Mr Sid
مزدلفہ چھوڑنے سے پہلے اللہ مالک ارض و سما سے فریاد کناں ہوں کہ مجھے علم نافع عطا کر، میرا سینہ کھول دے، میری مشکلات آسان کر، میرے ذکر میں میری مدد کر، مجھے شکر گزار بندہ بنا دے، میری بندگی میں خشوع و خضوع ، عاجزی، فروتنی اور انکساری پیدا کر اور میرے قلم کو…
*طواف افاضہ یعنی طواف زیارت*
✍🏻... يونس بصير
ام صفوان نے چائے بنائی، چائے پینے کے بعد کاروان شوق پھر ترتیب دیا گیا اور ساتھ ہی کچھ غیر ضروری سامان بھی اٹھالیا تاکہ یہ سامان ہوٹل میں اپنی قیام گاہ پر چھوڑ آئیں۔ یوں سامان کا وزن بھی کچھ کم ہوجائے گا، حج کے دوران غیر ضروری سامان کی بھر مار بھی ایک مستقل در دسر بن جاتی ہے،جتنا کم ہو، بہتر رہتا ہے،سر منڈانے کے بعد سب حاجیوں نے سڑک کے کنارے ہی غسل لے لیا، احرام کھول دیا، کپڑے بدلے گئے ، عورتوں نے اپنی چوٹیوں سے ایک پور کے برابر اپنے بال خود ہی کاٹے، ان بے چاریوں نے نہ غسل کیا اور نہ ہی کپڑے بدلے؛ اس لئے کہ خیمہ میں پانی اور پردہ کا انتظام نہیں تھا، کاروان شوق میں سے کسی نے تجویز پیش کی، جب سامان چھوڑنے ہوٹل جائیں گے تو یہ سارے مسائل حل ہوجائیں گے؛لہذا چل پڑے! ایک چوراہے میں پہنچے ہی تھے کہ حرم شریف کو جاتی ہوئی بس مل گئی،
آج عید کا دن ہے اور ہر طرف انسانوں کے سر ہی سر نظر آرہے ہیں۔ بس ٹھہر ٹھہر کر رینگتی ہوئی قدم زن ہے۔ جو زائرین حج نوجوان، مستعد، چست اور صحت مند تھے وہ تو کب کے رمی جمار، غسل، سر منڈانے کے بعد سوئے حرم چل پڑے ہیں۔ کیونکہ حکم خداوندی ہے کہ :
پھر لوگوں کو چاہیے اپنا میل کچیل اتاریں اور اپنی منتیں پوری کریں اور بیت اللہ کا طواف کریں ۔ ( قرآن مجید )
بس حرم شریف کے متصل جاٹھہری!! بس سے اتر کر سب سے پہلے ہوٹل گئے،وہاں اپنے کمرے میں سامان رکھا، عورتوں نے غسل لیا، کپڑے بدلے اور احرام کھول دیا، اسی دن کاروان شوق کا چھوٹا سا قافلہ باب شیبہ سے ہوکر طواف زیارت کے لئے دریائے رحمت میں اترگیا، اللہ والوں کی جتنی تعداد منٰی میں رمی جمار کرتے ہوئے اور قربانیوں میں مشغول چھوڑ کر آئے تھے ، اس سے کہیں زیادہ حرم شریف میں پہنچ کر محو طواف ہو چکی تھی۔ بیت اللہ کو دیکھتے ہی آنکھوں کی پیاس بجھی۔ مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد یہ قافلہ شوق بیت اللہ کی نورانی فضاؤں میں بکھر گیا۔ ۔ ہر کوئی اپنے حال میں مست ہوکر ہر دم اٹھتی ہوئی موجوں میں گم تھا۔ طے پایا تھا کہ عشق الہی کی یہ منزل سر ہوتے ہی فلاں جگہ سب اکٹھے ہوجائیں تاکہ اکٹھے ہی منیٰ واپس جائیں۔ اب احرام کی جگہ لباس نے لے لی تھی ، اپنی بیوی فریدہ کو ساتھ لیا اور حجر اسود کے بالمقابل آئے۔ ایام حج میں حجر اسود کا بوسہ ہم ایسے لاغروں کے لئے اور پھر عورت کا ساتھ ہو تو قسمت سے ہی نصیب ہوتا ہے لہذا عاشقان رب البیت کے ہجوم کے پیش نظر استلام کیا، یعنی ہاتھ کا اشارہ کیا،تکبیر کہی ،ہاتھ چوما اور محو گردش ہوگئے ۔ پھر وہی کعبہ، وہی رنگ و نور میں ڈوبا ہوا ماحول رحمت و رأفت میں نہایا ہوا گہوارہ، ہدایت و معرفت کا گنجینہ، علم و حکمت کا خزینه، مرکز دین و دنیا منبع نور حقانی،چشمۂ هدایت ربانی، گوشۂ امن و امان، کُنج سکون و عافیت، یہاں دید کے جلوے بھی اور شنید کے کرشمے بھی ، ایجاب بھی اور شہود بھی،لاکھوں انسان گردش میں ، لاتعداد زبانیں محو ذکر، ہر طرف اللہ کی کبریائی و عظمت کا اعلان، ہر جگہ اس کی بادشاہی کا اعتراف اور ہر سمت اس کی پاکی و بزرگی کی تسبیح جاری ہے، اسی سوز و گداز میں اللہ کی حمد گاتے، ذکر کرتے ، فقیرانہ صدائیں لگاتے اور قلندرانہ التجائیں کرتے ہوئے سات چکر پورے ہوئے۔ اور ہم دونوں آنکھوں میں آنسوؤں کے دریا لئے مقام ابراہیم پر آئے اور باری باری دوگانہ پڑھا، فلاح و بہبود کی بھیک مانگی پھر حطیم میں آئے ۔ دو رکعت نفل یہاں بھی پڑھے، دعاء واذکار کے بعد باب الصفا سے ہوتے ہوئے صفا پر پہنچے اور سعی کا آغاز ہوا۔ ساتواں چکر مروہ پرختم کرنے کے بعد دعائیں مانگیں، دعاؤں کے بعد آب زم زم پر آئے ، زم زم پینے کے بعد کعبۃ اللہ پر نظریں گاڑ کر ایک بار پھر حاجات کا رونا رویا ، اب رات کے دس بج رہے تھے۔
کاروان شوق کے سب ساتھی مقررہ جگہ پر اکٹھے ہوئے اور پھر ہم منٰی کو لوٹ گئے کہ ایام تشریق ( یعنی حج کی گیارھویں، بارھویں اور تیرھویں کا دن) میں منٰی میں قیام کرنا ارکان حج میں سے ہے اور طریقۂ رسول بھی یہی ہے۔ آج کا دن مصروف ترین دن تھا۔ تھکاوٹ ، نقاہت اور کھانسی کے باوجود ہم لوگ پورے جوش و خروش کے ساتھ سرگردان عمل رہے ،جذبۂ شوق عمل کے گھوڑے کو بار بار تازیانے لگاتا رہا اور یہ رات بھی ذکر و عبادت میں بیت گئی، تہجد کا سماں دیکھنے کے قابل تھا، ہر طرف بارگاہ ذوالجلال میں رکوع و سجود کے ہدیے اور ذکر و شکر کے گلہائے تر و تازہ پیش ہو رہے تھے ۔ اب تو آنکھیں بھی اشکباری کی رسیا ہوچکی ہیں، زبانیں حمد وثناء کی خوگر ، جسم اللہ کے حضور کا عادی اور دل فکر آخرت اور خوف خدا سے تڑپنے کے مشتاق ہو چکے ہیں۔ تزکیہ نفس ، تنقیہ دماغ اور تضفیعہ قلب ، سلوک و معرفت کی ان مقدس راہوں میں خوب ہوا۔ سائبان کے نیچے فرش زمین پر ، پہاڑوں کی گود، سنگلاخ اور چٹیل بیابانوں میں ، لاکھوں انسان گھر بار، اہل و عیال ، خویش و اقارب اور وطن چھوڑ کر چند راتوں اور کچھ دنوں کے لئے اپنے رب کی رضا اور
✍🏻... يونس بصير
ام صفوان نے چائے بنائی، چائے پینے کے بعد کاروان شوق پھر ترتیب دیا گیا اور ساتھ ہی کچھ غیر ضروری سامان بھی اٹھالیا تاکہ یہ سامان ہوٹل میں اپنی قیام گاہ پر چھوڑ آئیں۔ یوں سامان کا وزن بھی کچھ کم ہوجائے گا، حج کے دوران غیر ضروری سامان کی بھر مار بھی ایک مستقل در دسر بن جاتی ہے،جتنا کم ہو، بہتر رہتا ہے،سر منڈانے کے بعد سب حاجیوں نے سڑک کے کنارے ہی غسل لے لیا، احرام کھول دیا، کپڑے بدلے گئے ، عورتوں نے اپنی چوٹیوں سے ایک پور کے برابر اپنے بال خود ہی کاٹے، ان بے چاریوں نے نہ غسل کیا اور نہ ہی کپڑے بدلے؛ اس لئے کہ خیمہ میں پانی اور پردہ کا انتظام نہیں تھا، کاروان شوق میں سے کسی نے تجویز پیش کی، جب سامان چھوڑنے ہوٹل جائیں گے تو یہ سارے مسائل حل ہوجائیں گے؛لہذا چل پڑے! ایک چوراہے میں پہنچے ہی تھے کہ حرم شریف کو جاتی ہوئی بس مل گئی،
آج عید کا دن ہے اور ہر طرف انسانوں کے سر ہی سر نظر آرہے ہیں۔ بس ٹھہر ٹھہر کر رینگتی ہوئی قدم زن ہے۔ جو زائرین حج نوجوان، مستعد، چست اور صحت مند تھے وہ تو کب کے رمی جمار، غسل، سر منڈانے کے بعد سوئے حرم چل پڑے ہیں۔ کیونکہ حکم خداوندی ہے کہ :
پھر لوگوں کو چاہیے اپنا میل کچیل اتاریں اور اپنی منتیں پوری کریں اور بیت اللہ کا طواف کریں ۔ ( قرآن مجید )
بس حرم شریف کے متصل جاٹھہری!! بس سے اتر کر سب سے پہلے ہوٹل گئے،وہاں اپنے کمرے میں سامان رکھا، عورتوں نے غسل لیا، کپڑے بدلے اور احرام کھول دیا، اسی دن کاروان شوق کا چھوٹا سا قافلہ باب شیبہ سے ہوکر طواف زیارت کے لئے دریائے رحمت میں اترگیا، اللہ والوں کی جتنی تعداد منٰی میں رمی جمار کرتے ہوئے اور قربانیوں میں مشغول چھوڑ کر آئے تھے ، اس سے کہیں زیادہ حرم شریف میں پہنچ کر محو طواف ہو چکی تھی۔ بیت اللہ کو دیکھتے ہی آنکھوں کی پیاس بجھی۔ مغرب اور عشاء کی نماز کے بعد یہ قافلہ شوق بیت اللہ کی نورانی فضاؤں میں بکھر گیا۔ ۔ ہر کوئی اپنے حال میں مست ہوکر ہر دم اٹھتی ہوئی موجوں میں گم تھا۔ طے پایا تھا کہ عشق الہی کی یہ منزل سر ہوتے ہی فلاں جگہ سب اکٹھے ہوجائیں تاکہ اکٹھے ہی منیٰ واپس جائیں۔ اب احرام کی جگہ لباس نے لے لی تھی ، اپنی بیوی فریدہ کو ساتھ لیا اور حجر اسود کے بالمقابل آئے۔ ایام حج میں حجر اسود کا بوسہ ہم ایسے لاغروں کے لئے اور پھر عورت کا ساتھ ہو تو قسمت سے ہی نصیب ہوتا ہے لہذا عاشقان رب البیت کے ہجوم کے پیش نظر استلام کیا، یعنی ہاتھ کا اشارہ کیا،تکبیر کہی ،ہاتھ چوما اور محو گردش ہوگئے ۔ پھر وہی کعبہ، وہی رنگ و نور میں ڈوبا ہوا ماحول رحمت و رأفت میں نہایا ہوا گہوارہ، ہدایت و معرفت کا گنجینہ، علم و حکمت کا خزینه، مرکز دین و دنیا منبع نور حقانی،چشمۂ هدایت ربانی، گوشۂ امن و امان، کُنج سکون و عافیت، یہاں دید کے جلوے بھی اور شنید کے کرشمے بھی ، ایجاب بھی اور شہود بھی،لاکھوں انسان گردش میں ، لاتعداد زبانیں محو ذکر، ہر طرف اللہ کی کبریائی و عظمت کا اعلان، ہر جگہ اس کی بادشاہی کا اعتراف اور ہر سمت اس کی پاکی و بزرگی کی تسبیح جاری ہے، اسی سوز و گداز میں اللہ کی حمد گاتے، ذکر کرتے ، فقیرانہ صدائیں لگاتے اور قلندرانہ التجائیں کرتے ہوئے سات چکر پورے ہوئے۔ اور ہم دونوں آنکھوں میں آنسوؤں کے دریا لئے مقام ابراہیم پر آئے اور باری باری دوگانہ پڑھا، فلاح و بہبود کی بھیک مانگی پھر حطیم میں آئے ۔ دو رکعت نفل یہاں بھی پڑھے، دعاء واذکار کے بعد باب الصفا سے ہوتے ہوئے صفا پر پہنچے اور سعی کا آغاز ہوا۔ ساتواں چکر مروہ پرختم کرنے کے بعد دعائیں مانگیں، دعاؤں کے بعد آب زم زم پر آئے ، زم زم پینے کے بعد کعبۃ اللہ پر نظریں گاڑ کر ایک بار پھر حاجات کا رونا رویا ، اب رات کے دس بج رہے تھے۔
کاروان شوق کے سب ساتھی مقررہ جگہ پر اکٹھے ہوئے اور پھر ہم منٰی کو لوٹ گئے کہ ایام تشریق ( یعنی حج کی گیارھویں، بارھویں اور تیرھویں کا دن) میں منٰی میں قیام کرنا ارکان حج میں سے ہے اور طریقۂ رسول بھی یہی ہے۔ آج کا دن مصروف ترین دن تھا۔ تھکاوٹ ، نقاہت اور کھانسی کے باوجود ہم لوگ پورے جوش و خروش کے ساتھ سرگردان عمل رہے ،جذبۂ شوق عمل کے گھوڑے کو بار بار تازیانے لگاتا رہا اور یہ رات بھی ذکر و عبادت میں بیت گئی، تہجد کا سماں دیکھنے کے قابل تھا، ہر طرف بارگاہ ذوالجلال میں رکوع و سجود کے ہدیے اور ذکر و شکر کے گلہائے تر و تازہ پیش ہو رہے تھے ۔ اب تو آنکھیں بھی اشکباری کی رسیا ہوچکی ہیں، زبانیں حمد وثناء کی خوگر ، جسم اللہ کے حضور کا عادی اور دل فکر آخرت اور خوف خدا سے تڑپنے کے مشتاق ہو چکے ہیں۔ تزکیہ نفس ، تنقیہ دماغ اور تضفیعہ قلب ، سلوک و معرفت کی ان مقدس راہوں میں خوب ہوا۔ سائبان کے نیچے فرش زمین پر ، پہاڑوں کی گود، سنگلاخ اور چٹیل بیابانوں میں ، لاکھوں انسان گھر بار، اہل و عیال ، خویش و اقارب اور وطن چھوڑ کر چند راتوں اور کچھ دنوں کے لئے اپنے رب کی رضا اور
❤2
Mr Sid
مزدلفہ چھوڑنے سے پہلے اللہ مالک ارض و سما سے فریاد کناں ہوں کہ مجھے علم نافع عطا کر، میرا سینہ کھول دے، میری مشکلات آسان کر، میرے ذکر میں میری مدد کر، مجھے شکر گزار بندہ بنا دے، میری بندگی میں خشوع و خضوع ، عاجزی، فروتنی اور انکساری پیدا کر اور میرے قلم کو…
خوشنودی کی خاطر یہاں آکر بس گئے ہیں۔ محلات وقصور میں سونے والے بھی اور جھونپڑیوں میں بسنے والے بھی ، شاہ بھی اور گدا بھی ، گورے بھی اور کالے بھی،امیر بھی اور غریب بھی عجیب بے سر و سامانی کے عالم میں ، نہ بستر خواب و حریر میسر، نہ حجرہ شاہی حاصل نہ تاج نہ تخت ، سب خاک نشیں بلا تمیز محتاج و غنی پڑے ہیں ۔ مساوات محمدی کے رنگ میں رنگے ہوئے اور صبغتہ اللہ میں نہائے ہوئے فخر و غرور اور تکلف و تصنع کا چلن یہاں ممکن ہی نہیں، عرش پر ردائے نور تنی ہوئی ہے اور فرش پر ہر سو ذکر کی محفل بھی ہے، کوئی شکر خدا میں مشغول تو کوئی فکر آخرت میں فکرمند، کوئی تلاوت قرآن میں محو تو کوئی نوافل میں اللہ سے لو لگائے ہوئے ہے، کوئی تسبیح و تحمید میں مستفرق تو کوئی اور ادو وظائف میں مست ۔
( صحن حرم، صفحہ: ۹۳، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
( صحن حرم، صفحہ: ۹۳، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤1
بشیر بدر سے متعلق کتابیں
ایک فائل میں
https://drive.google.com/drive/folders/1aCCXEV6cruaNf36Ub-f_PK5OFdzO3WJd?usp=sharing
علحدہ شکل میں
آزادی کے بعد کی غزل کا تنقیدی مطالعہ۔ بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/1bMHPB4q7TuCbIlsyIgolSRMTkzvvKwsY/view?usp=drive_link
بشیر بدر فن وشخصیت۔ بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/16dLROmKyL_Zh9xvBnMjVwSAPajMQBCg3/view?usp=drive_link
شاعر اعظم کلیات بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/1cMHeMec-d44fTjdUUrpxSRm38uDmuNj-/view?usp=drive_link
غزال کا اہم موڑ بشیر بدر ۔ ریحانہ نسرین
https://drive.google.com/file/d/1RUXX-JMph9I_TULhQUaxgPs2LPY5s31F/view?usp=drive_link
بیسویں صدی مین اردو غزل۔ بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/1az19qffNNoUfjYv5IUEsxS68FaU9TRIB/view?usp=drive_link
بشیر بدر نئی آواز۔ رفعت سلطان
https://drive.google.com/file/d/1c18HZWHupSfIhI0ml561MFYo3Lme8N3s/view?usp=drive_link
پدم شری ڈاکٹر بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/1H38q3X2d-V2QlqSwB-inJMb2_gk0vWnI/view?usp=drive_link
ایک فائل میں
https://drive.google.com/drive/folders/1aCCXEV6cruaNf36Ub-f_PK5OFdzO3WJd?usp=sharing
علحدہ شکل میں
آزادی کے بعد کی غزل کا تنقیدی مطالعہ۔ بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/1bMHPB4q7TuCbIlsyIgolSRMTkzvvKwsY/view?usp=drive_link
بشیر بدر فن وشخصیت۔ بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/16dLROmKyL_Zh9xvBnMjVwSAPajMQBCg3/view?usp=drive_link
شاعر اعظم کلیات بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/1cMHeMec-d44fTjdUUrpxSRm38uDmuNj-/view?usp=drive_link
غزال کا اہم موڑ بشیر بدر ۔ ریحانہ نسرین
https://drive.google.com/file/d/1RUXX-JMph9I_TULhQUaxgPs2LPY5s31F/view?usp=drive_link
بیسویں صدی مین اردو غزل۔ بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/1az19qffNNoUfjYv5IUEsxS68FaU9TRIB/view?usp=drive_link
بشیر بدر نئی آواز۔ رفعت سلطان
https://drive.google.com/file/d/1c18HZWHupSfIhI0ml561MFYo3Lme8N3s/view?usp=drive_link
پدم شری ڈاکٹر بشیر بدر
https://drive.google.com/file/d/1H38q3X2d-V2QlqSwB-inJMb2_gk0vWnI/view?usp=drive_link
❤1
Mr Sid
خوشنودی کی خاطر یہاں آکر بس گئے ہیں۔ محلات وقصور میں سونے والے بھی اور جھونپڑیوں میں بسنے والے بھی ، شاہ بھی اور گدا بھی ، گورے بھی اور کالے بھی،امیر بھی اور غریب بھی عجیب بے سر و سامانی کے عالم میں ، نہ بستر خواب و حریر میسر، نہ حجرہ شاہی حاصل نہ تاج نہ تخت…
*طواف وداع*
✍🏻... یونس بصیر
اس شرف و شادمانی کے ساتھ ساتھ دل میں بار بار رنج و غم کی ایک لہر بھی اٹھتی کہ آج رات ہم ”بلد امین“ کو خیر باد کہہ جائیں گے۔ اللہ کے مقدس گھر سے جدائی کا یہ زخم شاید پھر کبھی مندمل نہ ہو سکے،زندگی کا کیا بھروسہ؟ اور نبضِ حیات کا کیا اعتبار؟! کہ کب ڈوب جائے، اللہ کے گھر سے جدائی کا یہی غم اور دید و تماشا کی یہی تڑپ نبی رحمت کو ہجرت سے چھ سال بعد مقام حدیبیہ تک کھینچ لائی تھی، پھر زیارت حرم وطواف کعبہ کا یہی جذبہ خلوص صلح حدیبیہ کا موجب بن گیا اور اس ظاہری شکست میں پوشیدہ نصرتوں کا آغاز و ظہور بھی یہیں سے ہوا تھا۔ اس پاک گھر کی دید و زیارت کے لئے سال میں ایک بار سیدنا ابراہیم خلیل اللہ ملک شام سے چلتے اور پھر وارفتگی شوق میں دیوانہ وار ننگے سر، برہنہ پاؤں، پریشان حال ، گردو غبار میں اٹے ہوئے، صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے،سرزمین حجاز میں پہنچ جاتے اور پھر یہ عاشق صادق اپنے محبوب کے پاک گھر کے ارد گرد، عاشقانه رنگ، درویشانہ آہنگ لئے، مستانوں کی طرح محو طواف ہوجاتا ۔ مرکز انوار الہیہ کے ہر ہر گوشہ کو نظر نواز کرتا، اسی وجد و حال میں سرمست ہوکر کبھی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اس تجلی خانہ کے جلوے دیکھتا اور گا ہے زمین پر کھڑے قبلہ رو ہو کر رب البیت کی حمد گاتا، تسبیح پڑھتا اور شکر بجالاتا۔
یا اللہ تیرے گھر سے دوری تجھ سے دوری کا سبب نہ بنے ۔ آمین! تیرے مقدس گھر کی قربت نے تو ہم تہی دامنوں اور بے بضاعتوں کو روحانیت کی نعمتوں سے سرشار اور جاودانی رحمتوں سے سیراب کر دیا ہے۔ ہمیں تیری عظمت اور رفعت کا حقیقی شعور اور ادراک اس خطہ پاک اور ارض مقدس میں ہوا۔ ایمان ویقین کے مرجھائے ہوئے پھول یہیں تازہ ہوئے ۔
مولانا حالی نے کیا خوب کہا:
ازل سے مشیت نے تھا جس کو تاکا
کہ اس گھر سے ابلے گا چشمہ ھدٰی کا
آیات قرآنی "مالك يوم الدين“ اور ”رب العالمین“ کے حقیقی معانی و مفہوم اور صحیح تعبیر و تفسیر اس چشمہ ھدی سے ذہن نشین ہوئی ۔ اے اللہ بلا شبہ تو روز جزا کا مالک اور تمام جہانوں کا پالنہار ہے۔ جب کبھی بیت اللہ کی نورانی وسعتوں میں نظر دوڑاتا اور پھر اس منبع نور و معرفت اور سرچشمہ حق وھدی کے ارد گرد تمام دنیا کے انسانوں کو محو گردش دیکھتا تو شرح صدر کی لذتوں اور لطافتوں سے جی بھر کر لطف اندوز ہوتا ۔
وجد و حال کی گرفت ذرا نرم پڑی تو یک دم خیال آیا کہ ابھی تو ہمیں طواف وداع بھی کرنا ہے،ٹیکسی تیار کھڑی ہے، میں نے ڈرائیور سے کہا کہ تھوڑی دیر ٹھہرو! ہمیں معلم صاحب سے پاسپورٹ وغیرہ لینے ہیں،یہ کہتے ہی ہم دونوں پوری مستعدی اور برق رفتاری کے ساتھ ایک بار پھر آنکھوں میں حسرتوں کے دریا لئے ہوئے، بحربیکراں کی رحمتوں میں اترگئے اور اللہ والوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے حجر اسود پر آئے ، استلام کیا اور آخری بار محو طواف ہوگئے۔ دیدۂ تر اور چشم خون فشاں بے تاب ہوکر بیت اللہ شریف کے ہر ہر نقش و نگار پر حسرت بھری نگاہیں دوڑاتی رہی اور نالۂ فلک گیر داغ جدائی کی ٹیس لئے فضاؤں میں بلند ہوتا رہا، چشم پرنم کی بے تابیوں کا وہی عالم، آہ و فغاں کی وہی اثر آفرینیاں اور روح و بدن کی وجد آرائیاں، درد و کرب میں تڑپتی ہوئی دعاؤں کے نذرانے بھی اور سوز و تپش میں بھڑک بھڑک کر اٹھتی ہوئی صدائیں بھی،ہر زبان سے ترانۂ حمد جاری، ہر سر سجدہ ریز، ہر قدم حالت طواف میں، کوئی اللہ کے گھر کو گھیرے میں لئے ہوئے ، کوئی زمزم پر جھکا ہوا، گویا زندگی بھر کی پیاس بجھا لینا چاہتا ہو، کوئی مقام ابراہیم پر اقرار توحید اور شرک سے انکار میں منہمک، تو کوئی حطیم میں زیر سایۂ دیوار کعبہ سر جھکائے، آنکھیں نیچی کیے ہوئے،ماضی و حال کی خطاؤں پر لرزہ براندام ہے۔ کئی ایسے بھی ہیں جو ملتزم پر رخسار لگائے ہوئے وفور جذبات میں بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہے ہیں،طواف وداع میں رب البیت نے ہمیں اتنی توانائی اور قوت بخش دی تھی کہ ہم در کعبه در رحمت اور باب خیر و برکت تک پہنچ گئے۔
اپنا سینہ اور رخسار ان مقدس دیواروں پر لگا ہے کہ جن پر کتنے ہی مقدس رخسار، پاک چہرے اور معصوم بدن مس کرتے رہے۔ یہ وہی در و دیوار ہیں جن کی بنیادیں نبی باپ اور نبی بیٹے نے اٹھائی تھیں ۔ ان مبارک اور پاک دیواروں کے ساتھ مس کرتے ہی وجد و حال کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور پھر خدائی رحمت و سکینت ڈھانپ لیتی ہے۔ دیوار کے ساتھ چمٹ کر رونے کا عمل کتنا حقیقی اور عین فطری ہے۔ جب کبھی ایام طفلی میں والدین سے روٹھ کر گھر سے نکل پڑتے تو ہمارے فرار کی حد کمال دروازے سے نکل کر گھر کی بیرونی دیوار تک ہوتی اور پھر دیوار کے ساتھ لگ کر خوب زار و قطار رویا کرتے، اتنے میں والدین کا نرم دل پسیج جاتا اور وہ بہلا پھسلا کر پھر اپنے سایۂ عاطفت میں پناہ دے دیتے۔
✍🏻... یونس بصیر
اس شرف و شادمانی کے ساتھ ساتھ دل میں بار بار رنج و غم کی ایک لہر بھی اٹھتی کہ آج رات ہم ”بلد امین“ کو خیر باد کہہ جائیں گے۔ اللہ کے مقدس گھر سے جدائی کا یہ زخم شاید پھر کبھی مندمل نہ ہو سکے،زندگی کا کیا بھروسہ؟ اور نبضِ حیات کا کیا اعتبار؟! کہ کب ڈوب جائے، اللہ کے گھر سے جدائی کا یہی غم اور دید و تماشا کی یہی تڑپ نبی رحمت کو ہجرت سے چھ سال بعد مقام حدیبیہ تک کھینچ لائی تھی، پھر زیارت حرم وطواف کعبہ کا یہی جذبہ خلوص صلح حدیبیہ کا موجب بن گیا اور اس ظاہری شکست میں پوشیدہ نصرتوں کا آغاز و ظہور بھی یہیں سے ہوا تھا۔ اس پاک گھر کی دید و زیارت کے لئے سال میں ایک بار سیدنا ابراہیم خلیل اللہ ملک شام سے چلتے اور پھر وارفتگی شوق میں دیوانہ وار ننگے سر، برہنہ پاؤں، پریشان حال ، گردو غبار میں اٹے ہوئے، صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے،سرزمین حجاز میں پہنچ جاتے اور پھر یہ عاشق صادق اپنے محبوب کے پاک گھر کے ارد گرد، عاشقانه رنگ، درویشانہ آہنگ لئے، مستانوں کی طرح محو طواف ہوجاتا ۔ مرکز انوار الہیہ کے ہر ہر گوشہ کو نظر نواز کرتا، اسی وجد و حال میں سرمست ہوکر کبھی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اس تجلی خانہ کے جلوے دیکھتا اور گا ہے زمین پر کھڑے قبلہ رو ہو کر رب البیت کی حمد گاتا، تسبیح پڑھتا اور شکر بجالاتا۔
یا اللہ تیرے گھر سے دوری تجھ سے دوری کا سبب نہ بنے ۔ آمین! تیرے مقدس گھر کی قربت نے تو ہم تہی دامنوں اور بے بضاعتوں کو روحانیت کی نعمتوں سے سرشار اور جاودانی رحمتوں سے سیراب کر دیا ہے۔ ہمیں تیری عظمت اور رفعت کا حقیقی شعور اور ادراک اس خطہ پاک اور ارض مقدس میں ہوا۔ ایمان ویقین کے مرجھائے ہوئے پھول یہیں تازہ ہوئے ۔
مولانا حالی نے کیا خوب کہا:
ازل سے مشیت نے تھا جس کو تاکا
کہ اس گھر سے ابلے گا چشمہ ھدٰی کا
آیات قرآنی "مالك يوم الدين“ اور ”رب العالمین“ کے حقیقی معانی و مفہوم اور صحیح تعبیر و تفسیر اس چشمہ ھدی سے ذہن نشین ہوئی ۔ اے اللہ بلا شبہ تو روز جزا کا مالک اور تمام جہانوں کا پالنہار ہے۔ جب کبھی بیت اللہ کی نورانی وسعتوں میں نظر دوڑاتا اور پھر اس منبع نور و معرفت اور سرچشمہ حق وھدی کے ارد گرد تمام دنیا کے انسانوں کو محو گردش دیکھتا تو شرح صدر کی لذتوں اور لطافتوں سے جی بھر کر لطف اندوز ہوتا ۔
وجد و حال کی گرفت ذرا نرم پڑی تو یک دم خیال آیا کہ ابھی تو ہمیں طواف وداع بھی کرنا ہے،ٹیکسی تیار کھڑی ہے، میں نے ڈرائیور سے کہا کہ تھوڑی دیر ٹھہرو! ہمیں معلم صاحب سے پاسپورٹ وغیرہ لینے ہیں،یہ کہتے ہی ہم دونوں پوری مستعدی اور برق رفتاری کے ساتھ ایک بار پھر آنکھوں میں حسرتوں کے دریا لئے ہوئے، بحربیکراں کی رحمتوں میں اترگئے اور اللہ والوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے حجر اسود پر آئے ، استلام کیا اور آخری بار محو طواف ہوگئے۔ دیدۂ تر اور چشم خون فشاں بے تاب ہوکر بیت اللہ شریف کے ہر ہر نقش و نگار پر حسرت بھری نگاہیں دوڑاتی رہی اور نالۂ فلک گیر داغ جدائی کی ٹیس لئے فضاؤں میں بلند ہوتا رہا، چشم پرنم کی بے تابیوں کا وہی عالم، آہ و فغاں کی وہی اثر آفرینیاں اور روح و بدن کی وجد آرائیاں، درد و کرب میں تڑپتی ہوئی دعاؤں کے نذرانے بھی اور سوز و تپش میں بھڑک بھڑک کر اٹھتی ہوئی صدائیں بھی،ہر زبان سے ترانۂ حمد جاری، ہر سر سجدہ ریز، ہر قدم حالت طواف میں، کوئی اللہ کے گھر کو گھیرے میں لئے ہوئے ، کوئی زمزم پر جھکا ہوا، گویا زندگی بھر کی پیاس بجھا لینا چاہتا ہو، کوئی مقام ابراہیم پر اقرار توحید اور شرک سے انکار میں منہمک، تو کوئی حطیم میں زیر سایۂ دیوار کعبہ سر جھکائے، آنکھیں نیچی کیے ہوئے،ماضی و حال کی خطاؤں پر لرزہ براندام ہے۔ کئی ایسے بھی ہیں جو ملتزم پر رخسار لگائے ہوئے وفور جذبات میں بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہے ہیں،طواف وداع میں رب البیت نے ہمیں اتنی توانائی اور قوت بخش دی تھی کہ ہم در کعبه در رحمت اور باب خیر و برکت تک پہنچ گئے۔
اپنا سینہ اور رخسار ان مقدس دیواروں پر لگا ہے کہ جن پر کتنے ہی مقدس رخسار، پاک چہرے اور معصوم بدن مس کرتے رہے۔ یہ وہی در و دیوار ہیں جن کی بنیادیں نبی باپ اور نبی بیٹے نے اٹھائی تھیں ۔ ان مبارک اور پاک دیواروں کے ساتھ مس کرتے ہی وجد و حال کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور پھر خدائی رحمت و سکینت ڈھانپ لیتی ہے۔ دیوار کے ساتھ چمٹ کر رونے کا عمل کتنا حقیقی اور عین فطری ہے۔ جب کبھی ایام طفلی میں والدین سے روٹھ کر گھر سے نکل پڑتے تو ہمارے فرار کی حد کمال دروازے سے نکل کر گھر کی بیرونی دیوار تک ہوتی اور پھر دیوار کے ساتھ لگ کر خوب زار و قطار رویا کرتے، اتنے میں والدین کا نرم دل پسیج جاتا اور وہ بہلا پھسلا کر پھر اپنے سایۂ عاطفت میں پناہ دے دیتے۔
❤1
Mr Sid
خوشنودی کی خاطر یہاں آکر بس گئے ہیں۔ محلات وقصور میں سونے والے بھی اور جھونپڑیوں میں بسنے والے بھی ، شاہ بھی اور گدا بھی ، گورے بھی اور کالے بھی،امیر بھی اور غریب بھی عجیب بے سر و سامانی کے عالم میں ، نہ بستر خواب و حریر میسر، نہ حجرہ شاہی حاصل نہ تاج نہ تخت…
آج یہی عمل زمانۂ بلوغت میں درپیش ہے، ان شاء اللہ اس پاک اور مقدس گھر کا مالک بھی ہماری چیخ و پکار سن کر در رحمت وا کرے گا اور پھر ہمیں اپنی رحمتوں کی آغوش میں ڈھانپ لے گا۔ آمین!
مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز نفل حطیم میں خشوع و خضوع کا اظہار اور طلب و سوال کا دامن پھیلایا ، بیت اللہ ، میزاب رحمت اور پھر غلاف کعبہ کو دیکھا۔ آنکھیں اشکبار ہوئیں، دل ہجر و فراق کے رنج سے تڑپنے لگا،روح بے قرار ہوئی اور نبضیں ڈوبنے لگیں، آنکھیں پلٹ پلٹ کر کعبہ کی طرف اٹھتیں اور نور و ہدایت سے فیض یاب ہوکر واپس لوٹ آتیں اور پھر قلب و ذہن کے تمام دریچے خود بخود کھل جاتے اور رحمتوں کا رنگ ونور اپنے اندر جذب کرلیتے، انہی قلبی واردات کے اتار چڑھاؤ اور روحانی کیفیات کے مدو جزر میں زبان کج ادا، دل حزیں کی ترجمان بن کر پکار اٹھی۔
يا رب البيت، جس طرح تو نے اس دنیا میں اپنی رحمت بے پایاں اور فصل عمیم کے سبب اپنے گھر کی زیارت کرادی ہے اسی طرح آخرت میں تیرے نورانی مکھڑے کے دیدار بھی ہو جائیں تو پھر کیا ہی کہنے؟ تو گویا آرزوؤں کا سارا چمن مہک اٹھے، میری گڑگڑاہٹوں کی اصل تمنا، بے تابیوں کا صحیح حل، اضطراب والتہاب کا حقیقی راز، فریادوں کا حاصل ، دیدۂ تر کی بے قراریوں کا خاص مقصد اور قلب پریشان سے اٹھی ہوئی کوک کا خلاصہ صرف اور صرف تیرے دیدار ہیں، اس آرزو کی تکمیل میں اور اسی خواہش کی تڑپ میں ایک صاحب استقامت قلندر بے اختیار ہوکر یوں پکار اٹھا تھا:
کوک فریدا کوک توں راکھا جیویں جوار
جد تک ٹانڈا ناں پکے کردا رہ پکار
انہی جذبات و احساسات کے بہاؤ میں بہتے ہوئے چشمہ زمزم پر آئے، روح و بدن دونوں کو خوب سیراب کیا ؛کہ پھر کوئی گھونٹ نہ جانے کب میسر ہو؟ خوب پیا اور بار بار پیا، اوپر آئے اور آنکھوں کو ایک بار پھر مرکز نور وھدی پر گاڑدیا اور بارگاہ رب البیت میں یہ دعا انتہائی جذب و شوق کے ساتھ مانگی گئی:
اللَّهُمَّ إِنِّي اسْئَلْكَ عِلْمًا نَافِعًا وَ رِزْقًا وَاسِعًا وَ شِفَاءً مِّنْ كُلِّ دَاءٍ
اے اللہ میں مانگتا ہوں تجھ سے علم فائدہ بخش اور کشائش رزق اور تمام بیماریوں سے شفاء
اس کے بعد آخری بار نگاہوں نے ٹٹکی باندھی پھر اس نورانی فضا اور روحانی ماحول میں تیزی کے ساتھ گھوم گئیں اور پرنم ہوکر غم دل کا سربستہ راز اگلنے لگیں۔ جذب دروں کی چغلی آنکھوں نےابھی کھائی ہی تھی کہ ہم دونوں تیزی کے ساتھ حرم شریف سے یہ دعا پڑھتے ہوئے : اللهم انی اسْئَلْكَ مِنْ فَضْلِكَ "اے اللہ میں تیرا فضل مانگتا ہوں ۔
باہر آئے اور پیچھے پلٹ کر نہ دیکھا کہ مسلمہ طریق سرور رسولاں یہی ہے۔
اب احساس ہوا کہ ہم ٹیکسی والے کو چند منٹوں کے لئے کہہ کر آئے تھے لیکن واپس ایک گھنٹہ کے بعد آرہے ہیں۔ دل ہی دل میں گھبرا رہے تھے کہ ڈرائیور ٹیکسی تو بہت خفا ہوگا۔ دوڑتے ہوئے آئے ۔ سڑک پر نگاہ دوڑائی تو ٹیکسی کو موجود پایا اور الوداع کہنے کے لئے ساتھی بھی ہنوز کھڑے تھے، دیکھتے ہی بول اٹھے کہ ٹیکسی ڈرائیور کو بڑی مشکل سے روک رکھا ہے اور ایک دفعہ تو یہ مصری میاں بیوی کے ساتھ لڑ بھی چکا ہے۔ ہم کچھ کہے بغیر ٹیکسی میں سوار ہو گئے،کاروانِ شوق سے بچھڑنے والے ساتھیوں کو سلام کیا اور یہ مصرع گنگنایا: "وداع و وصل جدا گانہ لذتے داردـ
( صحنِ حرم، صفحہ: ۱۰۳، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز نفل حطیم میں خشوع و خضوع کا اظہار اور طلب و سوال کا دامن پھیلایا ، بیت اللہ ، میزاب رحمت اور پھر غلاف کعبہ کو دیکھا۔ آنکھیں اشکبار ہوئیں، دل ہجر و فراق کے رنج سے تڑپنے لگا،روح بے قرار ہوئی اور نبضیں ڈوبنے لگیں، آنکھیں پلٹ پلٹ کر کعبہ کی طرف اٹھتیں اور نور و ہدایت سے فیض یاب ہوکر واپس لوٹ آتیں اور پھر قلب و ذہن کے تمام دریچے خود بخود کھل جاتے اور رحمتوں کا رنگ ونور اپنے اندر جذب کرلیتے، انہی قلبی واردات کے اتار چڑھاؤ اور روحانی کیفیات کے مدو جزر میں زبان کج ادا، دل حزیں کی ترجمان بن کر پکار اٹھی۔
يا رب البيت، جس طرح تو نے اس دنیا میں اپنی رحمت بے پایاں اور فصل عمیم کے سبب اپنے گھر کی زیارت کرادی ہے اسی طرح آخرت میں تیرے نورانی مکھڑے کے دیدار بھی ہو جائیں تو پھر کیا ہی کہنے؟ تو گویا آرزوؤں کا سارا چمن مہک اٹھے، میری گڑگڑاہٹوں کی اصل تمنا، بے تابیوں کا صحیح حل، اضطراب والتہاب کا حقیقی راز، فریادوں کا حاصل ، دیدۂ تر کی بے قراریوں کا خاص مقصد اور قلب پریشان سے اٹھی ہوئی کوک کا خلاصہ صرف اور صرف تیرے دیدار ہیں، اس آرزو کی تکمیل میں اور اسی خواہش کی تڑپ میں ایک صاحب استقامت قلندر بے اختیار ہوکر یوں پکار اٹھا تھا:
کوک فریدا کوک توں راکھا جیویں جوار
جد تک ٹانڈا ناں پکے کردا رہ پکار
انہی جذبات و احساسات کے بہاؤ میں بہتے ہوئے چشمہ زمزم پر آئے، روح و بدن دونوں کو خوب سیراب کیا ؛کہ پھر کوئی گھونٹ نہ جانے کب میسر ہو؟ خوب پیا اور بار بار پیا، اوپر آئے اور آنکھوں کو ایک بار پھر مرکز نور وھدی پر گاڑدیا اور بارگاہ رب البیت میں یہ دعا انتہائی جذب و شوق کے ساتھ مانگی گئی:
اللَّهُمَّ إِنِّي اسْئَلْكَ عِلْمًا نَافِعًا وَ رِزْقًا وَاسِعًا وَ شِفَاءً مِّنْ كُلِّ دَاءٍ
اے اللہ میں مانگتا ہوں تجھ سے علم فائدہ بخش اور کشائش رزق اور تمام بیماریوں سے شفاء
اس کے بعد آخری بار نگاہوں نے ٹٹکی باندھی پھر اس نورانی فضا اور روحانی ماحول میں تیزی کے ساتھ گھوم گئیں اور پرنم ہوکر غم دل کا سربستہ راز اگلنے لگیں۔ جذب دروں کی چغلی آنکھوں نےابھی کھائی ہی تھی کہ ہم دونوں تیزی کے ساتھ حرم شریف سے یہ دعا پڑھتے ہوئے : اللهم انی اسْئَلْكَ مِنْ فَضْلِكَ "اے اللہ میں تیرا فضل مانگتا ہوں ۔
باہر آئے اور پیچھے پلٹ کر نہ دیکھا کہ مسلمہ طریق سرور رسولاں یہی ہے۔
اب احساس ہوا کہ ہم ٹیکسی والے کو چند منٹوں کے لئے کہہ کر آئے تھے لیکن واپس ایک گھنٹہ کے بعد آرہے ہیں۔ دل ہی دل میں گھبرا رہے تھے کہ ڈرائیور ٹیکسی تو بہت خفا ہوگا۔ دوڑتے ہوئے آئے ۔ سڑک پر نگاہ دوڑائی تو ٹیکسی کو موجود پایا اور الوداع کہنے کے لئے ساتھی بھی ہنوز کھڑے تھے، دیکھتے ہی بول اٹھے کہ ٹیکسی ڈرائیور کو بڑی مشکل سے روک رکھا ہے اور ایک دفعہ تو یہ مصری میاں بیوی کے ساتھ لڑ بھی چکا ہے۔ ہم کچھ کہے بغیر ٹیکسی میں سوار ہو گئے،کاروانِ شوق سے بچھڑنے والے ساتھیوں کو سلام کیا اور یہ مصرع گنگنایا: "وداع و وصل جدا گانہ لذتے داردـ
( صحنِ حرم، صفحہ: ۱۰۳، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤1
دار العلوم دیوبند کی گریگورین تاریخِ تاسیس: 30 مئی یا 31 مئی 1866ء؟ ایک ماخذی جائزہ
https://t.me/ilmokitab
دار العلوم دیوبند کی تاریخِ تاسیس کے بارے میں سب سے قدیم اور بنیادی مآخذ میں صرف قمری تاریخ ملتی ہے۔ دار العلوم کی اولین روداد (1283ھ) جو خود سنہ 1866ء میں شائع ہوئی، اس کے صفحات 3–4 پر تاریخِ تاسیس ’’15 محرم، بروز پنجشنبہ‘‘ درج ہے، لیکن اس کے ساتھ کوئی عیسوی تاریخ مذکور نہیں۔ بعد میں مولانا محمد طاہر بن محمد احمد قاسمی نے اپنے مضمون ’’تاریخ دار العلوم دیوبند‘‘ (ماہنامہ القاسم، جون 1928ء، ج 4، ش 1، ص 57) میں بھی یہی تاریخ نقل کی۔ اسی طرح سید محبوب رضوی صاحب نے _تاریخ دار العلوم دیوبند_ (پہلا ایڈیشن، 1977ء، ج 1، ص 156) میں بھی ’’15 محرم، بروز پنجشنبہ‘‘ ہی ذکر کیا ہے۔
البتہ اس قمری تاریخ کی عیسوی تطبیق کے سلسلے میں مختلف اہلِ قلم نے مختلف آرا پیش کیں۔ مولانا محمد میاں دیوبندی نے اپنی کتاب _1857ء کے بعد علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے_ (پہلا ایڈیشن، 1946ء، ص 73) میں قیامِ دار العلوم کا سال 1867ء لکھا، تاہم مکمل تاریخ ذکر نہیں کی۔ اس کے بعد قاری محمد طیب صاحب نے _دار العلوم دیوبند کی صد سالہ زندگی_ (پہلا ایڈیشن، جون 1965ء، ص 14) میں اس تاریخ کو ’’30 مئی 1867ء‘‘ لکھا۔ پھر سید محبوب رضوی نے اپنی کتاب _تاریخ دیوبند_ (دوسرا ایڈیشن، 1972ء، ص: 319) میں سنہ کی اصلاح کرتے ہوئے ’’30 مئی 1866ء‘‘ درج کیا۔
بعد ازاں ڈاکٹر محمد اللہ خلیلی قاسمی نے _دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ_ (دوسرا ایڈیشن، اکتوبر 2020ء، ص 74) میں اصل رودادِ دار العلوم (1283ھ) اور ابتدائی اشتہارات کی روشنی میں اس مسئلے کا ازسرِنو جائزہ لیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ قیامِ دار العلوم کی اصل تاریخ 15 محرم الحرام 1283ھ ہے، لیکن اس کی مشہور عیسوی تطبیق ’’30 مئی 1866ء‘‘ درست نہیں۔ ان کے مطابق روداد میں مؤسسین کے اعلانِ تاسیس کی تاریخ 19 محرم بروز دوشنبہ درج ہے۔ اس حساب سے 15 محرم کا دن ’’پنجشنبہ‘‘ (جمعرات) بنتا ہے، جیسا کہ قدیم مآخذ میں بھی مذکور ہے۔ لہٰذا ہفتے کے دن کی اس صراحت کو سامنے رکھتے ہوئے 15 محرم 1283ھ کی درست گریگورین تاریخ 31 مئی 1866ء قرار پاتی ہے، نہ کہ 30 مئی 1866ء۔
اگر تمام مآخذ کو زمانی ترتیب کے ساتھ سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مصنفین نے قمری تاریخ کو عیسوی تقویم سے مطابق کرنے کی کوشش کی، لیکن ڈاکٹر محمد اللہ خلیلی قاسمی نے ابتدائی اور بنیادی دستاویزات کی روشنی میں اس مسئلے کی مزید تنقیح کی اور 31 مئی 1866ء کی رائے کے حق میں دلائل پیش کیے۔
نوٹ: 1965ء سے پہلے تک دار العلوم دیوبند کی درست گریگوری تاریخِ تاسیس کیا، درست سنہ عیسوی لکھا جانا بھی شروع نہیں ہوا تھا۔
اگر درست سنہ عیسوی لکھے جانے میں 1930ء کے بعد سے 1965ء کا عرصہ لگا (1930ء سے پہلے لکھی ہوئی گریگوری تاریخِ تطبیق نظر نہیں آ سکی ہے) تو درست گریگوری تاریخ اگر موجودہ مجلسِ شوریٰ دار العلوم دیوبند کی طرف سے تیار کروائی جانے والی کتابوں اور دستاویزات میں 2016ء کے بعد سے 30 مئی کے بجائے 31 مئی لکھی جانے لگی تو یہ قابل حیرت اور لائقِ تعجب بات نہیں ہے۔
محمد روح الامین قاسمی
ضلع میُوربھنج، اڈیشا
مآخذ:
[1] روداد دارالعلوم [1283ھ]۔ دارالعلوم دیوبند۔ 1866ء۔ ص: 3–4۔
[2] سید محبوب رضوی (1977ء)۔تاریخ دار العلوم دیوبند (پہلا ایڈیشن)۔ دار العلوم دیوبند: ادارۂ اہتمام۔ ج: 1۔ ص: 156۔
[3] محمد طاہر بن محمد احمد قاسمی (جون 1928ء)۔ حبیب الرحمن عثمانی (مدیر)۔ "تاریخ دار العلوم دیوبند"۔ ماہنامہ القاسم۔ ج: 4، ش: 1، ص: 57۔
[4] محمد میاں دیوبندی (1946ء)۔ 1857ء کے بعد علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے (پہلا ایڈیشن)۔ گلی قاسم جان، دہلی: الجمعیۃ بک ڈپو۔ ص: 73۔
[5] قاری محمد طیب (جون 1965ء)۔ دار العلوم دیوبند کی صد سالہ زندگی (پہلا ایڈیشن)۔ دیوبند: دفتر اہتمام، دار العلوم۔ ص: 14۔
[6] سید محبوب رضوی (1972ء)۔ "تاسیس و قیام"۔ تاریخ دیوبند (دوسرا ایڈیشن)۔ دیوبند: علمی مرکز۔ ص: 319۔
[7] محمد اللہ خلیلی قاسمی (اکتوبر 2020ء)۔ دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (دوسرا ایڈیشن)۔ بھارت: شیخ الہند اکیڈمی۔ او سی ایل سی نمبر:1345466013، ص: 74۔
https://t.me/ilmokitab
دار العلوم دیوبند کی تاریخِ تاسیس کے بارے میں سب سے قدیم اور بنیادی مآخذ میں صرف قمری تاریخ ملتی ہے۔ دار العلوم کی اولین روداد (1283ھ) جو خود سنہ 1866ء میں شائع ہوئی، اس کے صفحات 3–4 پر تاریخِ تاسیس ’’15 محرم، بروز پنجشنبہ‘‘ درج ہے، لیکن اس کے ساتھ کوئی عیسوی تاریخ مذکور نہیں۔ بعد میں مولانا محمد طاہر بن محمد احمد قاسمی نے اپنے مضمون ’’تاریخ دار العلوم دیوبند‘‘ (ماہنامہ القاسم، جون 1928ء، ج 4، ش 1، ص 57) میں بھی یہی تاریخ نقل کی۔ اسی طرح سید محبوب رضوی صاحب نے _تاریخ دار العلوم دیوبند_ (پہلا ایڈیشن، 1977ء، ج 1، ص 156) میں بھی ’’15 محرم، بروز پنجشنبہ‘‘ ہی ذکر کیا ہے۔
البتہ اس قمری تاریخ کی عیسوی تطبیق کے سلسلے میں مختلف اہلِ قلم نے مختلف آرا پیش کیں۔ مولانا محمد میاں دیوبندی نے اپنی کتاب _1857ء کے بعد علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے_ (پہلا ایڈیشن، 1946ء، ص 73) میں قیامِ دار العلوم کا سال 1867ء لکھا، تاہم مکمل تاریخ ذکر نہیں کی۔ اس کے بعد قاری محمد طیب صاحب نے _دار العلوم دیوبند کی صد سالہ زندگی_ (پہلا ایڈیشن، جون 1965ء، ص 14) میں اس تاریخ کو ’’30 مئی 1867ء‘‘ لکھا۔ پھر سید محبوب رضوی نے اپنی کتاب _تاریخ دیوبند_ (دوسرا ایڈیشن، 1972ء، ص: 319) میں سنہ کی اصلاح کرتے ہوئے ’’30 مئی 1866ء‘‘ درج کیا۔
بعد ازاں ڈاکٹر محمد اللہ خلیلی قاسمی نے _دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ_ (دوسرا ایڈیشن، اکتوبر 2020ء، ص 74) میں اصل رودادِ دار العلوم (1283ھ) اور ابتدائی اشتہارات کی روشنی میں اس مسئلے کا ازسرِنو جائزہ لیا۔ انھوں نے واضح کیا کہ قیامِ دار العلوم کی اصل تاریخ 15 محرم الحرام 1283ھ ہے، لیکن اس کی مشہور عیسوی تطبیق ’’30 مئی 1866ء‘‘ درست نہیں۔ ان کے مطابق روداد میں مؤسسین کے اعلانِ تاسیس کی تاریخ 19 محرم بروز دوشنبہ درج ہے۔ اس حساب سے 15 محرم کا دن ’’پنجشنبہ‘‘ (جمعرات) بنتا ہے، جیسا کہ قدیم مآخذ میں بھی مذکور ہے۔ لہٰذا ہفتے کے دن کی اس صراحت کو سامنے رکھتے ہوئے 15 محرم 1283ھ کی درست گریگورین تاریخ 31 مئی 1866ء قرار پاتی ہے، نہ کہ 30 مئی 1866ء۔
اگر تمام مآخذ کو زمانی ترتیب کے ساتھ سامنے رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مختلف مصنفین نے قمری تاریخ کو عیسوی تقویم سے مطابق کرنے کی کوشش کی، لیکن ڈاکٹر محمد اللہ خلیلی قاسمی نے ابتدائی اور بنیادی دستاویزات کی روشنی میں اس مسئلے کی مزید تنقیح کی اور 31 مئی 1866ء کی رائے کے حق میں دلائل پیش کیے۔
نوٹ: 1965ء سے پہلے تک دار العلوم دیوبند کی درست گریگوری تاریخِ تاسیس کیا، درست سنہ عیسوی لکھا جانا بھی شروع نہیں ہوا تھا۔
اگر درست سنہ عیسوی لکھے جانے میں 1930ء کے بعد سے 1965ء کا عرصہ لگا (1930ء سے پہلے لکھی ہوئی گریگوری تاریخِ تطبیق نظر نہیں آ سکی ہے) تو درست گریگوری تاریخ اگر موجودہ مجلسِ شوریٰ دار العلوم دیوبند کی طرف سے تیار کروائی جانے والی کتابوں اور دستاویزات میں 2016ء کے بعد سے 30 مئی کے بجائے 31 مئی لکھی جانے لگی تو یہ قابل حیرت اور لائقِ تعجب بات نہیں ہے۔
محمد روح الامین قاسمی
ضلع میُوربھنج، اڈیشا
مآخذ:
[1] روداد دارالعلوم [1283ھ]۔ دارالعلوم دیوبند۔ 1866ء۔ ص: 3–4۔
[2] سید محبوب رضوی (1977ء)۔تاریخ دار العلوم دیوبند (پہلا ایڈیشن)۔ دار العلوم دیوبند: ادارۂ اہتمام۔ ج: 1۔ ص: 156۔
[3] محمد طاہر بن محمد احمد قاسمی (جون 1928ء)۔ حبیب الرحمن عثمانی (مدیر)۔ "تاریخ دار العلوم دیوبند"۔ ماہنامہ القاسم۔ ج: 4، ش: 1، ص: 57۔
[4] محمد میاں دیوبندی (1946ء)۔ 1857ء کے بعد علمائے حق اور ان کے مجاہدانہ کارنامے (پہلا ایڈیشن)۔ گلی قاسم جان، دہلی: الجمعیۃ بک ڈپو۔ ص: 73۔
[5] قاری محمد طیب (جون 1965ء)۔ دار العلوم دیوبند کی صد سالہ زندگی (پہلا ایڈیشن)۔ دیوبند: دفتر اہتمام، دار العلوم۔ ص: 14۔
[6] سید محبوب رضوی (1972ء)۔ "تاسیس و قیام"۔ تاریخ دیوبند (دوسرا ایڈیشن)۔ دیوبند: علمی مرکز۔ ص: 319۔
[7] محمد اللہ خلیلی قاسمی (اکتوبر 2020ء)۔ دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (دوسرا ایڈیشن)۔ بھارت: شیخ الہند اکیڈمی۔ او سی ایل سی نمبر:1345466013، ص: 74۔
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
💯2
Khaatir
دار العلوم دیوبند کی گریگورین تاریخِ تاسیس: 30 مئی یا 31 مئی 1866ء؟ ایک ماخذی جائزہ https://t.me/ilmokitab دار العلوم دیوبند کی تاریخِ تاسیس کے بارے میں سب سے قدیم اور بنیادی مآخذ میں صرف قمری تاریخ ملتی ہے۔ دار العلوم کی اولین روداد (1283ھ) جو خود سنہ 1866ء…
نوٹ: انگریز وقائع نگار جان جیمز بانڈ (John James Bond؛ متوفی: 1883ء) نے 1875ء میں لندن سے پہلی بار شائع اپنی کتاب ”ہینڈی بُک آف رولز اینڈ ٹیبلز فار ویریفائنگ ڈیٹس وِد دی کرسچین ایرا، الخ“ (Handy-Book of Rules and Tables for Verifying Dates with the Christian Era, etc.) کے صفحہ 249 پر ہجری سال 1283ھ کے آغاز کے مقابل 16 مئی 1866ء درج کیا ہے، جو بروز بدھ (Wednesday) تھا۔ اُس جدول کی بنیاد پر حساب کیا جائے تو 15 محرم 1283ھ، بروز بدھ 30 مئی 1866ء کو بنتی ہے۔(1)
تاہم دار العلوم دیوبند کے اولین اور بنیادی مآخذ میں 15 محرم 1283ھ بروز پنج شنبہ (جمعرات) مذکور ہے۔(2)(3)
مزید یہ کہ The Bombay Gazette کے 31 مئی 1866ء کے شمارے کے عنوان میں صراحتاً "Thursday, May 31, 1866" درج ہے، جس سے 31 مئی 1866ء کے جمعرات ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔(4)
اِن قرائن کی بنا پر غالب گمان یہ ہوتا ہے کہ جان جیمز بانڈ کا جدول لندن یا مغربی دنیا کے تقویمی حساب کے مطابق مرتب کیا گیا تھا، جبکہ برصغیر میں محرم 1283ھ کا آغاز ایک دن بعد، یعنی 17 مئی 1866ء کو ہوا ہوگا۔ اس صورت میں 15 محرم 1283ھ بروز پنج شنبہ 31 مئی 1866ء کے موافق قرار پاتی ہے، جو دار العلوم دیوبند کی زیرِ بحث تاریخِ تاسیس سے مطابقت رکھتی ہے۔
محمد روح الامین قاسمی
ضلع میُوربھنج، اڈیشا
مراجع:
(1) جان جے بانڈ، ہینڈی بُک آف رولز اینڈ ٹیبلز فار ویریفائنگ ڈیٹس وِد دی کرسچین ایرا، الخ (لندن: جارج بیل اینڈ سنز؛ بارٹلیٹ اینڈ کمپنی، 1875ء)، ص 249، یوآرایل: https://books.google.co.in/books?id=F3mcB6GnOtIC&pg=PA249 ۔
(2) روداد دارالعلوم [1283ھ]۔ دارالعلوم دیوبند۔ 1866ء۔ ص: 3–4۔
(3) محمد طاہر بن محمد احمد قاسمی (جون 1928ء)۔ حبیب الرحمن عثمانی (مدیر)۔ "تاریخ دار العلوم دیوبند"۔ ماہنامہ القاسم۔ ج: 4، ش: 1، ص: 57۔
(4) دی بومبے گیزٹ (The Bombay Gazette)، بمبئی، 31 مئی 1866ء، شمارہ مورخہ Thursday, May 31, 1866، ص: 1، یوآرایل: https://www.britishnewspaperarchive.co.uk/viewer/BL/0002920/18660531/001/0001?noTouch=true ۔
تاہم دار العلوم دیوبند کے اولین اور بنیادی مآخذ میں 15 محرم 1283ھ بروز پنج شنبہ (جمعرات) مذکور ہے۔(2)(3)
مزید یہ کہ The Bombay Gazette کے 31 مئی 1866ء کے شمارے کے عنوان میں صراحتاً "Thursday, May 31, 1866" درج ہے، جس سے 31 مئی 1866ء کے جمعرات ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔(4)
اِن قرائن کی بنا پر غالب گمان یہ ہوتا ہے کہ جان جیمز بانڈ کا جدول لندن یا مغربی دنیا کے تقویمی حساب کے مطابق مرتب کیا گیا تھا، جبکہ برصغیر میں محرم 1283ھ کا آغاز ایک دن بعد، یعنی 17 مئی 1866ء کو ہوا ہوگا۔ اس صورت میں 15 محرم 1283ھ بروز پنج شنبہ 31 مئی 1866ء کے موافق قرار پاتی ہے، جو دار العلوم دیوبند کی زیرِ بحث تاریخِ تاسیس سے مطابقت رکھتی ہے۔
محمد روح الامین قاسمی
ضلع میُوربھنج، اڈیشا
مراجع:
(1) جان جے بانڈ، ہینڈی بُک آف رولز اینڈ ٹیبلز فار ویریفائنگ ڈیٹس وِد دی کرسچین ایرا، الخ (لندن: جارج بیل اینڈ سنز؛ بارٹلیٹ اینڈ کمپنی، 1875ء)، ص 249، یوآرایل: https://books.google.co.in/books?id=F3mcB6GnOtIC&pg=PA249 ۔
(2) روداد دارالعلوم [1283ھ]۔ دارالعلوم دیوبند۔ 1866ء۔ ص: 3–4۔
(3) محمد طاہر بن محمد احمد قاسمی (جون 1928ء)۔ حبیب الرحمن عثمانی (مدیر)۔ "تاریخ دار العلوم دیوبند"۔ ماہنامہ القاسم۔ ج: 4، ش: 1، ص: 57۔
(4) دی بومبے گیزٹ (The Bombay Gazette)، بمبئی، 31 مئی 1866ء، شمارہ مورخہ Thursday, May 31, 1866، ص: 1، یوآرایل: https://www.britishnewspaperarchive.co.uk/viewer/BL/0002920/18660531/001/0001?noTouch=true ۔
Google Books
Handy-book of Rules and Tables for Verifying Dates with the Christian Era
علم و کتاب
سلسلہ نمبر: 314 انتخاب مطالعہ تحریر: *مولانا سید مؔناظر احسن گیلانیؒ* انسان سے کائنات کی بے نیازی مطلب یہ ہے کہ:اس خاک دانِ ارضی سے بنی آدم کے ایک فرد کو چن چن کر اگر ختم کر دیا جائے ، ان کے اونچوں کو بھی ختم کر دیا جائے اور نیچوں کو بھی صاف کر دیا جائے…
سلسلہ نمبر: 315
انتخاب مطالعہ
تحریر: شگفتہ جاہ
*برداشت*
سقراط کی درس گاہ کا صرف ایک اصول تھا ، اور وہ تھا برداشت، یہ لوگ ایک دوسرے کے خیالات تحمل کے ساتھ سنتے تھے، یہ بڑے سے بڑے اختلاف پر بھی ایک دوسرے سے الجھتے نہیں تھے ، سقراط کی درس گاہ کا اصول تھا اس کا جو شاگرد ایک خاص حد سے اونچی آواز میں بات کرتا تھا یا پھر دوسرے کو گالی دے دیتا تھا یا دھمکی دیتا تھا یا جسمانی لڑائی کی کوشش کرتا تھا اس طالب علم کو فوراً اس درس گاہ سے نکال دیا جاتا تھا۔
سقراط کا کہنا تھا: ”برداشت سوسائٹی کی روح ہوتی ہے، سو سائٹی میں جب برداشت کم ہو جاتی ہے، تو مکالمہ کم ہو جاتا ہے اور جب مکالمہ کم ہوتا ہے تو معاشرے میں وحشت بڑھ جاتی ہے۔“
اس کا کہنا تھا: اختلاف،دلائل اور منطق پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے، یہ فن جب تک پڑھے لکھے عالم اور فاضل لوگوں کے پاس رہتا ہے اس وقت تک معاشرہ ترقی کرتا ہے؛لیکن جب مکالمہ یا اختلاف جاہل لوگوں کے ہاتھ آجاتا ہے تو پھر معاشرہ انارکی کا شکار ہوجاتا ہے، وہ کہتا تھا: ”
( خواتین ڈائجسٹ،ماہ: اگست، 2023، صفحہ: 212،ناظم آباد، کراچی)
✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی
انتخاب مطالعہ
تحریر: شگفتہ جاہ
*برداشت*
سقراط کی درس گاہ کا صرف ایک اصول تھا ، اور وہ تھا برداشت، یہ لوگ ایک دوسرے کے خیالات تحمل کے ساتھ سنتے تھے، یہ بڑے سے بڑے اختلاف پر بھی ایک دوسرے سے الجھتے نہیں تھے ، سقراط کی درس گاہ کا اصول تھا اس کا جو شاگرد ایک خاص حد سے اونچی آواز میں بات کرتا تھا یا پھر دوسرے کو گالی دے دیتا تھا یا دھمکی دیتا تھا یا جسمانی لڑائی کی کوشش کرتا تھا اس طالب علم کو فوراً اس درس گاہ سے نکال دیا جاتا تھا۔
سقراط کا کہنا تھا: ”برداشت سوسائٹی کی روح ہوتی ہے، سو سائٹی میں جب برداشت کم ہو جاتی ہے، تو مکالمہ کم ہو جاتا ہے اور جب مکالمہ کم ہوتا ہے تو معاشرے میں وحشت بڑھ جاتی ہے۔“
اس کا کہنا تھا: اختلاف،دلائل اور منطق پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے، یہ فن جب تک پڑھے لکھے عالم اور فاضل لوگوں کے پاس رہتا ہے اس وقت تک معاشرہ ترقی کرتا ہے؛لیکن جب مکالمہ یا اختلاف جاہل لوگوں کے ہاتھ آجاتا ہے تو پھر معاشرہ انارکی کا شکار ہوجاتا ہے، وہ کہتا تھا: ”
کوئی عالم اس وقت تک عالم نہیں ہوسکتا جب تک اس میں برداشت نہ آجائے، جب تک وہ ہاتھ اور بات میں فرق نہ رکھے “ ـ( خواتین ڈائجسٹ،ماہ: اگست، 2023، صفحہ: 212،ناظم آباد، کراچی)
✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی
❤2👍1
Mr Sid
*طواف وداع* ✍🏻... یونس بصیر اس شرف و شادمانی کے ساتھ ساتھ دل میں بار بار رنج و غم کی ایک لہر بھی اٹھتی کہ آج رات ہم ”بلد امین“ کو خیر باد کہہ جائیں گے۔ اللہ کے مقدس گھر سے جدائی کا یہ زخم شاید پھر کبھی مندمل نہ ہو سکے،زندگی کا کیا بھروسہ؟ اور نبضِ…
*کاروانِ شوق دیار حبیب میں*
✍🏻... یونس بصیر
آج دسمبر 1974ء کی ستائیس (27) اور ایام تشریق کا آخری دن ہے، رات کا سماں، فضا قدرے خنک، ٹیکسی میں کل چھ نفر، پندرہ منٹ اوپر دس پر ٹیکسی چلی، ہم نے سفر کی دعائیں پڑھیں، اور پھر درود و سلام کا سلسلہ دراز ہوا، چھوٹتے ہی ڈرائیور صاحب نے پاسپورٹ اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ اپنے قبضہ میں لے لئے؛ کہ راستے میں قدم قدم پر یہ سفری کا غذات چیک کرتے ہیں اور بالخصوص واپسی کی تاریخ پر ؛کیوں کہ وہ نہیں چاہتے کہ مقررہ ایام سے زیادہ کوئی زائر بھی مدینۃ الرسول میں قیام کرے،سعودی حکومت کا یہ اقدام اپنی افادیت کے لحاظ سے انتہائی اہم اور احسن ہے، اگر زمانۂ قیام کی قید اور پابندی نہ ہو تو پھر عاشقان رسول جانے میں جلدی اور واپس آنے میں تاخیر کریں گے، اس طرح مدینۃ الرسول کا نظام درہم برہم ہوجائے گا؛ کیونکہ مدینہ الرسول ایک چھوٹا سا شہر ہے، مکہ شریف کی طرح مدینہ شریف ایک ہی وقت میں لاکھوں انسانوں کو جذب نہیں کر سکتا، اس مقدس شہر میں لوگ قسطوں کی صورت میں آتے ہیں،اور اسی طرح سلسلہ وار سیدھے جدہ نکل جاتے ہیں۔
اب ذہن کے گوشوں اور نہاں خانہ دل میں بار بار ہجرت رسول کا منظر یاد آ رہا ہے۔ انہی راہوں میں سے کبھی سید البشر ایک صدیق کی معیت میں گزرے تھے، اپنے آبائی شہر، عزیز و اقارب اور گھر بار کو اپنے رب کی خاطر اور دین اسلام کی ترقی اور وسعت کے لئے ، اس پاک بستی کو ظالموں سے تنگ آکر ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے ۔ چشم بینا وا ہو تو آج بھی ان مبارک قدموں کے نقوش کا سراغ بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ دشت و جبل کی انہی بے آب و گیاہ وادیوں میں اہل مکہ کے ہاتھوں ستائے ہوئے مہاجرین انتہائی بے سروسامانی ، پریشان حالی اور پریشانی کے عالم میں دشت نوردی کرتے ہوئے راہ عشق و وفا میں خار مغیلاں سے اپنے پاؤں زخمی کرتے ہوئے باد سموم کے جلا دینے والے جھونکے برداشت کرتے ہوئے، سفر کی کٹھن صعوبتیں جھیلتے ہوئے،لق و دق صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے، مدینہ الرسول میں جاپناہ لیتے، انہی پر خطر وادیوں اور دشوار گزار راہوں میں کبھی امت کی عظیم اور مقدس ماں سیدہ ام سلمہ کا ناقہ گزرا تھا۔ صحرائے ریگ زار اور سبزہ و گل سے محروم پہاڑوں کا یہ سلسلہ دراز، وسائل کی تیز رفتاری کے باوجود بھی ختم ہونے میں نہیں آتا، بے ساختہ مجاہدین اسلام اور مہاجرین سابقین کی طاقت وقوت ، صبر و ہمت، اراده، استقلال، شجاعت، استقامت اور پختگی یقین و ایمان کی داد دینی پڑتی ہے۔ اللہ ان سب سے راضی ہو۔ آمین!
ٹیکسی کشادہ سڑک پر اندھیروں کو چیرتی ہوئی چلی جارہی ہے،کیا مجال جو حجازی ڈرائیور اونگھ جائے، ڈرائیوروں کی چابک دستی اور فنی کمال دیکھنا ہو تو پھر کوئی ان ڈرائیوروں کی مہارت دیکھے، ایک سو بیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تو ان کا معمول ہے، اب جو اچانک سڑک پر نظر دوڑائی تو دور سب گاڑیاں رکی ہوئیں نظر آئیں۔ پوچھنے پر پتہ چلا یہ سب سے بڑا مرکز تفتیش ہے۔ جو مسافروں کے کاغذات ، پاسپورٹ اور ٹکٹ وغیرہ چیک کرتے ہیں۔ بالخصوص ٹکٹوں پر تاریخ واپسی ضرور بالضرور ملاحظہ کرتے ہیں ۔ ہمارے ڈرائیور نے ٹیکسی روکی، ضروری کاغذات ہاتھ میں لیے، معائنۂ چوکی پر حاضر ہوگیا، پڑتال کے بعد ہمیں بلایا اور کہاگیا: آپ آگے نہیں جاسکتے، چونکہ 8 جنوری 75ء کو واپس طرابلس / لبیا جانا ہے، لہذا آج نہیں؛ بلکہ 28 دسمبر 74ء کو مدينة الرسول جاسکتے ہیں۔ اب کیا کریں؟ انہوں نے تو واپس مکہ شریف جانے کو کہہ دیا ہے۔ اور یہ عرب بھائی انکار کے بعد ذرا مشکل ہی مانا کرتے ہیں، ہم نے اپنی مجبوریوں کا رونا رویا اور منت سماجت کی۔ آخر ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے رحم ڈال دیا۔ اور ہمیں آگے سفر کی اجازت مل گئی۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور پھر ٹیکسی میں بیٹھ گئے، ڈرائیور صاحب نے ٹیکسی چلائی لیکن ڈرائیور صاحب نے گاڑی کی رفتار کو اعتدال میں رکھا؛کہ رات کا وقت اور کاروں کا طویل سلسلہ رواں دواں تھا، رات جوں توں بیت رہی تھی اور آگے بڑھ رہے تھے، سردی میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا، مکہ شریف میں چونکہ گرمی تھی ہم دونوں ٹھنڈے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ اس لئے ہمیں سردی محسوس ہونے لگی۔ اور اپنی نادانی اور ناتجربہ کاری پر بہت افسوس ہوا، گرم کپڑے صندوق میں پڑے تھے اور صندوق ٹیکسی کی ڈگی میں بند ، اب کون ٹیکسی ڈرائیور کو روکے، پھر چابیاں تلاش کرے، تب کہیں حفاظت بدن کا اہتمام ہو۔ ایک لمبی کاروائی! بہر حال صبر و شکر سے کام لیتےہوئے یہ خنکی و برودت اور سردی برداشت کرتے رہے تھے۔ اور اپنی توجہ اور دھیان گنبد خضرا کی آرزوئے دید میں لگائے رکھا۔ سفر کٹا اور وقت گزرتا گیا۔ آدھا سفر طے ہوا تو ڈرائیور نے ایک صحرائی مقھٰی ( قہوہ خانہ ) کے پاس ٹیکسی روکی،یہ ہوٹل عموما سڑک کے کنارے بڑی بڑی چار پائیاں یا چار پائی نما بینچ بچھا دیتے ہیں اور مسافر تھوڑی دیر کے لئے سستا لیتے ہیں۔ ڈرائیور صاحبان بھی تازہ دم ہوکر بقیہ سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ یہاں تقریباً آدھ گھنٹہ رکے اور
✍🏻... یونس بصیر
آج دسمبر 1974ء کی ستائیس (27) اور ایام تشریق کا آخری دن ہے، رات کا سماں، فضا قدرے خنک، ٹیکسی میں کل چھ نفر، پندرہ منٹ اوپر دس پر ٹیکسی چلی، ہم نے سفر کی دعائیں پڑھیں، اور پھر درود و سلام کا سلسلہ دراز ہوا، چھوٹتے ہی ڈرائیور صاحب نے پاسپورٹ اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ اپنے قبضہ میں لے لئے؛ کہ راستے میں قدم قدم پر یہ سفری کا غذات چیک کرتے ہیں اور بالخصوص واپسی کی تاریخ پر ؛کیوں کہ وہ نہیں چاہتے کہ مقررہ ایام سے زیادہ کوئی زائر بھی مدینۃ الرسول میں قیام کرے،سعودی حکومت کا یہ اقدام اپنی افادیت کے لحاظ سے انتہائی اہم اور احسن ہے، اگر زمانۂ قیام کی قید اور پابندی نہ ہو تو پھر عاشقان رسول جانے میں جلدی اور واپس آنے میں تاخیر کریں گے، اس طرح مدینۃ الرسول کا نظام درہم برہم ہوجائے گا؛ کیونکہ مدینہ الرسول ایک چھوٹا سا شہر ہے، مکہ شریف کی طرح مدینہ شریف ایک ہی وقت میں لاکھوں انسانوں کو جذب نہیں کر سکتا، اس مقدس شہر میں لوگ قسطوں کی صورت میں آتے ہیں،اور اسی طرح سلسلہ وار سیدھے جدہ نکل جاتے ہیں۔
اب ذہن کے گوشوں اور نہاں خانہ دل میں بار بار ہجرت رسول کا منظر یاد آ رہا ہے۔ انہی راہوں میں سے کبھی سید البشر ایک صدیق کی معیت میں گزرے تھے، اپنے آبائی شہر، عزیز و اقارب اور گھر بار کو اپنے رب کی خاطر اور دین اسلام کی ترقی اور وسعت کے لئے ، اس پاک بستی کو ظالموں سے تنگ آکر ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے ۔ چشم بینا وا ہو تو آج بھی ان مبارک قدموں کے نقوش کا سراغ بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ دشت و جبل کی انہی بے آب و گیاہ وادیوں میں اہل مکہ کے ہاتھوں ستائے ہوئے مہاجرین انتہائی بے سروسامانی ، پریشان حالی اور پریشانی کے عالم میں دشت نوردی کرتے ہوئے راہ عشق و وفا میں خار مغیلاں سے اپنے پاؤں زخمی کرتے ہوئے باد سموم کے جلا دینے والے جھونکے برداشت کرتے ہوئے، سفر کی کٹھن صعوبتیں جھیلتے ہوئے،لق و دق صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے، مدینہ الرسول میں جاپناہ لیتے، انہی پر خطر وادیوں اور دشوار گزار راہوں میں کبھی امت کی عظیم اور مقدس ماں سیدہ ام سلمہ کا ناقہ گزرا تھا۔ صحرائے ریگ زار اور سبزہ و گل سے محروم پہاڑوں کا یہ سلسلہ دراز، وسائل کی تیز رفتاری کے باوجود بھی ختم ہونے میں نہیں آتا، بے ساختہ مجاہدین اسلام اور مہاجرین سابقین کی طاقت وقوت ، صبر و ہمت، اراده، استقلال، شجاعت، استقامت اور پختگی یقین و ایمان کی داد دینی پڑتی ہے۔ اللہ ان سب سے راضی ہو۔ آمین!
ٹیکسی کشادہ سڑک پر اندھیروں کو چیرتی ہوئی چلی جارہی ہے،کیا مجال جو حجازی ڈرائیور اونگھ جائے، ڈرائیوروں کی چابک دستی اور فنی کمال دیکھنا ہو تو پھر کوئی ان ڈرائیوروں کی مہارت دیکھے، ایک سو بیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تو ان کا معمول ہے، اب جو اچانک سڑک پر نظر دوڑائی تو دور سب گاڑیاں رکی ہوئیں نظر آئیں۔ پوچھنے پر پتہ چلا یہ سب سے بڑا مرکز تفتیش ہے۔ جو مسافروں کے کاغذات ، پاسپورٹ اور ٹکٹ وغیرہ چیک کرتے ہیں۔ بالخصوص ٹکٹوں پر تاریخ واپسی ضرور بالضرور ملاحظہ کرتے ہیں ۔ ہمارے ڈرائیور نے ٹیکسی روکی، ضروری کاغذات ہاتھ میں لیے، معائنۂ چوکی پر حاضر ہوگیا، پڑتال کے بعد ہمیں بلایا اور کہاگیا: آپ آگے نہیں جاسکتے، چونکہ 8 جنوری 75ء کو واپس طرابلس / لبیا جانا ہے، لہذا آج نہیں؛ بلکہ 28 دسمبر 74ء کو مدينة الرسول جاسکتے ہیں۔ اب کیا کریں؟ انہوں نے تو واپس مکہ شریف جانے کو کہہ دیا ہے۔ اور یہ عرب بھائی انکار کے بعد ذرا مشکل ہی مانا کرتے ہیں، ہم نے اپنی مجبوریوں کا رونا رویا اور منت سماجت کی۔ آخر ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے رحم ڈال دیا۔ اور ہمیں آگے سفر کی اجازت مل گئی۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور پھر ٹیکسی میں بیٹھ گئے، ڈرائیور صاحب نے ٹیکسی چلائی لیکن ڈرائیور صاحب نے گاڑی کی رفتار کو اعتدال میں رکھا؛کہ رات کا وقت اور کاروں کا طویل سلسلہ رواں دواں تھا، رات جوں توں بیت رہی تھی اور آگے بڑھ رہے تھے، سردی میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا، مکہ شریف میں چونکہ گرمی تھی ہم دونوں ٹھنڈے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ اس لئے ہمیں سردی محسوس ہونے لگی۔ اور اپنی نادانی اور ناتجربہ کاری پر بہت افسوس ہوا، گرم کپڑے صندوق میں پڑے تھے اور صندوق ٹیکسی کی ڈگی میں بند ، اب کون ٹیکسی ڈرائیور کو روکے، پھر چابیاں تلاش کرے، تب کہیں حفاظت بدن کا اہتمام ہو۔ ایک لمبی کاروائی! بہر حال صبر و شکر سے کام لیتےہوئے یہ خنکی و برودت اور سردی برداشت کرتے رہے تھے۔ اور اپنی توجہ اور دھیان گنبد خضرا کی آرزوئے دید میں لگائے رکھا۔ سفر کٹا اور وقت گزرتا گیا۔ آدھا سفر طے ہوا تو ڈرائیور نے ایک صحرائی مقھٰی ( قہوہ خانہ ) کے پاس ٹیکسی روکی،یہ ہوٹل عموما سڑک کے کنارے بڑی بڑی چار پائیاں یا چار پائی نما بینچ بچھا دیتے ہیں اور مسافر تھوڑی دیر کے لئے سستا لیتے ہیں۔ ڈرائیور صاحبان بھی تازہ دم ہوکر بقیہ سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ یہاں تقریباً آدھ گھنٹہ رکے اور
❤1
Mr Sid
*طواف وداع* ✍🏻... یونس بصیر اس شرف و شادمانی کے ساتھ ساتھ دل میں بار بار رنج و غم کی ایک لہر بھی اٹھتی کہ آج رات ہم ”بلد امین“ کو خیر باد کہہ جائیں گے۔ اللہ کے مقدس گھر سے جدائی کا یہ زخم شاید پھر کبھی مندمل نہ ہو سکے،زندگی کا کیا بھروسہ؟ اور نبضِ…
پھر ٹیکسی دیار حبیب کی طرف فراٹے بھرنے لگی۔
مدينة الرسول کی طرف کاروان شوق بڑھے اور درود و سلام کی حُدی خوانی نہ ہو، یہ ممکن ہی نہیں، زبان خود بخود نعت رسول میں زمزمہ سنج ہوجاتی ہے، درود و سلام کی سوغاتوں کے سوا، ایک امتی در بار رسول میں اور پیش بھی کیا کرے گا؟ دور اندھیروں میں نگاہیں بے تاب ہوکر گنبد خضرا کی تلاش میں رہیں۔ بار بار یہی حسرت، دعا کا روپ دھار کر فضاؤں میں گم ہو جاتی کہ بار خدا فجر کی نماز جامع مسجد نبوی میں باجماعت مل جائے۔ ذوق نظارہ میں صبر کا پیمانہ لبریز ہوکر چھلکنے لگا، مزید انتظار کی اب تاب کہاں ؟ سعدی نے شاید انہی راہوں میں اپنی بے تابی دل کا اظہار یوں کیا تھا:
مشتاقی صبوری از حد گذشت یا را
گر تو شکیب داری طاقت نماند مارا
آخر مسجد نبوی کے بلند مینار ضیابار اور شہر رسول خیر الانام کی روشنیاں جلوہ گر ہوئیں۔ درود و سلام کی لے تیز ہوئی، پھر گنبد خضرا کو دیکھا،آنکھوں کو ٹھنڈک اور تازگی محسوس ہوئی اور دل بے قرار کوقرار آیا۔ پچھلی رات کا وقت ، سردی کا زور ، اور ہر سو خاموشی اور سکون، ٹیکسی بل کھاتی ہوئی سڑکوں پر گھومتی گھماتی، جلد ہی ایک کھلے میدان میں اپنے اڈہ پر جا ٹھہری ۔ ڈرائیور کا شکریہ ادا کیا، سامان اتارا، کمزوری اور نقاہت اپنے عروج پر آئی، ساتھیوں نے اپنی اپنی راہ لی اور ہم دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھا کئے۔ سردی سے دانتوں کی بتیسی بجنے لگی ، مزدور اور قلی کی تلاش شروع ہوئی؛ مگر تضیع اوقات کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا! سر میں یہ سودا سمائے ہوئے کہ فجر کی نماز ہر حال میں جامع نبوی میں جماعت کے ساتھ ادا کرنی ہے؛لہذا مزید وقت ضائع کیے بغیر سامان اٹھایا اور روشن میناروں کی سمت چل پڑے، ایک صندوق اٹھاتا، دس بیس قدم آگے بڑھتا اور صندوق یہیں چھوڑ کر دوسرا صندوق لاتا ، اور فریدہ باری باری وزنی تھیلے اٹھاتی آگے بڑھتی رہی ، دست و بازو شل ہوگئے اور ٹانگیں تھک کر چور ہو گئیں ؛لیکن جذبۂ شوق اپنے اوج پر اور امنگیں اپنے جوبن پر ہیں، اتنی قربت ، اتنی دوری، آخر ہانپتے کانپتے ، وزن اٹھائے ہوئے آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہے، جامع نبوی کے زیر سایہ کھلے میدان میں آگئے اور وہیں سامان رکھا،پھر اسی میدان میں عورتوں کی صفوں کے پاس ہی فریدہ کو سامان کے پاس قریب ہی بٹھا دیا۔ یہ وہی میدان ہے جو تعمیر کے مراحل سے تیزی کے ساتھ گزر کر حرم نبوی کا حصہ بن جائے گا۔ فریدہ کو تاکید کی کہ اگر نماز قائم ہوگئی تو میرا انتظار کئے بغیر شریک نماز ہوجانا۔ میں پانی کی تلاش میں نکلا کہ وضو کر سکوں ، دائیں بائیں بے چین ہو کر اور ڈرتے ہوئے کہ اسی تگ و دو میں کہیں نماز نہ نکل جائے ، ہر سو بھاگا لیکن افسوس پانی نہ مل سکا۔ حضرت سیدہ ہاجرہ کی دوڑیں ایک بار پھر یاد آ گئیں۔ اور پھر بیت اللہ کے زریں نقوش ذہن کے پردہ پر ابھرنے لگے ۔ آخر زمین پر بیٹھا اور تیم کرلیا۔ اتنے میں نماز فجر کا آغاز ہوا، شمولیت نماز کے لئے بے اختیار ہو کر بھاگا۔ اور دورانِ سفر مانگی ہوئی دعا بارگاہ الہی میں ہاتھوں ہاتھ شرف قبولیت سے نوازدی گئی۔ ایجاب و قبول کی تازہ کرامت! سبحان اللہ، وہ علیم و بصیر اور رحمان و رحیم سب کی سنتا اور ضرور سنتا ہے۔ یہ اپنا ایمان بھی ہے اور آزمائی ہوئی بات بھی۔ اور اسی بارگاہ ذوالجلال سے نوازے ہوئے ایک فقیر گوشہ نشین نے کیا سچ کہا ہے:
یک صبح با اخلاص بیا بر در من
گر کار تو بر نیاید آنگہ گلہ کن
( صحن حرم، صفحہ: ۱۱۳، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
مدينة الرسول کی طرف کاروان شوق بڑھے اور درود و سلام کی حُدی خوانی نہ ہو، یہ ممکن ہی نہیں، زبان خود بخود نعت رسول میں زمزمہ سنج ہوجاتی ہے، درود و سلام کی سوغاتوں کے سوا، ایک امتی در بار رسول میں اور پیش بھی کیا کرے گا؟ دور اندھیروں میں نگاہیں بے تاب ہوکر گنبد خضرا کی تلاش میں رہیں۔ بار بار یہی حسرت، دعا کا روپ دھار کر فضاؤں میں گم ہو جاتی کہ بار خدا فجر کی نماز جامع مسجد نبوی میں باجماعت مل جائے۔ ذوق نظارہ میں صبر کا پیمانہ لبریز ہوکر چھلکنے لگا، مزید انتظار کی اب تاب کہاں ؟ سعدی نے شاید انہی راہوں میں اپنی بے تابی دل کا اظہار یوں کیا تھا:
مشتاقی صبوری از حد گذشت یا را
گر تو شکیب داری طاقت نماند مارا
آخر مسجد نبوی کے بلند مینار ضیابار اور شہر رسول خیر الانام کی روشنیاں جلوہ گر ہوئیں۔ درود و سلام کی لے تیز ہوئی، پھر گنبد خضرا کو دیکھا،آنکھوں کو ٹھنڈک اور تازگی محسوس ہوئی اور دل بے قرار کوقرار آیا۔ پچھلی رات کا وقت ، سردی کا زور ، اور ہر سو خاموشی اور سکون، ٹیکسی بل کھاتی ہوئی سڑکوں پر گھومتی گھماتی، جلد ہی ایک کھلے میدان میں اپنے اڈہ پر جا ٹھہری ۔ ڈرائیور کا شکریہ ادا کیا، سامان اتارا، کمزوری اور نقاہت اپنے عروج پر آئی، ساتھیوں نے اپنی اپنی راہ لی اور ہم دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھا کئے۔ سردی سے دانتوں کی بتیسی بجنے لگی ، مزدور اور قلی کی تلاش شروع ہوئی؛ مگر تضیع اوقات کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا! سر میں یہ سودا سمائے ہوئے کہ فجر کی نماز ہر حال میں جامع نبوی میں جماعت کے ساتھ ادا کرنی ہے؛لہذا مزید وقت ضائع کیے بغیر سامان اٹھایا اور روشن میناروں کی سمت چل پڑے، ایک صندوق اٹھاتا، دس بیس قدم آگے بڑھتا اور صندوق یہیں چھوڑ کر دوسرا صندوق لاتا ، اور فریدہ باری باری وزنی تھیلے اٹھاتی آگے بڑھتی رہی ، دست و بازو شل ہوگئے اور ٹانگیں تھک کر چور ہو گئیں ؛لیکن جذبۂ شوق اپنے اوج پر اور امنگیں اپنے جوبن پر ہیں، اتنی قربت ، اتنی دوری، آخر ہانپتے کانپتے ، وزن اٹھائے ہوئے آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہے، جامع نبوی کے زیر سایہ کھلے میدان میں آگئے اور وہیں سامان رکھا،پھر اسی میدان میں عورتوں کی صفوں کے پاس ہی فریدہ کو سامان کے پاس قریب ہی بٹھا دیا۔ یہ وہی میدان ہے جو تعمیر کے مراحل سے تیزی کے ساتھ گزر کر حرم نبوی کا حصہ بن جائے گا۔ فریدہ کو تاکید کی کہ اگر نماز قائم ہوگئی تو میرا انتظار کئے بغیر شریک نماز ہوجانا۔ میں پانی کی تلاش میں نکلا کہ وضو کر سکوں ، دائیں بائیں بے چین ہو کر اور ڈرتے ہوئے کہ اسی تگ و دو میں کہیں نماز نہ نکل جائے ، ہر سو بھاگا لیکن افسوس پانی نہ مل سکا۔ حضرت سیدہ ہاجرہ کی دوڑیں ایک بار پھر یاد آ گئیں۔ اور پھر بیت اللہ کے زریں نقوش ذہن کے پردہ پر ابھرنے لگے ۔ آخر زمین پر بیٹھا اور تیم کرلیا۔ اتنے میں نماز فجر کا آغاز ہوا، شمولیت نماز کے لئے بے اختیار ہو کر بھاگا۔ اور دورانِ سفر مانگی ہوئی دعا بارگاہ الہی میں ہاتھوں ہاتھ شرف قبولیت سے نوازدی گئی۔ ایجاب و قبول کی تازہ کرامت! سبحان اللہ، وہ علیم و بصیر اور رحمان و رحیم سب کی سنتا اور ضرور سنتا ہے۔ یہ اپنا ایمان بھی ہے اور آزمائی ہوئی بات بھی۔ اور اسی بارگاہ ذوالجلال سے نوازے ہوئے ایک فقیر گوشہ نشین نے کیا سچ کہا ہے:
یک صبح با اخلاص بیا بر در من
گر کار تو بر نیاید آنگہ گلہ کن
( صحن حرم، صفحہ: ۱۱۳، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤1
مطالعہ کتب ، کیوں اور کس طرح۔۔۔(۴) ۔۔۔ ہم مطالعہ کیوں کریں؟
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
قوت حافظہ کے متعلق جو باتیں ابھی بیان ہوئیں، اس سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ کسی انسان کا جب تک کسی چیز کو یاد رکھنے کا عزم مصمم نہ ہو اور انہیں یاد رکھنے کے لئے قوانین قدرت کا لحاظ نہ رکھا جائے تو پھر پڑھی ہوئی چیز کا ہمیشہ ذہن میں محفوظ رہنا ضروری نہیں،لہٰذا ایک تاجر کی طرح اپنے سرمایہ کی حفاظت اور ترقی کی فکر کرنا ، ایک فطری تقاضہ ہے۔ جب ہم مطالعہ کی افایت پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اس سلسلے کی مزید چند باتیں معلوم ہوتی ہیں،جن میں سے چند یہ ہیں کہ:
• مطالعہ علم کی کنجی ہے۔
• مطالعہ سے دنیا و آخرت میں انسان کی سربلندی ہوتی ہے۔
• مطالعہ گزرے زمانے کی اقوام کے حالات جاننے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
• مطالعہ قوم وملت کے دشمنوں کی چالوں کو جاننے کا آلہ ہے۔
• مطالعہ بور نہ کرنےوالا ساتھی ہے، اس سے روح کی تسکین ہوتی ہے۔
• مطالعہ خالی اوقات کے استعمال کامفیدذریعہ ہے۔
• مطالعہ اجر عظیم اور بہت ثواب پانے کا سبب ہے۔
مطالعہ سے مستفید ہونے کے پیشگی اصول:
• اخلاص…مطالعہ کا واضح ہدف و مقصد
• اہل علم سے مشورہ و استفسار
• مطالعہ کی ترتیب
• یہ کہ ہر چیز پڑھنے کے قابل نہیں ہوتی۔
• مطالعہ استفادہ اور سیدھی راہ پر استقامت کے لئے ہے۔
• مطالعہ ایک جہاد ہے صرف خواہش اورچاہت نہیں ہے۔
• مطالعہ کسی کام کی صلاحیت اور ارادہ کا نام ہے۔
• مطالعہ فن اور مہارت کا نام ہے۔
مطالعہ کی راہ میں حائل رکاوٹیں:
• دنیا کی ترغیبات میں مشغولیت، جن میں اب موبائل اور سوشل میڈیا کی مصروفیت سرفہرست آگئی ہے۔
• ہمت اور حوصلہ میں کمی۔
• کور فہمی۔
مطالعہ میں غلطیاں سرزد ہونے کے اسباب:
• جہالت۔
• مطالعہ میں تیز رفتاری
• ناسمجھی اور کور فہمی۔
• مضمون کی خرابی۔
• زبان و الفاظ پر عبور کی کمی۔
مطالعہ کتب سے دور رہنے کے اسباب:
• مطالعہ سے جلد بور ہونا اور صبر وبرداشت کی کمی اور کسی کام کو جم کر کرنے کی عادت کا نہ ہونا۔
• مطالعہ کی قدرو قیمت اور فضیلت نہ جاننا۔
• کتاب اور موضوع کتاب کا طویل ہونا۔
• مطالعہ کی ابتدا میں غلطی،آسان کتابوں سے پہلے قدیم امہات الکتب سے اپنے مطالعہ کا آغاز کرنا۔
• کتاب کی زبان اور مضمون کے معیار کاسمجھ سے بالاتر ہونا۔
• کتاب میں مکرر استعمال ہونے والی اصطلاحات سے لاعلمی۔
• دوست واحباب اور ہم جولیوں میں مطالعہ پر ابھارنے والوں کی کمی۔
• بھاری بھرکم مفید کتابوں کی جگہ دبلے پتلے اخبارات اور پرچوں میں دلچسپی لینا۔
• مطالعتی زندگی کی ابتدا میں اس کے لائق افراد سے مشورہ نہ کرنا، یا جو اس کے لائق نہیں ہیں ان سے مشورہ لینا۔
• زبان وبیان کے قواعد سے لاعلمی اور اسالیب بیان سے ناواقفیت۔
• مطالعہ سے بدکنا اور اپنی فکر کو مرکوز نہ رکھنا۔
• پست حوصلگی اور نیچ چیزوں کو پسند کرنا۔
• لہو ولعب میں پڑنا۔
• موبائل انٹرنٹ سوشل میڈیا ، میوزک اورویڈیو زسے چمٹے رہنا۔
(جاری)
WA:00919741136475
https://telegram.me/ilmokitab
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
قوت حافظہ کے متعلق جو باتیں ابھی بیان ہوئیں، اس سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ کسی انسان کا جب تک کسی چیز کو یاد رکھنے کا عزم مصمم نہ ہو اور انہیں یاد رکھنے کے لئے قوانین قدرت کا لحاظ نہ رکھا جائے تو پھر پڑھی ہوئی چیز کا ہمیشہ ذہن میں محفوظ رہنا ضروری نہیں،لہٰذا ایک تاجر کی طرح اپنے سرمایہ کی حفاظت اور ترقی کی فکر کرنا ، ایک فطری تقاضہ ہے۔ جب ہم مطالعہ کی افایت پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اس سلسلے کی مزید چند باتیں معلوم ہوتی ہیں،جن میں سے چند یہ ہیں کہ:
• مطالعہ علم کی کنجی ہے۔
• مطالعہ سے دنیا و آخرت میں انسان کی سربلندی ہوتی ہے۔
• مطالعہ گزرے زمانے کی اقوام کے حالات جاننے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
• مطالعہ قوم وملت کے دشمنوں کی چالوں کو جاننے کا آلہ ہے۔
• مطالعہ بور نہ کرنےوالا ساتھی ہے، اس سے روح کی تسکین ہوتی ہے۔
• مطالعہ خالی اوقات کے استعمال کامفیدذریعہ ہے۔
• مطالعہ اجر عظیم اور بہت ثواب پانے کا سبب ہے۔
مطالعہ سے مستفید ہونے کے پیشگی اصول:
• اخلاص…مطالعہ کا واضح ہدف و مقصد
• اہل علم سے مشورہ و استفسار
• مطالعہ کی ترتیب
• یہ کہ ہر چیز پڑھنے کے قابل نہیں ہوتی۔
• مطالعہ استفادہ اور سیدھی راہ پر استقامت کے لئے ہے۔
• مطالعہ ایک جہاد ہے صرف خواہش اورچاہت نہیں ہے۔
• مطالعہ کسی کام کی صلاحیت اور ارادہ کا نام ہے۔
• مطالعہ فن اور مہارت کا نام ہے۔
مطالعہ کی راہ میں حائل رکاوٹیں:
• دنیا کی ترغیبات میں مشغولیت، جن میں اب موبائل اور سوشل میڈیا کی مصروفیت سرفہرست آگئی ہے۔
• ہمت اور حوصلہ میں کمی۔
• کور فہمی۔
مطالعہ میں غلطیاں سرزد ہونے کے اسباب:
• جہالت۔
• مطالعہ میں تیز رفتاری
• ناسمجھی اور کور فہمی۔
• مضمون کی خرابی۔
• زبان و الفاظ پر عبور کی کمی۔
مطالعہ کتب سے دور رہنے کے اسباب:
• مطالعہ سے جلد بور ہونا اور صبر وبرداشت کی کمی اور کسی کام کو جم کر کرنے کی عادت کا نہ ہونا۔
• مطالعہ کی قدرو قیمت اور فضیلت نہ جاننا۔
• کتاب اور موضوع کتاب کا طویل ہونا۔
• مطالعہ کی ابتدا میں غلطی،آسان کتابوں سے پہلے قدیم امہات الکتب سے اپنے مطالعہ کا آغاز کرنا۔
• کتاب کی زبان اور مضمون کے معیار کاسمجھ سے بالاتر ہونا۔
• کتاب میں مکرر استعمال ہونے والی اصطلاحات سے لاعلمی۔
• دوست واحباب اور ہم جولیوں میں مطالعہ پر ابھارنے والوں کی کمی۔
• بھاری بھرکم مفید کتابوں کی جگہ دبلے پتلے اخبارات اور پرچوں میں دلچسپی لینا۔
• مطالعتی زندگی کی ابتدا میں اس کے لائق افراد سے مشورہ نہ کرنا، یا جو اس کے لائق نہیں ہیں ان سے مشورہ لینا۔
• زبان وبیان کے قواعد سے لاعلمی اور اسالیب بیان سے ناواقفیت۔
• مطالعہ سے بدکنا اور اپنی فکر کو مرکوز نہ رکھنا۔
• پست حوصلگی اور نیچ چیزوں کو پسند کرنا۔
• لہو ولعب میں پڑنا۔
• موبائل انٹرنٹ سوشل میڈیا ، میوزک اورویڈیو زسے چمٹے رہنا۔
(جاری)
WA:00919741136475
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
*بات سے بات: 30 مئی یا 31 مئی*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
کل دارالعلوم دیوبند کے تاریخ قیام کی انگریزی تاریخ میں اختلاف پر طویل بحثوں کو دیکھ کر خواہ مخواہ خامہ بگوش کا ایک کالم "علامہ اقبال کے گھوڑے کا شجرہ نسب" بہت یاد آیا۔ ہماری رائے میں اس موضوع کو اتنا گنجلگ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ویسے ہم نے بھی کچھ وقت نکال کر اس سلسلے میں کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی۔ اور چند ایک کتابیں بھی تلاش کیں۔
اردو میں ہجری تقویم کے گریگوری تقویم سے موازنہ کے موضوع پر دو کتابیں ہماری نظر سے گذری ہیں۔ ان میں سے
مولانا عبد القدوس ہاشمی کی "تقویم تاریخی" کے مطابق
یکم محرم 1283ھ چہار شنبہ 16 مئی 1877ء کو پڑتا ہے۔
اس لحاظ سے 15 محرم 1283ھ بروز چہار شنبہ 30 مئی 1866ء کو ہونا چاہئے۔
ایک دوسری کتاب ضیاء الدین لاہوری کی "جوہر تقویم" کے مطابق یکم جون 1866ء بروز جمعہ 17 محرم 1283ء کو آتا ہے۔ اس لحاظ سے 15 محرم 1283ء مطابق چہارشنبہ 30 مئی 1866ء کو آتا ہے۔
ہم نے اس موضوع پر عربی زبان کی دو اور کتابوں سے بھی یہ تاریخیں جاننے کی کوشش کی، لیکن بد قسمتی سے ان میں صرف سالوں کے موازنہ کا اہتمام ہے۔ تاریخ اور مہینے کا نہیں۔لہذا یہ ہمارے کام کی نہیں تھیں۔
یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ عموما عالم عرب میں ہجری تاریخیں ہندوستان سے ایک دن پہلے ہوتی ہیں، اس لحاظ سے 15 محرم 1283ھ گریگوری حساب سے کم از کم ایک روز پہلے29 مئی ہونا چاہئے۔ ایک دن زیادہ ہوکر 31 ہونے کا امکان کم ہے۔ عرب کی تاریخوں میں ایک دن ہندوستان سے کم ہوسکتا ہے، زیادہ نہیں۔ لہذا 31 مئی کی تاریخ درست معلوم نہیں ہوتی۔
میں دار العلوم کی تاریخ پر لکھی گئی تاریخوں کے استناد اور فضیلت کی بحث میں پڑنا نہیں چاہتا، سبھی ہمارے محترم ہیں، لیکن کتب تاریخ کے استناد کے سلسلہ میں یہ اصول عموما پایا جاتا ہے کہ کتاب عہد سے جتنی قریب ہوگی اور مورخ لکھنے میں جتنا آزاد ہوگا، اور اس پر دباؤ کم ہوگا اس کو زیادہ زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے۔
2026-05-31
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
کل دارالعلوم دیوبند کے تاریخ قیام کی انگریزی تاریخ میں اختلاف پر طویل بحثوں کو دیکھ کر خواہ مخواہ خامہ بگوش کا ایک کالم "علامہ اقبال کے گھوڑے کا شجرہ نسب" بہت یاد آیا۔ ہماری رائے میں اس موضوع کو اتنا گنجلگ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ویسے ہم نے بھی کچھ وقت نکال کر اس سلسلے میں کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی۔ اور چند ایک کتابیں بھی تلاش کیں۔
اردو میں ہجری تقویم کے گریگوری تقویم سے موازنہ کے موضوع پر دو کتابیں ہماری نظر سے گذری ہیں۔ ان میں سے
مولانا عبد القدوس ہاشمی کی "تقویم تاریخی" کے مطابق
یکم محرم 1283ھ چہار شنبہ 16 مئی 1877ء کو پڑتا ہے۔
اس لحاظ سے 15 محرم 1283ھ بروز چہار شنبہ 30 مئی 1866ء کو ہونا چاہئے۔
ایک دوسری کتاب ضیاء الدین لاہوری کی "جوہر تقویم" کے مطابق یکم جون 1866ء بروز جمعہ 17 محرم 1283ء کو آتا ہے۔ اس لحاظ سے 15 محرم 1283ء مطابق چہارشنبہ 30 مئی 1866ء کو آتا ہے۔
ہم نے اس موضوع پر عربی زبان کی دو اور کتابوں سے بھی یہ تاریخیں جاننے کی کوشش کی، لیکن بد قسمتی سے ان میں صرف سالوں کے موازنہ کا اہتمام ہے۔ تاریخ اور مہینے کا نہیں۔لہذا یہ ہمارے کام کی نہیں تھیں۔
یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ عموما عالم عرب میں ہجری تاریخیں ہندوستان سے ایک دن پہلے ہوتی ہیں، اس لحاظ سے 15 محرم 1283ھ گریگوری حساب سے کم از کم ایک روز پہلے29 مئی ہونا چاہئے۔ ایک دن زیادہ ہوکر 31 ہونے کا امکان کم ہے۔ عرب کی تاریخوں میں ایک دن ہندوستان سے کم ہوسکتا ہے، زیادہ نہیں۔ لہذا 31 مئی کی تاریخ درست معلوم نہیں ہوتی۔
میں دار العلوم کی تاریخ پر لکھی گئی تاریخوں کے استناد اور فضیلت کی بحث میں پڑنا نہیں چاہتا، سبھی ہمارے محترم ہیں، لیکن کتب تاریخ کے استناد کے سلسلہ میں یہ اصول عموما پایا جاتا ہے کہ کتاب عہد سے جتنی قریب ہوگی اور مورخ لکھنے میں جتنا آزاد ہوگا، اور اس پر دباؤ کم ہوگا اس کو زیادہ زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے۔
2026-05-31
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1👍1
Mr Sid
آفتاب غروب ہوا، قرینۂ وثوق میں دل کہتا ہے کہ: آج خاکیوں کی رسائی افلاکیوں تک ہوگئی ہوگی،ان ساکنان خطۂ خاک پر کروبیوں اور آسمانی مخلوق رشک کرتے ہوں گے،ان کی زبانوں پر آبشاری نغمے، بدن پر آبی قطرات،آنکھوں سے برستے محسوسات،قلوب میں امڈتے جذبات،اوج فلک تک پہونچنے…
الوداع رب کے مہمانو!
✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی
حضرت ابراہیم کی زبانی رب کے اعلان سرمدی پر لبیک کہنے والے وارفتگئ شوق میں، دیوانہ وار، ننگے سر، برہنہ پا،پریشان حال، گرد و غبار میں اٹے، لق دق صحراؤں، جنگلوں، شور مچاتے دریاؤں، خاموش سمندروں، ویران جزیروں سے ہوتے ہوئے، عاشقانہ رنگ میں رنگے، درویشانہ آہنگ لیے، مستانوں کی چال سے، کوئی آہستہ روی سے، کوئی سرعت رفتاری سے کعبۂ مقدس کے طواف کو آیا، لاکھوں پروانوں کا اس شمع ہدایت کے ارد گرد ازدحام،کبھی زمزم سے صدیوں کی پیاس بجھائی جارہی ہے، کبھی صفا مروہ میں دوڑا جارہا ہے،کبھی عرفات کے میدان میں دعائیں، کبھی مزدلفہ میں چرخ نیلی فام کی چھت تلے شب گزاری،کبھی منیٰ میں ازلی دشمن پر سنگ باری، کبھی منحر میں سنت ابراہیمی، پھر ظاہری نجاستوں، میل کچیلوں سے پاکی،اور باطنی نجاستوں سے طہارت کے لیے توبہ و استغفار کے زمزم سے غسل، کبھی بابرکت پہاڑوں پر چڑھا جارہا ہے، بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں سے ملا جارہا ہے، ہر رنگ کا ابن آدم اور بنت حواء یہاں موجود، سب کے سب رحمان کے مہمان، سب کی ضیافت رحمان کے دستر خوان پر، اس کو دیکھو میزبان کے بیت اعلی کی دیواروں سے رخسار لگائے، اِس کو دیکھو غلاف کعبہ سے بدن مس کیے، اُن کو دیکھو ہر مقام مقدس کو بوسے، اِن کو دیکھو حطیم کی باڑ پر سر رکھے لرزہ براندام، وہ دیکھو ہزاروں ہاتھ دعا میں اٹھے، یہ دیکھو جان کی پرواہ کیے بغیر حجر اسود کو چومنے کی دھن سوار،
ابھی قلب کو ذرا سکون و قرار ملا ہی تھا کہ اعلان رخصتی ہوگیا، صدائے رحیل بلند ہوئی، کہ اے میری دعوت قبول کرنے والو! لو اب وقت رخصت ہے، ان امکنہ سے وداعی لو! معلوم ہے کہ ان در و دیوار سے جی نہیں بھرا ہوگا، یہاں کا جمال نگاہون میں بس گیا ہوگا، واپسی ملک کی طرف ہے، سفر وطن کا ہے،رخصت مکہ سے ہے، لیکن یاد رہے آپ اب حج کی ذمہ داریوں کے ساتھ لوٹ رہے ہیں، اب عقائید، عبادات، معاملات، معاشرت، اور اخلاقیات میں سب سے نمایاں نظر آنا! میرے دین کی خدمت کو جزو زندگی بنانا! تم کو کیا معلوم؟ زندگی کب گزرجائے! نبض حیات کا کیا بھروسہ؟ لہذا جیسے صاف و شستہ یہاں سے جارہے ہو، اللہ کے رنگ میں رنگین ہوکر، اپنی حالت گزشتہ بدل کر لوٹ رہے ہو اس رنگ کو پھیکا پڑنے نہ دینا! حالت تدین میں ضعف نہ پیدا ہونے دینا، شیطان کو سنگ بار کرچکے، اب دوبارہ اس کے دوست نہ بننا،منظر عرفہ نے حشر کا سا سماں باندھا تھا، یاد رکھنا اصل حشر میں اسی طرح رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے، سوالات کے مرحلے سے گزرنا ہے، اپنی دنیا فانی میں عود کرکے اصل منزل آخرت سے غافل نہ ہوجانا!
كل شيء هالك الا وجهه، له الحكم وإليه ترجعون،
✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی
حضرت ابراہیم کی زبانی رب کے اعلان سرمدی پر لبیک کہنے والے وارفتگئ شوق میں، دیوانہ وار، ننگے سر، برہنہ پا،پریشان حال، گرد و غبار میں اٹے، لق دق صحراؤں، جنگلوں، شور مچاتے دریاؤں، خاموش سمندروں، ویران جزیروں سے ہوتے ہوئے، عاشقانہ رنگ میں رنگے، درویشانہ آہنگ لیے، مستانوں کی چال سے، کوئی آہستہ روی سے، کوئی سرعت رفتاری سے کعبۂ مقدس کے طواف کو آیا، لاکھوں پروانوں کا اس شمع ہدایت کے ارد گرد ازدحام،کبھی زمزم سے صدیوں کی پیاس بجھائی جارہی ہے، کبھی صفا مروہ میں دوڑا جارہا ہے،کبھی عرفات کے میدان میں دعائیں، کبھی مزدلفہ میں چرخ نیلی فام کی چھت تلے شب گزاری،کبھی منیٰ میں ازلی دشمن پر سنگ باری، کبھی منحر میں سنت ابراہیمی، پھر ظاہری نجاستوں، میل کچیلوں سے پاکی،اور باطنی نجاستوں سے طہارت کے لیے توبہ و استغفار کے زمزم سے غسل، کبھی بابرکت پہاڑوں پر چڑھا جارہا ہے، بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں سے ملا جارہا ہے، ہر رنگ کا ابن آدم اور بنت حواء یہاں موجود، سب کے سب رحمان کے مہمان، سب کی ضیافت رحمان کے دستر خوان پر، اس کو دیکھو میزبان کے بیت اعلی کی دیواروں سے رخسار لگائے، اِس کو دیکھو غلاف کعبہ سے بدن مس کیے، اُن کو دیکھو ہر مقام مقدس کو بوسے، اِن کو دیکھو حطیم کی باڑ پر سر رکھے لرزہ براندام، وہ دیکھو ہزاروں ہاتھ دعا میں اٹھے، یہ دیکھو جان کی پرواہ کیے بغیر حجر اسود کو چومنے کی دھن سوار،
ابھی قلب کو ذرا سکون و قرار ملا ہی تھا کہ اعلان رخصتی ہوگیا، صدائے رحیل بلند ہوئی، کہ اے میری دعوت قبول کرنے والو! لو اب وقت رخصت ہے، ان امکنہ سے وداعی لو! معلوم ہے کہ ان در و دیوار سے جی نہیں بھرا ہوگا، یہاں کا جمال نگاہون میں بس گیا ہوگا، واپسی ملک کی طرف ہے، سفر وطن کا ہے،رخصت مکہ سے ہے، لیکن یاد رہے آپ اب حج کی ذمہ داریوں کے ساتھ لوٹ رہے ہیں، اب عقائید، عبادات، معاملات، معاشرت، اور اخلاقیات میں سب سے نمایاں نظر آنا! میرے دین کی خدمت کو جزو زندگی بنانا! تم کو کیا معلوم؟ زندگی کب گزرجائے! نبض حیات کا کیا بھروسہ؟ لہذا جیسے صاف و شستہ یہاں سے جارہے ہو، اللہ کے رنگ میں رنگین ہوکر، اپنی حالت گزشتہ بدل کر لوٹ رہے ہو اس رنگ کو پھیکا پڑنے نہ دینا! حالت تدین میں ضعف نہ پیدا ہونے دینا، شیطان کو سنگ بار کرچکے، اب دوبارہ اس کے دوست نہ بننا،منظر عرفہ نے حشر کا سا سماں باندھا تھا، یاد رکھنا اصل حشر میں اسی طرح رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے، سوالات کے مرحلے سے گزرنا ہے، اپنی دنیا فانی میں عود کرکے اصل منزل آخرت سے غافل نہ ہوجانا!
كل شيء هالك الا وجهه، له الحكم وإليه ترجعون،
❤2
*سچی باتیں (16؍دسمبر 1940ء)۔۔۔ محمد بن قاسم کی فتح مندیاں*
’’تاریخ ہند‘‘ کا مشہور انگریز مصنف الفنسٹن آپ کا دشمن ہے، دوست نہیں۔ لیکن بات اچھی اور سچی ممکن ہے کہ کبھی دشمن کی زبان سے بھی اداہوجائے۔ اوراُسے رد اس بنا پر نہیں کیاجاسکتا کہ اُسے پیش کرنے والی زبان دوست کی نہیں۔ سنئے وہ محمدبن قاسمؒ کی حیرت انگیز فتح مندیوں کے بعد، ہندوستان کے اندر رفتار اسلام کے قدم سُست پڑجانے کے با ب میں کیا کہتاہے:-
’’ان کی (ہندوستان کے مسلمان تاجداروں کی) حکومت کی روح رفتہ رفتہ بدلتی گئی۔ ان کے امیر اور سردار، پُرجوش دینی مبلّغوں کے بجائے، مہذب بادشاہ ہونے لگے، جنھیں دین کی تبلیغ سے کہیں زیادہ اہتمام اپنے خاندان کے اعزاز کا رہتاتھا۔ اور اسی نسبت سے رفتہ رفتہ وہ لوگ بجائے کھُرّے سپاہیوں کے عیش پسند اور’’شاندار رئیس‘‘ بن گئے، جن کے مشاغل ، جنگ کے علاوہ کچھ اور تھے اور جن کی دلچسپیاں فتح کے علاوہ کچھ اور تھیں۔(حضرت )عمرؓ کا یہ حال تھا کہ جب بیت المقدس اپنے لشکر کے پاس روانہ ہوئے ہیں، تو اپنا سامان اور سامانِ جنگ سب اُسی اپنے اونٹ پر لادے ہوئے تھے۔ اور (حضرت) عثمانؓ کا طریقہ یہ تھا، کہ شام کو جب سرکاری کام ختم ہوجاتا، تو چراغ بُجھادیتے، کہ قوم کے روپیہ کاتیل اپنے ذاتی صرف میں نہ آئے۔ لیکن ان کے بعد ابھی پورے سو برس بھی نہ گزرنے پائے تھے، کہ خلیفہ مہدی نے برف اور یخ پانچ پانچ سو اونٹوں پر لدوادیا! اورعباسی خلفاء کے ایک ایک دن کی شاہ خرچیاں مساوی انھیں خلفاء اربعہ کے جملہ مصارف کے! اسی طرح مامونؔ کے زمانہ میں فلاسفۂ یونان کی کتابوں کے ترجمے بھی اُسی روح سے بہت ہی دور تھے، جو (حضرت) عمرؓ کے تباہی کتبخانۂ اسکندریہ کے قصہ کے عقب میں تھی‘‘۔ (ص: 313)
ماضی کو چھوڑئیے ، حال کو لیجئے۔ آ ج بھی بعینہ وہی نقشہ قائم ہے یا نہیں؟ بلکہ اُس وقت سے کہیں زیادہ قوت وشدت کے ساتھ۔ تاجداروں،بادشاہوں کوالگ کیجئے۔ امراء کے تنعم اور عیش پسندیوں کا کیا عالم ہے؟ کوئی مناسبت اُن کے دسترخوان کی وسعتوں کو، اُن کے کھانے کی میز کی رنگارنگ نعمتوں کو سرور کائناتؐ کی نیم گرسنہ عادت مبارک سے، یا صدیقؓ وفاروقؓ کے فقروفاقہ سے، عثمانؓ وعلیؓ کے موٹے جھوٹے کھانوں سے ہے؟ اوربڑے امراء سے بھی قطع نظر کیجئے، اوسط درجہ کے سفید پوشوں کے ہاں وہ وہ تکلفات کھانوں کے ملتے ہیں، کہ عہد رسالت میں بڑے بڑے خوشحال صحابیوں کے حصہ میں بھی کبھی کیوں آئے ہوں گے؟ اور ایک کھانے ہی پر کیا موقوف ہے، عیش پسندی بلکہ عیش پرستی سے ہمارا کون سا گوشۂ زندگی خالی ہے؟ تکلفات اور حد سے بڑھے ہوئے تکلفات سے ہماری معاشرت کا کون سا شعبہ بچاہوا ہے؟ چند قدم پیدل ہم چل نہیں سکتے، برف کے بغیر جی ہم نہیں سکتے، چائے کے بغیر زندگی ہماری محال ہے، حقہ وپان، سگریٹ کے بغیر قدم ہم نہیں اُٹھا سکتے۔ دھوپ ہم نہیں سَہ سکتے، سنیما، تھیٹر، ریڈیو کے بغیر رات ہم نہیں بسر کرسکتے……تبلیغی زندگی، اللہ کے سپاہی کی زندگی، ہماری اس اختیار کی ہوئی زندگی سے کہیں بھی جوڑ کھاسکتی ہے؟
دوسرا فتنہ، اس عملی فتنہ سے بھی بڑھ کر قیامت خیز، عقلی واعتقادی فتنہ ہے۔ غیروں کے ’’علوم وفنون‘‘ سے مرعوبیت کا فتنہ! کل غلامی تھی ارسطو اور افلاطون کی، اقلیدس اور محیطی کی، اور کوششیں یہ تھیں کہ اپنے ہاں کے ’’منقول‘‘ کو جلد سے جلد یونان کے ’’معقول‘‘ نامعقول سے مطابقت دے دی جائے! علوم ثابت مالوجی کو اندھوں کے ظن وتخمین کے ماتحت لے آیا جائے! روشنی کو کسی نہ کسی طرح تاریکی کے ہم رنگ کردکھایاجائے! اسی پر فخر تھا، اور یہ گویا ایک بڑی خدمتِ دین تھی!……کل یونان تھا، آج یورپ ہے۔ پہلے سے سوگُنی اور ہزار گُنی بڑھی ہوئی عقیدت کے ساتھ آج بھی سرگرمِ کوشش ہے،کہ ڈارون اور مل کی تعلیمات سے ہمارے بچّے اور ہمارے بوڑھے کہیں محروم نہ رہ جائیں۔ کارل مارکس اور لینن کا نقالی ہم نے ہوبہ ہو نہ کرلی، تو کچھ بھی نہ کیا! اور ساری ’’ترقیوں‘‘ اور ’’روشن خیالیوں‘‘ کا خلاصہ یہ آٹھہرا ہے ، کہ جسم کی جِلد، چہرہ کہ ہیئت ، اور لباس کی وضع سے لے کر دماغ کا ایک ایک ریشہ، قلب کی گہرائیوں کا ایک ایک گوشہ، روس یا امریکہ، برطانیہ یا فرانس، جرمنی یا اٹلی، بہرحال فرنگ زار ہی کے کسی نہ کسی خطّہ کا آئینہ ہوکر رہ جائے!
https://telegram.me/ilmokitab
’’تاریخ ہند‘‘ کا مشہور انگریز مصنف الفنسٹن آپ کا دشمن ہے، دوست نہیں۔ لیکن بات اچھی اور سچی ممکن ہے کہ کبھی دشمن کی زبان سے بھی اداہوجائے۔ اوراُسے رد اس بنا پر نہیں کیاجاسکتا کہ اُسے پیش کرنے والی زبان دوست کی نہیں۔ سنئے وہ محمدبن قاسمؒ کی حیرت انگیز فتح مندیوں کے بعد، ہندوستان کے اندر رفتار اسلام کے قدم سُست پڑجانے کے با ب میں کیا کہتاہے:-
’’ان کی (ہندوستان کے مسلمان تاجداروں کی) حکومت کی روح رفتہ رفتہ بدلتی گئی۔ ان کے امیر اور سردار، پُرجوش دینی مبلّغوں کے بجائے، مہذب بادشاہ ہونے لگے، جنھیں دین کی تبلیغ سے کہیں زیادہ اہتمام اپنے خاندان کے اعزاز کا رہتاتھا۔ اور اسی نسبت سے رفتہ رفتہ وہ لوگ بجائے کھُرّے سپاہیوں کے عیش پسند اور’’شاندار رئیس‘‘ بن گئے، جن کے مشاغل ، جنگ کے علاوہ کچھ اور تھے اور جن کی دلچسپیاں فتح کے علاوہ کچھ اور تھیں۔(حضرت )عمرؓ کا یہ حال تھا کہ جب بیت المقدس اپنے لشکر کے پاس روانہ ہوئے ہیں، تو اپنا سامان اور سامانِ جنگ سب اُسی اپنے اونٹ پر لادے ہوئے تھے۔ اور (حضرت) عثمانؓ کا طریقہ یہ تھا، کہ شام کو جب سرکاری کام ختم ہوجاتا، تو چراغ بُجھادیتے، کہ قوم کے روپیہ کاتیل اپنے ذاتی صرف میں نہ آئے۔ لیکن ان کے بعد ابھی پورے سو برس بھی نہ گزرنے پائے تھے، کہ خلیفہ مہدی نے برف اور یخ پانچ پانچ سو اونٹوں پر لدوادیا! اورعباسی خلفاء کے ایک ایک دن کی شاہ خرچیاں مساوی انھیں خلفاء اربعہ کے جملہ مصارف کے! اسی طرح مامونؔ کے زمانہ میں فلاسفۂ یونان کی کتابوں کے ترجمے بھی اُسی روح سے بہت ہی دور تھے، جو (حضرت) عمرؓ کے تباہی کتبخانۂ اسکندریہ کے قصہ کے عقب میں تھی‘‘۔ (ص: 313)
ماضی کو چھوڑئیے ، حال کو لیجئے۔ آ ج بھی بعینہ وہی نقشہ قائم ہے یا نہیں؟ بلکہ اُس وقت سے کہیں زیادہ قوت وشدت کے ساتھ۔ تاجداروں،بادشاہوں کوالگ کیجئے۔ امراء کے تنعم اور عیش پسندیوں کا کیا عالم ہے؟ کوئی مناسبت اُن کے دسترخوان کی وسعتوں کو، اُن کے کھانے کی میز کی رنگارنگ نعمتوں کو سرور کائناتؐ کی نیم گرسنہ عادت مبارک سے، یا صدیقؓ وفاروقؓ کے فقروفاقہ سے، عثمانؓ وعلیؓ کے موٹے جھوٹے کھانوں سے ہے؟ اوربڑے امراء سے بھی قطع نظر کیجئے، اوسط درجہ کے سفید پوشوں کے ہاں وہ وہ تکلفات کھانوں کے ملتے ہیں، کہ عہد رسالت میں بڑے بڑے خوشحال صحابیوں کے حصہ میں بھی کبھی کیوں آئے ہوں گے؟ اور ایک کھانے ہی پر کیا موقوف ہے، عیش پسندی بلکہ عیش پرستی سے ہمارا کون سا گوشۂ زندگی خالی ہے؟ تکلفات اور حد سے بڑھے ہوئے تکلفات سے ہماری معاشرت کا کون سا شعبہ بچاہوا ہے؟ چند قدم پیدل ہم چل نہیں سکتے، برف کے بغیر جی ہم نہیں سکتے، چائے کے بغیر زندگی ہماری محال ہے، حقہ وپان، سگریٹ کے بغیر قدم ہم نہیں اُٹھا سکتے۔ دھوپ ہم نہیں سَہ سکتے، سنیما، تھیٹر، ریڈیو کے بغیر رات ہم نہیں بسر کرسکتے……تبلیغی زندگی، اللہ کے سپاہی کی زندگی، ہماری اس اختیار کی ہوئی زندگی سے کہیں بھی جوڑ کھاسکتی ہے؟
دوسرا فتنہ، اس عملی فتنہ سے بھی بڑھ کر قیامت خیز، عقلی واعتقادی فتنہ ہے۔ غیروں کے ’’علوم وفنون‘‘ سے مرعوبیت کا فتنہ! کل غلامی تھی ارسطو اور افلاطون کی، اقلیدس اور محیطی کی، اور کوششیں یہ تھیں کہ اپنے ہاں کے ’’منقول‘‘ کو جلد سے جلد یونان کے ’’معقول‘‘ نامعقول سے مطابقت دے دی جائے! علوم ثابت مالوجی کو اندھوں کے ظن وتخمین کے ماتحت لے آیا جائے! روشنی کو کسی نہ کسی طرح تاریکی کے ہم رنگ کردکھایاجائے! اسی پر فخر تھا، اور یہ گویا ایک بڑی خدمتِ دین تھی!……کل یونان تھا، آج یورپ ہے۔ پہلے سے سوگُنی اور ہزار گُنی بڑھی ہوئی عقیدت کے ساتھ آج بھی سرگرمِ کوشش ہے،کہ ڈارون اور مل کی تعلیمات سے ہمارے بچّے اور ہمارے بوڑھے کہیں محروم نہ رہ جائیں۔ کارل مارکس اور لینن کا نقالی ہم نے ہوبہ ہو نہ کرلی، تو کچھ بھی نہ کیا! اور ساری ’’ترقیوں‘‘ اور ’’روشن خیالیوں‘‘ کا خلاصہ یہ آٹھہرا ہے ، کہ جسم کی جِلد، چہرہ کہ ہیئت ، اور لباس کی وضع سے لے کر دماغ کا ایک ایک ریشہ، قلب کی گہرائیوں کا ایک ایک گوشہ، روس یا امریکہ، برطانیہ یا فرانس، جرمنی یا اٹلی، بہرحال فرنگ زار ہی کے کسی نہ کسی خطّہ کا آئینہ ہوکر رہ جائے!
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
*وفیات مورخہ: 1/جون*
1748ء میر قمر الدین خان صدیقی۔ نظام الملک آصف جاہ اول ۔ حیدر آباد دکن
1961ء محمد حسن امرتسری۔ مولانا ، مفتی، بانی جامعہ اشرفیہ لاہور
1962ء شیدا لکھنوی (سید محمد نظیر )۔
1963ء محمد سلیمان بدایونی۔
1977ء سید سعید احمد ہاشمی۔ کرنل
1978ء خلیل الرحمٰن عظمی۔ ڈاکٹر ، شاعر ، نقاد
1979ء اسعداللہ رامپوری مظاہری۔ حضرت مولانا، ناظم مظاہر علوم سہارنپور
1987ء خواجہ احمد عباس۔ ادیب ومکالمہ نگار
1991ء سید رضا لقمان امروہوی۔ مولانا
1993ء شاہد تھانوی۔
1995ء برگ یوسفی (شفیع اللہ خان)۔
1995ء شفیع اللہ خان۔ برگ یوسفی ،
1996ء نیلم سنجیوا ریڈی۔ صدر ہند
2003ء شاہین بدر (سید محمد ابو ہاشم عابدین)۔
2003ء فضل فتح پوری (سید افضال حسین نقوی)۔
2006ء حنیف رامے۔
2007ء ناصر علی ندوی۔ مولانا، استاد فقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
2013ء ریاض الرحمن ساغر۔ شاعر
2019ء بشیر فاروقی ( بشیر الدین احمد)۔
2020ء آصف فرخی۔ ادیب
2021ء نواب ابن سعید خان آف چھتاری۔
2021ء فیض الوحید۔ مولانا مفتی
2021ء احمد سعید خان۔
Https://telegram.me/ilmokitab
WA +9741136475
1748ء میر قمر الدین خان صدیقی۔ نظام الملک آصف جاہ اول ۔ حیدر آباد دکن
1961ء محمد حسن امرتسری۔ مولانا ، مفتی، بانی جامعہ اشرفیہ لاہور
1962ء شیدا لکھنوی (سید محمد نظیر )۔
1963ء محمد سلیمان بدایونی۔
1977ء سید سعید احمد ہاشمی۔ کرنل
1978ء خلیل الرحمٰن عظمی۔ ڈاکٹر ، شاعر ، نقاد
1979ء اسعداللہ رامپوری مظاہری۔ حضرت مولانا، ناظم مظاہر علوم سہارنپور
1987ء خواجہ احمد عباس۔ ادیب ومکالمہ نگار
1991ء سید رضا لقمان امروہوی۔ مولانا
1993ء شاہد تھانوی۔
1995ء برگ یوسفی (شفیع اللہ خان)۔
1995ء شفیع اللہ خان۔ برگ یوسفی ،
1996ء نیلم سنجیوا ریڈی۔ صدر ہند
2003ء شاہین بدر (سید محمد ابو ہاشم عابدین)۔
2003ء فضل فتح پوری (سید افضال حسین نقوی)۔
2006ء حنیف رامے۔
2007ء ناصر علی ندوی۔ مولانا، استاد فقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
2013ء ریاض الرحمن ساغر۔ شاعر
2019ء بشیر فاروقی ( بشیر الدین احمد)۔
2020ء آصف فرخی۔ ادیب
2021ء نواب ابن سعید خان آف چھتاری۔
2021ء فیض الوحید۔ مولانا مفتی
2021ء احمد سعید خان۔
Https://telegram.me/ilmokitab
WA +9741136475
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Mr Sid
سلسلہ نمبر: 315 انتخاب مطالعہ تحریر: شگفتہ جاہ *برداشت* سقراط کی درس گاہ کا صرف ایک اصول تھا ، اور وہ تھا برداشت، یہ لوگ ایک دوسرے کے خیالات تحمل کے ساتھ سنتے تھے، یہ بڑے سے بڑے اختلاف پر بھی ایک دوسرے سے الجھتے نہیں تھے ، سقراط کی درس گاہ کا اصول تھا اس…
سلسلہ نمبر : 316
انتخاب مطالعہ
تحریر: پروفیسر سردار گرودت سنگھ دؔارا ( جی ایس دارا )
*اشارۂ روانگی*
جس شخص کی محنت کا صلہ اور مشقت کا ثمرہ اس کی اپنی حیات میں اسے قدرت اس طرح مہیا کردے، جس انسان کی آتما کو یہ کامل تسلی و تشفی ہوجائے کہ وہ مقصد جس کے لیے ذات حق نے اسے دنیا میں بھیجا تھا، وہ پورا ہوچکا ہے،ایسے انسان کے اطمینان قلبی کا اظہار وہ خود ہی کرے اور کون کر سکتا ہے، جب نبی اللہ ﷺ اس خوش نصیبی سے بہرہ ور ہوچکے تو نزول آیت ہوئی،جو بشارت روانگی کی رکھی تھی۔
*نزول آیت نسبت روانگی*
{اليوم اكملت لكم دينكم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت
لكم الاسلام دينا}
ترجمہ: ”آج میں نے تم لوگوں کے لیے تمہارا دین مکمل کردیا، اپنی نعمت تم پر پوری کی اور تمہارے لیے دین اسلام میں نے پسند کیا۔“
اس وحی سے اشارہ عیاں تھا کہ جس مدعا کے لیے آنحضرت دنیا میں بھیجے گئے تھے، وہ پوری ہو چکا ہے، یہ امر قوی دلیل اس بات کی رکھتا تھا کہ آپ ﷺ کا وقت اب قریب ہے اور کہ اس دنیا میں آپ ﷺ کے دن ختم ہونے والے ہیں،آپ ﷺ نے جبل عرفات پر جاکر مسلمانوں سے مخاطب ہوکے فرمایا:
”اے اہل اسلام! شاید میں اگلے سال تم میں نہ ہوؤں گا، اب جو کچھ کہتا ہوں کان لگاکے سنو اور دل سے اس پر توجہ کرو!جس طرح یہ مہینہ اور خاص کر یہ دن آبادی میں تم لوگوں کے لیے مقدس ہے، اسی طرح ہر مسلمان پر دوسرے کا مال اور عزت و آبرو اور جان و مال مقدس ہے، مسلمانو! یہ یاد رکھو! کہ قیامت کے دن تم سب کو اپنے خدا کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا، وہ اس وقت تمہارے تمام افعال اور جملہ حرکات و سکنات کا حساب کتاب لے گا، دیکھو! عورتوں کے ساتھ کبھی بدسلوکی نہ کرنا، ان سے ہمیشہ مہربانی کے ساتھ پیش آنا، غلاموں کو وہ آسائش دینا جو تم اپنے آپ کو دیتے ہو، اگر ان سے کوئی خطا ہوجائے تو در گزر کرنا، یادر ہے!کہ کُل مسلمان آپس میں بھائی ہیں، دیکھو! کوئی ایک دوسرے کی حق تلفی نہ کرے۔
*الوداعي حج*
؎ کوئی ایسی طرز طواف تو، مجھے اے چراغ حرم بتا!
کہ تیرے پتنگ کو پھر عطا ہو، وہی سرشت سمندری
کرم اے شہ عرب و عجم ، کہ کھڑے ہیں منتظر کرم
وہ گدا کہ تو نے عطا کیا ہے جنہیں دماغ سکندری
حقیقت میں آنکھ کو اب اپنی روانگی سامنے نظر آرہی تھی ، چنانچہ آپ ﷺ نے حرم محترم کے درشن کیلیے الودعی حج کا ارادہ کیا اور مع قافلہ مدینہ سے مکہ کو روانہ ہو پڑے،وہ شخص جس نے تین روز ایک غار میں بسیرا کرکے اپنی جان بچائی تھی، وہ بشر جسے مشرکان مکہ نے اچھوت قرار دے دیا تھا، وہ انسان جس کا مکہ کے شہر میں داخلہ بند کردیا گیا تھا،وہ آدمی جسے قتل کرنے کے لیے سو سو اونٹ اور ہزار ہزار سکہ چاندی کے انعام رکھے جاتے تھے، وہ بےکس جسے اینٹ پتھر مار مار کر لوگ اس کے جسم سے خون بہا دیا کرتے تھے،یہ ہے وہ انسان جو آج مکہ حج کرنے کو جا رہا ہے،اس مکہ میں آج اس ہی کے پیچھے سوالاکھ عابد میدان عرفات میں سر جھکائے، آنکھیں نوائے،ہاتھ باندھے، حق کے حضور میں کھڑا ہے، شاہ و گدا بلا امتیاز ایک ہی وضع کا بلا سلا کپڑا اوڑھے، ایک ہی خیال کے پابند ، ایک ہی خدا واحد کے حضور میں ، ایک ہی سجدے میں سر جھکائے کھڑے ہیں، یہ ہے مسئلہ مساوات اور یہ ہیں اسلام کی برکات۔
؎ آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز
قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قؔوم حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے مؔحمود و اؔیاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بنده و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تری سرکار میں پہونچے، تو سبھی ایک ہوئے
( رسول عربیؐ، صفحہ: 141، طبع: شاہد پبلیکیشنز، اینڈ بُک سیلر،ملتان)
✍🏻... محمد عدنان وقار صؔدیقی
انتخاب مطالعہ
تحریر: پروفیسر سردار گرودت سنگھ دؔارا ( جی ایس دارا )
*اشارۂ روانگی*
جس شخص کی محنت کا صلہ اور مشقت کا ثمرہ اس کی اپنی حیات میں اسے قدرت اس طرح مہیا کردے، جس انسان کی آتما کو یہ کامل تسلی و تشفی ہوجائے کہ وہ مقصد جس کے لیے ذات حق نے اسے دنیا میں بھیجا تھا، وہ پورا ہوچکا ہے،ایسے انسان کے اطمینان قلبی کا اظہار وہ خود ہی کرے اور کون کر سکتا ہے، جب نبی اللہ ﷺ اس خوش نصیبی سے بہرہ ور ہوچکے تو نزول آیت ہوئی،جو بشارت روانگی کی رکھی تھی۔
*نزول آیت نسبت روانگی*
{اليوم اكملت لكم دينكم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت
لكم الاسلام دينا}
ترجمہ: ”آج میں نے تم لوگوں کے لیے تمہارا دین مکمل کردیا، اپنی نعمت تم پر پوری کی اور تمہارے لیے دین اسلام میں نے پسند کیا۔“
اس وحی سے اشارہ عیاں تھا کہ جس مدعا کے لیے آنحضرت دنیا میں بھیجے گئے تھے، وہ پوری ہو چکا ہے، یہ امر قوی دلیل اس بات کی رکھتا تھا کہ آپ ﷺ کا وقت اب قریب ہے اور کہ اس دنیا میں آپ ﷺ کے دن ختم ہونے والے ہیں،آپ ﷺ نے جبل عرفات پر جاکر مسلمانوں سے مخاطب ہوکے فرمایا:
”اے اہل اسلام! شاید میں اگلے سال تم میں نہ ہوؤں گا، اب جو کچھ کہتا ہوں کان لگاکے سنو اور دل سے اس پر توجہ کرو!جس طرح یہ مہینہ اور خاص کر یہ دن آبادی میں تم لوگوں کے لیے مقدس ہے، اسی طرح ہر مسلمان پر دوسرے کا مال اور عزت و آبرو اور جان و مال مقدس ہے، مسلمانو! یہ یاد رکھو! کہ قیامت کے دن تم سب کو اپنے خدا کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا، وہ اس وقت تمہارے تمام افعال اور جملہ حرکات و سکنات کا حساب کتاب لے گا، دیکھو! عورتوں کے ساتھ کبھی بدسلوکی نہ کرنا، ان سے ہمیشہ مہربانی کے ساتھ پیش آنا، غلاموں کو وہ آسائش دینا جو تم اپنے آپ کو دیتے ہو، اگر ان سے کوئی خطا ہوجائے تو در گزر کرنا، یادر ہے!کہ کُل مسلمان آپس میں بھائی ہیں، دیکھو! کوئی ایک دوسرے کی حق تلفی نہ کرے۔
*الوداعي حج*
؎ کوئی ایسی طرز طواف تو، مجھے اے چراغ حرم بتا!
کہ تیرے پتنگ کو پھر عطا ہو، وہی سرشت سمندری
کرم اے شہ عرب و عجم ، کہ کھڑے ہیں منتظر کرم
وہ گدا کہ تو نے عطا کیا ہے جنہیں دماغ سکندری
حقیقت میں آنکھ کو اب اپنی روانگی سامنے نظر آرہی تھی ، چنانچہ آپ ﷺ نے حرم محترم کے درشن کیلیے الودعی حج کا ارادہ کیا اور مع قافلہ مدینہ سے مکہ کو روانہ ہو پڑے،وہ شخص جس نے تین روز ایک غار میں بسیرا کرکے اپنی جان بچائی تھی، وہ بشر جسے مشرکان مکہ نے اچھوت قرار دے دیا تھا، وہ انسان جس کا مکہ کے شہر میں داخلہ بند کردیا گیا تھا،وہ آدمی جسے قتل کرنے کے لیے سو سو اونٹ اور ہزار ہزار سکہ چاندی کے انعام رکھے جاتے تھے، وہ بےکس جسے اینٹ پتھر مار مار کر لوگ اس کے جسم سے خون بہا دیا کرتے تھے،یہ ہے وہ انسان جو آج مکہ حج کرنے کو جا رہا ہے،اس مکہ میں آج اس ہی کے پیچھے سوالاکھ عابد میدان عرفات میں سر جھکائے، آنکھیں نوائے،ہاتھ باندھے، حق کے حضور میں کھڑا ہے، شاہ و گدا بلا امتیاز ایک ہی وضع کا بلا سلا کپڑا اوڑھے، ایک ہی خیال کے پابند ، ایک ہی خدا واحد کے حضور میں ، ایک ہی سجدے میں سر جھکائے کھڑے ہیں، یہ ہے مسئلہ مساوات اور یہ ہیں اسلام کی برکات۔
؎ آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز
قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قؔوم حجاز
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے مؔحمود و اؔیاز
نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز
بنده و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تری سرکار میں پہونچے، تو سبھی ایک ہوئے
( رسول عربیؐ، صفحہ: 141، طبع: شاہد پبلیکیشنز، اینڈ بُک سیلر،ملتان)
✍🏻... محمد عدنان وقار صؔدیقی
❤1
Mr Sid
*کاروانِ شوق دیار حبیب میں* ✍🏻... یونس بصیر آج دسمبر 1974ء کی ستائیس (27) اور ایام تشریق کا آخری دن ہے، رات کا سماں، فضا قدرے خنک، ٹیکسی میں کل چھ نفر، پندرہ منٹ اوپر دس پر ٹیکسی چلی، ہم نے سفر کی دعائیں پڑھیں، اور پھر درود و سلام کا سلسلہ دراز ہوا، چھوٹتے…
*کاروان عشق مدینہ میں*
✍🏻... یونس بصیر
ہم دونوں کو فجر کی نماز الحمد لله جماعت کے ساتھ مل گئی، شہر رسول مقبول میں پہلی سحر اور جامع نبوی میں پہلی نماز یہ رتبہ بلند ملا جس کو ملا ، فراغت نماز کے بعد فریدہ کو مزید تھوڑی دیر کے لئے فراموش کیا! اور خود شہر رسول کے پاکستانی ہوٹل کی سمت چل پڑا، اب سپیدۂ صبح بھی ساری فضا کو اپنی ضیا باریوں سے منور کرچکا تھا، مالک ہوٹل سے مکان کے لئے بات کی ، اس اللہ والے نے ایک ایجنٹ کا پتہ دیا جو کہ ملتان کا رہنے والا تھا، اور پاکسـ.ـتانی بھائی تھا، آخر بابِ مجید یہ کی طرف بڑھتا ہوا مدینۃ الرسول کے مشہور و معروف اور پاکسـ.ـتانیوں کے مابین ہر دل عزیز معلم جناب سید حیدر الحیدری صاحب کے دفتر پہنچا،ان سے ملا، بات چیت ہوئی، ایسا شیریں گفتار، مرنجان مرنج ، من موہنی صورت اور بردبار انسان شاید ہی پہلے کبھی آنکھوں نے دیکھا ہو! صاحب جلال بھی اور جمال بھی، مدینۃ النبی کے روایتی گداز و حلم کا جیتا جاگتا ثبوت ، نرم خوئی، محبت اور جذبہ اخوت کی جیتی جاگتی تصویر، یہ پیکر عجز وانکسار خود بھی خلیق و ہمدرد اور اس کے رفیقان کار بھی مونس و غمخوار ۔ مکہ شریف کے معلمین اور ان کے ایجنٹوں کی ضد، جگہ کے لئے پریشانی کا اظہار کیا، اس نیک دل نے تسلی دی، حوصلہ بڑھایا تھکن دور ہوئی اور غم آشیاں کافور ہوا،خوشی خوشی واپس آیا اور اُم صفوان بارگاہ قدوس میں سجدہ ریزیوں کے بعد محو ذکر تھی اور سردی کے مارے نیلگوں ہو رہی تھی۔ ہم نے سامان اٹھایا اور معلم موصوف کے دفتر آئے، دم لیا ، دانت صاف کئے ـ
فریدہ نے ایک عورت سے کمبل مانگ کر اپنے ٹھٹھرتے ہوئے جسم کو اچھی طرح ڈھانپ لیا، معلم صاحب کے کارندوں نے اپنی عمارت کے وہ کمرے دکھائے جو ابھی تک خالی پڑے تھے ، کرایہ کی زیادتی اور ساتھیوں کا نہ ہونا سد راہ بنے ۔ اب دن کے اجالوں نے رات کے اندھیروں کا پوری طرح صفایا کردیا تھا اور مدینہ الرسول میں آنے والوں کی تعداد و کثرت ہر آن بڑھنے لگی ،اتنے میں دو (میاں بیوی ) ملتان کے رہنے والے بزرگ، جو کہ زندگی میں دوسری بار بیس سال کے بعد حرم کعبہ اور حرم نبوی میں داخل ہوئے تھے۔ زہے نصیب، اور ایک انتہائی شریف پاکستانی نوجوان ، انگلینڈ سے کمر ہمت باندھے، دوسری بار حج کی سعادتوں سے بہرہ مند ہوئے تھے۔ وہ بھی کمرہ لینے کے لئے ہمارے ساتھ مل گئے ۔ اب ہم مل کر مکان لینے والے پانچ ساتھی بن گئے تھے ۔ ہم پانچوں ساتھیوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ معلم کی عمارت سے باہر کوئی مکان دیکھ لیں۔ اللہ مسبب الاسباب ہے۔ اللہ رب العزت نے یہاں بھی ہماری یاوری کی اور ہمارا مسئلہ رہائش صبح آٹھ بج تک حل ہوگیا۔ ہمیں محلہ مجیدیہ میں جامع نبوی کے بالکل قریب دوسری منزل پر ایک کشادہ کمرہ مل گیا جو روشنی،ہوا، پانی اور دیگر ضروریات کے لحاظ سے بہترین تھا۔
سامان اٹھایا اور چل دیئے ۔ کمرہ پر قبضہ کیا ، ناشتہ کا سامان اور چولھے کیلئے تیل خریدا۔ پھر ناشتہ تیار کیا گیا۔ ناشتے سے جسم میں توانائی عود کر آئی اور چائے نے رگ وریشے میں حرارت پیدا کی، مدینہ شریف کا موسم نہایت سرد تھا، مدینہ الرسول میں رہائش مکہ شریف کی نسبت بہت سستی مل جاتی ہے ؛لیکن ہر جگہ رہائش کے لئے چند اچھے ساتھیوں کو ساتھ ملالینا بہت ہی فائدہ مند رہتا ہے،نماز فجر کے بعد چونکہ مکان کی فکر میں لگ گئے تھے، اس لئے ابھی تک روضہ اطہر پر درود وسلام کے ہدیے پیش نہ کرپائے تھے؛ لہذا وضو کیا اور حرم نبوی میں یہ دعا پڑھتے ہوئے(: ”اللهم افتح لى أَبْوَابَ رَحمَتِكَ “ اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے!) داخل ہوئے۔
سب سے پہلے تحیۃ المسجد کے دو نفل پڑھے، جو صبح نماز سے پہلے ، اور نہ بعد میں اب تک پڑھ پائے تھے۔ دوگانہ کے بعد اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس کی عنایت خاص سے ہم دوسری بار مسجد نبوی میں اللہ کے حضور جبیں سائی کا شرف حاصل کر رہے ہیں اور پھر نہایت ادب و احترام اور خاموشی کے ساتھ مواجہہ شریف میں سلام کہا اور پھر درود و صلوۃ کا نذرانہ پیشِ رسول کیا ؛کہ اے بار خدایا رحمتیں بھیج اور برکتیں نازل فرما محمد بن عبداللہ پر اور آل رسول پر، برکتوں کا انداز اور رحمتوں کا رنگ وہی ہو جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر پیہم برستی اور پھر آل ابراہیم پر لگاتار سایۂ فگن رہیں اور درود و سلام وہی پڑھنا چاہیے کہ جو صاحب روضہ اطہر نے خود سکھایا ہے یعنی: السلام عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ” اے نبی اکرم! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔“
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى
✍🏻... یونس بصیر
ہم دونوں کو فجر کی نماز الحمد لله جماعت کے ساتھ مل گئی، شہر رسول مقبول میں پہلی سحر اور جامع نبوی میں پہلی نماز یہ رتبہ بلند ملا جس کو ملا ، فراغت نماز کے بعد فریدہ کو مزید تھوڑی دیر کے لئے فراموش کیا! اور خود شہر رسول کے پاکستانی ہوٹل کی سمت چل پڑا، اب سپیدۂ صبح بھی ساری فضا کو اپنی ضیا باریوں سے منور کرچکا تھا، مالک ہوٹل سے مکان کے لئے بات کی ، اس اللہ والے نے ایک ایجنٹ کا پتہ دیا جو کہ ملتان کا رہنے والا تھا، اور پاکسـ.ـتانی بھائی تھا، آخر بابِ مجید یہ کی طرف بڑھتا ہوا مدینۃ الرسول کے مشہور و معروف اور پاکسـ.ـتانیوں کے مابین ہر دل عزیز معلم جناب سید حیدر الحیدری صاحب کے دفتر پہنچا،ان سے ملا، بات چیت ہوئی، ایسا شیریں گفتار، مرنجان مرنج ، من موہنی صورت اور بردبار انسان شاید ہی پہلے کبھی آنکھوں نے دیکھا ہو! صاحب جلال بھی اور جمال بھی، مدینۃ النبی کے روایتی گداز و حلم کا جیتا جاگتا ثبوت ، نرم خوئی، محبت اور جذبہ اخوت کی جیتی جاگتی تصویر، یہ پیکر عجز وانکسار خود بھی خلیق و ہمدرد اور اس کے رفیقان کار بھی مونس و غمخوار ۔ مکہ شریف کے معلمین اور ان کے ایجنٹوں کی ضد، جگہ کے لئے پریشانی کا اظہار کیا، اس نیک دل نے تسلی دی، حوصلہ بڑھایا تھکن دور ہوئی اور غم آشیاں کافور ہوا،خوشی خوشی واپس آیا اور اُم صفوان بارگاہ قدوس میں سجدہ ریزیوں کے بعد محو ذکر تھی اور سردی کے مارے نیلگوں ہو رہی تھی۔ ہم نے سامان اٹھایا اور معلم موصوف کے دفتر آئے، دم لیا ، دانت صاف کئے ـ
فریدہ نے ایک عورت سے کمبل مانگ کر اپنے ٹھٹھرتے ہوئے جسم کو اچھی طرح ڈھانپ لیا، معلم صاحب کے کارندوں نے اپنی عمارت کے وہ کمرے دکھائے جو ابھی تک خالی پڑے تھے ، کرایہ کی زیادتی اور ساتھیوں کا نہ ہونا سد راہ بنے ۔ اب دن کے اجالوں نے رات کے اندھیروں کا پوری طرح صفایا کردیا تھا اور مدینہ الرسول میں آنے والوں کی تعداد و کثرت ہر آن بڑھنے لگی ،اتنے میں دو (میاں بیوی ) ملتان کے رہنے والے بزرگ، جو کہ زندگی میں دوسری بار بیس سال کے بعد حرم کعبہ اور حرم نبوی میں داخل ہوئے تھے۔ زہے نصیب، اور ایک انتہائی شریف پاکستانی نوجوان ، انگلینڈ سے کمر ہمت باندھے، دوسری بار حج کی سعادتوں سے بہرہ مند ہوئے تھے۔ وہ بھی کمرہ لینے کے لئے ہمارے ساتھ مل گئے ۔ اب ہم مل کر مکان لینے والے پانچ ساتھی بن گئے تھے ۔ ہم پانچوں ساتھیوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ معلم کی عمارت سے باہر کوئی مکان دیکھ لیں۔ اللہ مسبب الاسباب ہے۔ اللہ رب العزت نے یہاں بھی ہماری یاوری کی اور ہمارا مسئلہ رہائش صبح آٹھ بج تک حل ہوگیا۔ ہمیں محلہ مجیدیہ میں جامع نبوی کے بالکل قریب دوسری منزل پر ایک کشادہ کمرہ مل گیا جو روشنی،ہوا، پانی اور دیگر ضروریات کے لحاظ سے بہترین تھا۔
سامان اٹھایا اور چل دیئے ۔ کمرہ پر قبضہ کیا ، ناشتہ کا سامان اور چولھے کیلئے تیل خریدا۔ پھر ناشتہ تیار کیا گیا۔ ناشتے سے جسم میں توانائی عود کر آئی اور چائے نے رگ وریشے میں حرارت پیدا کی، مدینہ شریف کا موسم نہایت سرد تھا، مدینہ الرسول میں رہائش مکہ شریف کی نسبت بہت سستی مل جاتی ہے ؛لیکن ہر جگہ رہائش کے لئے چند اچھے ساتھیوں کو ساتھ ملالینا بہت ہی فائدہ مند رہتا ہے،نماز فجر کے بعد چونکہ مکان کی فکر میں لگ گئے تھے، اس لئے ابھی تک روضہ اطہر پر درود وسلام کے ہدیے پیش نہ کرپائے تھے؛ لہذا وضو کیا اور حرم نبوی میں یہ دعا پڑھتے ہوئے(: ”اللهم افتح لى أَبْوَابَ رَحمَتِكَ “ اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے!) داخل ہوئے۔
سب سے پہلے تحیۃ المسجد کے دو نفل پڑھے، جو صبح نماز سے پہلے ، اور نہ بعد میں اب تک پڑھ پائے تھے۔ دوگانہ کے بعد اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس کی عنایت خاص سے ہم دوسری بار مسجد نبوی میں اللہ کے حضور جبیں سائی کا شرف حاصل کر رہے ہیں اور پھر نہایت ادب و احترام اور خاموشی کے ساتھ مواجہہ شریف میں سلام کہا اور پھر درود و صلوۃ کا نذرانہ پیشِ رسول کیا ؛کہ اے بار خدایا رحمتیں بھیج اور برکتیں نازل فرما محمد بن عبداللہ پر اور آل رسول پر، برکتوں کا انداز اور رحمتوں کا رنگ وہی ہو جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر پیہم برستی اور پھر آل ابراہیم پر لگاتار سایۂ فگن رہیں اور درود و سلام وہی پڑھنا چاہیے کہ جو صاحب روضہ اطہر نے خود سکھایا ہے یعنی: السلام عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ” اے نبی اکرم! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔“
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى
❤1
Mr Sid
*کاروانِ شوق دیار حبیب میں* ✍🏻... یونس بصیر آج دسمبر 1974ء کی ستائیس (27) اور ایام تشریق کا آخری دن ہے، رات کا سماں، فضا قدرے خنک، ٹیکسی میں کل چھ نفر، پندرہ منٹ اوپر دس پر ٹیکسی چلی، ہم نے سفر کی دعائیں پڑھیں، اور پھر درود و سلام کا سلسلہ دراز ہوا، چھوٹتے…
إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .
اے اللہ رحمت بھیج حضرت محمد پر اور اوپر آل محمد کے، جیسے رحمت بھیجی تونے حضرت ابراہیم پر اور اوپر آل ابراہیم کے، بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے،اے اللہ برکت نازل کر حضرت محمد پر اور اوپر آل محمد کے جیسے برکت نازل کی تو نے ابراہیم پر اور اوپر آل ابراہیم کے۔ بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے۔“
روضہ اطہر پر اپنی فصاحت و بلاغت اور چرب زبانی کو ہرگز کام میں نہیں لانا چاہیے۔ بڑا ہی نازک مقام ہے اور انہیں اندیشوں کے تحت کسی عارف باللہ نے کیا خوب پتے کی بات کہی ہے :
با خدا دیوانہ باش و با محمد ہشیار باش!!
ادب و احترام اور احتیاط کے ساتھ زبان کو حرکت میں لائیں! پہلے سو دفعہ سوچیں پھر کچھ بولیں! وہ بھی نہایت دھیمی آواز میں،یہاں آواز کو بلند کرنا اور شور مچانا سوء ادب ہے، ادب و احتیاط کی مزید تاکید کرتے ہوئے کسی نیک دل اور درویش شاعر نے کیا خوب نصیحت کی ہے:
ادب گاہیست زیر آسمان از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید، جنید و بایزید ایں جا
آج اسی نبئ رحمت اور فخر موجودات، خلاصۂ کائنات اور سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس پر کھڑے ہیں کہ جس کی بعثت سے پہلے پوری دنیا ضلالت و گمراہی اور تاریکی و ظلمات کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہی تھی اور نکبت و ادبار اور ظلم و جہالت، شرک والحاد کے تاریک بادل ہر سو چھائے ہوئے تھے،باطل کے طوفانی جھکڑ شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک تباہی و بربادی کا پیغام لئے زوروں پر چل رہے تھے۔ باطل کے یہ طوفانی جھکڑ اور جہالت کی یہ آندھیاں شمعِ توحید کو ہمیشہ کے لئے گل کردینا چاہتی ہیں؛مگر مشیت ایزدی اور قانون فطرت کی منشا کچھ اور ہی معلوم ہوتی ہے،باطل کو آخر کار حق کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہی پڑیں گے ،کفر و شرک فسق و فجور ظلم وستم اور خون و خوں ریزی کا دور دورہ تھا، ہر طرف بدی کا راج، ہر جانب شر کے شرارے،صفحۂ ہستی پہ بسنے والے اپنے رب سے نا آشنا ہوکر کئی رب بنا بیٹھے تھے،کوئی لات و منات کا شیدا، تو کوئی عزی وھبل پہ فدا، کوئی دیوتاؤں کا قائل، تو کوئی شمس و قمر پہ مائل، کچھ آگ کو یزداں بنا بیٹھے، اور بعض درختوں کے زیر سایہ انہی سے لولگا بیٹھے، کوئی سانپ کی زہرناکیوں کے باوجود اس کا ہو بیٹھا، کوئی تثلیث کی مثلث میں گرفتار ہوا، تو کوئی موسیٰ و عزیر کو معبود بنا بیٹھا، کوئی دریاؤں کی روانی میں محو ہوکر پوجا کے پھول بہتے ہوئے پانیوں کی نذر کرتا رہا، اور تو اور ارضِ خدا پر اللہ کا پہلا گھر جو تو حید والوہیت اور نور و ھدی کا سر چشمہ اور سید نا ابراہیم خلیل اللہ کی ایمانی و تعمیری کاوشوں کا مظہر تھا، مختلف خداؤں سے بھر دیا گیا، روشِ آذری کا ہر جگہ چلن ہوا، اور رنگ ابراہیمی شرک کے گرد و غبار اور کفر کے اندھیاروں میں تھوڑی دیر کے لئے چھپ گیا ۔ آخر کب تک؟
حضرت انسان سب کو جانتا اور پہچانتا تھا، اگر کسی کو نہیں جانتا تھا تو وہ قادر مطلق کی ہستی تھی، حضرت مولانا مودودی نے ضعیف العقیدہ لوگوں کی کیا خوب تصویر کشی کی ہے: ”اندھیرے میں بھٹکنے والوں کا ہاتھ جس چیز پر بھی پڑگیا وہ خدا بنائی گئی“ـ
روئے زمین پر اگر کوئی اللہ کو خالق ، مالک، رازق اور رب مانتا بھی تھا ، وہ بھی شراکت کے ساتھ، اللہ کی ذات میں کسی کو شریک بنا لینا مشرک کے لئے کوئی بڑی بات نہیں! مشرکین کے زعم میں یہ خدا نہیں ؛بلکہ خدا کے ہاں ان کے سفارشی ہیں، اللہ رب العزت سب کے گناہ معاف کرسکتے ہیں اور ان شاء اللہ کر بھی دیں گے ؛مگر مشرک کو کبھی نہیں بخشیں گے، یہ اٹل فیصلہ ہے!! مشرکین جو جگہ جگہ ماتھا ٹیکتے ہیں اور اکیلے رب کو نہیں مانتے ، ایک مواحد شاعر نے دعوت وارشاد اور تبلیغ کا کیا اچھوتا انداز اختیار کیا ہے!
تا چند کہ از چوب کہ از سنگ تراشی
بگزر بخدا کہ صد رنگ تراشی
( صحن حرم، صفحہ: 116،طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
اے اللہ رحمت بھیج حضرت محمد پر اور اوپر آل محمد کے، جیسے رحمت بھیجی تونے حضرت ابراہیم پر اور اوپر آل ابراہیم کے، بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے،اے اللہ برکت نازل کر حضرت محمد پر اور اوپر آل محمد کے جیسے برکت نازل کی تو نے ابراہیم پر اور اوپر آل ابراہیم کے۔ بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے۔“
روضہ اطہر پر اپنی فصاحت و بلاغت اور چرب زبانی کو ہرگز کام میں نہیں لانا چاہیے۔ بڑا ہی نازک مقام ہے اور انہیں اندیشوں کے تحت کسی عارف باللہ نے کیا خوب پتے کی بات کہی ہے :
با خدا دیوانہ باش و با محمد ہشیار باش!!
ادب و احترام اور احتیاط کے ساتھ زبان کو حرکت میں لائیں! پہلے سو دفعہ سوچیں پھر کچھ بولیں! وہ بھی نہایت دھیمی آواز میں،یہاں آواز کو بلند کرنا اور شور مچانا سوء ادب ہے، ادب و احتیاط کی مزید تاکید کرتے ہوئے کسی نیک دل اور درویش شاعر نے کیا خوب نصیحت کی ہے:
ادب گاہیست زیر آسمان از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید، جنید و بایزید ایں جا
آج اسی نبئ رحمت اور فخر موجودات، خلاصۂ کائنات اور سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس پر کھڑے ہیں کہ جس کی بعثت سے پہلے پوری دنیا ضلالت و گمراہی اور تاریکی و ظلمات کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہی تھی اور نکبت و ادبار اور ظلم و جہالت، شرک والحاد کے تاریک بادل ہر سو چھائے ہوئے تھے،باطل کے طوفانی جھکڑ شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک تباہی و بربادی کا پیغام لئے زوروں پر چل رہے تھے۔ باطل کے یہ طوفانی جھکڑ اور جہالت کی یہ آندھیاں شمعِ توحید کو ہمیشہ کے لئے گل کردینا چاہتی ہیں؛مگر مشیت ایزدی اور قانون فطرت کی منشا کچھ اور ہی معلوم ہوتی ہے،باطل کو آخر کار حق کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہی پڑیں گے ،کفر و شرک فسق و فجور ظلم وستم اور خون و خوں ریزی کا دور دورہ تھا، ہر طرف بدی کا راج، ہر جانب شر کے شرارے،صفحۂ ہستی پہ بسنے والے اپنے رب سے نا آشنا ہوکر کئی رب بنا بیٹھے تھے،کوئی لات و منات کا شیدا، تو کوئی عزی وھبل پہ فدا، کوئی دیوتاؤں کا قائل، تو کوئی شمس و قمر پہ مائل، کچھ آگ کو یزداں بنا بیٹھے، اور بعض درختوں کے زیر سایہ انہی سے لولگا بیٹھے، کوئی سانپ کی زہرناکیوں کے باوجود اس کا ہو بیٹھا، کوئی تثلیث کی مثلث میں گرفتار ہوا، تو کوئی موسیٰ و عزیر کو معبود بنا بیٹھا، کوئی دریاؤں کی روانی میں محو ہوکر پوجا کے پھول بہتے ہوئے پانیوں کی نذر کرتا رہا، اور تو اور ارضِ خدا پر اللہ کا پہلا گھر جو تو حید والوہیت اور نور و ھدی کا سر چشمہ اور سید نا ابراہیم خلیل اللہ کی ایمانی و تعمیری کاوشوں کا مظہر تھا، مختلف خداؤں سے بھر دیا گیا، روشِ آذری کا ہر جگہ چلن ہوا، اور رنگ ابراہیمی شرک کے گرد و غبار اور کفر کے اندھیاروں میں تھوڑی دیر کے لئے چھپ گیا ۔ آخر کب تک؟
حضرت انسان سب کو جانتا اور پہچانتا تھا، اگر کسی کو نہیں جانتا تھا تو وہ قادر مطلق کی ہستی تھی، حضرت مولانا مودودی نے ضعیف العقیدہ لوگوں کی کیا خوب تصویر کشی کی ہے: ”اندھیرے میں بھٹکنے والوں کا ہاتھ جس چیز پر بھی پڑگیا وہ خدا بنائی گئی“ـ
روئے زمین پر اگر کوئی اللہ کو خالق ، مالک، رازق اور رب مانتا بھی تھا ، وہ بھی شراکت کے ساتھ، اللہ کی ذات میں کسی کو شریک بنا لینا مشرک کے لئے کوئی بڑی بات نہیں! مشرکین کے زعم میں یہ خدا نہیں ؛بلکہ خدا کے ہاں ان کے سفارشی ہیں، اللہ رب العزت سب کے گناہ معاف کرسکتے ہیں اور ان شاء اللہ کر بھی دیں گے ؛مگر مشرک کو کبھی نہیں بخشیں گے، یہ اٹل فیصلہ ہے!! مشرکین جو جگہ جگہ ماتھا ٹیکتے ہیں اور اکیلے رب کو نہیں مانتے ، ایک مواحد شاعر نے دعوت وارشاد اور تبلیغ کا کیا اچھوتا انداز اختیار کیا ہے!
تا چند کہ از چوب کہ از سنگ تراشی
بگزر بخدا کہ صد رنگ تراشی
( صحن حرم، صفحہ: 116،طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤1
ایک موضوع پر مضمون کیسے تیار ہوتا ہے؟
علامہ سید سلیمان ندویؒ، سید وحید احمد قیصر ندوی مرحوم کو ایک خط میں لکھتے ہیں:
کسی مضمون کے لیے مواد ملنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی مطالعہ کرتا رہتا ہے، اس میں کسی خاص قسم کی بات جب متعدد پاتا ہے تو اس کو نوٹ کرتا جاتا ہے۔ پھر مزید تلاش سے اُس قسم کے واقعات ملتے ہیں تو ایک موضوع پر مضمون تیار ہوجاتا ہے۔
(خطوطِ سلیمانی، صفحہ: ١٦٦/١٦٧/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
علامہ سید سلیمان ندویؒ، سید وحید احمد قیصر ندوی مرحوم کو ایک خط میں لکھتے ہیں:
کسی مضمون کے لیے مواد ملنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی مطالعہ کرتا رہتا ہے، اس میں کسی خاص قسم کی بات جب متعدد پاتا ہے تو اس کو نوٹ کرتا جاتا ہے۔ پھر مزید تلاش سے اُس قسم کے واقعات ملتے ہیں تو ایک موضوع پر مضمون تیار ہوجاتا ہے۔
(خطوطِ سلیمانی، صفحہ: ١٦٦/١٦٧/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1