علم و کتاب
7.97K subscribers
1.14K photos
84 videos
2.38K files
6.27K links
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Download Telegram
Mr Sid
*مسجد نبویؐ کا جمال و جلال* ✍🏻... یونس بؔصیر بیت اللہ اگر رب ذوالجلال کی عظمت و جلالت، ہیبت و سطوت اور شان و شوکت کا مظہر ہے،تو مسجد نبویؐ اس کی رحمانیت و رحیمیت اور قدوسیت وربوبیت کی جمال آرا،ظاہری شکل و صورت بھی ایسی کہ دنیائے فن و تعمیر میں اپنی…
رکھتے، ایک روز دورانِ مناظرہ خلیفۂ وقت کو ڈانٹ دیا کہ مسجد میں آہستہ بولو۔

آج 31 دسمبر 74ء ہے ، سال عیسوی کا آخری دن ۔ رحمتوں کا سال، برکتوں کا زمانہ ...پل بھر میں گزر گیا:

حیف در چشم زدن صحبت یار آخر شد
روئے گل سیر ندیدیم و بهار آخر شد

اسی سال صفوان پیدا ہوا، عمرہ بھی نصیب ہوا، روضہ اطہر پر حاضری بھی دی اور ایک رات عالم خواب میں زیارت رسول بھی،پھر زندگی میں سب سے بڑی سعادت، مالی اور بدنی عبادت یعنی حج بھی بخت آوری کا باعث بنا اور اسی سال کے آخر میں ایک بار پھر مدینۃ الرسول میں قیام کا شرف ، مسجد نبوی میں نمازوں کی معراج اور درود و سلام کی سوغاتیں پیش کرنے کی نیک اور مبارک ساعتیں میسر آئیں۔

(صحن حرم، صفحہ: ۱۳۵، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤2
Mr Sid
سلسلہ نمبر : 316 انتخاب مطالعہ تحریر: پروفیسر سردار گرودت سنگھ دؔارا ( جی ایس دارا ) *اشارۂ روانگی* جس شخص کی محنت کا صلہ اور مشقت کا ثمرہ اس کی اپنی حیات میں اسے قدرت اس طرح مہیا کردے، جس انسان کی آتما کو یہ کامل تسلی و تشفی ہوجائے کہ وہ مقصد جس کے لیے…
سلسلہ نمبر: 317
انتخاب مطالعہ
تحریر: مولانا احسن عزیز صاحب شہیدؒ

*پھر وہی غربتِ اسلام کا زمانہ ہے*


اسلام کی غربت اور اپنی درماندگی وذلت کو جانچنا، پرکھنا آج کیا مشکل ہے؟ دور کیوں جائیے، آئینہ دیکھیے، اپنی گھڑی کی طرف دیکھیے، اپنی مصروفیات اور ترجیحات کا میزانیہ بنائیے، اپنی نمازیں ، قرآن کی تلاوت و تعلیم ، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع کی حرص اور روز مرہ کے مسائل میں شریعت سے رجوع کا جائزہ لیجیے! پھر اپنے آرام کدوں میں بھی جھانکیے،گھر کے دالان میں نشریاتی رابطوں پر کیا نشر ہورہا ہے؟ سب اہلِ خانہ مل کر کیا دیکھ اور سن رہے ہیں؟ تہذیبِ کفر جو کچھ ہمیں سنا اور دکھا رہی ہے کیا وہ سبھی حرام و حلال کی تمیز کے بغیر کانوں میں اترتا اور آنکھوں میں ڈھلتا تو نہیں جارہا؟ میز پر پڑے رسائل و جرائد میں چَھپے نقوش اور تحریروں کو سمجھیے!نئی نسل کے انداز واطوار کا تجزیہ کیجیے،اپنے بچوں کی نصابی کتابوں کا تجزیہ کیجیے،اپنی بچیوں کے لباس کو جانچیے، محلے کے جوانوں کی مصروفیات، ان کے مستقبل کی ترجیحات کو دیکھیے!بستی کی آبادی اور پھر مسجد میں نمازیوں کے تناسب کا شمار کیجیے، زکوۃ ادا کرنے والوں،وراثت کی شرعی تقسیم کرنے والوں کا ( بشمول دیندار کہلانے والوں کے )تناسب نکالیے، چوپالوں کے مشاغل اور موضوعاتِ گفتگو سنیے، بینک کھاتوں اور اسکیموں کی نوعیت کو سمجھیے، سود سے بچنے والوں کی گنتی کیجئے! بؔسنت،نؔوروز،کؔرسمس میں اہلِ اسلام کا رنگ دیکھیے! عدالتوں میں نافذ قوانین کو پڑھیے، بلادِ اسلام کے اہل تخت و تاج پر نگاہ ڈالیے، پارلیمان میں پاس ہونے والے بِلوں کا جائزہ لیجئے،این،جی،اوز کے لائحہ عمل اور ان کے اثرات دیکھیے! ملٹی نیشنل کمپنیوں کی آمدنیوں کا سرسری اندازہ لگائیے!
پھر فؔلپائن اور گؔجرات کے مسلمانوں کی حالت پر نظر ڈالیے ، شؔیشان کی بستیوں کا خیال کیجیے، بؔغداد کے ہسپتالوں، فؔلوجہ کی مسجدوں، فؔلسطین کے بچوں، کؔشمیر کی ماؤں کا سوچیے، افؔغانستان کی شاہ راہوں، دؔشتِ لیلٰی، بؔگرام، گوؔانتاناموبے اور اؔبوغریب سے گذریے، بؔوسنیا کے وہ بیس ہزار بچے، جنھیں صلیبی اپنا ہم مذہب بنانے کے لئے پورے مشرقی اور مغربی یورپ میں بکھیر چکے ان کا تصور کیجیے!ڈیزی کٹر (بم)، ٹام ہاک (میزائیل) اور تابکار (یورانیم) ملے گولوں کے اہداف اور عالم اسلام کی سمندری حدود پر لنگر انداز بحری بیڑوں کے گھیراؤ کو دیکھیے! تؔاجکستان،اؔزبکستان، تؔرکمانستان،شؔیشان،تؔرکی، پاؔکستان،لؔبنان،فؔلسطین، اؔردن، اؔلجزائر، مؔصر، یؔمن، کؔویت، قؔطر، بؔحرین، مؔتحدۂ عرب امارات، عؔراق، اؔفغانستان، اؔنڈونیشیا میں قائم صلیبی، صیہونی فوجی اڈوں کو دیکھیے! قؔبلۂ اول کی چوکھٹ پر لگے جھنڈے کو پہچانیے ، «بیتِ کعبہ» جی ہاں!! بیت کعبہ،جہاں آپ ہر سال ˝لبیک اللهم لبیک،لبیک لا شریک لک لبیک˝ کہتے ہوئے جاتے ہیں اس کے نواح و عقب میں ”نحن شركاء لہ“ کا نعرہ بلند کرنے والے،دنیا کو فساد سے بھرنے والے فرعونیوں کے اڈوں اور ان میں کھڑے جہازوں اور عظیم تر اسرائیل کے نقشوں کوــــــ لیکن مت دیکھیے؛کیونکہ آنکھیں آپ سے حساب مانگیں گی اور مشکل پیش آجائے گی،

؎ اتنا پانی کہاں تھا ـــ قؔلزم میں
بہہ رہا ہے جو خون،دل ہے مرا

یہ سب منظر دیکھ کر خود فیصلہ کیجیے! کہ آج اسلام اجنبی،انجان،پردیسی اور نامانوس ہے یا نہیں!؟

( تمہارا مجھ سے وعدہ تھا، صفحہ: 62،ناشر: مبشرات، شائیگاں، اسلام آباد)

✍🏻... محمد عدنان وقار صؔدیقی
❤2
*سرکڑہ، پھول سندہ اور کوتوالی (ضلع بجنور) کا ایک سفر اور مولانا سراج الدین ندوی سے ایک یادگار ملاقات*


برہان الدین قاسمی بجنوری
ای میل: burhanuddin7640@gmail.com


31 مئی 2026ء کو ضلع بجنور کی معروف علمی، دینی اور سماجی شخصیت مولانا سراج الدین ندوی صاحب سے ان کے دولت کدے پر ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ برسوں سے مولانا سے بالمشافہ ملاقات کا اشتیاق تھا، مگر ان کی مسلسل مصروفیات اور اسفار کی وجہ سے یہ خواہش پوری نہ ہو سکی تھی۔

اس ملاقات کا ایک خاص بہانہ بہرِ تقریبِ ملاقات یہ بھی تھا کہ معروف محقق مولانا فیصل احمد ندوی صاحب (استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ) نے اپنی تصنیف "مفتی عبداللطیف رحمانی: احوال و آثار" شائع ہونے کے بعد اس کے دو نسخے بذریعہ ڈاک بجنور میں راقمِ سطور کو ارسال کیے تھے، جن میں سے ایک نسخہ مولانا سراج الدین صاحب کے لیے ارسال کیا گیا تھا۔
خواہش تھی کہ اس امانت کو خود مولانا تک پہنچاؤں۔ عید الاضحی کے ایام میں یہ خیال غالب ہوا کہ شاید مولانا اس وقت سفر میں نہ ہوں، چنانچہ رابطہ کیا گیا اور سفر طے ہوگیا۔

اس سفر میں میرے ہمراہ عزیزِ مکرم عزیر شمیم بجنوری تھے۔ ہم فجر کے بعد بجنور سے روانہ ہوئے اور روانگی کی اطلاع مولانا کو دے دی۔ دورانِ سفر میں بھی مولانا مسلسل رابطے میں رہے۔ سرکڑا پہنچنے پر معلوم ہوا کہ مولانا نے ہماری رہنمائی کے لیے حمزہ نامی ایک نوجوان کو پہلے ہی بھیج دیا تھا، جس نے ہمیں بستی کی گلیوں سے گزارتے ہوئے مولانا کے گھر تک پہنچایا۔

گھر کے دروازے پر خود مولانا سراج الدین ندوی صاحب موجود تھے۔ ان کے ساتھ ان کے معاون اور برادر نسبتی مولانا ذوالفقار احمد ندوی بھی تشریف فرما تھے۔ مصافحے کے بعد گفتگو اور ناشتے کا سلسلہ شروع ہوا۔

گفتگو کے تسلسل میں مولانا نے ایک دلچسپ بات بتائی کہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے مظفر نگر کے کسی مدرسے میں بھی تعلیم حاصل کی تھی، اگرچہ اس مدرسے کا نام اس وقت ان کے ذہن میں نہ آ سکا۔ یہ ایک قابلِ تحقیق نکتہ ہے، کیونکہ عام طور پر دستیاب سوانحی مواد میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔

عزیر شمیم نے مولانا سے ان کی سماجی اور تنظیمی زندگی کے حوالے سے سوال کیا کہ:
جماعت اسلامی سے وابستگی کے باوجود ایسے ماحول میں کام کرنا، جہاں مختلف مسالک اور جماعتیں موجود ہوں، یقیناً آسان نہ رہا ہوگا؟
مولانا نے اس سوال کے جواب میں نہایت بصیرت افروز گفتگو فرمائی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا تعلق صرف ایک جماعت تک محدود نہیں رہا۔ تبلیغی جماعت سے بھی وابستگی رہی، جمعیت علماء ہند کی خدمات کے بھی وہ معترف ہیں اور جماعت اسلامی سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ زندگی بھر انہوں نے اعتدال، حکمت اور وسعتِ نظر کو اختیار کیا، کسی ایک نظریے میں شدت پیدا نہیں ہونے دی، سبھی جماعتوں اور مکاتبِ فکر کا احترام کیا، جس کے نتیجے میں انہیں بھی ہر طرف سے احترام ملا۔

مولانا نے اپنی زندگی میں پیش آنے والے بعض ناخوش گوار واقعات کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دور میں بعض حاسد افراد نے ان کے خلاف سرکاری سطح پر شکایات کرنے اور جھوٹے الزامات عائد کرنے کی کوشش کی، مگر تحقیقات کے بعد تمام الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے۔ مقامی حکام نے ان کے کردار، خدمات اور قانون پسندی کو دیکھتے ہوئے ہمیشہ مثبت رپورٹ پیش کی۔ بعد کے زمانے میں اس نوعیت کی مخالفتیں تقریباً ختم ہو گئیں۔

مولانا کے اسلوبِ تصنیف و تالیف کے حوالے سے گفتگو ہوئی تو مولانا نے بتایا کہ جوانی اور صحت کے زمانے میں وہ دن رات لکھا کرتے تھے۔ فجر کے بعد سے ظہر تک مسلسل تصنیفی کام میں مشغول رہتے اور بعض اوقات پوری رات لکھتے رہتے تھے۔ ان کی معروف کتاب "خلفائے رسول" رات کے ان ہی جاگے ہوئے اوقات کی یادگار ہے۔ عشاء کے بعد اور فجر سے پہلے کے اوقات آج بھی ان کے لیے تصنیفی لحاظ سے سب سے زیادہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔

مولانا سراج الدین ندوی صاحب کی شخصیت صرف ایک مصنف یا مفکر کی حیثیت تک محدود نہیں۔ سرکڑا اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں ان کی خدمات ایک مستقل تاریخ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جس زمانے میں اس پورے خطے میں مناسب طبی سہولیات موجود نہیں تھیں، انہوں نے ایک ہسپتال قائم کیا۔ تعلیمی میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں اور مختلف ادارے قائم کیے۔ آج بھی وہ مستحق اور بیوہ خواتین کی امداد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک کے سیاسی حالات کی تبدیلی اور اس راہ کی اس دہائی میں پیش آنے والی مشکلات کے باوجود یہ خدمت پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔

مولانا نے زندگی بھر مساجد، مدارس اور مختلف رفاہی منصوبوں کی مدد بھی کی۔ ان کی سماجی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے، جس کے اثرات آج بھی علاقے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
❤1
ان ہمہ جہتی خدمات کا نتیجہ یہ ہے کہ سرکڑے کے ہندو اور مسلمان سبھی مولانا کا بے حد احترام کرتے ہیں، سرکڑے میں غالب آبادی ہندوؤں کی ہے، جب تک ہندو بڑی تعداد میں کسی امید وار کو ووٹ نہ دیں، وہ کام یاب نہیں ہوسکتا، اس کے باوجود علاقے میں مولانا کے بیٹے کو گرام پنچایت کے انتخاب میں بھاری ووٹوں سے کام یابی ملی، یہ اس بات کی علامت ہے کہ علاقے کے ہندو مسلم سبھی مولانا کی خدمات اور شخصیت کے معترف ہیں۔

گفتگو کے درمیان مولانا نے اپنے نئے منصوبے مرکز تعلیم القرآن کا بھی تعارف کرایا، جس کے لیے دہلی میں ایک دفتر قائم کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد قرآن مجید کے فہم، تعلیم، اشاعت اور عملی نفاذ کو عام کرنا ہے۔ مولانا کے مطابق اس تحریک کا ہدف یہ ہے کہ مسلمان قرآن کو محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ کتابِ ہدایت سمجھ کر پڑھیں اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالیں۔ اس مقصد کے لیے دروسِ قرآن، عوامی حلقے، خطبات، اجتماعات اور مختلف اشاعتی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اس موقع پر کتابوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ راقم نے اپنی کتاب "انقلاب 1857ء اور بجنور گزیٹیر : ایک مطالعہ" مولانا کی خدمت میں پیش کی، جب کہ مولانا نے اپنی دو کتابیں "جہاتِ تفکر" اور "جو اکثر یاد آتے ہیں" (پہلی دو جلدیں) عنایت فرمائیں۔

اسی موقع پر مولانا فیصل احمد ندوی کی کتاب "مفتی عبداللطیف رحمانی: احوال و آثار" بھی پیش کی گئی۔ کتاب دیکھ کر مولانا نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ مفتی عبداللطیف رحمانی کو لوگ تقریباً فراموش کر چکے تھے، مگر مولانا فیصل احمد ندوی نے اپنی اس کاوش سے انہیں نئی زندگی عطا کر دی ہے۔

مولانا سراج الدین ندوی صاحب کی علمی خدمات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ بقولِ خود اب تک تقریباً دو سو کتابیں تصنیف کر چکے ہیں۔ ادبِ اطفال ان کا خصوصی موضوع رہا ہے۔

جماعت اسلامی ہند میں بھی ان کا نمایاں مقام ہے اور وہ شوریٰ کے رکن کی حیثیت سے اہم ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ہیں۔ ان کے مشوروں اور آراء کو علمی و تنظیمی حلقوں میں خاص اہمیت حاصل ہے۔

تقریباً نو بجے ملاقات اختتام پذیر ہوئی۔ رخصت کے وقت مولانا نے صدر الدین نامی ایک صاحب کو ہمارے ساتھ روانہ کیا تاکہ وہ ہمیں گلیوں سے باہر مرکزی راستے تک پہنچادیں، صدر الدین صاحب نے ہمیں مولانا کا قائم کردہ ہسپتال اور اسکول دکھائے۔ علاقائی معیار کے لحاظ سے یہ ایک منظم، صاف ستھرا اور اچھی سہولیات سے آراستہ ہسپتال ہے۔
اسکول میں عید کی تعطیلات ہونے کی وجہ سے اندر جانے کا موقع تو نہ مل سکا، تاہم باہر سے اس کا مشاہدہ کیا گیا۔

یہ ملاقات ایک علمی شخصیت سے رسمی تعارف ہی نہیں بلکہ ایک ایسی ہمہ جہت زندگی کے مشاہدے کا موقع تھی جس میں علم، دعوت، تصنیف، خدمتِ خلق، تنظیمی بصیرت اور سماجی تعمیر کے متعدد پہلو یکجا نظر آتے ہیں۔ بلا شبہ مولانا سراج الدین ندوی صاحب ضلع بجنور کی ان ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی خدمات نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ملک بھر میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔

مولانا سراج الدین ندوی صاحب سے ملاقات اور ان کے قائم کردہ اداروں کے مشاہدے کے بعد ہم سرکڑا سے رخصت ہوئے۔ ابھی کچھ ہی دور چلے تھے کہ نہٹور میں ایک چائے کی دکان نظر آئی۔ رفیقِ سفر عزیر شمیم صاحب کو چائے پینے کی خواہش ہوئی۔ دکان پر نمایاں طور پر "سپیشل چائے" کا بورڈ آویزاں تھا۔ نام اور دعوے کی کشش نے ہمیں رکنے پر آمادہ کر لیا اور دو کپ چائے کا آرڈر دے دیا گیا۔

چائے جب ہونٹوں سے لگی تو معلوم ہوا کہ دکان دار نے اسے "سپیشل" شاید کسی اور ہی معنی میں لکھ رکھا تھا۔ ذائقہ ایسا تھا کہ اس کی مثال کم ہی مل سکتی تھی۔ میں نے تو بہرحال چائے مکمل کر لی، عزیر شمیم سے یہ آزمائش برداشت نہ ہو سکی اور انہوں نے پہلے ہلکے کش کے بعد ہی چائے ایک طرف رکھ دی۔

اس کے بعد ہمارا رخ موضع پھول سندہ کی جانب ہوا۔ یہاں مولانا ثاقب عزیر بجنوری سے ملاقات مقصود تھی۔ ملاقات خوش گوار رہی اور میزبان نے تازہ لیچیاں پیش کیں۔ گرمی کے موسم میں تازہ اور شیریں لیچیوں نے سفر کی ساری تھکن دور کر دی اور لطف سفر دوبالا کر دیا۔

موضع پھول سندہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ سرسید احمد خاں نے اپنی معروف تصنیف سرکشی ضلع بجنور میں اس گاؤں کا ذکر کیا ہے۔

یہاں سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہم قریب ہی واقع موضع کوتوالی روانہ ہوئے، جہاں ضلع بجنور کے معروف نعت خواں اور شاعر حافظ امتیاز اظہر بجنوری سے ملاقات مقصود تھی۔ چند روز قبل بجنور میں ملاقات کے وقت ان کی خواہش پر کوتوالی آنے کا وعدہ کرلیا گیا تھا، اس سفر کو غنیمت جانتے ہوئے یہ وعدہ بھی پورا ہو گیا۔
❤1
حافظ امتیاز اظہر بجنوری سے یہ ملاقات کئی برس بعد ہو رہی تھی۔ اس عرصے میں ان کی علمی، ادبی اور معاشی زندگی میں جو تبدیلیاں آئی تھیں، ان کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں ان کی توجہ زیادہ تر اپنے کاروبار کی طرف رہی ہے اور بحمد اللہ اس میدان میں انہیں نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم کاروباری مصروفیات کے باوجود ادبی دنیا سے ان کا تعلق برقرار ہے اور وہ مشاعروں، ادبی نشستوں اور شعری محفلوں میں برابر شریک ہوتے رہتے ہیں۔
امتیاز اظہر نے ابتدائی زمانے میں علامہ منصور احمد منصور بجنوری مرحوم سے کافی استفادہ کیا ہے، اسی مناسبت سے راقم کی کی تحریر کردہ علامہ منصور بجنوری کی سوانح (غير مطبوعہ) میں ان کا تذکرہ موجود ہے۔

گفتگو کے دوران میں انہوں نے اپنی ایک غزل بھی سنائی جس کے اشعار نے داد و تحسین حاصل کی۔ یہاں زیادہ پسند کیا جانے والا ایک شعر حاضر ہے:

جس کو چاہا ہے اسے قید کیا ہے ہم نے
یہ الگ بات کہ زندان نہیں رکھا ہے

امتیاز اظہر صاحب سے گفتگو کے درمیان ضلع بجنور کے ایک اور صاحبِ ذوق شاعر ساجد ساغر کا تذکرہ بھی آیا۔ ساجد ساغر کی زندگی میں ایک غیر معمولی جدوجہد کی داستان نظر آتی ہے۔ ان کے حالات میں بہت حد تک احسان دانش کی زندگی کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔ جس طرح احسان دانش نے غربت، محنت مزدوری اور بے شمار مشکلات کے باوجود ادب کی دنیا میں اپنا مقام پیدا کیا، اسی طرح ساجد ساغر بھی مسلسل جدوجہد کے ذریعے شعری دنیا میں اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کی رسمی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک زمانہ ایسا بھی گزرا جب وہ معمولی لکھنا پڑھنا تک نہیں جانتے تھے، لیکن فطری ذوقِ شعر ان کے اندر ابتدا ہی سے موجود تھا، ضلع بجنور کے معروف صاحبِ فن شاعر انوار احمد انور بجنوری کی صحبت میسر آئی اور انہوں نے ان سے بھرپور استفادہ کیا۔ یہ استفادہ اس قدر گہرا تھا کہ بہت سے باقاعدہ تعلیم یافتہ شاگرد بھی اپنے اساتذہ سے شاید اتنا فائدہ نہ اٹھا پاتے ہوں۔

آج صورتِ حال یہ ہے کہ وہ شاعری کی بہت سی باریکیوں کو نہ صرف سمجھتے ہیں بلکہ بحورِ شعر سے بھی واقفیت رکھتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے علمِ قرض الشعر کسی باقاعدہ کتاب کے بغیر سیکھا۔
متعدد مواقع پر راقم نے ان سے مختلف اشعار کی تقطیع اور بحر کے متعلق سوالات کیے، حتیٰ کہ بعض اوقات جان بوجھ کر مشکل مثالیں بھی پیش کیں، مگر انہوں نے معمولی غور کے بعد درست بحر کی نشان دہی کر دی۔ یہ صلاحیت بلا شبہ انور بجنوری صاحب کا فیضانِ صحبت ہونے کے ساتھ ایک فطری ودیعت اور خدا داد ملکہ ہے۔

ساجد ساغر جب اپنا کلام سناتے ہیں تو ان کے لہجے، انداز اور کیفیت سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ شعر کو صرف کہتے نہیں بلکہ جیتے بھی ہیں۔ ان کی زندگی کے مصائب، محرومیاں، اضطراب اور داخلی کرب ان کے اشعار میں پوری شدت کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان کا درد میں ڈوبا کرب آمیز لہجہ ان کے اشعار کو سہ آتشہ کردیتا ہے۔

اگر ان کا شعری سفر اسی طرح جاری رہا تو بعید نہیں کہ آنے والے زمانے میں وہ المیہ لہجے اور کربیہ اسلوب کے ایک نمایاں شاعر کے طور پر پہچانے جائیں۔

امتیاز اظہر ہوں یا ساجد ساغر، دونوں کی ایک مشترک کمزوری راقم کو ہمیشہ یہ محسوس ہوتی رہی ہے کہ وہ اپنے کلام کو باقاعدہ بیاض کی صورت میں محفوظ کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔ اشعار کاغذ کے ٹکڑوں یا موبائل فون میں منتشر رہتے ہیں۔ خصوصاً ساجد ساغر کے ابتدائی برسوں کے اشعار محض حافظے میں محفوظ رہے، کیونکہ اس زمانے میں وہ لکھنا نہیں جانتے تھے۔ بعد میں انہوں نے اپنے کلام کو محفوظ کرنا شروع کیا، لیکن معلوم نہیں کہ ان کا تمام شعری سرمایہ کس حد تک یکجا ہو سکا ہے۔

کوتوالی میں یہ ادبی نشست دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے تک جاری رہی۔ اس کے بعد ہم نے واپسی کا سفر شروع کیا اور دو بجے کے قریب بجنور پہنچ گئے۔
پروفیسر عبدالشہید نعمانی

ابھی ابھی جناب ابو الحسن الطالب کی پوسٹ سے یہ اندوہناک خبر سنی کہ کراچی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جناب عبد الشہید نعمانی انتقال فرما گئے. نعمانی صاحب سے تعارف78 19 میں ریاض یونیورسٹی میں ہوا. موصوف پاکستانی اساتذہ کی ٹریننگ کے دوسرے بیچ میں کراچی سے جناب احسان الحق اور جناب محمد اسحاق میمن کے ہمراہ اس سیشن میں شریک تھے. پاکستان آنے کے بعد ہم نے انہیں بارہا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں مختلف کانفرنسز میں مدعو کیا نیز ادارہ تحقیقات اسلامی میں بھی ان کا آنا جانا رہتا تھا اور ملاقات ہوتی رہتی تھی. ایک بار میرے کراچی کے سفر میں موصوف مجھے اپنے گھر جامعہ کراچی کی اساتذہ کی رہائشی کالونی میں لے گئے جہاں ان کے والد محترم مولانا عبدالرشید نعمانی سے طویل ملاقات اور مختلف موضوعات پر گفتگو رہی. مولانا نعمانی جامعہ بنوری ٹاؤن کے حدیث ریسرچ پروجیکٹس کے نگران اعلیٰ، متعدد بلند پایہ علمی اور تحقیقی مطبوعات کے مصنف تھے. مولانا نے اپنی تالیفات کے ذریعے محمود عباسی اور ان کی ناصبی فکر کو بیخ و بن سے اکھاڑ کر رکھ دیا تھا. اب جو لوگ ناصبیت سے وابستگی رکھتے ہیں وہ کسی علمی یا تحقیقی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنی آخرت کی بھٹی سلگانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں.
ادھر کئی سالوں سے پروفیسر عبد الشہید نعمانی کے ساتھ رابطہ نہیں تھا. دو چار دن پہلے یوں ہی بیٹھے بیٹھے ان کی یاد بھی آئی تھی. آج ان کے سفر آخرت پر روانگی کی خبر سنی. اللہ تعالی انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور پس ماندگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل سے نوازے.
انا للہ وانا الیہ راجعون
طفیل ہاشمی
❤1
*راستے منزلوں میں بدل جائیں گے*

شاعر: مولانا احسن عزیز شہید

راستے منزلوں میں بدل جائیں گے
فاصلے جس قدر ہیں سمٹ آئیں گے!

یہ خزاں کی جو بدلی ہے چھٹ جائے گی
بے قراری کو چین آخر آجائے گا

غم میں رونے کی عادت بھی گھٹ جائے گی
روح تک کی تھکاوٹ اُتر جائے گی!

ٹہنیاں موسموں کا ثمر پائیں گی
بھیج کرغازیوں کو جو محمل میں ہیں
اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا وہ کر پائیں گی

غم کدوں میں محبت کا ہوگا چلن
بھائی بہنوں میں مل جل کے رہنے کی دھن

گرد اس پر جمی ، پھر سے دُھل جائے گی!

دل پگھل جائیں گے، آنکھ کھل جائے گی
خواب منظر حقیقت میں ڈھل جائیں گے
کارواں جو لٹے تھے سنبھل جائیں گے
راستے منزلوں میں بدل جائیں گے!

رب نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا

ہاں! مگر؛ هم سفر!

جانِ جاں! راز داں!

پُر مشقت اداؤں سے پہلے ذرا ان سمٹتی بلاؤں سے پہلے ذرا

رحمتوں کی گھٹاؤں سے پہلے ذرا کچھ دعاؤں میں بھی تو اثر چاہیے!
❤2
شرافت اور ریاست کی موجودہ حالت

فرمایا کہ آج کل تو شرافت اور ریاست کا وہ خلاصہ رہ گیا ہے، جو میرے سب سے چھوٹے ماموں صاحب نے اس شعر میں دکھلایا ہے۔

ہے شرافت تو کہاں بس شر و آفت ہے فقط
است ریاست سے گیا صرف ریا باقی ہے

(کمالاتِ اشرفیہ، صفحہ: ۳۰۷)

https://telegram.me/ilmokitab
❤1
*وفیات مورخہ: 4/جون*
1888ء  ترکی بن سعید البوسعیدی۔  سلطان مسقط وعمان
1958ء  ساحل بلگرامی (علی حسین)۔ 
1977ء  مسلم ضیائی (عبدالوہاب)۔  ادیب
1984ء  سارا شگفتہ۔  شاعرہ
1985ء  حافظ محمد گوندلوی۔  مولانا، محدث، مفسر
1986ء  احمد سعید کاظمی۔  علامہ، بانی جامعہ اسلامیہ عربیہ انوار العلوم ملتان
1988ء  مجنوں گورکھپوری (احمد صدیق)۔  محقق، افسانہ نگار، نقاد
1994ء  احمد سعید قریشی۔ 
1997ء  حمید وائیں۔ 
2004ء  عمر الدین بیدار۔ 
2018ء  محمد عمر میمن۔  ادیب، مترجم
2020ء  سید مسعود الدین۔ 
 
 
Https://telegram.me/ilmokitab
❤1
آج اردو کے مایہ نقاد ادیب ونقاد مجنون گورکھپوری کی تاریخ وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ : 4 جون 1988ء کو ہوئی تھی، آپ کو یاد کرتے ہوئے ۔آپ کی آب بینی پر مشتمل چھ قسطوں پر مشتمل آڈیوانٹرویواور کلام پیش خدمت ہے۔
یہ انٹرویو اردو آڈیو ڈاٹ کام پر دستیاب ہے۔ لنک حسب ذیل ہے:
انٹرویو(01)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-018enhxey5fcv2cm5eyz8xib6gerguryu7, Interview 01
انٹرویو (02)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-02nqhnjk30qias3w6cxwytxeavj8zeamph, Interview 02
انٹرویو (03)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-03qbwyhsd49jjqgwadmiq8l4bnqwiuav7u, Interview 03
انٹرویو (04)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-04ubnockhebeus5klbeofdj9fpb6wesiqp, Interview 04
انٹرویو (05)
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interview-05, Interview 05
منتخب کلام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=muntakhab-kalam, Muntakhab kalam
Mr Sid
*شہر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کوچے و بازار* ✍🏻... یونس بصیر کسی صاحب دل نے کیا خوب کہا ہے : ”کوچۂ جاناں کا ہر ذرہ چراغ طور ہے“ مکۃ المکرمہ میں سربفلک اور عظیم الشان عمارات کی جدتوں کا جلال و جمال بھی دیکھا اور شہر رسول میں مکانات کی قدامتوں کا حال…
*”کاروانِ شوق جنت البقیع میں“*


✍🏻... یونس بصیر


آج ساتھیوں نے زیارات مدینہ شریف کی خواہش کا اظہار کیا،نمازوں کی قضا کے پیش نظر زیارتوں کے لیے بہترین وقت صبح کی نماز سے لے کر ظہر کی نماز تک ہے اور ظہر کی نماز بہرحال مسجد نبوی میں پڑھنی چاہیے!ناشتہ اور دیگر حوائج ضروریہ سے فراغت کے بعد ہم ٹیکسی اسٹینڈ پر آئے، یہ اڈہ ٹیکسی ”جنت البقیع“ کے قبرستان کے بالکل قریب ہے، یہاں رائے بدلی کہ دیگر زیارتوں سے پہلے کیوں نہ یہ عظیم اور مبارک قبرستان دیکھا جائے!! رائے سے اتفاق کرتے ہوئے ہم سب قبرستان کے صدر دروازے کی طرف بڑھے، عورتوں کو قبرستان میں قطعی نہیں جانے دیتے اور اس روک و ممانعت میں سراسر حکمت و دانائی اور فائدے ہی فائدے ہیں؛ورنہ یہ حوازادیاں، قبرستانوں میں جاکر شرک و بدعت اور توہم پرستی کی ایسی ایسی عجوبۂ روزگار اختراعیں نکال لیتی ہیں کہ موجد شر و فتنہ یعنی ابلیس بھی کان پکڑ لیتے ہیں ؛لہذا ہم نے عورتوں کو دروازے کے قریب قبرستان کی دیوار کے زیر سایہ چھوڑا اور تلقین کی کہ آپ باہر سے ہی سلام کہہ سکتی ہیں اور دعائے مغفرت مانگ سکتی ہیں، دعا یوں پڑھنی اور ایسے مانگنی ہے جو حضور پرنور خود جنت البقیع میں آکر مانگا کرتے تھے:

السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَآتَاكُمُ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُعَجِّلُونَ ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللهُ بِكُمُ للاحِقُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرُ لِأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَد.

اللہ کا سلام ہو تم پر ، اس بستی کی جماعت مومنین اور کل قیامت کو وعدہ کے مطابق تمہیں تمہارے نیک عملوں کے پورے اجر ملیں گے اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے ملنے والے ہیں ۔ اے اللہ بخش دے اہل بقیع غرقد والوں کو ۔“

اس تاکید اور نصیحت کے بعد کاروان شوق صدر دروازے سے ہوتا ہوا قبرستان کی حدود میں داخل ہوگیا، شہر خموشاں پر نگاہ پڑتے ہی زندگی کی بے ثباتی اور کارکنان قضا و قدر کی یورشوں کا احساس جاگزیں ہوا اور موت و فنا کا خوف یک دم قلب و ذہن پر چھا گیا۔

دنیا کے اس مقدس ترین قبرستان میں چوب و سنگ و گنبد و محراب کی صنعت کاریاں اور خیالوں کے تاج محل تو نہیں ہیں؛ لیکن پوری انسانیت کا نچوڑ ، ساری کائنات کا حاصل، ساری مخلوق کا خلاصہ اور شناسان خدا اور رسول زیر خاک ہوکر خُلد نشین ہوگئے ہیں۔ صدق و صفا اور اخلاص و نیاز کا ایسا خزینہ کہاں؟ اور کس خاک میں ہوگا؟ اللہ والوں کے مدفن، ستاروں کے مخزن ، جانثاروں کےروضے، ان میں بنات مطاہرات بھی اور ازواج طیبات بھی ، عم رسول حضرت عباس بھی اور ائمہ عظام اہل بیت بھی اور ابن رسول بھی،سیدۃ النساء اور خاتون جنت حضرت فاطمۃ الزہراء، عاشقان حدیث بھی اور وقت کے عظیم اور یگانہ روزگار فقیہ عبداللہ اللہ بن مسعود بھی ، امام مظلوم سیدنا عثمان بن عفان بھی ـ
انہی اللہ والوں کی تربتوں سے تھوڑا آگے امام مالک کا مرقد عین اپنے استاد مکرم سیدنا حضرت نافع کے قریب، فاتح ایران سیدنا سعد بن وقاص بھی یہیں کہیں آسودۂ راحت ہیں اور جلیل القدر صحابی رسول حضرت سعد بن معاذ بھی انہی یارانِ محفل میں محفل آراء ہیں، آسمان علم و ادب کے یہ درخشندہ ستارے زندگی میں بھی اپنے ماہتاب کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں گردش کناں رہے اور آج مر کر بھی گنبد خضرا کے پہلو میں پڑے ہیں، سبحان اللہ! مؤرخین کے عام اندازے کے مطابق اس خطۂ پاک میں دس ہزار صحابہ و تابعین مدفون ہیں،سب کو سلام کہا، ان کے لیے اللہ سے مغفرتیں اور درجات کی بلندی طلب کی۔

( صحن حرم، صفحہ: ۱۳۸، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤1
وفیات مورخہ: 5/جون
1772ء  مبارک خان دوم۔ 
1858ء  احمد اللہ شاہ فیض آبادی۔  مولوی، مجاہد آزادی
1941ء  عبد الحی ہاتفب بجنوی۔  مولانا، حکیم
1956ء  مناظر احسن گیلانی۔  رئیس القلم، مولانا ، سید
1973ء  گرو گوالکر۔  سرچالک آر یس یس
1975ء  محمد زکریا بنوری۔  مولانا
1986ء  مقبول احمد۔ 
1989ء  محمد سلطان قادری چشتی۔  شیخ
1993ء  محمد اکبر خان۔   میجر جنرل،  مصنف حدیث دفاع
2004ء  رونالڈ ریگن۔  صدر امریکہ
2005ء  عبداللہ، محمد۔ 
2009ء  تراب علی۔ 
2010ء  حسن ظہیر۔ 
2010ء  محمد ادریس فاروقی۔  مولانا، اہل حدیث عالم دین
2015ء  طارق عزیز۔  عراقی وزیر خارجہ
2025ء  عبد الصمد قاضی ندوی۔  بھٹکلی عالم دین
 
Https://telegram.me/ilmokitab
❤1
میجر جنرل محمد اکبر خان اور سیرت پر ان کا شاہکار حدیث دفاع
تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل)


آج ۵/ جون میجر جنرل محمد اکبر خان کا یوم وفات ہے،جن کی پیدائش ۲۴ دسمبر ۱۹۱۲ء کو اور وفات ۵ جون ۱۹۹۲ء کو کراچی میں ہوئی تھی۔
آپ کا تذکرہ عموما نواب زادہ لیاقت علی خان کے دور حکومت میں راولپنڈی سازش کیس (۱۹۵۱ء) کے ساتھ جوڑ کر زیادہ آتا ہے، اس مقدمہ میں مشہور شاعر فیض احمد فیض اور آپ کی اہلیہ بیگم نسیم جہاں سمیت دس افراد پر غداری کا مقدمہ چلا تھا۔ لیکن ہمارے لئے آپ کی اہمیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت حربی پر ایک تربیت یافتہ اور تجربہ کار جنرل کے قلم سے لکھی گئی پہلی اور بہترین کتاب (حدیث دفاع ) کے مصنف کی حیثیت سے ہے۔

اکبر خان ضلع پشاور کے ایک گاؤں اتمن زئی میں پیدا ہوئے۔ وہ محمد زئی پٹھانوں کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے، ۱۹۳۱ء میں جب اکبر خان اسلامیہ کالج پشاور میں پڑھ رہے تھے، انہیں فوج میں جانے کی سوجھی۔ یہ وہ دور تھا جب انڈین آرمی میں تقریباً تمام کمیشنڈ افسر انگریز ہوتے تھے اور دیسی لوگ صرف این سی او اور وی سی او کے عہدے تک محدود تھے۔ نئی پالیسی کے مطابق انگریزی حکومت نے فیصلہ کیا کہ ہر سال چند ہندوستانیوں کو بھی کمیشن کے لئے چن لیا جائے۔ چنانچہ اس رعایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اکبر خان نے کمیشن کے لئے فوج میں درخواست دی۔ سینکڑوں درخواست گزاروں میں سے دس پندرہ نوجوانوں کو چنا گیا جن میں سے ایک اکبر خان بھی تھے۔ اگست ۱۹۳۲ء میں اکبر خان بحیثیت ایک آفیسر کیڈٹ انگلستان کی مشہور ملٹری اکیڈمی سینڈھرسٹ بھیج دیئے گئے۔ جہاں ڈیڑھ برس کی ٹریننگ کے بعد دسمبر ۱۹۳۳ء میں انہیں کمیشن ملی۔
ہندوستان واپس آنے پر پہلے ایک برس تک اکبر خان نے ایک گوروں کی پلٹن فرسٹ ہمپشائر رجمنٹ میں کام کیا۔ اس پلٹن میں افسر اور جوان سب انگریز تھے، اکبر خان واحد ہندوستانی تھے بعد میں یعنی ۱۹۳۵ء میں اکبر خان کو اپنی مستقل پلٹن چھٹی رائل بٹالین فرنٹیئر فورس رائفلز میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔
دوسری جنگ عظیم سے قبل اکبر خان نے صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں میں فقیر ایپی کے لشکروں کے خلاف فوجی ایکشن میں حصہ لیا۔ دوسری جنگ عظیم میں اکبر خان نے برما کے محاذ پر جاپانیوں کے خلاف لڑائی میں دادِ شجاعت پائی۔ ایک معرکہ میں انہوں نے اپنے جوانوں کے ہمراہ ۹۲ جاپانیوں کو مارا اور ۱۰۰ سے زیادہ کو زخمی کیا۔ مرنے والوں میں جاپانی پلٹن کا کمانڈر بھی تھا۔ اکبر خان کی پلٹن کے ایک افسر، تین وی سی اور ۳۱ جوان بھی اس معرکہ میں کام آئے۔یہ واقعہ فروری ۱۹۴۵ء کا ہے۔ اس ایکشن میں انڈین آرمی کے جمعدار پرکاش سنگھ (آنجہانی) کو بہادری کا سب سے بڑا تمغہ وکٹوریہ کراس دیا گیا اور میجر اکبر خان کو ڈی ایس او (DSO) سے نوازا گیا۔ ڈی ایس او کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد اکبر خان کو ہندوستان واپس بلا لیا گیا اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔
مصنف نے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانوں کی عسکری حکمت عملی پر کئی ایک کتابیں لکھی ہیں ، جن میں" جہاد صدیق" اور " خالد بن ولید سیف اللہ " اور " محمد بن قاسم کی مہارت فن حرب " شامل ہے، لیکن آپ کی کتابوں میں " حدیث دفاع " کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ اور یہ ہندوپاک سے بارہا مرتبہ شائع ہوئی۔
اکبر خان سے پہلے اس موضوع پر مایہ ناز محقق ڈاکٹر محمد حمید اللہ ؒ کی کتاب" عہد نبوی کے میدان جنگ" شائع ہوئی تھی، جس کے بارے میں اکبر خان کا کہنا ہے کہ" اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے ڈاکٹر حمید اللہ صاحب سابق استاذ قانون جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن کو جنہوں نے اس طرف توجہ فرمائی اور "عہد نبوی کے میدانِ جنگ" کے نام سے دو مبسوط رسالے شائع کئے اور اشاعت سے پہلے واقعات اور مقامات کی صحت کا اس درجہ اہتمام کیا کہ دو دفعہ چشم دید مطالعہ و مشاہدہ کے لئے حجازِ مقدس تشریف لے گئے اور سفر و حضر میں طویل مدت گزارنے کے بعد انتہائی کاوش کے ساتھ نقشہ ہائے جنگ مرتب کئے۔
ہم نے ان دونوں رسالوں کا بالاستیعاب مطالعہ کیا ہے۔ واقعی یہ ایک بلند پایہ اور قابلِ تعریف کوشش ہے اور مرتب نے سچے اور صحیح جذبہ کے ساتھ یہ خدمت انجام دی ہے۔ نہ صرف اسی پر اکتفا کی ہے بلکہ غزوات کے سلسلے میں بھی مسلسل کام کر رہے ہیں اور بتوفیق ایزدی متعال آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ لیکن جیسا کہ ڈاکٹر صاحب معترف ہیں ۔ آپ ملٹری سائنس (عسکری علوم) سے ناآشنائے محض ہیں۔ کاش آپ کو اس میں بھی درک ہوتا اور آپ کا علمی تبحر اور ذوقِ تحقیق و تجسس جو آپ کو سیرت مبارک کے اس پہلو سے ہے غفلت و بے خبری کے پردوں کو چاک کر کے تاریکیوں میں روشنی کی جھلک پیدا کر دیتا۔ جو مسلمانوں کے فکر و فہم کا احاطہ کئے ہوئے ہیں
❤2
مولانا عامر عثمانی نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "۔ اس میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت حق میں جو بے مثال کامیابی اور اسلام کو غالب کرنے میں جو لاجواب کامرانی حاصل ہوئی اسکے پیچھے اگرچہ نصرت الہٰی کی کارفرمائی تو بہر حال تھی لیکن اسباب وعلل کی حد تک خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبردست فہم و دانش اور اعلیٰ صلاحیتوں کا بھی اس میں بڑا دخل تھا۔ آپ بہترین سیاست داں، اعلیٰ ترین کمانڈر، زبردست مدبر اور کمال درجہ فعال انسان تھے۔ مصنف نے فن حرب اور علم سیاست کے زاویوں سے حضورؐ کے غزوات و سرایا کا تجزیہ کرکے ثابت کیا ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے جنرل اور جنگجو ہیرو اور فاتحین جن کا ڈنکا عالم میں بج رہا ہے حضورؐ کے آگے کوتاہ قامت ہیں اور فکر و تدبر کی ان حدوں تک نہیں پہنچ سکے جن تک عرب کا یہ در یتیم پہنچا تھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم فاضل مصنف چونکہ خود بھی سپاہی ہیں اور دوسری جنگ عظیم کے آزمودہ کار اسلئے ان کا یہ کسی اتالیق کا تجزیہ نہیں بلکہ ایک ماہر فن کا تجزیہ ہے۔ وہ جگہ جگہ مغرب کے معروف ماہرین حرب اور اس فن کے فرمودات پیش کرکے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں محض خوش عقیدگی کا آوردہ نہیں بلکہ معروضی مطالعہ کا حاصل اور حقائق ثابتہ سے ہم آہنگ ہے۔
غیر معمولی خوشی یہ دیکھ کر ہوتی ہے کہ وہ اگرچہ حضورؐ کی محبت میں بجا طور پر غرق، اور صحابہؓ کی عقیدت سے پیوستہ ہیں لیکن معقولیت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے، انھوں نے دوسرے شہرہ آفاق کمانڈروں اور سیاست دانوں کے بالمقابل رسول اللہؐ کی جو نشانِ امتیازی ثابت کی ہے اس کے لئے روشن دلائل اور قوی شواہد بھی زیب قرطاس کئے ہیں۔ ان کی نظر گہری، قوت اخذ و استخراج.فراواں اور اندازِ تبصرہ و دلکش ہے ہمیں تو تعجب ہوا کہ ایک "سپاہی" اور اتنا اچھا انشا پرداز انشا پردازی کے علاوہ ان کی تحریر سے اسلام کا گہرا درد ایمان کا خروش، اسلام کا جذبہ اور اقدام و عمل کا ولولہ نمایاں ہے وہ کتنے ہی نبوی میدان جنگ اپنی آنکھوں سے دیکھ آئے ہیں جس رخ سے ان کا مطالعہ کیا ہے۔ پیمائش سے بھی نہیں گھبرائے۔ کم و بیش چودہ صدیوں قبل کے غزوات کو چشم تصور کے آگے لانے کے لئے انھوں نے عرق ریز محنت کی ہے اور اس میں کامیاب ہیں۔ اللہ انھیں جزائے خیر دے۔
بعض حقائق سامنے تو سب کے ہوتے ہیں لیکن ان پر نگاہ چند ہی اہل بصیرت کی جمتی ہے ۔ جیسے :- دور رسالت کی فتوحات کا دائرہ۔ فاضل مصنف نے حساب لگا کر بتایا ہے کہ دس سالوں میں حضورؐ نے زمین کے اتنے وسیع رقبے پر فتح و ظفر کا پرچم لہرایا جسے دنوں میں تقسیم کر کے دیکھا جائے تو اوسطاً ہر ۲ میل یومیہ نکلتا ہے۔ جانی نقصان کا اوسط یہ رہا کہ مسلمان مہینے میں ایک اور دشمن مہینے میں تقریباً ۵۔ یہ حقائق حیرتناک بھی ہیں اور سبق آموز بھی۔ (تجلی دیوبند ۔ اگست، ستمبر ۱۹۷۴ء)
خامیاں کس میں نہیں ہوتیں، لیکن اپنے موضوع پر یہ کتاب ایک شاہکار شمار ہوتی ہے، امید ہے کہ یہ مرحوم کے درجات کی بلندی کا باعث بنے گی۔
2026-06-05
Https://telegram.me/ilmokitab
❤1
Mr Sid
*”کاروانِ شوق جنت البقیع میں“* ✍🏻... یونس بصیر آج ساتھیوں نے زیارات مدینہ شریف کی خواہش کا اظہار کیا،نمازوں کی قضا کے پیش نظر زیارتوں کے لیے بہترین وقت صبح کی نماز سے لے کر ظہر کی نماز تک ہے اور ظہر کی نماز بہرحال مسجد نبوی میں پڑھنی چاہیے!ناشتہ اور…
*کاروانِ شوق ”میدان احد“ میں*

✍🏻... یونس بصیر


مدينة الرسول کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں گریہ کناں رقت خیزیوں کے بعد جو آنسو بچ گئے تھے ان کو سمیٹا، ٹیکسی لی اور جبل احد کو سدھارے، مقدس پہاڑ ، خونِ شہیداں سے رنگین میدان اور تاریخ اسلام کی اہم رزم گاہ ٹیکسی تھوڑی دیر میں لے آئی۔ ہم اترے جدال و قتال کے لیے نہیں ؛بل کہ میدان احد کی فقط زیارت کے لیے، جنت کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کی دید و زیارت، زہے نصیب! اللہ اکبر! جبل احد کے دامن میں قدم رکھتے ہی خون جوش میں آجاتا ہے اور نگاہیں عالم تصور میں ان ناپاک اور ظالم ہاتھوں کے کھوج میں لگ جاتی ہیں جو رحمۃ للعالمین پر دراز ہوئے اور پھر ان تیرہ بختوں کے ملعون ہاتھوں کی وحشت ناکیاں یہاں تک بڑھیں کہ موتیوں ایسے تابدار دندانِ مبارک شہید کر دیئے گئے ۔ پھر سرور رسولاں کی مبارک اور نورانی پیشانی اور بازوؤں پر پتھروں سے چرکے لگائے گئے ۔ حق و باطل کی اس دوسری بڑی پرکار میں عم رسول سیدنا حمزہ، شیر خدا کے قلب و جگر چھائے گئے ۔ کفار کی درندگی اپنی انتہا پر اور وحشت و
شقاوت اپنے شباب پر ، اس دامن کوہ میں آئی تھی۔

دشمنان اسلام شکست بدر کی ندامتیں اور خجالتیں مٹانے آئے ہیں۔ کینہ و انتقام کی آگ میں بجھے ہوئے تیروں سے آراستہ اور دشمنی و نفرت کے زہر میں نہائی ہوئی شمشیر و سناں سے پیراستہ ہوکر حامیان اسلام اور اسلام کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کرنے آئے ہیں۔ قدرت خدا اور مشیت یزداں محو تماشا ہے اور کفار کی یلغار اور ظالموں کی چیرہ دستیوں پر خندہ زن

نور خدا ہے کفر کی حرکت پر خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

انہیں کیا خبر کہ نخل اسلام کی آبیاری کے لیے ان کشتگان راہ حق کا خون رنگ لائے گا اور شجر اسلام شیطانی یورشوں اور طاغوتی سازشوں کے اٹھائے ہوئے ہر طوفان کا مقابلہ کرتے ہوئے پھلتا، پھیلتا اور پھولتا رہے گا اور کفر و باطل مٹنے کے لیے ہے اور آخر مٹ جائے گا۔ حق و باطل کے اس رَن میں ستر انتہائی جلیل القدر صحابہ کرام شہید ہوئے ۔ بظاہر فتح و شکست کا ٹھیک فیصلہ تو نہ ہوسکا ؛لیکن ظالموں کے منحوس قدم اور ناپاک سائے شہر رسول میں نہ پڑسکے۔

اسی میدان میں چشم تصور نے حضرت صدیقہ بنت صدیق کو مشکیزہ اٹھائے ہوئے ادھر ادھر بھاگتے اور زخمیوں کو پانی پلاتے ہوئے اور مجاہدین اسلام کے زخموں پر پٹیاں باندھتے ہوئے بھی دیکھا اور یہیں اس فضائے رست خیز اور ہنگامۂ ماضی میں نبی رحمت کی نورافشاں پیشانی سے خون افشانی کی کثرت نے بنت رسول سیدہ فاطمہ کو پریشان کردیا ہے۔ سیدۃ النساء بار بار چٹائی جلا کر زخم میں راکھ بھرتی ہیں۔

اسی میدان کارزار میں یہ غلط افواہ بھی پھیلائی گئی کہ (خاکم بدہن ) اللہ کے رسول تو شہید ہوئے ۔ اب لڑنے سے کیا حاصل؟ اور اسی فضائے خون آشام میں جانثاروں کا یہ نعرہ حق بھی گونجا کہ وہ نہیں تو اب زندگی بے کیف ہوئی ۔ جینے میں کیا مزا؟لڑو اور موت کی راہ مستقیم اختیار کرو! جو سیدھی جنت کو جاتی ہے۔ خونِ شہیداں نے اس میدان کی یاد کو لازوال بنا دیا ہے۔ مجاہدین اسلام نے اپنی لاشوں کے پشتوں سے کفر کے زبردست سیلاب کو روک لیا اور اس معرکہ کے بعد مکہ والوں کی کمر ہمت ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد وہ کہیں بھی جم کر نہ ٹھہرسکے اور نہ کسی نظم و ضبط کے ساتھ دوبارہ معرکہ آرا ہی ہو سکے۔ شہدائے احد کو سلام کے بعد مغفرت کی دعائیں پورے جذب و خلوص اور محویت کے عالم میں مانگی گئیں اور آنکھیں بہت دیر تک اشک افشانی میں مصروف رہیں۔ اے اللہ تمام شہدائے اسلام پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرما۔ آمین!

تاریخ اسلام میں ان شہیدوں کے نام باقاعدہ طور پر محفوظ ہیں۔ مدینہ شریف کی زیارتوں میں میدان احد کی خاص اہمیت ہے۔ ان شہدا کی تدفین بھی اکٹھے ہی کی گئی ۔ سب سے درد ناک منظر سیدنا حمزہ کی شہادت پیش کر رہی تھی۔ جب سیدنا حمزہ کی بہن حضرت صفیہ بھائی کی لاش مبارک کو دیکھنے کے لیے جارہی تھیں حضور نے اپنی پھوپھی صفیہ کو روکا تو حضرت صفیہ نے حضور کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ صبر کا مظاہرہ کریں گی اور جزع فزع نہیں کریں گی۔ لہذا ان کو لاش مبارک دیکھنے کی حضور نے اجازت دے دی۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کی لاش کے روح فرسا منظر کو بڑے ضبط وتحمل اور صبر کے ساتھ دیکھا۔

( صحن حرم، صفحہ: 140، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤4
*وفیات مورخہ: 6/جون*
1955ء  سید احمد شاہ میر۔ 
1962ء  میاں افتخار الدین۔  مالک پروگریسیو پیپر لمیٹڈ
1964ء  حامد حسن قادری۔  پروفیسر، ادیب، نقاد، شاعر
1967ء  اثر لکھنوی ( نواب مرزا جعفر علی خان)۔  لغت نویس، شاعر، نقاد
1974ء  فضل الرحمن انصاری۔  ڈاکٹر، حافظ
1982ء  مشتاق حسین خاں ہاشمی۔ 
1987ء  میمونہ غزل۔ 
1991ء  عبدالرشید ۔  رستم قلم
1999ء  سید سعید حسن۔ 
2000ء  شاہد علی رعنا۔ 
2001ء  محمد عثمان معروفی اعظمی۔  مولانا، مدیر ماہنامہ مظاہر علوم سہارنپور
2006ء  سید مہدی عباس نقوی۔ 
2019ء  انور سجاد۔  ڈاکٹر، شاعر، ادیب
2020ء  محمد رفیق قاسمی۔  امیر حلقہ اتر پردیش جماعت اسلامی ہند
2023ء  عبدالمنعم النمر۔  مصری وزیر اوقاف
 
HTTPS://TELEGRAM.ME/ILMOKITAB
❤1
آج اردو کے نامور ماہر لغت اور استاد شاعر نواب جعفر علی خان اثر لکھنوی کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ ۶/ جون ۱۹۶۷ء کو ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے آپ کی آواز میں ریکارڈ شدہ غزل پیش خدمت ہے۔

آنکھ میں اشک ندامت
کلام وآواز: نواب جعفر علی خان اثر لکھنوی
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام

https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=aankh-may-ashk-e-nadamat-dabdaba-kar-rah-gay, Aankh May ashk e nadamat dabdaba kar rah gay
Mr Sid
*کاروانِ شوق ”میدان احد“ میں* ✍🏻... یونس بصیر مدينة الرسول کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں گریہ کناں رقت خیزیوں کے بعد جو آنسو بچ گئے تھے ان کو سمیٹا، ٹیکسی لی اور جبل احد کو سدھارے، مقدس پہاڑ ، خونِ شہیداں سے رنگین میدان اور تاریخ اسلام کی اہم رزم گاہ…
*دید و نظارہ کے پیاسے سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کے کنویں پر*

✍🏻... یونس بؔصیر

جؔبل احد کی زیارت کے بعد ٹیکسی سیدھی سیدنا عثمان غنیؓ کے کنویں پر آئی، یہ انتہائی گہرا اور تاریخی کنواں اب آباد نہیں ؛لیکن اس کے قرب و جوار میں اب بھی سبزہ و شادابی کے دلکش مناظر آنے والوں کی نگاہوں کا مرکز بنے رہتے ہیں،یہ وہی کنواں ہے جو کبھی یہودیوں کی ملکیت تھا اور میٹھے پانی کے ذخائر سے لبالب،مسلمانوں کی غربت وافلاس اور تنگ دستی کا یہ حال کہ: پینے کے لیے وافر میٹھا پانی تک میسر نہ تھا،سیدنا عثمان غنیؓ کی دولت ہر آڑے وقت اور کٹھن گھڑی میں ”ملت بیضاء“ کے کام آئی! مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع میں بھی آپ نے حصہ لیا اور پھر تاریخ اسلام میں ایک برا وقت ایسا بھی آیا جب باغیوں اور شر پسندوں نے امام مظلومؓ کو اپنے ہی گھر کی چار دیواری میں محصور کر دیا اور مسجد نبوی میں نماز کی بندش کے ساتھ اس کنویں کا شیریں پانی بھی بند کر دیا گیا، الله الله!! سیدنا عثمان غنیؓ نے اظہار حق کے لیے کہا تھا کہ ” مجھے اس مسجد میں نماز سے روکا گیا جس کی زمین کی قیمت اور تعمیر و توسیع کے تمام اخراجات میں نے برداشت کیے! اس کنویں کا پانی بند کیا گیا جو میں نے یہودیوں سے خریدا تھا ؛تاکہ انصار و مہاجرین کو پانی کے لیے یہودیوں کا منہ نہ دیکھنا پڑے“ ظالم بے رحم اور سنگدل بلوائیوں نے حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا، وفادار، صالحہ اور عفیفہ سیدہ نائیلہؓ نے سید عثمان کو بچاتے ہوئے ان ستم گروں کی تلوار کا وار اپنے ہاتھ پر روکا اور ہاتھ مبارک کی انگلیاں شہید کروالیں ۔ وفاداری جرأت و شجاعت و قربانی کی یہ چٹان،جذبۂ خلوص اور ایثار کا یہ پیکر، تاریخ اسلام میں اپنا نام سنہرے حروف میں رقم کر گئیں!اللہ تعالی ان شہدائے کرام کے درجات بلند کرے۔ آمین!

اگر چہ اب یہ کنواں ویران ہے؛ لیکن اس کی سنہری یادیں تاریخ اسلام میں ہمیشہ زندہ اور محفوظ رہیں گی ـ ایثار و قربانی کا یہ عظیم الشان جذبہ خلوص و ایمان کی انمٹ یادگار ہے، آج یہ کنواں اجڑ چکا ہے،اب سنا ہے کہ جامع نبوی کی توسیع میں آگیا ہے، اس کنویں کی برکت یہ دیکھی کہ اس کے ارد گرد کافی دور تک کھجوروں کے باغات اور حد نگاہ تک سبزہ ہی سبزہ نظر آتا تھا ـ



*کاروانِ شوق میدانِ خندق میں*

اب ہمیں ٹیکسی والا (جو موحد بھی ہے) زیارت بھی کرواتا ہے اور تاریخی جگہ کا تعارف اور تمام معلومات مہیا کرتا ہے، ہمارا ٹیکسی والا مزدور خوش قسمتی سے مدینہ یونیورسٹی کا طالب علم بھی تھا، اس تاریخی مقام پر لے آیا جہاں کفار کی یلغار سے مدینہ اور اہل مدینہ کو محفوظ رکھنے کے لیے حضرت سلمان فارسی کی تجویز پر ایک بہت بڑی اور گہری خندق کھودی گئی تھی اور خندق کی کھدائی میں تاجدار نبوت خود بھی تیشہ کناں رہے۔
اسی خندق کی کھدائی میں امیر لشکر صلی اللہ علیہ وسلم نے بھوک کی شدت کو کم کرنے کے لیے شکم مبارک پر دو پتھر باندھ رکھے تھے،جب ساتھیوں نے بھوک کا رونا رویا تو امیر کارواں اور سپہ سالار اعظمؐ نے اپنا دامن اٹھایا اور یہ نظارہ صبر و شکر یاران لشکر کو دکھایا،انجامِ کار فتح حق کی ہوئی اور اسی فتح کی یاد میں یہاں ”مسجد فتح“ تعمیر ہوئی اور پھر سب اللہ والے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے ۔ اس میدان میں کل پانچ مسجدیں ہیں جو نشیب و فراز میں واقع ہیں، خندق تو اب یہاں نظر نہیں آتی، اس جنگ خندق کے بعد مشرکین مکہ کی کمر فی الحقیقت ٹوٹ گئی، اس کے بعد وہ اکٹھے ہوکر کبھی مسلمانوں کے مقابل نہ آسکے،یہاں ہم نے ”تحیۃ المسجد “ کے دو نفل ہر مسجد میں ادا کیے!

*کاروانِ شوق، مسجد قبلتین میں*

مقام خندق کی زیارت کے بعد ”مسجد قبلتین“ دیکھی، یہ وہی تاریخی اور مقدس مسجد ہے جس میں دوران نماز ˝تحویل قبلہ˝ کا حکم ربانی ہوا تھا، مقدس رسولؐ کا بے قرار ہوکر بار بار عرش کو دیکھنا رب العرش العظیم کو بھا گیا اور اپنے پیارے رسول کی دلی منشا جان کر اللہ رب العزت نے بیت اللہ کو ہی قبلہ قرار دے دیا، نماز کی پہلی دو رکعتیں تو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھی گئیں اور بقیہ دور کعتیں بیت الحرام کی طرف، چونکہ اس مبارک مسجد میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی گئی اس لیے اس مقدس مسجد کو مسجد قبلتین کہتے ہیں، یعنی دو قبلوں والی، یہاں بھی ہم نے مسجد میں داخل ہوتے ہی تحیۃ المسجد کے دو نفل ادا کیے،دونوں محرابوں کے نشان بھی دیکھے،دوگانہ کے بعد دعائیں مانگی گئیں اور پھر اللہ کا فضل طلب کرتے ہوئے ہم باہر آگئےـ

*کاروان شوق مسجد قبا میں*

حضور نبی اکرمؐ نے ہجرت کے بعد اور مدینہ شریف میں ورود مسعود سے پہلے شہر سے دو میل کے فاصلے پر سب سے پہلے مسجد کی بنیاد رکھی، تاریخ اسلام میں اس مسجد کو ”مسجد قبا“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، سبحان اللہ! مقام نبوت کی یہ رفعت و شان کہ ہجرت کے بعد اور عین غریب الوطنی میں اللہ کے برگزیدہ رسول کو جو فکر سب سے پہلے دامن گیر ہوئی وہ خانہ خدا کی تعمیر و بناء ہی تھی۔ اخلاص و نیاز اور زہد
❤2
Mr Sid
*کاروانِ شوق ”میدان احد“ میں* ✍🏻... یونس بصیر مدينة الرسول کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں گریہ کناں رقت خیزیوں کے بعد جو آنسو بچ گئے تھے ان کو سمیٹا، ٹیکسی لی اور جبل احد کو سدھارے، مقدس پہاڑ ، خونِ شہیداں سے رنگین میدان اور تاریخ اسلام کی اہم رزم گاہ…
و تقویٰ کی انہی کیفیات کو خدائے عزوجل نے اپنی آخری اور حکمتوں بھری نورانی کتاب میں یوں بیان فرمایا ہے:

{لمَسْجِدٌ أُسِّسَ على التقوٰى من اول يوم}(التوبه : ۱۰۸)

” البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد رکھی گئی ہے تقوی پر اول روز سے۔“

اس بابرکت اور عظیم الشان مسجد میں تقریبا ہر وقت بھیڑ لگی رہتی ہے، فرمان رسولؐ کے مطابق اس مسجد میں دو رکعت نماز نفل کا اجر و ثواب عمرہ کے برابر ہے اور یہ مبارک حدیث آج بھی مسجد میں عین محراب کے اوپر ایک کتبہ پر لکھی ہوئی آویزاں ہے، وحی و تنزیل کے لیے حضرت جبریلؑ کی منزل یہی عظیم مسجد تھی، زندگی بھر سرور رسولاںؐ کا یہ معمول رہا کہ آپ یوم السبت یعنی ہفتہ کے روز دو رکعت نماز نفل پڑھنے کے لیے اس مسجد میں ضرور جایا کرتے تھے، اس مسجد کی زیارت کے لیے بہترین وقت فجر کی نماز کے بعد کا ہے، پیدل بھی آسانی کے ساتھ جایا جاسکتا ہے،کچھ زیادہ دور نہیں اور ہر وقت تیار ٹیکسیاں بھی مل جاتی ہیں جو آنے جانے کا ایک ریال لیتے ہیں۔

یہ دعا پڑھتے ہوئے:( اللَّهُمَّ افْتَحُ لِي أَبْوَابَ رَحمَتِكَ "اے اللہ ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“) ( آمین )

مسجد میں داخل ہوئے اور پھر پور جذب و شوق کے عالم میں دو نفل پڑھے،نفلوں کے بعد بارگاہ لم یزل میں التجائیں بھی کیں،ان مذکورہ بالا مساجد کے علاوہ بھی کئی تاریخی مساجد ہیں مثلاً مسجد غمامه، مسجد سیدنا علی،مسجد سیدنا ابوبکر، مسجد سیدنا عثمان اور مسجد سیدنا عمر (رضوان اللہ علیہم اجمعین)

(صحن حرم، صفحہ: 142، طبع: صُفّہ پبلشر، لاھور)
❤1
*وفیات مورخہ: 7/جون*
1972ء  حسین ابراہیم جمال۔ 
1973ء  حشرپوری ، سید محمد کاظم۔ 
1975ء  فقیر محمد ساقی۔ 
1976ء  عبدالجلیل۔  مولانا
1991ء  طاہر علاء الدین قادری جیلانی۔  سرپرست تحریک منہاج القرآن
1997ء  نصیر الدین ۔  حاجی
2012ء  امین الدین شجاع الدین۔  مولانا ، مدیر تعمیر حیات لکھنو
2012ء  حسین علی توحیدی۔  مولانا، بانی جامعہ عربیہ اسلامیہ حسینیہ راولپنڈی
2018ء  رسول بخش پلیچو۔ 
2020ء  سعید احمد۔  الحاج حافظ
 
  https://telegram.me/ilmokitab