Mr Sid
*”کاروانِ شوق جنت البقیع میں“* ✍🏻... یونس بصیر آج ساتھیوں نے زیارات مدینہ شریف کی خواہش کا اظہار کیا،نمازوں کی قضا کے پیش نظر زیارتوں کے لیے بہترین وقت صبح کی نماز سے لے کر ظہر کی نماز تک ہے اور ظہر کی نماز بہرحال مسجد نبوی میں پڑھنی چاہیے!ناشتہ اور…
*کاروانِ شوق ”میدان احد“ میں*
✍🏻... یونس بصیر
مدينة الرسول کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں گریہ کناں رقت خیزیوں کے بعد جو آنسو بچ گئے تھے ان کو سمیٹا، ٹیکسی لی اور جبل احد کو سدھارے، مقدس پہاڑ ، خونِ شہیداں سے رنگین میدان اور تاریخ اسلام کی اہم رزم گاہ ٹیکسی تھوڑی دیر میں لے آئی۔ ہم اترے جدال و قتال کے لیے نہیں ؛بل کہ میدان احد کی فقط زیارت کے لیے، جنت کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کی دید و زیارت، زہے نصیب! اللہ اکبر! جبل احد کے دامن میں قدم رکھتے ہی خون جوش میں آجاتا ہے اور نگاہیں عالم تصور میں ان ناپاک اور ظالم ہاتھوں کے کھوج میں لگ جاتی ہیں جو رحمۃ للعالمین پر دراز ہوئے اور پھر ان تیرہ بختوں کے ملعون ہاتھوں کی وحشت ناکیاں یہاں تک بڑھیں کہ موتیوں ایسے تابدار دندانِ مبارک شہید کر دیئے گئے ۔ پھر سرور رسولاں کی مبارک اور نورانی پیشانی اور بازوؤں پر پتھروں سے چرکے لگائے گئے ۔ حق و باطل کی اس دوسری بڑی پرکار میں عم رسول سیدنا حمزہ، شیر خدا کے قلب و جگر چھائے گئے ۔ کفار کی درندگی اپنی انتہا پر اور وحشت و
شقاوت اپنے شباب پر ، اس دامن کوہ میں آئی تھی۔
دشمنان اسلام شکست بدر کی ندامتیں اور خجالتیں مٹانے آئے ہیں۔ کینہ و انتقام کی آگ میں بجھے ہوئے تیروں سے آراستہ اور دشمنی و نفرت کے زہر میں نہائی ہوئی شمشیر و سناں سے پیراستہ ہوکر حامیان اسلام اور اسلام کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کرنے آئے ہیں۔ قدرت خدا اور مشیت یزداں محو تماشا ہے اور کفار کی یلغار اور ظالموں کی چیرہ دستیوں پر خندہ زن
نور خدا ہے کفر کی حرکت پر خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
انہیں کیا خبر کہ نخل اسلام کی آبیاری کے لیے ان کشتگان راہ حق کا خون رنگ لائے گا اور شجر اسلام شیطانی یورشوں اور طاغوتی سازشوں کے اٹھائے ہوئے ہر طوفان کا مقابلہ کرتے ہوئے پھلتا، پھیلتا اور پھولتا رہے گا اور کفر و باطل مٹنے کے لیے ہے اور آخر مٹ جائے گا۔ حق و باطل کے اس رَن میں ستر انتہائی جلیل القدر صحابہ کرام شہید ہوئے ۔ بظاہر فتح و شکست کا ٹھیک فیصلہ تو نہ ہوسکا ؛لیکن ظالموں کے منحوس قدم اور ناپاک سائے شہر رسول میں نہ پڑسکے۔
اسی میدان میں چشم تصور نے حضرت صدیقہ بنت صدیق کو مشکیزہ اٹھائے ہوئے ادھر ادھر بھاگتے اور زخمیوں کو پانی پلاتے ہوئے اور مجاہدین اسلام کے زخموں پر پٹیاں باندھتے ہوئے بھی دیکھا اور یہیں اس فضائے رست خیز اور ہنگامۂ ماضی میں نبی رحمت کی نورافشاں پیشانی سے خون افشانی کی کثرت نے بنت رسول سیدہ فاطمہ کو پریشان کردیا ہے۔ سیدۃ النساء بار بار چٹائی جلا کر زخم میں راکھ بھرتی ہیں۔
اسی میدان کارزار میں یہ غلط افواہ بھی پھیلائی گئی کہ (خاکم بدہن ) اللہ کے رسول تو شہید ہوئے ۔ اب لڑنے سے کیا حاصل؟ اور اسی فضائے خون آشام میں جانثاروں کا یہ نعرہ حق بھی گونجا کہ وہ نہیں تو اب زندگی بے کیف ہوئی ۔ جینے میں کیا مزا؟لڑو اور موت کی راہ مستقیم اختیار کرو! جو سیدھی جنت کو جاتی ہے۔ خونِ شہیداں نے اس میدان کی یاد کو لازوال بنا دیا ہے۔ مجاہدین اسلام نے اپنی لاشوں کے پشتوں سے کفر کے زبردست سیلاب کو روک لیا اور اس معرکہ کے بعد مکہ والوں کی کمر ہمت ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد وہ کہیں بھی جم کر نہ ٹھہرسکے اور نہ کسی نظم و ضبط کے ساتھ دوبارہ معرکہ آرا ہی ہو سکے۔ شہدائے احد کو سلام کے بعد مغفرت کی دعائیں پورے جذب و خلوص اور محویت کے عالم میں مانگی گئیں اور آنکھیں بہت دیر تک اشک افشانی میں مصروف رہیں۔ اے اللہ تمام شہدائے اسلام پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرما۔ آمین!
تاریخ اسلام میں ان شہیدوں کے نام باقاعدہ طور پر محفوظ ہیں۔ مدینہ شریف کی زیارتوں میں میدان احد کی خاص اہمیت ہے۔ ان شہدا کی تدفین بھی اکٹھے ہی کی گئی ۔ سب سے درد ناک منظر سیدنا حمزہ کی شہادت پیش کر رہی تھی۔ جب سیدنا حمزہ کی بہن حضرت صفیہ بھائی کی لاش مبارک کو دیکھنے کے لیے جارہی تھیں حضور نے اپنی پھوپھی صفیہ کو روکا تو حضرت صفیہ نے حضور کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ صبر کا مظاہرہ کریں گی اور جزع فزع نہیں کریں گی۔ لہذا ان کو لاش مبارک دیکھنے کی حضور نے اجازت دے دی۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کی لاش کے روح فرسا منظر کو بڑے ضبط وتحمل اور صبر کے ساتھ دیکھا۔
( صحن حرم، صفحہ: 140، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
✍🏻... یونس بصیر
مدينة الرسول کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں گریہ کناں رقت خیزیوں کے بعد جو آنسو بچ گئے تھے ان کو سمیٹا، ٹیکسی لی اور جبل احد کو سدھارے، مقدس پہاڑ ، خونِ شہیداں سے رنگین میدان اور تاریخ اسلام کی اہم رزم گاہ ٹیکسی تھوڑی دیر میں لے آئی۔ ہم اترے جدال و قتال کے لیے نہیں ؛بل کہ میدان احد کی فقط زیارت کے لیے، جنت کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ کی دید و زیارت، زہے نصیب! اللہ اکبر! جبل احد کے دامن میں قدم رکھتے ہی خون جوش میں آجاتا ہے اور نگاہیں عالم تصور میں ان ناپاک اور ظالم ہاتھوں کے کھوج میں لگ جاتی ہیں جو رحمۃ للعالمین پر دراز ہوئے اور پھر ان تیرہ بختوں کے ملعون ہاتھوں کی وحشت ناکیاں یہاں تک بڑھیں کہ موتیوں ایسے تابدار دندانِ مبارک شہید کر دیئے گئے ۔ پھر سرور رسولاں کی مبارک اور نورانی پیشانی اور بازوؤں پر پتھروں سے چرکے لگائے گئے ۔ حق و باطل کی اس دوسری بڑی پرکار میں عم رسول سیدنا حمزہ، شیر خدا کے قلب و جگر چھائے گئے ۔ کفار کی درندگی اپنی انتہا پر اور وحشت و
شقاوت اپنے شباب پر ، اس دامن کوہ میں آئی تھی۔
دشمنان اسلام شکست بدر کی ندامتیں اور خجالتیں مٹانے آئے ہیں۔ کینہ و انتقام کی آگ میں بجھے ہوئے تیروں سے آراستہ اور دشمنی و نفرت کے زہر میں نہائی ہوئی شمشیر و سناں سے پیراستہ ہوکر حامیان اسلام اور اسلام کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کرنے آئے ہیں۔ قدرت خدا اور مشیت یزداں محو تماشا ہے اور کفار کی یلغار اور ظالموں کی چیرہ دستیوں پر خندہ زن
نور خدا ہے کفر کی حرکت پر خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
انہیں کیا خبر کہ نخل اسلام کی آبیاری کے لیے ان کشتگان راہ حق کا خون رنگ لائے گا اور شجر اسلام شیطانی یورشوں اور طاغوتی سازشوں کے اٹھائے ہوئے ہر طوفان کا مقابلہ کرتے ہوئے پھلتا، پھیلتا اور پھولتا رہے گا اور کفر و باطل مٹنے کے لیے ہے اور آخر مٹ جائے گا۔ حق و باطل کے اس رَن میں ستر انتہائی جلیل القدر صحابہ کرام شہید ہوئے ۔ بظاہر فتح و شکست کا ٹھیک فیصلہ تو نہ ہوسکا ؛لیکن ظالموں کے منحوس قدم اور ناپاک سائے شہر رسول میں نہ پڑسکے۔
اسی میدان میں چشم تصور نے حضرت صدیقہ بنت صدیق کو مشکیزہ اٹھائے ہوئے ادھر ادھر بھاگتے اور زخمیوں کو پانی پلاتے ہوئے اور مجاہدین اسلام کے زخموں پر پٹیاں باندھتے ہوئے بھی دیکھا اور یہیں اس فضائے رست خیز اور ہنگامۂ ماضی میں نبی رحمت کی نورافشاں پیشانی سے خون افشانی کی کثرت نے بنت رسول سیدہ فاطمہ کو پریشان کردیا ہے۔ سیدۃ النساء بار بار چٹائی جلا کر زخم میں راکھ بھرتی ہیں۔
اسی میدان کارزار میں یہ غلط افواہ بھی پھیلائی گئی کہ (خاکم بدہن ) اللہ کے رسول تو شہید ہوئے ۔ اب لڑنے سے کیا حاصل؟ اور اسی فضائے خون آشام میں جانثاروں کا یہ نعرہ حق بھی گونجا کہ وہ نہیں تو اب زندگی بے کیف ہوئی ۔ جینے میں کیا مزا؟لڑو اور موت کی راہ مستقیم اختیار کرو! جو سیدھی جنت کو جاتی ہے۔ خونِ شہیداں نے اس میدان کی یاد کو لازوال بنا دیا ہے۔ مجاہدین اسلام نے اپنی لاشوں کے پشتوں سے کفر کے زبردست سیلاب کو روک لیا اور اس معرکہ کے بعد مکہ والوں کی کمر ہمت ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گئی۔ اس کے بعد وہ کہیں بھی جم کر نہ ٹھہرسکے اور نہ کسی نظم و ضبط کے ساتھ دوبارہ معرکہ آرا ہی ہو سکے۔ شہدائے احد کو سلام کے بعد مغفرت کی دعائیں پورے جذب و خلوص اور محویت کے عالم میں مانگی گئیں اور آنکھیں بہت دیر تک اشک افشانی میں مصروف رہیں۔ اے اللہ تمام شہدائے اسلام پر اپنی خاص رحمتیں نازل فرما۔ آمین!
تاریخ اسلام میں ان شہیدوں کے نام باقاعدہ طور پر محفوظ ہیں۔ مدینہ شریف کی زیارتوں میں میدان احد کی خاص اہمیت ہے۔ ان شہدا کی تدفین بھی اکٹھے ہی کی گئی ۔ سب سے درد ناک منظر سیدنا حمزہ کی شہادت پیش کر رہی تھی۔ جب سیدنا حمزہ کی بہن حضرت صفیہ بھائی کی لاش مبارک کو دیکھنے کے لیے جارہی تھیں حضور نے اپنی پھوپھی صفیہ کو روکا تو حضرت صفیہ نے حضور کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ صبر کا مظاہرہ کریں گی اور جزع فزع نہیں کریں گی۔ لہذا ان کو لاش مبارک دیکھنے کی حضور نے اجازت دے دی۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کی لاش کے روح فرسا منظر کو بڑے ضبط وتحمل اور صبر کے ساتھ دیکھا۔
( صحن حرم، صفحہ: 140، طبع: صفہ پبلشر، لاھور)
❤4
*وفیات مورخہ: 6/جون*
1955ء سید احمد شاہ میر۔
1962ء میاں افتخار الدین۔ مالک پروگریسیو پیپر لمیٹڈ
1964ء حامد حسن قادری۔ پروفیسر، ادیب، نقاد، شاعر
1967ء اثر لکھنوی ( نواب مرزا جعفر علی خان)۔ لغت نویس، شاعر، نقاد
1974ء فضل الرحمن انصاری۔ ڈاکٹر، حافظ
1982ء مشتاق حسین خاں ہاشمی۔
1987ء میمونہ غزل۔
1991ء عبدالرشید ۔ رستم قلم
1999ء سید سعید حسن۔
2000ء شاہد علی رعنا۔
2001ء محمد عثمان معروفی اعظمی۔ مولانا، مدیر ماہنامہ مظاہر علوم سہارنپور
2006ء سید مہدی عباس نقوی۔
2019ء انور سجاد۔ ڈاکٹر، شاعر، ادیب
2020ء محمد رفیق قاسمی۔ امیر حلقہ اتر پردیش جماعت اسلامی ہند
2023ء عبدالمنعم النمر۔ مصری وزیر اوقاف
HTTPS://TELEGRAM.ME/ILMOKITAB
1955ء سید احمد شاہ میر۔
1962ء میاں افتخار الدین۔ مالک پروگریسیو پیپر لمیٹڈ
1964ء حامد حسن قادری۔ پروفیسر، ادیب، نقاد، شاعر
1967ء اثر لکھنوی ( نواب مرزا جعفر علی خان)۔ لغت نویس، شاعر، نقاد
1974ء فضل الرحمن انصاری۔ ڈاکٹر، حافظ
1982ء مشتاق حسین خاں ہاشمی۔
1987ء میمونہ غزل۔
1991ء عبدالرشید ۔ رستم قلم
1999ء سید سعید حسن۔
2000ء شاہد علی رعنا۔
2001ء محمد عثمان معروفی اعظمی۔ مولانا، مدیر ماہنامہ مظاہر علوم سہارنپور
2006ء سید مہدی عباس نقوی۔
2019ء انور سجاد۔ ڈاکٹر، شاعر، ادیب
2020ء محمد رفیق قاسمی۔ امیر حلقہ اتر پردیش جماعت اسلامی ہند
2023ء عبدالمنعم النمر۔ مصری وزیر اوقاف
HTTPS://TELEGRAM.ME/ILMOKITAB
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
آج اردو کے نامور ماہر لغت اور استاد شاعر نواب جعفر علی خان اثر لکھنوی کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات مورخہ ۶/ جون ۱۹۶۷ء کو ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے آپ کی آواز میں ریکارڈ شدہ غزل پیش خدمت ہے۔
آنکھ میں اشک ندامت
کلام وآواز: نواب جعفر علی خان اثر لکھنوی
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=aankh-may-ashk-e-nadamat-dabdaba-kar-rah-gay, Aankh May ashk e nadamat dabdaba kar rah gay
آنکھ میں اشک ندامت
کلام وآواز: نواب جعفر علی خان اثر لکھنوی
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=aankh-may-ashk-e-nadamat-dabdaba-kar-rah-gay, Aankh May ashk e nadamat dabdaba kar rah gay
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
Mr Sid
*کاروانِ شوق ”میدان احد“ میں* ✍🏻... یونس بصیر مدينة الرسول کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں گریہ کناں رقت خیزیوں کے بعد جو آنسو بچ گئے تھے ان کو سمیٹا، ٹیکسی لی اور جبل احد کو سدھارے، مقدس پہاڑ ، خونِ شہیداں سے رنگین میدان اور تاریخ اسلام کی اہم رزم گاہ…
*دید و نظارہ کے پیاسے سیدنا عثمان ذوالنورینؓ کے کنویں پر*
✍🏻... یونس بؔصیر
جؔبل احد کی زیارت کے بعد ٹیکسی سیدھی سیدنا عثمان غنیؓ کے کنویں پر آئی، یہ انتہائی گہرا اور تاریخی کنواں اب آباد نہیں ؛لیکن اس کے قرب و جوار میں اب بھی سبزہ و شادابی کے دلکش مناظر آنے والوں کی نگاہوں کا مرکز بنے رہتے ہیں،یہ وہی کنواں ہے جو کبھی یہودیوں کی ملکیت تھا اور میٹھے پانی کے ذخائر سے لبالب،مسلمانوں کی غربت وافلاس اور تنگ دستی کا یہ حال کہ: پینے کے لیے وافر میٹھا پانی تک میسر نہ تھا،سیدنا عثمان غنیؓ کی دولت ہر آڑے وقت اور کٹھن گھڑی میں ”ملت بیضاء“ کے کام آئی! مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع میں بھی آپ نے حصہ لیا اور پھر تاریخ اسلام میں ایک برا وقت ایسا بھی آیا جب باغیوں اور شر پسندوں نے امام مظلومؓ کو اپنے ہی گھر کی چار دیواری میں محصور کر دیا اور مسجد نبوی میں نماز کی بندش کے ساتھ اس کنویں کا شیریں پانی بھی بند کر دیا گیا، الله الله!! سیدنا عثمان غنیؓ نے اظہار حق کے لیے کہا تھا کہ ” مجھے اس مسجد میں نماز سے روکا گیا جس کی زمین کی قیمت اور تعمیر و توسیع کے تمام اخراجات میں نے برداشت کیے! اس کنویں کا پانی بند کیا گیا جو میں نے یہودیوں سے خریدا تھا ؛تاکہ انصار و مہاجرین کو پانی کے لیے یہودیوں کا منہ نہ دیکھنا پڑے“ ظالم بے رحم اور سنگدل بلوائیوں نے حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا، وفادار، صالحہ اور عفیفہ سیدہ نائیلہؓ نے سید عثمان کو بچاتے ہوئے ان ستم گروں کی تلوار کا وار اپنے ہاتھ پر روکا اور ہاتھ مبارک کی انگلیاں شہید کروالیں ۔ وفاداری جرأت و شجاعت و قربانی کی یہ چٹان،جذبۂ خلوص اور ایثار کا یہ پیکر، تاریخ اسلام میں اپنا نام سنہرے حروف میں رقم کر گئیں!اللہ تعالی ان شہدائے کرام کے درجات بلند کرے۔ آمین!
اگر چہ اب یہ کنواں ویران ہے؛ لیکن اس کی سنہری یادیں تاریخ اسلام میں ہمیشہ زندہ اور محفوظ رہیں گی ـ ایثار و قربانی کا یہ عظیم الشان جذبہ خلوص و ایمان کی انمٹ یادگار ہے، آج یہ کنواں اجڑ چکا ہے،اب سنا ہے کہ جامع نبوی کی توسیع میں آگیا ہے، اس کنویں کی برکت یہ دیکھی کہ اس کے ارد گرد کافی دور تک کھجوروں کے باغات اور حد نگاہ تک سبزہ ہی سبزہ نظر آتا تھا ـ
*کاروانِ شوق میدانِ خندق میں*
اب ہمیں ٹیکسی والا (جو موحد بھی ہے) زیارت بھی کرواتا ہے اور تاریخی جگہ کا تعارف اور تمام معلومات مہیا کرتا ہے، ہمارا ٹیکسی والا مزدور خوش قسمتی سے مدینہ یونیورسٹی کا طالب علم بھی تھا، اس تاریخی مقام پر لے آیا جہاں کفار کی یلغار سے مدینہ اور اہل مدینہ کو محفوظ رکھنے کے لیے حضرت سلمان فارسی کی تجویز پر ایک بہت بڑی اور گہری خندق کھودی گئی تھی اور خندق کی کھدائی میں تاجدار نبوت خود بھی تیشہ کناں رہے۔
اسی خندق کی کھدائی میں امیر لشکر صلی اللہ علیہ وسلم نے بھوک کی شدت کو کم کرنے کے لیے شکم مبارک پر دو پتھر باندھ رکھے تھے،جب ساتھیوں نے بھوک کا رونا رویا تو امیر کارواں اور سپہ سالار اعظمؐ نے اپنا دامن اٹھایا اور یہ نظارہ صبر و شکر یاران لشکر کو دکھایا،انجامِ کار فتح حق کی ہوئی اور اسی فتح کی یاد میں یہاں ”مسجد فتح“ تعمیر ہوئی اور پھر سب اللہ والے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے ۔ اس میدان میں کل پانچ مسجدیں ہیں جو نشیب و فراز میں واقع ہیں، خندق تو اب یہاں نظر نہیں آتی، اس جنگ خندق کے بعد مشرکین مکہ کی کمر فی الحقیقت ٹوٹ گئی، اس کے بعد وہ اکٹھے ہوکر کبھی مسلمانوں کے مقابل نہ آسکے،یہاں ہم نے ”تحیۃ المسجد “ کے دو نفل ہر مسجد میں ادا کیے!
*کاروانِ شوق، مسجد قبلتین میں*
مقام خندق کی زیارت کے بعد ”مسجد قبلتین“ دیکھی، یہ وہی تاریخی اور مقدس مسجد ہے جس میں دوران نماز ˝تحویل قبلہ˝ کا حکم ربانی ہوا تھا، مقدس رسولؐ کا بے قرار ہوکر بار بار عرش کو دیکھنا رب العرش العظیم کو بھا گیا اور اپنے پیارے رسول کی دلی منشا جان کر اللہ رب العزت نے بیت اللہ کو ہی قبلہ قرار دے دیا، نماز کی پہلی دو رکعتیں تو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھی گئیں اور بقیہ دور کعتیں بیت الحرام کی طرف، چونکہ اس مبارک مسجد میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی گئی اس لیے اس مقدس مسجد کو مسجد قبلتین کہتے ہیں، یعنی دو قبلوں والی، یہاں بھی ہم نے مسجد میں داخل ہوتے ہی تحیۃ المسجد کے دو نفل ادا کیے،دونوں محرابوں کے نشان بھی دیکھے،دوگانہ کے بعد دعائیں مانگی گئیں اور پھر اللہ کا فضل طلب کرتے ہوئے ہم باہر آگئےـ
*کاروان شوق مسجد قبا میں*
حضور نبی اکرمؐ نے ہجرت کے بعد اور مدینہ شریف میں ورود مسعود سے پہلے شہر سے دو میل کے فاصلے پر سب سے پہلے مسجد کی بنیاد رکھی، تاریخ اسلام میں اس مسجد کو ”مسجد قبا“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، سبحان اللہ! مقام نبوت کی یہ رفعت و شان کہ ہجرت کے بعد اور عین غریب الوطنی میں اللہ کے برگزیدہ رسول کو جو فکر سب سے پہلے دامن گیر ہوئی وہ خانہ خدا کی تعمیر و بناء ہی تھی۔ اخلاص و نیاز اور زہد
✍🏻... یونس بؔصیر
جؔبل احد کی زیارت کے بعد ٹیکسی سیدھی سیدنا عثمان غنیؓ کے کنویں پر آئی، یہ انتہائی گہرا اور تاریخی کنواں اب آباد نہیں ؛لیکن اس کے قرب و جوار میں اب بھی سبزہ و شادابی کے دلکش مناظر آنے والوں کی نگاہوں کا مرکز بنے رہتے ہیں،یہ وہی کنواں ہے جو کبھی یہودیوں کی ملکیت تھا اور میٹھے پانی کے ذخائر سے لبالب،مسلمانوں کی غربت وافلاس اور تنگ دستی کا یہ حال کہ: پینے کے لیے وافر میٹھا پانی تک میسر نہ تھا،سیدنا عثمان غنیؓ کی دولت ہر آڑے وقت اور کٹھن گھڑی میں ”ملت بیضاء“ کے کام آئی! مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع میں بھی آپ نے حصہ لیا اور پھر تاریخ اسلام میں ایک برا وقت ایسا بھی آیا جب باغیوں اور شر پسندوں نے امام مظلومؓ کو اپنے ہی گھر کی چار دیواری میں محصور کر دیا اور مسجد نبوی میں نماز کی بندش کے ساتھ اس کنویں کا شیریں پانی بھی بند کر دیا گیا، الله الله!! سیدنا عثمان غنیؓ نے اظہار حق کے لیے کہا تھا کہ ” مجھے اس مسجد میں نماز سے روکا گیا جس کی زمین کی قیمت اور تعمیر و توسیع کے تمام اخراجات میں نے برداشت کیے! اس کنویں کا پانی بند کیا گیا جو میں نے یہودیوں سے خریدا تھا ؛تاکہ انصار و مہاجرین کو پانی کے لیے یہودیوں کا منہ نہ دیکھنا پڑے“ ظالم بے رحم اور سنگدل بلوائیوں نے حضرت عثمانؓ کو شہید کر دیا، وفادار، صالحہ اور عفیفہ سیدہ نائیلہؓ نے سید عثمان کو بچاتے ہوئے ان ستم گروں کی تلوار کا وار اپنے ہاتھ پر روکا اور ہاتھ مبارک کی انگلیاں شہید کروالیں ۔ وفاداری جرأت و شجاعت و قربانی کی یہ چٹان،جذبۂ خلوص اور ایثار کا یہ پیکر، تاریخ اسلام میں اپنا نام سنہرے حروف میں رقم کر گئیں!اللہ تعالی ان شہدائے کرام کے درجات بلند کرے۔ آمین!
اگر چہ اب یہ کنواں ویران ہے؛ لیکن اس کی سنہری یادیں تاریخ اسلام میں ہمیشہ زندہ اور محفوظ رہیں گی ـ ایثار و قربانی کا یہ عظیم الشان جذبہ خلوص و ایمان کی انمٹ یادگار ہے، آج یہ کنواں اجڑ چکا ہے،اب سنا ہے کہ جامع نبوی کی توسیع میں آگیا ہے، اس کنویں کی برکت یہ دیکھی کہ اس کے ارد گرد کافی دور تک کھجوروں کے باغات اور حد نگاہ تک سبزہ ہی سبزہ نظر آتا تھا ـ
*کاروانِ شوق میدانِ خندق میں*
اب ہمیں ٹیکسی والا (جو موحد بھی ہے) زیارت بھی کرواتا ہے اور تاریخی جگہ کا تعارف اور تمام معلومات مہیا کرتا ہے، ہمارا ٹیکسی والا مزدور خوش قسمتی سے مدینہ یونیورسٹی کا طالب علم بھی تھا، اس تاریخی مقام پر لے آیا جہاں کفار کی یلغار سے مدینہ اور اہل مدینہ کو محفوظ رکھنے کے لیے حضرت سلمان فارسی کی تجویز پر ایک بہت بڑی اور گہری خندق کھودی گئی تھی اور خندق کی کھدائی میں تاجدار نبوت خود بھی تیشہ کناں رہے۔
اسی خندق کی کھدائی میں امیر لشکر صلی اللہ علیہ وسلم نے بھوک کی شدت کو کم کرنے کے لیے شکم مبارک پر دو پتھر باندھ رکھے تھے،جب ساتھیوں نے بھوک کا رونا رویا تو امیر کارواں اور سپہ سالار اعظمؐ نے اپنا دامن اٹھایا اور یہ نظارہ صبر و شکر یاران لشکر کو دکھایا،انجامِ کار فتح حق کی ہوئی اور اسی فتح کی یاد میں یہاں ”مسجد فتح“ تعمیر ہوئی اور پھر سب اللہ والے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے ۔ اس میدان میں کل پانچ مسجدیں ہیں جو نشیب و فراز میں واقع ہیں، خندق تو اب یہاں نظر نہیں آتی، اس جنگ خندق کے بعد مشرکین مکہ کی کمر فی الحقیقت ٹوٹ گئی، اس کے بعد وہ اکٹھے ہوکر کبھی مسلمانوں کے مقابل نہ آسکے،یہاں ہم نے ”تحیۃ المسجد “ کے دو نفل ہر مسجد میں ادا کیے!
*کاروانِ شوق، مسجد قبلتین میں*
مقام خندق کی زیارت کے بعد ”مسجد قبلتین“ دیکھی، یہ وہی تاریخی اور مقدس مسجد ہے جس میں دوران نماز ˝تحویل قبلہ˝ کا حکم ربانی ہوا تھا، مقدس رسولؐ کا بے قرار ہوکر بار بار عرش کو دیکھنا رب العرش العظیم کو بھا گیا اور اپنے پیارے رسول کی دلی منشا جان کر اللہ رب العزت نے بیت اللہ کو ہی قبلہ قرار دے دیا، نماز کی پہلی دو رکعتیں تو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھی گئیں اور بقیہ دور کعتیں بیت الحرام کی طرف، چونکہ اس مبارک مسجد میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی گئی اس لیے اس مقدس مسجد کو مسجد قبلتین کہتے ہیں، یعنی دو قبلوں والی، یہاں بھی ہم نے مسجد میں داخل ہوتے ہی تحیۃ المسجد کے دو نفل ادا کیے،دونوں محرابوں کے نشان بھی دیکھے،دوگانہ کے بعد دعائیں مانگی گئیں اور پھر اللہ کا فضل طلب کرتے ہوئے ہم باہر آگئےـ
*کاروان شوق مسجد قبا میں*
حضور نبی اکرمؐ نے ہجرت کے بعد اور مدینہ شریف میں ورود مسعود سے پہلے شہر سے دو میل کے فاصلے پر سب سے پہلے مسجد کی بنیاد رکھی، تاریخ اسلام میں اس مسجد کو ”مسجد قبا“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، سبحان اللہ! مقام نبوت کی یہ رفعت و شان کہ ہجرت کے بعد اور عین غریب الوطنی میں اللہ کے برگزیدہ رسول کو جو فکر سب سے پہلے دامن گیر ہوئی وہ خانہ خدا کی تعمیر و بناء ہی تھی۔ اخلاص و نیاز اور زہد
❤2
Mr Sid
*کاروانِ شوق ”میدان احد“ میں* ✍🏻... یونس بصیر مدينة الرسول کے مشہور قبرستان جنت البقیع میں گریہ کناں رقت خیزیوں کے بعد جو آنسو بچ گئے تھے ان کو سمیٹا، ٹیکسی لی اور جبل احد کو سدھارے، مقدس پہاڑ ، خونِ شہیداں سے رنگین میدان اور تاریخ اسلام کی اہم رزم گاہ…
و تقویٰ کی انہی کیفیات کو خدائے عزوجل نے اپنی آخری اور حکمتوں بھری نورانی کتاب میں یوں بیان فرمایا ہے:
{لمَسْجِدٌ أُسِّسَ على التقوٰى من اول يوم}(التوبه : ۱۰۸)
” البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد رکھی گئی ہے تقوی پر اول روز سے۔“
اس بابرکت اور عظیم الشان مسجد میں تقریبا ہر وقت بھیڑ لگی رہتی ہے، فرمان رسولؐ کے مطابق اس مسجد میں دو رکعت نماز نفل کا اجر و ثواب عمرہ کے برابر ہے اور یہ مبارک حدیث آج بھی مسجد میں عین محراب کے اوپر ایک کتبہ پر لکھی ہوئی آویزاں ہے، وحی و تنزیل کے لیے حضرت جبریلؑ کی منزل یہی عظیم مسجد تھی، زندگی بھر سرور رسولاںؐ کا یہ معمول رہا کہ آپ یوم السبت یعنی ہفتہ کے روز دو رکعت نماز نفل پڑھنے کے لیے اس مسجد میں ضرور جایا کرتے تھے، اس مسجد کی زیارت کے لیے بہترین وقت فجر کی نماز کے بعد کا ہے، پیدل بھی آسانی کے ساتھ جایا جاسکتا ہے،کچھ زیادہ دور نہیں اور ہر وقت تیار ٹیکسیاں بھی مل جاتی ہیں جو آنے جانے کا ایک ریال لیتے ہیں۔
یہ دعا پڑھتے ہوئے:( اللَّهُمَّ افْتَحُ لِي أَبْوَابَ رَحمَتِكَ "اے اللہ ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“) ( آمین )
مسجد میں داخل ہوئے اور پھر پور جذب و شوق کے عالم میں دو نفل پڑھے،نفلوں کے بعد بارگاہ لم یزل میں التجائیں بھی کیں،ان مذکورہ بالا مساجد کے علاوہ بھی کئی تاریخی مساجد ہیں مثلاً مسجد غمامه، مسجد سیدنا علی،مسجد سیدنا ابوبکر، مسجد سیدنا عثمان اور مسجد سیدنا عمر (رضوان اللہ علیہم اجمعین)
(صحن حرم، صفحہ: 142، طبع: صُفّہ پبلشر، لاھور)
{لمَسْجِدٌ أُسِّسَ على التقوٰى من اول يوم}(التوبه : ۱۰۸)
” البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد رکھی گئی ہے تقوی پر اول روز سے۔“
اس بابرکت اور عظیم الشان مسجد میں تقریبا ہر وقت بھیڑ لگی رہتی ہے، فرمان رسولؐ کے مطابق اس مسجد میں دو رکعت نماز نفل کا اجر و ثواب عمرہ کے برابر ہے اور یہ مبارک حدیث آج بھی مسجد میں عین محراب کے اوپر ایک کتبہ پر لکھی ہوئی آویزاں ہے، وحی و تنزیل کے لیے حضرت جبریلؑ کی منزل یہی عظیم مسجد تھی، زندگی بھر سرور رسولاںؐ کا یہ معمول رہا کہ آپ یوم السبت یعنی ہفتہ کے روز دو رکعت نماز نفل پڑھنے کے لیے اس مسجد میں ضرور جایا کرتے تھے، اس مسجد کی زیارت کے لیے بہترین وقت فجر کی نماز کے بعد کا ہے، پیدل بھی آسانی کے ساتھ جایا جاسکتا ہے،کچھ زیادہ دور نہیں اور ہر وقت تیار ٹیکسیاں بھی مل جاتی ہیں جو آنے جانے کا ایک ریال لیتے ہیں۔
یہ دعا پڑھتے ہوئے:( اللَّهُمَّ افْتَحُ لِي أَبْوَابَ رَحمَتِكَ "اے اللہ ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔“) ( آمین )
مسجد میں داخل ہوئے اور پھر پور جذب و شوق کے عالم میں دو نفل پڑھے،نفلوں کے بعد بارگاہ لم یزل میں التجائیں بھی کیں،ان مذکورہ بالا مساجد کے علاوہ بھی کئی تاریخی مساجد ہیں مثلاً مسجد غمامه، مسجد سیدنا علی،مسجد سیدنا ابوبکر، مسجد سیدنا عثمان اور مسجد سیدنا عمر (رضوان اللہ علیہم اجمعین)
(صحن حرم، صفحہ: 142، طبع: صُفّہ پبلشر، لاھور)
❤1
*وفیات مورخہ: 7/جون*
1972ء حسین ابراہیم جمال۔
1973ء حشرپوری ، سید محمد کاظم۔
1975ء فقیر محمد ساقی۔
1976ء عبدالجلیل۔ مولانا
1991ء طاہر علاء الدین قادری جیلانی۔ سرپرست تحریک منہاج القرآن
1997ء نصیر الدین ۔ حاجی
2012ء امین الدین شجاع الدین۔ مولانا ، مدیر تعمیر حیات لکھنو
2012ء حسین علی توحیدی۔ مولانا، بانی جامعہ عربیہ اسلامیہ حسینیہ راولپنڈی
2018ء رسول بخش پلیچو۔
2020ء سعید احمد۔ الحاج حافظ
https://telegram.me/ilmokitab
1972ء حسین ابراہیم جمال۔
1973ء حشرپوری ، سید محمد کاظم۔
1975ء فقیر محمد ساقی۔
1976ء عبدالجلیل۔ مولانا
1991ء طاہر علاء الدین قادری جیلانی۔ سرپرست تحریک منہاج القرآن
1997ء نصیر الدین ۔ حاجی
2012ء امین الدین شجاع الدین۔ مولانا ، مدیر تعمیر حیات لکھنو
2012ء حسین علی توحیدی۔ مولانا، بانی جامعہ عربیہ اسلامیہ حسینیہ راولپنڈی
2018ء رسول بخش پلیچو۔
2020ء سعید احمد۔ الحاج حافظ
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Mr Sid
و تقویٰ کی انہی کیفیات کو خدائے عزوجل نے اپنی آخری اور حکمتوں بھری نورانی کتاب میں یوں بیان فرمایا ہے: {لمَسْجِدٌ أُسِّسَ على التقوٰى من اول يوم}(التوبه : ۱۰۸) ” البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد رکھی گئی ہے تقوی پر اول روز سے۔“ اس بابرکت اور عظیم الشان مسجد میں…
*واپسی کا زخم*
✍🏻... یونس بصیر
شہر رسول میں دس دن کا مختصر قیام پل بھر میں گزر گیا، امن کے یہ دن اور سکون کی راتیں،ذکر کی گھڑیاں اور گدا و صدا کی یہ ناقابلِ فراموش ساعتیں پلک جھپکتے ہی تمام ہوئیں،ان کیف آگیں لمحات، روح پرور نظاروں اور ایمان وایقان سے سرشار شب و روز کے بعد واپسی کا آغاز ہوا۔
آج 6 جنوری 75 ء ہے، تہجد و فجر کی نمازوں کے بعد اپنی رہائش گاہ پر آئے ، سامان باندھا اور حرم نبوی کی آخری جھلک ، روضتہ الرسول پر الوداعی درود و سلام اور دو رکعت نماز نفل پڑھنے کے لیے ( کہ حدیث رسول خیر الانام ہے آنے والا جانے سے پہلے یہاں دو رکعتیں ضرور پڑھے) آنکھوں میں غم جدائی کے اٹھتے ہوئے آنسو اور دل حزیں میں حسرتوں کے طوفاں لیے مسجد نبوی میں داخل ہوئے،دورکعت نماز نفل ریاض الجنۃ میں ادا کی اور پھر دیر تک بارگاہ بے نیاز میں مجسمہۂ صورت سوال بنے ، رحم و کرم اور لطف و فضل کی بھیک مانگتے رہے، خیابان ارم کے گوشۂ نور میں بیٹھ کر لطف روحانی سرور جاودانی اور خاص حظ قلبی پایا۔ ہنگامہ ہستی کے اس قطعہ بہشت میں تو دو گھڑی بیٹھ لیا؛نہ جانے عاقبت میں کیا انجام ہو؟ بادل نخواستہ یہاں سے اٹھے کہ جنت کے اس ٹکڑے سے اٹھنے کو کس کا دل چاہے ہے؟
آہستہ آہستہ ادب و احترام اور نہایت خاموشی کے ساتھ مواجہہ شریف میں آئے،یعنی حضور پرنورکے روبرو، سلام پیش کیا،درود و صلوٰۃ کے لیے بارگاہ ذوالجلال میں دامن پھیلایا، آنکھوں سے گداز و محبت اور اخلاص و نیاز کے آنسو رواں ہوئے،دل تڑپا،چشم فقیر بے نوا روئی،تڑپتی ہوئی نگاہوں نے تکرار دید کا عجب سماں باندھا، خیالوں نے محبت رسول اور عشق نبی کی محفل سجائی،جذبات وفور شوق میں مچلے اور پھر فرط عقیدت میں سیلاب بن کر حریم دل کی دیواروں سے ٹکرانے لگے، عقل نے کہا کہ یہ مقام ہوش ہے اور دل چیخا یہ جائے بے خودی ہے۔ قریب تھا کہ عقل و وجدان اور قلب و شعور باہم دست گریباں ہو جاتے کہ ہم چل دیئے ۔ کاش اُس وقت مجھے شکیل بدایونی کی نعتیہ غزل کا یہ مصرع یاد ہوتا تو میں ضرور گنگناتا اور لطف لیتا: ” میری آرزو محمد میری جستجو مدینہ“
سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر بن الخطاب کی پاک قبروں پر بھی الوداعی سلام کہا۔ ان کے لیے بھی مالک ارض و سما سے بخشش و مغفرت اور ان دونوں کے درجات کی بلندی طلب کی۔
بعد میں باب جبریل پر آئے،دورکعت نماز نفل یہاں بھی ادا کی،پھر وہی روش فقیراں اور بندہ پروری کی بات چلی۔ یہاں سے بھی یہ ازلی دریوزہ گر خالی نہیں سیرابی روح و بدن کے بعد ہی اٹھے، رحمتوں کو سمیٹا، نوازشوں سے اپنے جیب و داماں بھر لیے اور برکتوں کے خرمن سجائے ہوئے گنبد خضرا پر پیاسی نگاہوں نے دائمی سیرابیوں کے جام پیے اور بار بار پیے ۔ شراب محبت اور خمار عقیدت کی جھلک آنکھوں میں اتری اور ادھر دل بے قرار سے فریاد بن کر ایک ہوک اٹھی ۔
عاصی کرنالی نے کیا خوبصورت ترجمانی کی ہے:۔
”مدینے سے ہمارا قافلہ چلنے کا وقت آیا“
الٰہی قافلہ چلنے میں کچھ تاخیر ہو جائے! باب مجید سے ہوتے ہوئے محلہ مجیدیہ میں اپنی قیام گاہ پر آئے،قُلی لیا، سامان اٹھوایا اور ہجوم کو چیرتے ہوئے ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف چل دیئے، راستے میں مدینۃ الرسول کے کوچہ و بازار اور ہر ہر درو دیوار کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے چلتے رہے اور دل ہی دل میں یہ دعائیں کرتے ہوئے کہ اے باری تعالیٰ ایک بار پھر اپنے پیارے رسول کے پیارے شہر مدینہ طیبہ میں لائیو ۔ آمین ثم آمین!
تقریبا دس بجے دن ٹیکسی چلی اور ہم آنکھوں میں آنسوؤں کا طوفان لیے داغ جدائی سے آہیں بھرتے ہوئے اور درود و سلام پڑھتے ہوئے مدینۃ الرسول کو خیر باد کہ گئے۔ ٹھیک تین بجے بعد دوپہر ہماری ٹیکسی حاجی کیمپ جدہ پہنچ گئی، پانچ گھنٹوں میں یہ طویل مسافت طے ہوئی،جدہ میں پھر وہی انسانوں کا سمندر تلاطم بلا ہے، حج سے پہلے اگر آنے والوں کا ہجوم تھا تو اب واپس جانے والوں کا اژدہام ہے اور نہ جانے یہ سلسلہ نقل و حرکت ابھی کب تک چلتا رہے، حاجی کیمپ (مدینہ الحجاج ) میں قدم رکھتے ہی سامان سڑک کے کنارے رکھا، ام صفوان کو پاس کھڑا کیا اور خود پاسپورٹ اور ٹکٹ لیے وکیل حجاج کے دفتر گیا، خروج کی مہریں لگوائیں۔ دخول و خروج کی جدید کارروائیوں اور نئی زحمتوں کو وہی جانتے ہیں جو ان راہوں سے گزرے ہیں، خروج کی مہروں کے بعد واپس آیا ، سامان اٹھایا اور ایک برآمدے میں ڈیرہ جمادیا۔
ام عمران نے سامان سلیقے سے رکھا، قرینے سے بیٹھے اور پھر دم لینے کے بعد کھانے کی فکر
ہوئی، کھانا تیار کیا گیا کہ ان خانہ بدوشوں اور جہاں گردوں کے پاس ہر وقت اور ہر حال میں معقول راشن ہوتا، زاد راہ کے بغیر دشت نوردی ممکن ہی نہیں، کھانا کھایا اور اللہ رب العالمین کا شکر ادا کیا۔ اب میں نے پاسپورٹ اور ہوائی ٹکٹ لیے اور سعودی ایئر لائنز کے ہنگامی دفتر گیا جو صرف حجاج کی سہولتوں کے لیے حاجی کیمپ کے بالکل قریب ہی کھولا گیا تھا۔ معمول ہے کہ جدہ سے پرواز کرنے والے مسافر اپنے ہوائی
✍🏻... یونس بصیر
شہر رسول میں دس دن کا مختصر قیام پل بھر میں گزر گیا، امن کے یہ دن اور سکون کی راتیں،ذکر کی گھڑیاں اور گدا و صدا کی یہ ناقابلِ فراموش ساعتیں پلک جھپکتے ہی تمام ہوئیں،ان کیف آگیں لمحات، روح پرور نظاروں اور ایمان وایقان سے سرشار شب و روز کے بعد واپسی کا آغاز ہوا۔
آج 6 جنوری 75 ء ہے، تہجد و فجر کی نمازوں کے بعد اپنی رہائش گاہ پر آئے ، سامان باندھا اور حرم نبوی کی آخری جھلک ، روضتہ الرسول پر الوداعی درود و سلام اور دو رکعت نماز نفل پڑھنے کے لیے ( کہ حدیث رسول خیر الانام ہے آنے والا جانے سے پہلے یہاں دو رکعتیں ضرور پڑھے) آنکھوں میں غم جدائی کے اٹھتے ہوئے آنسو اور دل حزیں میں حسرتوں کے طوفاں لیے مسجد نبوی میں داخل ہوئے،دورکعت نماز نفل ریاض الجنۃ میں ادا کی اور پھر دیر تک بارگاہ بے نیاز میں مجسمہۂ صورت سوال بنے ، رحم و کرم اور لطف و فضل کی بھیک مانگتے رہے، خیابان ارم کے گوشۂ نور میں بیٹھ کر لطف روحانی سرور جاودانی اور خاص حظ قلبی پایا۔ ہنگامہ ہستی کے اس قطعہ بہشت میں تو دو گھڑی بیٹھ لیا؛نہ جانے عاقبت میں کیا انجام ہو؟ بادل نخواستہ یہاں سے اٹھے کہ جنت کے اس ٹکڑے سے اٹھنے کو کس کا دل چاہے ہے؟
آہستہ آہستہ ادب و احترام اور نہایت خاموشی کے ساتھ مواجہہ شریف میں آئے،یعنی حضور پرنورکے روبرو، سلام پیش کیا،درود و صلوٰۃ کے لیے بارگاہ ذوالجلال میں دامن پھیلایا، آنکھوں سے گداز و محبت اور اخلاص و نیاز کے آنسو رواں ہوئے،دل تڑپا،چشم فقیر بے نوا روئی،تڑپتی ہوئی نگاہوں نے تکرار دید کا عجب سماں باندھا، خیالوں نے محبت رسول اور عشق نبی کی محفل سجائی،جذبات وفور شوق میں مچلے اور پھر فرط عقیدت میں سیلاب بن کر حریم دل کی دیواروں سے ٹکرانے لگے، عقل نے کہا کہ یہ مقام ہوش ہے اور دل چیخا یہ جائے بے خودی ہے۔ قریب تھا کہ عقل و وجدان اور قلب و شعور باہم دست گریباں ہو جاتے کہ ہم چل دیئے ۔ کاش اُس وقت مجھے شکیل بدایونی کی نعتیہ غزل کا یہ مصرع یاد ہوتا تو میں ضرور گنگناتا اور لطف لیتا: ” میری آرزو محمد میری جستجو مدینہ“
سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر بن الخطاب کی پاک قبروں پر بھی الوداعی سلام کہا۔ ان کے لیے بھی مالک ارض و سما سے بخشش و مغفرت اور ان دونوں کے درجات کی بلندی طلب کی۔
بعد میں باب جبریل پر آئے،دورکعت نماز نفل یہاں بھی ادا کی،پھر وہی روش فقیراں اور بندہ پروری کی بات چلی۔ یہاں سے بھی یہ ازلی دریوزہ گر خالی نہیں سیرابی روح و بدن کے بعد ہی اٹھے، رحمتوں کو سمیٹا، نوازشوں سے اپنے جیب و داماں بھر لیے اور برکتوں کے خرمن سجائے ہوئے گنبد خضرا پر پیاسی نگاہوں نے دائمی سیرابیوں کے جام پیے اور بار بار پیے ۔ شراب محبت اور خمار عقیدت کی جھلک آنکھوں میں اتری اور ادھر دل بے قرار سے فریاد بن کر ایک ہوک اٹھی ۔
عاصی کرنالی نے کیا خوبصورت ترجمانی کی ہے:۔
”مدینے سے ہمارا قافلہ چلنے کا وقت آیا“
الٰہی قافلہ چلنے میں کچھ تاخیر ہو جائے! باب مجید سے ہوتے ہوئے محلہ مجیدیہ میں اپنی قیام گاہ پر آئے،قُلی لیا، سامان اٹھوایا اور ہجوم کو چیرتے ہوئے ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف چل دیئے، راستے میں مدینۃ الرسول کے کوچہ و بازار اور ہر ہر درو دیوار کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے چلتے رہے اور دل ہی دل میں یہ دعائیں کرتے ہوئے کہ اے باری تعالیٰ ایک بار پھر اپنے پیارے رسول کے پیارے شہر مدینہ طیبہ میں لائیو ۔ آمین ثم آمین!
تقریبا دس بجے دن ٹیکسی چلی اور ہم آنکھوں میں آنسوؤں کا طوفان لیے داغ جدائی سے آہیں بھرتے ہوئے اور درود و سلام پڑھتے ہوئے مدینۃ الرسول کو خیر باد کہ گئے۔ ٹھیک تین بجے بعد دوپہر ہماری ٹیکسی حاجی کیمپ جدہ پہنچ گئی، پانچ گھنٹوں میں یہ طویل مسافت طے ہوئی،جدہ میں پھر وہی انسانوں کا سمندر تلاطم بلا ہے، حج سے پہلے اگر آنے والوں کا ہجوم تھا تو اب واپس جانے والوں کا اژدہام ہے اور نہ جانے یہ سلسلہ نقل و حرکت ابھی کب تک چلتا رہے، حاجی کیمپ (مدینہ الحجاج ) میں قدم رکھتے ہی سامان سڑک کے کنارے رکھا، ام صفوان کو پاس کھڑا کیا اور خود پاسپورٹ اور ٹکٹ لیے وکیل حجاج کے دفتر گیا، خروج کی مہریں لگوائیں۔ دخول و خروج کی جدید کارروائیوں اور نئی زحمتوں کو وہی جانتے ہیں جو ان راہوں سے گزرے ہیں، خروج کی مہروں کے بعد واپس آیا ، سامان اٹھایا اور ایک برآمدے میں ڈیرہ جمادیا۔
ام عمران نے سامان سلیقے سے رکھا، قرینے سے بیٹھے اور پھر دم لینے کے بعد کھانے کی فکر
ہوئی، کھانا تیار کیا گیا کہ ان خانہ بدوشوں اور جہاں گردوں کے پاس ہر وقت اور ہر حال میں معقول راشن ہوتا، زاد راہ کے بغیر دشت نوردی ممکن ہی نہیں، کھانا کھایا اور اللہ رب العالمین کا شکر ادا کیا۔ اب میں نے پاسپورٹ اور ہوائی ٹکٹ لیے اور سعودی ایئر لائنز کے ہنگامی دفتر گیا جو صرف حجاج کی سہولتوں کے لیے حاجی کیمپ کے بالکل قریب ہی کھولا گیا تھا۔ معمول ہے کہ جدہ سے پرواز کرنے والے مسافر اپنے ہوائی
❤2
Mr Sid
و تقویٰ کی انہی کیفیات کو خدائے عزوجل نے اپنی آخری اور حکمتوں بھری نورانی کتاب میں یوں بیان فرمایا ہے: {لمَسْجِدٌ أُسِّسَ على التقوٰى من اول يوم}(التوبه : ۱۰۸) ” البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد رکھی گئی ہے تقوی پر اول روز سے۔“ اس بابرکت اور عظیم الشان مسجد میں…
دفتر میں اپنی روانگی سے چوبیس گھنٹے پہلے دفتر متعلقہ میں پاسپورٹ جمع کروادیں اور یہ طریق و ضابطہ عام حالات یعنی موسم حج کے علاوہ بھی جاری رہتا ہے۔
کھڑکی کے قریب پہنچتے ہی ایک اہلکار نے دیکھتے ہی اگلی صبح آنے کو کہا، سو واپس آگیا۔ اتنے میں ام عمران نے بڑی خوش اسلوبی اور چابکدستی سے ایک بینچ پر قبضہ کرلیا، پھر تو ان تھکے ہاروں کے وارے نیارے ہوگئے۔ تمام نمازیں اپنے ٹھیک وقت پر ادا کی گئیں ۔ شام کو چائے کا دور چلا۔ حج کے موسم میں جہاں آگ جلے اور چولہا گرم ہو تو بوڑھی خواتین خود بخود چلی آتی ہیں۔ پھر ان کو چائے کی پیالی پلا دو تو لاکھوں دعائیں دیں گی اور کروڑوں بلائیں لیں گیں، خواہ وہ کسی ملک کی بھی ہوں، حاجی کیمپ کے وسیع میدان میں ہم مصریوں کے جھرمٹ میں رہے۔ ہر کوئی سراپا خلوص اور مجسمہ ایثار واخوت۔
دوسرے دن صبح آٹھ بجے حسب ہدایت ہوائی کمپنی کے دفتر پہنچا۔ پاسپورٹ جمع کروادیئے گئے اور ساتھ ہی ٹکٹ بھی،کہا گیا کہ نشستوں کی تصدیق کے لیے شام پانچ بجے آؤ، دل ہر وقت فکر و غم میں ڈوبا ہوا تھا کہ یا اللہ خیر ۔ طرابلس لیبیا میں ہمارے دخول کی تاریخ 8 جنوری 75 ء ہے،اگر سیٹ کی تصدیق نہ ہوسکی تو پھر کیا ہوگا ؟ ذہن میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہوتے رہے اور ساتھ دعائیں بھی تکتی رہیں۔ جو کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ اس رند خراباتی کا یہ تجربہ بھی ہے اور دعوی بھی،کہ بارگاہ بے نیاز میں ہر دعا قبول ہوتی ہے؛ لہذا یہ دعا بھی قبول ہوئی اور پانچ بجے شام جاکر کھڑکی سے ٹکٹ اور پاسپورٹ واپس لیے جو کہ اب الحمد للہ مصدقہ تھے۔ اللہ بزرگ و برتر کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ سب امور اپنے اپنے مناسب وقت پر انجام پاگئے۔
آج کی رات جدہ حاجی کیمپ میں ہماری آخری رات ہے اور ان شاء اللہ العزیز صبح آٹھ بجے 8 جنوری 75ء کو ہم عازم سفر ہوں گے، انہی حسین خیالوں میں کھوکر چند ساعتوں کے لیے سو گئے اور پھر تین بجے رات اٹھ بیٹھے۔ تہجد کی نماز پڑھی۔ پھر چائے نوش جان کی ، سامان باندھا، ٹیکسی پکڑی اور ساڑھے چار بجے ہم قدیمی مطار یعنی پرانے ایئر پورٹ پر آئے کہ ہمارے جہاز کو یہاں سے پرواز کرنا تھی ۔ سامان قلی نے اٹھایا ، وزن کرلیا اور کمپنی والوں کے سپرد کیا اور ہم صوفے پر بیٹھ گئے۔ فجر کی نماز یہیں مطار میں پڑھی، ہم سے پہلے ایک پرواز کراچی کو جانا تھی ۔ اس میں جانے والے لاہور کے جواں سال ، شعلہ بیاں خطیب اور مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نامور عالم دین علامہ احسان الہی ظہیر اور روزنامہ مشرق کے چیف ایڈیٹر بھی ان کے ساتھ ہی ملے۔ یہ دونوں صاحبان علم و فضل سعودی گورنمنٹ کی دعوت پر حج کرنے آئے تھے۔ ان کو لاہور کی طرف مائل بہ پرواز دیکھ کر دل حزیں ایک بار پھر مضطرب ہوگیا،
اب موسم گل یاد نہ گلشن کی فضا یاد
اس طرح قفس میں رہے کچھ بھی نہ رہا یاد
اور بے اختیار وطن کی محبت جاگ پڑی،عزیز واقارب کی یاد بھڑک اٹھی اور حسرتیں زبان پر آکر پکار اٹھیں کہ کاش ہم بھی حج کے بعد اپنے وطن جاتے اور والدین، بہن بھائی اور دوست احباب ہم پر محبت و خلوص کے پھول نچھاور کرتے اور پھر پوشیدہ محبت کا اظہار و انکشاف، آنکھوں میں رواں ہو کر یہ آنسو “ اور ”وہ آنسوؤ“ کر دیتے ۔ دیکھو کسی دل جلے مگر رقیق القلب شاعر نے کیا خوب کہا اور سچ کہا:
ٹھہرے گا دل تھمیں گے اشک، آه! مگر ابھی نہیں
مسافت کی تھکن دور ہوتی اور روح کی خلش کافور ہو جاتی لیکن پیٹ کی مجبوریوں اور معاش کی مشکلات نے وہ مارا کہ ہائے ہائے! صبح آٹھ بجے جدہ سے سوار ہوئے اور بعد دو پہر تین بجے طرابلس ایئر پورٹ پر اترے، مقامی عرب حاجنوں نے منزل پر پہنچنے کی خوشی میں نیز حج کی سعادتوں سے بہرہ مند ہونے کی مسرت میں روایتی چیخ ماری اور پھر اپنا یہ عالم! کہ واہ حسرتا!
ہمارے استقبال کے لیے کسی بہن بھائی کا قدم نہ اٹھا اور نہ والدین نے بازو پھیلائے اور نہ کوئی بغل گیر ہوا! ہمارا مبارک سفر کہنے کو تو کٹ گیا لیکن منزل ابھی کہاں؟ شام کے چھ بجے گھر پہنچے، دروازہ کھولا ، اندر آئے، پھر وہی غریب اور وہی شام غریباں، وہی کُنج قفس اور وہی جان لیوا انتہائی تنہائیاں، مایوسیوں کا مسکن ، غربتوں کا مدفن ، سفر کی ذہنی تھکان سے برا حال ، سر درد اپنی انتہائی شدتوں پر ، درد و کرب کی انہی کیفیات میں وضو کیا، پھر بارگاہ قدوس میں شکرانے کے نفل پڑھے اور حمد و شکر کے بعد میں نے کمرہ صاف کیا اور ام صفوان نے چائے تیار کی، تھوڑی دیر کے بعد کھانا کھایا آہ!
پھر وہی لیل و نہار ، وہی فکر فردا اور غم امروز،گویا روحانی دنیا سے خروج ہوا اور مادی دنیا میں پھر دخول ہوا۔
یکم اکتوبر 1975ء
بوقت 9 بجے رات
27 رمضان المبارک
(صحن حرم، صفحہ: 145، طبع: صفہ پبلشر،لاھور)
کھڑکی کے قریب پہنچتے ہی ایک اہلکار نے دیکھتے ہی اگلی صبح آنے کو کہا، سو واپس آگیا۔ اتنے میں ام عمران نے بڑی خوش اسلوبی اور چابکدستی سے ایک بینچ پر قبضہ کرلیا، پھر تو ان تھکے ہاروں کے وارے نیارے ہوگئے۔ تمام نمازیں اپنے ٹھیک وقت پر ادا کی گئیں ۔ شام کو چائے کا دور چلا۔ حج کے موسم میں جہاں آگ جلے اور چولہا گرم ہو تو بوڑھی خواتین خود بخود چلی آتی ہیں۔ پھر ان کو چائے کی پیالی پلا دو تو لاکھوں دعائیں دیں گی اور کروڑوں بلائیں لیں گیں، خواہ وہ کسی ملک کی بھی ہوں، حاجی کیمپ کے وسیع میدان میں ہم مصریوں کے جھرمٹ میں رہے۔ ہر کوئی سراپا خلوص اور مجسمہ ایثار واخوت۔
دوسرے دن صبح آٹھ بجے حسب ہدایت ہوائی کمپنی کے دفتر پہنچا۔ پاسپورٹ جمع کروادیئے گئے اور ساتھ ہی ٹکٹ بھی،کہا گیا کہ نشستوں کی تصدیق کے لیے شام پانچ بجے آؤ، دل ہر وقت فکر و غم میں ڈوبا ہوا تھا کہ یا اللہ خیر ۔ طرابلس لیبیا میں ہمارے دخول کی تاریخ 8 جنوری 75 ء ہے،اگر سیٹ کی تصدیق نہ ہوسکی تو پھر کیا ہوگا ؟ ذہن میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہوتے رہے اور ساتھ دعائیں بھی تکتی رہیں۔ جو کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ اس رند خراباتی کا یہ تجربہ بھی ہے اور دعوی بھی،کہ بارگاہ بے نیاز میں ہر دعا قبول ہوتی ہے؛ لہذا یہ دعا بھی قبول ہوئی اور پانچ بجے شام جاکر کھڑکی سے ٹکٹ اور پاسپورٹ واپس لیے جو کہ اب الحمد للہ مصدقہ تھے۔ اللہ بزرگ و برتر کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ سب امور اپنے اپنے مناسب وقت پر انجام پاگئے۔
آج کی رات جدہ حاجی کیمپ میں ہماری آخری رات ہے اور ان شاء اللہ العزیز صبح آٹھ بجے 8 جنوری 75ء کو ہم عازم سفر ہوں گے، انہی حسین خیالوں میں کھوکر چند ساعتوں کے لیے سو گئے اور پھر تین بجے رات اٹھ بیٹھے۔ تہجد کی نماز پڑھی۔ پھر چائے نوش جان کی ، سامان باندھا، ٹیکسی پکڑی اور ساڑھے چار بجے ہم قدیمی مطار یعنی پرانے ایئر پورٹ پر آئے کہ ہمارے جہاز کو یہاں سے پرواز کرنا تھی ۔ سامان قلی نے اٹھایا ، وزن کرلیا اور کمپنی والوں کے سپرد کیا اور ہم صوفے پر بیٹھ گئے۔ فجر کی نماز یہیں مطار میں پڑھی، ہم سے پہلے ایک پرواز کراچی کو جانا تھی ۔ اس میں جانے والے لاہور کے جواں سال ، شعلہ بیاں خطیب اور مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نامور عالم دین علامہ احسان الہی ظہیر اور روزنامہ مشرق کے چیف ایڈیٹر بھی ان کے ساتھ ہی ملے۔ یہ دونوں صاحبان علم و فضل سعودی گورنمنٹ کی دعوت پر حج کرنے آئے تھے۔ ان کو لاہور کی طرف مائل بہ پرواز دیکھ کر دل حزیں ایک بار پھر مضطرب ہوگیا،
اب موسم گل یاد نہ گلشن کی فضا یاد
اس طرح قفس میں رہے کچھ بھی نہ رہا یاد
اور بے اختیار وطن کی محبت جاگ پڑی،عزیز واقارب کی یاد بھڑک اٹھی اور حسرتیں زبان پر آکر پکار اٹھیں کہ کاش ہم بھی حج کے بعد اپنے وطن جاتے اور والدین، بہن بھائی اور دوست احباب ہم پر محبت و خلوص کے پھول نچھاور کرتے اور پھر پوشیدہ محبت کا اظہار و انکشاف، آنکھوں میں رواں ہو کر یہ آنسو “ اور ”وہ آنسوؤ“ کر دیتے ۔ دیکھو کسی دل جلے مگر رقیق القلب شاعر نے کیا خوب کہا اور سچ کہا:
ٹھہرے گا دل تھمیں گے اشک، آه! مگر ابھی نہیں
مسافت کی تھکن دور ہوتی اور روح کی خلش کافور ہو جاتی لیکن پیٹ کی مجبوریوں اور معاش کی مشکلات نے وہ مارا کہ ہائے ہائے! صبح آٹھ بجے جدہ سے سوار ہوئے اور بعد دو پہر تین بجے طرابلس ایئر پورٹ پر اترے، مقامی عرب حاجنوں نے منزل پر پہنچنے کی خوشی میں نیز حج کی سعادتوں سے بہرہ مند ہونے کی مسرت میں روایتی چیخ ماری اور پھر اپنا یہ عالم! کہ واہ حسرتا!
ہمارے استقبال کے لیے کسی بہن بھائی کا قدم نہ اٹھا اور نہ والدین نے بازو پھیلائے اور نہ کوئی بغل گیر ہوا! ہمارا مبارک سفر کہنے کو تو کٹ گیا لیکن منزل ابھی کہاں؟ شام کے چھ بجے گھر پہنچے، دروازہ کھولا ، اندر آئے، پھر وہی غریب اور وہی شام غریباں، وہی کُنج قفس اور وہی جان لیوا انتہائی تنہائیاں، مایوسیوں کا مسکن ، غربتوں کا مدفن ، سفر کی ذہنی تھکان سے برا حال ، سر درد اپنی انتہائی شدتوں پر ، درد و کرب کی انہی کیفیات میں وضو کیا، پھر بارگاہ قدوس میں شکرانے کے نفل پڑھے اور حمد و شکر کے بعد میں نے کمرہ صاف کیا اور ام صفوان نے چائے تیار کی، تھوڑی دیر کے بعد کھانا کھایا آہ!
پھر وہی لیل و نہار ، وہی فکر فردا اور غم امروز،گویا روحانی دنیا سے خروج ہوا اور مادی دنیا میں پھر دخول ہوا۔
یکم اکتوبر 1975ء
بوقت 9 بجے رات
27 رمضان المبارک
(صحن حرم، صفحہ: 145، طبع: صفہ پبلشر،لاھور)
*وفیات مورخہ: 8/جون*
1707ء بیدار بخت۔ مغل شہزادہ
1975ء بدر النساء بیگم قریشی۔ ڈاکٹر ،
1988ء حبیب اللہ خان پراچہ۔ ،
1993ء شاہد اکبر آبادی۔ شاعر
1996ء محمد اسحاق پٹیل ندوی۔
1999ء عبدالحفیظ سلفی۔ ڈاکٹر، سید
1999ء عبدالحفیظ سلفی۔ ڈاکٹر، سید
2000ء شبیر حسین قریشی۔ پروفیسر ،
2000ء کمال الدین۔ الحاج ،
2000ء لطیف اثر۔ ،
2006ء محمد عارف سنبھلی ندوی۔ مولانا، استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
2009ء حبیب تنویر۔ کہانی نگار
2011ء منصورہ احمد۔ ادیبہ، مدیر فنون لاہور
2018ء محمد غزالی خطیبی ندوی۔ مولانا، بھٹکلی عالم وداعی
2019ء عباس کمیلی۔ بانی جعفریہ الائنس پاکستان
2020ء شبیر احمد قاسمی۔ مولانا مفتی
2022ء اسلم آزاد۔
HTTPS://TELEGRAM.ME/ILMOKITAB
1707ء بیدار بخت۔ مغل شہزادہ
1975ء بدر النساء بیگم قریشی۔ ڈاکٹر ،
1988ء حبیب اللہ خان پراچہ۔ ،
1993ء شاہد اکبر آبادی۔ شاعر
1996ء محمد اسحاق پٹیل ندوی۔
1999ء عبدالحفیظ سلفی۔ ڈاکٹر، سید
1999ء عبدالحفیظ سلفی۔ ڈاکٹر، سید
2000ء شبیر حسین قریشی۔ پروفیسر ،
2000ء کمال الدین۔ الحاج ،
2000ء لطیف اثر۔ ،
2006ء محمد عارف سنبھلی ندوی۔ مولانا، استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
2009ء حبیب تنویر۔ کہانی نگار
2011ء منصورہ احمد۔ ادیبہ، مدیر فنون لاہور
2018ء محمد غزالی خطیبی ندوی۔ مولانا، بھٹکلی عالم وداعی
2019ء عباس کمیلی۔ بانی جعفریہ الائنس پاکستان
2020ء شبیر احمد قاسمی۔ مولانا مفتی
2022ء اسلم آزاد۔
HTTPS://TELEGRAM.ME/ILMOKITAB
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
*وفیات مورخہ: 7/جون*
1972ء حسین ابراہیم جمال۔
1973ء حشرپوری ، سید محمد کاظم۔
1975ء فقیر محمد ساقی۔
1976ء عبدالجلیل۔ مولانا
1991ء طاہر علاء الدین قادری جیلانی۔ سرپرست تحریک منہاج القرآن
1997ء نصیر الدین ۔ حاجی
2012ء امین الدین شجاع الدین۔ مولانا ، مدیر تعمیر حیات لکھنو
2012ء حسین علی توحیدی۔ مولانا، بانی جامعہ عربیہ اسلامیہ حسینیہ راولپنڈی
2018ء رسول بخش پلیچو۔
2020ء سعید احمد۔ الحاج حافظ
https;//telegram.me/ilmokitab
1972ء حسین ابراہیم جمال۔
1973ء حشرپوری ، سید محمد کاظم۔
1975ء فقیر محمد ساقی۔
1976ء عبدالجلیل۔ مولانا
1991ء طاہر علاء الدین قادری جیلانی۔ سرپرست تحریک منہاج القرآن
1997ء نصیر الدین ۔ حاجی
2012ء امین الدین شجاع الدین۔ مولانا ، مدیر تعمیر حیات لکھنو
2012ء حسین علی توحیدی۔ مولانا، بانی جامعہ عربیہ اسلامیہ حسینیہ راولپنڈی
2018ء رسول بخش پلیچو۔
2020ء سعید احمد۔ الحاج حافظ
https;//telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
آج مولانا محمد عارف سنبھلی ندوی کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات 8 جون 2006ء کو ہوئی تھی، آپ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے استاد اور فرق ومذاہب کے استاد تھے، آپ علمی دنیا میں خاص طور پر بریلوی فتنہ کا نیا روپ سے بہت مشور ہوئے۔ آپ ایک کامیاب خطیب اور مقرر بھی تھے۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی ایک تقریر پیش خدمت ہے
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=qadiyaniat-aur-eisaiyat, Qadiyaniat Aur Eisaiyat
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=qadiyaniat-aur-eisaiyat, Qadiyaniat Aur Eisaiyat
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
سچی باتیں (23؍دسمبر 1940ء)۔۔۔ اسلام پر دوسرے مذاہب کا اطلاق
تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
جامعہ عثمانیہ کے شعبۂ دینیات کی بزم سالانہ کے صدر نے حال میں اپنے خطبۂ صدارت میں کہا:-
’’آج کل جو یہ کہا جاتاہے کہ اہل یورپ نے جب سے مذہب کو چھوڑدیا ترقی کے منازل طے کرنے لگے۔ غورکرنے سے معلوم ہوگا کی اس سے گویا ایک طرح سے مشرق کو مشورہ دیاجاتاہے کہ ہم بھی یہی سلوک اپنے مذہب سے کریں حالانکہ یہ ایک صریحی مغالطہ ہے۔ اس لئے اہل یورپ اگر مذہب کو نہ چھوڑتے تو وہ اور کیاکرتے۔ ان کے پاس مذہب تھا کب؟ ان کے پاس ایک کتاب تھی جو دراصل کتاب الٰہی نہ تھی بلک صرف کتاب الٰہی کے ہم نام تھی۔ ان کے پاس ایک تعلیم تھی جسے تعلیم الٰہی باور کرایاگیاتھا لیکن وہ الٰہی تعلیم ہی نہ تھی۔ خود ان ہی کی تحقیقات سے معلوم ہوتاہے نہ وہ اصل کتاب خدا کی ہے نہ اُس کی تعلیم وہ ہے جو کسی رسول نے دی ہو۔ وہ مطلق مذہب سے بیزار نہیں بلکہ وہ اس مذہب سے بیزار ہیں جو ان کے آباء واجداد ان کے لئے چھوڑ گئے ہیں‘‘۔
یہ کہہ کے انھوں نے وقت کے ایک بہت بڑے اور چلتے ہوئے مغالطہ کا پردہ چاک کرکے رکھ دیا۔ اور مغالطہ ایسا جو آج بیسیوں قالبوں اور صورتوں میں ہمارے سامنے آرہاہے۔
کہاجاتاہے، اور کس شدومد سے، کہ علماء کا اقتدار ختم کرو، ان کا زور توڑ کررکھ دو۔ جب تک یورپ میں کلیسا کا زور نہ ٹوٹ لیا، اور ہندودل کے ہاں سے برہمنوں کا اقتدار نہ رخصت ہوگیا، ترقی نہ اہل فرنگ کرسکے نہ ہندو۔ بلند بانگ دعویٰ کا اول تو یہی جزو صحیح نہیں، کہ یورپ سے کلیسا، اور ہندوؤں کے ہاں سے برہمن کا اقتدار رخصت ہوچکاہے، یا ان کا زور ٹوٹ چکاہے۔ لیکن بالفرض یہ صحیح ہو بھی، تو مسیحیوں کے کلیسا اور ہندوؤں کے برہمن پر، مسلمانوں کے علماء کو قیاس کرنا ہی کب درست ہے؟ اسلام نے علماء کو مطلق الاختیار بنایا ہی کب ہے؟ اِس میں اُن کے شاہنشاہانہ اقتدارات کو تسلیم ہی کب کیاہے؟ بجز ’’مذہبی پیشوا‘‘ کے لفظی اورمحض لفظی اشتراک کے، عملًا اور معنًا کوئی شے بھی ہمارے ہاں کے فقہاء ، محدثین، مفسرین، متکلمین ، اور دوسروں کے ہاں کے پروہتوں، پنڈتوں، پادریوں کے درمیان مشترک ہی کہاں؟……اور پھر کہاجاتاہے کہ عورتوں کو آزادی دور یورپ نے جب تک عورتوں کو آزاد نہ کیا، قوم ترقی نہ کرسکی۔ گزارش پھر وہی کرنی پڑتی ہے، کہ یورپ نے اگرآزادی دی تو اچھا کیا، اُس نے تو نسل انسانی کی اس نصف آبادی کو واقعتا غلام بناہی رکھاتھا۔ ہمارے یہاں عورت غلام ہے ہی کہاں، جو اُس کی’’آزادی‘‘ کامطالبہ اِس زور وشور سے جاری ہے؟ باقی اگر حدود وقیود کا نام، ضبط وانضباط کانام کسی کی اصطلاح میں غلامی ہے، تو پھر ہر شاگرد جسے مدرسہ کے قاعدوں کی پابندی کرنی ہوتی ہے، غلام ہے اپنے اُستاد کا، ہر بیٹا جسے ادب ملحوظ رکھناہوتاہے، غلام ہے اپنے باپ کا، ہر مریض جس کے لئے دوا، غذا، وغیرہ میں احتیاط اور پابندی ہوتی ہے، غلام ہے طبیب کا!
آخری اور سب سے مہلک مغالطہ اِس سطحیت کا ، جس کا دوسرا نام تجدُّد ہے، یہ ہے کہ عیسائی قوموں نے دنیوی ترقی صرف اُس وقت حاصل کی جب بائبل سے بالکل قطع نظر کرکے اُسے پس پشت ڈال کر اپنے معاشری، معاشی، سیاسی، اخلاقی قوانین وضوابط خود اپنے عقل وتجربہ سے اخذ کرنا شروع کردئیے، اس لئے مسلمان بھی جب تک اپنے قوانین کو خود اپنے تجربہ کی روشنی میں وضع نہ کرنے لگیں گے، ترقی کرہی نہیں سکتے…استدلال میں لفظ ’ترقی‘ کے اندر جو عظیم الشان ضابطہ موجود ہے، اُس سے قطع نظر، قرآن کو انجیل پر قیاس کرنا ہی کب، اور کسی معنیٰ میں بھی صحیح ہے؟ کیا انجیل میں بھی سیاسیات، اخلاقیات، معاشیات کے قوانین ، قرآن کی آدھی، چوتھائی، تفصیل کے ساتھ مدوّن ہیں؟ کیا موجودہ انجیل، جسے مسیحی دنیا انجیل تسلیم کرتی ہے، کسی معنیٰ میں بھی کلام الٰہی ہے؟ لفظًا نہ سہی، معنًا بھی اُسے کون کلام الٰہی مانتاہے؟ کیا مسیحیوں کے ہاں اُس کا وہ مرتبہ بھی ہے جو ہمارے ہاں احادیث قدسیہ کا ہے؟بجز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چند غیر مستند اقوال وحالات کے مجموعہ کے، اورمجموعہ بھی ایسا جو نامعلوم ہاتھوں کا جمع کیاہو، وہ ہے کیا؟ بائبل پر قرآن کو قیاس کرنا، اور ایک کے لئے وہ نتیجے نکالنا جو دوسرے کے لئے نکالے گئے ہیں، اس سے بڑھ کر ظلم، دین پر نہیں، خود عقل پر اور کیا ہوگا؟
Https://telegram.me/ilmokitab
تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
جامعہ عثمانیہ کے شعبۂ دینیات کی بزم سالانہ کے صدر نے حال میں اپنے خطبۂ صدارت میں کہا:-
’’آج کل جو یہ کہا جاتاہے کہ اہل یورپ نے جب سے مذہب کو چھوڑدیا ترقی کے منازل طے کرنے لگے۔ غورکرنے سے معلوم ہوگا کی اس سے گویا ایک طرح سے مشرق کو مشورہ دیاجاتاہے کہ ہم بھی یہی سلوک اپنے مذہب سے کریں حالانکہ یہ ایک صریحی مغالطہ ہے۔ اس لئے اہل یورپ اگر مذہب کو نہ چھوڑتے تو وہ اور کیاکرتے۔ ان کے پاس مذہب تھا کب؟ ان کے پاس ایک کتاب تھی جو دراصل کتاب الٰہی نہ تھی بلک صرف کتاب الٰہی کے ہم نام تھی۔ ان کے پاس ایک تعلیم تھی جسے تعلیم الٰہی باور کرایاگیاتھا لیکن وہ الٰہی تعلیم ہی نہ تھی۔ خود ان ہی کی تحقیقات سے معلوم ہوتاہے نہ وہ اصل کتاب خدا کی ہے نہ اُس کی تعلیم وہ ہے جو کسی رسول نے دی ہو۔ وہ مطلق مذہب سے بیزار نہیں بلکہ وہ اس مذہب سے بیزار ہیں جو ان کے آباء واجداد ان کے لئے چھوڑ گئے ہیں‘‘۔
یہ کہہ کے انھوں نے وقت کے ایک بہت بڑے اور چلتے ہوئے مغالطہ کا پردہ چاک کرکے رکھ دیا۔ اور مغالطہ ایسا جو آج بیسیوں قالبوں اور صورتوں میں ہمارے سامنے آرہاہے۔
کہاجاتاہے، اور کس شدومد سے، کہ علماء کا اقتدار ختم کرو، ان کا زور توڑ کررکھ دو۔ جب تک یورپ میں کلیسا کا زور نہ ٹوٹ لیا، اور ہندودل کے ہاں سے برہمنوں کا اقتدار نہ رخصت ہوگیا، ترقی نہ اہل فرنگ کرسکے نہ ہندو۔ بلند بانگ دعویٰ کا اول تو یہی جزو صحیح نہیں، کہ یورپ سے کلیسا، اور ہندوؤں کے ہاں سے برہمن کا اقتدار رخصت ہوچکاہے، یا ان کا زور ٹوٹ چکاہے۔ لیکن بالفرض یہ صحیح ہو بھی، تو مسیحیوں کے کلیسا اور ہندوؤں کے برہمن پر، مسلمانوں کے علماء کو قیاس کرنا ہی کب درست ہے؟ اسلام نے علماء کو مطلق الاختیار بنایا ہی کب ہے؟ اِس میں اُن کے شاہنشاہانہ اقتدارات کو تسلیم ہی کب کیاہے؟ بجز ’’مذہبی پیشوا‘‘ کے لفظی اورمحض لفظی اشتراک کے، عملًا اور معنًا کوئی شے بھی ہمارے ہاں کے فقہاء ، محدثین، مفسرین، متکلمین ، اور دوسروں کے ہاں کے پروہتوں، پنڈتوں، پادریوں کے درمیان مشترک ہی کہاں؟……اور پھر کہاجاتاہے کہ عورتوں کو آزادی دور یورپ نے جب تک عورتوں کو آزاد نہ کیا، قوم ترقی نہ کرسکی۔ گزارش پھر وہی کرنی پڑتی ہے، کہ یورپ نے اگرآزادی دی تو اچھا کیا، اُس نے تو نسل انسانی کی اس نصف آبادی کو واقعتا غلام بناہی رکھاتھا۔ ہمارے یہاں عورت غلام ہے ہی کہاں، جو اُس کی’’آزادی‘‘ کامطالبہ اِس زور وشور سے جاری ہے؟ باقی اگر حدود وقیود کا نام، ضبط وانضباط کانام کسی کی اصطلاح میں غلامی ہے، تو پھر ہر شاگرد جسے مدرسہ کے قاعدوں کی پابندی کرنی ہوتی ہے، غلام ہے اپنے اُستاد کا، ہر بیٹا جسے ادب ملحوظ رکھناہوتاہے، غلام ہے اپنے باپ کا، ہر مریض جس کے لئے دوا، غذا، وغیرہ میں احتیاط اور پابندی ہوتی ہے، غلام ہے طبیب کا!
آخری اور سب سے مہلک مغالطہ اِس سطحیت کا ، جس کا دوسرا نام تجدُّد ہے، یہ ہے کہ عیسائی قوموں نے دنیوی ترقی صرف اُس وقت حاصل کی جب بائبل سے بالکل قطع نظر کرکے اُسے پس پشت ڈال کر اپنے معاشری، معاشی، سیاسی، اخلاقی قوانین وضوابط خود اپنے عقل وتجربہ سے اخذ کرنا شروع کردئیے، اس لئے مسلمان بھی جب تک اپنے قوانین کو خود اپنے تجربہ کی روشنی میں وضع نہ کرنے لگیں گے، ترقی کرہی نہیں سکتے…استدلال میں لفظ ’ترقی‘ کے اندر جو عظیم الشان ضابطہ موجود ہے، اُس سے قطع نظر، قرآن کو انجیل پر قیاس کرنا ہی کب، اور کسی معنیٰ میں بھی صحیح ہے؟ کیا انجیل میں بھی سیاسیات، اخلاقیات، معاشیات کے قوانین ، قرآن کی آدھی، چوتھائی، تفصیل کے ساتھ مدوّن ہیں؟ کیا موجودہ انجیل، جسے مسیحی دنیا انجیل تسلیم کرتی ہے، کسی معنیٰ میں بھی کلام الٰہی ہے؟ لفظًا نہ سہی، معنًا بھی اُسے کون کلام الٰہی مانتاہے؟ کیا مسیحیوں کے ہاں اُس کا وہ مرتبہ بھی ہے جو ہمارے ہاں احادیث قدسیہ کا ہے؟بجز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چند غیر مستند اقوال وحالات کے مجموعہ کے، اورمجموعہ بھی ایسا جو نامعلوم ہاتھوں کا جمع کیاہو، وہ ہے کیا؟ بائبل پر قرآن کو قیاس کرنا، اور ایک کے لئے وہ نتیجے نکالنا جو دوسرے کے لئے نکالے گئے ہیں، اس سے بڑھ کر ظلم، دین پر نہیں، خود عقل پر اور کیا ہوگا؟
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤2
*بات سے بات: بشار عواد معروف*
*از: عبد المتین منیری*
بشار عواد معروف بنیادی طور پر تحقیق مخطوطات کے آدمی ہیں، اور اس میدان کے آدمی کی اولین ضرورت قدیم خطوط کو سمجھنا، اور انہیں بغیر غلطیوں کے نقل کرنا ہے، اگرمحقق اس میدان کا ماہر ہے تو پھر دوسرے اوصاف ثانوی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں، ایسا محقق اگر تفسیر، حدیث ، فقہ و تاریخ پر عبور رکھتا ہوں تو سونے پر سہاگہ ہے۔
بشار عواد کو اگر مفسر، محدث اور فقیہ کے پیمانے پر تولیں گے تو پھر وہ اس پیمانے پر پورے نہیں اتریں گے۔انہیں ان کی جگہ پر رکھ کر بات کریں گے، تو ان کے ساتھ انصاف ہوگا، بشار عواد کے تذکرہ میں ہمارے احباب نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں ان کے لئے لازمی اصل وصف پر کوئی تبصرہ نہیں ہے، اوران کی مخطوطہ شناسی پر کسی ماہر فن کی رائے سامنے نہیں آئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بد قسمتی سے یہ مہارت ہمارے یہاں عنقا ہوتی جارہی ہے۔
جہاں تک ہم نے بشار کی تحقیقات کو دیکھا ہے، صحت نص کے اعتبار سے ان کا درجہ بلند ہے، خاص طور پرامام ذھبی کی سیر اعلام النبلاء کی تحقیق جو عصر حاضر کے محققین میں انہیں ممتاز کردیتی ہے۔ بشار کافی عمر رسیدہ ہیں، باوجود اس کے وہ محققین کی ایک ٹیم تیار کرنے میں مصروف ہیں، اور اپنی سرپرستی میں وہ ان کی تربیت کررہے ہیں۔ ہمیں اس کام کی قدر کرنی چاہئے۔
بیسویں صدی میں جب عربی مخطوطات کی تحقیق وتصویب کا کام عروج پر پہنچا تھا تو ان میں سے علامہ احمد محمد شاکر، شیخ محمد ناصر الدین الالبانی، احمد صقر، عبد الفتاح ابو غدہ، محمد زاہد الکوثری، عبد القادر ارناؤط، محمد شعیب الارناؤط ، عبدالمجید السلفی ، وغیرہ کا پس منظر حدیث وفقہ علم دین تھا،عبد السلام ہارون، عبد العزیز میمنی، محموداحمد شاکر، محمود الطناحی، عبد الہادی التازی، عبد الفتاح الحلو، فواد سید لغت وتاریخ یا کوئی دوسرا پس مظر رکھتے تھے، عمالقہ کا یہ دور اب ختم ہوچکا ہے، صحیح یا غلط اب جو بقید حیات ہیں ان میں بشار عواد معروف کی ٹکر کا محقق مخطوطات نظر نہیں آتا۔ ان کی تعلیقات سے لاکھ اختلاف کے باوجود ان کی تحقیق نص، مخطوط شناسی سے بے نیاز نہیں رہا جاسکتا۔ اب رہی ان علماء کی بات جو تفسیر حدیث وفقہ کے تو ماہر ہیں، لیکن عربی زبان اور مخطوطات شناسی ان کا امتیاز نہیں ہے، ان کی تحقیقات کتابوں کو ایسی تحریفات سے بھر سکتی ہیں، جن سے کتابوں کے معانی ومفہوم بدل سکتے ہیں۔ ان سے دار الکتب العلمیہ جیسے اداروں کی تجارت کو عروج مل سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ علمی زوال کا بھی سبب بن جاتا ہے۔
2026-06-10
*از: عبد المتین منیری*
بشار عواد معروف بنیادی طور پر تحقیق مخطوطات کے آدمی ہیں، اور اس میدان کے آدمی کی اولین ضرورت قدیم خطوط کو سمجھنا، اور انہیں بغیر غلطیوں کے نقل کرنا ہے، اگرمحقق اس میدان کا ماہر ہے تو پھر دوسرے اوصاف ثانوی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں، ایسا محقق اگر تفسیر، حدیث ، فقہ و تاریخ پر عبور رکھتا ہوں تو سونے پر سہاگہ ہے۔
بشار عواد کو اگر مفسر، محدث اور فقیہ کے پیمانے پر تولیں گے تو پھر وہ اس پیمانے پر پورے نہیں اتریں گے۔انہیں ان کی جگہ پر رکھ کر بات کریں گے، تو ان کے ساتھ انصاف ہوگا، بشار عواد کے تذکرہ میں ہمارے احباب نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں ان کے لئے لازمی اصل وصف پر کوئی تبصرہ نہیں ہے، اوران کی مخطوطہ شناسی پر کسی ماہر فن کی رائے سامنے نہیں آئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بد قسمتی سے یہ مہارت ہمارے یہاں عنقا ہوتی جارہی ہے۔
جہاں تک ہم نے بشار کی تحقیقات کو دیکھا ہے، صحت نص کے اعتبار سے ان کا درجہ بلند ہے، خاص طور پرامام ذھبی کی سیر اعلام النبلاء کی تحقیق جو عصر حاضر کے محققین میں انہیں ممتاز کردیتی ہے۔ بشار کافی عمر رسیدہ ہیں، باوجود اس کے وہ محققین کی ایک ٹیم تیار کرنے میں مصروف ہیں، اور اپنی سرپرستی میں وہ ان کی تربیت کررہے ہیں۔ ہمیں اس کام کی قدر کرنی چاہئے۔
بیسویں صدی میں جب عربی مخطوطات کی تحقیق وتصویب کا کام عروج پر پہنچا تھا تو ان میں سے علامہ احمد محمد شاکر، شیخ محمد ناصر الدین الالبانی، احمد صقر، عبد الفتاح ابو غدہ، محمد زاہد الکوثری، عبد القادر ارناؤط، محمد شعیب الارناؤط ، عبدالمجید السلفی ، وغیرہ کا پس منظر حدیث وفقہ علم دین تھا،عبد السلام ہارون، عبد العزیز میمنی، محموداحمد شاکر، محمود الطناحی، عبد الہادی التازی، عبد الفتاح الحلو، فواد سید لغت وتاریخ یا کوئی دوسرا پس مظر رکھتے تھے، عمالقہ کا یہ دور اب ختم ہوچکا ہے، صحیح یا غلط اب جو بقید حیات ہیں ان میں بشار عواد معروف کی ٹکر کا محقق مخطوطات نظر نہیں آتا۔ ان کی تعلیقات سے لاکھ اختلاف کے باوجود ان کی تحقیق نص، مخطوط شناسی سے بے نیاز نہیں رہا جاسکتا۔ اب رہی ان علماء کی بات جو تفسیر حدیث وفقہ کے تو ماہر ہیں، لیکن عربی زبان اور مخطوطات شناسی ان کا امتیاز نہیں ہے، ان کی تحقیقات کتابوں کو ایسی تحریفات سے بھر سکتی ہیں، جن سے کتابوں کے معانی ومفہوم بدل سکتے ہیں۔ ان سے دار الکتب العلمیہ جیسے اداروں کی تجارت کو عروج مل سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ علمی زوال کا بھی سبب بن جاتا ہے۔
2026-06-10
❤7
*وفیات مورخہ: 11/جون*
1988ء حبیب احمد صدیقی۔ ،
1990ء قاری ممتاز احمد رحمانی۔ مولانا ،
1991ء فضل محمود۔ ڈاکٹر ،
1994ء سیده حمیرا بی۔
1996ء روشن لکھنوی (سید نثار رضوی)۔ ،
1996ء زبیدہ یزدانی۔
2000ء احمدعلی بدر پوری۔
2000ء راجیش پائلٹ۔ کانگریسی لیڈر
2003ء اظہر ملک۔ ،
2003ء عبدالرزاق خان ایڈووکیٹ۔
2004ء ضمیر نیازی (ابراہیم جان محمد درویش)۔ صحافی ،
2006ء محمد مختار اصلاحی۔ مولانا، حکیم ،
2009ء رشید وارثی۔
2011ء صبا دشتیاری (غلام حسین)۔ پروفیسر ،
2012ء شاکر علی۔ ،
Https://telegram.me/ilmokitab
1988ء حبیب احمد صدیقی۔ ،
1990ء قاری ممتاز احمد رحمانی۔ مولانا ،
1991ء فضل محمود۔ ڈاکٹر ،
1994ء سیده حمیرا بی۔
1996ء روشن لکھنوی (سید نثار رضوی)۔ ،
1996ء زبیدہ یزدانی۔
2000ء احمدعلی بدر پوری۔
2000ء راجیش پائلٹ۔ کانگریسی لیڈر
2003ء اظہر ملک۔ ،
2003ء عبدالرزاق خان ایڈووکیٹ۔
2004ء ضمیر نیازی (ابراہیم جان محمد درویش)۔ صحافی ،
2006ء محمد مختار اصلاحی۔ مولانا، حکیم ،
2009ء رشید وارثی۔
2011ء صبا دشتیاری (غلام حسین)۔ پروفیسر ،
2012ء شاکر علی۔ ،
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
غفلت، ظاہری رونق مگر باطن کا اندھیرا
از: طارق علی عباسی
غفلت کیا ہے؟ غفلت دراصل خود سے غافل ہوکر اپنے مقصدِ حیات کو بھلا ڈالنا ہے، یہ غفلت دل، ضمیر اور اندرونی احساسات کی معطلی کا نام ہے۔ یہ سچ ہے کہ جب اندرونی احساسات کی بیداری ختم ہوجائے تو اپنے وجود کا شعوری احساس بھی فنا ہوجاتا ہے، پھر بے مقصدیت مقصد کی جگہ لے لیتی ہے اور انسان اپنی حقیقی راہ بھلا بیٹھتا ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ غفلت کا مطلب شاید عارضی طور پر غافل بن جانا ہے، لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ غفلت تو اس کیفیت کا نام ہے جو دل کو لاحق ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دل اپنی طاقت، اپنی توانائی، اپنی وضاحت اور اپنی بصیرت کھو دیتا ہے۔ غفلت سے دل زنگ آلود ہوجاتا ہے، پھر ایسا دل دھڑکتا تو ہے، مگر اس کی دھڑکنوں میں وہ توانائی نہیں ہوتی، جو وجدانی کیفیات کو ابھار سکے اور کسی جذبے کے اظہار کا سبب بن سکے۔ غفلت کا مطلب ظاہری اعضاء کی حرکت جاری رہنے کے ساتھ، اندر کا بجھ جانا ہے۔ یعنی دل حرکت تو کرتا ہے، لیکن بغیر شعور کے، زندگی تو گزارتا ہے لیکن بغیر بیداری کے، کام تو کرتا ہے لیکن دیکھتا سمجھتا کچھ نہیں اور سانس تو لیتا ہے لیکن بغیر احساسوں کے!
حقیقت یہ ہے کہ غفلت کا اصل مطلب دل سے اللہ تعالیٰ کی یاد کا غائب ہوجانا اور اس احساس کا ختم ہوجانا ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ آپ کو دیکھ رہی ہے، آپ کے ساتھ ہے اور آپ کی رہنمائی کر رہی ہے۔ قرآن حکیم کے مطابق انسان اپنی شہہ رگ سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہے، اس کے علاوہ حدیثِ جبرئیل اس پر شاہد ہے کہ احسان کا کم درجہ یہ ہے کہ یہ یقین رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے، پورے سلوک و احسان کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ اس احساس کو اپنے دل سے مٹنے نہ دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ بقول صوفی شاعر شاہ تراب علی قلندرؒ:
دم غنیمت ہے، نہ ہو غافل خدا سے ایک دم
زندگی نعمت ہے غفلت میں اسے کھوتا ہے کیا
اسی کو غفلت کہتے ہیں کہ انسان بڑے مقصد کے احساس کو کھو دے اور اس کا دل غیر اہم چیزوں میں مشغول ہوجائے۔ غافل انسان کبھی بھی مطمئن زندگی نہیں گزارتا، وہ اکثر و بیشتر بے چین رہتا ہے، وہ چھوٹی چھوٹی غیر اہم چیزوں کے بدلے بڑے اہداف کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ غفلت دراصل دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا ہے۔ اگرچہ دنیا کی ہر چیز فنا ہونے والی، عارضی اور وقتی ہے، مگر غافل اسی تگ و دو میں لگا رہتا ہے کہ یہاں کی آسائشوں اور لذتوں میں ایک ہی دھن کے ساتھ مگن رہے، جب کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔ یوں وہ دنیا ہی کو اپنی توجہ کا مرکز، اپنے خوف کا منبع اور اپنی پریشانی کا سبب بنا لیتا ہے۔ اسی لیے غفلت کوئی وقتی رویہ نہیں ہے، بلکہ ایک بڑی اضطرابی قلبی حالت ہے۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ دلجمعی اور غفلت اکٹھے ہوں؟ ہرگز نہیں۔ غفلت یہ ہے کہ ظاہری زندگی تو ٹھاٹھ باٹھ سے پوری طرح مزین ہو، لیکن اندرونی حیات بجھ چکی ہو۔ عبادات میں دل کا نہ لگنا اس مرض کی شروعات ہے اور عبادات میں دل کا بالکل ہی نہ لگنا یا عبادات و فرائض کا چھوٹ جانا اس مرض کی پختگی ہے۔ غفلت دل کے دروازوں کو بند کردیتی ہے، پھر جلتے اور روشن چراغ بھی بجھے ہوئے لگتے ہیں، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
اس معاملہ میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ غفلت انسان کو یکدم نیچے نہیں گراتی، بلکہ اسے بند گلی کی طرف ایک چھوٹا سا قدم بڑھانے پر مجبور کرتی ہے اور پھر اس پر باہر نکلنے کے راستے بند کردیتی ہے۔ غفلت انسان کی طاقت کو مٹا دیتی ہے، یعنی دل دیکھنے، تمیز کرنے، چلنے، ثابت قدم رہنے، خشوع اختیار کرنے اور انتخاب کرنے کی صلاحیت کو صحیح معنوں میں کھو دیتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دل کی یہ طاقت کیوں ختم ہوجاتی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ دل کی اصل طاقت تو اس کی بصیرت، اس کا عزم، اس کا ارادہ، اس کی محبت، اس کی استقامت اور خواہشاتِ نفس کے خلاف اس کی مزاحمت ہے۔ چنانچہ جب ذکرِ الہٰی دل سے غائب ہوتا ہے تو شعور چلا جاتا ہے اور جب شعور چلا جاتا ہے تو خواہشِ نفس اس میں داخل ہوجاتی ہے اور جب دل میں خواہشِ نفس داخل ہوجائے تو انسان پر وسعتِ فکری کے سارے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ غفلت اپنے آپ کو خواہشِ نفس اور شہوت کا قیدی بنا لینے کی طرف پہلا قدم ہے۔ بڑا ہی محروم ہے وہ انسان، جو خدائے واحد سے اپنی خواہشوں کی وجہ سے دور ہے، کیا ہم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ ہمارا دل اللہ تعالیٰ کے قریب ہے یا دور؟ کیا ہمارے دلی احساسات بیدار ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ظاہری طور پر تو حرکت میں ہیں، مگر اندرونی طور پر بالکل ہی بجھے ہوئے ہیں؟
https://telegram.me/ilmokitab
از: طارق علی عباسی
غفلت کیا ہے؟ غفلت دراصل خود سے غافل ہوکر اپنے مقصدِ حیات کو بھلا ڈالنا ہے، یہ غفلت دل، ضمیر اور اندرونی احساسات کی معطلی کا نام ہے۔ یہ سچ ہے کہ جب اندرونی احساسات کی بیداری ختم ہوجائے تو اپنے وجود کا شعوری احساس بھی فنا ہوجاتا ہے، پھر بے مقصدیت مقصد کی جگہ لے لیتی ہے اور انسان اپنی حقیقی راہ بھلا بیٹھتا ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ غفلت کا مطلب شاید عارضی طور پر غافل بن جانا ہے، لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ غفلت تو اس کیفیت کا نام ہے جو دل کو لاحق ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دل اپنی طاقت، اپنی توانائی، اپنی وضاحت اور اپنی بصیرت کھو دیتا ہے۔ غفلت سے دل زنگ آلود ہوجاتا ہے، پھر ایسا دل دھڑکتا تو ہے، مگر اس کی دھڑکنوں میں وہ توانائی نہیں ہوتی، جو وجدانی کیفیات کو ابھار سکے اور کسی جذبے کے اظہار کا سبب بن سکے۔ غفلت کا مطلب ظاہری اعضاء کی حرکت جاری رہنے کے ساتھ، اندر کا بجھ جانا ہے۔ یعنی دل حرکت تو کرتا ہے، لیکن بغیر شعور کے، زندگی تو گزارتا ہے لیکن بغیر بیداری کے، کام تو کرتا ہے لیکن دیکھتا سمجھتا کچھ نہیں اور سانس تو لیتا ہے لیکن بغیر احساسوں کے!
حقیقت یہ ہے کہ غفلت کا اصل مطلب دل سے اللہ تعالیٰ کی یاد کا غائب ہوجانا اور اس احساس کا ختم ہوجانا ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ آپ کو دیکھ رہی ہے، آپ کے ساتھ ہے اور آپ کی رہنمائی کر رہی ہے۔ قرآن حکیم کے مطابق انسان اپنی شہہ رگ سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہے، اس کے علاوہ حدیثِ جبرئیل اس پر شاہد ہے کہ احسان کا کم درجہ یہ ہے کہ یہ یقین رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے، پورے سلوک و احسان کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ اس احساس کو اپنے دل سے مٹنے نہ دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ بقول صوفی شاعر شاہ تراب علی قلندرؒ:
دم غنیمت ہے، نہ ہو غافل خدا سے ایک دم
زندگی نعمت ہے غفلت میں اسے کھوتا ہے کیا
اسی کو غفلت کہتے ہیں کہ انسان بڑے مقصد کے احساس کو کھو دے اور اس کا دل غیر اہم چیزوں میں مشغول ہوجائے۔ غافل انسان کبھی بھی مطمئن زندگی نہیں گزارتا، وہ اکثر و بیشتر بے چین رہتا ہے، وہ چھوٹی چھوٹی غیر اہم چیزوں کے بدلے بڑے اہداف کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ غفلت دراصل دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا ہے۔ اگرچہ دنیا کی ہر چیز فنا ہونے والی، عارضی اور وقتی ہے، مگر غافل اسی تگ و دو میں لگا رہتا ہے کہ یہاں کی آسائشوں اور لذتوں میں ایک ہی دھن کے ساتھ مگن رہے، جب کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔ یوں وہ دنیا ہی کو اپنی توجہ کا مرکز، اپنے خوف کا منبع اور اپنی پریشانی کا سبب بنا لیتا ہے۔ اسی لیے غفلت کوئی وقتی رویہ نہیں ہے، بلکہ ایک بڑی اضطرابی قلبی حالت ہے۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ دلجمعی اور غفلت اکٹھے ہوں؟ ہرگز نہیں۔ غفلت یہ ہے کہ ظاہری زندگی تو ٹھاٹھ باٹھ سے پوری طرح مزین ہو، لیکن اندرونی حیات بجھ چکی ہو۔ عبادات میں دل کا نہ لگنا اس مرض کی شروعات ہے اور عبادات میں دل کا بالکل ہی نہ لگنا یا عبادات و فرائض کا چھوٹ جانا اس مرض کی پختگی ہے۔ غفلت دل کے دروازوں کو بند کردیتی ہے، پھر جلتے اور روشن چراغ بھی بجھے ہوئے لگتے ہیں، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
اس معاملہ میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ غفلت انسان کو یکدم نیچے نہیں گراتی، بلکہ اسے بند گلی کی طرف ایک چھوٹا سا قدم بڑھانے پر مجبور کرتی ہے اور پھر اس پر باہر نکلنے کے راستے بند کردیتی ہے۔ غفلت انسان کی طاقت کو مٹا دیتی ہے، یعنی دل دیکھنے، تمیز کرنے، چلنے، ثابت قدم رہنے، خشوع اختیار کرنے اور انتخاب کرنے کی صلاحیت کو صحیح معنوں میں کھو دیتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دل کی یہ طاقت کیوں ختم ہوجاتی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ دل کی اصل طاقت تو اس کی بصیرت، اس کا عزم، اس کا ارادہ، اس کی محبت، اس کی استقامت اور خواہشاتِ نفس کے خلاف اس کی مزاحمت ہے۔ چنانچہ جب ذکرِ الہٰی دل سے غائب ہوتا ہے تو شعور چلا جاتا ہے اور جب شعور چلا جاتا ہے تو خواہشِ نفس اس میں داخل ہوجاتی ہے اور جب دل میں خواہشِ نفس داخل ہوجائے تو انسان پر وسعتِ فکری کے سارے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ غفلت اپنے آپ کو خواہشِ نفس اور شہوت کا قیدی بنا لینے کی طرف پہلا قدم ہے۔ بڑا ہی محروم ہے وہ انسان، جو خدائے واحد سے اپنی خواہشوں کی وجہ سے دور ہے، کیا ہم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ ہمارا دل اللہ تعالیٰ کے قریب ہے یا دور؟ کیا ہمارے دلی احساسات بیدار ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ظاہری طور پر تو حرکت میں ہیں، مگر اندرونی طور پر بالکل ہی بجھے ہوئے ہیں؟
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
آج اردو زبان وادب کے عظیم مجاہد پنڈت آنند نارائن ملا کا یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات مورخہ: ۱۲/ جون ۱۹۹۷ء کو ہوئی تھی، اس مناسبت سے آپ کی آواز میں ریکارڈ شدہ کلام پیش خدمت ہے۔
کلام شاعر بزبان شاعر
علم و جاہ و زور و زر
کلام وآواز: آنند نرائن ملا
لنک
https://telegram.me/ilmokitab
کلام شاعر بزبان شاعر
علم و جاہ و زور و زر
کلام وآواز: آنند نرائن ملا
لنک
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
*وفیات مورخہ: 12/جون*
1903ء حسن علی فیضی۔
1933ء میر ناصر علی دہلوی۔ مدیر صلائے عام ، دہلی ،
1956ء بشیر الدین۔ خان بہادر، مولوی
1969ء محمد اظہر وارثی۔
1977ء شکیل احمد۔ ،
1983ء امین الدین خان۔ نوب لوہارو
1989ء شہزادی نیلوفر فرحت بیگم۔
1991ء وفا ڈبائیوی (محمد حفظ الرحمٰن)۔ ،
1995ء اثر فیض آبادی۔
1996ء افضال احمد خاں شیروانی۔ ،
1997ء آنند نرائن ملا۔ جج، شاعر وادیب ،
1998ء محمد علی رنگون والا۔
1999ء محمد وصی خاں۔ ،
2003ء حسین احمدؒ ( کوٹ دوار)۔ مولانا
2004ء خواجہ غلام صادق۔ ،
2005ء محمودہ سلطانہ۔ ،
2009ء سرفراز احمد نعیمی۔ مولانا
2010ء رشید قیصرانی۔
2020ء گلزار زتشی دہلوی ( پنڈت آنند موہن)۔ شاعر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1903ء حسن علی فیضی۔
1933ء میر ناصر علی دہلوی۔ مدیر صلائے عام ، دہلی ،
1956ء بشیر الدین۔ خان بہادر، مولوی
1969ء محمد اظہر وارثی۔
1977ء شکیل احمد۔ ،
1983ء امین الدین خان۔ نوب لوہارو
1989ء شہزادی نیلوفر فرحت بیگم۔
1991ء وفا ڈبائیوی (محمد حفظ الرحمٰن)۔ ،
1995ء اثر فیض آبادی۔
1996ء افضال احمد خاں شیروانی۔ ،
1997ء آنند نرائن ملا۔ جج، شاعر وادیب ،
1998ء محمد علی رنگون والا۔
1999ء محمد وصی خاں۔ ،
2003ء حسین احمدؒ ( کوٹ دوار)۔ مولانا
2004ء خواجہ غلام صادق۔ ،
2005ء محمودہ سلطانہ۔ ،
2009ء سرفراز احمد نعیمی۔ مولانا
2010ء رشید قیصرانی۔
2020ء گلزار زتشی دہلوی ( پنڈت آنند موہن)۔ شاعر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور کی انتہا پسندی کا ایک تحقیقی جائزہ
. ڈاکٹر محمد سہیل شفیق - June 12, 2026
اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور
کی انتہاپسندی کا ایک تحقیقی جائزہ
مصنف : ڈاکٹر رضا علی عابدی
صفحات : 300 قیمت: درج نہیں
ناشر : افق پبلی کیشنز، کراچی
رابطہ : 03023227850
اسلام کا تصورِ اعتدال زندگی کے ہر پہلو میں توازن، میانہ روی اور انصاف پر مبنی ہے۔ قرآن کریم نے امتِ مسلمہ کو ’’اُمَّۃً وَسَطاً‘‘ (درمیانی امت) قرار دیا ہے، تاکہ وہ افراط و تفریط سے بچ کر اعتدال کی راہ اختیار کرے۔ عبادات ہوں یا معاملات، اخلاق ہوں یا معاشرتی تعلقات… اسلام انسان کو ایسا معتدل رویہ اپنانے کی تعلیم دیتا ہے جو نہ حد سے تجاوز ہو اور نہ کوتاہی۔ یہی اعتدال روحانی بلندی، معاشرتی ہم آہنگی اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔
پیشِ نظر مقالہ ’’اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور کی انتہا پسندی کا ایک تحقیقی جائزہ‘‘ جناب علی رضا عابدی کا پی ایچ۔ ڈی کا تحقیق مقالہ ہے جو انہوں نے ڈاکٹر حافظ محمد ثانی (انچارج ڈین کلیہ معارفِ اسلامیہ، وفاقی اردو یونیورسٹی، کراچی) کی زیرِ نگرانی مکمل کیا ہے۔ فاضل مقالہ نگار نے اس تحقیق میں اسلام کے بنیادی اصول ’’اعتدال‘‘ کو موضوع بنایا ہے اور معاصر دنیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ موضوع عصرِ حاضر کے اہم ترین علمی و فکری مباحث میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اعتدال اسلامی فکر کا بنیادی جوہر ہے اور انتہا پسندی عصرِ حاضر کا سب سے بڑا عالمی بحران۔
مقالہ چار ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں اسلام اور اعتدال کی وضاحت، دوسرے میں موجودہ دور کی انتہا پسندی کا جائزہ، تیسرے میں اسلام کی تعلیماتِ تحمل اور چوتھے میں اصلاحِ معاشرہ کے لیے اعتدال کی راہوں کو بیان کیا گیا ہے۔ مقالہ نگار نے قرآن و سنت کی روشنی میں اعتدال کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے اور اس کے فروغ کے لیے قابلِ عمل تجاویز بھی دی ہیں۔
اگرچہ بعض مباحث غیرضروری طور پر طویل ہیں ، تاہم مجموعی طور پر یہ تحقیق اسلام کے اعتدال پسند مزاج کی توضیح اور انتہا پسندی کے انسداد کے سلسلے میں ایک مفید اور بامقصد کاوش ہے۔
دعا ہے کہ یہ مقالہ موجودہ دور کے فکری اور عملی چیلنجز کو سمجھنے اور اسلام کے اعتدال کے پیغام کو فروغ دینے میں معاون و مفید ثابت ہو۔
. ڈاکٹر محمد سہیل شفیق - June 12, 2026
اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور
کی انتہاپسندی کا ایک تحقیقی جائزہ
مصنف : ڈاکٹر رضا علی عابدی
صفحات : 300 قیمت: درج نہیں
ناشر : افق پبلی کیشنز، کراچی
رابطہ : 03023227850
اسلام کا تصورِ اعتدال زندگی کے ہر پہلو میں توازن، میانہ روی اور انصاف پر مبنی ہے۔ قرآن کریم نے امتِ مسلمہ کو ’’اُمَّۃً وَسَطاً‘‘ (درمیانی امت) قرار دیا ہے، تاکہ وہ افراط و تفریط سے بچ کر اعتدال کی راہ اختیار کرے۔ عبادات ہوں یا معاملات، اخلاق ہوں یا معاشرتی تعلقات… اسلام انسان کو ایسا معتدل رویہ اپنانے کی تعلیم دیتا ہے جو نہ حد سے تجاوز ہو اور نہ کوتاہی۔ یہی اعتدال روحانی بلندی، معاشرتی ہم آہنگی اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔
پیشِ نظر مقالہ ’’اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور کی انتہا پسندی کا ایک تحقیقی جائزہ‘‘ جناب علی رضا عابدی کا پی ایچ۔ ڈی کا تحقیق مقالہ ہے جو انہوں نے ڈاکٹر حافظ محمد ثانی (انچارج ڈین کلیہ معارفِ اسلامیہ، وفاقی اردو یونیورسٹی، کراچی) کی زیرِ نگرانی مکمل کیا ہے۔ فاضل مقالہ نگار نے اس تحقیق میں اسلام کے بنیادی اصول ’’اعتدال‘‘ کو موضوع بنایا ہے اور معاصر دنیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ موضوع عصرِ حاضر کے اہم ترین علمی و فکری مباحث میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اعتدال اسلامی فکر کا بنیادی جوہر ہے اور انتہا پسندی عصرِ حاضر کا سب سے بڑا عالمی بحران۔
مقالہ چار ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں اسلام اور اعتدال کی وضاحت، دوسرے میں موجودہ دور کی انتہا پسندی کا جائزہ، تیسرے میں اسلام کی تعلیماتِ تحمل اور چوتھے میں اصلاحِ معاشرہ کے لیے اعتدال کی راہوں کو بیان کیا گیا ہے۔ مقالہ نگار نے قرآن و سنت کی روشنی میں اعتدال کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے اور اس کے فروغ کے لیے قابلِ عمل تجاویز بھی دی ہیں۔
اگرچہ بعض مباحث غیرضروری طور پر طویل ہیں ، تاہم مجموعی طور پر یہ تحقیق اسلام کے اعتدال پسند مزاج کی توضیح اور انتہا پسندی کے انسداد کے سلسلے میں ایک مفید اور بامقصد کاوش ہے۔
دعا ہے کہ یہ مقالہ موجودہ دور کے فکری اور عملی چیلنجز کو سمجھنے اور اسلام کے اعتدال کے پیغام کو فروغ دینے میں معاون و مفید ثابت ہو۔
❤2
*غلطی ہائے مضامین*
*دنیا کے اکثر حکمرانوں کامرغوب ترین رقص*
*احمد حاطب صدیقی(ابونثر)*
’ننگ‘ کا لفظ ہمارے ہاں فارسی سے آیا تھا۔یہاں آتے ہی ’ننگا‘ ہوگیا۔ مگر لفظِ ننگ بھی اُردو میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی ہیں ’شرم، لحاظ، غیرت، حیا،خِفّت، رُسوائی، عیب، ذلت، سُبکی، بدنامی، فضیحتی اور عار‘۔نواب مصطفی خان شیفتہؔ کایہ شعر اُن لوگوں کی شان میں اکثر پڑھا جاتا ہے، جن کو شہرت حاصل کرنے کی دُھن میں شرم، لحاظ، رسوائی، ذلت، سُبکی یا خِفّت کااحساس چھو کر بھی نہیں گزرا ہوتا۔یہ بڑے ڈھیٹ لوگ ہوتے ہیں۔شعر سن کر بھی مُسکراتے رہتے ہیں۔جی چاہے توآپ بھی یہ شعر پڑھ کراُن پر مُسکرا لیجے:
ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا؟
نام کے ساتھ ’ننگ‘ لگا کر ’ننگ و نام‘ کہا جائے تو اس کا مطلب عزت و حرمت اور عفت و عصمت لیا جائے گا۔اسی مفہوم کو ’ننگ و ناموس‘ کی ترکیب سے بھی ادا کیا جاتا ہے۔غالبؔ نے عشق کے چکر میں پڑ کر اپنا گھر برباد کر لیا،بے عزت ہوئے اور پچھتاتے پھرے کہ
لو وہ بھی کہتے ہیں کہ ”یہ بے ننگ و نام ہے“
یہ جانتا اگر، تو لُٹاتا نہ گھر کو میں
گھر کے لوگوں کی ذلت و رُسوائی کا سبب بن جانے والے شخص کو ’ننگِ خاندان‘ قرار دیا جاتا ہے۔ مراد ہے خاندان کی عزت و ناموس کو بٹّا لگانے والا۔ بٹّا لگانے والے تو ملک و ملت کی عزت و ناموس کو بھی بٹّا لگا دیتے ہیں۔علامہ اقبالؔ نے ”جاوید نامہ“ میں ارواحِ رذیلہ کا ذکر کرتے ہوئے شدید دُکھ کا اظہار کیا ہے کہ صرف ’دو تَن‘ (یعنی دو افراد) کے ذاتی مفادات کی تکمیل میں پوری قوم کی رُوح کچلی گئی:
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
دین و وطن اور آدمیت کی بدنامی بیان کرنے کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ’ننگ‘ اُردو میں عریانی، بے لباسی اور مفلسی کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔بالکل برہنہ شخص کو ’ننگ دھڑنگ‘ کہہ دیا جاتا ہے، مجازاً بے شرم اور بے حیاکو کہتے ہیں۔ ’ننگ دھڑنگ‘ ایسے مفلس کو بھی کہا جاتا ہے جس کے پاس پہننے کو لنگوٹی تک نہ ہو۔مثلاً:”کاروبار میں نقصان کے بعدنتھو تو بالکل ننگ دھڑنگ ہوگیا ہے“۔
’لنگوٹی‘ کے ذکر پر یاد آیا کہ مولانا ظفر علی خان نے اقبالؔ کے محولہ بالا شعر کی ایک تضمینِ معکوس (Parody) کی ہے۔برعظیم کے دو مشہور لیڈر، موہن داس کرم چند گاندھی اور اچاریہ ونوبا بھاوے اپنی سادگی کا اظہار کرنے کو مجمعِ عام میں بھی ننگ دھڑنگ پھرا کرتے تھے، فقط ایک لنگوٹی سے سترپوشی کیے ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ گاندھی جی کو ستمبر1921ء میں مدراس کے دورے کے موقعے پر احساس ہوا کہ ملک کے کروڑوں غریب عوام کو تن ڈھانپنے کے لیے پورے کپڑے بھی میسر نہیں ہیں۔ یہ احساس ہوتے ہی اُنھوں نے غربا سے اپنا فاصلہ گھٹانے کا فی الفور فیصلہ کیا اور ملک کے کم لباسوں سے یکجہتی کا اظہارکرنے کو اپنے تن کے کپڑے بھی اُتار کر کم کر دیے۔ اچاریہ ونوبا بھاوے نے بھی گاندھی جی کی تقلید کی۔ اِس پر مولانا ظفر علی خان نے برعظیم کے اِن دونوں عظیم لیڈروں کو اپنے اس شعر سے خراجِ تضمین پیش کیا:
گاندھی از گجرات، بھاوے از دکن
ننگے پاؤں، ننگے سر، ننگے بدن
اقبالؔ کے شعر میں جن دو ”لیڈروں“ کا نام آیا ہے، اُنھوں نے تو برعظیم میں انگریزوں کی آمد کے موقعے پر ’ننگئی‘ دکھائی تھی، جب کہ مولانا ظفر علی خان کے شعر میں جگہ پانے والے دونوں لیڈروں نے وہ زمانہ پایا جب انگریز برعظیم سے روانہ ہونے والے تھے۔
’ننگا‘ کا استعمال ’مفلس‘ کے معنوں میں اُس ”گزارشِ مصنف بحضورِ شاہ“ میں بھی ملتا ہے، جو چچا غالبؔ نے اپنی تنخواہ کی ادائی سالانہ کی جگہ ماہانہ کروانے کو بطور منظوم درخواست دربارِ شاہی میں کی تھی۔عُذر اور عرض داشت دونوں ملاحظہ فرمائیے:
آپ کا بندہ اور پھروں ننگا؟
آپ کا نوکر اور کھاؤں اُدھار؟
میری تنخواہ کیجیے ماہ بہ ماہ
تا، نہ ہو مجھ کو زندگی دُشوار
زندگی خواتین کی زیادہ دُشوار ہوتی ہے۔ اُنھیں زرتار لباس بھی درکار ہوتے ہیں اور گہنا پاتا یعنی زیور بھی۔کسی خاتون کے پاس زیور ہو نہ زرتار لباس، یعنی وہ مفلس و قلاش اور تہی دست ہو، تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے کہ ”ننگی کیا نہائے گی، کیا نچوڑے گی“۔ اس ضرب المثل کو مرد بھی استعمال کر سکتے ہیں، مگرمرد ضرب المثل کے الفاظ بدلنے کی حماقت نہ کریں۔شادؔ عظیم آبادی نے اپنی مفلسی کا اظہار یوں کیا تھا:
کاٹو تو لہو نہیں بدن میں
کیا ننگی نہائے، کیا نچوڑے
جب کہ انشاء اللہ خان انشاؔ نے دنیا ہی کو بے لباس بمعنی مفلس و قلاش قرار دے ڈالا تھا:
کوئی دنیا سے کیا بھلا مانگے
وہ تو بے چاری آپ ننگی ہے
*دنیا کے اکثر حکمرانوں کامرغوب ترین رقص*
*احمد حاطب صدیقی(ابونثر)*
’ننگ‘ کا لفظ ہمارے ہاں فارسی سے آیا تھا۔یہاں آتے ہی ’ننگا‘ ہوگیا۔ مگر لفظِ ننگ بھی اُردو میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی ہیں ’شرم، لحاظ، غیرت، حیا،خِفّت، رُسوائی، عیب، ذلت، سُبکی، بدنامی، فضیحتی اور عار‘۔نواب مصطفی خان شیفتہؔ کایہ شعر اُن لوگوں کی شان میں اکثر پڑھا جاتا ہے، جن کو شہرت حاصل کرنے کی دُھن میں شرم، لحاظ، رسوائی، ذلت، سُبکی یا خِفّت کااحساس چھو کر بھی نہیں گزرا ہوتا۔یہ بڑے ڈھیٹ لوگ ہوتے ہیں۔شعر سن کر بھی مُسکراتے رہتے ہیں۔جی چاہے توآپ بھی یہ شعر پڑھ کراُن پر مُسکرا لیجے:
ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا؟
نام کے ساتھ ’ننگ‘ لگا کر ’ننگ و نام‘ کہا جائے تو اس کا مطلب عزت و حرمت اور عفت و عصمت لیا جائے گا۔اسی مفہوم کو ’ننگ و ناموس‘ کی ترکیب سے بھی ادا کیا جاتا ہے۔غالبؔ نے عشق کے چکر میں پڑ کر اپنا گھر برباد کر لیا،بے عزت ہوئے اور پچھتاتے پھرے کہ
لو وہ بھی کہتے ہیں کہ ”یہ بے ننگ و نام ہے“
یہ جانتا اگر، تو لُٹاتا نہ گھر کو میں
گھر کے لوگوں کی ذلت و رُسوائی کا سبب بن جانے والے شخص کو ’ننگِ خاندان‘ قرار دیا جاتا ہے۔ مراد ہے خاندان کی عزت و ناموس کو بٹّا لگانے والا۔ بٹّا لگانے والے تو ملک و ملت کی عزت و ناموس کو بھی بٹّا لگا دیتے ہیں۔علامہ اقبالؔ نے ”جاوید نامہ“ میں ارواحِ رذیلہ کا ذکر کرتے ہوئے شدید دُکھ کا اظہار کیا ہے کہ صرف ’دو تَن‘ (یعنی دو افراد) کے ذاتی مفادات کی تکمیل میں پوری قوم کی رُوح کچلی گئی:
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
دین و وطن اور آدمیت کی بدنامی بیان کرنے کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ’ننگ‘ اُردو میں عریانی، بے لباسی اور مفلسی کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔بالکل برہنہ شخص کو ’ننگ دھڑنگ‘ کہہ دیا جاتا ہے، مجازاً بے شرم اور بے حیاکو کہتے ہیں۔ ’ننگ دھڑنگ‘ ایسے مفلس کو بھی کہا جاتا ہے جس کے پاس پہننے کو لنگوٹی تک نہ ہو۔مثلاً:”کاروبار میں نقصان کے بعدنتھو تو بالکل ننگ دھڑنگ ہوگیا ہے“۔
’لنگوٹی‘ کے ذکر پر یاد آیا کہ مولانا ظفر علی خان نے اقبالؔ کے محولہ بالا شعر کی ایک تضمینِ معکوس (Parody) کی ہے۔برعظیم کے دو مشہور لیڈر، موہن داس کرم چند گاندھی اور اچاریہ ونوبا بھاوے اپنی سادگی کا اظہار کرنے کو مجمعِ عام میں بھی ننگ دھڑنگ پھرا کرتے تھے، فقط ایک لنگوٹی سے سترپوشی کیے ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ گاندھی جی کو ستمبر1921ء میں مدراس کے دورے کے موقعے پر احساس ہوا کہ ملک کے کروڑوں غریب عوام کو تن ڈھانپنے کے لیے پورے کپڑے بھی میسر نہیں ہیں۔ یہ احساس ہوتے ہی اُنھوں نے غربا سے اپنا فاصلہ گھٹانے کا فی الفور فیصلہ کیا اور ملک کے کم لباسوں سے یکجہتی کا اظہارکرنے کو اپنے تن کے کپڑے بھی اُتار کر کم کر دیے۔ اچاریہ ونوبا بھاوے نے بھی گاندھی جی کی تقلید کی۔ اِس پر مولانا ظفر علی خان نے برعظیم کے اِن دونوں عظیم لیڈروں کو اپنے اس شعر سے خراجِ تضمین پیش کیا:
گاندھی از گجرات، بھاوے از دکن
ننگے پاؤں، ننگے سر، ننگے بدن
اقبالؔ کے شعر میں جن دو ”لیڈروں“ کا نام آیا ہے، اُنھوں نے تو برعظیم میں انگریزوں کی آمد کے موقعے پر ’ننگئی‘ دکھائی تھی، جب کہ مولانا ظفر علی خان کے شعر میں جگہ پانے والے دونوں لیڈروں نے وہ زمانہ پایا جب انگریز برعظیم سے روانہ ہونے والے تھے۔
’ننگا‘ کا استعمال ’مفلس‘ کے معنوں میں اُس ”گزارشِ مصنف بحضورِ شاہ“ میں بھی ملتا ہے، جو چچا غالبؔ نے اپنی تنخواہ کی ادائی سالانہ کی جگہ ماہانہ کروانے کو بطور منظوم درخواست دربارِ شاہی میں کی تھی۔عُذر اور عرض داشت دونوں ملاحظہ فرمائیے:
آپ کا بندہ اور پھروں ننگا؟
آپ کا نوکر اور کھاؤں اُدھار؟
میری تنخواہ کیجیے ماہ بہ ماہ
تا، نہ ہو مجھ کو زندگی دُشوار
زندگی خواتین کی زیادہ دُشوار ہوتی ہے۔ اُنھیں زرتار لباس بھی درکار ہوتے ہیں اور گہنا پاتا یعنی زیور بھی۔کسی خاتون کے پاس زیور ہو نہ زرتار لباس، یعنی وہ مفلس و قلاش اور تہی دست ہو، تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے کہ ”ننگی کیا نہائے گی، کیا نچوڑے گی“۔ اس ضرب المثل کو مرد بھی استعمال کر سکتے ہیں، مگرمرد ضرب المثل کے الفاظ بدلنے کی حماقت نہ کریں۔شادؔ عظیم آبادی نے اپنی مفلسی کا اظہار یوں کیا تھا:
کاٹو تو لہو نہیں بدن میں
کیا ننگی نہائے، کیا نچوڑے
جب کہ انشاء اللہ خان انشاؔ نے دنیا ہی کو بے لباس بمعنی مفلس و قلاش قرار دے ڈالا تھا:
کوئی دنیا سے کیا بھلا مانگے
وہ تو بے چاری آپ ننگی ہے
❤2
’ننگی‘ کا لفظ منفی معنوں ہی میں استعمال نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی کسی کی جرأت، بے باکی، بے خوفی اور صاف گوئی کی تحسین کے لیے بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ ”فلاں صاحب تو ننگی تلوار ہیں“۔جب کہ حقیقتاً ننگی تلوار وہ تلوار ہوتی ہے جو میان (یا نیام) میں نہ ہو۔ تلوار جب تک نیام میں رہتی ہے، تب تک اُس سے کسی کو خطرہ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کوئی ننگی تلوار نیام سے باہر لیے گھوم رہا ہو تو اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ آج وہ کسی کا کام تمام کرنے جا رہا ہے۔ تلوار نہ ہو تو چھری سے بھی کام چل جاتا ہے، مگر کوئی چھری تلے آنے والا دستیاب تو ہو۔ اشرفؔ کہتے ہیں:
دل لگی اس کی نہ تھی، خوش اس لیے قاتل نہ تھا
ہاتھ میں ننگی چھری تھی، سامنے بسمل نہ تھا
چھری اور تلوار ہی نہیں، کوئی بھی شے اپنے غلاف، لباس یا آپے سے باہر ہو تو اُسے ’ننگا‘ قرار دے ڈالا جاتا ہے۔بجلی کے تار پربطور ’حاجز‘ پلاسٹک کا جو ملمع چڑھایا جاتا ہے، اگر تار اُس کے بغیر ہو توبجلی کا وہ تار ’ننگا تار‘ کہلائے گا۔ایسا پہاڑ جو سبزے کی پوشاک سے عاری ہو، نہ اُس پر گھاس اُگتی ہو، نہ اُس پر پھول کھلتے ہوں، اُسے ’ننگا پہاڑ‘ کہا جاتا ہے۔ جس زمین پر سبزہ نہ ہو،اور بیٹھنے کے لیے کوئی چٹائی وغیرہ نہ بچھائی گئی ہو، وہ زمین ’ننگی زمین‘ ہے اور ایسا فرش ’ننگا فرش‘۔ خزاں رسیدہ ٹنڈ منڈ درخت کو بھی’ننگا پیڑ‘ کہتے ہیں۔ہاتھی یا گھوڑے کی پیٹھ پر اگر ہودج یا زین نہ ہو تو اُس کی پیٹھ ’ننگی پیٹھ‘ کہلائے گی۔ کسی خاتون کے ہاتھ میں چُوڑی یا کوئی اور زیور نہ ہوتوایسے خالی زنانہ ہاتھ کوخود خواتین ’ننگا ہاتھ‘ قرار دیتی ہیں اور جو ناچ کپڑوں کے بغیر ناچا جائے اُسے اہلِ نظر یا اہلِ نظارہ ’ننگا ناچ‘ کہوے ہیں۔یہی ناچ دنیا کے اکثر حکمرانوں کامرغوب ترین ناچ ہے،جو وہ بڑی دھوم دھام سے اُس وقت تک ناچتے رہتے ہیں جب تک چکرا کر دھڑام سے گر نہ جائیں۔ بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
٭٭
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
دل لگی اس کی نہ تھی، خوش اس لیے قاتل نہ تھا
ہاتھ میں ننگی چھری تھی، سامنے بسمل نہ تھا
چھری اور تلوار ہی نہیں، کوئی بھی شے اپنے غلاف، لباس یا آپے سے باہر ہو تو اُسے ’ننگا‘ قرار دے ڈالا جاتا ہے۔بجلی کے تار پربطور ’حاجز‘ پلاسٹک کا جو ملمع چڑھایا جاتا ہے، اگر تار اُس کے بغیر ہو توبجلی کا وہ تار ’ننگا تار‘ کہلائے گا۔ایسا پہاڑ جو سبزے کی پوشاک سے عاری ہو، نہ اُس پر گھاس اُگتی ہو، نہ اُس پر پھول کھلتے ہوں، اُسے ’ننگا پہاڑ‘ کہا جاتا ہے۔ جس زمین پر سبزہ نہ ہو،اور بیٹھنے کے لیے کوئی چٹائی وغیرہ نہ بچھائی گئی ہو، وہ زمین ’ننگی زمین‘ ہے اور ایسا فرش ’ننگا فرش‘۔ خزاں رسیدہ ٹنڈ منڈ درخت کو بھی’ننگا پیڑ‘ کہتے ہیں۔ہاتھی یا گھوڑے کی پیٹھ پر اگر ہودج یا زین نہ ہو تو اُس کی پیٹھ ’ننگی پیٹھ‘ کہلائے گی۔ کسی خاتون کے ہاتھ میں چُوڑی یا کوئی اور زیور نہ ہوتوایسے خالی زنانہ ہاتھ کوخود خواتین ’ننگا ہاتھ‘ قرار دیتی ہیں اور جو ناچ کپڑوں کے بغیر ناچا جائے اُسے اہلِ نظر یا اہلِ نظارہ ’ننگا ناچ‘ کہوے ہیں۔یہی ناچ دنیا کے اکثر حکمرانوں کامرغوب ترین ناچ ہے،جو وہ بڑی دھوم دھام سے اُس وقت تک ناچتے رہتے ہیں جب تک چکرا کر دھڑام سے گر نہ جائیں۔ بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
٭٭
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1