آپ نے وہاں پر لیتھ مشین کا ایک جدید کارخانہ قائم کیا، آپ کا وہاں کاروں کی ریپیرنگ کا ایک گیریج بھی تھا۔ لیکن جب 1947ء میں فلسطین پر افتاد پڑی، اور تباہی وبربادی کے بادل منڈلانے لگے تو آپ اسے چھوڑ چھاڑ کر لبنان واپس آگئے۔ یہاں آپ نے دعوتی اور اصلاحی سرگرمیوں کا آغاز کردیا،
دعوت و تبلیغ:
تحریر : عبد المتین منیری
) تاریخ وفات 26 / مئی کی مناسبت سے ایک تحریر(
1979ء میں جب تلاش معاش کے لئے پہلے پہل دبی جانا ہوا تو دو ماہ بعد غالبا جولائی پندرھویں تھی، ہمارا وزارۃ العدل والشؤون الاسلامیہ والاوقاف کے آفس پہلی مرتبہ جانا ہوا تھا، اس زمانے میں متحدہ عرب امارات کی وزارتوں کے آفس بور سعید میں جہاں جامع بور سعید واقع ہے اس کے قبلہ رخ پرسات منزلہ دو لمبی رہائشی ٹائپ کی دو عمارتوں میں ہوا کرتے تھے، ان میں سے ہر دو عمارت میں کوئی چھ بلاک ہوا کرتے تھے، اس عمارت کو اس زمانے میں مبنی الوزارات کہا جاتا تھا۔ وزارۃ الھجرۃ والجوازات، وزارۃ العمل والشؤون الاجتماعیۃ، وزارۃ الاشغال، وزارۃ الاعلام، وزارۃ التربیۃ والتعلیم سب یہیں پر واقع تھیں،دائیں جانب کے پہلے بلاک کی دو منزلوں میں وزارۃ الھجرۃ تھی، تو اس سے اوپر تیسری اور چوتھی منزل میں وزارۃ الاوقاف تھی ، جہاں وزیر کا آفس تھا، اسی کو لگ کر نماز کے لئے ایک ہال تھا۔یہیں پر پہلی مرتبہ ظہر کی نماز میں امامت کرتے شیخ محمد عمر الداعوق کو ہم نے دیکھا تھا، گورا چٹھا رنگ، طویل قامت، ڈاڑھی اور بڑے سلیقے سے کٹے ہوئے، سفید عربی لباس، جس میں کہیں کوئی سلوٹ نظر نہیں آتی تھی ۔ نماز کے بعد مختصر درس ہوا، جو بڑے سہل اور آسان اور محبت بھرے انداز میں تھا، زندگی میں کئی ساری بڑی بڑی اور اہم شخصیات کو دیکھنا نصیب ہوا، لیکن ایسی نستعلیق خوبصورت جاذب نظر اور دل کو چھو لینے والی شخصیت شاذو نادر ہی دیکھنے کو ملی۔ اس زمانے میں آپ وزارۃالاوقاف میں بحیثیت واعظ فرائض انجام دیتے تھے، دبی کا ٹیلی ویژن صبح کا پروگرام تلاوت کے بعد آپ کے درس سے شروع ہوتا تھا۔ اور شیخ صاحب کی شخصیت عرب خاص وعام میں بڑی چہیتی بن گئی تھی، اس روز کے بعد سنہ ۱۹۹۹ء تک تقریبا روزانہ آپ کے پیچھے نماز ظہر پڑھنے کا موقعہ نصیب ہوا، اس دوران آپ کی شخصیت کو قریب سے جاننے کا موقعہ ملا۔
ہم نے دیکھا کہ اگر وہ چاہتے تو ان پر ہن برس سکتا تھا، بانی امارات شیخ زاید رحمۃ اللہ کے کئی ایک بچوں کے آپ اتالیق رہےتھے ، ریڈیو اور ٹی وی سے ان کی ماہانہ لاکھوں کی آمدنی ہوسکتی تھی، وہ ماذون شرعی تھی، نکاح پڑھوانے سے بھی بہت ساری آمدنی ممکن تھی، لیکن ان ذرائع آمدنی کو انہوں نے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا، نکاح پڑھوانے کا اجازت نامہ انہوں نے نوجوان شیخ مالک الشعار کو سونپ دیا، جو طرابلس ، لبنان سے تعلق رکھتے تھے،اور اوقاف میں ایک طویل عرصہ تک ہمارے ساتھ رہے تھے، پھر اپنے وطن میں منصب قضاء پر فائز رہے، وہاں دینی وا صلاحی میدانوں میں بڑی خدمت کی۔ شیخ صاحب کے پیچھے ضرورت مندوں اور حاجت مندوں کا تانتا لگا رہتا تھا، ان کے ہاتھ قرض خواہوں کے لئے ہمیشہ کشادہ رہتے تھے، اس کے لئے انہوں نے ایک اقرار نامہ بنایا تھا، جس پر قرض خواہ اور دو گواہوں کے دستخط ہوتے تھے۔ اس طرح وہ قرض دینے کے لئے قرآن کے احکامات کی اتباع کرتے تھے، وزارت میں مصلی سے متصل ایک کمرہ تھا، جس میں وہ زیادہ تر آرام کرتے تھے،اس کمرہ کو انہوں نے عجوبہ روزگار بنا دیا تھا۔ بغیر بجلی روازہ کھلنے اور دوسری ضروریات پوری ہونے کا آٹو میٹنک نظام بنادیا تھا۔
شیخ داعوق کی پیدا ئش سنہ 1910ء میں بیروت کے ایک معروف خاندان میں ہوئی تھی، یہ خاندان اندلس اور مراکش سے ہجرت کرتا ہوا،لبنان تک پہنچا تھا۔ آپ کے جد امجد نے وسط بیروت میں زاویۃ المغاربۃ ( مراکشی خانقاہ) کی تعمیر میں حصہ لیا تھا، آپ کے خاندان میں کئی بڑے سیاست دان اور تاجر پیدا ہوئے، ان میں انیسویں صدی کے عثمانی دور کے احمد الداعوق ہیں، جو بازار باشی کے لقب سے معروف ہوئے۔ 1918ء میں لبنان سے عثمانیوں کے نکل جانے کے بعد عمرمحمد الداعوق بیروت کے میئر اور جمعٰیۃ المقاصد الخیریۃ کے صدر بنے، اسی طرح فرانسیسی دور میں احمد الداعوق ، وزیر اعظم بنے۔
تعلیم : مکتبی تعلیم کے بعد آپ نے ٹیکنکل تعلیم حاصل کی، اور مدرسۃ الصنائع المھنیہ سے ڈگری حاصل کی۔ اور انجینیر محمد الداعوق کے نام سے جانے پہچانے لگے۔ دینی تعلیم کے لئے آپ نے شیخ سعدی یاسین الصباغ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ اور خود سے مطالعہ کرکے بھی اپنی دینی تعلیمی پیاس بجھائی۔
اس وقت فلسطین انگریزی تسلط میں آگیا تھا، اور وہاں کاریگروں کی بڑی مانگ ہوگئی تھی، تو آپ نے وہاں پر لیتھ مشین کا ایک جدید کارخانہ قائم کیا، آپ کا وہاں کاروں کی ریپیرنگ کا ایک گیریج بھی تھا۔ لیکن جب 1947ء میں فلسطین پر افتاد پڑی، اور تباہی وبربادی کے بادل منڈلانے لگے تو آپ اسے چھوڑ چھاڑ کر لبنان واپس آگئے۔ یہاں آپ نے دعوتی اور اصلاحی سرگرمیوں کا آغاز کردیا،
دعوت و تبلیغ:
بیروت واپسی پر آپ نے اپنی دعوتی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے لوگوں سے گفتگو شروع کی، انہیں اللہ کی اطاعت اور دین کی طرف لوٹنے کی ترغیب دی، اور انہیں آپس میں اتحاد و یکجہتی کی دعوت دی تاکہ ان کا وہ حشر نہ ہو جو فلسطین کے لوگوں کا ہوا تھا۔ وہ دعوت کے لیے ہر موقع، ہر منبر اور ہر فورم کا استعمال کرتے تھے۔
بیروت کے علاقے "طریق الجدیدة" میں واقع مسجد امام علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور تجارتی مرکز (ڈاؤن ٹاؤن) میں واقع "المسجد العمری" میں ان کے باقاعدہ دروس ہوا کرتے تھے۔
لبنان میں "جماعتِ عباد الرحمن" کا قیام:
جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ ان کی دعوت کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور مثبت ردعمل دے رہے ہیں، تو انہوں نے بیروت میں اپنے بھائیوں کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر ایک جماعت قائم کرنے کا سوچا، اور یوں "جماعت عباد الرحمن" کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اچھے اخلاق کو پھیلانا اور نوجوانوں کی تربیت کرنا تھا۔ سنہ 1951ء میں انہوں نے حکومت سے اس کا باقاعدہ لائسنس حاصل کیا اور "البسطة الفوقا" کے علاقے میں اس کا مرکز کھولا، اور یوں آپ لبنان میں "جماعت عباد الرحمن" کے قائد اور روحِ رواں بن گئے۔
اس وقت سے جماعت کے نوجوانوں نے بیروت اور دیگر شہروں اور دیہاتوں کی مساجد میں پھیلنا شروع کر دیا، وہ لوگوں میں خطابات کرتے، انہیں اللہ کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتے، اور انہیں ہر ممکن سماجی خدمات اور مدد فراہم کرتے۔
ساٹھ کی دہائی میں، نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے پیشِ نظر، انہوں نے اپنا ذاتی کاروبار چھوڑ دیا اور خود کو مکمل طور پر دعوت کے لیے وقف کر دیا۔
اس مرحلے پر ان کی سرگرمیاں کئی گنا بڑھ گئیں؛ جیسے مساجد میں خطبے دینا، فورمز اور ریڈیو پر گفتگو کرنا، رسالوں کے لیے لکھنا، اور کھیلوں کے دورے اور اسکاؤٹ کیمپوں کا انعقاد کرنا۔
شیخ محمد عمر الداعوق منظم جماعت قائم رکرکے دعوتی و تحریکی کام کا آغاز کرنےو الے لبنان کے پہلے داعی تھے، ابھی لبنان میں اخوان کی تحریک کا آغاز نہیں ہوا تھا، شیخ کی دعوت کا میدان اصلاح معاشرہ اور دعوت دین تک محدود تھا، آپ کو سیاسی کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس زمانے میں تونس ، الجزائر، یمن ، مصر وغیرہ دنیا بھر کی تحریکی ودینی شخصیات لبنان میں آپ ہی کی مہمان ہوتی تھی، ان میں سے ایک ہم مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن ندوی ؒ کی شخصیت بھی تھی جنہوں نے اپنے سفرنامے شرق اوسط کی ڈائری میں اپریل 1956ء میں لبنان میں آپ کی شخصیت کے بارے میں یوں تاثرات بیان کئے ہیں۔
ایک پیکر دعوت شخصیت شیخ ابوعمر لبنانی: کچھ تعارف
بیروت کے علاقے "طریق الجدیدة" میں واقع مسجد امام علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور تجارتی مرکز (ڈاؤن ٹاؤن) میں واقع "المسجد العمری" میں ان کے باقاعدہ دروس ہوا کرتے تھے۔
لبنان میں "جماعتِ عباد الرحمن" کا قیام:
جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ ان کی دعوت کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور مثبت ردعمل دے رہے ہیں، تو انہوں نے بیروت میں اپنے بھائیوں کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر ایک جماعت قائم کرنے کا سوچا، اور یوں "جماعت عباد الرحمن" کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اچھے اخلاق کو پھیلانا اور نوجوانوں کی تربیت کرنا تھا۔ سنہ 1951ء میں انہوں نے حکومت سے اس کا باقاعدہ لائسنس حاصل کیا اور "البسطة الفوقا" کے علاقے میں اس کا مرکز کھولا، اور یوں آپ لبنان میں "جماعت عباد الرحمن" کے قائد اور روحِ رواں بن گئے۔
اس وقت سے جماعت کے نوجوانوں نے بیروت اور دیگر شہروں اور دیہاتوں کی مساجد میں پھیلنا شروع کر دیا، وہ لوگوں میں خطابات کرتے، انہیں اللہ کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتے، اور انہیں ہر ممکن سماجی خدمات اور مدد فراہم کرتے۔
ساٹھ کی دہائی میں، نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے پیشِ نظر، انہوں نے اپنا ذاتی کاروبار چھوڑ دیا اور خود کو مکمل طور پر دعوت کے لیے وقف کر دیا۔
اس مرحلے پر ان کی سرگرمیاں کئی گنا بڑھ گئیں؛ جیسے مساجد میں خطبے دینا، فورمز اور ریڈیو پر گفتگو کرنا، رسالوں کے لیے لکھنا، اور کھیلوں کے دورے اور اسکاؤٹ کیمپوں کا انعقاد کرنا۔
شیخ محمد عمر الداعوق منظم جماعت قائم رکرکے دعوتی و تحریکی کام کا آغاز کرنےو الے لبنان کے پہلے داعی تھے، ابھی لبنان میں اخوان کی تحریک کا آغاز نہیں ہوا تھا، شیخ کی دعوت کا میدان اصلاح معاشرہ اور دعوت دین تک محدود تھا، آپ کو سیاسی کاموں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس زمانے میں تونس ، الجزائر، یمن ، مصر وغیرہ دنیا بھر کی تحریکی ودینی شخصیات لبنان میں آپ ہی کی مہمان ہوتی تھی، ان میں سے ایک ہم مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن ندوی ؒ کی شخصیت بھی تھی جنہوں نے اپنے سفرنامے شرق اوسط کی ڈائری میں اپریل 1956ء میں لبنان میں آپ کی شخصیت کے بارے میں یوں تاثرات بیان کئے ہیں۔
ایک پیکر دعوت شخصیت شیخ ابوعمر لبنانی: کچھ تعارف
اب کچھ ابوعمر کے بارے میں بھی سنتے چلے۔ ابوعمر لبنان کے وہ مخلص داعی ہیں جس نے دعوت اسلامی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے، وہ پیکر دعوت ہیں، ہمہ وقت یہی فکر ان پر غالب رہتی ہے۔ پیکر دعوت کہہ کر میں نے سب کچھ کہہ دیا۔ لبنان وہ شہر ہے جس کو بعض اہل نظر (لبنانی دوستوں سے معذرت کے ساتھ) مشرق عربی میں فحاشی کا اڈہ کہتے ہیں، لبنان ہی وہ شہر ہے جس کو مغرب نے اپنے زہر و غلاظت کو بلاد عربیہ میں پھیلانے کا مرکز بنایا ہے، یہاں دعوت اسلامی استقامت و حسن اخلاق کی کتنی شدید ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دعوت کو پھیلانے نو جوانوں کی تربیت ان کا ذہن بنانے اور یہاں کے فساد و بگاڑ کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک ایسے شخص کو منتخب فرمایا جو نہ عالم ہے نہ دینی ماحول کا پروردہ، وہ ایک ماہر میکا نک انجینیر ہے جو ایک بڑی کمپنی میں کام کرتا ہے، اس مرد صالح کو لوگ عمر داعوق کے نام سے یاد کرتے ہیں ، داعوق لبنان کا ایک خوشحال مسلم گھرانہ ہے، دعوت کے اس عظیم کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک انجینیر کو منتخب فرمایا کسی عالم کو نہیں ” ﴿وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ﴾ “ (تمہارا رب جو چاہے پیدا کرتا ہے اور منتخب فرماتا ہے) ” ﴿لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ﴾ “ ”وہ جو کچھ بھی کرے اس کا کوئی محاسبہ نہیں کرسکتا اس کے ماسوا سے محاسبہ ہوگا ، استاذ ابوعمر ہم کو اپنے گھر لے گئے وہیں عشاء پڑھی اور رات کا کھانا بھی کھایا۔ ہم ”جماعۃ عباد الرحمن“ کی عملی سرگرمی ورزشی مشقوں اور ان کے کیمپوں کی تصویروں سے باخبر ہوئے ، میں نے سمندر میں ان کے فن پیراکی و جمپنگ کو دیکھا، دوڑنے اور ہائی جمپ اور دیگر قسم قسم کی ورزشوں اور اسکاوٹنگ کو دیکھا جو ہمت و خطر پسندی اور نظم و ڈسپلن میں کسی بڑی سے بڑی اسکاوٹنگ تنظیم سے کم نہیں۔ یہ سب کچھ نماز باجماعت کی پابندی اور اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی اور کیمپوں میں دینی درس و مقالات کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔ ہمیں معلوم ہوا کہ اس سرگرمی میں شرکت کرنے اور کیمپوں میں وقت گزارنے والے نوجوانوں کی تعداد کبھی کبھی پانچ سو تک پہونچ جاتی ہے، اس جماعت کی اپنی مخصوص موٹریں ہیں جو اس کے اراکین کو ان مقامات پر جہاں کیمپ لگتا ہے پہنچاتی ہیں۔ ہم نے جو کچھ دیکھا سنا اس سے مسرور و شادماں ہوٹل واپس آئے اور پورا دن بلکہ رات کا بھی کچھ حصہ چلنے پھرنے اور ملاقات میں گزارنے کے بعد اطمینان کی رات گزاری۔
اس مرحلے پر ان کی سرگرمیاں کئی گنا بڑھ گئیں؛ جیسے مساجد میں خطبے دینا، فورمز اور ریڈیو پر گفتگو کرنا، رسالوں کے لیے لکھنا، اور کھیلوں کے دورے اور اسکاؤٹ کیمپوں کا انعقاد کرنا۔
شيخ اسماعیل بن سعد بن اسماعیل العتیق کہتے ہیں: "شیخ فتحی یکن، بیروت میں شیخ عمر الداعوق کی سربراہی میں کام کرنے والے 'عباد الرحمن' گروپ کا حصہ تھے۔ شیخ عمر الداعوق، جیسا کہ وہ خود اپنے بارے میں بتاتے تھے، روایتی معنی میں بڑے عالم دین نہیں تھے، بلکہ وہ حکمرانوں اور امراء سے مدد لے کر اسلام کی خدمت کرنے کا رجحان رکھتے تھے۔ انہوں نے شاہ سعود (رحمہ اللہ) سے اپنے اور اپنی جماعت کے لیے ایک مسجد اور ایک مرکز بنانے کی درخواست کی، جس کے ذریعے وہ خواتین کی کچھ سرگرمیاں چلا سکیں۔ بادشاہ نے مسجد اور مرکز بنا کر 'عباد الرحمن' گروپ کی مدد کرنے کی منظوری دے دی۔ اس بات پر سیاسی سوچ رکھنے والے نوجوانوں کا شیخ عمر الداعوق سے اختلاف ہو گیا، کیونکہ وہ بادشاہوں سے مدد لینے کو اپنے کام کو قابو کرنے کی کوشش سمجھتے تھے۔ چنانچہ شیخ فتحی یکن کی سربراہی میں 'جمعية الأخلاق' (اخلاق سوسائٹی) بنی جو بعد میں 'الجماعة الإسلامية' (اسلامک گروپ) کے نام میں تبدیل ہو گئی اور انہوں نے 'الشہاب' کے نام سے ایک سیاسی اخبار بھی نکالا۔"
اس نئی جماعت کی سرگرمیاں صیدا اور طرابلس تک پھیل گئیں۔ پھر داعیوں کے ایک گروپ (جن میں فتحی یکن اور ابراہیم المصری شامل تھے) نے محسوس کیا کہ اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے، چنانچہ "الجماعت الاسلامیہ" طرابلس میں عام اسلامی سیاسی عمل کی طرف مائل ہو گئی۔
آپ کی جماعت عباد الرحمن کی سرگرمیوں کے محدود ہونے اور اس کی جگہ دوسری جماعتوں کے لینے کا یہ بھی سبب بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے بیروت میں 1948ء میں اسرائیل کے ہاتھوں مسلمانوں کی شکست کے بعد، "جماعت عباد الرحمن" کی بنیاد رکھی تھی ۔ اور 1951ء میں انہوں نے جماعت عباد الرحمن کی طرف سے لبنانی کتائب پارٹی کے سربراہ پیار الجمیل (Pierre Gemayel) کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کی رو سے اخلاقی اقدار و اصولوں کی ترویج اور لبنان پر بیرونی جارحیت کو روکنے کے لیے مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین تعاون طے پایا تھا۔ اس معاہدے کو اسلامی اور عیسائی دونوں حلقوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اور اس کے نتیجے میں ان کی تحریک کی مقبولیت اور پھیلاؤ میں کمی آ گئی۔
خلیج کی طرف ہجرت:
اس مرحلے پر ان کی سرگرمیاں کئی گنا بڑھ گئیں؛ جیسے مساجد میں خطبے دینا، فورمز اور ریڈیو پر گفتگو کرنا، رسالوں کے لیے لکھنا، اور کھیلوں کے دورے اور اسکاؤٹ کیمپوں کا انعقاد کرنا۔
شيخ اسماعیل بن سعد بن اسماعیل العتیق کہتے ہیں: "شیخ فتحی یکن، بیروت میں شیخ عمر الداعوق کی سربراہی میں کام کرنے والے 'عباد الرحمن' گروپ کا حصہ تھے۔ شیخ عمر الداعوق، جیسا کہ وہ خود اپنے بارے میں بتاتے تھے، روایتی معنی میں بڑے عالم دین نہیں تھے، بلکہ وہ حکمرانوں اور امراء سے مدد لے کر اسلام کی خدمت کرنے کا رجحان رکھتے تھے۔ انہوں نے شاہ سعود (رحمہ اللہ) سے اپنے اور اپنی جماعت کے لیے ایک مسجد اور ایک مرکز بنانے کی درخواست کی، جس کے ذریعے وہ خواتین کی کچھ سرگرمیاں چلا سکیں۔ بادشاہ نے مسجد اور مرکز بنا کر 'عباد الرحمن' گروپ کی مدد کرنے کی منظوری دے دی۔ اس بات پر سیاسی سوچ رکھنے والے نوجوانوں کا شیخ عمر الداعوق سے اختلاف ہو گیا، کیونکہ وہ بادشاہوں سے مدد لینے کو اپنے کام کو قابو کرنے کی کوشش سمجھتے تھے۔ چنانچہ شیخ فتحی یکن کی سربراہی میں 'جمعية الأخلاق' (اخلاق سوسائٹی) بنی جو بعد میں 'الجماعة الإسلامية' (اسلامک گروپ) کے نام میں تبدیل ہو گئی اور انہوں نے 'الشہاب' کے نام سے ایک سیاسی اخبار بھی نکالا۔"
اس نئی جماعت کی سرگرمیاں صیدا اور طرابلس تک پھیل گئیں۔ پھر داعیوں کے ایک گروپ (جن میں فتحی یکن اور ابراہیم المصری شامل تھے) نے محسوس کیا کہ اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے، چنانچہ "الجماعت الاسلامیہ" طرابلس میں عام اسلامی سیاسی عمل کی طرف مائل ہو گئی۔
آپ کی جماعت عباد الرحمن کی سرگرمیوں کے محدود ہونے اور اس کی جگہ دوسری جماعتوں کے لینے کا یہ بھی سبب بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے بیروت میں 1948ء میں اسرائیل کے ہاتھوں مسلمانوں کی شکست کے بعد، "جماعت عباد الرحمن" کی بنیاد رکھی تھی ۔ اور 1951ء میں انہوں نے جماعت عباد الرحمن کی طرف سے لبنانی کتائب پارٹی کے سربراہ پیار الجمیل (Pierre Gemayel) کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے، جس کی رو سے اخلاقی اقدار و اصولوں کی ترویج اور لبنان پر بیرونی جارحیت کو روکنے کے لیے مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین تعاون طے پایا تھا۔ اس معاہدے کو اسلامی اور عیسائی دونوں حلقوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اور اس کے نتیجے میں ان کی تحریک کی مقبولیت اور پھیلاؤ میں کمی آ گئی۔
خلیج کی طرف ہجرت:
ستر کی دہائی کے اوائل میں، جب انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے نوجوان ساتھی دعوت اور جماعت کی قیادت میں پختہ ہو چکے ہیں، تو انہوں نے شارقہ کے حاکم شیخ خالد بن محمد القاسمی مرحوم کی دعوت پر خلیج کا رخ کیا تاکہ وہاں وعظ و ارشاد کا کام سنبھالیں۔ وہ شروع میں وہاں آتے جاتے رہے، یہاں تک کہ 1975ء میں وہ مستقل طور پر وہاں مقیم ہو گئے اور لبنان سے ان کا تعلق عملی طور پر منقطع ہو گیا (ان کا آخری دورہِ لبنان 1979ء میں تھا)۔
انہوں نے وہاں سے اپنی دعوت کا سفر جاری رکھا؛ وہ روزانہ "ریڈیو شارقہ" پر گفتگو کرتے تھے، اور پھر مختلف میڈیا ذرائع بشمول ٹیلی ویژن کے ذریعے ایک دینی استاد اور رہنما کے طور پر درس دیتے رہے۔
آپ کو خلیج کے ممالک میں وہ شاندار مہمان نوازی، عزت اور سرپرستی ملی جس کے وہ حقدار تھے، اور انہوں نے وہاں ایسا نیک نام کمایا کہ لوگ خاندانی تنازعات اور سماجی مسائل کے حل کے لیے ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔
وفات:
طویل دعوتی جدوجہد، سرگرمی، اور مسلمانوں کے اتحاد کی کوششوں سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد، اتوار کی صبح 26 صفر 1427ھ مطابق 26 مارچ 2006ء کو اللہ تعالی نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
Https://telegram.me/ilmokitab
انہوں نے وہاں سے اپنی دعوت کا سفر جاری رکھا؛ وہ روزانہ "ریڈیو شارقہ" پر گفتگو کرتے تھے، اور پھر مختلف میڈیا ذرائع بشمول ٹیلی ویژن کے ذریعے ایک دینی استاد اور رہنما کے طور پر درس دیتے رہے۔
آپ کو خلیج کے ممالک میں وہ شاندار مہمان نوازی، عزت اور سرپرستی ملی جس کے وہ حقدار تھے، اور انہوں نے وہاں ایسا نیک نام کمایا کہ لوگ خاندانی تنازعات اور سماجی مسائل کے حل کے لیے ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔
وفات:
طویل دعوتی جدوجہد، سرگرمی، اور مسلمانوں کے اتحاد کی کوششوں سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد، اتوار کی صبح 26 صفر 1427ھ مطابق 26 مارچ 2006ء کو اللہ تعالی نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
علم و کتاب لائبریری گروپ تجربانی طور پر بنایا گیا ہے، اس چینل کو چھوڑ کر احباب اس مین شریک نہ ہوں، کیونکہ اس میں گروپ کا محدود مواد ٹرانسفر ہوگا۔ یہ اصل چینل باقی رہے گا۔ عبد المتین منیری
*وفیات مورخہ: 27/مئی*
1935ء مسعود حسن۔ پروفیسر، ماہر تعلیم
1961ء خواجہ دل محمد دل۔ ریاضی دان، ماہرتعلیم
1964ء جواہر لال نہرو۔ وزیر اعظم ہند ،
1967ء شاہد احمد دبلوی۔ مدیر ساقی دہلی ،
1969ء ناطق گلاؤٹھوی (سید ابو الحسن)۔ شاعر
1986ء بلونت سنگھ۔ ادیب، نقاد
1988ء احسن مارہروی۔ ادیب ومحقق
1996ء صمد شاہین۔ ،
2000ء علی نواز وفائی۔ ،
Https://telegram.me/ilmokitab
1935ء مسعود حسن۔ پروفیسر، ماہر تعلیم
1961ء خواجہ دل محمد دل۔ ریاضی دان، ماہرتعلیم
1964ء جواہر لال نہرو۔ وزیر اعظم ہند ،
1967ء شاہد احمد دبلوی۔ مدیر ساقی دہلی ،
1969ء ناطق گلاؤٹھوی (سید ابو الحسن)۔ شاعر
1986ء بلونت سنگھ۔ ادیب، نقاد
1988ء احسن مارہروی۔ ادیب ومحقق
1996ء صمد شاہین۔ ،
2000ء علی نواز وفائی۔ ،
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
آج اردو کے مایہ ناز ادیب ومحسن شاہد احمد دہلوی مدیر ساقی دہلی کا یوم وفات ہے، آپ کا انتقال مورخہ 27 مئی 1967ء ہوا تھا۔ اس مناسبت سے آپ کی آواز میں آب بیتی پر مشتمل آڈیو لنک منسل ہے۔
پیشکش اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=zindagi-kay-ibtidai-shab-o-roaz, Zindagi kay Ibtidai Shab o Roaz
پیشکش اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=zindagi-kay-ibtidai-shab-o-roaz, Zindagi kay Ibtidai Shab o Roaz
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
Mr Sid
آفتاب غروب ہوا، قرینۂ وثوق میں دل کہتا ہے کہ: آج خاکیوں کی رسائی افلاکیوں تک ہوگئی ہوگی،ان ساکنان خطۂ خاک پر کروبیوں اور آسمانی مخلوق رشک کرتے ہوں گے،ان کی زبانوں پر آبشاری نغمے، بدن پر آبی قطرات،آنکھوں سے برستے محسوسات،قلوب میں امڈتے جذبات،اوج فلک تک پہونچنے…
*اگر فردوس بر روئے زمیں است*
✍🏻
حؔرم مکی میں نماز با جماعت کا منظر دیدنی ہوتا ہے؛چہار سو انسان ہی انسان اور ہر چہار طرف سے قبلہ رخ بوسہ ہائے شوق اور سجدہ ہائے ذوق دکھائی دیتے، جسے قدوسیوں کی فوج ظفر موج تسبیح کناں عرش سے فرش پر اتر آئی ہے اور ایسے میں مسجد حرام رشک فردوس و عدن نظر آئے تو حیرت کیسی؟
جؔہانگیر نے تو کشمیر کے مرغ زاروں کو دیکھ کر کہا تھا:
؎ اگر فردوس بر روئے زمین است
همین است و همین است و همین است
اور مجھے بیت عتیق کی دل آویزیاں اور دل ربائیاں رہ گزار مکہ میں ہی ۔۔۔ اسی شعر کو دہرانے پر انگیخت کردیے تیں اور کیوں نہ ہو کہ وہ منزل ملائک بھی ہے اور فرودگاه رحمت بھی، کہ کسی لمحہ بھی اس کا صحن ستر ہزار فرشتے سے خالی نہیں رہتا اور پھر اسی کو تو ہاجرہ و اسماعیل (علیها السلام) کا مسکن اور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا مولد بنایا گیا اور اس کی چوکھٹ پر اس نے اپنے سر کو جھکایا کہ کائنات جس کے سامنے جھکتی تھی، اور دنیا میں کن سنگریزوں اور پتھروں کو یہ شرف حاصل ہوا کہ میرے آقا و مولیٰ نے اپنے لب لعلین و دست مبارک سے ان کو چوما اور ان کو چھوا۔
دیوار کعبہ! تو مبارک کہ یتیم مکہ نے تیرے سینے سے اپنے سینے کو مس کیا۔
باب کعبہ! تو مقدس کہ تیری دہلیز میں خاتم النبین نے سجدے کئے۔
ملتزم! تو محترم کہ رؤف و رحیم تجھ سے لپٹے اور چمٹے۔
حجر اسود! تو عزیز تر کہ خاتم الانبیاء نے تجھ پر اپنے لب رکھے۔
رکن یمانی! تو مکرم کہ طیب و طاہر کے بابا نے تجھ کو سہلایا اور تھپکایا۔
مقام ابراہیم! تو محتشم کہ سرتاج انبیاءنے تجھے اپنے سجدوں سے سجایا۔
زمین حرم! تو ساری کی ساری گرامئ منزلت کہ سرور گرامی منزلت کی پیشانی نے تیرے بوسے لیے۔
ایام حج میں سرزمین حجاز پر واقعی بہار آجاتی ہے اور رنگ برنگے شگوفے اس کی گود میں کھلتے اور طرح طرح کی کلیاں اس میں مسکراتیں اور قسم قسم کے پھول اس میں نظر نوازی اور روح پروری کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ جدھر دیکھو ایک نئی شان،نئی آن نئی بان نظر آتی ہے۔
کئی گورے انتہائی گورے موتئے کے پھولوں کی طرح سفید... اور کہیں کالے انتہائی کالے بلیک روز (سیاہ گلاب) سے بھی کالے اور کچھ گلابی اور شہابی اور کچھ گیندے کی طرح بھانت بھانت کے رنگ اور بھانت کی بولیاں اور دیس بدیس کے لوگ ،ہؔمالہ کی ترائیوں سے لے کر جبال بؔرانس کی چوٹیوں تک کے رہنے والے اور ساحل نؔیل سے لے کر ارض کؔاشغر تک کے بسنے والے، ایک ہی لباس میں ملبوس اور ایک ہی رجز لبوں پر،حرمین میں انسان اپنی آنکھوں سے رنگ و نسل کے ان بتوں کو پاش پاش دیکھتا ہے، جنہیں رسول اکرم نے چودہ سو سال پیشتر بطحائے مکہ کے پڑوس عرفات میں چکنا چور کر دیا تھا۔ کسی گورے کو کالے پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ، فضیلت کا معیار ایک ہی ہے اور وہ ہے تقرب الی اللہ اور طہارت باطنی، جتنا کوئی زیادہ طاہر اور جتنا کوئی زیادہ متقی ہے وہ اسی نسبت سے دوسروں سے ممتاز تر ہے۔
انسان اس منظر کی رعنائی اور زیبائی میں کھو کھو جاتا ہے اور یہ یک رنگی اس کے دل کو موہ موہ لیتی ہے ، مساوات، برابری، مروت اور محبت کے یہ مناظر سرزمین حجاز کے علاوہ اور کہاں دیکھنے میں آتے ہیں، اور پھر اس بھیڑ بھاڑ میں کوئی دنگا نہیں،کوئی فساد نہیں،لڑائی اور جھگڑے کا نام و نشان نہیں، عادات میں تفاوت، زبانوں میں اختلاف، رنگوں میں فرق،اجسام میں تباعد؛ لیکن ارواح میں تقارب، خیالات میں یک رنگی اور افکار میں یگانگت،اذہان و قلوب کی تمام دوریوں کو قرب میں تبدیل کردیتے ہیں۔
حرمین میں بھیٹر کی وجہ سے کسی کو دھکا لگ جائے تو چہروں پر ملال اور پیشانیوں پر بل نہیں؛ بلکہ ندامت اور معذرت کے آثار نمودار ہوتے ہیں اور زبان سے نا آشنائی کے باوصف حرکات کی شناسائی اس کے اعتذار کو ظاہر کئے بغیر نہیں رہتی، کوئی تو سر کو فروتنی سے خم کرتا،کوئی ہاتھ کو عاجزی سے سینے پر رکھ کر پلکیں جھکا کے زبان بے زبانی سے کہتا ہے: بھائی بھول ہوگئی ؛معاف کر دو!
ایک مرتبہ جب ایک جوان رعنا حبشی کے دھکے سے میرے پاؤں اکھڑ گئے تو اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر میرے ہاتھ کو چوم لیا اور پھر اسے اپنے سینے پر رکھ کر اپنی غلطی پر پشیمانی کا اظہار کرنے لگا اور مجھے محمد عربی علیہ السلام کی امت کے اس گرانڈیل .... جوان خوبرو کی اس ادا نے اتنا متاثر کیا کہ دل و دماغ جھوم جھوم اٹھے اور جی چاہا کہ اس سے لپٹ جاؤں، کس قدر عجز تھا اور کس قدر انکسار،حالانکہ یہی رَش اور یہی ہجوم اگر کسی اور مقام پر ہو تو اختلاف طبائع اور اختلاف نسل کئی جانوں کو لیے اور کئی جسموں کا خون بہائے بغیر نہ رہے۔
نماز عشاء کے فورا بعد طواف کا سلسلہ شروع ہوا، اس دن بلا مبالغہ پندرہ، بیس ہزار انسان بیک وقت کعبہ معظمہ کے گرد طواف کر رہے تھے اور بیت اللہ اسی طرح دکھائی دے رہا تھا جیسے ہالے کے اندر چاند۔
( سفر حجاز، صفحہ: 46، طبع: ادارہ ترجمان السنہ، لاھور)
✍🏻
علامہ احسان الٰہی ظہیرؒحؔرم مکی میں نماز با جماعت کا منظر دیدنی ہوتا ہے؛چہار سو انسان ہی انسان اور ہر چہار طرف سے قبلہ رخ بوسہ ہائے شوق اور سجدہ ہائے ذوق دکھائی دیتے، جسے قدوسیوں کی فوج ظفر موج تسبیح کناں عرش سے فرش پر اتر آئی ہے اور ایسے میں مسجد حرام رشک فردوس و عدن نظر آئے تو حیرت کیسی؟
جؔہانگیر نے تو کشمیر کے مرغ زاروں کو دیکھ کر کہا تھا:
؎ اگر فردوس بر روئے زمین است
همین است و همین است و همین است
اور مجھے بیت عتیق کی دل آویزیاں اور دل ربائیاں رہ گزار مکہ میں ہی ۔۔۔ اسی شعر کو دہرانے پر انگیخت کردیے تیں اور کیوں نہ ہو کہ وہ منزل ملائک بھی ہے اور فرودگاه رحمت بھی، کہ کسی لمحہ بھی اس کا صحن ستر ہزار فرشتے سے خالی نہیں رہتا اور پھر اسی کو تو ہاجرہ و اسماعیل (علیها السلام) کا مسکن اور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا مولد بنایا گیا اور اس کی چوکھٹ پر اس نے اپنے سر کو جھکایا کہ کائنات جس کے سامنے جھکتی تھی، اور دنیا میں کن سنگریزوں اور پتھروں کو یہ شرف حاصل ہوا کہ میرے آقا و مولیٰ نے اپنے لب لعلین و دست مبارک سے ان کو چوما اور ان کو چھوا۔
دیوار کعبہ! تو مبارک کہ یتیم مکہ نے تیرے سینے سے اپنے سینے کو مس کیا۔
باب کعبہ! تو مقدس کہ تیری دہلیز میں خاتم النبین نے سجدے کئے۔
ملتزم! تو محترم کہ رؤف و رحیم تجھ سے لپٹے اور چمٹے۔
حجر اسود! تو عزیز تر کہ خاتم الانبیاء نے تجھ پر اپنے لب رکھے۔
رکن یمانی! تو مکرم کہ طیب و طاہر کے بابا نے تجھ کو سہلایا اور تھپکایا۔
مقام ابراہیم! تو محتشم کہ سرتاج انبیاءنے تجھے اپنے سجدوں سے سجایا۔
زمین حرم! تو ساری کی ساری گرامئ منزلت کہ سرور گرامی منزلت کی پیشانی نے تیرے بوسے لیے۔
ایام حج میں سرزمین حجاز پر واقعی بہار آجاتی ہے اور رنگ برنگے شگوفے اس کی گود میں کھلتے اور طرح طرح کی کلیاں اس میں مسکراتیں اور قسم قسم کے پھول اس میں نظر نوازی اور روح پروری کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ جدھر دیکھو ایک نئی شان،نئی آن نئی بان نظر آتی ہے۔
کئی گورے انتہائی گورے موتئے کے پھولوں کی طرح سفید... اور کہیں کالے انتہائی کالے بلیک روز (سیاہ گلاب) سے بھی کالے اور کچھ گلابی اور شہابی اور کچھ گیندے کی طرح بھانت بھانت کے رنگ اور بھانت کی بولیاں اور دیس بدیس کے لوگ ،ہؔمالہ کی ترائیوں سے لے کر جبال بؔرانس کی چوٹیوں تک کے رہنے والے اور ساحل نؔیل سے لے کر ارض کؔاشغر تک کے بسنے والے، ایک ہی لباس میں ملبوس اور ایک ہی رجز لبوں پر،حرمین میں انسان اپنی آنکھوں سے رنگ و نسل کے ان بتوں کو پاش پاش دیکھتا ہے، جنہیں رسول اکرم نے چودہ سو سال پیشتر بطحائے مکہ کے پڑوس عرفات میں چکنا چور کر دیا تھا۔ کسی گورے کو کالے پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ، فضیلت کا معیار ایک ہی ہے اور وہ ہے تقرب الی اللہ اور طہارت باطنی، جتنا کوئی زیادہ طاہر اور جتنا کوئی زیادہ متقی ہے وہ اسی نسبت سے دوسروں سے ممتاز تر ہے۔
انسان اس منظر کی رعنائی اور زیبائی میں کھو کھو جاتا ہے اور یہ یک رنگی اس کے دل کو موہ موہ لیتی ہے ، مساوات، برابری، مروت اور محبت کے یہ مناظر سرزمین حجاز کے علاوہ اور کہاں دیکھنے میں آتے ہیں، اور پھر اس بھیڑ بھاڑ میں کوئی دنگا نہیں،کوئی فساد نہیں،لڑائی اور جھگڑے کا نام و نشان نہیں، عادات میں تفاوت، زبانوں میں اختلاف، رنگوں میں فرق،اجسام میں تباعد؛ لیکن ارواح میں تقارب، خیالات میں یک رنگی اور افکار میں یگانگت،اذہان و قلوب کی تمام دوریوں کو قرب میں تبدیل کردیتے ہیں۔
حرمین میں بھیٹر کی وجہ سے کسی کو دھکا لگ جائے تو چہروں پر ملال اور پیشانیوں پر بل نہیں؛ بلکہ ندامت اور معذرت کے آثار نمودار ہوتے ہیں اور زبان سے نا آشنائی کے باوصف حرکات کی شناسائی اس کے اعتذار کو ظاہر کئے بغیر نہیں رہتی، کوئی تو سر کو فروتنی سے خم کرتا،کوئی ہاتھ کو عاجزی سے سینے پر رکھ کر پلکیں جھکا کے زبان بے زبانی سے کہتا ہے: بھائی بھول ہوگئی ؛معاف کر دو!
ایک مرتبہ جب ایک جوان رعنا حبشی کے دھکے سے میرے پاؤں اکھڑ گئے تو اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر میرے ہاتھ کو چوم لیا اور پھر اسے اپنے سینے پر رکھ کر اپنی غلطی پر پشیمانی کا اظہار کرنے لگا اور مجھے محمد عربی علیہ السلام کی امت کے اس گرانڈیل .... جوان خوبرو کی اس ادا نے اتنا متاثر کیا کہ دل و دماغ جھوم جھوم اٹھے اور جی چاہا کہ اس سے لپٹ جاؤں، کس قدر عجز تھا اور کس قدر انکسار،حالانکہ یہی رَش اور یہی ہجوم اگر کسی اور مقام پر ہو تو اختلاف طبائع اور اختلاف نسل کئی جانوں کو لیے اور کئی جسموں کا خون بہائے بغیر نہ رہے۔
نماز عشاء کے فورا بعد طواف کا سلسلہ شروع ہوا، اس دن بلا مبالغہ پندرہ، بیس ہزار انسان بیک وقت کعبہ معظمہ کے گرد طواف کر رہے تھے اور بیت اللہ اسی طرح دکھائی دے رہا تھا جیسے ہالے کے اندر چاند۔
( سفر حجاز، صفحہ: 46، طبع: ادارہ ترجمان السنہ، لاھور)
❤2
*بیعت کا مقصد*
ملفوظ:شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی ؒ
جس وقت حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب ؒ حضرت شیخ الہندؒ سے بیعت ہوۓ، اس وقت شیخ الہند ؒنے حضرت قاری صاحب ؒکو یہ نصیحتیں فرمائی تھیں:
"بیعت کا مقصد یہ نہیں کہ اس سے کوئی دُنیوی عزت یا دولت مل جائے گی، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ نفس اور باطن کی اصلاح ہو جائے اور وہ پاکیزہ اور مہذب ہو جائے، کیوں کہ انسان کے نفس کے ساتھ ہزاروں روگ لگے ہوئے ہیں، جیسے تکبّر، حرص، حسد، کینہ، بغض، عداوت اور عناد وغیرہ۔ دُنیوی فسادات بھی انہی سے پیدا ہوتے ہیں اور انسان کی آخرت بھی انہی سے برباد ہوتی ہے۔
*بیعت کا منشا یہ ہے کہ اخلاقِ ذمیمہ مغلوب ہو جائیں اور اخلاقِ فاضلہ غالب آجائیں، جیسے انابت الی اللہ (اللہ کی طرف متوجہ رہنا)، صبر و شکر، حیا و سخا، غیرت و حمیت اور توکّل وغیرہ*۔ اور یہ چیزیں کثرتِ ذکر سے پیدا ہوتی ہیں۔ جس قدر ذکر کیا جائے گا، اخلاقِ فاضلہ اسی انداز سے قوی ہوں گے اور اطاعت کی رغبت پیدا ہوگی۔ اور اسی کے ساتھ معصیت سے نفرت بڑھتی جائے گی۔"
(دارالعلوم دیوبند ص۳۶)
انتخاب: محمد رضی قاسمی
ملفوظ:شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی ؒ
جس وقت حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب ؒ حضرت شیخ الہندؒ سے بیعت ہوۓ، اس وقت شیخ الہند ؒنے حضرت قاری صاحب ؒکو یہ نصیحتیں فرمائی تھیں:
"بیعت کا مقصد یہ نہیں کہ اس سے کوئی دُنیوی عزت یا دولت مل جائے گی، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ نفس اور باطن کی اصلاح ہو جائے اور وہ پاکیزہ اور مہذب ہو جائے، کیوں کہ انسان کے نفس کے ساتھ ہزاروں روگ لگے ہوئے ہیں، جیسے تکبّر، حرص، حسد، کینہ، بغض، عداوت اور عناد وغیرہ۔ دُنیوی فسادات بھی انہی سے پیدا ہوتے ہیں اور انسان کی آخرت بھی انہی سے برباد ہوتی ہے۔
*بیعت کا منشا یہ ہے کہ اخلاقِ ذمیمہ مغلوب ہو جائیں اور اخلاقِ فاضلہ غالب آجائیں، جیسے انابت الی اللہ (اللہ کی طرف متوجہ رہنا)، صبر و شکر، حیا و سخا، غیرت و حمیت اور توکّل وغیرہ*۔ اور یہ چیزیں کثرتِ ذکر سے پیدا ہوتی ہیں۔ جس قدر ذکر کیا جائے گا، اخلاقِ فاضلہ اسی انداز سے قوی ہوں گے اور اطاعت کی رغبت پیدا ہوگی۔ اور اسی کے ساتھ معصیت سے نفرت بڑھتی جائے گی۔"
(دارالعلوم دیوبند ص۳۶)
انتخاب: محمد رضی قاسمی
❤1
. *قافلۂ حجاج کی غائبانہ معیت...!*
(زکی کیفیؔ کی کیفیات کے مطالعے کے تناظر میں)
از: مفتی محمد عمران قاسمی کورٹلوی
آج عرفات کے میدان میں حجاجِ کرام کا قافلہ خیمہ زن ہے۔ عشاق کا یہ مجمع مسلسل محو عبادت ہے۔ کوئی مصروفِ مناجات تو کہیں سر بسجود، کہیں لبیک کے زمزمے تو کہیں آہیں اور دعائیں۔ غرض بندگانِ الہی آج غلامی کی ادائیں دکھا رہے ہیں۔ ایسے میں بہت سے دُوراُفتادگان کے دل بے چین و بے قرار ہیں اور ان کی کیفیت ناقابلِ بیان۔ اُن پریشان حالوں کے لئے تسلی کا سامان سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ سوئے حرم جانے والے اُن عشاقِ الٰہی کے تذکرے پڑھ پڑھ کر اور ان کی اداؤں کو یاد کرکرکےکسی طرح سکونِ دل کی کوشش کریں۔ چناں چہ یہ راقم بھی آج امدادُ الحجاج (افادات از: حضرت اقدس تھانویؒ) لیکر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر مطالعے کے بعد زکی کیفیؔ مرحوم کے شعری مجموعہ ”کیفیات“ پر نظر پڑی تو یکایک ہاتھ اس کی طرف بڑھ گئے۔” کیفیات“ کی ورق گردانی کی تو کہنا چاہیے کہ ”کیفیت“ ہی بدل گئی۔ یوں لگا جیسے راقم بھی حجاج کرام کے قافلے کا ہی ایک فرد ہے۔ بس عالمِ تصورات میں آج سرزمینِ حجاز پر حاضر ہوگیا اور یوں قافلۂ حجاج کی غائبانہ معیت نصیب ہوگئی۔
پھر سوئے حرم یہ دلِ شوریدہ رواں ہے
پھر ہر غمِ ہستی سے حفاظت ہے، اماں ہے
انوار ہی انوار! تجلی ہی تجلی!
گلیوں میں مدینے کی بہشتوں کا سماں ہے
اک عالمِ حیرت میں نظر کھوئی ہوئی ہے
جلوے ہیں مگر طاقتِ دیدار کہاں ہے
کانٹے بھی عرب کے گُل و لالہ سے حسیں ہیں
ذروں پہ چمکتے ہوئے سورج کا گماں ہے
کیفی! میں درِ شافعِ محشر کا گدا ہوں
کیا غم ہے گناہوں کا اگر بارِگراں ہے
زکی کیفیؔ مرحوم صاحبِ تفسیر معارف القرآن، مفتی اعظم حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے سب سے بڑے فرزند تھے۔ ان کے کلام میں بہت پختگی ہے۔ وقت کے نامور شعراء نے اس کی کُھل کر ستائش کی ہے۔ ماہر القادری، احمد ندیم قاسمی اور احسان دانش جیسے معروف، ممتاز، کہنہ مشق اور استاد درجہ کے سخنور و سخن فہم شعراء نے ان کے مجموعۂ کلام پر اپنے قیمتی تاثرات لکھے اور غیر معمولی دادِ تحسین دی۔ لیکن بقول شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم: ” بھائی صاحب (زکی کیفیؔ) مرحوم کا مجموعۂ کلام مجموعۂ پیام بھی ہے“۔ اور واقعہ یہ ہے کہ جب اس نقطۂ نظر سے ان کے کلام کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں ان کی شاعری میں حبِّ الٰہی کے بیش قیمت اسباق، عشق رسولﷺ کے حسین و خوب صورت انداز، معرفتِ خداوندی کی رازدارانہ باتیں، راہ طریقت کے اسرار و رموز اور نکتے اور اہل محبت کی قلبی واردات کی ترجمانی جا بہ جا نظر آتی ہے۔ سرِ دست حجاج کرام کے قافلے کو ذہن میں رکھ کر اور ان کی مختلف عاشقانہ اداؤں کا تصور کرکے اگر ہم ”کیفیات“ کا مطالعہ کریں تو کہنا چاہیے کہ لمحات زندگی بڑے ”پُرکیف“ ہوجائیں گے۔اسی غرض سے کچھ منتخبات پیشِ خدمت ہیں۔
مرتب کتاب لکھتے ہیں کہ ایک سال حضرت زکی کیفیؔ کا کچھ رفقاء کے ساتھ عمرے کا پروگرام بنا، دوسرے رفقاء چلے گئے مگر اُن کو کچھ عذر پیش آ گیا۔ زکی کیفیؔ نے اس واقعے پر فی البدیہہ ایک تاثراتی نظم کہی۔ واقعہ یہ ہے کہ اس نظم کے ایک ایک شعر میں قافلۂ حجاج سے پیچھے رہ جانے والے تڑپتے دلوں کی آواز آج بھی محسوس ہوتی ہے۔
نظم کا عنوان ہے ”راہروانِ حجاز سے“
فرماتے ہیں:
مجھ کو بھی ساتھ جانبِ گلزار لے چلو
اے رہروانِ کوچۂ دلدار لے چلو
ہیں جس دیارِ پاک پہ ہر آن رحمتیں
پیہم جہاں ہے بارشِ انوار لے چلو
ذرے جہاں کے ہمسرِ ماہ و نجوم ہیں
پھولوں سے بھی حسیں ہیں جہاں خار لے چلو
آئے گا جوش، شانِ کریمی کو دیکھ کر
نیکو! تم اپنے ساتھ گنہگار لے چلو
تم ہو بلند بخت، نہ صرفِ نظر کرو
ہوجائے میرا بخت بھی بیدار لے چلو
بے شک متاعِ عشق و جنوں ہے تمہارے پاس
رکھتا ہوں میں بھی دیدۂ خونبار لے چلو
روشن ضمیر قافلے والو! کرم کرو
ساتھ ایک تیرہ قلب و سیہ کار لے چلو
میں ہوں غریقِ بحرِ معاصی بجا، مگر
مجھ سے نہ اس طرح سے ہو بیزار، لے چلو
مجھ ناتوان و خستہ و بیمار پر کرم
اللہ ہو تمہارا مددگار، لے چلو
کانٹے جو راہ کے ہیں، ہٹاتا چلوں گا میں
آئی جو کوئی وادیٔ پُر خار لے چلو
میں تشنہ کامِ عشق ہوں یارو مدد کرو
تم ہو شرابِ عشق سے سرشار لے چلو
بھاری تھی شب مریض پہ لیکن وہ کٹ گئی
اب ہو رہے ہیں صبح کے آثار لے چلو
(زکی کیفیؔ کی کیفیات کے مطالعے کے تناظر میں)
از: مفتی محمد عمران قاسمی کورٹلوی
آج عرفات کے میدان میں حجاجِ کرام کا قافلہ خیمہ زن ہے۔ عشاق کا یہ مجمع مسلسل محو عبادت ہے۔ کوئی مصروفِ مناجات تو کہیں سر بسجود، کہیں لبیک کے زمزمے تو کہیں آہیں اور دعائیں۔ غرض بندگانِ الہی آج غلامی کی ادائیں دکھا رہے ہیں۔ ایسے میں بہت سے دُوراُفتادگان کے دل بے چین و بے قرار ہیں اور ان کی کیفیت ناقابلِ بیان۔ اُن پریشان حالوں کے لئے تسلی کا سامان سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ سوئے حرم جانے والے اُن عشاقِ الٰہی کے تذکرے پڑھ پڑھ کر اور ان کی اداؤں کو یاد کرکرکےکسی طرح سکونِ دل کی کوشش کریں۔ چناں چہ یہ راقم بھی آج امدادُ الحجاج (افادات از: حضرت اقدس تھانویؒ) لیکر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر مطالعے کے بعد زکی کیفیؔ مرحوم کے شعری مجموعہ ”کیفیات“ پر نظر پڑی تو یکایک ہاتھ اس کی طرف بڑھ گئے۔” کیفیات“ کی ورق گردانی کی تو کہنا چاہیے کہ ”کیفیت“ ہی بدل گئی۔ یوں لگا جیسے راقم بھی حجاج کرام کے قافلے کا ہی ایک فرد ہے۔ بس عالمِ تصورات میں آج سرزمینِ حجاز پر حاضر ہوگیا اور یوں قافلۂ حجاج کی غائبانہ معیت نصیب ہوگئی۔
پھر سوئے حرم یہ دلِ شوریدہ رواں ہے
پھر ہر غمِ ہستی سے حفاظت ہے، اماں ہے
انوار ہی انوار! تجلی ہی تجلی!
گلیوں میں مدینے کی بہشتوں کا سماں ہے
اک عالمِ حیرت میں نظر کھوئی ہوئی ہے
جلوے ہیں مگر طاقتِ دیدار کہاں ہے
کانٹے بھی عرب کے گُل و لالہ سے حسیں ہیں
ذروں پہ چمکتے ہوئے سورج کا گماں ہے
کیفی! میں درِ شافعِ محشر کا گدا ہوں
کیا غم ہے گناہوں کا اگر بارِگراں ہے
زکی کیفیؔ مرحوم صاحبِ تفسیر معارف القرآن، مفتی اعظم حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے سب سے بڑے فرزند تھے۔ ان کے کلام میں بہت پختگی ہے۔ وقت کے نامور شعراء نے اس کی کُھل کر ستائش کی ہے۔ ماہر القادری، احمد ندیم قاسمی اور احسان دانش جیسے معروف، ممتاز، کہنہ مشق اور استاد درجہ کے سخنور و سخن فہم شعراء نے ان کے مجموعۂ کلام پر اپنے قیمتی تاثرات لکھے اور غیر معمولی دادِ تحسین دی۔ لیکن بقول شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم: ” بھائی صاحب (زکی کیفیؔ) مرحوم کا مجموعۂ کلام مجموعۂ پیام بھی ہے“۔ اور واقعہ یہ ہے کہ جب اس نقطۂ نظر سے ان کے کلام کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں ان کی شاعری میں حبِّ الٰہی کے بیش قیمت اسباق، عشق رسولﷺ کے حسین و خوب صورت انداز، معرفتِ خداوندی کی رازدارانہ باتیں، راہ طریقت کے اسرار و رموز اور نکتے اور اہل محبت کی قلبی واردات کی ترجمانی جا بہ جا نظر آتی ہے۔ سرِ دست حجاج کرام کے قافلے کو ذہن میں رکھ کر اور ان کی مختلف عاشقانہ اداؤں کا تصور کرکے اگر ہم ”کیفیات“ کا مطالعہ کریں تو کہنا چاہیے کہ لمحات زندگی بڑے ”پُرکیف“ ہوجائیں گے۔اسی غرض سے کچھ منتخبات پیشِ خدمت ہیں۔
مرتب کتاب لکھتے ہیں کہ ایک سال حضرت زکی کیفیؔ کا کچھ رفقاء کے ساتھ عمرے کا پروگرام بنا، دوسرے رفقاء چلے گئے مگر اُن کو کچھ عذر پیش آ گیا۔ زکی کیفیؔ نے اس واقعے پر فی البدیہہ ایک تاثراتی نظم کہی۔ واقعہ یہ ہے کہ اس نظم کے ایک ایک شعر میں قافلۂ حجاج سے پیچھے رہ جانے والے تڑپتے دلوں کی آواز آج بھی محسوس ہوتی ہے۔
نظم کا عنوان ہے ”راہروانِ حجاز سے“
فرماتے ہیں:
مجھ کو بھی ساتھ جانبِ گلزار لے چلو
اے رہروانِ کوچۂ دلدار لے چلو
ہیں جس دیارِ پاک پہ ہر آن رحمتیں
پیہم جہاں ہے بارشِ انوار لے چلو
ذرے جہاں کے ہمسرِ ماہ و نجوم ہیں
پھولوں سے بھی حسیں ہیں جہاں خار لے چلو
آئے گا جوش، شانِ کریمی کو دیکھ کر
نیکو! تم اپنے ساتھ گنہگار لے چلو
تم ہو بلند بخت، نہ صرفِ نظر کرو
ہوجائے میرا بخت بھی بیدار لے چلو
بے شک متاعِ عشق و جنوں ہے تمہارے پاس
رکھتا ہوں میں بھی دیدۂ خونبار لے چلو
روشن ضمیر قافلے والو! کرم کرو
ساتھ ایک تیرہ قلب و سیہ کار لے چلو
میں ہوں غریقِ بحرِ معاصی بجا، مگر
مجھ سے نہ اس طرح سے ہو بیزار، لے چلو
مجھ ناتوان و خستہ و بیمار پر کرم
اللہ ہو تمہارا مددگار، لے چلو
کانٹے جو راہ کے ہیں، ہٹاتا چلوں گا میں
آئی جو کوئی وادیٔ پُر خار لے چلو
میں تشنہ کامِ عشق ہوں یارو مدد کرو
تم ہو شرابِ عشق سے سرشار لے چلو
بھاری تھی شب مریض پہ لیکن وہ کٹ گئی
اب ہو رہے ہیں صبح کے آثار لے چلو
❤1
————————
دیدار بیت اللہ اور حرمین شریفین کی مبارک حاضری واقعی بہت بڑی سعادت ہے۔ اسی لیے بندگانِ الٰہی اس نعمت عظمیٰ کو بار بار پانے کے لئے اپنے دلوں میں آرزوئیں رکھتے ہیں۔ اس کے لئے تڑپتے، بے قرار ہوتے، آنسو بہاتے اور دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ پھر جب حج کے ایام آجائیں، اور عشاق کے قافلے سوئے حرم روانہ ہوں، لیکن وہ اگر پیچھے رہ جائیں تو ان کی دلی کیفیت بس اللہ ہی جانتے ہیں۔ ایسے موقعے پر ان کے دلِ دردمند کا حال ناقابلِ بیان ہوتا ہے۔ان کے محبت بھرے جذبات کی ”کچھ کچھ عکاسی“ اور ان کے خوبصورت و حسین تصورات کی ایک ”ہلکی سی تصویر“ ذرا زکی کیفیؔ کے درج ذیل اشعار میں دیکھیے۔ فرماتے ہیں:
شب و روز اب تو یہی ہیں دعائیں
خدا دن وہ لائے مدینہ کو جائیں
نظر آئیں جس دم حرم کی فضائیں
بہ ہر گام اپنی نگاہیں بچھائیں
عرب کے بیاباں کا ہر ذرّہ چومیں
غُبارِ حرم کو گلے سے لگائیں
وہ دنیا کی جنت، وہ جنت کی دُنیا
معنبر ہوائیں، معطّر فضائیں
جہاں پر ہیں انسان جیسے فرشتے
مہکتی ہیں ہر سُو عبائیں قبائیں
کبھی مسجدِ فتح و نصرت کو دیکھیں
کبھی جا کے لے لیں اُحد کی بلائیں
کبھی دُور سے سبز گنبد کو دیکھیں
کبھی پاس آ کر نگاہیں جھکائیں
کریں جالیوں پر ان آنکھوں کو صدقے
مواجہ میں اشکوں کے موتی لُٹائیں
ادھر سے اُمڈتے ہوں اشکِ ندامت
اُدھر رحمتوں کی برستی گھٹائیں
تصور جب اپنی خطاؤں کا آئے
بھلادیں سب ان کی مسلسل عطائیں
فضاؤں میں نغمہ ہو صلِّ علیٰ کا
سلامٌ علیکمْ کی لب پر صدائیں
دُعا ہے یہ کیفیؔ کہ ہر سال ہم بھی
مدینہ کے دیوار و در دیکھ آئیں
معذرت بہ روح شاعر کہ درج بالا نظم کے آخری شعر میں راقم نے ہلکی سی لفظی ترمیم کی ہے، جس سے یہ شعر آج کے حسب حال ہوگیا ہے۔ اصل شعر کچھ اس طرح ہے:
دُعا ہے یہ کیفیؔ کہ اِس سال ہم بھی
مدینہ کے دیوار و در دیکھ آئیں
اس نظم پر حاشیہ لگاتے ہوئے ہیں شاعر کے برادر صغیر، شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم لکھتے ہیں کہ ”یہ نعت کہنے کے بعد فوراً حضرت زکی کیفیؔ کو حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی اور وہاں سے واپسی پر دارِ آخرت کا بلاوا آگیا۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں بھی ایسا سچا عشق عطا فرمائے (آمین)
————————
مدتوں تڑپنے، سسکنے، آنسو بہانے اور دعائیں مانگنے کے بعد جب کسی عاشق کو دربار الٰہی میں حاضری نصیب ہوتی ہے تو دل، تشکر کے جذبات سے لبریز ہوجاتا ہے۔ اس کی دلی کیفیات اور قلبی واردات کیا ہوتی ہیں؟ ہم اسے زکی کیفیؔ کے درج ذیل اشعار میں دیکھ سکتے ہیں۔ کہتے ہیں:
پورا ہوا ہے عزمِ سفر مدتوں کے بعد
جھلکا دُعا میں رنگِ اثر مدتوں کے بعد
دیکھی ہے ان کی راہ گذر مدتوں کے بعد
مجھ کو ملی ہے اپنی خبر مدتوں کے بعد
اب جلوہ گاہِ یار ہے آنکھوں کے سامنے
روشن ہوا چراغِ نظر مدتوں کے بعد
کرنے دو شوخیاں اسے اب سنگِ در کے ساتھ
مچلا ہے آستاں پہ یہ سر مدتوں کے بعد
اے دل ترانہ سنج ہو شکرِ وصال میں
اب شکوۂ فراق نہ کر مدتوں کے بعد
ڈستی رہی ہیں دل کو شبِ غم کی ظلمتیں
آیا نظر جمالِ سحر مدتوں کے بعد
ان کی تجلیاں تو ہیں ہر آن نو بہ نو
ملتا ہے اذنِ دید مگر مدتوں کے بعد
مدتوں کے بعد جب ”اذنِ دید“ ہو، ”آنکھوں کے سامنے جب جلوہ گاہِ یار ہو“ پھر ”ہر آن نو بہ نو تجلیاں نظر آنے لگیں“ اور اس نعمت پر ”دل شکرِ وصال میں ترانہ سنج ہو“ تو پھر عاشق کے ”ذوق طلب“ میں اضافہ کیوں کر نہیں ہوگا؟ اس نے تو اب ”جستجو کا ایک نیا جہان“ دریافت کرلیا ہے۔ مدتوں تک حرمین کی حاضری سے محرومی کی وجہ سے اُسے غم تھا۔ لیکن ”لذتِ احساسِ غم“ تو اس کو اب حاصل ہوگی اور اس ”لذت نایاب“ کی قیمت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ تو وہ اب کرپائے گا۔ چناں چہ اب اس کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ ”ان کی محفل کے نظارے کے بعد پھر کوئی محفل نہ دیکھے“، اس کے لئے ”وہ دعا مانگتا ہے کہ اب کی نظر چھین لی جائے“۔ زکی کیفیؔ مرحوم کے درجِ ذیل اشعار میں ذرا اس کا آئینہ دیکھیے۔ فرماتے ہیں:
مل گیا ذوقِ طلب کو اک جہانِ جستجو
اور ہمت بڑھ گئی ہے سعئ لاحاصل کے بعد
اب ہوا معلوم کیا ہے لذّتِ احساسِ غم
دل کی قیمت بڑھ گئی کیفیؔ شکستِ دل کے بعد
چھین لے مجھ سے نظر اے جلوۂ خوش روئے دوست
دیدار بیت اللہ اور حرمین شریفین کی مبارک حاضری واقعی بہت بڑی سعادت ہے۔ اسی لیے بندگانِ الٰہی اس نعمت عظمیٰ کو بار بار پانے کے لئے اپنے دلوں میں آرزوئیں رکھتے ہیں۔ اس کے لئے تڑپتے، بے قرار ہوتے، آنسو بہاتے اور دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ پھر جب حج کے ایام آجائیں، اور عشاق کے قافلے سوئے حرم روانہ ہوں، لیکن وہ اگر پیچھے رہ جائیں تو ان کی دلی کیفیت بس اللہ ہی جانتے ہیں۔ ایسے موقعے پر ان کے دلِ دردمند کا حال ناقابلِ بیان ہوتا ہے۔ان کے محبت بھرے جذبات کی ”کچھ کچھ عکاسی“ اور ان کے خوبصورت و حسین تصورات کی ایک ”ہلکی سی تصویر“ ذرا زکی کیفیؔ کے درج ذیل اشعار میں دیکھیے۔ فرماتے ہیں:
شب و روز اب تو یہی ہیں دعائیں
خدا دن وہ لائے مدینہ کو جائیں
نظر آئیں جس دم حرم کی فضائیں
بہ ہر گام اپنی نگاہیں بچھائیں
عرب کے بیاباں کا ہر ذرّہ چومیں
غُبارِ حرم کو گلے سے لگائیں
وہ دنیا کی جنت، وہ جنت کی دُنیا
معنبر ہوائیں، معطّر فضائیں
جہاں پر ہیں انسان جیسے فرشتے
مہکتی ہیں ہر سُو عبائیں قبائیں
کبھی مسجدِ فتح و نصرت کو دیکھیں
کبھی جا کے لے لیں اُحد کی بلائیں
کبھی دُور سے سبز گنبد کو دیکھیں
کبھی پاس آ کر نگاہیں جھکائیں
کریں جالیوں پر ان آنکھوں کو صدقے
مواجہ میں اشکوں کے موتی لُٹائیں
ادھر سے اُمڈتے ہوں اشکِ ندامت
اُدھر رحمتوں کی برستی گھٹائیں
تصور جب اپنی خطاؤں کا آئے
بھلادیں سب ان کی مسلسل عطائیں
فضاؤں میں نغمہ ہو صلِّ علیٰ کا
سلامٌ علیکمْ کی لب پر صدائیں
دُعا ہے یہ کیفیؔ کہ ہر سال ہم بھی
مدینہ کے دیوار و در دیکھ آئیں
معذرت بہ روح شاعر کہ درج بالا نظم کے آخری شعر میں راقم نے ہلکی سی لفظی ترمیم کی ہے، جس سے یہ شعر آج کے حسب حال ہوگیا ہے۔ اصل شعر کچھ اس طرح ہے:
دُعا ہے یہ کیفیؔ کہ اِس سال ہم بھی
مدینہ کے دیوار و در دیکھ آئیں
اس نظم پر حاشیہ لگاتے ہوئے ہیں شاعر کے برادر صغیر، شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم لکھتے ہیں کہ ”یہ نعت کہنے کے بعد فوراً حضرت زکی کیفیؔ کو حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی اور وہاں سے واپسی پر دارِ آخرت کا بلاوا آگیا۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں بھی ایسا سچا عشق عطا فرمائے (آمین)
————————
مدتوں تڑپنے، سسکنے، آنسو بہانے اور دعائیں مانگنے کے بعد جب کسی عاشق کو دربار الٰہی میں حاضری نصیب ہوتی ہے تو دل، تشکر کے جذبات سے لبریز ہوجاتا ہے۔ اس کی دلی کیفیات اور قلبی واردات کیا ہوتی ہیں؟ ہم اسے زکی کیفیؔ کے درج ذیل اشعار میں دیکھ سکتے ہیں۔ کہتے ہیں:
پورا ہوا ہے عزمِ سفر مدتوں کے بعد
جھلکا دُعا میں رنگِ اثر مدتوں کے بعد
دیکھی ہے ان کی راہ گذر مدتوں کے بعد
مجھ کو ملی ہے اپنی خبر مدتوں کے بعد
اب جلوہ گاہِ یار ہے آنکھوں کے سامنے
روشن ہوا چراغِ نظر مدتوں کے بعد
کرنے دو شوخیاں اسے اب سنگِ در کے ساتھ
مچلا ہے آستاں پہ یہ سر مدتوں کے بعد
اے دل ترانہ سنج ہو شکرِ وصال میں
اب شکوۂ فراق نہ کر مدتوں کے بعد
ڈستی رہی ہیں دل کو شبِ غم کی ظلمتیں
آیا نظر جمالِ سحر مدتوں کے بعد
ان کی تجلیاں تو ہیں ہر آن نو بہ نو
ملتا ہے اذنِ دید مگر مدتوں کے بعد
مدتوں کے بعد جب ”اذنِ دید“ ہو، ”آنکھوں کے سامنے جب جلوہ گاہِ یار ہو“ پھر ”ہر آن نو بہ نو تجلیاں نظر آنے لگیں“ اور اس نعمت پر ”دل شکرِ وصال میں ترانہ سنج ہو“ تو پھر عاشق کے ”ذوق طلب“ میں اضافہ کیوں کر نہیں ہوگا؟ اس نے تو اب ”جستجو کا ایک نیا جہان“ دریافت کرلیا ہے۔ مدتوں تک حرمین کی حاضری سے محرومی کی وجہ سے اُسے غم تھا۔ لیکن ”لذتِ احساسِ غم“ تو اس کو اب حاصل ہوگی اور اس ”لذت نایاب“ کی قیمت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ تو وہ اب کرپائے گا۔ چناں چہ اب اس کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ ”ان کی محفل کے نظارے کے بعد پھر کوئی محفل نہ دیکھے“، اس کے لئے ”وہ دعا مانگتا ہے کہ اب کی نظر چھین لی جائے“۔ زکی کیفیؔ مرحوم کے درجِ ذیل اشعار میں ذرا اس کا آئینہ دیکھیے۔ فرماتے ہیں:
مل گیا ذوقِ طلب کو اک جہانِ جستجو
اور ہمت بڑھ گئی ہے سعئ لاحاصل کے بعد
اب ہوا معلوم کیا ہے لذّتِ احساسِ غم
دل کی قیمت بڑھ گئی کیفیؔ شکستِ دل کے بعد
چھین لے مجھ سے نظر اے جلوۂ خوش روئے دوست
❤2
میں کوئی محفل نہ دیکھوں اب تری محفل کے بعد
————————
ہائے! زکی کیفیؔ نے کہاں سے کہاں پہونچادیا۔ آج تصورات کا عالم ہی کچھ اور ہے۔ ان کے ”دید کی طلب“ میں سرزمینِ حرم گئے تھے۔ وہاں پہونچے تو کیفیؔ صاحب کی آواز آئی:
ہر شئی سے وہ ظاہر بھی ہے ہر شئی سے بری بھی
وہ سب سے الگ،سب سے جدا اور ہی کچھ ہے
پھر زکی صاحب ہی کے الفاظ میں اپنا حالِ دل بھی کچھ یوں محسوس ہوا:
بے لفظ و بیاں ہے کوئی مصروف تکلم
اب دل کے دھڑکنے کی صدا اور ہی کچھ ہے
دیکھے ہیں بہت ہم نے بھی پُرکیف مناظر
لیکن ترے کوچے کی فضا اور ہی کچھ ہے
————————
اِن دنوں سرزمین حرم پر ہر سُو لبیک کی صدائیں ہیں۔ حجاج کرام کی زبانوں پر چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، غرض ہر وقت اور ہر قدم پر تلبیہ ہی تلبیہ ہے۔ تلبیہ کیا ہے؟ ان کے دربار میں غلامانہ حاضری کا اعلان! ان کی وحدت و یکتائی کا خوبصورت اقرار! تمام تعریفیں، ہر طرح کی نعمتیں اور ہر جُز و کُل پر ان کی بے مثال بادشاہی کا اُن کے لئے اثبات!
چناں چہ کلماتِ تلبیہ کے اِن معانی کے استحضار اور حجاج کرام کی زبانوں پر ہر دم رہنے والے نغمۂ ہائے لبیک کے پس منظر میں ذرا ہم زکی کیفیؔ کے یہ اشعار پڑھیں:
جہانِ فکر و نظر،لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
متاع اہل خبر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
یہ ذکرِحق کی متاعِ عزیز کیا شئی ہے
نہیں کسی کو خبر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
زہے نصیب یہ دولت اگر مجھے مل جائے
ہو لب پہ شام و سحر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
ہر ایک ذرّہ ہے مصروف یادِ حق کیفیؔ
وہ برگ ہوکہ شجر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
————————
اب تصور میں ”ہجوم عاشقاں“ ہے۔ جی ہاں! عرفات کا میدان اور حجاج کِرام کا کارواں! آج یہ سب روئے جارہے ہیں اور ساتھ ساتھ دھوئے بھی جارہے ہیں۔ ہائے! خاصان خدا کے اس مقدس قافلے میں آج کیا کچھ نہیں ہے؟ ندامت اور توبہ کے آنسو، جُرموں کا اقرار اور قصوروں کا اعتراف، سچے دل سے ہونے والی رجوع و انابت اور طلبِ مغفرت، عفو و کرم کی درخواستیں اور بخشے جانے کی امیدیں، آہیں اور دعائیں، فریاد و فُغاں اور خاموش زباں، طلب اور تڑپ اور ذوقِ جستجو۔ غرض عاجزی، نیازمندی اور اظہار بندگی کے مختلف نمونے ہیں۔ چناں چہ میدانِ عرفات کے اِن مختلف النوع احوال کے پس منظر میں ذرا زکی کیفیؔ کے درج ذیل مختلف اشعار پڑھیے۔
ہم لوگ خطاکار گناہگار بہت ہیں
یعنی تری رحمت کے سزاوار بہت ہیں
ویرانئ دل، حالِ زبوں، دیدۂ پُرنم
خاموش ہیں لیکن لبِ اظہار بہت ہیں
دن بھر دعاؤں میں رونے اور تڑپنے کے بعد کچھ دیر کے لیے خاموش نواؤں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں
اب خموشی ہے بیاں، لفظ و بیاں سے آگے
ہم نکل آئے ہیں فریاد و فغاں سے آگے
دربار الٰہی میں یہ بندگان ایک نظرِ رحمت کے طلبگار ہیں اور بس۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر ان کی نگاہ رحمت ہوجائے تو نافرمان زندگی، اطاعت والی زندگی میں بدل جائے؛ بل کہ ان کی نگاہ رحمت سے تو کُل جہاں ہی تبدیل ہوجائے۔ اسی کی عکاسی میں یہ شعر:
آپ اک بار اگر آنکھ اٹھا کر دیکھیں
اک نئے دور کا آغاز ہوا رکھا ہے
پھر عشاق کے اس مجمع کو اپنے بخشے جانے کی امید بھی ہوجاتی ہے۔ دلوں کو کچھ قرار ملتا ہے تو ایک احساس یہ بھی اجاگر ہوتا ہے
کیا ٹھکانا ہے بھلا اس کے کرم کا کیفیؔ
اپنے اندازِ کرم کو بھی چھپا رکھا ہے
————————
عرفات میں عبادتوں اور دعاؤں کے ساتھ اِن عُشّاق کے دلوں میں ”محبوب کی طلبِ دید“ بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس حوالے سے کیفیؔ صاحب کے یہ اشعار پڑھیں:
ایک طوفانِ طلب روح میں پیدا کرکے
چھپ گئے آپ کہاں؟ حشر یہ برپا کرکے
سامنے آؤ اٹھاکر یہ حجابِ جلوہ
مجھ کو غافل نہ کرو محوِ تماشا کرکے
اجنبی میں ہوں زمانے سے، زمانہ مجھ سے
عشق نے چھوڑدیا ہے مجھے تنہا کرکے
لیکن وہ نظر کیسے آسکتے ہیں، عاشق کی خواہشِ دید بالکل بجا؛ طاقتِ دید مگر اس میں کہاں؟ چناں چہ اس کو بہت جلد اس کا احساس ہوجاتا ہے اور خود ہی کہنے لگتا ہے:
یہ بھی سچ ہے کہ ہمیں دید کا یارا بھی نہیں
یہ بھی سچ ہے ان کو نہ دیکھیں یہ گوارا بھی نہیں
پھر کہتا ہے:
معمور تو ہے جلوۂ محبوب سے عالم
نظروں کو مگر طاقت دیدار کہاں ہے
پھر یہ احساس بھی دل میں ابھر آتا ہے:
بے پردہ انہیں دیکھ سکے کس میں یہ دم ہے
اے اہل نظر ان کا یہ چھپنا بھی کرم ہے
————————
ہائے! زکی کیفیؔ نے کہاں سے کہاں پہونچادیا۔ آج تصورات کا عالم ہی کچھ اور ہے۔ ان کے ”دید کی طلب“ میں سرزمینِ حرم گئے تھے۔ وہاں پہونچے تو کیفیؔ صاحب کی آواز آئی:
ہر شئی سے وہ ظاہر بھی ہے ہر شئی سے بری بھی
وہ سب سے الگ،سب سے جدا اور ہی کچھ ہے
پھر زکی صاحب ہی کے الفاظ میں اپنا حالِ دل بھی کچھ یوں محسوس ہوا:
بے لفظ و بیاں ہے کوئی مصروف تکلم
اب دل کے دھڑکنے کی صدا اور ہی کچھ ہے
دیکھے ہیں بہت ہم نے بھی پُرکیف مناظر
لیکن ترے کوچے کی فضا اور ہی کچھ ہے
————————
اِن دنوں سرزمین حرم پر ہر سُو لبیک کی صدائیں ہیں۔ حجاج کرام کی زبانوں پر چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، غرض ہر وقت اور ہر قدم پر تلبیہ ہی تلبیہ ہے۔ تلبیہ کیا ہے؟ ان کے دربار میں غلامانہ حاضری کا اعلان! ان کی وحدت و یکتائی کا خوبصورت اقرار! تمام تعریفیں، ہر طرح کی نعمتیں اور ہر جُز و کُل پر ان کی بے مثال بادشاہی کا اُن کے لئے اثبات!
چناں چہ کلماتِ تلبیہ کے اِن معانی کے استحضار اور حجاج کرام کی زبانوں پر ہر دم رہنے والے نغمۂ ہائے لبیک کے پس منظر میں ذرا ہم زکی کیفیؔ کے یہ اشعار پڑھیں:
جہانِ فکر و نظر،لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
متاع اہل خبر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
یہ ذکرِحق کی متاعِ عزیز کیا شئی ہے
نہیں کسی کو خبر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
زہے نصیب یہ دولت اگر مجھے مل جائے
ہو لب پہ شام و سحر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
ہر ایک ذرّہ ہے مصروف یادِ حق کیفیؔ
وہ برگ ہوکہ شجر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
————————
اب تصور میں ”ہجوم عاشقاں“ ہے۔ جی ہاں! عرفات کا میدان اور حجاج کِرام کا کارواں! آج یہ سب روئے جارہے ہیں اور ساتھ ساتھ دھوئے بھی جارہے ہیں۔ ہائے! خاصان خدا کے اس مقدس قافلے میں آج کیا کچھ نہیں ہے؟ ندامت اور توبہ کے آنسو، جُرموں کا اقرار اور قصوروں کا اعتراف، سچے دل سے ہونے والی رجوع و انابت اور طلبِ مغفرت، عفو و کرم کی درخواستیں اور بخشے جانے کی امیدیں، آہیں اور دعائیں، فریاد و فُغاں اور خاموش زباں، طلب اور تڑپ اور ذوقِ جستجو۔ غرض عاجزی، نیازمندی اور اظہار بندگی کے مختلف نمونے ہیں۔ چناں چہ میدانِ عرفات کے اِن مختلف النوع احوال کے پس منظر میں ذرا زکی کیفیؔ کے درج ذیل مختلف اشعار پڑھیے۔
ہم لوگ خطاکار گناہگار بہت ہیں
یعنی تری رحمت کے سزاوار بہت ہیں
ویرانئ دل، حالِ زبوں، دیدۂ پُرنم
خاموش ہیں لیکن لبِ اظہار بہت ہیں
دن بھر دعاؤں میں رونے اور تڑپنے کے بعد کچھ دیر کے لیے خاموش نواؤں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں
اب خموشی ہے بیاں، لفظ و بیاں سے آگے
ہم نکل آئے ہیں فریاد و فغاں سے آگے
دربار الٰہی میں یہ بندگان ایک نظرِ رحمت کے طلبگار ہیں اور بس۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر ان کی نگاہ رحمت ہوجائے تو نافرمان زندگی، اطاعت والی زندگی میں بدل جائے؛ بل کہ ان کی نگاہ رحمت سے تو کُل جہاں ہی تبدیل ہوجائے۔ اسی کی عکاسی میں یہ شعر:
آپ اک بار اگر آنکھ اٹھا کر دیکھیں
اک نئے دور کا آغاز ہوا رکھا ہے
پھر عشاق کے اس مجمع کو اپنے بخشے جانے کی امید بھی ہوجاتی ہے۔ دلوں کو کچھ قرار ملتا ہے تو ایک احساس یہ بھی اجاگر ہوتا ہے
کیا ٹھکانا ہے بھلا اس کے کرم کا کیفیؔ
اپنے اندازِ کرم کو بھی چھپا رکھا ہے
————————
عرفات میں عبادتوں اور دعاؤں کے ساتھ اِن عُشّاق کے دلوں میں ”محبوب کی طلبِ دید“ بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس حوالے سے کیفیؔ صاحب کے یہ اشعار پڑھیں:
ایک طوفانِ طلب روح میں پیدا کرکے
چھپ گئے آپ کہاں؟ حشر یہ برپا کرکے
سامنے آؤ اٹھاکر یہ حجابِ جلوہ
مجھ کو غافل نہ کرو محوِ تماشا کرکے
اجنبی میں ہوں زمانے سے، زمانہ مجھ سے
عشق نے چھوڑدیا ہے مجھے تنہا کرکے
لیکن وہ نظر کیسے آسکتے ہیں، عاشق کی خواہشِ دید بالکل بجا؛ طاقتِ دید مگر اس میں کہاں؟ چناں چہ اس کو بہت جلد اس کا احساس ہوجاتا ہے اور خود ہی کہنے لگتا ہے:
یہ بھی سچ ہے کہ ہمیں دید کا یارا بھی نہیں
یہ بھی سچ ہے ان کو نہ دیکھیں یہ گوارا بھی نہیں
پھر کہتا ہے:
معمور تو ہے جلوۂ محبوب سے عالم
نظروں کو مگر طاقت دیدار کہاں ہے
پھر یہ احساس بھی دل میں ابھر آتا ہے:
بے پردہ انہیں دیکھ سکے کس میں یہ دم ہے
اے اہل نظر ان کا یہ چھپنا بھی کرم ہے
❤1
پھر خود کو یہ کہہ کر سمجھانے لگتا ہے:
تم نے اے اہل نظر اس کو جہاں تک دیکھا
اس کے دیدار کی سرحد ہے وہاں سے آگے
اس لیے کہ ان کی ہستی ہی کچھ ایسی ہے کہ :
سوچیے تو وہ ہر جگہ ظاہر
ڈھونڈیئے تو کہیں نشاں بھی نہیں
ہائے حجاج کرام کی داستان بڑی طویل ہوگئی۔ لیکن کیا کیجئے کہ داستان عشق و محبت اور حکایتِ مہر و وفا ہمیشہ سے دراز نفس ہی واقع ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ عاشق کو کبھی سیری نہیں ہوتی اور ہوگی بھی کیسے؟ جب کہ عشق خود لامحدود ہے۔
اسی لیے زکی کیفیؔ ہی کے درج ذیل اشعار پڑھ کر ان کی حکایتِ محبت کو روک دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ
عشق ہی رازِ حقیقت کو سمجھ سکتا ہے
عقل کا کام نہیں وہم و گماں سے آگے
چناں چہ اپنا حال عرض کرتے ہیں:
بن کے اشعار نکل جاتے ہیں نالے کیفیؔ
چھیڑ دیتا ہے اگر سازِ رگِ جاں کوئی
اور
کتنے نغمے ہیں کہ پردوں میں چھپا رکھے ہیں
آپ چھیڑیں تو یہ سازِ دلِ ناساز کبھی
آخر میں خود کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں
عشقِ محبوب میں ہوجاؤ فنا یوں کیفیؔ
عشق ہی سلسلۂ نام و نسب ہوجائے
تم نے اے اہل نظر اس کو جہاں تک دیکھا
اس کے دیدار کی سرحد ہے وہاں سے آگے
اس لیے کہ ان کی ہستی ہی کچھ ایسی ہے کہ :
سوچیے تو وہ ہر جگہ ظاہر
ڈھونڈیئے تو کہیں نشاں بھی نہیں
ہائے حجاج کرام کی داستان بڑی طویل ہوگئی۔ لیکن کیا کیجئے کہ داستان عشق و محبت اور حکایتِ مہر و وفا ہمیشہ سے دراز نفس ہی واقع ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ عاشق کو کبھی سیری نہیں ہوتی اور ہوگی بھی کیسے؟ جب کہ عشق خود لامحدود ہے۔
اسی لیے زکی کیفیؔ ہی کے درج ذیل اشعار پڑھ کر ان کی حکایتِ محبت کو روک دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ
عشق ہی رازِ حقیقت کو سمجھ سکتا ہے
عقل کا کام نہیں وہم و گماں سے آگے
چناں چہ اپنا حال عرض کرتے ہیں:
بن کے اشعار نکل جاتے ہیں نالے کیفیؔ
چھیڑ دیتا ہے اگر سازِ رگِ جاں کوئی
اور
کتنے نغمے ہیں کہ پردوں میں چھپا رکھے ہیں
آپ چھیڑیں تو یہ سازِ دلِ ناساز کبھی
آخر میں خود کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں
عشقِ محبوب میں ہوجاؤ فنا یوں کیفیؔ
عشق ہی سلسلۂ نام و نسب ہوجائے
❤1
Mr Sid
*اگر فردوس بر روئے زمیں است* ✍🏻 علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ حؔرم مکی میں نماز با جماعت کا منظر دیدنی ہوتا ہے؛چہار سو انسان ہی انسان اور ہر چہار طرف سے قبلہ رخ بوسہ ہائے شوق اور سجدہ ہائے ذوق دکھائی دیتے، جسے قدوسیوں کی فوج ظفر موج تسبیح کناں عرش سے فرش پر اتر…
*کاروانِ شوق مزدلفہ میں*
✍🏻...
ادھر سورج نے رات کے اندھیروں میں منہ چھپایا اور ادھر کوچ کا آغاز ہوا:
ہر لحظہ نیا طور،نئی برقِ تجلی
اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے
گناہوں کے انبار اور لغزشوں کے ڈھیر،میدان عرفات میں چھوڑے،زاد راہ بس میں رکھا، پھر دیکھتے ہی انسانوں کا خاموش اور ساکت سمندر، ایک بار پھر موجزن ہوگیا ، شیدایانِ رب عشق و وفا کی ایک نئی منزل کو چلے، بسوں کا دراز سلسلہ، کشادہ سڑکوں کی چھاتی پر رینگتا ہوا شام ڈھلے مزدلفہ جا پہنچا، کچھ اللہ والے راہِ عشق میں بادہ پیمائی کے مزے بھی لوٹ رہے ہیں، بس سے اترتے ہی سڑک کے کنارے ڈیرہ جما دیا، کھلے آسمان تلے، صحرا کی رات، نہ کوئی خیمہ نہ سائبان، شام عاشقاں، نیارنگ اور نیا آہنگ لئے، پھر فضا میں انوکھی مہک،
ہر عمل کے پس پردہ نرالی حکمت، ہر مقام کی نئی آن اور جدا نشان، ہر پڑاؤ رنگا رنگ نوادرات روحانی کا پیش خیمہ، آج کی رات یہ تھکے ماندے عشق باز، اپنی جبینوں سے ریگ زار مزدلفہ کو سجا دیں گے اور ذکر کی نکہتوں سے اس فضائے نور کو بھر دیں گے، وقوف عرفہ کے بعد حضور پر نور نے مزدلفہ کی وادئ خیر و برکت میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کے بعد شب باشی کی تھی؛ اس لئے کہ سرور رسولاں تھک گئے تھے،اس میدان میں شب باشی کو محدثین کے مقدس گروہ نے ارکان حج میں شمار کیا ہے۔ سنت رسول پر عمل کرتے ہوئے ہم نے بھی نمازوں سے فراغت کے بعد آرام کیا۔
سبحان اللہ مذہب اسلام انسانوں کے لئے زحمتوں کا سامان نہیں،بلکہ رحمتوں کے جلو میں آسانیاں لے کر آیا ہے، نماز مغرب و عشاء کو جمع کی صورت میں ادا کرنے کے بعد ام عمران نے چولہا جلایا اور ہمارے ایک بزرگ ساتھی کی نیک دل اہلیہ نے آلو، ادرک اور انڈے ڈال کر بھجیا تیار کی، مزدلفہ کے میدان میں بازار اور دکانیں نہیں ہیں، بیاباں اور ویرانے کا مقام ہے، اگر کسی حاجی کے پاس ضروریات کا پورا اور معقول انتظام نہ ہو تو پھر صبر و شکر کے سوا کوئی دیگر چارہ نہیں، اب ان سرِ صحراء خاک نشینوں کی بھوک نے شدت اختیار کی، ہوا کی تندی و تیزی چولہے کے لئے بار بار پیغام مرگ لاتی، کاروان شوق کے سب فاقہ مست چولہے کو گھیرے میں لئے روک بن گئے ہیں؛ تاکہ آگ کا شعلہ بھڑ کے اور پیٹ کی آگ ٹھنڈی ہو،آخر خدا خدا کرکے بھجیا تیار ہوئی۔ اور پھر دیسی گھی سے تیار کردہ گرما گرم پراٹھے تیار کئے گئے ۔ کاروان شوق کے رہرو انڈوں کی بھجیا اور پراٹھوں سے خوب لطف اندوز ہوئے، صحرا میں یہ سامان خوردونوش!
اللہ! اللہ! اس کٹھن منزل میں ہمارے لئے یہ نعمت خوراک من و سلوی سے کم نہ تھی،یہ سارا بندو بست کاروان شوق کے ایک صالح بزرگ کی صالحہ بیوی نے کیا تھا۔ ان لوگوں کا تعلق دیہات سے تھا اور ماشاء اللہ یہ دوسری دفعہ حج کر رہے تھے۔ نہایت متقی اور جہان دیدہ، ان اللہ والوں نے اپنے ساتھ آٹا، انڈے اور دیسی گھی تک رکھا تھا، اللہ تعالی ان کو زندگی دے اور عافیت بھی ـ آمین!
مزدلفہ کا وسیع میدان ، آج کی رات، اللہ والوں سے اٹا پڑا ہے ، ارضِ خدا پر ہر سو اللہ والوں کی ٹولیاں محو ثنائے یزداں ہیں، یہیں ”مشعر الحرام ہے،“ جس کے بارے میں ارشاد ربانی اور تائید رحمانی فرقان حمید کی سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۹۸ میں یوں بیان ہوئی :
{فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ} اور جب تم عرفات سے پلٹو ( تو ) پس ذکر کرو اللہ کا مشعر الحرام کے پاس
یہ وہی جان فزا اور ایمان پرور خطۂ زمین ہے جہاں پر سید البشر نبی اکرم نے اپنی موج تبسم سے ابلیس راندۂ درگاہ کی ناکامیوں،نامرادیوں، رسوائیوں اور ذلتوں پر اظہار مسرت کے وہ لازوال سدا بہار اور مہکتے ہوئے پھول بکھیرے تھے کہ جن کی نکہت آج بھی اس فضائے بسیط میں رچی بھی ہوئی ہے؛ یوں لگا کہ جیسے یہ مقدس زمین اب تک عنبر آگیں ہے، باد نسیم ان جاودانی مسکراہٹوں سے عطر بیز ہوکر گلشن ہستی کے دائمی نکھار اور ابدی شادابیوں کا سبب بن گئی ہے اور باد بہاری اس دلنواز تبسم کی عنبر افشانیوں سے سیراب ہو کر ہر گوشۂ چمن پر شبنم افشاں ہے اور پھر اس ریاض دہر کی ساری تر و تازگی اور شگفتگی کا حقیقی راز یہی نورافشانی ہے۔
کاروان شوق مزدلفہ میں رات بسر کرنے کے بعد صبح دم، نماز فجر کے بعد پابہ رکاب ہوگیا، حج کے دوران ارکان حج کی ادائیگی کے لئے جہاں اور جس جگہ بھی کاروان شوق نے قیام کیا ہے،یہ سب مقامات مقدسہ اور بابرکت جگہیں ہیں۔ اور قبولیت دعا کے لئے نہایت موزوں اور مناسب تر ؛بل کہ اللہ اور اس کے رسول اکرم کے بتائے ہوئے بھی ہیں۔ نماز فجر کے بعد بارگاہ لم یزل میں ہاتھ پھیلائے ، صدائے فقیر حقیر پرتقصیر بارگاہ سمیع و بصیر میں سنی بھی گئی اور انشاء اللہ قبولیت کا شرف بھی حاصل ہوگا ـ
✍🏻...
یونس بصیرادھر سورج نے رات کے اندھیروں میں منہ چھپایا اور ادھر کوچ کا آغاز ہوا:
ہر لحظہ نیا طور،نئی برقِ تجلی
اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے
گناہوں کے انبار اور لغزشوں کے ڈھیر،میدان عرفات میں چھوڑے،زاد راہ بس میں رکھا، پھر دیکھتے ہی انسانوں کا خاموش اور ساکت سمندر، ایک بار پھر موجزن ہوگیا ، شیدایانِ رب عشق و وفا کی ایک نئی منزل کو چلے، بسوں کا دراز سلسلہ، کشادہ سڑکوں کی چھاتی پر رینگتا ہوا شام ڈھلے مزدلفہ جا پہنچا، کچھ اللہ والے راہِ عشق میں بادہ پیمائی کے مزے بھی لوٹ رہے ہیں، بس سے اترتے ہی سڑک کے کنارے ڈیرہ جما دیا، کھلے آسمان تلے، صحرا کی رات، نہ کوئی خیمہ نہ سائبان، شام عاشقاں، نیارنگ اور نیا آہنگ لئے، پھر فضا میں انوکھی مہک،
ہر عمل کے پس پردہ نرالی حکمت، ہر مقام کی نئی آن اور جدا نشان، ہر پڑاؤ رنگا رنگ نوادرات روحانی کا پیش خیمہ، آج کی رات یہ تھکے ماندے عشق باز، اپنی جبینوں سے ریگ زار مزدلفہ کو سجا دیں گے اور ذکر کی نکہتوں سے اس فضائے نور کو بھر دیں گے، وقوف عرفہ کے بعد حضور پر نور نے مزدلفہ کی وادئ خیر و برکت میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کے بعد شب باشی کی تھی؛ اس لئے کہ سرور رسولاں تھک گئے تھے،اس میدان میں شب باشی کو محدثین کے مقدس گروہ نے ارکان حج میں شمار کیا ہے۔ سنت رسول پر عمل کرتے ہوئے ہم نے بھی نمازوں سے فراغت کے بعد آرام کیا۔
سبحان اللہ مذہب اسلام انسانوں کے لئے زحمتوں کا سامان نہیں،بلکہ رحمتوں کے جلو میں آسانیاں لے کر آیا ہے، نماز مغرب و عشاء کو جمع کی صورت میں ادا کرنے کے بعد ام عمران نے چولہا جلایا اور ہمارے ایک بزرگ ساتھی کی نیک دل اہلیہ نے آلو، ادرک اور انڈے ڈال کر بھجیا تیار کی، مزدلفہ کے میدان میں بازار اور دکانیں نہیں ہیں، بیاباں اور ویرانے کا مقام ہے، اگر کسی حاجی کے پاس ضروریات کا پورا اور معقول انتظام نہ ہو تو پھر صبر و شکر کے سوا کوئی دیگر چارہ نہیں، اب ان سرِ صحراء خاک نشینوں کی بھوک نے شدت اختیار کی، ہوا کی تندی و تیزی چولہے کے لئے بار بار پیغام مرگ لاتی، کاروان شوق کے سب فاقہ مست چولہے کو گھیرے میں لئے روک بن گئے ہیں؛ تاکہ آگ کا شعلہ بھڑ کے اور پیٹ کی آگ ٹھنڈی ہو،آخر خدا خدا کرکے بھجیا تیار ہوئی۔ اور پھر دیسی گھی سے تیار کردہ گرما گرم پراٹھے تیار کئے گئے ۔ کاروان شوق کے رہرو انڈوں کی بھجیا اور پراٹھوں سے خوب لطف اندوز ہوئے، صحرا میں یہ سامان خوردونوش!
اللہ! اللہ! اس کٹھن منزل میں ہمارے لئے یہ نعمت خوراک من و سلوی سے کم نہ تھی،یہ سارا بندو بست کاروان شوق کے ایک صالح بزرگ کی صالحہ بیوی نے کیا تھا۔ ان لوگوں کا تعلق دیہات سے تھا اور ماشاء اللہ یہ دوسری دفعہ حج کر رہے تھے۔ نہایت متقی اور جہان دیدہ، ان اللہ والوں نے اپنے ساتھ آٹا، انڈے اور دیسی گھی تک رکھا تھا، اللہ تعالی ان کو زندگی دے اور عافیت بھی ـ آمین!
مزدلفہ کا وسیع میدان ، آج کی رات، اللہ والوں سے اٹا پڑا ہے ، ارضِ خدا پر ہر سو اللہ والوں کی ٹولیاں محو ثنائے یزداں ہیں، یہیں ”مشعر الحرام ہے،“ جس کے بارے میں ارشاد ربانی اور تائید رحمانی فرقان حمید کی سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۹۸ میں یوں بیان ہوئی :
{فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ} اور جب تم عرفات سے پلٹو ( تو ) پس ذکر کرو اللہ کا مشعر الحرام کے پاس
یہ وہی جان فزا اور ایمان پرور خطۂ زمین ہے جہاں پر سید البشر نبی اکرم نے اپنی موج تبسم سے ابلیس راندۂ درگاہ کی ناکامیوں،نامرادیوں، رسوائیوں اور ذلتوں پر اظہار مسرت کے وہ لازوال سدا بہار اور مہکتے ہوئے پھول بکھیرے تھے کہ جن کی نکہت آج بھی اس فضائے بسیط میں رچی بھی ہوئی ہے؛ یوں لگا کہ جیسے یہ مقدس زمین اب تک عنبر آگیں ہے، باد نسیم ان جاودانی مسکراہٹوں سے عطر بیز ہوکر گلشن ہستی کے دائمی نکھار اور ابدی شادابیوں کا سبب بن گئی ہے اور باد بہاری اس دلنواز تبسم کی عنبر افشانیوں سے سیراب ہو کر ہر گوشۂ چمن پر شبنم افشاں ہے اور پھر اس ریاض دہر کی ساری تر و تازگی اور شگفتگی کا حقیقی راز یہی نورافشانی ہے۔
کاروان شوق مزدلفہ میں رات بسر کرنے کے بعد صبح دم، نماز فجر کے بعد پابہ رکاب ہوگیا، حج کے دوران ارکان حج کی ادائیگی کے لئے جہاں اور جس جگہ بھی کاروان شوق نے قیام کیا ہے،یہ سب مقامات مقدسہ اور بابرکت جگہیں ہیں۔ اور قبولیت دعا کے لئے نہایت موزوں اور مناسب تر ؛بل کہ اللہ اور اس کے رسول اکرم کے بتائے ہوئے بھی ہیں۔ نماز فجر کے بعد بارگاہ لم یزل میں ہاتھ پھیلائے ، صدائے فقیر حقیر پرتقصیر بارگاہ سمیع و بصیر میں سنی بھی گئی اور انشاء اللہ قبولیت کا شرف بھی حاصل ہوگا ـ
Mr Sid
*اگر فردوس بر روئے زمیں است* ✍🏻 علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ حؔرم مکی میں نماز با جماعت کا منظر دیدنی ہوتا ہے؛چہار سو انسان ہی انسان اور ہر چہار طرف سے قبلہ رخ بوسہ ہائے شوق اور سجدہ ہائے ذوق دکھائی دیتے، جسے قدوسیوں کی فوج ظفر موج تسبیح کناں عرش سے فرش پر اتر…
مزدلفہ چھوڑنے سے پہلے اللہ مالک ارض و سما سے فریاد کناں ہوں کہ مجھے علم نافع عطا کر، میرا سینہ کھول دے، میری مشکلات آسان کر، میرے ذکر میں میری مدد کر، مجھے شکر گزار بندہ بنا دے، میری بندگی میں خشوع و خضوع ، عاجزی، فروتنی اور انکساری پیدا کر اور میرے قلم کو گوہر بار بنادے۔ آمین۔
میرے جذبات کی ترجمانی کسی شاعر نے کیا خوب کی ہے:
کہاں میں اور کہاں نکہت گل
نسیم صبح تیری مہربانی
اس میدان سے منٰی کو جاتے ہوئے راستے میں وہ مقام عبرت بھی ہے جسے ”وادی مُحَسَّر“ کہتے ہیں۔ انہی عبرتناک اور سبق آموز راہوں میں ابرہہ اور اس کے لشکریوں پر (جبکہ وہ اپنے ہاتھیوں پر سوار اور نشۂ طاقت میں مست ہوکر ، بیت اللہ کو ( نعوذ باللہ ) صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے کے ارادوں سے تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے کہ اسی اثنا میں) رب کعبہ کا عذاب ناگہاں ابابیلوں کی شکل میں نازل ہوا اور پھر ان مرغانِ خدا نے اپنی چونچوں سے وہ ایٹمی ذرات پھینکے کہ جن کی تابکاریوں نے ظالم ابرہہ اور اس سے عظیم لشکر کو آنا فانا جھلسا کر راکھ کردیا۔ ان ظالموں اور سرکشوں کی راکھ آج بھی اس وادی میں بکھری پڑی ہے اور ایسے ظالموں ، غارت گروں اور اللہ کے خلاف سرکش باغیوں کے لئے نشان عبرت ہے۔
دشت و جبل کی پاک فضاؤں میں بھیگی ہوئی رات ، مطلع بالکل صاف، ستاروں کی تانک جھانک جاری، ہر سو ایمان ویقین کی قندیلیں روشن، ہر طرف حق و نور میں ڈوبی ہوئی محفل آرائیاں، ہر جانب رحمان کی رحمانیت کے روح پرور جلوے اور ہر سمت رحیم کی رحیمیت کے دل نواز کرشمے، ہر گوشۂ میدان ذکر و شکر سے مہکا ہوا، جلوت میں عزلت نشینی کے مزے بھی لوٹے اور خلوت میں انجمن کی بہاریں بھی دیکھیں،اذانِ فجر کے بعد نماز فجر کا اہتمام ہوا اور نماز سے فراغت کے بعد ذکر و دعا کا سلسلہ دراز ہوا اور ساتھ ساتھ شیطان کا سر پھوڑنے کے لئے سنگ ریزوں کی تلاش میں ہاتھ حرکت میں آئے اور تھوڑے وقت میں ہر ساتھی نے ستر کنکریاں چن لیں، اس میدان میں آج تک اربوں انسان اترچکے ہیں اور قیامت تک آتے رہیں گے لیکن شیطان کے وجود پر عملی پھٹکار کے لئے یہ سنگ ریزے کبھی ختم نہیں ہونگے ۔
ارشاد باری تعالٰی کی اطاعت و فرماں برداری میں آج مشعر الحرام ذکر کی صداؤں سے گونج اٹھا ہے اور یہ سلسلہ ذکر و دعا اور اہتمام حمد و شکر، طلوع آفتاب تک جاری رہے گا۔
( صحنِ حرم، صفحہ: ۸۱، طبع: صفہ پبلشر، اے، ایبٹ روڈ، لاھور)
محمد عدنان وقار صدیقی
میرے جذبات کی ترجمانی کسی شاعر نے کیا خوب کی ہے:
کہاں میں اور کہاں نکہت گل
نسیم صبح تیری مہربانی
اس میدان سے منٰی کو جاتے ہوئے راستے میں وہ مقام عبرت بھی ہے جسے ”وادی مُحَسَّر“ کہتے ہیں۔ انہی عبرتناک اور سبق آموز راہوں میں ابرہہ اور اس کے لشکریوں پر (جبکہ وہ اپنے ہاتھیوں پر سوار اور نشۂ طاقت میں مست ہوکر ، بیت اللہ کو ( نعوذ باللہ ) صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے کے ارادوں سے تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے کہ اسی اثنا میں) رب کعبہ کا عذاب ناگہاں ابابیلوں کی شکل میں نازل ہوا اور پھر ان مرغانِ خدا نے اپنی چونچوں سے وہ ایٹمی ذرات پھینکے کہ جن کی تابکاریوں نے ظالم ابرہہ اور اس سے عظیم لشکر کو آنا فانا جھلسا کر راکھ کردیا۔ ان ظالموں اور سرکشوں کی راکھ آج بھی اس وادی میں بکھری پڑی ہے اور ایسے ظالموں ، غارت گروں اور اللہ کے خلاف سرکش باغیوں کے لئے نشان عبرت ہے۔
دشت و جبل کی پاک فضاؤں میں بھیگی ہوئی رات ، مطلع بالکل صاف، ستاروں کی تانک جھانک جاری، ہر سو ایمان ویقین کی قندیلیں روشن، ہر طرف حق و نور میں ڈوبی ہوئی محفل آرائیاں، ہر جانب رحمان کی رحمانیت کے روح پرور جلوے اور ہر سمت رحیم کی رحیمیت کے دل نواز کرشمے، ہر گوشۂ میدان ذکر و شکر سے مہکا ہوا، جلوت میں عزلت نشینی کے مزے بھی لوٹے اور خلوت میں انجمن کی بہاریں بھی دیکھیں،اذانِ فجر کے بعد نماز فجر کا اہتمام ہوا اور نماز سے فراغت کے بعد ذکر و دعا کا سلسلہ دراز ہوا اور ساتھ ساتھ شیطان کا سر پھوڑنے کے لئے سنگ ریزوں کی تلاش میں ہاتھ حرکت میں آئے اور تھوڑے وقت میں ہر ساتھی نے ستر کنکریاں چن لیں، اس میدان میں آج تک اربوں انسان اترچکے ہیں اور قیامت تک آتے رہیں گے لیکن شیطان کے وجود پر عملی پھٹکار کے لئے یہ سنگ ریزے کبھی ختم نہیں ہونگے ۔
ارشاد باری تعالٰی کی اطاعت و فرماں برداری میں آج مشعر الحرام ذکر کی صداؤں سے گونج اٹھا ہے اور یہ سلسلہ ذکر و دعا اور اہتمام حمد و شکر، طلوع آفتاب تک جاری رہے گا۔
( صحنِ حرم، صفحہ: ۸۱، طبع: صفہ پبلشر، اے، ایبٹ روڈ، لاھور)
محمد عدنان وقار صدیقی