علم و کتاب
7.97K subscribers
1.14K photos
84 videos
2.38K files
6.27K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
Khaatir
دار العلوم دیوبند کی گریگورین تاریخِ تاسیس: 30 مئی یا 31 مئی 1866ء؟ ایک ماخذی جائزہ https://t.me/ilmokitab دار العلوم دیوبند کی تاریخِ تاسیس کے بارے میں سب سے قدیم اور بنیادی مآخذ میں صرف قمری تاریخ ملتی ہے۔ دار العلوم کی اولین روداد (1283ھ) جو خود سنہ 1866ء…
نوٹ: انگریز وقائع نگار جان جیمز بانڈ (John James Bond؛ متوفی: 1883ء) نے 1875ء میں لندن سے پہلی بار شائع اپنی کتاب ”ہینڈی بُک آف رولز اینڈ ٹیبلز فار ویریفائنگ ڈیٹس وِد دی کرسچین ایرا، الخ“ (Handy-Book of Rules and Tables for Verifying Dates with the Christian Era, etc.) کے صفحہ 249 پر ہجری سال 1283ھ کے آغاز کے مقابل 16 مئی 1866ء درج کیا ہے، جو بروز بدھ (Wednesday) تھا۔ اُس جدول کی بنیاد پر حساب کیا جائے تو 15 محرم 1283ھ، بروز بدھ 30 مئی 1866ء کو بنتی ہے۔(1)


تاہم دار العلوم دیوبند کے اولین اور بنیادی مآخذ میں 15 محرم 1283ھ بروز پنج شنبہ (جمعرات) مذکور ہے۔(2)(3)

مزید یہ کہ The Bombay Gazette کے 31 مئی 1866ء کے شمارے کے عنوان میں صراحتاً "Thursday, May 31, 1866" درج ہے، جس سے 31 مئی 1866ء کے جمعرات ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔(4)

اِن قرائن کی بنا پر غالب گمان یہ ہوتا ہے کہ جان جیمز بانڈ کا جدول لندن یا مغربی دنیا کے تقویمی حساب کے مطابق مرتب کیا گیا تھا، جبکہ برصغیر میں محرم 1283ھ کا آغاز ایک دن بعد، یعنی 17 مئی 1866ء کو ہوا ہوگا۔ اس صورت میں 15 محرم 1283ھ بروز پنج شنبہ 31 مئی 1866ء کے موافق قرار پاتی ہے، جو دار العلوم دیوبند کی زیرِ بحث تاریخِ تاسیس سے مطابقت رکھتی ہے۔

محمد روح الامین قاسمی
ضلع میُوربھنج، اڈیشا

مراجع:
(1) جان جے بانڈ، ہینڈی بُک آف رولز اینڈ ٹیبلز فار ویریفائنگ ڈیٹس وِد دی کرسچین ایرا، الخ (لندن: جارج بیل اینڈ سنز؛ بارٹلیٹ اینڈ کمپنی، 1875ء)، ص 249، یوآرایل: https://books.google.co.in/books?id=F3mcB6GnOtIC&pg=PA249 ۔
(2) روداد دارالعلوم [1283ھ]۔ دارالعلوم دیوبند۔ 1866ء۔ ص: 3–4۔
(3) محمد طاہر بن محمد احمد قاسمی (جون 1928ء)۔ حبیب الرحمن عثمانی (مدیر)۔ "تاریخ دار العلوم دیوبند"۔ ماہنامہ القاسم۔ ج: 4، ش: 1، ص: 57۔
(4) دی بومبے گیزٹ (The Bombay Gazette)، بمبئی، 31 مئی 1866ء، شمارہ مورخہ Thursday, May 31, 1866، ص: 1، یوآرایل: https://www.britishnewspaperarchive.co.uk/viewer/BL/0002920/18660531/001/0001?noTouch=true ۔
علم و کتاب
سلسلہ نمبر: 314 انتخاب مطالعہ تحریر: *مولانا سید مؔناظر احسن گیلانیؒ* انسان سے کائنات کی بے نیازی مطلب یہ ہے کہ:اس خاک دانِ ارضی سے بنی آدم کے ایک فرد کو چن چن کر اگر ختم کر دیا جائے ، ان کے اونچوں کو بھی ختم کر دیا جائے اور نیچوں کو بھی صاف کر دیا جائے…
سلسلہ نمبر: 315
انتخاب مطالعہ
تحریر: شگفتہ جاہ

*برداشت*

سقراط کی درس گاہ کا صرف ایک اصول تھا ، اور وہ تھا برداشت، یہ لوگ ایک دوسرے کے خیالات تحمل کے ساتھ سنتے تھے، یہ بڑے سے بڑے اختلاف پر بھی ایک دوسرے سے الجھتے نہیں تھے ، سقراط کی درس گاہ کا اصول تھا اس کا جو شاگرد ایک خاص حد سے اونچی آواز میں بات کرتا تھا یا پھر دوسرے کو گالی دے دیتا تھا یا دھمکی دیتا تھا یا جسمانی لڑائی کی کوشش کرتا تھا اس طالب علم کو فوراً اس درس گاہ سے نکال دیا جاتا تھا۔

سقراط کا کہنا تھا: ”برداشت سوسائٹی کی روح ہوتی ہے، سو سائٹی میں جب برداشت کم ہو جاتی ہے، تو مکالمہ کم ہو جاتا ہے اور جب مکالمہ کم ہوتا ہے تو معاشرے میں وحشت بڑھ جاتی ہے۔“

اس کا کہنا تھا: اختلاف،دلائل اور منطق پڑھے لکھے لوگوں کا کام ہے، یہ فن جب تک پڑھے لکھے عالم اور فاضل لوگوں کے پاس رہتا ہے اس وقت تک معاشرہ ترقی کرتا ہے؛لیکن جب مکالمہ یا اختلاف جاہل لوگوں کے ہاتھ آجاتا ہے تو پھر معاشرہ انارکی کا شکار ہوجاتا ہے، وہ کہتا تھا: ” کوئی عالم اس وقت تک عالم نہیں ہوسکتا جب تک اس میں برداشت نہ آجائے، جب تک وہ ہاتھ اور بات میں فرق نہ رکھے “ ـ

( خواتین ڈائجسٹ،ماہ: اگست، 2023، صفحہ: 212،ناظم آباد، کراچی)

✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی
❤2👍1
Mr Sid
*طواف وداع* ✍🏻... یونس بصیر اس شرف و شادمانی کے ساتھ ساتھ دل میں بار بار رنج و غم کی ایک لہر بھی اٹھتی کہ آج رات ہم ”بلد امین“ کو خیر باد کہہ جائیں گے۔ اللہ کے مقدس گھر سے جدائی کا یہ زخم شاید پھر کبھی مندمل نہ ہو سکے،زندگی کا کیا بھروسہ؟ اور نبضِ…
*کاروانِ شوق دیار حبیب میں*
✍🏻... یونس بصیر


آج دسمبر 1974ء کی ستائیس (27) اور ایام تشریق کا آخری دن ہے، رات کا سماں، فضا قدرے خنک، ٹیکسی میں کل چھ نفر، پندرہ منٹ اوپر دس پر ٹیکسی چلی، ہم نے سفر کی دعائیں پڑھیں، اور پھر درود و سلام کا سلسلہ دراز ہوا، چھوٹتے ہی ڈرائیور صاحب نے پاسپورٹ اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ اپنے قبضہ میں لے لئے؛ کہ راستے میں قدم قدم پر یہ سفری کا غذات چیک کرتے ہیں اور بالخصوص واپسی کی تاریخ پر ؛کیوں کہ وہ نہیں چاہتے کہ مقررہ ایام سے زیادہ کوئی زائر بھی مدینۃ الرسول میں قیام کرے،سعودی حکومت کا یہ اقدام اپنی افادیت کے لحاظ سے انتہائی اہم اور احسن ہے، اگر زمانۂ قیام کی قید اور پابندی نہ ہو تو پھر عاشقان رسول جانے میں جلدی اور واپس آنے میں تاخیر کریں گے، اس طرح مدینۃ الرسول کا نظام درہم برہم ہوجائے گا؛ کیونکہ مدینہ الرسول ایک چھوٹا سا شہر ہے، مکہ شریف کی طرح مدینہ شریف ایک ہی وقت میں لاکھوں انسانوں کو جذب نہیں کر سکتا، اس مقدس شہر میں لوگ قسطوں کی صورت میں آتے ہیں،اور اسی طرح سلسلہ وار سیدھے جدہ نکل جاتے ہیں۔

اب ذہن کے گوشوں اور نہاں خانہ دل میں بار بار ہجرت رسول کا منظر یاد آ رہا ہے۔ انہی راہوں میں سے کبھی سید البشر ایک صدیق کی معیت میں گزرے تھے، اپنے آبائی شہر، عزیز و اقارب اور گھر بار کو اپنے رب کی خاطر اور دین اسلام کی ترقی اور وسعت کے لئے ، اس پاک بستی کو ظالموں سے تنگ آکر ہمیشہ کے لئے چھوڑ گئے ۔ چشم بینا وا ہو تو آج بھی ان مبارک قدموں کے نقوش کا سراغ بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔ دشت و جبل کی انہی بے آب و گیاہ وادیوں میں اہل مکہ کے ہاتھوں ستائے ہوئے مہاجرین انتہائی بے سروسامانی ، پریشان حالی اور پریشانی کے عالم میں دشت نوردی کرتے ہوئے راہ عشق و وفا میں خار مغیلاں سے اپنے پاؤں زخمی کرتے ہوئے باد سموم کے جلا دینے والے جھونکے برداشت کرتے ہوئے، سفر کی کٹھن صعوبتیں جھیلتے ہوئے،لق و دق صحراؤں کو عبور کرتے ہوئے، مدینہ الرسول میں جاپناہ لیتے، انہی پر خطر وادیوں اور دشوار گزار راہوں میں کبھی امت کی عظیم اور مقدس ماں سیدہ ام سلمہ کا ناقہ گزرا تھا۔ صحرائے ریگ زار اور سبزہ و گل سے محروم پہاڑوں کا یہ سلسلہ دراز، وسائل کی تیز رفتاری کے باوجود بھی ختم ہونے میں نہیں آتا، بے ساختہ مجاہدین اسلام اور مہاجرین سابقین کی طاقت وقوت ، صبر و ہمت، اراده، استقلال، شجاعت، استقامت اور پختگی یقین و ایمان کی داد دینی پڑتی ہے۔ اللہ ان سب سے راضی ہو۔ آمین!

ٹیکسی کشادہ سڑک پر اندھیروں کو چیرتی ہوئی چلی جارہی ہے،کیا مجال جو حجازی ڈرائیور اونگھ جائے، ڈرائیوروں کی چابک دستی اور فنی کمال دیکھنا ہو تو پھر کوئی ان ڈرائیوروں کی مہارت دیکھے، ایک سو بیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تو ان کا معمول ہے، اب جو اچانک سڑک پر نظر دوڑائی تو دور سب گاڑیاں رکی ہوئیں نظر آئیں۔ پوچھنے پر پتہ چلا یہ سب سے بڑا مرکز تفتیش ہے۔ جو مسافروں کے کاغذات ، پاسپورٹ اور ٹکٹ وغیرہ چیک کرتے ہیں۔ بالخصوص ٹکٹوں پر تاریخ واپسی ضرور بالضرور ملاحظہ کرتے ہیں ۔ ہمارے ڈرائیور نے ٹیکسی روکی، ضروری کاغذات ہاتھ میں لیے، معائنۂ چوکی پر حاضر ہوگیا، پڑتال کے بعد ہمیں بلایا اور کہاگیا: آپ آگے نہیں جاسکتے، چونکہ 8 جنوری 75ء کو واپس طرابلس / لبیا جانا ہے، لہذا آج نہیں؛ بلکہ 28 دسمبر 74ء کو مدينة الرسول جاسکتے ہیں۔ اب کیا کریں؟ انہوں نے تو واپس مکہ شریف جانے کو کہہ دیا ہے۔ اور یہ عرب بھائی انکار کے بعد ذرا مشکل ہی مانا کرتے ہیں، ہم نے اپنی مجبوریوں کا رونا رویا اور منت سماجت کی۔ آخر ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے رحم ڈال دیا۔ اور ہمیں آگے سفر کی اجازت مل گئی۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا اور پھر ٹیکسی میں بیٹھ گئے، ڈرائیور صاحب نے ٹیکسی چلائی لیکن ڈرائیور صاحب نے گاڑی کی رفتار کو اعتدال میں رکھا؛کہ رات کا وقت اور کاروں کا طویل سلسلہ رواں دواں تھا، رات جوں توں بیت رہی تھی اور آگے بڑھ رہے تھے، سردی میں بھی اضافہ ہوتا چلا گیا، مکہ شریف میں چونکہ گرمی تھی ہم دونوں ٹھنڈے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ اس لئے ہمیں سردی محسوس ہونے لگی۔ اور اپنی نادانی اور ناتجربہ کاری پر بہت افسوس ہوا، گرم کپڑے صندوق میں پڑے تھے اور صندوق ٹیکسی کی ڈگی میں بند ، اب کون ٹیکسی ڈرائیور کو روکے، پھر چابیاں تلاش کرے، تب کہیں حفاظت بدن کا اہتمام ہو۔ ایک لمبی کاروائی! بہر حال صبر و شکر سے کام لیتےہوئے یہ خنکی و برودت اور سردی برداشت کرتے رہے تھے۔ اور اپنی توجہ اور دھیان گنبد خضرا کی آرزوئے دید میں لگائے رکھا۔ سفر کٹا اور وقت گزرتا گیا۔ آدھا سفر طے ہوا تو ڈرائیور نے ایک صحرائی مقھٰی ( قہوہ خانہ ) کے پاس ٹیکسی روکی،یہ ہوٹل عموما سڑک کے کنارے بڑی بڑی چار پائیاں یا چار پائی نما بینچ بچھا دیتے ہیں اور مسافر تھوڑی دیر کے لئے سستا لیتے ہیں۔ ڈرائیور صاحبان بھی تازہ دم ہوکر بقیہ سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ یہاں تقریباً آدھ گھنٹہ رکے اور
❤1
Mr Sid
*طواف وداع* ✍🏻... یونس بصیر اس شرف و شادمانی کے ساتھ ساتھ دل میں بار بار رنج و غم کی ایک لہر بھی اٹھتی کہ آج رات ہم ”بلد امین“ کو خیر باد کہہ جائیں گے۔ اللہ کے مقدس گھر سے جدائی کا یہ زخم شاید پھر کبھی مندمل نہ ہو سکے،زندگی کا کیا بھروسہ؟ اور نبضِ…
پھر ٹیکسی دیار حبیب کی طرف فراٹے بھرنے لگی۔

مدينة الرسول کی طرف کاروان شوق بڑھے اور درود و سلام کی حُدی خوانی نہ ہو، یہ ممکن ہی نہیں، زبان خود بخود نعت رسول میں زمزمہ سنج ہوجاتی ہے، درود و سلام کی سوغاتوں کے سوا، ایک امتی در بار رسول میں اور پیش بھی کیا کرے گا؟ دور اندھیروں میں نگاہیں بے تاب ہوکر گنبد خضرا کی تلاش میں رہیں۔ بار بار یہی حسرت، دعا کا روپ دھار کر فضاؤں میں گم ہو جاتی کہ بار خدا فجر کی نماز جامع مسجد نبوی میں باجماعت مل جائے۔ ذوق نظارہ میں صبر کا پیمانہ لبریز ہوکر چھلکنے لگا، مزید انتظار کی اب تاب کہاں ؟ سعدی نے شاید انہی راہوں میں اپنی بے تابی دل کا اظہار یوں کیا تھا:

مشتاقی صبوری از حد گذشت یا را

گر تو شکیب داری طاقت نماند مارا

آخر مسجد نبوی کے بلند مینار ضیابار اور شہر رسول خیر الانام کی روشنیاں جلوہ گر ہوئیں۔ درود و سلام کی لے تیز ہوئی، پھر گنبد خضرا کو دیکھا،آنکھوں کو ٹھنڈک اور تازگی محسوس ہوئی اور دل بے قرار کوقرار آیا۔ پچھلی رات کا وقت ، سردی کا زور ، اور ہر سو خاموشی اور سکون، ٹیکسی بل کھاتی ہوئی سڑکوں پر گھومتی گھماتی، جلد ہی ایک کھلے میدان میں اپنے اڈہ پر جا ٹھہری ۔ ڈرائیور کا شکریہ ادا کیا، سامان اتارا، کمزوری اور نقاہت اپنے عروج پر آئی، ساتھیوں نے اپنی اپنی راہ لی اور ہم دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھا کئے۔ سردی سے دانتوں کی بتیسی بجنے لگی ، مزدور اور قلی کی تلاش شروع ہوئی؛ مگر تضیع اوقات کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا! سر میں یہ سودا سمائے ہوئے کہ فجر کی نماز ہر حال میں جامع نبوی میں جماعت کے ساتھ ادا کرنی ہے؛لہذا مزید وقت ضائع کیے بغیر سامان اٹھایا اور روشن میناروں کی سمت چل پڑے، ایک صندوق اٹھاتا، دس بیس قدم آگے بڑھتا اور صندوق یہیں چھوڑ کر دوسرا صندوق لاتا ، اور فریدہ باری باری وزنی تھیلے اٹھاتی آگے بڑھتی رہی ، دست و بازو شل ہوگئے اور ٹانگیں تھک کر چور ہو گئیں ؛لیکن جذبۂ شوق اپنے اوج پر اور امنگیں اپنے جوبن پر ہیں، اتنی قربت ، اتنی دوری، آخر ہانپتے کانپتے ، وزن اٹھائے ہوئے آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہے، جامع نبوی کے زیر سایہ کھلے میدان میں آگئے اور وہیں سامان رکھا،پھر اسی میدان میں عورتوں کی صفوں کے پاس ہی فریدہ کو سامان کے پاس قریب ہی بٹھا دیا۔ یہ وہی میدان ہے جو تعمیر کے مراحل سے تیزی کے ساتھ گزر کر حرم نبوی کا حصہ بن جائے گا۔ فریدہ کو تاکید کی کہ اگر نماز قائم ہوگئی تو میرا انتظار کئے بغیر شریک نماز ہوجانا۔ میں پانی کی تلاش میں نکلا کہ وضو کر سکوں ، دائیں بائیں بے چین ہو کر اور ڈرتے ہوئے کہ اسی تگ و دو میں کہیں نماز نہ نکل جائے ، ہر سو بھاگا لیکن افسوس پانی نہ مل سکا۔ حضرت سیدہ ہاجرہ کی دوڑیں ایک بار پھر یاد آ گئیں۔ اور پھر بیت اللہ کے زریں نقوش ذہن کے پردہ پر ابھرنے لگے ۔ آخر زمین پر بیٹھا اور تیم کرلیا۔ اتنے میں نماز فجر کا آغاز ہوا، شمولیت نماز کے لئے بے اختیار ہو کر بھاگا۔ اور دورانِ سفر مانگی ہوئی دعا بارگاہ الہی میں ہاتھوں ہاتھ شرف قبولیت سے نوازدی گئی۔ ایجاب و قبول کی تازہ کرامت! سبحان اللہ، وہ علیم و بصیر اور رحمان و رحیم سب کی سنتا اور ضرور سنتا ہے۔ یہ اپنا ایمان بھی ہے اور آزمائی ہوئی بات بھی۔ اور اسی بارگاہ ذوالجلال سے نوازے ہوئے ایک فقیر گوشہ نشین نے کیا سچ کہا ہے:

یک صبح با اخلاص بیا بر در من

گر کار تو بر نیاید آنگہ گلہ کن

( صحن حرم، صفحہ: ۱۱۳، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤1
مطالعہ کتب ، کیوں اور کس طرح۔۔۔(۴) ۔۔۔ ہم مطالعہ کیوں کریں؟
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
قوت حافظہ کے متعلق جو باتیں ابھی بیان ہوئیں، اس سے یہ بات تو واضح ہوگئی کہ کسی انسان کا جب تک کسی چیز کو یاد رکھنے کا عزم مصمم نہ ہو اور انہیں یاد رکھنے کے لئے قوانین قدرت کا لحاظ نہ رکھا جائے تو پھر پڑھی ہوئی چیز کا ہمیشہ ذہن میں محفوظ رہنا ضروری نہیں،لہٰذا ایک تاجر کی طرح اپنے سرمایہ کی حفاظت اور ترقی کی فکر کرنا ، ایک فطری تقاضہ ہے۔ جب ہم مطالعہ کی افایت پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اس سلسلے کی مزید چند باتیں معلوم ہوتی ہیں،جن میں سے چند یہ ہیں کہ:
• مطالعہ علم کی کنجی ہے۔
• مطالعہ سے دنیا و آخرت میں انسان کی سربلندی ہوتی ہے۔
• مطالعہ گزرے زمانے کی اقوام کے حالات جاننے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔
• مطالعہ قوم وملت کے دشمنوں کی چالوں کو جاننے کا آلہ ہے۔
• مطالعہ بور نہ کرنےوالا ساتھی ہے، اس سے روح کی تسکین ہوتی ہے۔
• مطالعہ خالی اوقات کے استعمال کامفیدذریعہ ہے۔
• مطالعہ اجر عظیم اور بہت ثواب پانے کا سبب ہے۔

مطالعہ سے مستفید ہونے کے پیشگی اصول:
• اخلاص…مطالعہ کا واضح ہدف و مقصد
• اہل علم سے مشورہ و استفسار
• مطالعہ کی ترتیب
• یہ کہ ہر چیز پڑھنے کے قابل نہیں ہوتی۔
• مطالعہ استفادہ اور سیدھی راہ پر استقامت کے لئے ہے۔
• مطالعہ ایک جہاد ہے صرف خواہش اورچاہت نہیں ہے۔
• مطالعہ کسی کام کی صلاحیت اور ارادہ کا نام ہے۔
• مطالعہ فن اور مہارت کا نام ہے۔
مطالعہ کی راہ میں حائل رکاوٹیں:
• دنیا کی ترغیبات میں مشغولیت، جن میں اب موبائل اور سوشل میڈیا کی مصروفیت سرفہرست آگئی ہے۔
• ہمت اور حوصلہ میں کمی۔
• کور فہمی۔
مطالعہ میں غلطیاں سرزد ہونے کے اسباب:
• جہالت۔
• مطالعہ میں تیز رفتاری
• ناسمجھی اور کور فہمی۔
• مضمون کی خرابی۔
• زبان و الفاظ پر عبور کی کمی۔
مطالعہ کتب سے دور رہنے کے اسباب:
• مطالعہ سے جلد بور ہونا اور صبر وبرداشت کی کمی اور کسی کام کو جم کر کرنے کی عادت کا نہ ہونا۔
• مطالعہ کی قدرو قیمت اور فضیلت نہ جاننا۔
• کتاب اور موضوع کتاب کا طویل ہونا۔
• مطالعہ کی ابتدا میں غلطی،آسان کتابوں سے پہلے قدیم امہات الکتب سے اپنے مطالعہ کا آغاز کرنا۔
• کتاب کی زبان اور مضمون کے معیار کاسمجھ سے بالاتر ہونا۔
• کتاب میں مکرر استعمال ہونے والی اصطلاحات سے لاعلمی۔
• دوست واحباب اور ہم جولیوں میں مطالعہ پر ابھارنے والوں کی کمی۔
• بھاری بھرکم مفید کتابوں کی جگہ دبلے پتلے اخبارات اور پرچوں میں دلچسپی لینا۔
• مطالعتی زندگی کی ابتدا میں اس کے لائق افراد سے مشورہ نہ کرنا، یا جو اس کے لائق نہیں ہیں ان سے مشورہ لینا۔
• زبان وبیان کے قواعد سے لاعلمی اور اسالیب بیان سے ناواقفیت۔
• مطالعہ سے بدکنا اور اپنی فکر کو مرکوز نہ رکھنا۔
• پست حوصلگی اور نیچ چیزوں کو پسند کرنا۔
• لہو ولعب میں پڑنا۔
• موبائل انٹرنٹ سوشل میڈیا ، میوزک اورویڈیو زسے چمٹے رہنا۔
(جاری)
WA:00919741136475
https://telegram.me/ilmokitab
❤1
*بات سے بات: 30 مئی یا 31 مئی*
 *تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)*
 
کل دارالعلوم دیوبند کے تاریخ قیام کی انگریزی تاریخ میں اختلاف پر طویل بحثوں کو دیکھ کر خواہ مخواہ خامہ بگوش کا ایک کالم  "علامہ اقبال کے گھوڑے کا شجرہ نسب" بہت یاد آیا۔ ہماری رائے میں اس موضوع کو اتنا گنجلگ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ ویسے ہم نے بھی کچھ وقت نکال کر اس سلسلے میں کسی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کی۔ اور چند ایک کتابیں بھی تلاش کیں۔
اردو میں ہجری تقویم کے گریگوری تقویم سے موازنہ کے موضوع پر دو کتابیں ہماری نظر سے گذری ہیں۔ ان میں سے
مولانا عبد القدوس ہاشمی کی "تقویم تاریخی" کے مطابق
یکم محرم 1283ھ چہار شنبہ 16 مئی 1877ء کو پڑتا ہے۔
اس لحاظ سے 15 محرم  1283ھ بروز چہار شنبہ 30 مئی 1866ء کو ہونا چاہئے۔  
ایک دوسری کتاب ضیاء الدین لاہوری کی "جوہر تقویم" کے مطابق  یکم جون 1866ء بروز جمعہ  17 محرم 1283ء کو آتا ہے۔ اس لحاظ سے 15 محرم 1283ء مطابق چہارشنبہ 30 مئی   1866ء کو آتا ہے۔
ہم نے اس موضوع پر عربی زبان کی دو اور کتابوں سے بھی یہ تاریخیں جاننے کی کوشش کی، لیکن بد قسمتی سے ان میں صرف سالوں کے موازنہ کا اہتمام ہے۔ تاریخ اور مہینے کا نہیں۔لہذا یہ ہمارے کام کی نہیں تھیں۔
یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ عموما عالم عرب میں ہجری تاریخیں ہندوستان سے ایک دن پہلے ہوتی ہیں، اس لحاظ سے 15 محرم 1283ھ گریگوری حساب سے کم از کم ایک روز پہلے29 مئی ہونا چاہئے۔ ایک دن زیادہ ہوکر 31 ہونے کا امکان کم ہے۔ عرب کی تاریخوں میں ایک دن ہندوستان سے کم ہوسکتا ہے، زیادہ نہیں۔ لہذا 31 مئی  کی تاریخ درست معلوم نہیں ہوتی۔
میں دار العلوم کی تاریخ پر لکھی گئی تاریخوں کے استناد اور فضیلت کی بحث میں پڑنا نہیں چاہتا، سبھی ہمارے محترم ہیں، لیکن کتب تاریخ کے استناد کے سلسلہ میں یہ اصول عموما پایا جاتا ہے کہ کتاب عہد سے جتنی قریب ہوگی اور مورخ لکھنے میں جتنا آزاد ہوگا، اور اس پر دباؤ کم ہوگا اس کو زیادہ زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے۔
2026-05-31
 https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1👍1
Mr Sid
آفتاب غروب ہوا، قرینۂ وثوق میں دل کہتا ہے کہ: آج خاکیوں کی رسائی افلاکیوں تک ہوگئی ہوگی،ان ساکنان خطۂ خاک پر کروبیوں اور آسمانی مخلوق رشک کرتے ہوں گے،ان کی زبانوں پر آبشاری نغمے، بدن پر آبی قطرات،آنکھوں سے برستے محسوسات،قلوب میں امڈتے جذبات،اوج فلک تک پہونچنے…
الوداع رب کے مہمانو!

✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی

حضرت ابراہیم کی زبانی رب کے اعلان سرمدی پر لبیک کہنے والے وارفتگئ شوق میں، دیوانہ وار، ننگے سر، برہنہ پا،پریشان حال، گرد و غبار میں اٹے، لق دق صحراؤں، جنگلوں، شور مچاتے دریاؤں، خاموش سمندروں، ویران جزیروں سے ہوتے ہوئے، عاشقانہ رنگ میں رنگے، درویشانہ آہنگ لیے، مستانوں کی چال سے، کوئی آہستہ روی سے، کوئی سرعت رفتاری سے کعبۂ مقدس کے طواف کو آیا، لاکھوں پروانوں کا اس شمع ہدایت کے ارد گرد ازدحام،کبھی زمزم سے صدیوں کی پیاس بجھائی جارہی ہے، کبھی صفا مروہ میں دوڑا جارہا ہے،کبھی عرفات کے میدان میں دعائیں، کبھی مزدلفہ میں چرخ نیلی فام کی چھت تلے شب گزاری،کبھی منیٰ میں ازلی دشمن پر سنگ باری، کبھی منحر میں سنت ابراہیمی، پھر ظاہری نجاستوں، میل کچیلوں سے پاکی،اور باطنی نجاستوں سے طہارت کے لیے توبہ و استغفار کے زمزم سے غسل، کبھی بابرکت پہاڑوں پر چڑھا جارہا ہے، بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والوں سے ملا جارہا ہے، ہر رنگ کا ابن آدم اور بنت حواء یہاں موجود، سب کے سب رحمان کے مہمان، سب کی ضیافت رحمان کے دستر خوان پر، اس کو دیکھو میزبان کے بیت اعلی کی دیواروں سے رخسار لگائے، اِس کو دیکھو غلاف کعبہ سے بدن مس کیے، اُن کو دیکھو ہر مقام مقدس کو بوسے، اِن کو دیکھو حطیم کی باڑ پر سر رکھے لرزہ براندام، وہ دیکھو ہزاروں ہاتھ دعا میں اٹھے، یہ دیکھو جان کی پرواہ کیے بغیر حجر اسود کو چومنے کی دھن سوار،

ابھی قلب کو ذرا سکون و قرار ملا ہی تھا کہ اعلان رخصتی ہوگیا، صدائے رحیل بلند ہوئی، کہ اے میری دعوت قبول کرنے والو! لو اب وقت رخصت ہے، ان امکنہ سے وداعی لو! معلوم ہے کہ ان در و دیوار سے جی نہیں بھرا ہوگا، یہاں کا جمال نگاہون میں بس گیا ہوگا، واپسی ملک کی طرف ہے، سفر وطن کا ہے،رخصت مکہ سے ہے، لیکن یاد رہے آپ اب حج کی ذمہ داریوں کے ساتھ لوٹ رہے ہیں، اب عقائید، عبادات، معاملات، معاشرت، اور اخلاقیات میں سب سے نمایاں نظر آنا! میرے دین کی خدمت کو جزو زندگی بنانا! تم کو کیا معلوم؟ زندگی کب گزرجائے! نبض حیات کا کیا بھروسہ؟ لہذا جیسے صاف و شستہ یہاں سے جارہے ہو، اللہ کے رنگ میں رنگین ہوکر، اپنی حالت گزشتہ بدل کر لوٹ رہے ہو اس رنگ کو پھیکا پڑنے نہ دینا! حالت تدین میں ضعف نہ پیدا ہونے دینا، شیطان کو سنگ بار کرچکے، اب دوبارہ اس کے دوست نہ بننا،منظر عرفہ نے حشر کا سا سماں باندھا تھا، یاد رکھنا اصل حشر میں اسی طرح رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے، سوالات کے مرحلے سے گزرنا ہے، اپنی دنیا فانی میں عود کرکے اصل منزل آخرت سے غافل نہ ہوجانا!

كل شيء هالك الا وجهه، له الحكم وإليه ترجعون،
❤2
*سچی باتیں (16؍دسمبر 1940ء)۔۔۔ محمد بن قاسم کی فتح مندیاں*
 
 
’’تاریخ ہند‘‘ کا مشہور انگریز مصنف الفنسٹن آپ کا دشمن ہے، دوست نہیں۔ لیکن بات اچھی اور سچی ممکن ہے کہ کبھی دشمن کی زبان سے بھی اداہوجائے۔ اوراُسے رد اس بنا پر نہیں کیاجاسکتا کہ اُسے پیش کرنے والی زبان دوست کی نہیں۔ سنئے وہ محمدبن قاسمؒ کی حیرت انگیز فتح مندیوں کے بعد، ہندوستان کے اندر رفتار اسلام کے قدم سُست پڑجانے کے با ب میں کیا کہتاہے:-
’’ان کی (ہندوستان کے مسلمان تاجداروں کی) حکومت کی روح رفتہ رفتہ بدلتی گئی۔ ان کے امیر اور سردار، پُرجوش دینی مبلّغوں کے بجائے، مہذب بادشاہ ہونے لگے، جنھیں دین کی تبلیغ سے کہیں زیادہ اہتمام اپنے خاندان کے اعزاز کا رہتاتھا۔ اور اسی نسبت سے رفتہ رفتہ وہ لوگ بجائے کھُرّے سپاہیوں کے عیش پسند اور’’شاندار رئیس‘‘ بن گئے، جن کے مشاغل ، جنگ کے علاوہ کچھ اور تھے اور جن کی دلچسپیاں فتح کے علاوہ کچھ اور تھیں۔(حضرت )عمرؓ کا یہ حال تھا کہ جب بیت المقدس اپنے لشکر کے پاس روانہ ہوئے ہیں، تو اپنا سامان اور سامانِ جنگ سب اُسی اپنے اونٹ پر لادے ہوئے تھے۔ اور (حضرت) عثمانؓ کا طریقہ یہ تھا، کہ شام کو جب سرکاری کام ختم ہوجاتا، تو چراغ بُجھادیتے، کہ قوم کے روپیہ کاتیل اپنے ذاتی صرف میں نہ آئے۔ لیکن ان کے بعد ابھی پورے سو برس بھی نہ گزرنے پائے تھے، کہ خلیفہ مہدی نے برف اور یخ پانچ پانچ سو اونٹوں پر لدوادیا! اورعباسی خلفاء کے ایک ایک دن کی شاہ خرچیاں مساوی انھیں خلفاء اربعہ کے جملہ مصارف کے! اسی طرح مامونؔ کے زمانہ میں فلاسفۂ یونان کی کتابوں کے ترجمے بھی اُسی روح سے بہت ہی دور تھے، جو (حضرت) عمرؓ کے تباہی کتبخانۂ اسکندریہ کے قصہ کے عقب میں تھی‘‘۔ (ص: 313)
ماضی کو چھوڑئیے ، حال کو لیجئے۔ آ ج بھی بعینہ وہی نقشہ قائم ہے یا نہیں؟ بلکہ اُس وقت سے کہیں زیادہ قوت وشدت کے ساتھ۔ تاجداروں،بادشاہوں کوالگ کیجئے۔ امراء کے تنعم اور عیش پسندیوں کا کیا عالم ہے؟ کوئی مناسبت اُن کے دسترخوان کی وسعتوں کو، اُن کے کھانے کی میز کی رنگارنگ نعمتوں کو سرور کائناتؐ کی نیم گرسنہ عادت مبارک سے، یا صدیقؓ وفاروقؓ کے فقروفاقہ سے، عثمانؓ وعلیؓ کے موٹے جھوٹے کھانوں سے ہے؟ اوربڑے امراء سے بھی قطع نظر کیجئے، اوسط درجہ کے سفید پوشوں کے ہاں وہ وہ تکلفات کھانوں کے ملتے ہیں، کہ عہد رسالت میں بڑے بڑے خوشحال صحابیوں کے حصہ میں بھی کبھی کیوں آئے ہوں گے؟ اور ایک کھانے ہی پر کیا موقوف ہے، عیش پسندی بلکہ عیش پرستی سے ہمارا کون سا گوشۂ زندگی خالی ہے؟ تکلفات اور حد سے بڑھے ہوئے تکلفات سے ہماری معاشرت کا کون سا شعبہ بچاہوا ہے؟ چند قدم پیدل ہم چل نہیں سکتے، برف کے بغیر جی ہم نہیں سکتے، چائے کے بغیر زندگی ہماری محال ہے، حقہ وپان، سگریٹ کے بغیر قدم ہم نہیں اُٹھا سکتے۔ دھوپ ہم نہیں سَہ سکتے، سنیما، تھیٹر، ریڈیو کے بغیر رات ہم نہیں بسر کرسکتے……تبلیغی زندگی، اللہ کے سپاہی کی زندگی، ہماری اس اختیار کی ہوئی زندگی سے کہیں بھی جوڑ کھاسکتی ہے؟
دوسرا فتنہ، اس عملی فتنہ سے بھی بڑھ کر قیامت خیز، عقلی واعتقادی فتنہ ہے۔ غیروں کے ’’علوم وفنون‘‘ سے مرعوبیت کا فتنہ! کل غلامی تھی ارسطو اور افلاطون کی، اقلیدس اور محیطی کی، اور کوششیں یہ تھیں کہ اپنے ہاں کے ’’منقول‘‘ کو جلد سے جلد یونان کے ’’معقول‘‘ نامعقول سے مطابقت دے دی جائے! علوم ثابت مالوجی کو اندھوں کے ظن وتخمین کے ماتحت لے آیا جائے! روشنی کو کسی نہ کسی طرح تاریکی کے ہم رنگ کردکھایاجائے! اسی پر فخر تھا، اور یہ گویا ایک بڑی خدمتِ دین تھی!……کل یونان تھا، آج یورپ ہے۔ پہلے سے سوگُنی اور ہزار گُنی بڑھی ہوئی عقیدت کے ساتھ آج بھی سرگرمِ کوشش ہے،کہ ڈارون اور مل کی تعلیمات سے ہمارے بچّے اور ہمارے بوڑھے کہیں محروم نہ رہ جائیں۔ کارل مارکس اور لینن کا نقالی ہم نے ہوبہ ہو نہ کرلی، تو کچھ بھی نہ کیا! اور ساری ’’ترقیوں‘‘ اور ’’روشن خیالیوں‘‘ کا خلاصہ یہ آٹھہرا ہے ، کہ جسم کی جِلد، چہرہ کہ ہیئت ، اور لباس کی وضع سے لے کر دماغ کا ایک ایک ریشہ، قلب کی گہرائیوں کا ایک ایک گوشہ، روس یا امریکہ، برطانیہ یا فرانس، جرمنی یا اٹلی، بہرحال فرنگ زار ہی کے کسی نہ کسی خطّہ کا آئینہ ہوکر رہ جائے!
      https://telegram.me/ilmokitab
❤1
*وفیات مورخہ: 1/جون*
1748ء  میر قمر الدین خان صدیقی۔  نظام الملک آصف جاہ اول ۔ حیدر آباد دکن
1961ء  محمد حسن امرتسری۔  مولانا ، مفتی، بانی جامعہ اشرفیہ لاہور
1962ء  شیدا لکھنوی (سید محمد نظیر )۔ 
1963ء  محمد سلیمان بدایونی۔ 
1977ء  سید سعید احمد ہاشمی۔  کرنل
1978ء  خلیل الرحمٰن عظمی۔  ڈاکٹر ، شاعر ، نقاد
1979ء  اسعداللہ رامپوری مظاہری۔  حضرت مولانا، ناظم مظاہر علوم سہارنپور
1987ء  خواجہ احمد عباس۔  ادیب ومکالمہ نگار
1991ء  سید رضا لقمان امروہوی۔  مولانا
1993ء  شاہد تھانوی۔ 
1995ء  برگ یوسفی (شفیع اللہ خان)۔  
1995ء  شفیع اللہ خان۔  برگ یوسفی ،
1996ء  نیلم سنجیوا ریڈی۔  صدر ہند
2003ء  شاہین بدر (سید محمد ابو ہاشم عابدین)۔ 
2003ء  فضل فتح پوری (سید افضال حسین نقوی)۔ 
2006ء  حنیف رامے۔ 
2007ء  ناصر علی ندوی۔  مولانا، استاد فقہ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
2013ء  ریاض الرحمن ساغر۔  شاعر
2019ء  بشیر فاروقی ( بشیر الدین احمد)۔ 
2020ء  آصف فرخی۔  ادیب
2021ء  نواب ابن سعید خان آف چھتاری۔ 
2021ء  فیض الوحید۔  مولانا مفتی
2021ء  احمد سعید خان۔ 
 
Https://telegram.me/ilmokitab
 
 WA +9741136475
Mr Sid
سلسلہ نمبر: 315 انتخاب مطالعہ تحریر: شگفتہ جاہ *برداشت* سقراط کی درس گاہ کا صرف ایک اصول تھا ، اور وہ تھا برداشت، یہ لوگ ایک دوسرے کے خیالات تحمل کے ساتھ سنتے تھے، یہ بڑے سے بڑے اختلاف پر بھی ایک دوسرے سے الجھتے نہیں تھے ، سقراط کی درس گاہ کا اصول تھا اس…
سلسلہ نمبر : 316
انتخاب مطالعہ
تحریر: پروفیسر سردار گرودت سنگھ دؔارا ( جی ایس دارا )

*اشارۂ روانگی*

جس شخص کی محنت کا صلہ اور مشقت کا ثمرہ اس کی اپنی حیات میں اسے قدرت اس طرح مہیا کردے، جس انسان کی آتما کو یہ کامل تسلی و تشفی ہوجائے کہ وہ مقصد جس کے لیے ذات حق نے اسے دنیا میں بھیجا تھا، وہ پورا ہوچکا ہے،ایسے انسان کے اطمینان قلبی کا اظہار وہ خود ہی کرے اور کون کر سکتا ہے، جب نبی اللہ ﷺ اس خوش نصیبی سے بہرہ ور ہوچکے تو نزول آیت ہوئی،جو بشارت روانگی کی رکھی تھی۔

*نزول آیت نسبت روانگی*

{اليوم اكملت لكم دينكم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت
لكم الاسلام دينا}

ترجمہ: ”آج میں نے تم لوگوں کے لیے تمہارا دین مکمل کردیا، اپنی نعمت تم پر پوری کی اور تمہارے لیے دین اسلام میں نے پسند کیا۔“

اس وحی سے اشارہ عیاں تھا کہ جس مدعا کے لیے آنحضرت دنیا میں بھیجے گئے تھے، وہ پوری ہو چکا ہے، یہ امر قوی دلیل اس بات کی رکھتا تھا کہ آپ ﷺ کا وقت اب قریب ہے اور کہ اس دنیا میں آپ ﷺ کے دن ختم ہونے والے ہیں،آپ ﷺ نے جبل عرفات پر جاکر مسلمانوں سے مخاطب ہوکے فرمایا:

”اے اہل اسلام! شاید میں اگلے سال تم میں نہ ہوؤں گا، اب جو کچھ کہتا ہوں کان لگاکے سنو اور دل سے اس پر توجہ کرو!جس طرح یہ مہینہ اور خاص کر یہ دن آبادی میں تم لوگوں کے لیے مقدس ہے، اسی طرح ہر مسلمان پر دوسرے کا مال اور عزت و آبرو اور جان و مال مقدس ہے، مسلمانو! یہ یاد رکھو! کہ قیامت کے دن تم سب کو اپنے خدا کے سامنے حاضر ہونا پڑے گا، وہ اس وقت تمہارے تمام افعال اور جملہ حرکات و سکنات کا حساب کتاب لے گا، دیکھو! عورتوں کے ساتھ کبھی بدسلوکی نہ کرنا، ان سے ہمیشہ مہربانی کے ساتھ پیش آنا، غلاموں کو وہ آسائش دینا جو تم اپنے آپ کو دیتے ہو، اگر ان سے کوئی خطا ہوجائے تو در گزر کرنا، یادر ہے!کہ کُل مسلمان آپس میں بھائی ہیں، دیکھو! کوئی ایک دوسرے کی حق تلفی نہ کرے۔

*الوداعي حج*

؎ کوئی ایسی طرز طواف تو، مجھے اے چراغ حرم بتا!
کہ تیرے پتنگ کو پھر عطا ہو، وہی سرشت سمندری

کرم اے شہ عرب و عجم ، کہ کھڑے ہیں منتظر کرم
وہ گدا کہ تو نے عطا کیا ہے جنہیں دماغ سکندری

حقیقت میں آنکھ کو اب اپنی روانگی سامنے نظر آرہی تھی ، چنانچہ آپ ﷺ نے حرم محترم کے درشن کیلیے الودعی حج کا ارادہ کیا اور مع قافلہ مدینہ سے مکہ کو روانہ ہو پڑے،وہ شخص جس نے تین روز ایک غار میں بسیرا کرکے اپنی جان بچائی تھی، وہ بشر جسے مشرکان مکہ نے اچھوت قرار دے دیا تھا، وہ انسان جس کا مکہ کے شہر میں داخلہ بند کردیا گیا تھا،وہ آدمی جسے قتل کرنے کے لیے سو سو اونٹ اور ہزار ہزار سکہ چاندی کے انعام رکھے جاتے تھے، وہ بےکس جسے اینٹ پتھر مار مار کر لوگ اس کے جسم سے خون بہا دیا کرتے تھے،یہ ہے وہ انسان جو آج مکہ حج کرنے کو جا رہا ہے،اس مکہ میں آج اس ہی کے پیچھے سوالاکھ عابد میدان عرفات میں سر جھکائے، آنکھیں نوائے،ہاتھ باندھے، حق کے حضور میں کھڑا ہے، شاہ و گدا بلا امتیاز ایک ہی وضع کا بلا سلا کپڑا اوڑھے، ایک ہی خیال کے پابند ، ایک ہی خدا واحد کے حضور میں ، ایک ہی سجدے میں سر جھکائے کھڑے ہیں، یہ ہے مسئلہ مساوات اور یہ ہیں اسلام کی برکات۔

؎ آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز

قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قؔوم حجاز

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے مؔحمود و اؔیاز

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

بنده و صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے
تری سرکار میں پہونچے، تو سبھی ایک ہوئے

( رسول عربیؐ، صفحہ: 141، طبع: شاہد پبلیکیشنز، اینڈ بُک سیلر،ملتان)

✍🏻... محمد عدنان وقار صؔدیقی
❤1
Mr Sid
*کاروانِ شوق دیار حبیب میں* ✍🏻... یونس بصیر آج دسمبر 1974ء کی ستائیس (27) اور ایام تشریق کا آخری دن ہے، رات کا سماں، فضا قدرے خنک، ٹیکسی میں کل چھ نفر، پندرہ منٹ اوپر دس پر ٹیکسی چلی، ہم نے سفر کی دعائیں پڑھیں، اور پھر درود و سلام کا سلسلہ دراز ہوا، چھوٹتے…
*کاروان عشق مدینہ میں*

✍🏻... یونس بصیر

ہم دونوں کو فجر کی نماز الحمد لله جماعت کے ساتھ مل گئی، شہر رسول مقبول میں پہلی سحر اور جامع نبوی میں پہلی نماز یہ رتبہ بلند ملا جس کو ملا ، فراغت نماز کے بعد فریدہ کو مزید تھوڑی دیر کے لئے فراموش کیا! اور خود شہر رسول کے پاکستانی ہوٹل کی سمت چل پڑا، اب سپیدۂ صبح بھی ساری فضا کو اپنی ضیا باریوں سے منور کرچکا تھا، مالک ہوٹل سے مکان کے لئے بات کی ، اس اللہ والے نے ایک ایجنٹ کا پتہ دیا جو کہ ملتان کا رہنے والا تھا، اور پاکسـ.ـتانی بھائی تھا، آخر بابِ مجید یہ کی طرف بڑھتا ہوا مدینۃ الرسول کے مشہور و معروف اور پاکسـ.ـتانیوں کے مابین ہر دل عزیز معلم جناب سید حیدر الحیدری صاحب کے دفتر پہنچا،ان سے ملا، بات چیت ہوئی، ایسا شیریں گفتار، مرنجان مرنج ، من موہنی صورت اور بردبار انسان شاید ہی پہلے کبھی آنکھوں نے دیکھا ہو! صاحب جلال بھی اور جمال بھی، مدینۃ النبی کے روایتی گداز و حلم کا جیتا جاگتا ثبوت ، نرم خوئی، محبت اور جذبہ اخوت کی جیتی جاگتی تصویر، یہ پیکر عجز وانکسار خود بھی خلیق و ہمدرد اور اس کے رفیقان کار بھی مونس و غمخوار ۔ مکہ شریف کے معلمین اور ان کے ایجنٹوں کی ضد، جگہ کے لئے پریشانی کا اظہار کیا، اس نیک دل نے تسلی دی، حوصلہ بڑھایا تھکن دور ہوئی اور غم آشیاں کافور ہوا،خوشی خوشی واپس آیا اور اُم صفوان بارگاہ قدوس میں سجدہ ریزیوں کے بعد محو ذکر تھی اور سردی کے مارے نیلگوں ہو رہی تھی۔ ہم نے سامان اٹھایا اور معلم موصوف کے دفتر آئے، دم لیا ، دانت صاف کئے ـ
فریدہ نے ایک عورت سے کمبل مانگ کر اپنے ٹھٹھرتے ہوئے جسم کو اچھی طرح ڈھانپ لیا، معلم صاحب کے کارندوں نے اپنی عمارت کے وہ کمرے دکھائے جو ابھی تک خالی پڑے تھے ، کرایہ کی زیادتی اور ساتھیوں کا نہ ہونا سد راہ بنے ۔ اب دن کے اجالوں نے رات کے اندھیروں کا پوری طرح صفایا کردیا تھا اور مدینہ الرسول میں آنے والوں کی تعداد و کثرت ہر آن بڑھنے لگی ،اتنے میں دو (میاں بیوی ) ملتان کے رہنے والے بزرگ، جو کہ زندگی میں دوسری بار بیس سال کے بعد حرم کعبہ اور حرم نبوی میں داخل ہوئے تھے۔ زہے نصیب، اور ایک انتہائی شریف پاکستانی نوجوان ، انگلینڈ سے کمر ہمت باندھے، دوسری بار حج کی سعادتوں سے بہرہ مند ہوئے تھے۔ وہ بھی کمرہ لینے کے لئے ہمارے ساتھ مل گئے ۔ اب ہم مل کر مکان لینے والے پانچ ساتھی بن گئے تھے ۔ ہم پانچوں ساتھیوں نے مشورہ کیا کہ کیوں نہ معلم کی عمارت سے باہر کوئی مکان دیکھ لیں۔ اللہ مسبب الاسباب ہے۔ اللہ رب العزت نے یہاں بھی ہماری یاوری کی اور ہمارا مسئلہ رہائش صبح آٹھ بج تک حل ہوگیا۔ ہمیں محلہ مجیدیہ میں جامع نبوی کے بالکل قریب دوسری منزل پر ایک کشادہ کمرہ مل گیا جو روشنی،ہوا، پانی اور دیگر ضروریات کے لحاظ سے بہترین تھا۔

سامان اٹھایا اور چل دیئے ۔ کمرہ پر قبضہ کیا ، ناشتہ کا سامان اور چولھے کیلئے تیل خریدا۔ پھر ناشتہ تیار کیا گیا۔ ناشتے سے جسم میں توانائی عود کر آئی اور چائے نے رگ وریشے میں حرارت پیدا کی، مدینہ شریف کا موسم نہایت سرد تھا، مدینہ الرسول میں رہائش مکہ شریف کی نسبت بہت سستی مل جاتی ہے ؛لیکن ہر جگہ رہائش کے لئے چند اچھے ساتھیوں کو ساتھ ملالینا بہت ہی فائدہ مند رہتا ہے،نماز فجر کے بعد چونکہ مکان کی فکر میں لگ گئے تھے، اس لئے ابھی تک روضہ اطہر پر درود وسلام کے ہدیے پیش نہ کرپائے تھے؛ لہذا وضو کیا اور حرم نبوی میں یہ دعا پڑھتے ہوئے(: ”اللهم افتح لى أَبْوَابَ رَحمَتِكَ “ اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے!) داخل ہوئے۔

سب سے پہلے تحیۃ المسجد کے دو نفل پڑھے، جو صبح نماز سے پہلے ، اور نہ بعد میں اب تک پڑھ پائے تھے۔ دوگانہ کے بعد اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس کی عنایت خاص سے ہم دوسری بار مسجد نبوی میں اللہ کے حضور جبیں سائی کا شرف حاصل کر رہے ہیں اور پھر نہایت ادب و احترام اور خاموشی کے ساتھ مواجہہ شریف میں سلام کہا اور پھر درود و صلوۃ کا نذرانہ پیشِ رسول کیا ؛کہ اے بار خدایا رحمتیں بھیج اور برکتیں نازل فرما محمد بن عبداللہ پر اور آل رسول پر، برکتوں کا انداز اور رحمتوں کا رنگ وہی ہو جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر پیہم برستی اور پھر آل ابراہیم پر لگاتار سایۂ فگن رہیں اور درود و سلام وہی پڑھنا چاہیے کہ جو صاحب روضہ اطہر نے خود سکھایا ہے یعنی: السلام عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ ” اے نبی اکرم! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔“

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى
❤1
Mr Sid
*کاروانِ شوق دیار حبیب میں* ✍🏻... یونس بصیر آج دسمبر 1974ء کی ستائیس (27) اور ایام تشریق کا آخری دن ہے، رات کا سماں، فضا قدرے خنک، ٹیکسی میں کل چھ نفر، پندرہ منٹ اوپر دس پر ٹیکسی چلی، ہم نے سفر کی دعائیں پڑھیں، اور پھر درود و سلام کا سلسلہ دراز ہوا، چھوٹتے…
إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .
اے اللہ رحمت بھیج حضرت محمد پر اور اوپر آل محمد کے، جیسے رحمت بھیجی تونے حضرت ابراہیم پر اور اوپر آل ابراہیم کے، بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے،اے اللہ برکت نازل کر حضرت محمد پر اور اوپر آل محمد کے جیسے برکت نازل کی تو نے ابراہیم پر اور اوپر آل ابراہیم کے۔ بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے۔“

روضہ اطہر پر اپنی فصاحت و بلاغت اور چرب زبانی کو ہرگز کام میں نہیں لانا چاہیے۔ بڑا ہی نازک مقام ہے اور انہیں اندیشوں کے تحت کسی عارف باللہ نے کیا خوب پتے کی بات کہی ہے :
با خدا دیوانہ باش و با محمد ہشیار باش!!

ادب و احترام اور احتیاط کے ساتھ زبان کو حرکت میں لائیں! پہلے سو دفعہ سوچیں پھر کچھ بولیں! وہ بھی نہایت دھیمی آواز میں،یہاں آواز کو بلند کرنا اور شور مچانا سوء ادب ہے، ادب و احتیاط کی مزید تاکید کرتے ہوئے کسی نیک دل اور درویش شاعر نے کیا خوب نصیحت کی ہے:

ادب گاہیست زیر آسمان از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید، جنید و بایزید ایں جا

آج اسی نبئ رحمت اور فخر موجودات، خلاصۂ کائنات اور سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اقدس پر کھڑے ہیں کہ جس کی بعثت سے پہلے پوری دنیا ضلالت و گمراہی اور تاریکی و ظلمات کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہی تھی اور نکبت و ادبار اور ظلم و جہالت، شرک والحاد کے تاریک بادل ہر سو چھائے ہوئے تھے،باطل کے طوفانی جھکڑ شمال سے جنوب اور مشرق سے مغرب تک تباہی و بربادی کا پیغام لئے زوروں پر چل رہے تھے۔ باطل کے یہ طوفانی جھکڑ اور جہالت کی یہ آندھیاں شمعِ توحید کو ہمیشہ کے لئے گل کردینا چاہتی ہیں؛مگر مشیت ایزدی اور قانون فطرت کی منشا کچھ اور ہی معلوم ہوتی ہے،باطل کو آخر کار حق کے سامنے گھٹنے ٹیکنے ہی پڑیں گے ،کفر و شرک فسق و فجور ظلم وستم اور خون و خوں ریزی کا دور دورہ تھا، ہر طرف بدی کا راج، ہر جانب شر کے شرارے،صفحۂ ہستی پہ بسنے والے اپنے رب سے نا آشنا ہوکر کئی رب بنا بیٹھے تھے،کوئی لات و منات کا شیدا، تو کوئی عزی وھبل پہ فدا، کوئی دیوتاؤں کا قائل، تو کوئی شمس و قمر پہ مائل، کچھ آگ کو یزداں بنا بیٹھے، اور بعض درختوں کے زیر سایہ انہی سے لولگا بیٹھے، کوئی سانپ کی زہرناکیوں کے باوجود اس کا ہو بیٹھا، کوئی تثلیث کی مثلث میں گرفتار ہوا، تو کوئی موسیٰ و عزیر کو معبود بنا بیٹھا، کوئی دریاؤں کی روانی میں محو ہوکر پوجا کے پھول بہتے ہوئے پانیوں کی نذر کرتا رہا، اور تو اور ارضِ خدا پر اللہ کا پہلا گھر جو تو حید والوہیت اور نور و ھدی کا سر چشمہ اور سید نا ابراہیم خلیل اللہ کی ایمانی و تعمیری کاوشوں کا مظہر تھا، مختلف خداؤں سے بھر دیا گیا، روشِ آذری کا ہر جگہ چلن ہوا، اور رنگ ابراہیمی شرک کے گرد و غبار اور کفر کے اندھیاروں میں تھوڑی دیر کے لئے چھپ گیا ۔ آخر کب تک؟

حضرت انسان سب کو جانتا اور پہچانتا تھا، اگر کسی کو نہیں جانتا تھا تو وہ قادر مطلق کی ہستی تھی، حضرت مولانا مودودی نے ضعیف العقیدہ لوگوں کی کیا خوب تصویر کشی کی ہے: ”اندھیرے میں بھٹکنے والوں کا ہاتھ جس چیز پر بھی پڑگیا وہ خدا بنائی گئی“ـ
روئے زمین پر اگر کوئی اللہ کو خالق ، مالک، رازق اور رب مانتا بھی تھا ، وہ بھی شراکت کے ساتھ، اللہ کی ذات میں کسی کو شریک بنا لینا مشرک کے لئے کوئی بڑی بات نہیں! مشرکین کے زعم میں یہ خدا نہیں ؛بلکہ خدا کے ہاں ان کے سفارشی ہیں، اللہ رب العزت سب کے گناہ معاف کرسکتے ہیں اور ان شاء اللہ کر بھی دیں گے ؛مگر مشرک کو کبھی نہیں بخشیں گے، یہ اٹل فیصلہ ہے!! مشرکین جو جگہ جگہ ماتھا ٹیکتے ہیں اور اکیلے رب کو نہیں مانتے ، ایک مواحد شاعر نے دعوت وارشاد اور تبلیغ کا کیا اچھوتا انداز اختیار کیا ہے!

تا چند کہ از چوب کہ از سنگ تراشی
بگزر بخدا کہ صد رنگ تراشی


( صحن حرم، صفحہ: 116،طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤1
ایک موضوع پر مضمون کیسے تیار ہوتا ہے؟

علامہ سید سلیمان ندویؒ، سید وحید احمد قیصر ندوی مرحوم کو ایک خط میں لکھتے ہیں:

کسی مضمون کے لیے مواد ملنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ آدمی مطالعہ کرتا رہتا ہے، اس میں کسی خاص قسم کی بات جب متعدد پاتا ہے تو اس کو نوٹ کرتا جاتا ہے۔ پھر مزید تلاش سے اُس قسم کے واقعات ملتے ہیں تو ایک موضوع پر مضمون تیار ہوجاتا ہے۔

(خطوطِ سلیمانی، صفحہ: ١٦٦/١٦٧/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)

https://telegram.me/ilmokitab
❤1
Mr Sid
إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ . اے اللہ رحمت بھیج حضرت محمد پر اور اوپر آل محمد کے، جیسے رحمت بھیجی تونے حضرت ابراہیم پر اور اوپر آل ابراہیم کے، بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے،اے اللہ برکت نازل کر حضرت محمد پر اور اوپر آل…
*مسجد نبویؐ کا جمال و جلال*

✍🏻... یونس بؔصیر


بیت اللہ اگر رب ذوالجلال کی عظمت و جلالت، ہیبت و سطوت اور شان و شوکت کا مظہر ہے،تو مسجد نبویؐ اس کی رحمانیت و رحیمیت اور قدوسیت وربوبیت کی جمال آرا،ظاہری شکل و صورت بھی ایسی کہ دنیائے فن و تعمیر میں اپنی مثال آپ،فنی ندرتوں،تعمیری کاوشوں اور لازوال قدامتوں کا حسین امتزاج، وقت کا ہر خلیفہ اور سلطان اس کے نقش و نگار اور وضع قطع میں رنگ بھر کر اپنی حسرتوں کی تکمیل کرتا رہا،محبت و عقیدت اور خلوص و نیاز کی یہ گلکاریاں ہر ہر در و دیوار سے ہویدا ہیں، بیل بوٹوں کی رنگ آمیزیاں اتنی جاذب نظر اور دلکش کہ ہر زائر کی آنکھ ٹکٹکی باندھے محو حیرت ہے،اعلیٰ پچی کاریوں اور رنگا رنگ صنعت کاریوں اور خط گذاریوں کی قوس قزح دیکھنی ہو تو مسجد نبویؐ کے در و دیوار دیکھو!خطاطی کے نادر نمونے، نیز مسجد نبوی میں نادر و نایاب اور انتہائی قیمتی پتھر استعمال کئے گئے ہیں،سنگ مرمر،سنگ سیاہ اور سنگ سبز نہ معلوم کس کس پہاڑ سے تراشے گئے اور ان پتھروں کے نصیب میں مسجد نبوی میں نصب ہونا لکھا تھا،کس کس اللہ والے نے ان پر جبیں سائی کی اور قیامت تک مسجد نبوی کے فرش پر جبیں سائی ہوتی رہے گی ـ
مسجد نبوی میں ہر سال، ہر ماہ، ہر دن نت نئے اضافے ہوتے رہتے ہیں، توسیع واضافہ ایک ناگزیر عمل ہے،حرم نبوی کے ارد گرد تمام پرانے مکانات سعودی حکومت نے قابضین سے خرید کر حرم کی توسیع کردی ہے، اس وقت مسجد نبوی بہ لحاظ رقبہ بھی دنیا کی تمام مسجدوں سے بڑی شمار ہوتی ہے، تہذیب ، نفاست اور تعمیر و صنعت کا یہ مرقع دن بدن نکھرتا ہی چلا جائے گا۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں حجرۂ رسول کے متصل کشادہ زمین پر کھجور کی چھت والی یہ جامع نبوی آج فن تعمیر کے لحاظ سے یگانہ روزگار ہے،مسجد نبوی کی وسعتوں کے باوجود انسانوں کا ہر دم اور ہر گھڑی امڈتا ہوا ہجوم نماز کے لئے ہر اس شارع پر صفیں باندھ لیتا ہے جو حرم نبوی سے متصل ہو۔ مسجد سے کہیں زیادہ نمازی سڑکوں پر،گلیوں میں اور ہوٹلوں کی چھتوں پر جبیں سائی کے مزے لوٹتے ہیں،بیت اللہ شریف کی طرح کبوتر یہاں بھی ڈیرہ جمائے ہوئے ہیں، گؔنبد خضرا کے اوپر دائیں بائیں، میناروں پر،صحن حرم میں اڑ اڑ کر بیٹھتے اور گھڑی دو گھڑی بیٹھ کر پھر محو پرواز ہوجاتے ہیں۔
اصحاب صفہؓ تو اللہ کو پیارے ہوکر خُلد نشیں ہوگئے؛ لیکن ان مرغانِ خدا نے بھی خلوص و پیار اور مہر و وفا کی حد کر دی ؛کہ ہمیشہ کے لئے اس فضائے نور میں آباد ہو کر رہ گئے، نہ جانے ان میں کتنے ہیں جو اسلاف کے ہاتھوں دانہ کھانے والوں کی ذریت ہیں۔

حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کا اولین منبر بھی دیکھا، جس پر سؔتون حنانہ کے سہارے کھڑے ہو کر رشد و ہدایت کے موتی لٹاتے،حق و صداقت کی تلقین کرتے ، نور معرفت اور توحید و الوہیت کا درس لازوال دیتے، صبر و شکر اور تو کل وقناعت کے انداز سکھاتے، تبلیغ و وعظ اور علم وحکمت کی تاکید کرتے، اسرار دین اور رموز شریعت کی عقدہ کشائی کرتے، جنگوں کی تدبیریں یہیں ہوتیں ، تنزیل وحی کے جاوداں بیانات صحابہ کرامؓ کے گوش گزار کرتے، حضورؐ کے فراق میں اسی ستون حنانہ نے غم فرقت کے آنسو بہائے تھے۔

اس کے بعد اصحاب صفہؓ کا چبوترہ بھی دیکھا،جہاں آج بھی اللہ والے بیٹھے ہوئے سراپا وجد و حال اور دنیا کے بکھیڑوں سے کنارہ کش ہوکر محو ذکر و تلاوت ہیں اور اللہ کے مکھڑے کی جھلک کے طالب(جو ان شاء اللہ اہل جنت کو نصیب ہوگی) یہاں بیٹھ کر تلاوت قرآن کا حظ ولطف وہی جانتا ہے جو اس چبوترے پر چند ساعتیں بیٹھا ہو، یہ وہی مقدس چبوترہ ہے جس پر عشق بازوں اور اللہ والوں کی جماعت دن رات بیٹھے ہوئے ذکر و مراقبہ میں محو رہتی،پھر انہی اصحاب صفہ کی جمعیت خاطر اور دل جمعی کے لئے رب العرش نے دو بار نبی رحمتؐ کو تلقین کی :

{وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ}

” اور آپ ان لوگوں کو دور نہ کریں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام، وہ اس کی رضا چاہتے ہیں ۔ (الانعام: ۵۳)“

مسجد نبوی کا کونہ کونہ اور گوشہ گوشہ ذکر و حمد اور درود و سلام کی تکرار سے گونج رہا ہے،قرب رسولؐ میں کہا ہوا سلام و درود اور مسجد نبوی میں مانگی ہوئی رحمتیں جھوم جھوم کر آتی ہیں۔ اللہ تعالی خود ثنائے خواجہ صلي الله عليه وسلم ہیں،درود و سلام کی ان گنت رحمتیں اپنے پیارے اور مقدس رسول پر نچھاور کر رہا ہے،فرشتے بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں؛ وہ بھی درود و سلام کے ہدیے بارگاہ رسالتؐ میں پیش کر رہے ہیں اور پوری دنیائے اسلام کے مومنین تو ہر دن نماز میں پانچ مرتبہ جہانوں کے رب سے حضور پر نور کی خاطر اپنی جھولیاں پھیلاتے ہیں کہ: اے مالک ارض و سماء! اپنے پیارے حبیب پر رحمتوں کا مینہ برسا! اور برکتوں کے انوار نازل فرما! آمین!
❤5
Mr Sid
إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ . اے اللہ رحمت بھیج حضرت محمد پر اور اوپر آل محمد کے، جیسے رحمت بھیجی تونے حضرت ابراہیم پر اور اوپر آل ابراہیم کے، بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے،اے اللہ برکت نازل کر حضرت محمد پر اور اوپر آل…
مسجد نبوی کے ہر ہر حصے کو جی بھر کر دیکھ لینے اور ہر ہر نقش و نگار کو پوری طرح آنکھوں میں بسا لینے کے بعد ہم دونوں حرم نبوی سے باہر نکلے اور گھر آئے۔

آج 28 دسمبر ؁74ء ہے ،سارا دن بار بار گھر آنے اور گھر سے مسجد نبوی تک جانے میں گزر گیا اور ہمیں مدینۃ الرسول میں ورود مسعود کے پہلے دن ہی جامع نبوی میں باجماعت نماز پوری پانچ مل گئیں اور پھر یہ سلسلۂ ذوق و شوق اور جوش و ولولہ اور خلوص و عمل ۷ جنوری ۷۵ ء؁ تک جاری رہا، ہر نماز تکبیر اولی کے ساتھ باجماعت ادا کی گئی، اپنے مختصر قیام میں جامع نبوی میں چھیالیس نمازیں حصہ نصیب ہوئیں ۔ اللہ رب العزت قبول کریں۔ آمین۔
فرمودۂ رسول ہے ”میری مسجد میں چالیس نمازیں پڑھ لینے کے بعد جہنم کی آگ حرام ہو جاتی ہے۔“ اور پھر ایک دوسری حدیث میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ: "یہاں ایک نماز کا اجر و ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔“

بزرگی اور تقدس کے لحاظ سے جامع نبوی اس کائنات رنگ و بو میں دوسرے درجہ پر ہے۔

( صحن حرم، صفحہ: ۱۳۳، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤3
*کتابوں اور مجلات کی موضوعاتی فہرست سازی(۱)*
* تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل) *

سنہ ۱۹۲۸ ء میں بریل پریس ہالینڈ سے ڈچ مستشرق ڈاکٹر A. J. Wensink کی ترتیب کردہ احادیث نبویہ و سیرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابوں صحاح ستہ ، سنن الدارمی، موطا امام مالک، مسند احمد ، مسند ابو داؤد الطیالسی، طبقات ابن سعد، سیرت ابن ہشام ، اور مغازی الواقدی کی موضوعاتی فہرست مفتاح کنوز السنۃ کے عنوان سے جب شائع ہوئی تھی، تو اس وقت کے عظیم مفکرو عالم دین علامہ رشید رضا مدیر مجلہ المنار مصر نے اس کتاب کے عربی ایڈیشن کے مقدمہ میں اس کے بارے میں اپنے ان جذبات کا اظہار کیا تھا۔
" میری نصف سے زیادہ عمر بچا لیتی جو میں نے مطالعے میں صرف کی ہے ، لیکن یہ اس کتاب (مفتاح كنوز السنة) کی جگہ نہیں لے سکتی تھی، کیونکہ وہ صرف آپ کو ان قولی احادیث کے مقامات کی رہنمائی کرتا ہے جن کے اوائل آپ جانتے ہیں، اور یہ آپ کو تمام قولی اور عملی سنتوں اور ان کے معنی میں شامل چیزوں جیسے شمائل، تقریرات، مناقب، مغازی وغیرہ کی رہنمائی کرتا ہے ۔اگر یہ یا اس جیسی کوئی چیز میرے پاس ہوتی - تو سیرت کی کتابوں میں مشغول ہونے کے آغاز سے ہی میری عمر کا وہ حصہ بچ جاتا جو میں نے ان کی تلاش میں صرف کیا"( ) "
اور اس کتاب پر تقریظ میں عظیم محدث علامہ احمد محمد شاکر نے اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا۔
" میں پچیس سال سے علوم حدیث اور اس کی کتابوں پر کام کر رہا ہوں، اور میں نے ان میں سے بہت سے (علوم حدیث) کو بڑے بڑے مشائخ سے سن کر اور پڑھ کر حاصل کیا ہے، اور ان میں سرفہرست میرے والد محترم استاد جلیل القدر شیخ محمد شاکررحمۃ اللہ علیہ ہیں جو جامع الازہر کے سابق انڈر سکریٹری تھے، اور عظیم حافظ حدیث علامہ سید عبد اللہ بن ادریس السنوسی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں جو مراکش کے عالم دین اور شیخ المشائخ تھے، اس کے باوجود مجھے کئی بار کچھ احادیث کو ان کے مآخذ میں تلاش کرنے میں دشواری پیش آئی، اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ میں تقریباً پانچ سال تک سنن الترمذی میں ایک مخصوص حدیث کی تلاش میں رہا، اور امام ترمذی کی یہ وہ کتاب ہے جو میں نے اپنے والد سے پوری سن کر حاصل کی تھی، اور اس سے مجھے خاص لگاؤ اور بہت زیادہ دلچسپی ہے "( )
آج سے ایک صدی پیشتر دو ر جدید میں تیار ہونے والے حدیث کی کتابوں کے پہلے اشاریہ پر جن جذبات کا اظہار اس وقت کے عالم اسلام کے چوٹی کے دو عالموں نے کیا ہے، اور کتابوں کی اشاریہ سازی کی ضرورت پر جوروشنی ڈالی ہے، اس سے کتابوں کی موضوعاتی اشارہ سازی کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے، اور جوں جوں علم اور معلومات کے وسائل بڑھ رہے ہیں اسی قسم کے علمی کاموں کی ضرورت اور افادیت میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ حالانکہ اس دوران خاص طور پر گذشتہ ربع صدی میں دنیانے معلومات کی فراہمی کے وسائل کے حصول میں جو ترقی کی ہے،ماضی میں اس کی نظیر نہیں ملتی، اس دوران کمپوٹر، انٹرنٹ سے ترقی کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے میدان میں اچانک اس نے بڑی اونچی چھلانگ لگا دی ہے۔ اور معلومات کی تلاش میں آسانی کے ذرائع بہت آگے کو بڑھ چکے ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے وینسنک کی مفتاح کنوز السنہ، اور المعجم المفھرس لالفاظ الحدیث سے استفادہ کیا ہے، وہ گواہی دیں گے کہ سرعت معلومات کی اس چکاچوند میں تلاش کی سہولت پیدا کرنے کی یہ کوششیں اب پرانی ہوچکی ہیں، اور ان کی حیثیت اب جگنؤوں کی روشنی جیسی بن گئی ہے، باوجود اس کے اب بھی ان اشاریوں کی افادیت باقی ہے۔ ابھی ان کی ضرورت ختم نہیں ہوئی ہے۔
وینسنک کے تیار کردہ احادیث کے اشاریہ کی اہمیت اب بھی اس لئے ختم نہیں ہوئی ہے کہ یہ موضوعاتی فہرست ہے، اور اس کی تیاری میں انسانی دماغ کے فکر اور تدبر کی صلاحیتیں استعمال میں لائی گئی ہے، یہ احادیث میں استعمال ہونے والے صرف الفاظ کی فہرست نہیں ہے۔ کہ الفاظ کو نقل کیا اور صفحات کے نمبر سامنے رکھ دئے۔ مفتاح کنوز السنۃ کی اشاعت پر ایک صدی گذر رہی ہے، لیکن جہاں تک ہماری معلومات ہیں اب بھی حدیث کا اس معیار کا کوئی اشاریہ سامنے نہیں آیا ہے۔ حالانکہ اس دوران ہزاروں حدیث کی کتابیں پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی ہیں، اور یہ تو ابتدا میں اشاعت پذیر صرف چودہ کتابوں کا اشاریہ تھا، جن میں حدیث کی کتابوں کی تعداد دس (۱۰) ہی تھی ۔ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر حدیث کی دوسری کتابوں کا بھی اس طرح موضوعاتی اشاریہ ترتیب دیا جاتا تو احادیث نبویہ سے استفادہ مزید کتنا آسان ہوجاتا ۔
❤2
کتابوں کے اشاریوں پر مغرب کے دانشوروں نے بہت کام کیا ہے، ان کی کوئی اہم تحقیقی کتاب اشارئے سے خالی نہیں ہوتی ۔ بعض مصنفین کے بقول اشاریہ نگاری کے "فن کا آغاز انیسویں صدی میں انگلستان سے ہوا تھا، لیکن اس کی نشوونما امریکہ میں ہوئی اور یوں اشاریہ نگاری کے ایک اہم عہد کا آغاز ہوا"۔ ہماری رائے میں پریس کی ایجاد کے بعد شروع ہونے والی اشاریہ سازی کی موجودہ ترقی یافتہ شکل جس میں کتاب کے صفحات اور نمبرات کا اندارج ہوتا ہے، اس کی ایجاد کا سہرا انگلستان پر سجانا ایک حد تک درست ہوسکتا ہے، لیکن اگر مقصود تک پہنچنے کے لئے الف بائی ترتیب سے موضوعات کو ترتیب دینے کی پہلی شکل کا تعلق ہے تو اس کا سہرا بھی دوسرے کئی سارے علوم وفنون کی طرح مسلمانوں کو جانا چاہئے۔
یہ بات ہر کسی ذی فہم کے ذہن میں رہتی ہے کہ مختلف قومیں اپنے دور عروج میں علوم فنون کو اپنے حالات کے مطابق ترویج دیتی ہیں، جب انہیں زوال ہوتا ہے تو عروج کی مسند پر بیٹھنے والی نسلیں اسے ترقی کے پائیدانوں پر مزید اوپر چڑھاتی ہیں۔ چودھویں صدی عیسوی میں یورپ کے عروج سے قبل مسلم سلطنیں بھی اپنے وسائل کے لحاظ سے ترقی یافتہ تھیں، لیکن جب یورپ نے ترقی کی مسند مسلمانوں سے چھین لی تو پھر ان کے دور میں جہازوں کے تختوں کو جوڑنے کے لئے لوہے کی میخوں کے استعمال ، اور پھر بارود اور بھاپ کی طاقت کا ہاتھ لگنا، جیسی ایجادات کے بعد تو پھر یورپ میں ترقی کی رفتار پہلےسے کئی گنا بڑھ گئی۔ اور قدیم ایجادات کی روشنی ایسی ماند پڑگئی کہ وہ ایجادات ہی آئندہ نسلوں کی نگاہوں سے بالکل اوجھل ہوگئیں۔ اور اس زمانے کی سائنسی تعلیم ،ڈاکٹریٹ اور پوسٹ گریجویشن کے بالمقابل طفل مکتب کی تعلیم نظر آنے لگی، حالانکہ مکتب کی تعلیم ہی تو بنیاد ہوتی ہے، اور ڈاکٹریٹ اور پوسٹ گریجویشن، طفل مکتب بنے بغیر ممکن نہیں ہوتی ہے۔ لہذا ہم دیکھیں گے کہ فن اشاریہ جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے، اس کی ابتدائی شکلیں اور خاکے مسلم علماء ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔
علامہ احمد محمد شاکر جن کا ذکر اوپر آیا ہے وہ اس سلسلے میں فرماتے ہیں کہ " اس دور میں اس کتاب اور اس جیسی کتابوں کی ہماری ضرورت، سابقہ سنت کے علماء کی کسی کوتاہی یا اس کی خدمت میں کسی قسم کی کمی کی نشاندہی نہیں کرتی ، کیونکہ انہوں نے - اللہ ان کو جزائے خیر دے اور ان کے چہروں کو روشن کرے - روایت، حفظ، اور حدیث کی تدوین میں مسانید، جوامع، اور عمومی و خاص سنن میں جو عقائد اور احکام سے متعلق تھیں، ہر وہ کام کیا جو واجب، مندوب، اور مستحب تھا ، اور ان میں سے صحیح احادیث کو الگ کیا اور ان پر مستخرجات اور مستدرکات کو مکمل کیا ، اور ان کے مفردات اور اوائل کے لیے معاجم تیار کیں تاکہ مطالعہ آسان ہو ۔اس کے علاوہ، تمام دوسری اقوام سے پہلے انہوں نے اپنے راویوں اور دیگر علماء کے حالات مرتب کئے ، اور ان میں سے بعض کو حروف تہجی پر اور بعض کو طبقات پر ترتیب دیا ، اور ان کے لیے جرح و تعدیل کا سیدھا میزان قائم کیا، تاکہ ان کی روایات میں سے مقبول اور مردود کو پرکھا جا سکے ۔ اور ہر موضوع میں ہر صحابی کی روایات کو بیان کرنے والی اطراف کی کتابیں تصنیف کیں، اور انہیں حروف پر ترتیب دیا( )
اشاریہ سازی میں کتب لغت کو ماں کی حیثیت حاصل ہے، اس میں بھی مطلب تک کم وقت میں آسانی سے پہنچنے کے لئے الف بائی ترتیب کو بنیاد بنا یا جاتا ہے۔ اشاریہ سازی کی راہ تک انسانی ذہن معاجم ہی کے راستے پہنچا ہے۔ اور پہلی صدی ہجری میں پیدا ہونے والے "العین " کے مصنف خلیل بن احمد الفراہیدی (ف. 175 ھ/ 791 ء) سے لے کر آٹھویں صدی ہجری کے "المصباح المنیر "کے مصنف احمد بن محمد علی الفیومی المقری (ف ۷۷۰ھ ۔ ۱۳۶۸ء) تک کتب لغت اس ترقی کی انتہاء تک پہنچ گئی تھیں، انگلستان کے علماء کو کوئی چھ سو سال بعد اس میں کچھ اضافہ سجھائی دیا، اگر مسلم غلبہ کے دور میں پریس رائج ہوگیا ہوتا تو یہ مصنفین اس میدان میں کیا کچھ ترقی نہ کرتا پاتے ، اور اس میدان میں مغرب کو کتنا پیچھے چھوڑ گئے ہوتے!۔ آئیے ان چند منتشر باتوں کے بعد مزید تفصیل سے اشاریہ سازی کا مقصد جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ (جاری)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤2
آج اردو کے عظیم ادیب ونقاد ولغت نویس *ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری* کا یوم وفات ہے، آپ وفات مورخہ 2/ جون 1992ء کو ہوئی تھی،اس مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز میں ریکارڈ شدہ آب بیتی اردو آڈیو ڈاٹ کام میں پیش کی جارہی ہے۔
لنک انٹرویو(01)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-01, Interview 01
لنک انٹرویو(02)

https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-02pxwktojnkvmqzhg0wb6cgyzt0hssgglv, Interview 02
لنک انٹرویو(03)

https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-03yt2vzqbcc6s2ecf4lpe92vwkgnvfy6kd, Interview 03
لنک انٹرویو(04)

https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-04, Interview 04

WA:00919741136475
❤1
Mr Sid
*مسجد نبویؐ کا جمال و جلال* ✍🏻... یونس بؔصیر بیت اللہ اگر رب ذوالجلال کی عظمت و جلالت، ہیبت و سطوت اور شان و شوکت کا مظہر ہے،تو مسجد نبویؐ اس کی رحمانیت و رحیمیت اور قدوسیت وربوبیت کی جمال آرا،ظاہری شکل و صورت بھی ایسی کہ دنیائے فن و تعمیر میں اپنی…
*شہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کوچے و بازار*

✍🏻... یونس بصیر

کسی صاحب دل نے کیا خوب کہا ہے : ”کوچۂ جاناں کا ہر ذرہ چراغ طور ہے“
مکۃ المکرمہ میں سربفلک اور عظیم الشان عمارات کی جدتوں کا جلال و جمال بھی دیکھا اور شہر رسول میں مکانات کی قدامتوں کا حال بھی ،حرم نبوی کے اردگرد تقریباً تمام مکانات ماسوائے چند جدید ہوٹلوں کے پرانی وضع لئے ہوئے ہیں،«مسجد قبا» روڈ پر دو رویہ جدید طرز تعمیر کے دو منزلہ فلیٹ ٹائپ مکان ہیں، ورنہ مدینہ قدیم تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے پنجاب کا کوئی چھوٹا سا شہر یا بڑا قصبہ، در و دیوار کی وہی شکستہ حالی، تنگ گلیاں اور وہی کوچہ، بازار جو اپنی قدامتوں پر آپ شاہد ہیں ۔ ہوٹل کو عربی میں ˝فندق˝ کہتے ہیں، بڑے بڑے جدید ہوٹلوں کی تعمیر روز افزوں ہے، غربت و افلاس کے چنگل سے یہ صابرین و شاکرین تیزی کے ساتھ نکل رہے ہیں۔ مہاجرین و انصار کی یہ اولادیں جو ہر سو چہل پہل میں مصروف نظر آتی ہیں، ان کو دیکھ کر دل فرط محبت اور عقیدت سے بے اختیار ہو جاتا ہے،ان گلیوں میں انہی راہوں سے اور انہی پاک فضاؤں میں حضور نبی اکرم کئی بار اپنے جانثاروں کے جھرمٹ میں گزرے ہوں گے۔ ان پاک راہوں میں چلتے وقت عالم تصور میں خیالوں کے گھوڑے ہر طرف جولانیاں کرنے لگ جاتے ہیں، انہیں فضاؤں میں کبھی سیدنا بلال کی اذان کا کڑکا سوتوں کو بیدار اور بیداروں کو سوئے حرم نبوی حرکت زن کرتا ہوگا۔ اقبال نے مومن کی اذان کی شان میں کیا خوب کہا ہے:

وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود

ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذان سے پیدا

اسی شہر وفا میں مہاجرین و انصار کی محبت و اخوت کی ایسی درخشندہ مثال قائم ہوئی جو متقدمین اور آنے والی نسلوں کے لئے آج بھی شمع راہ ہے، ایثار و قربانی کا یہ عالم اور خلوص و بھائی چارے کا یہ حال کہ رہائشی مکان تو در کنار ، انصار میں سے وہ عباد الرحمن، جن کے پاس دو بیویاں تھیں وہ ایک بیوی اپنے مہاجر بھائی کو دینے کے لئے اصرار کرتے؛ لیکن مہاجرین نے یہ ایثار قبول نہ کیا،تاریخ عالم ایسی عدیم المثال قربانی کی مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے۔ کاروبار کے لئے مہاجرین بھائیوں کو دولت دی،کھیتی باڑی کے لئے زمین دی، باغات میں شامل کیا، کسی قسم کی بھی قربانی ہو، بھرپور مدد کی۔

اہل مدینہ آج بھی اسی طرح حلیم الطبع اور نرم خو ہیں، سختی اور درشتی ان میں نہیں ہے،اس شہر سے خدائی لشکر اٹھ اٹھ کر قیصر و کسرٰی کی تباہی و ہلاکت کا موجب اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کی حیات تازہ کا سبب بنے! انہی گلیوں اور چوراہوں میں اسلامی لشکر ترتیب دیئے جاتے!مہاجرین کے لئے عظیم پناہ گاہ اور اہل اسلام کی اولین اور زبردست چھاؤنی!اس مقدس شہر میں حضور اترے، یہیں ڈیرہ جمادیا اور پھر وصال کے بعد یہیں خلد نشین ہوئے، انصار کا ساتھ نہیں چھوڑا ، رہے نام اللہ کا!!

فتح مکہ کے بعد کچھ انصاریوں کو اندیشہ لاحق ہوا کہ:”شاید اب ہم فیضانِ نبوت سے محروم ہوجائیں گے ؛لیکن اللہ کے پیارے نبی نے ان کی وفاؤں کا صلہ یوں دیا کہ دارالہجرت کو ہی اپنا شہر قرار دیا۔“

یہ وہی در و دیوار ہیں جن سے آج بھی انصاریوں کی مہمان نوازی،جذبۂ خلوص و پذیرائی، ہمدردی و غم خواری،جانثاری و جاں سپاری، وفا و اخلاص، محبت و اخوت اور حلم و بردباری کی ہردم تازہ مہک اٹھ رہی ہے،اس خطۂ پاک کا ہر ذرہ پاک اور ہر سنگ ریزہ مقدس ... کیا جانیں کتنی بار ان ذروں اور ان راہوں نے پابوسئ رسول کا شرف حاصل کیا، دیار حبیب کا چپہ چپہ پلکوں کے بل چلنے کے قابل ..! یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس مقدس شہر کا سارا کاروبار سمٹ سمٹا کر حرم نبوی کے زیر سایہ جاری ہوگیا ہے؛بڑے بڑے ہوٹل اور اہم کاروباری منڈیاں،اہم تجارتی دفاتر اور مراکز حرم نبوی کے پاس پاس ہیں،پرانے گھروں میں آج بھی بھیڑ بکریاں نظر آتی ہیں، یہ لوگ بکری کا دودھ بیچتے بھی ہیں۔

مدینہ شریف کی زمین زرعی ہے اور کھیتی باڑی ہوتی ہے۔ مکہ شریف کی طرح یہاں کی زمین پتھریلی اور چٹیل نہیں۔ کھجوروں کے باغات ہیں۔ یہاں کی کھجور میں اپنی شیرینی اور لذت کے لحاظ سے منفرد ہیں،ہر سال لاکھوں زائرین حج و عمرہ کو آتے ہیں، وہ تقریبا سب سوغات کے طور پر اپنے وطن میں کھجور ضرور لاتے ہیں،مدینہ شریف کے کوچہ و بازار میں ہر وقت چہل پہل اور گہما گہمی رہتی ہے۔ یہاں کے تاجروں کی چاندی ہے۔ تاجر پیشہ لوگ خوب دولت کماتے ہیں، سارا سال ان کا کاروبار عروج پر رہتا ہے اور اللہ کا فضل اتنا ہے کہ ان کے ہاں کبھی مندا نہیں ہوتا۔

مشہور ہے امام مالک روضۂ اطہر کے پاس بیٹھ کر حدیث کا درس دیتے تھے، فرمایا کرتے تھے کہ: ”دنیا میں ہر شخص کی بات رد کی جا سکتی ہے ماسوائے اس صاحب قبر کے“ مدینۃ الرسول کے احترام کا یہ حال تھا کہ کبھی اس شہر کی گلیوں میں سواری پر نہیں بیٹھتے تھے،رفع حاجت کے لیے حرم کی حدود سے باہر جاتے تھے، مدینۃ الرسول سے محبت کا یہ عالم تھا کہ سوائے حج کے سفر کے کبھی مدینہ شریف سے باہر نہیں گئے ،مسجد نبوی کے احترام کو ملحوظ
❤2