Mr Sid
إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ . اے اللہ رحمت بھیج حضرت محمد پر اور اوپر آل محمد کے، جیسے رحمت بھیجی تونے حضرت ابراہیم پر اور اوپر آل ابراہیم کے، بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے،اے اللہ برکت نازل کر حضرت محمد پر اور اوپر آل…
*مسجد نبویؐ کا جمال و جلال*
✍🏻... یونس بؔصیر
بیت اللہ اگر رب ذوالجلال کی عظمت و جلالت، ہیبت و سطوت اور شان و شوکت کا مظہر ہے،تو مسجد نبویؐ اس کی رحمانیت و رحیمیت اور قدوسیت وربوبیت کی جمال آرا،ظاہری شکل و صورت بھی ایسی کہ دنیائے فن و تعمیر میں اپنی مثال آپ،فنی ندرتوں،تعمیری کاوشوں اور لازوال قدامتوں کا حسین امتزاج، وقت کا ہر خلیفہ اور سلطان اس کے نقش و نگار اور وضع قطع میں رنگ بھر کر اپنی حسرتوں کی تکمیل کرتا رہا،محبت و عقیدت اور خلوص و نیاز کی یہ گلکاریاں ہر ہر در و دیوار سے ہویدا ہیں، بیل بوٹوں کی رنگ آمیزیاں اتنی جاذب نظر اور دلکش کہ ہر زائر کی آنکھ ٹکٹکی باندھے محو حیرت ہے،اعلیٰ پچی کاریوں اور رنگا رنگ صنعت کاریوں اور خط گذاریوں کی قوس قزح دیکھنی ہو تو مسجد نبویؐ کے در و دیوار دیکھو!خطاطی کے نادر نمونے، نیز مسجد نبوی میں نادر و نایاب اور انتہائی قیمتی پتھر استعمال کئے گئے ہیں،سنگ مرمر،سنگ سیاہ اور سنگ سبز نہ معلوم کس کس پہاڑ سے تراشے گئے اور ان پتھروں کے نصیب میں مسجد نبوی میں نصب ہونا لکھا تھا،کس کس اللہ والے نے ان پر جبیں سائی کی اور قیامت تک مسجد نبوی کے فرش پر جبیں سائی ہوتی رہے گی ـ
مسجد نبوی میں ہر سال، ہر ماہ، ہر دن نت نئے اضافے ہوتے رہتے ہیں، توسیع واضافہ ایک ناگزیر عمل ہے،حرم نبوی کے ارد گرد تمام پرانے مکانات سعودی حکومت نے قابضین سے خرید کر حرم کی توسیع کردی ہے، اس وقت مسجد نبوی بہ لحاظ رقبہ بھی دنیا کی تمام مسجدوں سے بڑی شمار ہوتی ہے، تہذیب ، نفاست اور تعمیر و صنعت کا یہ مرقع دن بدن نکھرتا ہی چلا جائے گا۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں حجرۂ رسول کے متصل کشادہ زمین پر کھجور کی چھت والی یہ جامع نبوی آج فن تعمیر کے لحاظ سے یگانہ روزگار ہے،مسجد نبوی کی وسعتوں کے باوجود انسانوں کا ہر دم اور ہر گھڑی امڈتا ہوا ہجوم نماز کے لئے ہر اس شارع پر صفیں باندھ لیتا ہے جو حرم نبوی سے متصل ہو۔ مسجد سے کہیں زیادہ نمازی سڑکوں پر،گلیوں میں اور ہوٹلوں کی چھتوں پر جبیں سائی کے مزے لوٹتے ہیں،بیت اللہ شریف کی طرح کبوتر یہاں بھی ڈیرہ جمائے ہوئے ہیں، گؔنبد خضرا کے اوپر دائیں بائیں، میناروں پر،صحن حرم میں اڑ اڑ کر بیٹھتے اور گھڑی دو گھڑی بیٹھ کر پھر محو پرواز ہوجاتے ہیں۔
اصحاب صفہؓ تو اللہ کو پیارے ہوکر خُلد نشیں ہوگئے؛ لیکن ان مرغانِ خدا نے بھی خلوص و پیار اور مہر و وفا کی حد کر دی ؛کہ ہمیشہ کے لئے اس فضائے نور میں آباد ہو کر رہ گئے، نہ جانے ان میں کتنے ہیں جو اسلاف کے ہاتھوں دانہ کھانے والوں کی ذریت ہیں۔
حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کا اولین منبر بھی دیکھا، جس پر سؔتون حنانہ کے سہارے کھڑے ہو کر رشد و ہدایت کے موتی لٹاتے،حق و صداقت کی تلقین کرتے ، نور معرفت اور توحید و الوہیت کا درس لازوال دیتے، صبر و شکر اور تو کل وقناعت کے انداز سکھاتے، تبلیغ و وعظ اور علم وحکمت کی تاکید کرتے، اسرار دین اور رموز شریعت کی عقدہ کشائی کرتے، جنگوں کی تدبیریں یہیں ہوتیں ، تنزیل وحی کے جاوداں بیانات صحابہ کرامؓ کے گوش گزار کرتے، حضورؐ کے فراق میں اسی ستون حنانہ نے غم فرقت کے آنسو بہائے تھے۔
اس کے بعد اصحاب صفہؓ کا چبوترہ بھی دیکھا،جہاں آج بھی اللہ والے بیٹھے ہوئے سراپا وجد و حال اور دنیا کے بکھیڑوں سے کنارہ کش ہوکر محو ذکر و تلاوت ہیں اور اللہ کے مکھڑے کی جھلک کے طالب(جو ان شاء اللہ اہل جنت کو نصیب ہوگی) یہاں بیٹھ کر تلاوت قرآن کا حظ ولطف وہی جانتا ہے جو اس چبوترے پر چند ساعتیں بیٹھا ہو، یہ وہی مقدس چبوترہ ہے جس پر عشق بازوں اور اللہ والوں کی جماعت دن رات بیٹھے ہوئے ذکر و مراقبہ میں محو رہتی،پھر انہی اصحاب صفہ کی جمعیت خاطر اور دل جمعی کے لئے رب العرش نے دو بار نبی رحمتؐ کو تلقین کی :
{وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ}
” اور آپ ان لوگوں کو دور نہ کریں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام، وہ اس کی رضا چاہتے ہیں ۔ (الانعام: ۵۳)“
مسجد نبوی کا کونہ کونہ اور گوشہ گوشہ ذکر و حمد اور درود و سلام کی تکرار سے گونج رہا ہے،قرب رسولؐ میں کہا ہوا سلام و درود اور مسجد نبوی میں مانگی ہوئی رحمتیں جھوم جھوم کر آتی ہیں۔ اللہ تعالی خود ثنائے خواجہ صلي الله عليه وسلم ہیں،درود و سلام کی ان گنت رحمتیں اپنے پیارے اور مقدس رسول پر نچھاور کر رہا ہے،فرشتے بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں؛ وہ بھی درود و سلام کے ہدیے بارگاہ رسالتؐ میں پیش کر رہے ہیں اور پوری دنیائے اسلام کے مومنین تو ہر دن نماز میں پانچ مرتبہ جہانوں کے رب سے حضور پر نور کی خاطر اپنی جھولیاں پھیلاتے ہیں کہ: اے مالک ارض و سماء! اپنے پیارے حبیب پر رحمتوں کا مینہ برسا! اور برکتوں کے انوار نازل فرما! آمین!
✍🏻... یونس بؔصیر
بیت اللہ اگر رب ذوالجلال کی عظمت و جلالت، ہیبت و سطوت اور شان و شوکت کا مظہر ہے،تو مسجد نبویؐ اس کی رحمانیت و رحیمیت اور قدوسیت وربوبیت کی جمال آرا،ظاہری شکل و صورت بھی ایسی کہ دنیائے فن و تعمیر میں اپنی مثال آپ،فنی ندرتوں،تعمیری کاوشوں اور لازوال قدامتوں کا حسین امتزاج، وقت کا ہر خلیفہ اور سلطان اس کے نقش و نگار اور وضع قطع میں رنگ بھر کر اپنی حسرتوں کی تکمیل کرتا رہا،محبت و عقیدت اور خلوص و نیاز کی یہ گلکاریاں ہر ہر در و دیوار سے ہویدا ہیں، بیل بوٹوں کی رنگ آمیزیاں اتنی جاذب نظر اور دلکش کہ ہر زائر کی آنکھ ٹکٹکی باندھے محو حیرت ہے،اعلیٰ پچی کاریوں اور رنگا رنگ صنعت کاریوں اور خط گذاریوں کی قوس قزح دیکھنی ہو تو مسجد نبویؐ کے در و دیوار دیکھو!خطاطی کے نادر نمونے، نیز مسجد نبوی میں نادر و نایاب اور انتہائی قیمتی پتھر استعمال کئے گئے ہیں،سنگ مرمر،سنگ سیاہ اور سنگ سبز نہ معلوم کس کس پہاڑ سے تراشے گئے اور ان پتھروں کے نصیب میں مسجد نبوی میں نصب ہونا لکھا تھا،کس کس اللہ والے نے ان پر جبیں سائی کی اور قیامت تک مسجد نبوی کے فرش پر جبیں سائی ہوتی رہے گی ـ
مسجد نبوی میں ہر سال، ہر ماہ، ہر دن نت نئے اضافے ہوتے رہتے ہیں، توسیع واضافہ ایک ناگزیر عمل ہے،حرم نبوی کے ارد گرد تمام پرانے مکانات سعودی حکومت نے قابضین سے خرید کر حرم کی توسیع کردی ہے، اس وقت مسجد نبوی بہ لحاظ رقبہ بھی دنیا کی تمام مسجدوں سے بڑی شمار ہوتی ہے، تہذیب ، نفاست اور تعمیر و صنعت کا یہ مرقع دن بدن نکھرتا ہی چلا جائے گا۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک زمانہ میں حجرۂ رسول کے متصل کشادہ زمین پر کھجور کی چھت والی یہ جامع نبوی آج فن تعمیر کے لحاظ سے یگانہ روزگار ہے،مسجد نبوی کی وسعتوں کے باوجود انسانوں کا ہر دم اور ہر گھڑی امڈتا ہوا ہجوم نماز کے لئے ہر اس شارع پر صفیں باندھ لیتا ہے جو حرم نبوی سے متصل ہو۔ مسجد سے کہیں زیادہ نمازی سڑکوں پر،گلیوں میں اور ہوٹلوں کی چھتوں پر جبیں سائی کے مزے لوٹتے ہیں،بیت اللہ شریف کی طرح کبوتر یہاں بھی ڈیرہ جمائے ہوئے ہیں، گؔنبد خضرا کے اوپر دائیں بائیں، میناروں پر،صحن حرم میں اڑ اڑ کر بیٹھتے اور گھڑی دو گھڑی بیٹھ کر پھر محو پرواز ہوجاتے ہیں۔
اصحاب صفہؓ تو اللہ کو پیارے ہوکر خُلد نشیں ہوگئے؛ لیکن ان مرغانِ خدا نے بھی خلوص و پیار اور مہر و وفا کی حد کر دی ؛کہ ہمیشہ کے لئے اس فضائے نور میں آباد ہو کر رہ گئے، نہ جانے ان میں کتنے ہیں جو اسلاف کے ہاتھوں دانہ کھانے والوں کی ذریت ہیں۔
حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کا اولین منبر بھی دیکھا، جس پر سؔتون حنانہ کے سہارے کھڑے ہو کر رشد و ہدایت کے موتی لٹاتے،حق و صداقت کی تلقین کرتے ، نور معرفت اور توحید و الوہیت کا درس لازوال دیتے، صبر و شکر اور تو کل وقناعت کے انداز سکھاتے، تبلیغ و وعظ اور علم وحکمت کی تاکید کرتے، اسرار دین اور رموز شریعت کی عقدہ کشائی کرتے، جنگوں کی تدبیریں یہیں ہوتیں ، تنزیل وحی کے جاوداں بیانات صحابہ کرامؓ کے گوش گزار کرتے، حضورؐ کے فراق میں اسی ستون حنانہ نے غم فرقت کے آنسو بہائے تھے۔
اس کے بعد اصحاب صفہؓ کا چبوترہ بھی دیکھا،جہاں آج بھی اللہ والے بیٹھے ہوئے سراپا وجد و حال اور دنیا کے بکھیڑوں سے کنارہ کش ہوکر محو ذکر و تلاوت ہیں اور اللہ کے مکھڑے کی جھلک کے طالب(جو ان شاء اللہ اہل جنت کو نصیب ہوگی) یہاں بیٹھ کر تلاوت قرآن کا حظ ولطف وہی جانتا ہے جو اس چبوترے پر چند ساعتیں بیٹھا ہو، یہ وہی مقدس چبوترہ ہے جس پر عشق بازوں اور اللہ والوں کی جماعت دن رات بیٹھے ہوئے ذکر و مراقبہ میں محو رہتی،پھر انہی اصحاب صفہ کی جمعیت خاطر اور دل جمعی کے لئے رب العرش نے دو بار نبی رحمتؐ کو تلقین کی :
{وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ}
” اور آپ ان لوگوں کو دور نہ کریں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام، وہ اس کی رضا چاہتے ہیں ۔ (الانعام: ۵۳)“
مسجد نبوی کا کونہ کونہ اور گوشہ گوشہ ذکر و حمد اور درود و سلام کی تکرار سے گونج رہا ہے،قرب رسولؐ میں کہا ہوا سلام و درود اور مسجد نبوی میں مانگی ہوئی رحمتیں جھوم جھوم کر آتی ہیں۔ اللہ تعالی خود ثنائے خواجہ صلي الله عليه وسلم ہیں،درود و سلام کی ان گنت رحمتیں اپنے پیارے اور مقدس رسول پر نچھاور کر رہا ہے،فرشتے بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں؛ وہ بھی درود و سلام کے ہدیے بارگاہ رسالتؐ میں پیش کر رہے ہیں اور پوری دنیائے اسلام کے مومنین تو ہر دن نماز میں پانچ مرتبہ جہانوں کے رب سے حضور پر نور کی خاطر اپنی جھولیاں پھیلاتے ہیں کہ: اے مالک ارض و سماء! اپنے پیارے حبیب پر رحمتوں کا مینہ برسا! اور برکتوں کے انوار نازل فرما! آمین!
❤5
Mr Sid
إِبْرَاهِيمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ . اے اللہ رحمت بھیج حضرت محمد پر اور اوپر آل محمد کے، جیسے رحمت بھیجی تونے حضرت ابراہیم پر اور اوپر آل ابراہیم کے، بے شک تو تعریف کیا گیا بزرگ ہے،اے اللہ برکت نازل کر حضرت محمد پر اور اوپر آل…
مسجد نبوی کے ہر ہر حصے کو جی بھر کر دیکھ لینے اور ہر ہر نقش و نگار کو پوری طرح آنکھوں میں بسا لینے کے بعد ہم دونوں حرم نبوی سے باہر نکلے اور گھر آئے۔
آج 28 دسمبر 74ء ہے ،سارا دن بار بار گھر آنے اور گھر سے مسجد نبوی تک جانے میں گزر گیا اور ہمیں مدینۃ الرسول میں ورود مسعود کے پہلے دن ہی جامع نبوی میں باجماعت نماز پوری پانچ مل گئیں اور پھر یہ سلسلۂ ذوق و شوق اور جوش و ولولہ اور خلوص و عمل ۷ جنوری ۷۵ ء تک جاری رہا، ہر نماز تکبیر اولی کے ساتھ باجماعت ادا کی گئی، اپنے مختصر قیام میں جامع نبوی میں چھیالیس نمازیں حصہ نصیب ہوئیں ۔ اللہ رب العزت قبول کریں۔ آمین۔
فرمودۂ رسول ہے ”میری مسجد میں چالیس نمازیں پڑھ لینے کے بعد جہنم کی آگ حرام ہو جاتی ہے۔“ اور پھر ایک دوسری حدیث میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ: "یہاں ایک نماز کا اجر و ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔“
بزرگی اور تقدس کے لحاظ سے جامع نبوی اس کائنات رنگ و بو میں دوسرے درجہ پر ہے۔
( صحن حرم، صفحہ: ۱۳۳، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
آج 28 دسمبر 74ء ہے ،سارا دن بار بار گھر آنے اور گھر سے مسجد نبوی تک جانے میں گزر گیا اور ہمیں مدینۃ الرسول میں ورود مسعود کے پہلے دن ہی جامع نبوی میں باجماعت نماز پوری پانچ مل گئیں اور پھر یہ سلسلۂ ذوق و شوق اور جوش و ولولہ اور خلوص و عمل ۷ جنوری ۷۵ ء تک جاری رہا، ہر نماز تکبیر اولی کے ساتھ باجماعت ادا کی گئی، اپنے مختصر قیام میں جامع نبوی میں چھیالیس نمازیں حصہ نصیب ہوئیں ۔ اللہ رب العزت قبول کریں۔ آمین۔
فرمودۂ رسول ہے ”میری مسجد میں چالیس نمازیں پڑھ لینے کے بعد جہنم کی آگ حرام ہو جاتی ہے۔“ اور پھر ایک دوسری حدیث میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ: "یہاں ایک نماز کا اجر و ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔“
بزرگی اور تقدس کے لحاظ سے جامع نبوی اس کائنات رنگ و بو میں دوسرے درجہ پر ہے۔
( صحن حرم، صفحہ: ۱۳۳، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤3
*کتابوں اور مجلات کی موضوعاتی فہرست سازی(۱)*
* تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل) *
سنہ ۱۹۲۸ ء میں بریل پریس ہالینڈ سے ڈچ مستشرق ڈاکٹر A. J. Wensink کی ترتیب کردہ احادیث نبویہ و سیرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابوں صحاح ستہ ، سنن الدارمی، موطا امام مالک، مسند احمد ، مسند ابو داؤد الطیالسی، طبقات ابن سعد، سیرت ابن ہشام ، اور مغازی الواقدی کی موضوعاتی فہرست مفتاح کنوز السنۃ کے عنوان سے جب شائع ہوئی تھی، تو اس وقت کے عظیم مفکرو عالم دین علامہ رشید رضا مدیر مجلہ المنار مصر نے اس کتاب کے عربی ایڈیشن کے مقدمہ میں اس کے بارے میں اپنے ان جذبات کا اظہار کیا تھا۔
" میری نصف سے زیادہ عمر بچا لیتی جو میں نے مطالعے میں صرف کی ہے ، لیکن یہ اس کتاب (مفتاح كنوز السنة) کی جگہ نہیں لے سکتی تھی، کیونکہ وہ صرف آپ کو ان قولی احادیث کے مقامات کی رہنمائی کرتا ہے جن کے اوائل آپ جانتے ہیں، اور یہ آپ کو تمام قولی اور عملی سنتوں اور ان کے معنی میں شامل چیزوں جیسے شمائل، تقریرات، مناقب، مغازی وغیرہ کی رہنمائی کرتا ہے ۔اگر یہ یا اس جیسی کوئی چیز میرے پاس ہوتی - تو سیرت کی کتابوں میں مشغول ہونے کے آغاز سے ہی میری عمر کا وہ حصہ بچ جاتا جو میں نے ان کی تلاش میں صرف کیا"( ) "
اور اس کتاب پر تقریظ میں عظیم محدث علامہ احمد محمد شاکر نے اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا۔
" میں پچیس سال سے علوم حدیث اور اس کی کتابوں پر کام کر رہا ہوں، اور میں نے ان میں سے بہت سے (علوم حدیث) کو بڑے بڑے مشائخ سے سن کر اور پڑھ کر حاصل کیا ہے، اور ان میں سرفہرست میرے والد محترم استاد جلیل القدر شیخ محمد شاکررحمۃ اللہ علیہ ہیں جو جامع الازہر کے سابق انڈر سکریٹری تھے، اور عظیم حافظ حدیث علامہ سید عبد اللہ بن ادریس السنوسی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں جو مراکش کے عالم دین اور شیخ المشائخ تھے، اس کے باوجود مجھے کئی بار کچھ احادیث کو ان کے مآخذ میں تلاش کرنے میں دشواری پیش آئی، اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ میں تقریباً پانچ سال تک سنن الترمذی میں ایک مخصوص حدیث کی تلاش میں رہا، اور امام ترمذی کی یہ وہ کتاب ہے جو میں نے اپنے والد سے پوری سن کر حاصل کی تھی، اور اس سے مجھے خاص لگاؤ اور بہت زیادہ دلچسپی ہے "( )
آج سے ایک صدی پیشتر دو ر جدید میں تیار ہونے والے حدیث کی کتابوں کے پہلے اشاریہ پر جن جذبات کا اظہار اس وقت کے عالم اسلام کے چوٹی کے دو عالموں نے کیا ہے، اور کتابوں کی اشاریہ سازی کی ضرورت پر جوروشنی ڈالی ہے، اس سے کتابوں کی موضوعاتی اشارہ سازی کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے، اور جوں جوں علم اور معلومات کے وسائل بڑھ رہے ہیں اسی قسم کے علمی کاموں کی ضرورت اور افادیت میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ حالانکہ اس دوران خاص طور پر گذشتہ ربع صدی میں دنیانے معلومات کی فراہمی کے وسائل کے حصول میں جو ترقی کی ہے،ماضی میں اس کی نظیر نہیں ملتی، اس دوران کمپوٹر، انٹرنٹ سے ترقی کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے میدان میں اچانک اس نے بڑی اونچی چھلانگ لگا دی ہے۔ اور معلومات کی تلاش میں آسانی کے ذرائع بہت آگے کو بڑھ چکے ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے وینسنک کی مفتاح کنوز السنہ، اور المعجم المفھرس لالفاظ الحدیث سے استفادہ کیا ہے، وہ گواہی دیں گے کہ سرعت معلومات کی اس چکاچوند میں تلاش کی سہولت پیدا کرنے کی یہ کوششیں اب پرانی ہوچکی ہیں، اور ان کی حیثیت اب جگنؤوں کی روشنی جیسی بن گئی ہے، باوجود اس کے اب بھی ان اشاریوں کی افادیت باقی ہے۔ ابھی ان کی ضرورت ختم نہیں ہوئی ہے۔
وینسنک کے تیار کردہ احادیث کے اشاریہ کی اہمیت اب بھی اس لئے ختم نہیں ہوئی ہے کہ یہ موضوعاتی فہرست ہے، اور اس کی تیاری میں انسانی دماغ کے فکر اور تدبر کی صلاحیتیں استعمال میں لائی گئی ہے، یہ احادیث میں استعمال ہونے والے صرف الفاظ کی فہرست نہیں ہے۔ کہ الفاظ کو نقل کیا اور صفحات کے نمبر سامنے رکھ دئے۔ مفتاح کنوز السنۃ کی اشاعت پر ایک صدی گذر رہی ہے، لیکن جہاں تک ہماری معلومات ہیں اب بھی حدیث کا اس معیار کا کوئی اشاریہ سامنے نہیں آیا ہے۔ حالانکہ اس دوران ہزاروں حدیث کی کتابیں پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی ہیں، اور یہ تو ابتدا میں اشاعت پذیر صرف چودہ کتابوں کا اشاریہ تھا، جن میں حدیث کی کتابوں کی تعداد دس (۱۰) ہی تھی ۔ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر حدیث کی دوسری کتابوں کا بھی اس طرح موضوعاتی اشاریہ ترتیب دیا جاتا تو احادیث نبویہ سے استفادہ مزید کتنا آسان ہوجاتا ۔
* تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل) *
سنہ ۱۹۲۸ ء میں بریل پریس ہالینڈ سے ڈچ مستشرق ڈاکٹر A. J. Wensink کی ترتیب کردہ احادیث نبویہ و سیرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابوں صحاح ستہ ، سنن الدارمی، موطا امام مالک، مسند احمد ، مسند ابو داؤد الطیالسی، طبقات ابن سعد، سیرت ابن ہشام ، اور مغازی الواقدی کی موضوعاتی فہرست مفتاح کنوز السنۃ کے عنوان سے جب شائع ہوئی تھی، تو اس وقت کے عظیم مفکرو عالم دین علامہ رشید رضا مدیر مجلہ المنار مصر نے اس کتاب کے عربی ایڈیشن کے مقدمہ میں اس کے بارے میں اپنے ان جذبات کا اظہار کیا تھا۔
" میری نصف سے زیادہ عمر بچا لیتی جو میں نے مطالعے میں صرف کی ہے ، لیکن یہ اس کتاب (مفتاح كنوز السنة) کی جگہ نہیں لے سکتی تھی، کیونکہ وہ صرف آپ کو ان قولی احادیث کے مقامات کی رہنمائی کرتا ہے جن کے اوائل آپ جانتے ہیں، اور یہ آپ کو تمام قولی اور عملی سنتوں اور ان کے معنی میں شامل چیزوں جیسے شمائل، تقریرات، مناقب، مغازی وغیرہ کی رہنمائی کرتا ہے ۔اگر یہ یا اس جیسی کوئی چیز میرے پاس ہوتی - تو سیرت کی کتابوں میں مشغول ہونے کے آغاز سے ہی میری عمر کا وہ حصہ بچ جاتا جو میں نے ان کی تلاش میں صرف کیا"( ) "
اور اس کتاب پر تقریظ میں عظیم محدث علامہ احمد محمد شاکر نے اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کیا تھا۔
" میں پچیس سال سے علوم حدیث اور اس کی کتابوں پر کام کر رہا ہوں، اور میں نے ان میں سے بہت سے (علوم حدیث) کو بڑے بڑے مشائخ سے سن کر اور پڑھ کر حاصل کیا ہے، اور ان میں سرفہرست میرے والد محترم استاد جلیل القدر شیخ محمد شاکررحمۃ اللہ علیہ ہیں جو جامع الازہر کے سابق انڈر سکریٹری تھے، اور عظیم حافظ حدیث علامہ سید عبد اللہ بن ادریس السنوسی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ہیں جو مراکش کے عالم دین اور شیخ المشائخ تھے، اس کے باوجود مجھے کئی بار کچھ احادیث کو ان کے مآخذ میں تلاش کرنے میں دشواری پیش آئی، اور اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ میں تقریباً پانچ سال تک سنن الترمذی میں ایک مخصوص حدیث کی تلاش میں رہا، اور امام ترمذی کی یہ وہ کتاب ہے جو میں نے اپنے والد سے پوری سن کر حاصل کی تھی، اور اس سے مجھے خاص لگاؤ اور بہت زیادہ دلچسپی ہے "( )
آج سے ایک صدی پیشتر دو ر جدید میں تیار ہونے والے حدیث کی کتابوں کے پہلے اشاریہ پر جن جذبات کا اظہار اس وقت کے عالم اسلام کے چوٹی کے دو عالموں نے کیا ہے، اور کتابوں کی اشاریہ سازی کی ضرورت پر جوروشنی ڈالی ہے، اس سے کتابوں کی موضوعاتی اشارہ سازی کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے، اور جوں جوں علم اور معلومات کے وسائل بڑھ رہے ہیں اسی قسم کے علمی کاموں کی ضرورت اور افادیت میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ حالانکہ اس دوران خاص طور پر گذشتہ ربع صدی میں دنیانے معلومات کی فراہمی کے وسائل کے حصول میں جو ترقی کی ہے،ماضی میں اس کی نظیر نہیں ملتی، اس دوران کمپوٹر، انٹرنٹ سے ترقی کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے میدان میں اچانک اس نے بڑی اونچی چھلانگ لگا دی ہے۔ اور معلومات کی تلاش میں آسانی کے ذرائع بہت آگے کو بڑھ چکے ہیں۔ لیکن جن لوگوں نے وینسنک کی مفتاح کنوز السنہ، اور المعجم المفھرس لالفاظ الحدیث سے استفادہ کیا ہے، وہ گواہی دیں گے کہ سرعت معلومات کی اس چکاچوند میں تلاش کی سہولت پیدا کرنے کی یہ کوششیں اب پرانی ہوچکی ہیں، اور ان کی حیثیت اب جگنؤوں کی روشنی جیسی بن گئی ہے، باوجود اس کے اب بھی ان اشاریوں کی افادیت باقی ہے۔ ابھی ان کی ضرورت ختم نہیں ہوئی ہے۔
وینسنک کے تیار کردہ احادیث کے اشاریہ کی اہمیت اب بھی اس لئے ختم نہیں ہوئی ہے کہ یہ موضوعاتی فہرست ہے، اور اس کی تیاری میں انسانی دماغ کے فکر اور تدبر کی صلاحیتیں استعمال میں لائی گئی ہے، یہ احادیث میں استعمال ہونے والے صرف الفاظ کی فہرست نہیں ہے۔ کہ الفاظ کو نقل کیا اور صفحات کے نمبر سامنے رکھ دئے۔ مفتاح کنوز السنۃ کی اشاعت پر ایک صدی گذر رہی ہے، لیکن جہاں تک ہماری معلومات ہیں اب بھی حدیث کا اس معیار کا کوئی اشاریہ سامنے نہیں آیا ہے۔ حالانکہ اس دوران ہزاروں حدیث کی کتابیں پہلی مرتبہ منظر عام پر آئی ہیں، اور یہ تو ابتدا میں اشاعت پذیر صرف چودہ کتابوں کا اشاریہ تھا، جن میں حدیث کی کتابوں کی تعداد دس (۱۰) ہی تھی ۔ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر حدیث کی دوسری کتابوں کا بھی اس طرح موضوعاتی اشاریہ ترتیب دیا جاتا تو احادیث نبویہ سے استفادہ مزید کتنا آسان ہوجاتا ۔
❤2
کتابوں کے اشاریوں پر مغرب کے دانشوروں نے بہت کام کیا ہے، ان کی کوئی اہم تحقیقی کتاب اشارئے سے خالی نہیں ہوتی ۔ بعض مصنفین کے بقول اشاریہ نگاری کے "فن کا آغاز انیسویں صدی میں انگلستان سے ہوا تھا، لیکن اس کی نشوونما امریکہ میں ہوئی اور یوں اشاریہ نگاری کے ایک اہم عہد کا آغاز ہوا"۔ ہماری رائے میں پریس کی ایجاد کے بعد شروع ہونے والی اشاریہ سازی کی موجودہ ترقی یافتہ شکل جس میں کتاب کے صفحات اور نمبرات کا اندارج ہوتا ہے، اس کی ایجاد کا سہرا انگلستان پر سجانا ایک حد تک درست ہوسکتا ہے، لیکن اگر مقصود تک پہنچنے کے لئے الف بائی ترتیب سے موضوعات کو ترتیب دینے کی پہلی شکل کا تعلق ہے تو اس کا سہرا بھی دوسرے کئی سارے علوم وفنون کی طرح مسلمانوں کو جانا چاہئے۔
یہ بات ہر کسی ذی فہم کے ذہن میں رہتی ہے کہ مختلف قومیں اپنے دور عروج میں علوم فنون کو اپنے حالات کے مطابق ترویج دیتی ہیں، جب انہیں زوال ہوتا ہے تو عروج کی مسند پر بیٹھنے والی نسلیں اسے ترقی کے پائیدانوں پر مزید اوپر چڑھاتی ہیں۔ چودھویں صدی عیسوی میں یورپ کے عروج سے قبل مسلم سلطنیں بھی اپنے وسائل کے لحاظ سے ترقی یافتہ تھیں، لیکن جب یورپ نے ترقی کی مسند مسلمانوں سے چھین لی تو پھر ان کے دور میں جہازوں کے تختوں کو جوڑنے کے لئے لوہے کی میخوں کے استعمال ، اور پھر بارود اور بھاپ کی طاقت کا ہاتھ لگنا، جیسی ایجادات کے بعد تو پھر یورپ میں ترقی کی رفتار پہلےسے کئی گنا بڑھ گئی۔ اور قدیم ایجادات کی روشنی ایسی ماند پڑگئی کہ وہ ایجادات ہی آئندہ نسلوں کی نگاہوں سے بالکل اوجھل ہوگئیں۔ اور اس زمانے کی سائنسی تعلیم ،ڈاکٹریٹ اور پوسٹ گریجویشن کے بالمقابل طفل مکتب کی تعلیم نظر آنے لگی، حالانکہ مکتب کی تعلیم ہی تو بنیاد ہوتی ہے، اور ڈاکٹریٹ اور پوسٹ گریجویشن، طفل مکتب بنے بغیر ممکن نہیں ہوتی ہے۔ لہذا ہم دیکھیں گے کہ فن اشاریہ جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے، اس کی ابتدائی شکلیں اور خاکے مسلم علماء ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔
علامہ احمد محمد شاکر جن کا ذکر اوپر آیا ہے وہ اس سلسلے میں فرماتے ہیں کہ " اس دور میں اس کتاب اور اس جیسی کتابوں کی ہماری ضرورت، سابقہ سنت کے علماء کی کسی کوتاہی یا اس کی خدمت میں کسی قسم کی کمی کی نشاندہی نہیں کرتی ، کیونکہ انہوں نے - اللہ ان کو جزائے خیر دے اور ان کے چہروں کو روشن کرے - روایت، حفظ، اور حدیث کی تدوین میں مسانید، جوامع، اور عمومی و خاص سنن میں جو عقائد اور احکام سے متعلق تھیں، ہر وہ کام کیا جو واجب، مندوب، اور مستحب تھا ، اور ان میں سے صحیح احادیث کو الگ کیا اور ان پر مستخرجات اور مستدرکات کو مکمل کیا ، اور ان کے مفردات اور اوائل کے لیے معاجم تیار کیں تاکہ مطالعہ آسان ہو ۔اس کے علاوہ، تمام دوسری اقوام سے پہلے انہوں نے اپنے راویوں اور دیگر علماء کے حالات مرتب کئے ، اور ان میں سے بعض کو حروف تہجی پر اور بعض کو طبقات پر ترتیب دیا ، اور ان کے لیے جرح و تعدیل کا سیدھا میزان قائم کیا، تاکہ ان کی روایات میں سے مقبول اور مردود کو پرکھا جا سکے ۔ اور ہر موضوع میں ہر صحابی کی روایات کو بیان کرنے والی اطراف کی کتابیں تصنیف کیں، اور انہیں حروف پر ترتیب دیا( )
اشاریہ سازی میں کتب لغت کو ماں کی حیثیت حاصل ہے، اس میں بھی مطلب تک کم وقت میں آسانی سے پہنچنے کے لئے الف بائی ترتیب کو بنیاد بنا یا جاتا ہے۔ اشاریہ سازی کی راہ تک انسانی ذہن معاجم ہی کے راستے پہنچا ہے۔ اور پہلی صدی ہجری میں پیدا ہونے والے "العین " کے مصنف خلیل بن احمد الفراہیدی (ف. 175 ھ/ 791 ء) سے لے کر آٹھویں صدی ہجری کے "المصباح المنیر "کے مصنف احمد بن محمد علی الفیومی المقری (ف ۷۷۰ھ ۔ ۱۳۶۸ء) تک کتب لغت اس ترقی کی انتہاء تک پہنچ گئی تھیں، انگلستان کے علماء کو کوئی چھ سو سال بعد اس میں کچھ اضافہ سجھائی دیا، اگر مسلم غلبہ کے دور میں پریس رائج ہوگیا ہوتا تو یہ مصنفین اس میدان میں کیا کچھ ترقی نہ کرتا پاتے ، اور اس میدان میں مغرب کو کتنا پیچھے چھوڑ گئے ہوتے!۔ آئیے ان چند منتشر باتوں کے بعد مزید تفصیل سے اشاریہ سازی کا مقصد جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ (جاری)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
یہ بات ہر کسی ذی فہم کے ذہن میں رہتی ہے کہ مختلف قومیں اپنے دور عروج میں علوم فنون کو اپنے حالات کے مطابق ترویج دیتی ہیں، جب انہیں زوال ہوتا ہے تو عروج کی مسند پر بیٹھنے والی نسلیں اسے ترقی کے پائیدانوں پر مزید اوپر چڑھاتی ہیں۔ چودھویں صدی عیسوی میں یورپ کے عروج سے قبل مسلم سلطنیں بھی اپنے وسائل کے لحاظ سے ترقی یافتہ تھیں، لیکن جب یورپ نے ترقی کی مسند مسلمانوں سے چھین لی تو پھر ان کے دور میں جہازوں کے تختوں کو جوڑنے کے لئے لوہے کی میخوں کے استعمال ، اور پھر بارود اور بھاپ کی طاقت کا ہاتھ لگنا، جیسی ایجادات کے بعد تو پھر یورپ میں ترقی کی رفتار پہلےسے کئی گنا بڑھ گئی۔ اور قدیم ایجادات کی روشنی ایسی ماند پڑگئی کہ وہ ایجادات ہی آئندہ نسلوں کی نگاہوں سے بالکل اوجھل ہوگئیں۔ اور اس زمانے کی سائنسی تعلیم ،ڈاکٹریٹ اور پوسٹ گریجویشن کے بالمقابل طفل مکتب کی تعلیم نظر آنے لگی، حالانکہ مکتب کی تعلیم ہی تو بنیاد ہوتی ہے، اور ڈاکٹریٹ اور پوسٹ گریجویشن، طفل مکتب بنے بغیر ممکن نہیں ہوتی ہے۔ لہذا ہم دیکھیں گے کہ فن اشاریہ جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے، اس کی ابتدائی شکلیں اور خاکے مسلم علماء ہی کے بنائے ہوئے ہیں۔
علامہ احمد محمد شاکر جن کا ذکر اوپر آیا ہے وہ اس سلسلے میں فرماتے ہیں کہ " اس دور میں اس کتاب اور اس جیسی کتابوں کی ہماری ضرورت، سابقہ سنت کے علماء کی کسی کوتاہی یا اس کی خدمت میں کسی قسم کی کمی کی نشاندہی نہیں کرتی ، کیونکہ انہوں نے - اللہ ان کو جزائے خیر دے اور ان کے چہروں کو روشن کرے - روایت، حفظ، اور حدیث کی تدوین میں مسانید، جوامع، اور عمومی و خاص سنن میں جو عقائد اور احکام سے متعلق تھیں، ہر وہ کام کیا جو واجب، مندوب، اور مستحب تھا ، اور ان میں سے صحیح احادیث کو الگ کیا اور ان پر مستخرجات اور مستدرکات کو مکمل کیا ، اور ان کے مفردات اور اوائل کے لیے معاجم تیار کیں تاکہ مطالعہ آسان ہو ۔اس کے علاوہ، تمام دوسری اقوام سے پہلے انہوں نے اپنے راویوں اور دیگر علماء کے حالات مرتب کئے ، اور ان میں سے بعض کو حروف تہجی پر اور بعض کو طبقات پر ترتیب دیا ، اور ان کے لیے جرح و تعدیل کا سیدھا میزان قائم کیا، تاکہ ان کی روایات میں سے مقبول اور مردود کو پرکھا جا سکے ۔ اور ہر موضوع میں ہر صحابی کی روایات کو بیان کرنے والی اطراف کی کتابیں تصنیف کیں، اور انہیں حروف پر ترتیب دیا( )
اشاریہ سازی میں کتب لغت کو ماں کی حیثیت حاصل ہے، اس میں بھی مطلب تک کم وقت میں آسانی سے پہنچنے کے لئے الف بائی ترتیب کو بنیاد بنا یا جاتا ہے۔ اشاریہ سازی کی راہ تک انسانی ذہن معاجم ہی کے راستے پہنچا ہے۔ اور پہلی صدی ہجری میں پیدا ہونے والے "العین " کے مصنف خلیل بن احمد الفراہیدی (ف. 175 ھ/ 791 ء) سے لے کر آٹھویں صدی ہجری کے "المصباح المنیر "کے مصنف احمد بن محمد علی الفیومی المقری (ف ۷۷۰ھ ۔ ۱۳۶۸ء) تک کتب لغت اس ترقی کی انتہاء تک پہنچ گئی تھیں، انگلستان کے علماء کو کوئی چھ سو سال بعد اس میں کچھ اضافہ سجھائی دیا، اگر مسلم غلبہ کے دور میں پریس رائج ہوگیا ہوتا تو یہ مصنفین اس میدان میں کیا کچھ ترقی نہ کرتا پاتے ، اور اس میدان میں مغرب کو کتنا پیچھے چھوڑ گئے ہوتے!۔ آئیے ان چند منتشر باتوں کے بعد مزید تفصیل سے اشاریہ سازی کا مقصد جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ (جاری)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤2
آج اردو کے عظیم ادیب ونقاد ولغت نویس *ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری* کا یوم وفات ہے، آپ وفات مورخہ 2/ جون 1992ء کو ہوئی تھی،اس مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز میں ریکارڈ شدہ آب بیتی اردو آڈیو ڈاٹ کام میں پیش کی جارہی ہے۔
لنک انٹرویو(01)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-01, Interview 01
لنک انٹرویو(02)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-02pxwktojnkvmqzhg0wb6cgyzt0hssgglv, Interview 02
لنک انٹرویو(03)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-03yt2vzqbcc6s2ecf4lpe92vwkgnvfy6kd, Interview 03
لنک انٹرویو(04)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-04, Interview 04
WA:00919741136475
لنک انٹرویو(01)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-01, Interview 01
لنک انٹرویو(02)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-02pxwktojnkvmqzhg0wb6cgyzt0hssgglv, Interview 02
لنک انٹرویو(03)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-03yt2vzqbcc6s2ecf4lpe92vwkgnvfy6kd, Interview 03
لنک انٹرویو(04)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-04, Interview 04
WA:00919741136475
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
❤1
Mr Sid
*مسجد نبویؐ کا جمال و جلال* ✍🏻... یونس بؔصیر بیت اللہ اگر رب ذوالجلال کی عظمت و جلالت، ہیبت و سطوت اور شان و شوکت کا مظہر ہے،تو مسجد نبویؐ اس کی رحمانیت و رحیمیت اور قدوسیت وربوبیت کی جمال آرا،ظاہری شکل و صورت بھی ایسی کہ دنیائے فن و تعمیر میں اپنی…
*شہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کوچے و بازار*
✍🏻... یونس بصیر
کسی صاحب دل نے کیا خوب کہا ہے : ”کوچۂ جاناں کا ہر ذرہ چراغ طور ہے“
مکۃ المکرمہ میں سربفلک اور عظیم الشان عمارات کی جدتوں کا جلال و جمال بھی دیکھا اور شہر رسول میں مکانات کی قدامتوں کا حال بھی ،حرم نبوی کے اردگرد تقریباً تمام مکانات ماسوائے چند جدید ہوٹلوں کے پرانی وضع لئے ہوئے ہیں،«مسجد قبا» روڈ پر دو رویہ جدید طرز تعمیر کے دو منزلہ فلیٹ ٹائپ مکان ہیں، ورنہ مدینہ قدیم تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے پنجاب کا کوئی چھوٹا سا شہر یا بڑا قصبہ، در و دیوار کی وہی شکستہ حالی، تنگ گلیاں اور وہی کوچہ، بازار جو اپنی قدامتوں پر آپ شاہد ہیں ۔ ہوٹل کو عربی میں ˝فندق˝ کہتے ہیں، بڑے بڑے جدید ہوٹلوں کی تعمیر روز افزوں ہے، غربت و افلاس کے چنگل سے یہ صابرین و شاکرین تیزی کے ساتھ نکل رہے ہیں۔ مہاجرین و انصار کی یہ اولادیں جو ہر سو چہل پہل میں مصروف نظر آتی ہیں، ان کو دیکھ کر دل فرط محبت اور عقیدت سے بے اختیار ہو جاتا ہے،ان گلیوں میں انہی راہوں سے اور انہی پاک فضاؤں میں حضور نبی اکرم کئی بار اپنے جانثاروں کے جھرمٹ میں گزرے ہوں گے۔ ان پاک راہوں میں چلتے وقت عالم تصور میں خیالوں کے گھوڑے ہر طرف جولانیاں کرنے لگ جاتے ہیں، انہیں فضاؤں میں کبھی سیدنا بلال کی اذان کا کڑکا سوتوں کو بیدار اور بیداروں کو سوئے حرم نبوی حرکت زن کرتا ہوگا۔ اقبال نے مومن کی اذان کی شان میں کیا خوب کہا ہے:
وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذان سے پیدا
اسی شہر وفا میں مہاجرین و انصار کی محبت و اخوت کی ایسی درخشندہ مثال قائم ہوئی جو متقدمین اور آنے والی نسلوں کے لئے آج بھی شمع راہ ہے، ایثار و قربانی کا یہ عالم اور خلوص و بھائی چارے کا یہ حال کہ رہائشی مکان تو در کنار ، انصار میں سے وہ عباد الرحمن، جن کے پاس دو بیویاں تھیں وہ ایک بیوی اپنے مہاجر بھائی کو دینے کے لئے اصرار کرتے؛ لیکن مہاجرین نے یہ ایثار قبول نہ کیا،تاریخ عالم ایسی عدیم المثال قربانی کی مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے۔ کاروبار کے لئے مہاجرین بھائیوں کو دولت دی،کھیتی باڑی کے لئے زمین دی، باغات میں شامل کیا، کسی قسم کی بھی قربانی ہو، بھرپور مدد کی۔
اہل مدینہ آج بھی اسی طرح حلیم الطبع اور نرم خو ہیں، سختی اور درشتی ان میں نہیں ہے،اس شہر سے خدائی لشکر اٹھ اٹھ کر قیصر و کسرٰی کی تباہی و ہلاکت کا موجب اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کی حیات تازہ کا سبب بنے! انہی گلیوں اور چوراہوں میں اسلامی لشکر ترتیب دیئے جاتے!مہاجرین کے لئے عظیم پناہ گاہ اور اہل اسلام کی اولین اور زبردست چھاؤنی!اس مقدس شہر میں حضور اترے، یہیں ڈیرہ جمادیا اور پھر وصال کے بعد یہیں خلد نشین ہوئے، انصار کا ساتھ نہیں چھوڑا ، رہے نام اللہ کا!!
فتح مکہ کے بعد کچھ انصاریوں کو اندیشہ لاحق ہوا کہ:”شاید اب ہم فیضانِ نبوت سے محروم ہوجائیں گے ؛لیکن اللہ کے پیارے نبی نے ان کی وفاؤں کا صلہ یوں دیا کہ دارالہجرت کو ہی اپنا شہر قرار دیا۔“
یہ وہی در و دیوار ہیں جن سے آج بھی انصاریوں کی مہمان نوازی،جذبۂ خلوص و پذیرائی، ہمدردی و غم خواری،جانثاری و جاں سپاری، وفا و اخلاص، محبت و اخوت اور حلم و بردباری کی ہردم تازہ مہک اٹھ رہی ہے،اس خطۂ پاک کا ہر ذرہ پاک اور ہر سنگ ریزہ مقدس ... کیا جانیں کتنی بار ان ذروں اور ان راہوں نے پابوسئ رسول کا شرف حاصل کیا، دیار حبیب کا چپہ چپہ پلکوں کے بل چلنے کے قابل ..! یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس مقدس شہر کا سارا کاروبار سمٹ سمٹا کر حرم نبوی کے زیر سایہ جاری ہوگیا ہے؛بڑے بڑے ہوٹل اور اہم کاروباری منڈیاں،اہم تجارتی دفاتر اور مراکز حرم نبوی کے پاس پاس ہیں،پرانے گھروں میں آج بھی بھیڑ بکریاں نظر آتی ہیں، یہ لوگ بکری کا دودھ بیچتے بھی ہیں۔
مدینہ شریف کی زمین زرعی ہے اور کھیتی باڑی ہوتی ہے۔ مکہ شریف کی طرح یہاں کی زمین پتھریلی اور چٹیل نہیں۔ کھجوروں کے باغات ہیں۔ یہاں کی کھجور میں اپنی شیرینی اور لذت کے لحاظ سے منفرد ہیں،ہر سال لاکھوں زائرین حج و عمرہ کو آتے ہیں، وہ تقریبا سب سوغات کے طور پر اپنے وطن میں کھجور ضرور لاتے ہیں،مدینہ شریف کے کوچہ و بازار میں ہر وقت چہل پہل اور گہما گہمی رہتی ہے۔ یہاں کے تاجروں کی چاندی ہے۔ تاجر پیشہ لوگ خوب دولت کماتے ہیں، سارا سال ان کا کاروبار عروج پر رہتا ہے اور اللہ کا فضل اتنا ہے کہ ان کے ہاں کبھی مندا نہیں ہوتا۔
مشہور ہے امام مالک روضۂ اطہر کے پاس بیٹھ کر حدیث کا درس دیتے تھے، فرمایا کرتے تھے کہ: ”دنیا میں ہر شخص کی بات رد کی جا سکتی ہے ماسوائے اس صاحب قبر کے“ مدینۃ الرسول کے احترام کا یہ حال تھا کہ کبھی اس شہر کی گلیوں میں سواری پر نہیں بیٹھتے تھے،رفع حاجت کے لیے حرم کی حدود سے باہر جاتے تھے، مدینۃ الرسول سے محبت کا یہ عالم تھا کہ سوائے حج کے سفر کے کبھی مدینہ شریف سے باہر نہیں گئے ،مسجد نبوی کے احترام کو ملحوظ
✍🏻... یونس بصیر
کسی صاحب دل نے کیا خوب کہا ہے : ”کوچۂ جاناں کا ہر ذرہ چراغ طور ہے“
مکۃ المکرمہ میں سربفلک اور عظیم الشان عمارات کی جدتوں کا جلال و جمال بھی دیکھا اور شہر رسول میں مکانات کی قدامتوں کا حال بھی ،حرم نبوی کے اردگرد تقریباً تمام مکانات ماسوائے چند جدید ہوٹلوں کے پرانی وضع لئے ہوئے ہیں،«مسجد قبا» روڈ پر دو رویہ جدید طرز تعمیر کے دو منزلہ فلیٹ ٹائپ مکان ہیں، ورنہ مدینہ قدیم تو بالکل ایسے ہی ہے جیسے پنجاب کا کوئی چھوٹا سا شہر یا بڑا قصبہ، در و دیوار کی وہی شکستہ حالی، تنگ گلیاں اور وہی کوچہ، بازار جو اپنی قدامتوں پر آپ شاہد ہیں ۔ ہوٹل کو عربی میں ˝فندق˝ کہتے ہیں، بڑے بڑے جدید ہوٹلوں کی تعمیر روز افزوں ہے، غربت و افلاس کے چنگل سے یہ صابرین و شاکرین تیزی کے ساتھ نکل رہے ہیں۔ مہاجرین و انصار کی یہ اولادیں جو ہر سو چہل پہل میں مصروف نظر آتی ہیں، ان کو دیکھ کر دل فرط محبت اور عقیدت سے بے اختیار ہو جاتا ہے،ان گلیوں میں انہی راہوں سے اور انہی پاک فضاؤں میں حضور نبی اکرم کئی بار اپنے جانثاروں کے جھرمٹ میں گزرے ہوں گے۔ ان پاک راہوں میں چلتے وقت عالم تصور میں خیالوں کے گھوڑے ہر طرف جولانیاں کرنے لگ جاتے ہیں، انہیں فضاؤں میں کبھی سیدنا بلال کی اذان کا کڑکا سوتوں کو بیدار اور بیداروں کو سوئے حرم نبوی حرکت زن کرتا ہوگا۔ اقبال نے مومن کی اذان کی شان میں کیا خوب کہا ہے:
وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود
ہوتی ہے بندۂ مومن کی اذان سے پیدا
اسی شہر وفا میں مہاجرین و انصار کی محبت و اخوت کی ایسی درخشندہ مثال قائم ہوئی جو متقدمین اور آنے والی نسلوں کے لئے آج بھی شمع راہ ہے، ایثار و قربانی کا یہ عالم اور خلوص و بھائی چارے کا یہ حال کہ رہائشی مکان تو در کنار ، انصار میں سے وہ عباد الرحمن، جن کے پاس دو بیویاں تھیں وہ ایک بیوی اپنے مہاجر بھائی کو دینے کے لئے اصرار کرتے؛ لیکن مہاجرین نے یہ ایثار قبول نہ کیا،تاریخ عالم ایسی عدیم المثال قربانی کی مثالیں پیش کرنے سے قاصر ہے۔ کاروبار کے لئے مہاجرین بھائیوں کو دولت دی،کھیتی باڑی کے لئے زمین دی، باغات میں شامل کیا، کسی قسم کی بھی قربانی ہو، بھرپور مدد کی۔
اہل مدینہ آج بھی اسی طرح حلیم الطبع اور نرم خو ہیں، سختی اور درشتی ان میں نہیں ہے،اس شہر سے خدائی لشکر اٹھ اٹھ کر قیصر و کسرٰی کی تباہی و ہلاکت کا موجب اور دم توڑتی ہوئی انسانیت کی حیات تازہ کا سبب بنے! انہی گلیوں اور چوراہوں میں اسلامی لشکر ترتیب دیئے جاتے!مہاجرین کے لئے عظیم پناہ گاہ اور اہل اسلام کی اولین اور زبردست چھاؤنی!اس مقدس شہر میں حضور اترے، یہیں ڈیرہ جمادیا اور پھر وصال کے بعد یہیں خلد نشین ہوئے، انصار کا ساتھ نہیں چھوڑا ، رہے نام اللہ کا!!
فتح مکہ کے بعد کچھ انصاریوں کو اندیشہ لاحق ہوا کہ:”شاید اب ہم فیضانِ نبوت سے محروم ہوجائیں گے ؛لیکن اللہ کے پیارے نبی نے ان کی وفاؤں کا صلہ یوں دیا کہ دارالہجرت کو ہی اپنا شہر قرار دیا۔“
یہ وہی در و دیوار ہیں جن سے آج بھی انصاریوں کی مہمان نوازی،جذبۂ خلوص و پذیرائی، ہمدردی و غم خواری،جانثاری و جاں سپاری، وفا و اخلاص، محبت و اخوت اور حلم و بردباری کی ہردم تازہ مہک اٹھ رہی ہے،اس خطۂ پاک کا ہر ذرہ پاک اور ہر سنگ ریزہ مقدس ... کیا جانیں کتنی بار ان ذروں اور ان راہوں نے پابوسئ رسول کا شرف حاصل کیا، دیار حبیب کا چپہ چپہ پلکوں کے بل چلنے کے قابل ..! یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس مقدس شہر کا سارا کاروبار سمٹ سمٹا کر حرم نبوی کے زیر سایہ جاری ہوگیا ہے؛بڑے بڑے ہوٹل اور اہم کاروباری منڈیاں،اہم تجارتی دفاتر اور مراکز حرم نبوی کے پاس پاس ہیں،پرانے گھروں میں آج بھی بھیڑ بکریاں نظر آتی ہیں، یہ لوگ بکری کا دودھ بیچتے بھی ہیں۔
مدینہ شریف کی زمین زرعی ہے اور کھیتی باڑی ہوتی ہے۔ مکہ شریف کی طرح یہاں کی زمین پتھریلی اور چٹیل نہیں۔ کھجوروں کے باغات ہیں۔ یہاں کی کھجور میں اپنی شیرینی اور لذت کے لحاظ سے منفرد ہیں،ہر سال لاکھوں زائرین حج و عمرہ کو آتے ہیں، وہ تقریبا سب سوغات کے طور پر اپنے وطن میں کھجور ضرور لاتے ہیں،مدینہ شریف کے کوچہ و بازار میں ہر وقت چہل پہل اور گہما گہمی رہتی ہے۔ یہاں کے تاجروں کی چاندی ہے۔ تاجر پیشہ لوگ خوب دولت کماتے ہیں، سارا سال ان کا کاروبار عروج پر رہتا ہے اور اللہ کا فضل اتنا ہے کہ ان کے ہاں کبھی مندا نہیں ہوتا۔
مشہور ہے امام مالک روضۂ اطہر کے پاس بیٹھ کر حدیث کا درس دیتے تھے، فرمایا کرتے تھے کہ: ”دنیا میں ہر شخص کی بات رد کی جا سکتی ہے ماسوائے اس صاحب قبر کے“ مدینۃ الرسول کے احترام کا یہ حال تھا کہ کبھی اس شہر کی گلیوں میں سواری پر نہیں بیٹھتے تھے،رفع حاجت کے لیے حرم کی حدود سے باہر جاتے تھے، مدینۃ الرسول سے محبت کا یہ عالم تھا کہ سوائے حج کے سفر کے کبھی مدینہ شریف سے باہر نہیں گئے ،مسجد نبوی کے احترام کو ملحوظ
❤2
Mr Sid
*مسجد نبویؐ کا جمال و جلال* ✍🏻... یونس بؔصیر بیت اللہ اگر رب ذوالجلال کی عظمت و جلالت، ہیبت و سطوت اور شان و شوکت کا مظہر ہے،تو مسجد نبویؐ اس کی رحمانیت و رحیمیت اور قدوسیت وربوبیت کی جمال آرا،ظاہری شکل و صورت بھی ایسی کہ دنیائے فن و تعمیر میں اپنی…
رکھتے، ایک روز دورانِ مناظرہ خلیفۂ وقت کو ڈانٹ دیا کہ مسجد میں آہستہ بولو۔
آج 31 دسمبر 74ء ہے ، سال عیسوی کا آخری دن ۔ رحمتوں کا سال، برکتوں کا زمانہ ...پل بھر میں گزر گیا:
حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد
روئے گل سیر ندیدیم و بهار آخر شد
اسی سال صفوان پیدا ہوا، عمرہ بھی نصیب ہوا، روضہ اطہر پر حاضری بھی دی اور ایک رات عالم خواب میں زیارت رسول بھی،پھر زندگی میں سب سے بڑی سعادت، مالی اور بدنی عبادت یعنی حج بھی بخت آوری کا باعث بنا اور اسی سال کے آخر میں ایک بار پھر مدینۃ الرسول میں قیام کا شرف ، مسجد نبوی میں نمازوں کی معراج اور درود و سلام کی سوغاتیں پیش کرنے کی نیک اور مبارک ساعتیں میسر آئیں۔
(صحن حرم، صفحہ: ۱۳۵، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
آج 31 دسمبر 74ء ہے ، سال عیسوی کا آخری دن ۔ رحمتوں کا سال، برکتوں کا زمانہ ...پل بھر میں گزر گیا:
حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد
روئے گل سیر ندیدیم و بهار آخر شد
اسی سال صفوان پیدا ہوا، عمرہ بھی نصیب ہوا، روضہ اطہر پر حاضری بھی دی اور ایک رات عالم خواب میں زیارت رسول بھی،پھر زندگی میں سب سے بڑی سعادت، مالی اور بدنی عبادت یعنی حج بھی بخت آوری کا باعث بنا اور اسی سال کے آخر میں ایک بار پھر مدینۃ الرسول میں قیام کا شرف ، مسجد نبوی میں نمازوں کی معراج اور درود و سلام کی سوغاتیں پیش کرنے کی نیک اور مبارک ساعتیں میسر آئیں۔
(صحن حرم، صفحہ: ۱۳۵، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤2
Mr Sid
سلسلہ نمبر : 316 انتخاب مطالعہ تحریر: پروفیسر سردار گرودت سنگھ دؔارا ( جی ایس دارا ) *اشارۂ روانگی* جس شخص کی محنت کا صلہ اور مشقت کا ثمرہ اس کی اپنی حیات میں اسے قدرت اس طرح مہیا کردے، جس انسان کی آتما کو یہ کامل تسلی و تشفی ہوجائے کہ وہ مقصد جس کے لیے…
سلسلہ نمبر: 317
انتخاب مطالعہ
تحریر:
*پھر وہی غربتِ اسلام کا زمانہ ہے*
اسلام کی غربت اور اپنی درماندگی وذلت کو جانچنا، پرکھنا آج کیا مشکل ہے؟ دور کیوں جائیے، آئینہ دیکھیے، اپنی گھڑی کی طرف دیکھیے، اپنی مصروفیات اور ترجیحات کا میزانیہ بنائیے، اپنی نمازیں ، قرآن کی تلاوت و تعلیم ، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کی حرص اور روز مرہ کے مسائل میں شریعت سے رجوع کا جائزہ لیجیے! پھر اپنے آرام کدوں میں بھی جھانکیے،گھر کے دالان میں نشریاتی رابطوں پر کیا نشر ہورہا ہے؟ سب اہلِ خانہ مل کر کیا دیکھ اور سن رہے ہیں؟ تہذیبِ کفر جو کچھ ہمیں سنا اور دکھا رہی ہے کیا وہ سبھی حرام و حلال کی تمیز کے بغیر کانوں میں اترتا اور آنکھوں میں ڈھلتا تو نہیں جارہا؟ میز پر پڑے رسائل و جرائد میں چَھپے نقوش اور تحریروں کو سمجھیے!نئی نسل کے انداز واطوار کا تجزیہ کیجیے،اپنے بچوں کی نصابی کتابوں کا تجزیہ کیجیے،اپنی بچیوں کے لباس کو جانچیے، محلے کے جوانوں کی مصروفیات، ان کے مستقبل کی ترجیحات کو دیکھیے!بستی کی آبادی اور پھر مسجد میں نمازیوں کے تناسب کا شمار کیجیے، زکوۃ ادا کرنے والوں،وراثت کی شرعی تقسیم کرنے والوں کا ( بشمول دیندار کہلانے والوں کے )تناسب نکالیے، چوپالوں کے مشاغل اور موضوعاتِ گفتگو سنیے، بینک کھاتوں اور اسکیموں کی نوعیت کو سمجھیے، سود سے بچنے والوں کی گنتی کیجئے! بؔسنت،نؔوروز،کؔرسمس میں اہلِ اسلام کا رنگ دیکھیے! عدالتوں میں نافذ قوانین کو پڑھیے، بلادِ اسلام کے اہل تخت و تاج پر نگاہ ڈالیے، پارلیمان میں پاس ہونے والے بِلوں کا جائزہ لیجئے،این،جی،اوز کے لائحہ عمل اور ان کے اثرات دیکھیے! ملٹی نیشنل کمپنیوں کی آمدنیوں کا سرسری اندازہ لگائیے!
پھر فؔلپائن اور گؔجرات کے مسلمانوں کی حالت پر نظر ڈالیے ، شؔیشان کی بستیوں کا خیال کیجیے، بؔغداد کے ہسپتالوں، فؔلوجہ کی مسجدوں، فؔلسطین کے بچوں، کؔشمیر کی ماؤں کا سوچیے، افؔغانستان کی شاہ راہوں، دؔشتِ لیلٰی، بؔگرام، گوؔانتاناموبے اور اؔبوغریب سے گذریے، بؔوسنیا کے وہ بیس ہزار بچے، جنھیں صلیبی اپنا ہم مذہب بنانے کے لئے پورے مشرقی اور مغربی یورپ میں بکھیر چکے ان کا تصور کیجیے!ڈیزی کٹر (بم)، ٹام ہاک (میزائیل) اور تابکار (یورانیم) ملے گولوں کے اہداف اور عالم اسلام کی سمندری حدود پر لنگر انداز بحری بیڑوں کے گھیراؤ کو دیکھیے! تؔاجکستان،اؔزبکستان، تؔرکمانستان،شؔیشان،تؔرکی، پاؔکستان،لؔبنان،فؔلسطین، اؔردن، اؔلجزائر، مؔصر، یؔمن، کؔویت، قؔطر، بؔحرین، مؔتحدۂ عرب امارات، عؔراق، اؔفغانستان، اؔنڈونیشیا میں قائم صلیبی، صیہونی فوجی اڈوں کو دیکھیے! قؔبلۂ اول کی چوکھٹ پر لگے جھنڈے کو پہچانیے ، «بیتِ کعبہ» جی ہاں!! بیت کعبہ،جہاں آپ ہر سال ˝لبیک اللهم لبیک،لبیک لا شریک لک لبیک˝ کہتے ہوئے جاتے ہیں اس کے نواح و عقب میں ”نحن شركاء لہ“ کا نعرہ بلند کرنے والے،دنیا کو فساد سے بھرنے والے فرعونیوں کے اڈوں اور ان میں کھڑے جہازوں اور عظیم تر اسرائیل کے نقشوں کوــــــ لیکن مت دیکھیے؛کیونکہ آنکھیں آپ سے حساب مانگیں گی اور مشکل پیش آجائے گی،
؎ اتنا پانی کہاں تھا ـــ قؔلزم میں
بہہ رہا ہے جو خون،دل ہے مرا
یہ سب منظر دیکھ کر خود فیصلہ کیجیے! کہ آج اسلام اجنبی،انجان،پردیسی اور نامانوس ہے یا نہیں!؟
( تمہارا مجھ سے وعدہ تھا، صفحہ: 62،ناشر: مبشرات، شائیگاں، اسلام آباد)
✍🏻... محمد عدنان وقار صؔدیقی
انتخاب مطالعہ
تحریر:
مولانا احسن عزیز صاحب شہیدؒ *پھر وہی غربتِ اسلام کا زمانہ ہے*
اسلام کی غربت اور اپنی درماندگی وذلت کو جانچنا، پرکھنا آج کیا مشکل ہے؟ دور کیوں جائیے، آئینہ دیکھیے، اپنی گھڑی کی طرف دیکھیے، اپنی مصروفیات اور ترجیحات کا میزانیہ بنائیے، اپنی نمازیں ، قرآن کی تلاوت و تعلیم ، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کی حرص اور روز مرہ کے مسائل میں شریعت سے رجوع کا جائزہ لیجیے! پھر اپنے آرام کدوں میں بھی جھانکیے،گھر کے دالان میں نشریاتی رابطوں پر کیا نشر ہورہا ہے؟ سب اہلِ خانہ مل کر کیا دیکھ اور سن رہے ہیں؟ تہذیبِ کفر جو کچھ ہمیں سنا اور دکھا رہی ہے کیا وہ سبھی حرام و حلال کی تمیز کے بغیر کانوں میں اترتا اور آنکھوں میں ڈھلتا تو نہیں جارہا؟ میز پر پڑے رسائل و جرائد میں چَھپے نقوش اور تحریروں کو سمجھیے!نئی نسل کے انداز واطوار کا تجزیہ کیجیے،اپنے بچوں کی نصابی کتابوں کا تجزیہ کیجیے،اپنی بچیوں کے لباس کو جانچیے، محلے کے جوانوں کی مصروفیات، ان کے مستقبل کی ترجیحات کو دیکھیے!بستی کی آبادی اور پھر مسجد میں نمازیوں کے تناسب کا شمار کیجیے، زکوۃ ادا کرنے والوں،وراثت کی شرعی تقسیم کرنے والوں کا ( بشمول دیندار کہلانے والوں کے )تناسب نکالیے، چوپالوں کے مشاغل اور موضوعاتِ گفتگو سنیے، بینک کھاتوں اور اسکیموں کی نوعیت کو سمجھیے، سود سے بچنے والوں کی گنتی کیجئے! بؔسنت،نؔوروز،کؔرسمس میں اہلِ اسلام کا رنگ دیکھیے! عدالتوں میں نافذ قوانین کو پڑھیے، بلادِ اسلام کے اہل تخت و تاج پر نگاہ ڈالیے، پارلیمان میں پاس ہونے والے بِلوں کا جائزہ لیجئے،این،جی،اوز کے لائحہ عمل اور ان کے اثرات دیکھیے! ملٹی نیشنل کمپنیوں کی آمدنیوں کا سرسری اندازہ لگائیے!
پھر فؔلپائن اور گؔجرات کے مسلمانوں کی حالت پر نظر ڈالیے ، شؔیشان کی بستیوں کا خیال کیجیے، بؔغداد کے ہسپتالوں، فؔلوجہ کی مسجدوں، فؔلسطین کے بچوں، کؔشمیر کی ماؤں کا سوچیے، افؔغانستان کی شاہ راہوں، دؔشتِ لیلٰی، بؔگرام، گوؔانتاناموبے اور اؔبوغریب سے گذریے، بؔوسنیا کے وہ بیس ہزار بچے، جنھیں صلیبی اپنا ہم مذہب بنانے کے لئے پورے مشرقی اور مغربی یورپ میں بکھیر چکے ان کا تصور کیجیے!ڈیزی کٹر (بم)، ٹام ہاک (میزائیل) اور تابکار (یورانیم) ملے گولوں کے اہداف اور عالم اسلام کی سمندری حدود پر لنگر انداز بحری بیڑوں کے گھیراؤ کو دیکھیے! تؔاجکستان،اؔزبکستان، تؔرکمانستان،شؔیشان،تؔرکی، پاؔکستان،لؔبنان،فؔلسطین، اؔردن، اؔلجزائر، مؔصر، یؔمن، کؔویت، قؔطر، بؔحرین، مؔتحدۂ عرب امارات، عؔراق، اؔفغانستان، اؔنڈونیشیا میں قائم صلیبی، صیہونی فوجی اڈوں کو دیکھیے! قؔبلۂ اول کی چوکھٹ پر لگے جھنڈے کو پہچانیے ، «بیتِ کعبہ» جی ہاں!! بیت کعبہ،جہاں آپ ہر سال ˝لبیک اللهم لبیک،لبیک لا شریک لک لبیک˝ کہتے ہوئے جاتے ہیں اس کے نواح و عقب میں ”نحن شركاء لہ“ کا نعرہ بلند کرنے والے،دنیا کو فساد سے بھرنے والے فرعونیوں کے اڈوں اور ان میں کھڑے جہازوں اور عظیم تر اسرائیل کے نقشوں کوــــــ لیکن مت دیکھیے؛کیونکہ آنکھیں آپ سے حساب مانگیں گی اور مشکل پیش آجائے گی،
؎ اتنا پانی کہاں تھا ـــ قؔلزم میں
بہہ رہا ہے جو خون،دل ہے مرا
یہ سب منظر دیکھ کر خود فیصلہ کیجیے! کہ آج اسلام اجنبی،انجان،پردیسی اور نامانوس ہے یا نہیں!؟
( تمہارا مجھ سے وعدہ تھا، صفحہ: 62،ناشر: مبشرات، شائیگاں، اسلام آباد)
✍🏻... محمد عدنان وقار صؔدیقی
❤2
*سرکڑہ، پھول سندہ اور کوتوالی (ضلع بجنور) کا ایک سفر اور مولانا سراج الدین ندوی سے ایک یادگار ملاقات*
برہان الدین قاسمی بجنوری
ای میل: burhanuddin7640@gmail.com
31 مئی 2026ء کو ضلع بجنور کی معروف علمی، دینی اور سماجی شخصیت مولانا سراج الدین ندوی صاحب سے ان کے دولت کدے پر ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ برسوں سے مولانا سے بالمشافہ ملاقات کا اشتیاق تھا، مگر ان کی مسلسل مصروفیات اور اسفار کی وجہ سے یہ خواہش پوری نہ ہو سکی تھی۔
اس ملاقات کا ایک خاص بہانہ بہرِ تقریبِ ملاقات یہ بھی تھا کہ معروف محقق مولانا فیصل احمد ندوی صاحب (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) نے اپنی تصنیف "مفتی عبداللطیف رحمانی: احوال و آثار" شائع ہونے کے بعد اس کے دو نسخے بذریعہ ڈاک بجنور میں راقمِ سطور کو ارسال کیے تھے، جن میں سے ایک نسخہ مولانا سراج الدین صاحب کے لیے ارسال کیا گیا تھا۔
خواہش تھی کہ اس امانت کو خود مولانا تک پہنچاؤں۔ عید الاضحی کے ایام میں یہ خیال غالب ہوا کہ شاید مولانا اس وقت سفر میں نہ ہوں، چنانچہ رابطہ کیا گیا اور سفر طے ہوگیا۔
اس سفر میں میرے ہمراہ عزیزِ مکرم عزیر شمیم بجنوری تھے۔ ہم فجر کے بعد بجنور سے روانہ ہوئے اور روانگی کی اطلاع مولانا کو دے دی۔ دورانِ سفر میں بھی مولانا مسلسل رابطے میں رہے۔ سرکڑا پہنچنے پر معلوم ہوا کہ مولانا نے ہماری رہنمائی کے لیے حمزہ نامی ایک نوجوان کو پہلے ہی بھیج دیا تھا، جس نے ہمیں بستی کی گلیوں سے گزارتے ہوئے مولانا کے گھر تک پہنچایا۔
گھر کے دروازے پر خود مولانا سراج الدین ندوی صاحب موجود تھے۔ ان کے ساتھ ان کے معاون اور برادر نسبتی مولانا ذوالفقار احمد ندوی بھی تشریف فرما تھے۔ مصافحے کے بعد گفتگو اور ناشتے کا سلسلہ شروع ہوا۔
گفتگو کے تسلسل میں مولانا نے ایک دلچسپ بات بتائی کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے مظفر نگر کے کسی مدرسے میں بھی تعلیم حاصل کی تھی، اگرچہ اس مدرسے کا نام اس وقت ان کے ذہن میں نہ آ سکا۔ یہ ایک قابلِ تحقیق نکتہ ہے، کیونکہ عام طور پر دستیاب سوانحی مواد میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔
عزیر شمیم نے مولانا سے ان کی سماجی اور تنظیمی زندگی کے حوالے سے سوال کیا کہ:
جماعت اسلامی سے وابستگی کے باوجود ایسے ماحول میں کام کرنا، جہاں مختلف مسالک اور جماعتیں موجود ہوں، یقیناً آسان نہ رہا ہوگا؟
مولانا نے اس سوال کے جواب میں نہایت بصیرت افروز گفتگو فرمائی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق صرف ایک جماعت تک محدود نہیں رہا۔ تبلیغی جماعت سے بھی وابستگی رہی، جمعیت علماء ہند کی خدمات کے بھی وہ معترف ہیں اور جماعت اسلامی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ زندگی بھر انہوں نے اعتدال، حکمت اور وسعتِ نظر کو اختیار کیا، کسی ایک نظریے میں شدت پیدا نہیں ہونے دی، سبھی جماعتوں اور مکاتبِ فکر کا احترام کیا، جس کے نتیجے میں انہیں بھی ہر طرف سے احترام ملا۔
مولانا نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے بعض ناخوش گوار واقعات کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دور میں بعض حاسد افراد نے ان کے خلاف سرکاری سطح پر شکایات کرنے اور جھوٹے الزامات عائد کرنے کی کوشش کی، مگر تحقیقات کے بعد تمام الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے۔ مقامی حکام نے ان کے کردار، خدمات اور قانون پسندی کو دیکھتے ہوئے ہمیشہ مثبت رپورٹ پیش کی۔ بعد کے زمانے میں اس نوعیت کی مخالفتیں تقریباً ختم ہو گئیں۔
مولانا کے اسلوبِ تصنیف و تالیف کے حوالے سے گفتگو ہوئی تو مولانا نے بتایا کہ جوانی اور صحت کے زمانے میں وہ دن رات لکھا کرتے تھے۔ فجر کے بعد سے ظہر تک مسلسل تصنیفی کام میں مشغول رہتے اور بعض اوقات پوری رات لکھتے رہتے تھے۔ ان کی معروف کتاب "خلفائے رسول" رات کے ان ہی جاگے ہوئے اوقات کی یادگار ہے۔ عشاء کے بعد اور فجر سے پہلے کے اوقات آج بھی ان کے لیے تصنیفی لحاظ سے سب سے زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔
مولانا سراج الدین ندوی صاحب کی شخصیت صرف ایک مصنف یا مفکر کی حیثیت تک محدود نہیں۔ سرکڑا اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں ان کی خدمات ایک مستقل تاریخ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جس زمانے میں اس پورے خطے میں مناسب طبی سہولیات موجود نہیں تھیں، انہوں نے ایک ہسپتال قائم کیا۔ تعلیمی میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں اور مختلف ادارے قائم کیے۔ آج بھی وہ مستحق اور بیوہ خواتین کی امداد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک کے سیاسی حالات کی تبدیلی اور اس راہ کی اس دہائی میں پیش آنے والی مشکلات کے باوجود یہ خدمت پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔
مولانا نے زندگی بھر مساجد، مدارس اور مختلف رفاہی منصوبوں کی مدد بھی کی۔ ان کی سماجی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے، جس کے اثرات آج بھی علاقے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
برہان الدین قاسمی بجنوری
ای میل: burhanuddin7640@gmail.com
31 مئی 2026ء کو ضلع بجنور کی معروف علمی، دینی اور سماجی شخصیت مولانا سراج الدین ندوی صاحب سے ان کے دولت کدے پر ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ برسوں سے مولانا سے بالمشافہ ملاقات کا اشتیاق تھا، مگر ان کی مسلسل مصروفیات اور اسفار کی وجہ سے یہ خواہش پوری نہ ہو سکی تھی۔
اس ملاقات کا ایک خاص بہانہ بہرِ تقریبِ ملاقات یہ بھی تھا کہ معروف محقق مولانا فیصل احمد ندوی صاحب (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) نے اپنی تصنیف "مفتی عبداللطیف رحمانی: احوال و آثار" شائع ہونے کے بعد اس کے دو نسخے بذریعہ ڈاک بجنور میں راقمِ سطور کو ارسال کیے تھے، جن میں سے ایک نسخہ مولانا سراج الدین صاحب کے لیے ارسال کیا گیا تھا۔
خواہش تھی کہ اس امانت کو خود مولانا تک پہنچاؤں۔ عید الاضحی کے ایام میں یہ خیال غالب ہوا کہ شاید مولانا اس وقت سفر میں نہ ہوں، چنانچہ رابطہ کیا گیا اور سفر طے ہوگیا۔
اس سفر میں میرے ہمراہ عزیزِ مکرم عزیر شمیم بجنوری تھے۔ ہم فجر کے بعد بجنور سے روانہ ہوئے اور روانگی کی اطلاع مولانا کو دے دی۔ دورانِ سفر میں بھی مولانا مسلسل رابطے میں رہے۔ سرکڑا پہنچنے پر معلوم ہوا کہ مولانا نے ہماری رہنمائی کے لیے حمزہ نامی ایک نوجوان کو پہلے ہی بھیج دیا تھا، جس نے ہمیں بستی کی گلیوں سے گزارتے ہوئے مولانا کے گھر تک پہنچایا۔
گھر کے دروازے پر خود مولانا سراج الدین ندوی صاحب موجود تھے۔ ان کے ساتھ ان کے معاون اور برادر نسبتی مولانا ذوالفقار احمد ندوی بھی تشریف فرما تھے۔ مصافحے کے بعد گفتگو اور ناشتے کا سلسلہ شروع ہوا۔
گفتگو کے تسلسل میں مولانا نے ایک دلچسپ بات بتائی کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے مظفر نگر کے کسی مدرسے میں بھی تعلیم حاصل کی تھی، اگرچہ اس مدرسے کا نام اس وقت ان کے ذہن میں نہ آ سکا۔ یہ ایک قابلِ تحقیق نکتہ ہے، کیونکہ عام طور پر دستیاب سوانحی مواد میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔
عزیر شمیم نے مولانا سے ان کی سماجی اور تنظیمی زندگی کے حوالے سے سوال کیا کہ:
جماعت اسلامی سے وابستگی کے باوجود ایسے ماحول میں کام کرنا، جہاں مختلف مسالک اور جماعتیں موجود ہوں، یقیناً آسان نہ رہا ہوگا؟
مولانا نے اس سوال کے جواب میں نہایت بصیرت افروز گفتگو فرمائی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق صرف ایک جماعت تک محدود نہیں رہا۔ تبلیغی جماعت سے بھی وابستگی رہی، جمعیت علماء ہند کی خدمات کے بھی وہ معترف ہیں اور جماعت اسلامی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ زندگی بھر انہوں نے اعتدال، حکمت اور وسعتِ نظر کو اختیار کیا، کسی ایک نظریے میں شدت پیدا نہیں ہونے دی، سبھی جماعتوں اور مکاتبِ فکر کا احترام کیا، جس کے نتیجے میں انہیں بھی ہر طرف سے احترام ملا۔
مولانا نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے بعض ناخوش گوار واقعات کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دور میں بعض حاسد افراد نے ان کے خلاف سرکاری سطح پر شکایات کرنے اور جھوٹے الزامات عائد کرنے کی کوشش کی، مگر تحقیقات کے بعد تمام الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے۔ مقامی حکام نے ان کے کردار، خدمات اور قانون پسندی کو دیکھتے ہوئے ہمیشہ مثبت رپورٹ پیش کی۔ بعد کے زمانے میں اس نوعیت کی مخالفتیں تقریباً ختم ہو گئیں۔
مولانا کے اسلوبِ تصنیف و تالیف کے حوالے سے گفتگو ہوئی تو مولانا نے بتایا کہ جوانی اور صحت کے زمانے میں وہ دن رات لکھا کرتے تھے۔ فجر کے بعد سے ظہر تک مسلسل تصنیفی کام میں مشغول رہتے اور بعض اوقات پوری رات لکھتے رہتے تھے۔ ان کی معروف کتاب "خلفائے رسول" رات کے ان ہی جاگے ہوئے اوقات کی یادگار ہے۔ عشاء کے بعد اور فجر سے پہلے کے اوقات آج بھی ان کے لیے تصنیفی لحاظ سے سب سے زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔
مولانا سراج الدین ندوی صاحب کی شخصیت صرف ایک مصنف یا مفکر کی حیثیت تک محدود نہیں۔ سرکڑا اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں ان کی خدمات ایک مستقل تاریخ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جس زمانے میں اس پورے خطے میں مناسب طبی سہولیات موجود نہیں تھیں، انہوں نے ایک ہسپتال قائم کیا۔ تعلیمی میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں اور مختلف ادارے قائم کیے۔ آج بھی وہ مستحق اور بیوہ خواتین کی امداد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک کے سیاسی حالات کی تبدیلی اور اس راہ کی اس دہائی میں پیش آنے والی مشکلات کے باوجود یہ خدمت پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔
مولانا نے زندگی بھر مساجد، مدارس اور مختلف رفاہی منصوبوں کی مدد بھی کی۔ ان کی سماجی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے، جس کے اثرات آج بھی علاقے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
❤1
ان ہمہ جہتی خدمات کا نتیجہ یہ ہے کہ سرکڑے کے ہندو اور مسلمان سبھی مولانا کا بے حد احترام کرتے ہیں، سرکڑے میں غالب آبادی ہندوؤں کی ہے، جب تک ہندو بڑی تعداد میں کسی امید وار کو ووٹ نہ دیں، وہ کام یاب نہیں ہوسکتا، اس کے باوجود علاقے میں مولانا کے بیٹے کو گرام پنچایت کے انتخاب میں بھاری ووٹوں سے کام یابی ملی، یہ اس بات کی علامت ہے کہ علاقے کے ہندو مسلم سبھی مولانا کی خدمات اور شخصیت کے معترف ہیں۔
گفتگو کے درمیان مولانا نے اپنے نئے منصوبے مرکز تعلیم القرآن کا بھی تعارف کرایا، جس کے لیے دہلی میں ایک دفتر قائم کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد قرآن مجید کے فہم، تعلیم، اشاعت اور عملی نفاذ کو عام کرنا ہے۔ مولانا کے مطابق اس تحریک کا ہدف یہ ہے کہ مسلمان قرآن کو محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ کتابِ ہدایت سمجھ کر پڑھیں اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالیں۔ اس مقصد کے لیے دروسِ قرآن، عوامی حلقے، خطبات، اجتماعات اور مختلف اشاعتی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر کتابوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ راقم نے اپنی کتاب "انقلاب 1857ء اور بجنور گزیٹیر : ایک مطالعہ" مولانا کی خدمت میں پیش کی، جب کہ مولانا نے اپنی دو کتابیں "جہاتِ تفکر" اور "جو اکثر یاد آتے ہیں" (پہلی دو جلدیں) عنایت فرمائیں۔
اسی موقع پر مولانا فیصل احمد ندوی کی کتاب "مفتی عبداللطیف رحمانی: احوال و آثار" بھی پیش کی گئی۔ کتاب دیکھ کر مولانا نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مفتی عبداللطیف رحمانی کو لوگ تقریباً فراموش کر چکے تھے، مگر مولانا فیصل احمد ندوی نے اپنی اس کاوش سے انہیں نئی زندگی عطا کر دی ہے۔
مولانا سراج الدین ندوی صاحب کی علمی خدمات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بقولِ خود اب تک تقریباً دو سو کتابیں تصنیف کر چکے ہیں۔ ادبِ اطفال ان کا خصوصی موضوع رہا ہے۔
جماعت اسلامی ہند میں بھی ان کا نمایاں مقام ہے اور وہ شوریٰ کے رکن کی حیثیت سے اہم ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ہیں۔ ان کے مشوروں اور آراء کو علمی و تنظیمی حلقوں میں خاص اہمیت حاصل ہے۔
تقریباً نو بجے ملاقات اختتام پذیر ہوئی۔ رخصت کے وقت مولانا نے صدر الدین نامی ایک صاحب کو ہمارے ساتھ روانہ کیا تاکہ وہ ہمیں گلیوں سے باہر مرکزی راستے تک پہنچادیں، صدر الدین صاحب نے ہمیں مولانا کا قائم کردہ ہسپتال اور اسکول دکھائے۔ علاقائی معیار کے لحاظ سے یہ ایک منظم، صاف ستھرا اور اچھی سہولیات سے آراستہ ہسپتال ہے۔
اسکول میں عید کی تعطیلات ہونے کی وجہ سے اندر جانے کا موقع تو نہ مل سکا، تاہم باہر سے اس کا مشاہدہ کیا گیا۔
یہ ملاقات ایک علمی شخصیت سے رسمی تعارف ہی نہیں بلکہ ایک ایسی ہمہ جہت زندگی کے مشاہدے کا موقع تھی جس میں علم، دعوت، تصنیف، خدمتِ خلق، تنظیمی بصیرت اور سماجی تعمیر کے متعدد پہلو یکجا نظر آتے ہیں۔ بلا شبہ مولانا سراج الدین ندوی صاحب ضلع بجنور کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی خدمات نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ملک بھر میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
مولانا سراج الدین ندوی صاحب سے ملاقات اور ان کے قائم کردہ اداروں کے مشاہدے کے بعد ہم سرکڑا سے رخصت ہوئے۔ ابھی کچھ ہی دور چلے تھے کہ نہٹور میں ایک چائے کی دکان نظر آئی۔ رفیقِ سفر عزیر شمیم صاحب کو چائے پینے کی خواہش ہوئی۔ دکان پر نمایاں طور پر "سپیشل چائے" کا بورڈ آویزاں تھا۔ نام اور دعوے کی کشش نے ہمیں رکنے پر آمادہ کر لیا اور دو کپ چائے کا آرڈر دے دیا گیا۔
چائے جب ہونٹوں سے لگی تو معلوم ہوا کہ دکان دار نے اسے "سپیشل" شاید کسی اور ہی معنی میں لکھ رکھا تھا۔ ذائقہ ایسا تھا کہ اس کی مثال کم ہی مل سکتی تھی۔ میں نے تو بہرحال چائے مکمل کر لی، عزیر شمیم سے یہ آزمائش برداشت نہ ہو سکی اور انہوں نے پہلے ہلکے کش کے بعد ہی چائے ایک طرف رکھ دی۔
اس کے بعد ہمارا رخ موضع پھول سندہ کی جانب ہوا۔ یہاں مولانا ثاقب عزیر بجنوری سے ملاقات مقصود تھی۔ ملاقات خوش گوار رہی اور میزبان نے تازہ لیچیاں پیش کیں۔ گرمی کے موسم میں تازہ اور شیریں لیچیوں نے سفر کی ساری تھکن دور کر دی اور لطف سفر دوبالا کر دیا۔
موضع پھول سندہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ سرسید احمد خاں نے اپنی معروف تصنیف سرکشی ضلع بجنور میں اس گاؤں کا ذکر کیا ہے۔
یہاں سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہم قریب ہی واقع موضع کوتوالی روانہ ہوئے، جہاں ضلع بجنور کے معروف نعت خواں اور شاعر حافظ امتیاز اظہر بجنوری سے ملاقات مقصود تھی۔ چند روز قبل بجنور میں ملاقات کے وقت ان کی خواہش پر کوتوالی آنے کا وعدہ کرلیا گیا تھا، اس سفر کو غنیمت جانتے ہوئے یہ وعدہ بھی پورا ہو گیا۔
گفتگو کے درمیان مولانا نے اپنے نئے منصوبے مرکز تعلیم القرآن کا بھی تعارف کرایا، جس کے لیے دہلی میں ایک دفتر قائم کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد قرآن مجید کے فہم، تعلیم، اشاعت اور عملی نفاذ کو عام کرنا ہے۔ مولانا کے مطابق اس تحریک کا ہدف یہ ہے کہ مسلمان قرآن کو محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ کتابِ ہدایت سمجھ کر پڑھیں اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالیں۔ اس مقصد کے لیے دروسِ قرآن، عوامی حلقے، خطبات، اجتماعات اور مختلف اشاعتی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر کتابوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ راقم نے اپنی کتاب "انقلاب 1857ء اور بجنور گزیٹیر : ایک مطالعہ" مولانا کی خدمت میں پیش کی، جب کہ مولانا نے اپنی دو کتابیں "جہاتِ تفکر" اور "جو اکثر یاد آتے ہیں" (پہلی دو جلدیں) عنایت فرمائیں۔
اسی موقع پر مولانا فیصل احمد ندوی کی کتاب "مفتی عبداللطیف رحمانی: احوال و آثار" بھی پیش کی گئی۔ کتاب دیکھ کر مولانا نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مفتی عبداللطیف رحمانی کو لوگ تقریباً فراموش کر چکے تھے، مگر مولانا فیصل احمد ندوی نے اپنی اس کاوش سے انہیں نئی زندگی عطا کر دی ہے۔
مولانا سراج الدین ندوی صاحب کی علمی خدمات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بقولِ خود اب تک تقریباً دو سو کتابیں تصنیف کر چکے ہیں۔ ادبِ اطفال ان کا خصوصی موضوع رہا ہے۔
جماعت اسلامی ہند میں بھی ان کا نمایاں مقام ہے اور وہ شوریٰ کے رکن کی حیثیت سے اہم ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ہیں۔ ان کے مشوروں اور آراء کو علمی و تنظیمی حلقوں میں خاص اہمیت حاصل ہے۔
تقریباً نو بجے ملاقات اختتام پذیر ہوئی۔ رخصت کے وقت مولانا نے صدر الدین نامی ایک صاحب کو ہمارے ساتھ روانہ کیا تاکہ وہ ہمیں گلیوں سے باہر مرکزی راستے تک پہنچادیں، صدر الدین صاحب نے ہمیں مولانا کا قائم کردہ ہسپتال اور اسکول دکھائے۔ علاقائی معیار کے لحاظ سے یہ ایک منظم، صاف ستھرا اور اچھی سہولیات سے آراستہ ہسپتال ہے۔
اسکول میں عید کی تعطیلات ہونے کی وجہ سے اندر جانے کا موقع تو نہ مل سکا، تاہم باہر سے اس کا مشاہدہ کیا گیا۔
یہ ملاقات ایک علمی شخصیت سے رسمی تعارف ہی نہیں بلکہ ایک ایسی ہمہ جہت زندگی کے مشاہدے کا موقع تھی جس میں علم، دعوت، تصنیف، خدمتِ خلق، تنظیمی بصیرت اور سماجی تعمیر کے متعدد پہلو یکجا نظر آتے ہیں۔ بلا شبہ مولانا سراج الدین ندوی صاحب ضلع بجنور کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی خدمات نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ملک بھر میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔
مولانا سراج الدین ندوی صاحب سے ملاقات اور ان کے قائم کردہ اداروں کے مشاہدے کے بعد ہم سرکڑا سے رخصت ہوئے۔ ابھی کچھ ہی دور چلے تھے کہ نہٹور میں ایک چائے کی دکان نظر آئی۔ رفیقِ سفر عزیر شمیم صاحب کو چائے پینے کی خواہش ہوئی۔ دکان پر نمایاں طور پر "سپیشل چائے" کا بورڈ آویزاں تھا۔ نام اور دعوے کی کشش نے ہمیں رکنے پر آمادہ کر لیا اور دو کپ چائے کا آرڈر دے دیا گیا۔
چائے جب ہونٹوں سے لگی تو معلوم ہوا کہ دکان دار نے اسے "سپیشل" شاید کسی اور ہی معنی میں لکھ رکھا تھا۔ ذائقہ ایسا تھا کہ اس کی مثال کم ہی مل سکتی تھی۔ میں نے تو بہرحال چائے مکمل کر لی، عزیر شمیم سے یہ آزمائش برداشت نہ ہو سکی اور انہوں نے پہلے ہلکے کش کے بعد ہی چائے ایک طرف رکھ دی۔
اس کے بعد ہمارا رخ موضع پھول سندہ کی جانب ہوا۔ یہاں مولانا ثاقب عزیر بجنوری سے ملاقات مقصود تھی۔ ملاقات خوش گوار رہی اور میزبان نے تازہ لیچیاں پیش کیں۔ گرمی کے موسم میں تازہ اور شیریں لیچیوں نے سفر کی ساری تھکن دور کر دی اور لطف سفر دوبالا کر دیا۔
موضع پھول سندہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ سرسید احمد خاں نے اپنی معروف تصنیف سرکشی ضلع بجنور میں اس گاؤں کا ذکر کیا ہے۔
یہاں سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہم قریب ہی واقع موضع کوتوالی روانہ ہوئے، جہاں ضلع بجنور کے معروف نعت خواں اور شاعر حافظ امتیاز اظہر بجنوری سے ملاقات مقصود تھی۔ چند روز قبل بجنور میں ملاقات کے وقت ان کی خواہش پر کوتوالی آنے کا وعدہ کرلیا گیا تھا، اس سفر کو غنیمت جانتے ہوئے یہ وعدہ بھی پورا ہو گیا۔
❤1
حافظ امتیاز اظہر بجنوری سے یہ ملاقات کئی برس بعد ہو رہی تھی۔ اس عرصے میں ان کی علمی، ادبی اور معاشی زندگی میں جو تبدیلیاں آئی تھیں، ان کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں ان کی توجہ زیادہ تر اپنے کاروبار کی طرف رہی ہے اور بحمد اللہ اس میدان میں انہیں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم کاروباری مصروفیات کے باوجود ادبی دنیا سے ان کا تعلق برقرار ہے اور وہ مشاعروں، ادبی نشستوں اور شعری محفلوں میں برابر شریک ہوتے رہتے ہیں۔
امتیاز اظہر نے ابتدائی زمانے میں علامہ منصور احمد منصور بجنوری مرحوم سے کافی استفادہ کیا ہے، اسی مناسبت سے راقم کی کی تحریر کردہ علامہ منصور بجنوری کی سوانح (غير مطبوعہ) میں ان کا تذکرہ موجود ہے۔
گفتگو کے دوران میں انہوں نے اپنی ایک غزل بھی سنائی جس کے اشعار نے داد و تحسین حاصل کی۔ یہاں زیادہ پسند کیا جانے والا ایک شعر حاضر ہے:
جس کو چاہا ہے اسے قید کیا ہے ہم نے
یہ الگ بات کہ زندان نہیں رکھا ہے
امتیاز اظہر صاحب سے گفتگو کے درمیان ضلع بجنور کے ایک اور صاحبِ ذوق شاعر ساجد ساغر کا تذکرہ بھی آیا۔ ساجد ساغر کی زندگی میں ایک غیر معمولی جدوجہد کی داستان نظر آتی ہے۔ ان کے حالات میں بہت حد تک احسان دانش کی زندگی کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔ جس طرح احسان دانش نے غربت، محنت مزدوری اور بے شمار مشکلات کے باوجود ادب کی دنیا میں اپنا مقام پیدا کیا، اسی طرح ساجد ساغر بھی مسلسل جدوجہد کے ذریعے شعری دنیا میں اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کی رسمی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک زمانہ ایسا بھی گزرا جب وہ معمولی لکھنا پڑھنا تک نہیں جانتے تھے، لیکن فطری ذوقِ شعر ان کے اندر ابتدا ہی سے موجود تھا، ضلع بجنور کے معروف صاحبِ فن شاعر انوار احمد انور بجنوری کی صحبت میسر آئی اور انہوں نے ان سے بھرپور استفادہ کیا۔ یہ استفادہ اس قدر گہرا تھا کہ بہت سے باقاعدہ تعلیم یافتہ شاگرد بھی اپنے اساتذہ سے شاید اتنا فائدہ نہ اٹھا پاتے ہوں۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ وہ شاعری کی بہت سی باریکیوں کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ بحورِ شعر سے بھی واقفیت رکھتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے علمِ قرض الشعر کسی باقاعدہ کتاب کے بغیر سیکھا۔
متعدد مواقع پر راقم نے ان سے مختلف اشعار کی تقطیع اور بحر کے متعلق سوالات کیے، حتیٰ کہ بعض اوقات جان بوجھ کر مشکل مثالیں بھی پیش کیں، مگر انہوں نے معمولی غور کے بعد درست بحر کی نشان دہی کر دی۔ یہ صلاحیت بلا شبہ انور بجنوری صاحب کا فیضانِ صحبت ہونے کے ساتھ ایک فطری ودیعت اور خدا داد ملکہ ہے۔
ساجد ساغر جب اپنا کلام سناتے ہیں تو ان کے لہجے، انداز اور کیفیت سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ شعر کو صرف کہتے نہیں بلکہ جیتے بھی ہیں۔ ان کی زندگی کے مصائب، محرومیاں، اضطراب اور داخلی کرب ان کے اشعار میں پوری شدت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان کا درد میں ڈوبا کرب آمیز لہجہ ان کے اشعار کو سہ آتشہ کردیتا ہے۔
اگر ان کا شعری سفر اسی طرح جاری رہا تو بعید نہیں کہ آنے والے زمانے میں وہ المیہ لہجے اور کربیہ اسلوب کے ایک نمایاں شاعر کے طور پر پہچانے جائیں۔
امتیاز اظہر ہوں یا ساجد ساغر، دونوں کی ایک مشترک کمزوری راقم کو ہمیشہ یہ محسوس ہوتی رہی ہے کہ وہ اپنے کلام کو باقاعدہ بیاض کی صورت میں محفوظ کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔ اشعار کاغذ کے ٹکڑوں یا موبائل فون میں منتشر رہتے ہیں۔ خصوصاً ساجد ساغر کے ابتدائی برسوں کے اشعار محض حافظے میں محفوظ رہے، کیونکہ اس زمانے میں وہ لکھنا نہیں جانتے تھے۔ بعد میں انہوں نے اپنے کلام کو محفوظ کرنا شروع کیا، لیکن معلوم نہیں کہ ان کا تمام شعری سرمایہ کس حد تک یکجا ہو سکا ہے۔
کوتوالی میں یہ ادبی نشست دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے تک جاری رہی۔ اس کے بعد ہم نے واپسی کا سفر شروع کیا اور دو بجے کے قریب بجنور پہنچ گئے۔
امتیاز اظہر نے ابتدائی زمانے میں علامہ منصور احمد منصور بجنوری مرحوم سے کافی استفادہ کیا ہے، اسی مناسبت سے راقم کی کی تحریر کردہ علامہ منصور بجنوری کی سوانح (غير مطبوعہ) میں ان کا تذکرہ موجود ہے۔
گفتگو کے دوران میں انہوں نے اپنی ایک غزل بھی سنائی جس کے اشعار نے داد و تحسین حاصل کی۔ یہاں زیادہ پسند کیا جانے والا ایک شعر حاضر ہے:
جس کو چاہا ہے اسے قید کیا ہے ہم نے
یہ الگ بات کہ زندان نہیں رکھا ہے
امتیاز اظہر صاحب سے گفتگو کے درمیان ضلع بجنور کے ایک اور صاحبِ ذوق شاعر ساجد ساغر کا تذکرہ بھی آیا۔ ساجد ساغر کی زندگی میں ایک غیر معمولی جدوجہد کی داستان نظر آتی ہے۔ ان کے حالات میں بہت حد تک احسان دانش کی زندگی کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔ جس طرح احسان دانش نے غربت، محنت مزدوری اور بے شمار مشکلات کے باوجود ادب کی دنیا میں اپنا مقام پیدا کیا، اسی طرح ساجد ساغر بھی مسلسل جدوجہد کے ذریعے شعری دنیا میں اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کی رسمی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک زمانہ ایسا بھی گزرا جب وہ معمولی لکھنا پڑھنا تک نہیں جانتے تھے، لیکن فطری ذوقِ شعر ان کے اندر ابتدا ہی سے موجود تھا، ضلع بجنور کے معروف صاحبِ فن شاعر انوار احمد انور بجنوری کی صحبت میسر آئی اور انہوں نے ان سے بھرپور استفادہ کیا۔ یہ استفادہ اس قدر گہرا تھا کہ بہت سے باقاعدہ تعلیم یافتہ شاگرد بھی اپنے اساتذہ سے شاید اتنا فائدہ نہ اٹھا پاتے ہوں۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ وہ شاعری کی بہت سی باریکیوں کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ بحورِ شعر سے بھی واقفیت رکھتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے علمِ قرض الشعر کسی باقاعدہ کتاب کے بغیر سیکھا۔
متعدد مواقع پر راقم نے ان سے مختلف اشعار کی تقطیع اور بحر کے متعلق سوالات کیے، حتیٰ کہ بعض اوقات جان بوجھ کر مشکل مثالیں بھی پیش کیں، مگر انہوں نے معمولی غور کے بعد درست بحر کی نشان دہی کر دی۔ یہ صلاحیت بلا شبہ انور بجنوری صاحب کا فیضانِ صحبت ہونے کے ساتھ ایک فطری ودیعت اور خدا داد ملکہ ہے۔
ساجد ساغر جب اپنا کلام سناتے ہیں تو ان کے لہجے، انداز اور کیفیت سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ شعر کو صرف کہتے نہیں بلکہ جیتے بھی ہیں۔ ان کی زندگی کے مصائب، محرومیاں، اضطراب اور داخلی کرب ان کے اشعار میں پوری شدت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان کا درد میں ڈوبا کرب آمیز لہجہ ان کے اشعار کو سہ آتشہ کردیتا ہے۔
اگر ان کا شعری سفر اسی طرح جاری رہا تو بعید نہیں کہ آنے والے زمانے میں وہ المیہ لہجے اور کربیہ اسلوب کے ایک نمایاں شاعر کے طور پر پہچانے جائیں۔
امتیاز اظہر ہوں یا ساجد ساغر، دونوں کی ایک مشترک کمزوری راقم کو ہمیشہ یہ محسوس ہوتی رہی ہے کہ وہ اپنے کلام کو باقاعدہ بیاض کی صورت میں محفوظ کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔ اشعار کاغذ کے ٹکڑوں یا موبائل فون میں منتشر رہتے ہیں۔ خصوصاً ساجد ساغر کے ابتدائی برسوں کے اشعار محض حافظے میں محفوظ رہے، کیونکہ اس زمانے میں وہ لکھنا نہیں جانتے تھے۔ بعد میں انہوں نے اپنے کلام کو محفوظ کرنا شروع کیا، لیکن معلوم نہیں کہ ان کا تمام شعری سرمایہ کس حد تک یکجا ہو سکا ہے۔
کوتوالی میں یہ ادبی نشست دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے تک جاری رہی۔ اس کے بعد ہم نے واپسی کا سفر شروع کیا اور دو بجے کے قریب بجنور پہنچ گئے۔
پروفیسر عبدالشہید نعمانی
ابھی ابھی جناب ابو الحسن الطالب کی پوسٹ سے یہ اندوہناک خبر سنی کہ کراچی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جناب عبد الشہید نعمانی انتقال فرما گئے. نعمانی صاحب سے تعارف78 19 میں ریاض یونیورسٹی میں ہوا. موصوف پاکستانی اساتذہ کی ٹریننگ کے دوسرے بیچ میں کراچی سے جناب احسان الحق اور جناب محمد اسحاق میمن کے ہمراہ اس سیشن میں شریک تھے. پاکستان آنے کے بعد ہم نے انہیں بارہا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں مختلف کانفرنسز میں مدعو کیا نیز ادارہ تحقیقات اسلامی میں بھی ان کا آنا جانا رہتا تھا اور ملاقات ہوتی رہتی تھی. ایک بار میرے کراچی کے سفر میں موصوف مجھے اپنے گھر جامعہ کراچی کی اساتذہ کی رہائشی کالونی میں لے گئے جہاں ان کے والد محترم مولانا عبدالرشید نعمانی سے طویل ملاقات اور مختلف موضوعات پر گفتگو رہی. مولانا نعمانی جامعہ بنوری ٹاؤن کے حدیث ریسرچ پروجیکٹس کے نگران اعلیٰ، متعدد بلند پایہ علمی اور تحقیقی مطبوعات کے مصنف تھے. مولانا نے اپنی تالیفات کے ذریعے محمود عباسی اور ان کی ناصبی فکر کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر رکھ دیا تھا. اب جو لوگ ناصبیت سے وابستگی رکھتے ہیں وہ کسی علمی یا تحقیقی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی آخرت کی بھٹی سلگانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں.
ادھر کئی سالوں سے پروفیسر عبد الشہید نعمانی کے ساتھ رابطہ نہیں تھا. دو چار دن پہلے یوں ہی بیٹھے بیٹھے ان کی یاد بھی آئی تھی. آج ان کے سفر آخرت پر روانگی کی خبر سنی. اللہ تعالی انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور پس ماندگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل سے نوازے.
انا للہ وانا الیہ راجعون
طفیل ہاشمی
ابھی ابھی جناب ابو الحسن الطالب کی پوسٹ سے یہ اندوہناک خبر سنی کہ کراچی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جناب عبد الشہید نعمانی انتقال فرما گئے. نعمانی صاحب سے تعارف78 19 میں ریاض یونیورسٹی میں ہوا. موصوف پاکستانی اساتذہ کی ٹریننگ کے دوسرے بیچ میں کراچی سے جناب احسان الحق اور جناب محمد اسحاق میمن کے ہمراہ اس سیشن میں شریک تھے. پاکستان آنے کے بعد ہم نے انہیں بارہا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں مختلف کانفرنسز میں مدعو کیا نیز ادارہ تحقیقات اسلامی میں بھی ان کا آنا جانا رہتا تھا اور ملاقات ہوتی رہتی تھی. ایک بار میرے کراچی کے سفر میں موصوف مجھے اپنے گھر جامعہ کراچی کی اساتذہ کی رہائشی کالونی میں لے گئے جہاں ان کے والد محترم مولانا عبدالرشید نعمانی سے طویل ملاقات اور مختلف موضوعات پر گفتگو رہی. مولانا نعمانی جامعہ بنوری ٹاؤن کے حدیث ریسرچ پروجیکٹس کے نگران اعلیٰ، متعدد بلند پایہ علمی اور تحقیقی مطبوعات کے مصنف تھے. مولانا نے اپنی تالیفات کے ذریعے محمود عباسی اور ان کی ناصبی فکر کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر رکھ دیا تھا. اب جو لوگ ناصبیت سے وابستگی رکھتے ہیں وہ کسی علمی یا تحقیقی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی آخرت کی بھٹی سلگانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں.
ادھر کئی سالوں سے پروفیسر عبد الشہید نعمانی کے ساتھ رابطہ نہیں تھا. دو چار دن پہلے یوں ہی بیٹھے بیٹھے ان کی یاد بھی آئی تھی. آج ان کے سفر آخرت پر روانگی کی خبر سنی. اللہ تعالی انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور پس ماندگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل سے نوازے.
انا للہ وانا الیہ راجعون
طفیل ہاشمی
❤1
*راستے منزلوں میں بدل جائیں گے*
راستے منزلوں میں بدل جائیں گے
فاصلے جس قدر ہیں سمٹ آئیں گے!
یہ خزاں کی جو بدلی ہے چھٹ جائے گی
بے قراری کو چین آخر آجائے گا
غم میں رونے کی عادت بھی گھٹ جائے گی
روح تک کی تھکاوٹ اُتر جائے گی!
ٹہنیاں موسموں کا ثمر پائیں گی
بھیج کرغازیوں کو جو محمل میں ہیں
اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا وہ کر پائیں گی
غم کدوں میں محبت کا ہوگا چلن
بھائی بہنوں میں مل جل کے رہنے کی دھن
گرد اس پر جمی ، پھر سے دُھل جائے گی!
دل پگھل جائیں گے، آنکھ کھل جائے گی
خواب منظر حقیقت میں ڈھل جائیں گے
کارواں جو لٹے تھے سنبھل جائیں گے
راستے منزلوں میں بدل جائیں گے!
رب نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا
ہاں! مگر؛ هم سفر!
جانِ جاں! راز داں!
پُر مشقت اداؤں سے پہلے ذرا ان سمٹتی بلاؤں سے پہلے ذرا
رحمتوں کی گھٹاؤں سے پہلے ذرا کچھ دعاؤں میں بھی تو اثر چاہیے!
شاعر: مولانا احسن عزیز شہیدراستے منزلوں میں بدل جائیں گے
فاصلے جس قدر ہیں سمٹ آئیں گے!
یہ خزاں کی جو بدلی ہے چھٹ جائے گی
بے قراری کو چین آخر آجائے گا
غم میں رونے کی عادت بھی گھٹ جائے گی
روح تک کی تھکاوٹ اُتر جائے گی!
ٹہنیاں موسموں کا ثمر پائیں گی
بھیج کرغازیوں کو جو محمل میں ہیں
اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا وہ کر پائیں گی
غم کدوں میں محبت کا ہوگا چلن
بھائی بہنوں میں مل جل کے رہنے کی دھن
گرد اس پر جمی ، پھر سے دُھل جائے گی!
دل پگھل جائیں گے، آنکھ کھل جائے گی
خواب منظر حقیقت میں ڈھل جائیں گے
کارواں جو لٹے تھے سنبھل جائیں گے
راستے منزلوں میں بدل جائیں گے!
رب نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا
ہاں! مگر؛ هم سفر!
جانِ جاں! راز داں!
پُر مشقت اداؤں سے پہلے ذرا ان سمٹتی بلاؤں سے پہلے ذرا
رحمتوں کی گھٹاؤں سے پہلے ذرا کچھ دعاؤں میں بھی تو اثر چاہیے!
❤2
شرافت اور ریاست کی موجودہ حالت
فرمایا کہ آج کل تو شرافت اور ریاست کا وہ خلاصہ رہ گیا ہے، جو میرے سب سے چھوٹے ماموں صاحب نے اس شعر میں دکھلایا ہے۔
ہے شرافت تو کہاں بس شر و آفت ہے فقط
است ریاست سے گیا صرف ریا باقی ہے
(کمالاتِ اشرفیہ، صفحہ: ۳۰۷)
https://telegram.me/ilmokitab
فرمایا کہ آج کل تو شرافت اور ریاست کا وہ خلاصہ رہ گیا ہے، جو میرے سب سے چھوٹے ماموں صاحب نے اس شعر میں دکھلایا ہے۔
ہے شرافت تو کہاں بس شر و آفت ہے فقط
است ریاست سے گیا صرف ریا باقی ہے
(کمالاتِ اشرفیہ، صفحہ: ۳۰۷)
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
*وفیات مورخہ: 4/جون*
1888ء ترکی بن سعید البوسعیدی۔ سلطان مسقط وعمان
1958ء ساحل بلگرامی (علی حسین)۔
1977ء مسلم ضیائی (عبدالوہاب)۔ ادیب
1984ء سارا شگفتہ۔ شاعرہ
1985ء حافظ محمد گوندلوی۔ مولانا، محدث، مفسر
1986ء احمد سعید کاظمی۔ علامہ، بانی جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم ملتان
1988ء مجنوں گورکھپوری (احمد صدیق)۔ محقق، افسانہ نگار، نقاد
1994ء احمد سعید قریشی۔
1997ء حمید وائیں۔
2004ء عمر الدین بیدار۔
2018ء محمد عمر میمن۔ ادیب، مترجم
2020ء سید مسعود الدین۔
Https://telegram.me/ilmokitab
1888ء ترکی بن سعید البوسعیدی۔ سلطان مسقط وعمان
1958ء ساحل بلگرامی (علی حسین)۔
1977ء مسلم ضیائی (عبدالوہاب)۔ ادیب
1984ء سارا شگفتہ۔ شاعرہ
1985ء حافظ محمد گوندلوی۔ مولانا، محدث، مفسر
1986ء احمد سعید کاظمی۔ علامہ، بانی جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم ملتان
1988ء مجنوں گورکھپوری (احمد صدیق)۔ محقق، افسانہ نگار، نقاد
1994ء احمد سعید قریشی۔
1997ء حمید وائیں۔
2004ء عمر الدین بیدار۔
2018ء محمد عمر میمن۔ ادیب، مترجم
2020ء سید مسعود الدین۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
آج اردو کے مایہ نقاد ادیب ونقاد مجنون گورکھپوری کی تاریخ وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ : 4 جون 1988ء کو ہوئی تھی، آپ کو یاد کرتے ہوئے ۔آپ کی آب بینی پر مشتمل چھ قسطوں پر مشتمل آڈیوانٹرویواور کلام پیش خدمت ہے۔
یہ انٹرویو اردو آڈیو ڈاٹ کام پر دستیاب ہے۔ لنک حسب ذیل ہے:
انٹرویو(01)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-018enhxey5fcv2cm5eyz8xib6gerguryu7, Interview 01
انٹرویو (02)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-02nqhnjk30qias3w6cxwytxeavj8zeamph, Interview 02
انٹرویو (03)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-03qbwyhsd49jjqgwadmiq8l4bnqwiuav7u, Interview 03
انٹرویو (04)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-04ubnockhebeus5klbeofdj9fpb6wesiqp, Interview 04
انٹرویو (05)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-05, Interview 05
منتخب کلام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=muntakhab-kalam, Muntakhab kalam
یہ انٹرویو اردو آڈیو ڈاٹ کام پر دستیاب ہے۔ لنک حسب ذیل ہے:
انٹرویو(01)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-018enhxey5fcv2cm5eyz8xib6gerguryu7, Interview 01
انٹرویو (02)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-02nqhnjk30qias3w6cxwytxeavj8zeamph, Interview 02
انٹرویو (03)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-03qbwyhsd49jjqgwadmiq8l4bnqwiuav7u, Interview 03
انٹرویو (04)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-04ubnockhebeus5klbeofdj9fpb6wesiqp, Interview 04
انٹرویو (05)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-05, Interview 05
منتخب کلام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=muntakhab-kalam, Muntakhab kalam
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
Mr Sid
*شہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کوچے و بازار* ✍🏻... یونس بصیر کسی صاحب دل نے کیا خوب کہا ہے : ”کوچۂ جاناں کا ہر ذرہ چراغ طور ہے“ مکۃ المکرمہ میں سربفلک اور عظیم الشان عمارات کی جدتوں کا جلال و جمال بھی دیکھا اور شہر رسول میں مکانات کی قدامتوں کا حال…
*”کاروانِ شوق جنت البقیع میں“*
✍🏻... یونس بصیر
آج ساتھیوں نے زیارات مدینہ شریف کی خواہش کا اظہار کیا،نمازوں کی قضا کے پیش نظر زیارتوں کے لیے بہترین وقت صبح کی نماز سے لے کر ظہر کی نماز تک ہے اور ظہر کی نماز بہرحال مسجد نبوی میں پڑھنی چاہیے!ناشتہ اور دیگر حوائج ضروریہ سے فراغت کے بعد ہم ٹیکسی اسٹینڈ پر آئے، یہ اڈہ ٹیکسی ”جنت البقیع“ کے قبرستان کے بالکل قریب ہے، یہاں رائے بدلی کہ دیگر زیارتوں سے پہلے کیوں نہ یہ عظیم اور مبارک قبرستان دیکھا جائے!! رائے سے اتفاق کرتے ہوئے ہم سب قبرستان کے صدر دروازے کی طرف بڑھے، عورتوں کو قبرستان میں قطعی نہیں جانے دیتے اور اس روک و ممانعت میں سراسر حکمت و دانائی اور فائدے ہی فائدے ہیں؛ورنہ یہ حوازادیاں، قبرستانوں میں جاکر شرک و بدعت اور توہم پرستی کی ایسی ایسی عجوبۂ روزگار اختراعیں نکال لیتی ہیں کہ موجد شر و فتنہ یعنی ابلیس بھی کان پکڑ لیتے ہیں ؛لہذا ہم نے عورتوں کو دروازے کے قریب قبرستان کی دیوار کے زیر سایہ چھوڑا اور تلقین کی کہ آپ باہر سے ہی سلام کہہ سکتی ہیں اور دعائے مغفرت مانگ سکتی ہیں، دعا یوں پڑھنی اور ایسے مانگنی ہے جو حضور پرنور خود جنت البقیع میں آکر مانگا کرتے تھے:
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَآتَاكُمُ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُعَجِّلُونَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمُ للاحِقُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرُ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَد.
اللہ کا سلام ہو تم پر ، اس بستی کی جماعت مومنین اور کل قیامت کو وعدہ کے مطابق تمہیں تمہارے نیک عملوں کے پورے اجر ملیں گے اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں ۔ اے اللہ بخش دے اہل بقیع غرقد والوں کو ۔“
اس تاکید اور نصیحت کے بعد کاروان شوق صدر دروازے سے ہوتا ہوا قبرستان کی حدود میں داخل ہوگیا، شہر خموشاں پر نگاہ پڑتے ہی زندگی کی بے ثباتی اور کارکنان قضا و قدر کی یورشوں کا احساس جاگزیں ہوا اور موت و فنا کا خوف یک دم قلب و ذہن پر چھا گیا۔
دنیا کے اس مقدس ترین قبرستان میں چوب و سنگ و گنبد و محراب کی صنعت کاریاں اور خیالوں کے تاج محل تو نہیں ہیں؛ لیکن پوری انسانیت کا نچوڑ ، ساری کائنات کا حاصل، ساری مخلوق کا خلاصہ اور شناسان خدا اور رسول زیر خاک ہوکر خُلد نشین ہوگئے ہیں۔ صدق و صفا اور اخلاص و نیاز کا ایسا خزینہ کہاں؟ اور کس خاک میں ہوگا؟ اللہ والوں کے مدفن، ستاروں کے مخزن ، جانثاروں کےروضے، ان میں بنات مطاہرات بھی اور ازواج طیبات بھی ، عم رسول حضرت عباس بھی اور ائمہ عظام اہل بیت بھی اور ابن رسول بھی،سیدۃ النساء اور خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہراء، عاشقان حدیث بھی اور وقت کے عظیم اور یگانہ روزگار فقیہ عبداللہ اللہ بن مسعود بھی ، امام مظلوم سیدنا عثمان بن عفان بھی ـ
انہی اللہ والوں کی تربتوں سے تھوڑا آگے امام مالک کا مرقد عین اپنے استاد مکرم سیدنا حضرت نافع کے قریب، فاتح ایران سیدنا سعد بن وقاص بھی یہیں کہیں آسودۂ راحت ہیں اور جلیل القدر صحابی رسول حضرت سعد بن معاذ بھی انہی یارانِ محفل میں محفل آراء ہیں، آسمان علم و ادب کے یہ درخشندہ ستارے زندگی میں بھی اپنے ماہتاب کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں گردش کناں رہے اور آج مر کر بھی گنبد خضرا کے پہلو میں پڑے ہیں، سبحان اللہ! مؤرخین کے عام اندازے کے مطابق اس خطۂ پاک میں دس ہزار صحابہ و تابعین مدفون ہیں،سب کو سلام کہا، ان کے لیے اللہ سے مغفرتیں اور درجات کی بلندی طلب کی۔
( صحن حرم، صفحہ: ۱۳۸، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
✍🏻... یونس بصیر
آج ساتھیوں نے زیارات مدینہ شریف کی خواہش کا اظہار کیا،نمازوں کی قضا کے پیش نظر زیارتوں کے لیے بہترین وقت صبح کی نماز سے لے کر ظہر کی نماز تک ہے اور ظہر کی نماز بہرحال مسجد نبوی میں پڑھنی چاہیے!ناشتہ اور دیگر حوائج ضروریہ سے فراغت کے بعد ہم ٹیکسی اسٹینڈ پر آئے، یہ اڈہ ٹیکسی ”جنت البقیع“ کے قبرستان کے بالکل قریب ہے، یہاں رائے بدلی کہ دیگر زیارتوں سے پہلے کیوں نہ یہ عظیم اور مبارک قبرستان دیکھا جائے!! رائے سے اتفاق کرتے ہوئے ہم سب قبرستان کے صدر دروازے کی طرف بڑھے، عورتوں کو قبرستان میں قطعی نہیں جانے دیتے اور اس روک و ممانعت میں سراسر حکمت و دانائی اور فائدے ہی فائدے ہیں؛ورنہ یہ حوازادیاں، قبرستانوں میں جاکر شرک و بدعت اور توہم پرستی کی ایسی ایسی عجوبۂ روزگار اختراعیں نکال لیتی ہیں کہ موجد شر و فتنہ یعنی ابلیس بھی کان پکڑ لیتے ہیں ؛لہذا ہم نے عورتوں کو دروازے کے قریب قبرستان کی دیوار کے زیر سایہ چھوڑا اور تلقین کی کہ آپ باہر سے ہی سلام کہہ سکتی ہیں اور دعائے مغفرت مانگ سکتی ہیں، دعا یوں پڑھنی اور ایسے مانگنی ہے جو حضور پرنور خود جنت البقیع میں آکر مانگا کرتے تھے:
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَآتَاكُمُ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُعَجِّلُونَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمُ للاحِقُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرُ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَد.
اللہ کا سلام ہو تم پر ، اس بستی کی جماعت مومنین اور کل قیامت کو وعدہ کے مطابق تمہیں تمہارے نیک عملوں کے پورے اجر ملیں گے اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں ۔ اے اللہ بخش دے اہل بقیع غرقد والوں کو ۔“
اس تاکید اور نصیحت کے بعد کاروان شوق صدر دروازے سے ہوتا ہوا قبرستان کی حدود میں داخل ہوگیا، شہر خموشاں پر نگاہ پڑتے ہی زندگی کی بے ثباتی اور کارکنان قضا و قدر کی یورشوں کا احساس جاگزیں ہوا اور موت و فنا کا خوف یک دم قلب و ذہن پر چھا گیا۔
دنیا کے اس مقدس ترین قبرستان میں چوب و سنگ و گنبد و محراب کی صنعت کاریاں اور خیالوں کے تاج محل تو نہیں ہیں؛ لیکن پوری انسانیت کا نچوڑ ، ساری کائنات کا حاصل، ساری مخلوق کا خلاصہ اور شناسان خدا اور رسول زیر خاک ہوکر خُلد نشین ہوگئے ہیں۔ صدق و صفا اور اخلاص و نیاز کا ایسا خزینہ کہاں؟ اور کس خاک میں ہوگا؟ اللہ والوں کے مدفن، ستاروں کے مخزن ، جانثاروں کےروضے، ان میں بنات مطاہرات بھی اور ازواج طیبات بھی ، عم رسول حضرت عباس بھی اور ائمہ عظام اہل بیت بھی اور ابن رسول بھی،سیدۃ النساء اور خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہراء، عاشقان حدیث بھی اور وقت کے عظیم اور یگانہ روزگار فقیہ عبداللہ اللہ بن مسعود بھی ، امام مظلوم سیدنا عثمان بن عفان بھی ـ
انہی اللہ والوں کی تربتوں سے تھوڑا آگے امام مالک کا مرقد عین اپنے استاد مکرم سیدنا حضرت نافع کے قریب، فاتح ایران سیدنا سعد بن وقاص بھی یہیں کہیں آسودۂ راحت ہیں اور جلیل القدر صحابی رسول حضرت سعد بن معاذ بھی انہی یارانِ محفل میں محفل آراء ہیں، آسمان علم و ادب کے یہ درخشندہ ستارے زندگی میں بھی اپنے ماہتاب کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں گردش کناں رہے اور آج مر کر بھی گنبد خضرا کے پہلو میں پڑے ہیں، سبحان اللہ! مؤرخین کے عام اندازے کے مطابق اس خطۂ پاک میں دس ہزار صحابہ و تابعین مدفون ہیں،سب کو سلام کہا، ان کے لیے اللہ سے مغفرتیں اور درجات کی بلندی طلب کی۔
( صحن حرم، صفحہ: ۱۳۸، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤1
وفیات مورخہ: 5/جون
1772ء مبارک خان دوم۔
1858ء احمد اللہ شاہ فیض آبادی۔ مولوی، مجاہد آزادی
1941ء عبد الحی ہاتفب بجنوی۔ مولانا، حکیم
1956ء مناظر احسن گیلانی۔ رئیس القلم، مولانا ، سید
1973ء گرو گوالکر۔ سرچالک آر یس یس
1975ء محمد زکریا بنوری۔ مولانا
1986ء مقبول احمد۔
1989ء محمد سلطان قادری چشتی۔ شیخ
1993ء محمد اکبر خان۔ میجر جنرل، مصنف حدیث دفاع
2004ء رونالڈ ریگن۔ صدر امریکہ
2005ء عبداللہ، محمد۔
2009ء تراب علی۔
2010ء حسن ظہیر۔
2010ء محمد ادریس فاروقی۔ مولانا، اہل حدیث عالم دین
2015ء طارق عزیز۔ عراقی وزیر خارجہ
2025ء عبد الصمد قاضی ندوی۔ بھٹکلی عالم دین
Https://telegram.me/ilmokitab
1772ء مبارک خان دوم۔
1858ء احمد اللہ شاہ فیض آبادی۔ مولوی، مجاہد آزادی
1941ء عبد الحی ہاتفب بجنوی۔ مولانا، حکیم
1956ء مناظر احسن گیلانی۔ رئیس القلم، مولانا ، سید
1973ء گرو گوالکر۔ سرچالک آر یس یس
1975ء محمد زکریا بنوری۔ مولانا
1986ء مقبول احمد۔
1989ء محمد سلطان قادری چشتی۔ شیخ
1993ء محمد اکبر خان۔ میجر جنرل، مصنف حدیث دفاع
2004ء رونالڈ ریگن۔ صدر امریکہ
2005ء عبداللہ، محمد۔
2009ء تراب علی۔
2010ء حسن ظہیر۔
2010ء محمد ادریس فاروقی۔ مولانا، اہل حدیث عالم دین
2015ء طارق عزیز۔ عراقی وزیر خارجہ
2025ء عبد الصمد قاضی ندوی۔ بھٹکلی عالم دین
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
میجر جنرل محمد اکبر خان اور سیرت پر ان کا شاہکار حدیث دفاع
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
آج ۵/ جون میجر جنرل محمد اکبر خان کا یوم وفات ہے،جن کی پیدائش ۲۴ دسمبر ۱۹۱۲ء کو اور وفات ۵ جون ۱۹۹۲ء کو کراچی میں ہوئی تھی۔
آپ کا تذکرہ عموما نواب زادہ لیاقت علی خان کے دور حکومت میں راولپنڈی سازش کیس (۱۹۵۱ء) کے ساتھ جوڑ کر زیادہ آتا ہے، اس مقدمہ میں مشہور شاعر فیض احمد فیض اور آپ کی اہلیہ بیگم نسیم جہاں سمیت دس افراد پر غداری کا مقدمہ چلا تھا۔ لیکن ہمارے لئے آپ کی اہمیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت حربی پر ایک تربیت یافتہ اور تجربہ کار جنرل کے قلم سے لکھی گئی پہلی اور بہترین کتاب (حدیث دفاع ) کے مصنف کی حیثیت سے ہے۔
اکبر خان ضلع پشاور کے ایک گاؤں اتمن زئی میں پیدا ہوئے۔ وہ محمد زئی پٹھانوں کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، ۱۹۳۱ء میں جب اکبر خان اسلامیہ کالج پشاور میں پڑھ رہے تھے، انہیں فوج میں جانے کی سوجھی۔ یہ وہ دور تھا جب انڈین آرمی میں تقریباً تمام کمیشنڈ افسر انگریز ہوتے تھے اور دیسی لوگ صرف این سی او اور وی سی او کے عہدے تک محدود تھے۔ نئی پالیسی کے مطابق انگریزی حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہر سال چند ہندوستانیوں کو بھی کمیشن کے لئے چن لیا جائے۔ چنانچہ اس رعایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکبر خان نے کمیشن کے لئے فوج میں درخواست دی۔ سینکڑوں درخواست گزاروں میں سے دس پندرہ نوجوانوں کو چنا گیا جن میں سے ایک اکبر خان بھی تھے۔ اگست ۱۹۳۲ء میں اکبر خان بحیثیت ایک آفیسر کیڈٹ انگلستان کی مشہور ملٹری اکیڈمی سینڈھرسٹ بھیج دیئے گئے۔ جہاں ڈیڑھ برس کی ٹریننگ کے بعد دسمبر ۱۹۳۳ء میں انہیں کمیشن ملی۔
ہندوستان واپس آنے پر پہلے ایک برس تک اکبر خان نے ایک گوروں کی پلٹن فرسٹ ہمپشائر رجمنٹ میں کام کیا۔ اس پلٹن میں افسر اور جوان سب انگریز تھے، اکبر خان واحد ہندوستانی تھے بعد میں یعنی ۱۹۳۵ء میں اکبر خان کو اپنی مستقل پلٹن چھٹی رائل بٹالین فرنٹیئر فورس رائفلز میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔
دوسری جنگ عظیم سے قبل اکبر خان نے صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں فقیر ایپی کے لشکروں کے خلاف فوجی ایکشن میں حصہ لیا۔ دوسری جنگ عظیم میں اکبر خان نے برما کے محاذ پر جاپانیوں کے خلاف لڑائی میں دادِ شجاعت پائی۔ ایک معرکہ میں انہوں نے اپنے جوانوں کے ہمراہ ۹۲ جاپانیوں کو مارا اور ۱۰۰ سے زیادہ کو زخمی کیا۔ مرنے والوں میں جاپانی پلٹن کا کمانڈر بھی تھا۔ اکبر خان کی پلٹن کے ایک افسر، تین وی سی اور ۳۱ جوان بھی اس معرکہ میں کام آئے۔یہ واقعہ فروری ۱۹۴۵ء کا ہے۔ اس ایکشن میں انڈین آرمی کے جمعدار پرکاش سنگھ (آنجہانی) کو بہادری کا سب سے بڑا تمغہ وکٹوریہ کراس دیا گیا اور میجر اکبر خان کو ڈی ایس او (DSO) سے نوازا گیا۔ ڈی ایس او کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد اکبر خان کو ہندوستان واپس بلا لیا گیا اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
مصنف نے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانوں کی عسکری حکمت عملی پر کئی ایک کتابیں لکھی ہیں ، جن میں" جہاد صدیق" اور " خالد بن ولید سیف اللہ " اور " محمد بن قاسم کی مہارت فن حرب " شامل ہے، لیکن آپ کی کتابوں میں " حدیث دفاع " کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ اور یہ ہندوپاک سے بارہا مرتبہ شائع ہوئی۔
اکبر خان سے پہلے اس موضوع پر مایہ ناز محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ ؒ کی کتاب" عہد نبوی کے میدان جنگ" شائع ہوئی تھی، جس کے بارے میں اکبر خان کا کہنا ہے کہ" اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب سابق استاذ قانون جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن کو جنہوں نے اس طرف توجہ فرمائی اور "عہد نبوی کے میدانِ جنگ" کے نام سے دو مبسوط رسالے شائع کئے اور اشاعت سے پہلے واقعات اور مقامات کی صحت کا اس درجہ اہتمام کیا کہ دو دفعہ چشم دید مطالعہ و مشاہدہ کے لئے حجازِ مقدس تشریف لے گئے اور سفر و حضر میں طویل مدت گزارنے کے بعد انتہائی کاوش کے ساتھ نقشہ ہائے جنگ مرتب کئے۔
ہم نے ان دونوں رسالوں کا بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے۔ واقعی یہ ایک بلند پایہ اور قابلِ تعریف کوشش ہے اور مرتب نے سچے اور صحیح جذبہ کے ساتھ یہ خدمت انجام دی ہے۔ نہ صرف اسی پر اکتفا کی ہے بلکہ غزوات کے سلسلے میں بھی مسلسل کام کر رہے ہیں اور بتوفیق ایزدی متعال آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ لیکن جیسا کہ ڈاکٹر صاحب معترف ہیں ۔ آپ ملٹری سائنس (عسکری علوم) سے ناآشنائے محض ہیں۔ کاش آپ کو اس میں بھی درک ہوتا اور آپ کا علمی تبحر اور ذوقِ تحقیق و تجسس جو آپ کو سیرت مبارک کے اس پہلو سے ہے غفلت و بے خبری کے پردوں کو چاک کر کے تاریکیوں میں روشنی کی جھلک پیدا کر دیتا۔ جو مسلمانوں کے فکر و فہم کا احاطہ کئے ہوئے ہیں
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)
آج ۵/ جون میجر جنرل محمد اکبر خان کا یوم وفات ہے،جن کی پیدائش ۲۴ دسمبر ۱۹۱۲ء کو اور وفات ۵ جون ۱۹۹۲ء کو کراچی میں ہوئی تھی۔
آپ کا تذکرہ عموما نواب زادہ لیاقت علی خان کے دور حکومت میں راولپنڈی سازش کیس (۱۹۵۱ء) کے ساتھ جوڑ کر زیادہ آتا ہے، اس مقدمہ میں مشہور شاعر فیض احمد فیض اور آپ کی اہلیہ بیگم نسیم جہاں سمیت دس افراد پر غداری کا مقدمہ چلا تھا۔ لیکن ہمارے لئے آپ کی اہمیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت حربی پر ایک تربیت یافتہ اور تجربہ کار جنرل کے قلم سے لکھی گئی پہلی اور بہترین کتاب (حدیث دفاع ) کے مصنف کی حیثیت سے ہے۔
اکبر خان ضلع پشاور کے ایک گاؤں اتمن زئی میں پیدا ہوئے۔ وہ محمد زئی پٹھانوں کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، ۱۹۳۱ء میں جب اکبر خان اسلامیہ کالج پشاور میں پڑھ رہے تھے، انہیں فوج میں جانے کی سوجھی۔ یہ وہ دور تھا جب انڈین آرمی میں تقریباً تمام کمیشنڈ افسر انگریز ہوتے تھے اور دیسی لوگ صرف این سی او اور وی سی او کے عہدے تک محدود تھے۔ نئی پالیسی کے مطابق انگریزی حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہر سال چند ہندوستانیوں کو بھی کمیشن کے لئے چن لیا جائے۔ چنانچہ اس رعایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکبر خان نے کمیشن کے لئے فوج میں درخواست دی۔ سینکڑوں درخواست گزاروں میں سے دس پندرہ نوجوانوں کو چنا گیا جن میں سے ایک اکبر خان بھی تھے۔ اگست ۱۹۳۲ء میں اکبر خان بحیثیت ایک آفیسر کیڈٹ انگلستان کی مشہور ملٹری اکیڈمی سینڈھرسٹ بھیج دیئے گئے۔ جہاں ڈیڑھ برس کی ٹریننگ کے بعد دسمبر ۱۹۳۳ء میں انہیں کمیشن ملی۔
ہندوستان واپس آنے پر پہلے ایک برس تک اکبر خان نے ایک گوروں کی پلٹن فرسٹ ہمپشائر رجمنٹ میں کام کیا۔ اس پلٹن میں افسر اور جوان سب انگریز تھے، اکبر خان واحد ہندوستانی تھے بعد میں یعنی ۱۹۳۵ء میں اکبر خان کو اپنی مستقل پلٹن چھٹی رائل بٹالین فرنٹیئر فورس رائفلز میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔
دوسری جنگ عظیم سے قبل اکبر خان نے صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں فقیر ایپی کے لشکروں کے خلاف فوجی ایکشن میں حصہ لیا۔ دوسری جنگ عظیم میں اکبر خان نے برما کے محاذ پر جاپانیوں کے خلاف لڑائی میں دادِ شجاعت پائی۔ ایک معرکہ میں انہوں نے اپنے جوانوں کے ہمراہ ۹۲ جاپانیوں کو مارا اور ۱۰۰ سے زیادہ کو زخمی کیا۔ مرنے والوں میں جاپانی پلٹن کا کمانڈر بھی تھا۔ اکبر خان کی پلٹن کے ایک افسر، تین وی سی اور ۳۱ جوان بھی اس معرکہ میں کام آئے۔یہ واقعہ فروری ۱۹۴۵ء کا ہے۔ اس ایکشن میں انڈین آرمی کے جمعدار پرکاش سنگھ (آنجہانی) کو بہادری کا سب سے بڑا تمغہ وکٹوریہ کراس دیا گیا اور میجر اکبر خان کو ڈی ایس او (DSO) سے نوازا گیا۔ ڈی ایس او کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد اکبر خان کو ہندوستان واپس بلا لیا گیا اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
مصنف نے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانوں کی عسکری حکمت عملی پر کئی ایک کتابیں لکھی ہیں ، جن میں" جہاد صدیق" اور " خالد بن ولید سیف اللہ " اور " محمد بن قاسم کی مہارت فن حرب " شامل ہے، لیکن آپ کی کتابوں میں " حدیث دفاع " کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ اور یہ ہندوپاک سے بارہا مرتبہ شائع ہوئی۔
اکبر خان سے پہلے اس موضوع پر مایہ ناز محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ ؒ کی کتاب" عہد نبوی کے میدان جنگ" شائع ہوئی تھی، جس کے بارے میں اکبر خان کا کہنا ہے کہ" اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب سابق استاذ قانون جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن کو جنہوں نے اس طرف توجہ فرمائی اور "عہد نبوی کے میدانِ جنگ" کے نام سے دو مبسوط رسالے شائع کئے اور اشاعت سے پہلے واقعات اور مقامات کی صحت کا اس درجہ اہتمام کیا کہ دو دفعہ چشم دید مطالعہ و مشاہدہ کے لئے حجازِ مقدس تشریف لے گئے اور سفر و حضر میں طویل مدت گزارنے کے بعد انتہائی کاوش کے ساتھ نقشہ ہائے جنگ مرتب کئے۔
ہم نے ان دونوں رسالوں کا بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے۔ واقعی یہ ایک بلند پایہ اور قابلِ تعریف کوشش ہے اور مرتب نے سچے اور صحیح جذبہ کے ساتھ یہ خدمت انجام دی ہے۔ نہ صرف اسی پر اکتفا کی ہے بلکہ غزوات کے سلسلے میں بھی مسلسل کام کر رہے ہیں اور بتوفیق ایزدی متعال آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ لیکن جیسا کہ ڈاکٹر صاحب معترف ہیں ۔ آپ ملٹری سائنس (عسکری علوم) سے ناآشنائے محض ہیں۔ کاش آپ کو اس میں بھی درک ہوتا اور آپ کا علمی تبحر اور ذوقِ تحقیق و تجسس جو آپ کو سیرت مبارک کے اس پہلو سے ہے غفلت و بے خبری کے پردوں کو چاک کر کے تاریکیوں میں روشنی کی جھلک پیدا کر دیتا۔ جو مسلمانوں کے فکر و فہم کا احاطہ کئے ہوئے ہیں
❤2
مولانا عامر عثمانی نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "۔ اس میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت حق میں جو بے مثال کامیابی اور اسلام کو غالب کرنے میں جو لاجواب کامرانی حاصل ہوئی اسکے پیچھے اگرچہ نصرت الہٰی کی کارفرمائی تو بہر حال تھی لیکن اسباب وعلل کی حد تک خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبردست فہم و دانش اور اعلیٰ صلاحیتوں کا بھی اس میں بڑا دخل تھا۔ آپ بہترین سیاست داں، اعلیٰ ترین کمانڈر، زبردست مدبر اور کمال درجہ فعال انسان تھے۔ مصنف نے فن حرب اور علم سیاست کے زاویوں سے حضورؐ کے غزوات و سرایا کا تجزیہ کرکے ثابت کیا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے جنرل اور جنگجو ہیرو اور فاتحین جن کا ڈنکا عالم میں بج رہا ہے حضورؐ کے آگے کوتاہ قامت ہیں اور فکر و تدبر کی ان حدوں تک نہیں پہنچ سکے جن تک عرب کا یہ در یتیم پہنچا تھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم فاضل مصنف چونکہ خود بھی سپاہی ہیں اور دوسری جنگ عظیم کے آزمودہ کار اسلئے ان کا یہ کسی اتالیق کا تجزیہ نہیں بلکہ ایک ماہر فن کا تجزیہ ہے۔ وہ جگہ جگہ مغرب کے معروف ماہرین حرب اور اس فن کے فرمودات پیش کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں محض خوش عقیدگی کا آوردہ نہیں بلکہ معروضی مطالعہ کا حاصل اور حقائق ثابتہ سے ہم آہنگ ہے۔
غیر معمولی خوشی یہ دیکھ کر ہوتی ہے کہ وہ اگرچہ حضورؐ کی محبت میں بجا طور پر غرق، اور صحابہؓ کی عقیدت سے پیوستہ ہیں لیکن معقولیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے، انھوں نے دوسرے شہرہ آفاق کمانڈروں اور سیاست دانوں کے بالمقابل رسول اللہؐ کی جو نشانِ امتیازی ثابت کی ہے اس کے لئے روشن دلائل اور قوی شواہد بھی زیب قرطاس کئے ہیں۔ ان کی نظر گہری، قوت اخذ و استخراج.فراواں اور اندازِ تبصرہ و دلکش ہے ہمیں تو تعجب ہوا کہ ایک "سپاہی" اور اتنا اچھا انشا پرداز انشا پردازی کے علاوہ ان کی تحریر سے اسلام کا گہرا درد ایمان کا خروش، اسلام کا جذبہ اور اقدام و عمل کا ولولہ نمایاں ہے وہ کتنے ہی نبوی میدان جنگ اپنی آنکھوں سے دیکھ آئے ہیں جس رخ سے ان کا مطالعہ کیا ہے۔ پیمائش سے بھی نہیں گھبرائے۔ کم و بیش چودہ صدیوں قبل کے غزوات کو چشم تصور کے آگے لانے کے لئے انھوں نے عرق ریز محنت کی ہے اور اس میں کامیاب ہیں۔ اللہ انھیں جزائے خیر دے۔
بعض حقائق سامنے تو سب کے ہوتے ہیں لیکن ان پر نگاہ چند ہی اہل بصیرت کی جمتی ہے ۔ جیسے :- دور رسالت کی فتوحات کا دائرہ۔ فاضل مصنف نے حساب لگا کر بتایا ہے کہ دس سالوں میں حضورؐ نے زمین کے اتنے وسیع رقبے پر فتح و ظفر کا پرچم لہرایا جسے دنوں میں تقسیم کر کے دیکھا جائے تو اوسطاً ہر ۲ میل یومیہ نکلتا ہے۔ جانی نقصان کا اوسط یہ رہا کہ مسلمان مہینے میں ایک اور دشمن مہینے میں تقریباً ۵۔ یہ حقائق حیرتناک بھی ہیں اور سبق آموز بھی۔ (تجلی دیوبند ۔ اگست، ستمبر ۱۹۷۴ء)
خامیاں کس میں نہیں ہوتیں، لیکن اپنے موضوع پر یہ کتاب ایک شاہکار شمار ہوتی ہے، امید ہے کہ یہ مرحوم کے درجات کی بلندی کا باعث بنے گی۔
2026-06-05
Https://telegram.me/ilmokitab
غیر معمولی خوشی یہ دیکھ کر ہوتی ہے کہ وہ اگرچہ حضورؐ کی محبت میں بجا طور پر غرق، اور صحابہؓ کی عقیدت سے پیوستہ ہیں لیکن معقولیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے، انھوں نے دوسرے شہرہ آفاق کمانڈروں اور سیاست دانوں کے بالمقابل رسول اللہؐ کی جو نشانِ امتیازی ثابت کی ہے اس کے لئے روشن دلائل اور قوی شواہد بھی زیب قرطاس کئے ہیں۔ ان کی نظر گہری، قوت اخذ و استخراج.فراواں اور اندازِ تبصرہ و دلکش ہے ہمیں تو تعجب ہوا کہ ایک "سپاہی" اور اتنا اچھا انشا پرداز انشا پردازی کے علاوہ ان کی تحریر سے اسلام کا گہرا درد ایمان کا خروش، اسلام کا جذبہ اور اقدام و عمل کا ولولہ نمایاں ہے وہ کتنے ہی نبوی میدان جنگ اپنی آنکھوں سے دیکھ آئے ہیں جس رخ سے ان کا مطالعہ کیا ہے۔ پیمائش سے بھی نہیں گھبرائے۔ کم و بیش چودہ صدیوں قبل کے غزوات کو چشم تصور کے آگے لانے کے لئے انھوں نے عرق ریز محنت کی ہے اور اس میں کامیاب ہیں۔ اللہ انھیں جزائے خیر دے۔
بعض حقائق سامنے تو سب کے ہوتے ہیں لیکن ان پر نگاہ چند ہی اہل بصیرت کی جمتی ہے ۔ جیسے :- دور رسالت کی فتوحات کا دائرہ۔ فاضل مصنف نے حساب لگا کر بتایا ہے کہ دس سالوں میں حضورؐ نے زمین کے اتنے وسیع رقبے پر فتح و ظفر کا پرچم لہرایا جسے دنوں میں تقسیم کر کے دیکھا جائے تو اوسطاً ہر ۲ میل یومیہ نکلتا ہے۔ جانی نقصان کا اوسط یہ رہا کہ مسلمان مہینے میں ایک اور دشمن مہینے میں تقریباً ۵۔ یہ حقائق حیرتناک بھی ہیں اور سبق آموز بھی۔ (تجلی دیوبند ۔ اگست، ستمبر ۱۹۷۴ء)
خامیاں کس میں نہیں ہوتیں، لیکن اپنے موضوع پر یہ کتاب ایک شاہکار شمار ہوتی ہے، امید ہے کہ یہ مرحوم کے درجات کی بلندی کا باعث بنے گی۔
2026-06-05
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1