علم و کتاب
7.97K subscribers
1.14K photos
84 videos
2.38K files
6.27K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
ستر کی دہائی کے اوائل میں، جب انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے نوجوان ساتھی دعوت اور جماعت کی قیادت میں پختہ ہو چکے ہیں، تو انہوں نے شارقہ کے حاکم شیخ خالد بن محمد القاسمی مرحوم کی دعوت پر خلیج کا رخ کیا تاکہ وہاں وعظ و ارشاد کا کام سنبھالیں۔ وہ شروع میں وہاں آتے جاتے رہے، یہاں تک کہ 1975ء میں وہ مستقل طور پر وہاں مقیم ہو گئے اور لبنان سے ان کا تعلق عملی طور پر منقطع ہو گیا (ان کا آخری دورہِ لبنان 1979ء میں تھا)۔
انہوں نے وہاں سے اپنی دعوت کا سفر جاری رکھا؛ وہ روزانہ "ریڈیو شارقہ" پر گفتگو کرتے تھے، اور پھر مختلف میڈیا ذرائع بشمول ٹیلی ویژن کے ذریعے ایک دینی استاد اور رہنما کے طور پر درس دیتے رہے۔
آپ کو خلیج کے ممالک میں وہ شاندار مہمان نوازی، عزت اور سرپرستی ملی جس کے وہ حقدار تھے، اور انہوں نے وہاں ایسا نیک نام کمایا کہ لوگ خاندانی تنازعات اور سماجی مسائل کے حل کے لیے ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔
وفات:
طویل دعوتی جدوجہد، سرگرمی، اور مسلمانوں کے اتحاد کی کوششوں سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد، اتوار کی صبح 26 صفر 1427ھ مطابق 26 مارچ 2006ء کو اللہ تعالی نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔
Https://telegram.me/ilmokitab
❤1
علم و کتاب لائبریری گروپ تجربانی طور پر بنایا گیا ہے، اس چینل کو چھوڑ کر احباب اس مین شریک نہ ہوں، کیونکہ اس میں گروپ کا محدود مواد ٹرانسفر ہوگا۔ یہ اصل چینل باقی رہے گا۔ عبد المتین منیری
*وفیات مورخہ: 27/مئی*
1935ء  مسعود حسن۔  پروفیسر، ماہر تعلیم
1961ء  خواجہ دل محمد دل۔  ریاضی دان، ماہرتعلیم
1964ء  جواہر لال نہرو۔  وزیر اعظم ہند ،
1967ء  شاہد احمد دبلوی۔  مدیر ساقی دہلی ،
1969ء  ناطق گلاؤٹھوی (سید ابو الحسن)۔  شاعر
1986ء  بلونت سنگھ۔  ادیب، نقاد
1988ء  احسن مارہروی۔  ادیب ومحقق
1996ء  صمد شاہین۔   ،
2000ء  علی نواز وفائی۔   ،
 
Https://telegram.me/ilmokitab
آج اردو کے مایہ ناز ادیب ومحسن شاہد احمد دہلوی مدیر ساقی دہلی کا یوم وفات ہے، آپ کا انتقال مورخہ 27 مئی 1967ء ہوا تھا۔ اس مناسبت سے آپ کی آواز میں آب بیتی پر مشتمل آڈیو لنک منسل ہے۔
پیشکش اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=zindagi-kay-ibtidai-shab-o-roaz, Zindagi kay Ibtidai Shab o Roaz
Mr Sid
آفتاب غروب ہوا، قرینۂ وثوق میں دل کہتا ہے کہ: آج خاکیوں کی رسائی افلاکیوں تک ہوگئی ہوگی،ان ساکنان خطۂ خاک پر کروبیوں اور آسمانی مخلوق رشک کرتے ہوں گے،ان کی زبانوں پر آبشاری نغمے، بدن پر آبی قطرات،آنکھوں سے برستے محسوسات،قلوب میں امڈتے جذبات،اوج فلک تک پہونچنے…
*اگر فردوس بر روئے زمیں است*

✍🏻 علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ


حؔرم مکی میں نماز با جماعت کا منظر دیدنی ہوتا ہے؛چہار سو انسان ہی انسان اور ہر چہار طرف سے قبلہ رخ بوسہ ہائے شوق اور سجدہ ہائے ذوق دکھائی دیتے، جسے قدوسیوں کی فوج ظفر موج تسبیح کناں عرش سے فرش پر اتر آئی ہے اور ایسے میں مسجد حرام رشک فردوس و عدن نظر آئے تو حیرت کیسی؟


جؔہانگیر نے تو کشمیر کے مرغ زاروں کو دیکھ کر کہا تھا:

؎ اگر فردوس بر روئے زمین است

همین است و همین است و همین است

اور مجھے بیت عتیق کی دل آویزیاں اور دل ربائیاں رہ گزار مکہ میں ہی ۔۔۔ اسی شعر کو دہرانے پر انگیخت کردیے تیں اور کیوں نہ ہو کہ وہ منزل ملائک بھی ہے اور فرودگاه رحمت بھی، کہ کسی لمحہ بھی اس کا صحن ستر ہزار فرشتے سے خالی نہیں رہتا اور پھر اسی کو تو ہاجرہ و اسماعیل (علیها السلام) کا مسکن اور سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا مولد بنایا گیا اور اس کی چوکھٹ پر اس نے اپنے سر کو جھکایا کہ کائنات جس کے سامنے جھکتی تھی، اور دنیا میں کن سنگریزوں اور پتھروں کو یہ شرف حاصل ہوا کہ میرے آقا و مولیٰ نے اپنے لب لعلین و دست مبارک سے ان کو چوما اور ان کو چھوا۔

دیوار کعبہ! تو مبارک کہ یتیم مکہ نے تیرے سینے سے اپنے سینے کو مس کیا۔

باب کعبہ! تو مقدس کہ تیری دہلیز میں خاتم النبین نے سجدے کئے۔

ملتزم! تو محترم کہ رؤف و رحیم تجھ سے لپٹے اور چمٹے۔

حجر اسود! تو عزیز تر کہ خاتم الانبیاء نے تجھ پر اپنے لب رکھے۔

رکن یمانی! تو مکرم کہ طیب و طاہر کے بابا نے تجھ کو سہلایا اور تھپکایا۔

مقام ابراہیم! تو محتشم کہ سرتاج انبیاءنے تجھے اپنے سجدوں سے سجایا۔

زمین حرم! تو ساری کی ساری گرامئ منزلت کہ سرور گرامی منزلت کی پیشانی نے تیرے بوسے لیے۔

ایام حج میں سرزمین حجاز پر واقعی بہار آجاتی ہے اور رنگ برنگے شگوفے اس کی گود میں کھلتے اور طرح طرح کی کلیاں اس میں مسکراتیں اور قسم قسم کے پھول اس میں نظر نوازی اور روح پروری کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ جدھر دیکھو ایک نئی شان،نئی آن نئی بان نظر آتی ہے۔

کئی گورے انتہائی گورے موتئے کے پھولوں کی طرح سفید... اور کہیں کالے انتہائی کالے بلیک روز (سیاہ گلاب) سے بھی کالے اور کچھ گلابی اور شہابی اور کچھ گیندے کی طرح بھانت بھانت کے رنگ اور بھانت کی بولیاں اور دیس بدیس کے لوگ ،ہؔمالہ کی ترائیوں سے لے کر جبال بؔرانس کی چوٹیوں تک کے رہنے والے اور ساحل نؔیل سے لے کر ارض کؔاشغر تک کے بسنے والے، ایک ہی لباس میں ملبوس اور ایک ہی رجز لبوں پر،حرمین میں انسان اپنی آنکھوں سے رنگ و نسل کے ان بتوں کو پاش پاش دیکھتا ہے، جنہیں رسول اکرم نے چودہ سو سال پیشتر بطحائے مکہ کے پڑوس عرفات میں چکنا چور کر دیا تھا۔ کسی گورے کو کالے پر اور عربی کو عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ، فضیلت کا معیار ایک ہی ہے اور وہ ہے تقرب الی اللہ اور طہارت باطنی، جتنا کوئی زیادہ طاہر اور جتنا کوئی زیادہ متقی ہے وہ اسی نسبت سے دوسروں سے ممتاز تر ہے۔

انسان اس منظر کی رعنائی اور زیبائی میں کھو کھو جاتا ہے اور یہ یک رنگی اس کے دل کو موہ موہ لیتی ہے ، مساوات، برابری، مروت اور محبت کے یہ مناظر سرزمین حجاز کے علاوہ اور کہاں دیکھنے میں آتے ہیں، اور پھر اس بھیڑ بھاڑ میں کوئی دنگا نہیں،کوئی فساد نہیں،لڑائی اور جھگڑے کا نام و نشان نہیں، عادات میں تفاوت، زبانوں میں اختلاف، رنگوں میں فرق،اجسام میں تباعد؛ لیکن ارواح میں تقارب، خیالات میں یک رنگی اور افکار میں یگانگت،اذہان و قلوب کی تمام دوریوں کو قرب میں تبدیل کردیتے ہیں۔

حرمین میں بھیٹر کی وجہ سے کسی کو دھکا لگ جائے تو چہروں پر ملال اور پیشانیوں پر بل نہیں؛ بلکہ ندامت اور معذرت کے آثار نمودار ہوتے ہیں اور زبان سے نا آشنائی کے باوصف حرکات کی شناسائی اس کے اعتذار کو ظاہر کئے بغیر نہیں رہتی، کوئی تو سر کو فروتنی سے خم کرتا،کوئی ہاتھ کو عاجزی سے سینے پر رکھ کر پلکیں جھکا کے زبان بے زبانی سے کہتا ہے: بھائی بھول ہوگئی ؛معاف کر دو!
ایک مرتبہ جب ایک جوان رعنا حبشی کے دھکے سے میرے پاؤں اکھڑ گئے تو اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر میرے ہاتھ کو چوم لیا اور پھر اسے اپنے سینے پر رکھ کر اپنی غلطی پر پشیمانی کا اظہار کرنے لگا اور مجھے محمد عربی علیہ السلام کی امت کے اس گرانڈیل .... جوان خوبرو کی اس ادا نے اتنا متاثر کیا کہ دل و دماغ جھوم جھوم اٹھے اور جی چاہا کہ اس سے لپٹ جاؤں، کس قدر عجز تھا اور کس قدر انکسار،حالانکہ یہی رَش اور یہی ہجوم اگر کسی اور مقام پر ہو تو اختلاف طبائع اور اختلاف نسل کئی جانوں کو لیے اور کئی جسموں کا خون بہائے بغیر نہ رہے۔

نماز عشاء کے فورا بعد طواف کا سلسلہ شروع ہوا، اس دن بلا مبالغہ پندرہ، بیس ہزار انسان بیک وقت کعبہ معظمہ کے گرد طواف کر رہے تھے اور بیت اللہ اسی طرح دکھائی دے رہا تھا جیسے ہالے کے اندر چاند۔

( سفر حجاز، صفحہ: 46، طبع: ادارہ ترجمان السنہ، لاھور)
❤2
*بیعت کا مقصد*
ملفوظ:شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی ؒ
جس وقت حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب ؒ حضرت شیخ الہندؒ سے بیعت ہوۓ، اس وقت شیخ الہند ؒنے حضرت قاری صاحب ؒکو یہ نصیحتیں فرمائی تھیں:
"بیعت کا مقصد یہ نہیں کہ اس سے کوئی دُنیوی عزت یا دولت مل جائے گی، بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ نفس اور باطن کی اصلاح ہو جائے اور وہ پاکیزہ اور مہذب ہو جائے، کیوں کہ انسان کے نفس کے ساتھ ہزاروں روگ لگے ہوئے ہیں، جیسے تکبّر، حرص، حسد، کینہ، بغض، عداوت اور عناد وغیرہ۔ دُنیوی فسادات بھی انہی سے پیدا ہوتے ہیں اور انسان کی آخرت بھی انہی سے برباد ہوتی ہے۔
*بیعت کا منشا یہ ہے کہ اخلاقِ ذمیمہ مغلوب ہو جائیں اور اخلاقِ فاضلہ غالب آجائیں، جیسے انابت الی اللہ (اللہ کی طرف متوجہ رہنا)، صبر و شکر، حیا و سخا، غیرت و حمیت اور توکّل وغیرہ*۔ اور یہ چیزیں کثرتِ ذکر سے پیدا ہوتی ہیں۔ جس قدر ذکر کیا جائے گا، اخلاقِ فاضلہ اسی انداز سے قوی ہوں گے اور اطاعت کی رغبت پیدا ہوگی۔ اور اسی کے ساتھ معصیت سے نفرت بڑھتی جائے گی۔"
(دارالعلوم دیوبند ص۳۶)
انتخاب: محمد رضی قاسمی
❤1
. *قافلۂ حجاج کی غائبانہ معیت...!*
(زکی کیفیؔ کی کیفیات کے مطالعے کے تناظر میں)
از: مفتی محمد عمران قاسمی کورٹلوی
آج عرفات کے میدان میں حجاجِ کرام کا قافلہ خیمہ زن ہے۔ عشاق کا یہ مجمع مسلسل محو عبادت ہے۔ کوئی مصروفِ مناجات تو کہیں سر بسجود، کہیں لبیک کے زمزمے تو کہیں آہیں اور دعائیں۔ غرض بندگانِ الہی آج غلامی کی ادائیں دکھا رہے ہیں۔ ایسے میں بہت سے دُوراُفتادگان کے دل بے چین و بے قرار ہیں اور ان کی کیفیت ناقابلِ بیان۔ اُن پریشان حالوں کے لئے تسلی کا سامان سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ سوئے حرم جانے والے اُن عشاقِ الٰہی کے تذکرے پڑھ پڑھ کر اور ان کی اداؤں کو یاد کرکرکےکسی طرح سکونِ دل کی کوشش کریں۔ چناں چہ یہ راقم بھی آج امدادُ الحجاج (افادات از: حضرت اقدس تھانویؒ) لیکر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر مطالعے کے بعد زکی کیفیؔ مرحوم کے شعری مجموعہ ”کیفیات“ پر نظر پڑی تو یکایک ہاتھ اس کی طرف بڑھ گئے۔” کیفیات“ کی ورق گردانی کی تو کہنا چاہیے کہ ”کیفیت“ ہی بدل گئی۔ یوں لگا جیسے راقم بھی حجاج کرام کے قافلے کا ہی ایک فرد ہے۔ بس عالمِ تصورات میں آج سرزمینِ حجاز پر حاضر ہوگیا اور یوں قافلۂ حجاج کی غائبانہ معیت نصیب ہوگئی۔
پھر سوئے حرم یہ دلِ شوریدہ رواں ہے
پھر ہر غمِ ہستی سے حفاظت ہے، اماں ہے

انوار ہی انوار! تجلی ہی تجلی!
گلیوں میں مدینے کی بہشتوں کا سماں ہے

اک عالمِ حیرت میں نظر کھوئی ہوئی ہے
جلوے ہیں مگر طاقتِ دیدار کہاں ہے

کانٹے بھی عرب کے گُل و لالہ سے حسیں ہیں
ذروں پہ چمکتے ہوئے سورج کا گماں ہے

کیفی! میں درِ شافعِ محشر کا گدا ہوں
کیا غم ہے گناہوں کا اگر بارِگراں ہے

زکی کیفیؔ مرحوم صاحبِ تفسیر معارف القرآن، مفتی اعظم حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے سب سے بڑے فرزند تھے۔ ان کے کلام میں بہت پختگی ہے۔ وقت کے نامور شعراء نے اس کی کُھل کر ستائش کی ہے۔ ماہر القادری، احمد ندیم قاسمی اور احسان دانش جیسے معروف، ممتاز، کہنہ مشق اور استاد درجہ کے سخنور و سخن فہم شعراء نے ان کے مجموعۂ کلام پر اپنے قیمتی تاثرات لکھے اور غیر معمولی دادِ تحسین دی۔ لیکن بقول شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمدتقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم: ” بھائی صاحب (زکی کیفیؔ) مرحوم کا مجموعۂ کلام مجموعۂ پیام بھی ہے“۔ اور واقعہ یہ ہے کہ جب اس نقطۂ نظر سے ان کے کلام کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں ان کی شاعری میں حبِّ الٰہی کے بیش قیمت اسباق، عشق رسولﷺ کے حسین و خوب صورت انداز، معرفتِ خداوندی کی رازدارانہ باتیں، راہ طریقت کے اسرار و رموز اور نکتے اور اہل محبت کی قلبی واردات کی ترجمانی جا بہ جا نظر آتی ہے۔ سرِ دست حجاج کرام کے قافلے کو ذہن میں رکھ کر اور ان کی مختلف عاشقانہ اداؤں کا تصور کرکے اگر ہم ”کیفیات“ کا مطالعہ کریں تو کہنا چاہیے کہ لمحات زندگی بڑے ”پُرکیف“ ہوجائیں گے۔اسی غرض سے کچھ منتخبات پیشِ خدمت ہیں۔

مرتب کتاب لکھتے ہیں کہ ایک سال حضرت زکی کیفیؔ کا کچھ رفقاء کے ساتھ عمرے کا پروگرام بنا، دوسرے رفقاء چلے گئے مگر اُن کو کچھ عذر پیش آ گیا۔ زکی کیفیؔ نے اس واقعے پر فی البدیہہ ایک تاثراتی نظم کہی۔ واقعہ یہ ہے کہ اس نظم کے ایک ایک شعر میں قافلۂ حجاج سے پیچھے رہ جانے والے تڑپتے دلوں کی آواز آج بھی محسوس ہوتی ہے۔
نظم کا عنوان ہے ”راہروانِ حجاز سے“
فرماتے ہیں:
مجھ کو بھی ساتھ جانبِ گلزار لے چلو
اے رہروانِ کوچۂ دلدار لے چلو

ہیں جس دیارِ پاک پہ ہر آن رحمتیں
پیہم جہاں ہے بارشِ انوار لے چلو

ذرے جہاں کے ہمسرِ ماہ و نجوم ہیں
پھولوں سے بھی حسیں ہیں جہاں خار لے چلو

آئے گا جوش، شانِ کریمی کو دیکھ کر
نیکو! تم اپنے ساتھ گنہگار لے چلو

تم ہو بلند بخت، نہ صرفِ نظر کرو
ہوجائے میرا بخت بھی بیدار لے چلو

بے شک متاعِ عشق و جنوں ہے تمہارے پاس
رکھتا ہوں میں بھی دیدۂ خونبار لے چلو

روشن ضمیر قافلے والو! کرم کرو
ساتھ ایک تیرہ قلب و سیہ کار لے چلو

میں ہوں غریقِ بحرِ معاصی بجا، مگر
مجھ سے نہ اس طرح سے ہو بیزار، لے چلو

مجھ ناتوان و خستہ و بیمار پر کرم
اللہ ہو تمہارا مددگار، لے چلو

کانٹے جو راہ کے ہیں، ہٹاتا چلوں گا میں
آئی جو کوئی وادیٔ پُر خار لے چلو

میں تشنہ کامِ عشق ہوں یارو مدد کرو
تم ہو شرابِ عشق سے سرشار لے چلو

بھاری تھی شب مریض پہ لیکن وہ کٹ گئی
اب ہو رہے ہیں صبح کے آثار لے چلو
❤1
————————

دیدار بیت اللہ اور حرمین شریفین کی مبارک حاضری واقعی بہت بڑی سعادت ہے۔ اسی لیے بندگانِ الٰہی اس نعمت عظمیٰ کو بار بار پانے کے لئے اپنے دلوں میں آرزوئیں رکھتے ہیں۔ اس کے لئے تڑپتے، بے قرار ہوتے، آنسو بہاتے اور دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ پھر جب حج کے ایام آجائیں، اور عشاق کے قافلے سوئے حرم روانہ ہوں، لیکن وہ اگر پیچھے رہ جائیں تو ان کی دلی کیفیت بس اللہ ہی جانتے ہیں۔ ایسے موقعے پر ان کے دلِ دردمند کا حال ناقابلِ بیان ہوتا ہے۔ان کے محبت بھرے جذبات کی ”کچھ کچھ عکاسی“ اور ان کے خوبصورت و حسین تصورات کی ایک ”ہلکی سی تصویر“ ذرا زکی کیفیؔ کے درج ذیل اشعار میں دیکھیے۔ فرماتے ہیں:
شب و روز اب تو یہی ہیں دعائیں
خدا دن وہ لائے مدینہ کو جائیں

نظر آئیں جس دم حرم کی فضائیں
بہ ہر گام اپنی نگاہیں بچھائیں

عرب کے بیاباں کا ہر ذرّہ چومیں
غُبارِ حرم کو گلے سے لگائیں

وہ دنیا کی جنت، وہ جنت کی دُنیا
معنبر ہوائیں، معطّر فضائیں

جہاں پر ہیں انسان جیسے فرشتے
مہکتی ہیں ہر سُو عبائیں قبائیں

کبھی مسجدِ فتح و نصرت کو دیکھیں
کبھی جا کے لے لیں اُحد کی بلائیں

کبھی دُور سے سبز گنبد کو دیکھیں
کبھی پاس آ کر نگاہیں جھکائیں

کریں جالیوں پر ان آنکھوں کو صدقے
مواجہ میں اشکوں کے موتی لُٹائیں

ادھر سے اُمڈتے ہوں اشکِ ندامت
اُدھر رحمتوں کی برستی گھٹائیں

تصور جب اپنی خطاؤں کا آئے
بھلادیں سب ان کی مسلسل عطائیں

فضاؤں میں نغمہ ہو صلِّ علیٰ کا
سلامٌ علیکمْ کی لب پر صدائیں

دُعا ہے یہ کیفیؔ کہ ہر سال ہم بھی
مدینہ کے دیوار و در دیکھ آئیں

معذرت بہ روح شاعر کہ درج بالا نظم کے آخری شعر میں راقم نے ہلکی سی لفظی ترمیم کی ہے، جس سے یہ شعر آج کے حسب حال ہوگیا ہے۔ اصل شعر کچھ اس طرح ہے:
دُعا ہے یہ کیفیؔ کہ اِس سال ہم بھی
مدینہ کے دیوار و در دیکھ آئیں
اس نظم پر حاشیہ لگاتے ہوئے ہیں شاعر کے برادر صغیر، شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم لکھتے ہیں کہ ”یہ نعت کہنے کے بعد فوراً حضرت زکی کیفیؔ کو حج بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی اور وہاں سے واپسی پر دارِ آخرت کا بلاوا آگیا۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں بھی ایسا سچا عشق عطا فرمائے (آمین)
————————
مدتوں تڑپنے، سسکنے، آنسو بہانے اور دعائیں مانگنے کے بعد جب کسی عاشق کو دربار الٰہی میں حاضری نصیب ہوتی ہے تو دل، تشکر کے جذبات سے لبریز ہوجاتا ہے۔ اس کی دلی کیفیات اور قلبی واردات کیا ہوتی ہیں؟ ہم اسے زکی کیفیؔ کے درج ذیل اشعار میں دیکھ سکتے ہیں۔ کہتے ہیں:
پورا ہوا ہے عزمِ سفر مدتوں کے بعد
جھلکا دُعا میں رنگِ اثر مدتوں کے بعد

دیکھی ہے ان کی راہ گذر مدتوں کے بعد
مجھ کو ملی ہے اپنی خبر مدتوں کے بعد

اب جلوہ گاہِ یار ہے آنکھوں کے سامنے
روشن ہوا چراغِ نظر مدتوں کے بعد

کرنے دو شوخیاں اسے اب سنگِ در کے ساتھ
مچلا ہے آستاں پہ یہ سر مدتوں کے بعد

اے دل ترانہ سنج ہو شکرِ وصال میں
اب شکوۂ فراق نہ کر مدتوں کے بعد

ڈستی رہی ہیں دل کو شبِ غم کی ظلمتیں
آیا نظر جمالِ سحر مدتوں کے بعد

ان کی تجلیاں تو ہیں ہر آن نو بہ نو
ملتا ہے اذنِ دید مگر مدتوں کے بعد

مدتوں کے بعد جب ”اذنِ دید“ ہو، ”آنکھوں کے سامنے جب جلوہ گاہِ یار ہو“ پھر ”ہر آن نو بہ نو تجلیاں نظر آنے لگیں“ اور اس نعمت پر ”دل شکرِ وصال میں ترانہ سنج ہو“ تو پھر عاشق کے ”ذوق طلب“ میں اضافہ کیوں کر نہیں ہوگا؟ اس نے تو اب ”جستجو کا ایک نیا جہان“ دریافت کرلیا ہے۔ مدتوں تک حرمین کی حاضری سے محرومی کی وجہ سے اُسے غم تھا۔ لیکن ”لذتِ احساسِ غم“ تو اس کو اب حاصل ہوگی اور اس ”لذت نایاب“ کی قیمت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ تو وہ اب کرپائے گا۔ چناں چہ اب اس کی آرزو یہ ہوتی ہے کہ ”ان کی محفل کے نظارے کے بعد پھر کوئی محفل نہ دیکھے“، اس کے لئے ”وہ دعا مانگتا ہے کہ اب کی نظر چھین لی جائے“۔ زکی کیفیؔ مرحوم کے درجِ ذیل اشعار میں ذرا اس کا آئینہ دیکھیے۔ فرماتے ہیں:

مل گیا ذوقِ طلب کو اک جہانِ جستجو
اور ہمت بڑھ گئی ہے سعئ لاحاصل کے بعد

اب ہوا معلوم کیا ہے لذّتِ احساسِ غم
دل کی قیمت بڑھ گئی کیفیؔ شکستِ دل کے بعد

چھین لے مجھ سے نظر اے جلوۂ خوش روئے دوست
❤2
میں کوئی محفل نہ دیکھوں اب تری محفل کے بعد
————————
ہائے! زکی کیفیؔ نے کہاں سے کہاں پہونچادیا۔ آج تصورات کا عالم ہی کچھ اور ہے۔ ان کے ”دید کی طلب“ میں سرزمینِ حرم گئے تھے۔ وہاں پہونچے تو کیفیؔ صاحب کی آواز آئی:
ہر شئی سے وہ ظاہر بھی ہے ہر شئی سے بری بھی
وہ سب سے الگ،سب سے جدا اور ہی کچھ ہے

پھر زکی صاحب ہی کے الفاظ میں اپنا حالِ دل بھی کچھ یوں محسوس ہوا:
بے لفظ و بیاں ہے کوئی مصروف تکلم
اب دل کے دھڑکنے کی صدا اور ہی کچھ ہے

دیکھے ہیں بہت ہم نے بھی پُرکیف مناظر
لیکن ترے کوچے کی فضا اور ہی کچھ ہے
————————

اِن دنوں سرزمین حرم پر ہر سُو لبیک کی صدائیں ہیں۔ حجاج کرام کی زبانوں پر چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے، غرض ہر وقت اور ہر قدم پر تلبیہ ہی تلبیہ ہے۔ تلبیہ کیا ہے؟ ان کے دربار میں غلامانہ حاضری کا اعلان! ان کی وحدت و یکتائی کا خوبصورت اقرار! تمام تعریفیں، ہر طرح کی نعمتیں اور ہر جُز و کُل پر ان کی بے مثال بادشاہی کا اُن کے لئے اثبات!
چناں چہ کلماتِ تلبیہ کے اِن معانی کے استحضار اور حجاج کرام کی زبانوں پر ہر دم رہنے والے نغمۂ ہائے لبیک کے پس منظر میں ذرا ہم زکی کیفیؔ کے یہ اشعار پڑھیں:
جہانِ فکر و نظر،لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
متاع اہل خبر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
یہ ذکرِحق کی متاعِ عزیز کیا شئی ہے
نہیں کسی کو خبر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
زہے نصیب یہ دولت اگر مجھے مل جائے
ہو لب پہ شام و سحر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
ہر ایک ذرّہ ہے مصروف یادِ حق کیفیؔ
وہ برگ ہوکہ شجر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہ
————————

اب تصور میں ”ہجوم عاشقاں“ ہے۔ جی ہاں! عرفات کا میدان اور حجاج کِرام کا کارواں! آج یہ سب روئے جارہے ہیں اور ساتھ ساتھ دھوئے بھی جارہے ہیں۔ ہائے! خاصان خدا کے اس مقدس قافلے میں آج کیا کچھ نہیں ہے؟ ندامت اور توبہ کے آنسو، جُرموں کا اقرار اور قصوروں کا اعتراف، سچے دل سے ہونے والی رجوع و انابت اور طلبِ مغفرت، عفو و کرم کی درخواستیں اور بخشے جانے کی امیدیں، آہیں اور دعائیں، فریاد و فُغاں اور خاموش زباں، طلب اور تڑپ اور ذوقِ جستجو۔ غرض عاجزی، نیازمندی اور اظہار بندگی کے مختلف نمونے ہیں۔ چناں چہ میدانِ عرفات کے اِن مختلف النوع احوال کے پس منظر میں ذرا زکی کیفیؔ کے درج ذیل مختلف اشعار پڑھیے۔
ہم لوگ خطاکار گناہگار بہت ہیں
یعنی تری رحمت کے سزاوار بہت ہیں

ویرانئ دل، حالِ زبوں، دیدۂ پُرنم
خاموش ہیں لیکن لبِ اظہار بہت ہیں

دن بھر دعاؤں میں رونے اور تڑپنے کے بعد کچھ دیر کے لیے خاموش نواؤں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اسی کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں
اب خموشی ہے بیاں، لفظ و بیاں سے آگے
ہم نکل آئے ہیں فریاد و فغاں سے آگے

دربار الٰہی میں یہ بندگان ایک نظرِ رحمت کے طلبگار ہیں اور بس۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر ان کی نگاہ رحمت ہوجائے تو نافرمان زندگی، اطاعت والی زندگی میں بدل جائے؛ بل کہ ان کی نگاہ رحمت سے تو کُل جہاں ہی تبدیل ہوجائے۔ اسی کی عکاسی میں یہ شعر:
آپ اک بار اگر آنکھ اٹھا کر دیکھیں
اک نئے دور کا آغاز ہوا رکھا ہے

پھر عشاق کے اس مجمع کو اپنے بخشے جانے کی امید بھی ہوجاتی ہے۔ دلوں کو کچھ قرار ملتا ہے تو ایک احساس یہ بھی اجاگر ہوتا ہے
؂ کیا ٹھکانا ہے بھلا اس کے کرم کا کیفیؔ
اپنے اندازِ کرم کو بھی چھپا رکھا ہے
————————
عرفات میں عبادتوں اور دعاؤں کے ساتھ اِن عُشّاق کے دلوں میں ”محبوب کی طلبِ دید“ بھی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس حوالے سے کیفیؔ صاحب کے یہ اشعار پڑھیں:

ایک طوفانِ طلب روح میں پیدا کرکے
چھپ گئے آپ کہاں؟ حشر یہ برپا کرکے

سامنے آؤ اٹھاکر یہ حجابِ جلوہ
مجھ کو غافل نہ کرو محوِ تماشا کرکے

اجنبی میں ہوں زمانے سے، زمانہ مجھ سے
عشق نے چھوڑدیا ہے مجھے تنہا کرکے

لیکن وہ نظر کیسے آسکتے ہیں، عاشق کی خواہشِ دید بالکل بجا؛ طاقتِ دید مگر اس میں کہاں؟ چناں چہ اس کو بہت جلد اس کا احساس ہوجاتا ہے اور خود ہی کہنے لگتا ہے:

یہ بھی سچ ہے کہ ہمیں دید کا یارا بھی نہیں
یہ بھی سچ ہے ان کو نہ دیکھیں یہ گوارا بھی نہیں

پھر کہتا ہے:
معمور تو ہے جلوۂ محبوب سے عالم
نظروں کو مگر طاقت دیدار کہاں ہے

پھر یہ احساس بھی دل میں ابھر آتا ہے:

بے پردہ انہیں دیکھ سکے کس میں یہ دم ہے
اے اہل نظر ان کا یہ چھپنا بھی کرم ہے
❤1
پھر خود کو یہ کہہ کر سمجھانے لگتا ہے:

تم نے اے اہل نظر اس کو جہاں تک دیکھا
اس کے دیدار کی سرحد ہے وہاں سے آگے

اس لیے کہ ان کی ہستی ہی کچھ ایسی ہے کہ :
سوچیے تو وہ ہر جگہ ظاہر
ڈھونڈیئے تو کہیں نشاں بھی نہیں

ہائے حجاج کرام کی داستان بڑی طویل ہوگئی۔ لیکن کیا کیجئے کہ داستان عشق و محبت اور حکایتِ مہر و وفا ہمیشہ سے دراز نفس ہی واقع ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ عاشق کو کبھی سیری نہیں ہوتی اور ہوگی بھی کیسے؟ جب کہ عشق خود لامحدود ہے۔
اسی لیے زکی کیفیؔ ہی کے درج ذیل اشعار پڑھ کر ان کی حکایتِ محبت کو روک دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ
عشق ہی رازِ حقیقت کو سمجھ سکتا ہے
عقل کا کام نہیں وہم و گماں سے آگے

چناں چہ اپنا حال عرض کرتے ہیں:

بن کے اشعار نکل جاتے ہیں نالے کیفیؔ
چھیڑ دیتا ہے اگر سازِ رگِ جاں کوئی
‌ اور
کتنے نغمے ہیں کہ پردوں میں چھپا رکھے ہیں
آپ چھیڑیں تو یہ سازِ دلِ ناساز کبھی

آخر میں خود کو نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں

عشقِ محبوب میں ہوجاؤ فنا یوں کیفیؔ
عشق ہی سلسلۂ نام و نسب ہوجائے
❤1
Mr Sid
*اگر فردوس بر روئے زمیں است* ✍🏻 علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ حؔرم مکی میں نماز با جماعت کا منظر دیدنی ہوتا ہے؛چہار سو انسان ہی انسان اور ہر چہار طرف سے قبلہ رخ بوسہ ہائے شوق اور سجدہ ہائے ذوق دکھائی دیتے، جسے قدوسیوں کی فوج ظفر موج تسبیح کناں عرش سے فرش پر اتر…
*کاروانِ شوق مزدلفہ میں*

✍🏻... یونس بصیر

ادھر سورج نے رات کے اندھیروں میں منہ چھپایا اور ادھر کوچ کا آغاز ہوا:

ہر لحظہ نیا طور،نئی برقِ تجلی

اللہ کرے مرحلۂ شوق نہ ہو طے

گناہوں کے انبار اور لغزشوں کے ڈھیر،میدان عرفات میں چھوڑے،زاد راہ بس میں رکھا، پھر دیکھتے ہی انسانوں کا خاموش اور ساکت سمندر، ایک بار پھر موجزن ہوگیا ، شیدایانِ رب عشق و وفا کی ایک نئی منزل کو چلے، بسوں کا دراز سلسلہ، کشادہ سڑکوں کی چھاتی پر رینگتا ہوا شام ڈھلے مزدلفہ جا پہنچا، کچھ اللہ والے راہِ عشق میں بادہ پیمائی کے مزے بھی لوٹ رہے ہیں، بس سے اترتے ہی سڑک کے کنارے ڈیرہ جما دیا، کھلے آسمان تلے، صحرا کی رات، نہ کوئی خیمہ نہ سائبان، شام عاشقاں، نیارنگ اور نیا آہنگ لئے، پھر فضا میں انوکھی مہک،

ہر عمل کے پس پردہ نرالی حکمت، ہر مقام کی نئی آن اور جدا نشان، ہر پڑاؤ رنگا رنگ نوادرات روحانی کا پیش خیمہ، آج کی رات یہ تھکے ماندے عشق باز، اپنی جبینوں سے ریگ زار مزدلفہ کو سجا دیں گے اور ذکر کی نکہتوں سے اس فضائے نور کو بھر دیں گے، وقوف عرفہ کے بعد حضور پر نور نے مزدلفہ کی وادئ خیر و برکت میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کے بعد شب باشی کی تھی؛ اس لئے کہ سرور رسولاں تھک گئے تھے،اس میدان میں شب باشی کو محدثین کے مقدس گروہ نے ارکان حج میں شمار کیا ہے۔ سنت رسول پر عمل کرتے ہوئے ہم نے بھی نمازوں سے فراغت کے بعد آرام کیا۔

سبحان اللہ مذہب اسلام انسانوں کے لئے زحمتوں کا سامان نہیں،بلکہ رحمتوں کے جلو میں آسانیاں لے کر آیا ہے، نماز مغرب و عشاء کو جمع کی صورت میں ادا کرنے کے بعد ام عمران نے چولہا جلایا اور ہمارے ایک بزرگ ساتھی کی نیک دل اہلیہ نے آلو، ادرک اور انڈے ڈال کر بھجیا تیار کی، مزدلفہ کے میدان میں بازار اور دکانیں نہیں ہیں، بیاباں اور ویرانے کا مقام ہے، اگر کسی حاجی کے پاس ضروریات کا پورا اور معقول انتظام نہ ہو تو پھر صبر و شکر کے سوا کوئی دیگر چارہ نہیں، اب ان سرِ صحراء خاک نشینوں کی بھوک نے شدت اختیار کی، ہوا کی تندی و تیزی چولہے کے لئے بار بار پیغام مرگ لاتی، کاروان شوق کے سب فاقہ مست چولہے کو گھیرے میں لئے روک بن گئے ہیں؛ تاکہ آگ کا شعلہ بھڑ کے اور پیٹ کی آگ ٹھنڈی ہو،آخر خدا خدا کرکے بھجیا تیار ہوئی۔ اور پھر دیسی گھی سے تیار کردہ گرما گرم پراٹھے تیار کئے گئے ۔ کاروان شوق کے رہرو انڈوں کی بھجیا اور پراٹھوں سے خوب لطف اندوز ہوئے، صحرا میں یہ سامان خوردونوش!
اللہ! اللہ! اس کٹھن منزل میں ہمارے لئے یہ نعمت خوراک من و سلوی سے کم نہ تھی،یہ سارا بندو بست کاروان شوق کے ایک صالح بزرگ کی صالحہ بیوی نے کیا تھا۔ ان لوگوں کا تعلق دیہات سے تھا اور ماشاء اللہ یہ دوسری دفعہ حج کر رہے تھے۔ نہایت متقی اور جہان دیدہ، ان اللہ والوں نے اپنے ساتھ آٹا، انڈے اور دیسی گھی تک رکھا تھا، اللہ تعالی ان کو زندگی دے اور عافیت بھی ـ آمین!

مزدلفہ کا وسیع میدان ، آج کی رات، اللہ والوں سے اٹا پڑا ہے ، ارضِ خدا پر ہر سو اللہ والوں کی ٹولیاں محو ثنائے یزداں ہیں، یہیں ”مشعر الحرام ہے،“ جس کے بارے میں ارشاد ربانی اور تائید رحمانی فرقان حمید کی سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۹۸ میں یوں بیان ہوئی :

{فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ} اور جب تم عرفات سے پلٹو ( تو ) پس ذکر کرو اللہ کا مشعر الحرام کے پاس

یہ وہی جان فزا اور ایمان پرور خطۂ زمین ہے جہاں پر سید البشر نبی اکرم نے اپنی موج تبسم سے ابلیس راندۂ درگاہ کی ناکامیوں،نامرادیوں، رسوائیوں اور ذلتوں پر اظہار مسرت کے وہ لازوال سدا بہار اور مہکتے ہوئے پھول بکھیرے تھے کہ جن کی نکہت آج بھی اس فضائے بسیط میں رچی بھی ہوئی ہے؛ یوں لگا کہ جیسے یہ مقدس زمین اب تک عنبر آگیں ہے، باد نسیم ان جاودانی مسکراہٹوں سے عطر بیز ہوکر گلشن ہستی کے دائمی نکھار اور ابدی شادابیوں کا سبب بن گئی ہے اور باد بہاری اس دلنواز تبسم کی عنبر افشانیوں سے سیراب ہو کر ہر گوشۂ چمن پر شبنم افشاں ہے اور پھر اس ریاض دہر کی ساری تر و تازگی اور شگفتگی کا حقیقی راز یہی نورافشانی ہے۔

کاروان شوق مزدلفہ میں رات بسر کرنے کے بعد صبح دم، نماز فجر کے بعد پابہ رکاب ہوگیا، حج کے دوران ارکان حج کی ادائیگی کے لئے جہاں اور جس جگہ بھی کاروان شوق نے قیام کیا ہے،یہ سب مقامات مقدسہ اور بابرکت جگہیں ہیں۔ اور قبولیت دعا کے لئے نہایت موزوں اور مناسب تر ؛بل کہ اللہ اور اس کے رسول اکرم کے بتائے ہوئے بھی ہیں۔ نماز فجر کے بعد بارگاہ لم یزل میں ہاتھ پھیلائے ، صدائے فقیر حقیر پرتقصیر بارگاہ سمیع و بصیر میں سنی بھی گئی اور انشاء اللہ قبولیت کا شرف بھی حاصل ہوگا ـ
Mr Sid
*اگر فردوس بر روئے زمیں است* ✍🏻 علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ حؔرم مکی میں نماز با جماعت کا منظر دیدنی ہوتا ہے؛چہار سو انسان ہی انسان اور ہر چہار طرف سے قبلہ رخ بوسہ ہائے شوق اور سجدہ ہائے ذوق دکھائی دیتے، جسے قدوسیوں کی فوج ظفر موج تسبیح کناں عرش سے فرش پر اتر…
مزدلفہ چھوڑنے سے پہلے اللہ مالک ارض و سما سے فریاد کناں ہوں کہ مجھے علم نافع عطا کر، میرا سینہ کھول دے، میری مشکلات آسان کر، میرے ذکر میں میری مدد کر، مجھے شکر گزار بندہ بنا دے، میری بندگی میں خشوع و خضوع ، عاجزی، فروتنی اور انکساری پیدا کر اور میرے قلم کو گوہر بار بنادے۔ آمین۔
میرے جذبات کی ترجمانی کسی شاعر نے کیا خوب کی ہے:

کہاں میں اور کہاں نکہت گل

نسیم صبح تیری مہربانی

اس میدان سے منٰی کو جاتے ہوئے راستے میں وہ مقام عبرت بھی ہے جسے ”وادی مُحَسَّر“ کہتے ہیں۔ انہی عبرتناک اور سبق آموز راہوں میں ابرہہ اور اس کے لشکریوں پر (جبکہ وہ اپنے ہاتھیوں پر سوار اور نشۂ طاقت میں مست ہوکر ، بیت اللہ کو ( نعوذ باللہ ) صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرنے کے ارادوں سے تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے کہ اسی اثنا میں) رب کعبہ کا عذاب ناگہاں ابابیلوں کی شکل میں نازل ہوا اور پھر ان مرغانِ خدا نے اپنی چونچوں سے وہ ایٹمی ذرات پھینکے کہ جن کی تابکاریوں نے ظالم ابرہہ اور اس سے عظیم لشکر کو آنا فانا جھلسا کر راکھ کردیا۔ ان ظالموں اور سرکشوں کی راکھ آج بھی اس وادی میں بکھری پڑی ہے اور ایسے ظالموں ، غارت گروں اور اللہ کے خلاف سرکش باغیوں کے لئے نشان عبرت ہے۔

دشت و جبل کی پاک فضاؤں میں بھیگی ہوئی رات ، مطلع بالکل صاف، ستاروں کی تانک جھانک جاری، ہر سو ایمان ویقین کی قندیلیں روشن، ہر طرف حق و نور میں ڈوبی ہوئی محفل آرائیاں، ہر جانب رحمان کی رحمانیت کے روح پرور جلوے اور ہر سمت رحیم کی رحیمیت کے دل نواز کرشمے، ہر گوشۂ میدان ذکر و شکر سے مہکا ہوا، جلوت میں عزلت نشینی کے مزے بھی لوٹے اور خلوت میں انجمن کی بہاریں بھی دیکھیں،اذانِ فجر کے بعد نماز فجر کا اہتمام ہوا اور نماز سے فراغت کے بعد ذکر و دعا کا سلسلہ دراز ہوا اور ساتھ ساتھ شیطان کا سر پھوڑنے کے لئے سنگ ریزوں کی تلاش میں ہاتھ حرکت میں آئے اور تھوڑے وقت میں ہر ساتھی نے ستر کنکریاں چن لیں، اس میدان میں آج تک اربوں انسان اترچکے ہیں اور قیامت تک آتے رہیں گے لیکن شیطان کے وجود پر عملی پھٹکار کے لئے یہ سنگ ریزے کبھی ختم نہیں ہونگے ۔
ارشاد باری تعالٰی کی اطاعت و فرماں برداری میں آج مشعر الحرام ذکر کی صداؤں سے گونج اٹھا ہے اور یہ سلسلہ ذکر و دعا اور اہتمام حمد و شکر، طلوع آفتاب تک جاری رہے گا۔

( صحنِ حرم، صفحہ: ۸۱، طبع: صفہ پبلشر، اے، ایبٹ روڈ، لاھور)

محمد عدنان وقار صدیقی
Mr Sid
مزدلفہ چھوڑنے سے پہلے اللہ مالک ارض و سما سے فریاد کناں ہوں کہ مجھے علم نافع عطا کر، میرا سینہ کھول دے، میری مشکلات آسان کر، میرے ذکر میں میری مدد کر، مجھے شکر گزار بندہ بنا دے، میری بندگی میں خشوع و خضوع ، عاجزی، فروتنی اور انکساری پیدا کر اور میرے قلم کو…
*طواف افاضہ یعنی طواف زیارت*

✍🏻... يونس بصير


ام صفوان نے چائے بنائی، چائے پینے کے بعد کاروان شوق پھر ترتیب دیا گیا اور ساتھ ہی کچھ غیر ضروری سامان بھی اٹھالیا تاکہ یہ سامان ہوٹل میں اپنی قیام گاہ پر چھوڑ آئیں۔ یوں سامان کا وزن بھی کچھ کم ہوجائے گا، حج کے دوران غیر ضروری سامان کی بھر مار بھی ایک مستقل در دسر بن جاتی ہے،جتنا کم ہو، بہتر رہتا ہے،سر منڈانے کے بعد سب حاجیوں نے سڑک کے کنارے ہی غسل لے لیا، احرام کھول دیا، کپڑے بدلے گئے ، عورتوں نے اپنی چوٹیوں سے ایک پور کے برابر اپنے بال خود ہی کاٹے، ان بے چاریوں نے نہ غسل کیا اور نہ ہی کپڑے بدلے؛ اس لئے کہ خیمہ میں پانی اور پردہ کا انتظام نہیں تھا، کاروان شوق میں سے کسی نے تجویز پیش کی، جب سامان چھوڑنے ہوٹل جائیں گے تو یہ سارے مسائل حل ہوجائیں گے؛لہذا چل پڑے! ایک چوراہے میں پہنچے ہی تھے کہ حرم شریف کو جاتی ہوئی بس مل گئی،
آج عید کا دن ہے اور ہر طرف انسانوں کے سر ہی سر نظر آرہے ہیں۔ بس ٹھہر ٹھہر کر رینگتی ہوئی قدم زن ہے۔ جو زائرین حج نوجوان، مستعد، چست اور صحت مند تھے وہ تو کب کے رمی جمار، غسل، سر منڈانے کے بعد سوئے حرم چل پڑے ہیں۔ کیونکہ حکم خداوندی ہے کہ :

پھر لوگوں کو چاہیے اپنا میل کچیل اتاریں اور اپنی منتیں پوری کریں اور بیت اللہ کا طواف کریں ۔ ( قرآن مجید )

بس حرم شریف کے متصل جاٹھہری!! بس سے اتر کر سب سے پہلے ہوٹل گئے،وہاں اپنے کمرے میں سامان رکھا، عورتوں نے غسل لیا، کپڑے بدلے اور احرام کھول دیا، اسی دن کاروان شوق کا چھوٹا سا قافلہ باب شیبہ سے ہوکر طواف زیارت کے لئے دریائے رحمت میں اترگیا، اللہ والوں کی جتنی تعداد منٰی میں رمی جمار کرتے ہوئے اور قربانیوں میں مشغول چھوڑ کر آئے تھے ، اس سے کہیں زیادہ حرم شریف میں پہنچ کر محو طواف ہو چکی تھی۔ بیت اللہ کو دیکھتے ہی آنکھوں کی پیاس بجھی۔ مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد یہ قافلہ شوق بیت اللہ کی نورانی فضاؤں میں بکھر گیا۔ ۔ ہر کوئی اپنے حال میں مست ہوکر ہر دم اٹھتی ہوئی موجوں میں گم تھا۔ طے پایا تھا کہ عشق الہی کی یہ منزل سر ہوتے ہی فلاں جگہ سب اکٹھے ہوجائیں تاکہ اکٹھے ہی منیٰ واپس جائیں۔ اب احرام کی جگہ لباس نے لے لی تھی ، اپنی بیوی فریدہ کو ساتھ لیا اور حجر اسود کے بالمقابل آئے۔ ایام حج میں حجر اسود کا بوسہ ہم ایسے لاغروں کے لئے اور پھر عورت کا ساتھ ہو تو قسمت سے ہی نصیب ہوتا ہے لہذا عاشقان رب البیت کے ہجوم کے پیش نظر استلام کیا، یعنی ہاتھ کا اشارہ کیا،تکبیر کہی ،ہاتھ چوما اور محو گردش ہوگئے ۔ پھر وہی کعبہ، وہی رنگ و نور میں ڈوبا ہوا ماحول رحمت و رأفت میں نہایا ہوا گہوارہ، ہدایت و معرفت کا گنجینہ، علم و حکمت کا خزینه، مرکز دین و دنیا منبع نور حقانی،چشمۂ هدایت ربانی، گوشۂ امن و امان، کُنج سکون و عافیت، یہاں دید کے جلوے بھی اور شنید کے کرشمے بھی ، ایجاب بھی اور شہود بھی،لاکھوں انسان گردش میں ، لاتعداد زبانیں محو ذکر، ہر طرف اللہ کی کبریائی و عظمت کا اعلان، ہر جگہ اس کی بادشاہی کا اعتراف اور ہر سمت اس کی پاکی و بزرگی کی تسبیح جاری ہے، اسی سوز و گداز میں اللہ کی حمد گاتے، ذکر کرتے ، فقیرانہ صدائیں لگاتے اور قلندرانہ التجائیں کرتے ہوئے سات چکر پورے ہوئے۔ اور ہم دونوں آنکھوں میں آنسوؤں کے دریا لئے مقام ابراہیم پر آئے اور باری باری دوگانہ پڑھا، فلاح و بہبود کی بھیک مانگی پھر حطیم میں آئے ۔ دو رکعت نفل یہاں بھی پڑھے، دعاء واذکار کے بعد باب الصفا سے ہوتے ہوئے صفا پر پہنچے اور سعی کا آغاز ہوا۔ ساتواں چکر مروہ پرختم کرنے کے بعد دعائیں مانگیں، دعاؤں کے بعد آب زم زم پر آئے ، زم زم پینے کے بعد کعبۃ اللہ پر نظریں گاڑ کر ایک بار پھر حاجات کا رونا رویا ، اب رات کے دس بج رہے تھے۔
کاروان شوق کے سب ساتھی مقررہ جگہ پر اکٹھے ہوئے اور پھر ہم منٰی کو لوٹ گئے کہ ایام تشریق ( یعنی حج کی گیارھویں، بارھویں اور تیرھویں کا دن) میں منٰی میں قیام کرنا ارکان حج میں سے ہے اور طریقۂ رسول بھی یہی ہے۔ آج کا دن مصروف ترین دن تھا۔ تھکاوٹ ، نقاہت اور کھانسی کے باوجود ہم لوگ پورے جوش و خروش کے ساتھ سرگردان عمل رہے ،جذبۂ شوق عمل کے گھوڑے کو بار بار تازیانے لگاتا رہا اور یہ رات بھی ذکر و عبادت میں بیت گئی، تہجد کا سماں دیکھنے کے قابل تھا، ہر طرف بارگاہ ذوالجلال میں رکوع و سجود کے ہدیے اور ذکر و شکر کے گلہائے تر و تازہ پیش ہو رہے تھے ۔ اب تو آنکھیں بھی اشکباری کی رسیا ہوچکی ہیں، زبانیں حمد وثناء کی خوگر ، جسم اللہ کے حضور کا عادی اور دل فکر آخرت اور خوف خدا سے تڑپنے کے مشتاق ہو چکے ہیں۔ تزکیہ نفس ، تنقیہ دماغ اور تضفیعہ قلب ، سلوک و معرفت کی ان مقدس راہوں میں خوب ہوا۔ سائبان کے نیچے فرش زمین پر ، پہاڑوں کی گود، سنگلاخ اور چٹیل بیابانوں میں ، لاکھوں انسان گھر بار، اہل و عیال ، خویش و اقارب اور وطن چھوڑ کر چند راتوں اور کچھ دنوں کے لئے اپنے رب کی رضا اور
❤2
Mr Sid
مزدلفہ چھوڑنے سے پہلے اللہ مالک ارض و سما سے فریاد کناں ہوں کہ مجھے علم نافع عطا کر، میرا سینہ کھول دے، میری مشکلات آسان کر، میرے ذکر میں میری مدد کر، مجھے شکر گزار بندہ بنا دے، میری بندگی میں خشوع و خضوع ، عاجزی، فروتنی اور انکساری پیدا کر اور میرے قلم کو…
خوشنودی کی خاطر یہاں آکر بس گئے ہیں۔ محلات وقصور میں سونے والے بھی اور جھونپڑیوں میں بسنے والے بھی ، شاہ بھی اور گدا بھی ، گورے بھی اور کالے بھی،امیر بھی اور غریب بھی عجیب بے سر و سامانی کے عالم میں ، نہ بستر خواب و حریر میسر، نہ حجرہ شاہی حاصل نہ تاج نہ تخت ، سب خاک نشیں بلا تمیز محتاج و غنی پڑے ہیں ۔ مساوات محمدی کے رنگ میں رنگے ہوئے اور صبغتہ اللہ میں نہائے ہوئے فخر و غرور اور تکلف و تصنع کا چلن یہاں ممکن ہی نہیں، عرش پر ردائے نور تنی ہوئی ہے اور فرش پر ہر سو ذکر کی محفل بھی ہے، کوئی شکر خدا میں مشغول تو کوئی فکر آخرت میں فکرمند، کوئی تلاوت قرآن میں محو تو کوئی نوافل میں اللہ سے لو لگائے ہوئے ہے، کوئی تسبیح و تحمید میں مستفرق تو کوئی اور ادو وظائف میں مست ۔

( صحن حرم، صفحہ: ۹۳، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤1
بشیر بدر سے متعلق کتابیں
ایک فائل میں
https://drive.google.com/drive/folders/1aCCXEV6cruaNf36Ub-f_PK5OFdzO3WJd?usp=sharing
علحدہ شکل میں
آزادی کے بعد کی غزل کا تنقیدی مطالعہ۔ بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/1bMHPB4q7TuCbIlsyIgolSRMTkzvvKwsY/view?usp=drive_link
بشیر بدر فن وشخصیت۔ بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/16dLROmKyL_Zh9xvBnMjVwSAPajMQBCg3/view?usp=drive_link
شاعر اعظم کلیات بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/1cMHeMec-d44fTjdUUrpxSRm38uDmuNj-/view?usp=drive_link
غزال کا اہم موڑ بشیر بدر ۔ ریحانہ نسرین
https://drive.google.com/file/d/1RUXX-JMph9I_TULhQUaxgPs2LPY5s31F/view?usp=drive_link
بیسویں صدی مین اردو غزل۔ بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/1az19qffNNoUfjYv5IUEsxS68FaU9TRIB/view?usp=drive_link
بشیر بدر نئی آواز۔ رفعت سلطان
https://drive.google.com/file/d/1c18HZWHupSfIhI0ml561MFYo3Lme8N3s/view?usp=drive_link
پدم شری ڈاکٹر بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/1H38q3X2d-V2QlqSwB-inJMb2_gk0vWnI/view?usp=drive_link
❤1
Mr Sid
خوشنودی کی خاطر یہاں آکر بس گئے ہیں۔ محلات وقصور میں سونے والے بھی اور جھونپڑیوں میں بسنے والے بھی ، شاہ بھی اور گدا بھی ، گورے بھی اور کالے بھی،امیر بھی اور غریب بھی عجیب بے سر و سامانی کے عالم میں ، نہ بستر خواب و حریر میسر، نہ حجرہ شاہی حاصل نہ تاج نہ تخت…
*طواف وداع*

✍🏻... یونس بصیر

اس شرف و شادمانی کے ساتھ ساتھ دل میں بار بار رنج و غم کی ایک لہر بھی اٹھتی کہ آج رات ہم ”بلد امین“ کو خیر باد کہہ جائیں گے۔ اللہ کے مقدس گھر سے جدائی کا یہ زخم شاید پھر کبھی مندمل نہ ہو سکے،زندگی کا کیا بھروسہ؟ اور نبضِ حیات کا کیا اعتبار؟! کہ کب ڈوب جائے، اللہ کے گھر سے جدائی کا یہی غم اور دید و تماشا کی یہی تڑپ نبی رحمت کو ہجرت سے چھ سال بعد مقام حدیبیہ تک کھینچ لائی تھی، پھر زیارت حرم وطواف کعبہ کا یہی جذبہ خلوص صلح حدیبیہ کا موجب بن گیا اور اس ظاہری شکست میں پوشیدہ نصرتوں کا آغاز و ظہور بھی یہیں سے ہوا تھا۔ اس پاک گھر کی دید و زیارت کے لئے سال میں ایک بار سیدنا ابراہیم خلیل اللہ ملک شام سے چلتے اور پھر وارفتگی شوق میں دیوانہ وار ننگے سر، برہنہ پاؤں، پریشان حال ، گردو غبار میں اٹے ہوئے، صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے،سرزمین حجاز میں پہنچ جاتے اور پھر یہ عاشق صادق اپنے محبوب کے پاک گھر کے ارد گرد، عاشقانه رنگ، درویشانہ آہنگ لئے، مستانوں کی طرح محو طواف ہوجاتا ۔ مرکز انوار الہیہ کے ہر ہر گوشہ کو نظر نواز کرتا، اسی وجد و حال میں سرمست ہوکر کبھی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اس تجلی خانہ کے جلوے دیکھتا اور گا ہے زمین پر کھڑے قبلہ رو ہو کر رب البیت کی حمد گاتا، تسبیح پڑھتا اور شکر بجالاتا۔

یا اللہ تیرے گھر سے دوری تجھ سے دوری کا سبب نہ بنے ۔ آمین! تیرے مقدس گھر کی قربت نے تو ہم تہی دامنوں اور بے بضاعتوں کو روحانیت کی نعمتوں سے سرشار اور جاودانی رحمتوں سے سیراب کر دیا ہے۔ ہمیں تیری عظمت اور رفعت کا حقیقی شعور اور ادراک اس خطہ پاک اور ارض مقدس میں ہوا۔ ایمان ویقین کے مرجھائے ہوئے پھول یہیں تازہ ہوئے ۔

مولانا حالی نے کیا خوب کہا:

ازل سے مشیت نے تھا جس کو تاکا

کہ اس گھر سے ابلے گا چشمہ ھدٰی کا

آیات قرآنی "مالك يوم الدين“ اور ”رب العالمین“ کے حقیقی معانی و مفہوم اور صحیح تعبیر و تفسیر اس چشمہ ھدی سے ذہن نشین ہوئی ۔ اے اللہ بلا شبہ تو روز جزا کا مالک اور تمام جہانوں کا پالنہار ہے۔ جب کبھی بیت اللہ کی نورانی وسعتوں میں نظر دوڑاتا اور پھر اس منبع نور و معرفت اور سرچشمہ حق وھدی کے ارد گرد تمام دنیا کے انسانوں کو محو گردش دیکھتا تو شرح صدر کی لذتوں اور لطافتوں سے جی بھر کر لطف اندوز ہوتا ۔

وجد و حال کی گرفت ذرا نرم پڑی تو یک دم خیال آیا کہ ابھی تو ہمیں طواف وداع بھی کرنا ہے،ٹیکسی تیار کھڑی ہے، میں نے ڈرائیور سے کہا کہ تھوڑی دیر ٹھہرو! ہمیں معلم صاحب سے پاسپورٹ وغیرہ لینے ہیں،یہ کہتے ہی ہم دونوں پوری مستعدی اور برق رفتاری کے ساتھ ایک بار پھر آنکھوں میں حسرتوں کے دریا لئے ہوئے، بحربیکراں کی رحمتوں میں اترگئے اور اللہ والوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے حجر اسود پر آئے ، استلام کیا اور آخری بار محو طواف ہوگئے۔ دیدۂ تر اور چشم خون فشاں بے تاب ہوکر بیت اللہ شریف کے ہر ہر نقش و نگار پر حسرت بھری نگاہیں دوڑاتی رہی اور نالۂ فلک گیر داغ جدائی کی ٹیس لئے فضاؤں میں بلند ہوتا رہا، چشم پرنم کی بے تابیوں کا وہی عالم، آہ و فغاں کی وہی اثر آفرینیاں اور روح و بدن کی وجد آرائیاں، درد و کرب میں تڑپتی ہوئی دعاؤں کے نذرانے بھی اور سوز و تپش میں بھڑک بھڑک کر اٹھتی ہوئی صدائیں بھی،ہر زبان سے ترانۂ حمد جاری، ہر سر سجدہ ریز، ہر قدم حالت طواف میں، کوئی اللہ کے گھر کو گھیرے میں لئے ہوئے ، کوئی زمزم پر جھکا ہوا، گویا زندگی بھر کی پیاس بجھا لینا چاہتا ہو، کوئی مقام ابراہیم پر اقرار توحید اور شرک سے انکار میں منہمک، تو کوئی حطیم میں زیر سایۂ دیوار کعبہ سر جھکائے، آنکھیں نیچی کیے ہوئے،ماضی و حال کی خطاؤں پر لرزہ براندام ہے۔ کئی ایسے بھی ہیں جو ملتزم پر رخسار لگائے ہوئے وفور جذبات میں بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہے ہیں،طواف وداع میں رب البیت نے ہمیں اتنی توانائی اور قوت بخش دی تھی کہ ہم در کعبه در رحمت اور باب خیر و برکت تک پہنچ گئے۔

اپنا سینہ اور رخسار ان مقدس دیواروں پر لگا ہے کہ جن پر کتنے ہی مقدس رخسار، پاک چہرے اور معصوم بدن مس کرتے رہے۔ یہ وہی در و دیوار ہیں جن کی بنیادیں نبی باپ اور نبی بیٹے نے اٹھائی تھیں ۔ ان مبارک اور پاک دیواروں کے ساتھ مس کرتے ہی وجد و حال کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور پھر خدائی رحمت و سکینت ڈھانپ لیتی ہے۔ دیوار کے ساتھ چمٹ کر رونے کا عمل کتنا حقیقی اور عین فطری ہے۔ جب کبھی ایام طفلی میں والدین سے روٹھ کر گھر سے نکل پڑتے تو ہمارے فرار کی حد کمال دروازے سے نکل کر گھر کی بیرونی دیوار تک ہوتی اور پھر دیوار کے ساتھ لگ کر خوب زار و قطار رویا کرتے، اتنے میں والدین کا نرم دل پسیج جاتا اور وہ بہلا پھسلا کر پھر اپنے سایۂ عاطفت میں پناہ دے دیتے۔
❤1
Mr Sid
خوشنودی کی خاطر یہاں آکر بس گئے ہیں۔ محلات وقصور میں سونے والے بھی اور جھونپڑیوں میں بسنے والے بھی ، شاہ بھی اور گدا بھی ، گورے بھی اور کالے بھی،امیر بھی اور غریب بھی عجیب بے سر و سامانی کے عالم میں ، نہ بستر خواب و حریر میسر، نہ حجرہ شاہی حاصل نہ تاج نہ تخت…
آج یہی عمل زمانۂ بلوغت میں درپیش ہے، ان شاء اللہ اس پاک اور مقدس گھر کا مالک بھی ہماری چیخ و پکار سن کر در رحمت وا کرے گا اور پھر ہمیں اپنی رحمتوں کی آغوش میں ڈھانپ لے گا۔ آمین!
مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز نفل حطیم میں خشوع و خضوع کا اظہار اور طلب و سوال کا دامن پھیلایا ، بیت اللہ ، میزاب رحمت اور پھر غلاف کعبہ کو دیکھا۔ آنکھیں اشکبار ہوئیں، دل ہجر و فراق کے رنج سے تڑپنے لگا،روح بے قرار ہوئی اور نبضیں ڈوبنے لگیں، آنکھیں پلٹ پلٹ کر کعبہ کی طرف اٹھتیں اور نور و ہدایت سے فیض یاب ہوکر واپس لوٹ آتیں اور پھر قلب و ذہن کے تمام دریچے خود بخود کھل جاتے اور رحمتوں کا رنگ ونور اپنے اندر جذب کرلیتے، انہی قلبی واردات کے اتار چڑھاؤ اور روحانی کیفیات کے مدو جزر میں زبان کج ادا، دل حزیں کی ترجمان بن کر پکار اٹھی۔

يا رب البيت، جس طرح تو نے اس دنیا میں اپنی رحمت بے پایاں اور فصل عمیم کے سبب اپنے گھر کی زیارت کرادی ہے اسی طرح آخرت میں تیرے نورانی مکھڑے کے دیدار بھی ہو جائیں تو پھر کیا ہی کہنے؟ تو گویا آرزوؤں کا سارا چمن مہک اٹھے، میری گڑگڑاہٹوں کی اصل تمنا، بے تابیوں کا صحیح حل، اضطراب والتہاب کا حقیقی راز، فریادوں کا حاصل ، دیدۂ تر کی بے قراریوں کا خاص مقصد اور قلب پریشان سے اٹھی ہوئی کوک کا خلاصہ صرف اور صرف تیرے دیدار ہیں، اس آرزو کی تکمیل میں اور اسی خواہش کی تڑپ میں ایک صاحب استقامت قلندر بے اختیار ہوکر یوں پکار اٹھا تھا:

کوک فریدا کوک توں راکھا جیویں جوار

جد تک ٹانڈا ناں پکے کردا رہ پکار

انہی جذبات و احساسات کے بہاؤ میں بہتے ہوئے چشمہ زمزم پر آئے، روح و بدن دونوں کو خوب سیراب کیا ؛کہ پھر کوئی گھونٹ نہ جانے کب میسر ہو؟ خوب پیا اور بار بار پیا، اوپر آئے اور آنکھوں کو ایک بار پھر مرکز نور وھدی پر گاڑدیا اور بارگاہ رب البیت میں یہ دعا انتہائی جذب و شوق کے ساتھ مانگی گئی:

اللَّهُمَّ إِنِّي اسْئَلْكَ عِلْمًا نَافِعًا وَ رِزْقًا وَاسِعًا وَ شِفَاءً مِّنْ كُلِّ دَاءٍ

اے اللہ میں مانگتا ہوں تجھ سے علم فائدہ بخش اور کشائش رزق اور تمام بیماریوں سے شفاء

اس کے بعد آخری بار نگاہوں نے ٹٹکی باندھی پھر اس نورانی فضا اور روحانی ماحول میں تیزی کے ساتھ گھوم گئیں اور پرنم ہوکر غم دل کا سربستہ راز اگلنے لگیں۔ جذب دروں کی چغلی آنکھوں نےابھی کھائی ہی تھی کہ ہم دونوں تیزی کے ساتھ حرم شریف سے یہ دعا پڑھتے ہوئے : اللهم انی اسْئَلْكَ مِنْ فَضْلِكَ "اے اللہ میں تیرا فضل مانگتا ہوں ۔
باہر آئے اور پیچھے پلٹ کر نہ دیکھا کہ مسلمہ طریق سرور رسولاں یہی ہے۔
اب احساس ہوا کہ ہم ٹیکسی والے کو چند منٹوں کے لئے کہہ کر آئے تھے لیکن واپس ایک گھنٹہ کے بعد آرہے ہیں۔ دل ہی دل میں گھبرا رہے تھے کہ ڈرائیور ٹیکسی تو بہت خفا ہوگا۔ دوڑتے ہوئے آئے ۔ سڑک پر نگاہ دوڑائی تو ٹیکسی کو موجود پایا اور الوداع کہنے کے لئے ساتھی بھی ہنوز کھڑے تھے، دیکھتے ہی بول اٹھے کہ ٹیکسی ڈرائیور کو بڑی مشکل سے روک رکھا ہے اور ایک دفعہ تو یہ مصری میاں بیوی کے ساتھ لڑ بھی چکا ہے۔ ہم کچھ کہے بغیر ٹیکسی میں سوار ہو گئے،کاروانِ شوق سے بچھڑنے والے ساتھیوں کو سلام کیا اور یہ مصرع گنگنایا: "وداع و وصل جدا گانہ لذتے داردـ

( صحنِ حرم، صفحہ: ۱۰۳، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤1
دار العلوم دیوبند کی گریگورین تاریخِ تاسیس: 30 مئی یا 31 مئی 1866ء؟ ایک ماخذی جائزہ

https://t.me/ilmokitab

دار العلوم دیوبند کی تاریخِ تاسیس کے بارے میں سب سے قدیم اور بنیادی مآخذ میں صرف قمری تاریخ ملتی ہے۔ دار العلوم کی اولین روداد (1283ھ) جو خود سنہ 1866ء میں شائع ہوئی، اس کے صفحات 3–4 پر تاریخِ تاسیس ’’15 محرم، بروز پنجشنبہ‘‘ درج ہے، لیکن اس کے ساتھ کوئی عیسوی تاریخ مذکور نہیں۔ بعد میں مولانا محمد طاہر بن محمد احمد قاسمی نے اپنے مضمون ’’تاریخ دار العلوم دیوبند‘‘ (ماہنامہ القاسم، جون 1928ء، ج 4، ش 1، ص 57) میں بھی یہی تاریخ نقل کی۔ اسی طرح سید محبوب رضوی صاحب نے _تاریخ دار العلوم دیوبند_ (پہلا ایڈیشن، 1977ء، ج 1، ص 156) میں بھی ’’15 محرم، بروز پنجشنبہ‘‘ ہی ذکر کیا ہے۔

البتہ اس قمری تاریخ کی عیسوی تطبیق کے سلسلے میں مختلف اہلِ قلم نے مختلف آرا پیش کیں۔ مولانا محمد میاں دیوبندی نے اپنی کتاب _1857ء کے بعد علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے_ (پہلا ایڈیشن، 1946ء، ص 73) میں قیامِ دار العلوم کا سال 1867ء لکھا، تاہم مکمل تاریخ ذکر نہیں کی۔ اس کے بعد قاری محمد طیب صاحب نے _دار العلوم دیوبند کی صد سالہ زندگی_ (پہلا ایڈیشن، جون 1965ء، ص 14) میں اس تاریخ کو ’’30 مئی 1867ء‘‘ لکھا۔ پھر سید محبوب رضوی نے اپنی کتاب _تاریخ دیوبند_ (دوسرا ایڈیشن، 1972ء، ص: 319) میں سنہ کی اصلاح کرتے ہوئے ’’30 مئی 1866ء‘‘ درج کیا۔

بعد ازاں ڈاکٹر محمد اللہ خلیلی قاسمی نے _دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ_ (دوسرا ایڈیشن، اکتوبر 2020ء، ص 74) میں اصل رودادِ دار العلوم (1283ھ) اور ابتدائی اشتہارات کی روشنی میں اس مسئلے کا ازسرِنو جائزہ لیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ قیامِ دار العلوم کی اصل تاریخ 15 محرم الحرام 1283ھ ہے، لیکن اس کی مشہور عیسوی تطبیق ’’30 مئی 1866ء‘‘ درست نہیں۔ ان کے مطابق روداد میں مؤسسین کے اعلانِ تاسیس کی تاریخ 19 محرم بروز دوشنبہ درج ہے۔ اس حساب سے 15 محرم کا دن ’’پنجشنبہ‘‘ (جمعرات) بنتا ہے، جیسا کہ قدیم مآخذ میں بھی مذکور ہے۔ لہٰذا ہفتے کے دن کی اس صراحت کو سامنے رکھتے ہوئے 15 محرم 1283ھ کی درست گریگورین تاریخ 31 مئی 1866ء قرار پاتی ہے، نہ کہ 30 مئی 1866ء۔

اگر تمام مآخذ کو زمانی ترتیب کے ساتھ سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مصنفین نے قمری تاریخ کو عیسوی تقویم سے مطابق کرنے کی کوشش کی، لیکن ڈاکٹر محمد اللہ خلیلی قاسمی نے ابتدائی اور بنیادی دستاویزات کی روشنی میں اس مسئلے کی مزید تنقیح کی اور 31 مئی 1866ء کی رائے کے حق میں دلائل پیش کیے۔

نوٹ: 1965ء سے پہلے تک دار العلوم دیوبند کی درست گریگوری تاریخِ تاسیس کیا، درست سنہ عیسوی لکھا جانا بھی شروع نہیں ہوا تھا۔

اگر درست سنہ عیسوی لکھے جانے میں 1930ء کے بعد سے 1965ء کا عرصہ لگا (1930ء سے پہلے لکھی ہوئی گریگوری تاریخِ تطبیق نظر نہیں آ سکی ہے) تو درست گریگوری تاریخ اگر موجودہ مجلسِ شوریٰ دار العلوم دیوبند کی طرف سے تیار کروائی جانے والی کتابوں اور دستاویزات میں 2016ء کے بعد سے 30 مئی کے بجائے 31 مئی لکھی جانے لگی تو یہ قابل حیرت اور لائقِ تعجب بات نہیں ہے۔

محمد روح الامین قاسمی
ضلع میُوربھنج، اڈیشا


مآخذ:
[1] روداد دارالعلوم [1283ھ]۔ دارالعلوم دیوبند۔ 1866ء۔ ص: 3–4۔
[2] سید محبوب رضوی (1977ء)۔تاریخ دار العلوم دیوبند (پہلا ایڈیشن)۔ دار العلوم دیوبند: ادارۂ اہتمام۔ ج: 1۔ ص: 156۔
[3] محمد طاہر بن محمد احمد قاسمی (جون 1928ء)۔ حبیب الرحمن عثمانی (مدیر)۔ "تاریخ دار العلوم دیوبند"۔ ماہنامہ القاسم۔ ج: 4، ش: 1، ص: 57۔
[4] محمد میاں دیوبندی (1946ء)۔ 1857ء کے بعد علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے (پہلا ایڈیشن)۔ گلی قاسم جان، دہلی: الجمعیۃ بک ڈپو۔ ص: 73۔
[5] قاری محمد طیب (جون 1965ء)۔ دار العلوم دیوبند کی صد سالہ زندگی (پہلا ایڈیشن)۔ دیوبند: دفتر اہتمام، دار العلوم۔ ص: 14۔
[6] سید محبوب رضوی (1972ء)۔ "تاسیس و قیام"۔ تاریخ دیوبند (دوسرا ایڈیشن)۔ دیوبند: علمی مرکز۔ ص: 319۔
[7] محمد اللہ خلیلی قاسمی (اکتوبر 2020ء)۔ دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (دوسرا ایڈیشن)۔ بھارت: شیخ الہند اکیڈمی۔ او سی ایل سی نمبر:1345466013، ص: 74۔
💯2