Mr Sid
و تقویٰ کی انہی کیفیات کو خدائے عزوجل نے اپنی آخری اور حکمتوں بھری نورانی کتاب میں یوں بیان فرمایا ہے: {لمَسْجِدٌ أُسِّسَ على التقوٰى من اول يوم}(التوبه : ۱۰۸) ” البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد رکھی گئی ہے تقوی پر اول روز سے۔“ اس بابرکت اور عظیم الشان مسجد میں…
*واپسی کا زخم*
✍🏻... یونس بصیر
شہر رسول میں دس دن کا مختصر قیام پل بھر میں گزر گیا، امن کے یہ دن اور سکون کی راتیں،ذکر کی گھڑیاں اور گدا و صدا کی یہ ناقابلِ فراموش ساعتیں پلک جھپکتے ہی تمام ہوئیں،ان کیف آگیں لمحات، روح پرور نظاروں اور ایمان وایقان سے سرشار شب و روز کے بعد واپسی کا آغاز ہوا۔
آج 6 جنوری 75 ء ہے، تہجد و فجر کی نمازوں کے بعد اپنی رہائش گاہ پر آئے ، سامان باندھا اور حرم نبوی کی آخری جھلک ، روضتہ الرسول پر الوداعی درود و سلام اور دو رکعت نماز نفل پڑھنے کے لیے ( کہ حدیث رسول خیر الانام ہے آنے والا جانے سے پہلے یہاں دو رکعتیں ضرور پڑھے) آنکھوں میں غم جدائی کے اٹھتے ہوئے آنسو اور دل حزیں میں حسرتوں کے طوفاں لیے مسجد نبوی میں داخل ہوئے،دورکعت نماز نفل ریاض الجنۃ میں ادا کی اور پھر دیر تک بارگاہ بے نیاز میں مجسمہۂ صورت سوال بنے ، رحم و کرم اور لطف و فضل کی بھیک مانگتے رہے، خیابان ارم کے گوشۂ نور میں بیٹھ کر لطف روحانی سرور جاودانی اور خاص حظ قلبی پایا۔ ہنگامہ ہستی کے اس قطعہ بہشت میں تو دو گھڑی بیٹھ لیا؛نہ جانے عاقبت میں کیا انجام ہو؟ بادل نخواستہ یہاں سے اٹھے کہ جنت کے اس ٹکڑے سے اٹھنے کو کس کا دل چاہے ہے؟
آہستہ آہستہ ادب و احترام اور نہایت خاموشی کے ساتھ مواجہہ شریف میں آئے،یعنی حضور پرنورکے روبرو، سلام پیش کیا،درود و صلوٰۃ کے لیے بارگاہ ذوالجلال میں دامن پھیلایا، آنکھوں سے گداز و محبت اور اخلاص و نیاز کے آنسو رواں ہوئے،دل تڑپا،چشم فقیر بے نوا روئی،تڑپتی ہوئی نگاہوں نے تکرار دید کا عجب سماں باندھا، خیالوں نے محبت رسول اور عشق نبی کی محفل سجائی،جذبات وفور شوق میں مچلے اور پھر فرط عقیدت میں سیلاب بن کر حریم دل کی دیواروں سے ٹکرانے لگے، عقل نے کہا کہ یہ مقام ہوش ہے اور دل چیخا یہ جائے بے خودی ہے۔ قریب تھا کہ عقل و وجدان اور قلب و شعور باہم دست گریباں ہو جاتے کہ ہم چل دیئے ۔ کاش اُس وقت مجھے شکیل بدایونی کی نعتیہ غزل کا یہ مصرع یاد ہوتا تو میں ضرور گنگناتا اور لطف لیتا: ” میری آرزو محمد میری جستجو مدینہ“
سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر بن الخطاب کی پاک قبروں پر بھی الوداعی سلام کہا۔ ان کے لیے بھی مالک ارض و سما سے بخشش و مغفرت اور ان دونوں کے درجات کی بلندی طلب کی۔
بعد میں باب جبریل پر آئے،دورکعت نماز نفل یہاں بھی ادا کی،پھر وہی روش فقیراں اور بندہ پروری کی بات چلی۔ یہاں سے بھی یہ ازلی دریوزہ گر خالی نہیں سیرابی روح و بدن کے بعد ہی اٹھے، رحمتوں کو سمیٹا، نوازشوں سے اپنے جیب و داماں بھر لیے اور برکتوں کے خرمن سجائے ہوئے گنبد خضرا پر پیاسی نگاہوں نے دائمی سیرابیوں کے جام پیے اور بار بار پیے ۔ شراب محبت اور خمار عقیدت کی جھلک آنکھوں میں اتری اور ادھر دل بے قرار سے فریاد بن کر ایک ہوک اٹھی ۔
عاصی کرنالی نے کیا خوبصورت ترجمانی کی ہے:۔
”مدینے سے ہمارا قافلہ چلنے کا وقت آیا“
الٰہی قافلہ چلنے میں کچھ تاخیر ہو جائے! باب مجید سے ہوتے ہوئے محلہ مجیدیہ میں اپنی قیام گاہ پر آئے،قُلی لیا، سامان اٹھوایا اور ہجوم کو چیرتے ہوئے ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف چل دیئے، راستے میں مدینۃ الرسول کے کوچہ و بازار اور ہر ہر درو دیوار کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے چلتے رہے اور دل ہی دل میں یہ دعائیں کرتے ہوئے کہ اے باری تعالیٰ ایک بار پھر اپنے پیارے رسول کے پیارے شہر مدینہ طیبہ میں لائیو ۔ آمین ثم آمین!
تقریبا دس بجے دن ٹیکسی چلی اور ہم آنکھوں میں آنسوؤں کا طوفان لیے داغ جدائی سے آہیں بھرتے ہوئے اور درود و سلام پڑھتے ہوئے مدینۃ الرسول کو خیر باد کہ گئے۔ ٹھیک تین بجے بعد دوپہر ہماری ٹیکسی حاجی کیمپ جدہ پہنچ گئی، پانچ گھنٹوں میں یہ طویل مسافت طے ہوئی،جدہ میں پھر وہی انسانوں کا سمندر تلاطم بلا ہے، حج سے پہلے اگر آنے والوں کا ہجوم تھا تو اب واپس جانے والوں کا اژدہام ہے اور نہ جانے یہ سلسلہ نقل و حرکت ابھی کب تک چلتا رہے، حاجی کیمپ (مدینہ الحجاج ) میں قدم رکھتے ہی سامان سڑک کے کنارے رکھا، ام صفوان کو پاس کھڑا کیا اور خود پاسپورٹ اور ٹکٹ لیے وکیل حجاج کے دفتر گیا، خروج کی مہریں لگوائیں۔ دخول و خروج کی جدید کارروائیوں اور نئی زحمتوں کو وہی جانتے ہیں جو ان راہوں سے گزرے ہیں، خروج کی مہروں کے بعد واپس آیا ، سامان اٹھایا اور ایک برآمدے میں ڈیرہ جمادیا۔
ام عمران نے سامان سلیقے سے رکھا، قرینے سے بیٹھے اور پھر دم لینے کے بعد کھانے کی فکر
ہوئی، کھانا تیار کیا گیا کہ ان خانہ بدوشوں اور جہاں گردوں کے پاس ہر وقت اور ہر حال میں معقول راشن ہوتا، زاد راہ کے بغیر دشت نوردی ممکن ہی نہیں، کھانا کھایا اور اللہ رب العالمین کا شکر ادا کیا۔ اب میں نے پاسپورٹ اور ہوائی ٹکٹ لیے اور سعودی ایئر لائنز کے ہنگامی دفتر گیا جو صرف حجاج کی سہولتوں کے لیے حاجی کیمپ کے بالکل قریب ہی کھولا گیا تھا۔ معمول ہے کہ جدہ سے پرواز کرنے والے مسافر اپنے ہوائی
✍🏻... یونس بصیر
شہر رسول میں دس دن کا مختصر قیام پل بھر میں گزر گیا، امن کے یہ دن اور سکون کی راتیں،ذکر کی گھڑیاں اور گدا و صدا کی یہ ناقابلِ فراموش ساعتیں پلک جھپکتے ہی تمام ہوئیں،ان کیف آگیں لمحات، روح پرور نظاروں اور ایمان وایقان سے سرشار شب و روز کے بعد واپسی کا آغاز ہوا۔
آج 6 جنوری 75 ء ہے، تہجد و فجر کی نمازوں کے بعد اپنی رہائش گاہ پر آئے ، سامان باندھا اور حرم نبوی کی آخری جھلک ، روضتہ الرسول پر الوداعی درود و سلام اور دو رکعت نماز نفل پڑھنے کے لیے ( کہ حدیث رسول خیر الانام ہے آنے والا جانے سے پہلے یہاں دو رکعتیں ضرور پڑھے) آنکھوں میں غم جدائی کے اٹھتے ہوئے آنسو اور دل حزیں میں حسرتوں کے طوفاں لیے مسجد نبوی میں داخل ہوئے،دورکعت نماز نفل ریاض الجنۃ میں ادا کی اور پھر دیر تک بارگاہ بے نیاز میں مجسمہۂ صورت سوال بنے ، رحم و کرم اور لطف و فضل کی بھیک مانگتے رہے، خیابان ارم کے گوشۂ نور میں بیٹھ کر لطف روحانی سرور جاودانی اور خاص حظ قلبی پایا۔ ہنگامہ ہستی کے اس قطعہ بہشت میں تو دو گھڑی بیٹھ لیا؛نہ جانے عاقبت میں کیا انجام ہو؟ بادل نخواستہ یہاں سے اٹھے کہ جنت کے اس ٹکڑے سے اٹھنے کو کس کا دل چاہے ہے؟
آہستہ آہستہ ادب و احترام اور نہایت خاموشی کے ساتھ مواجہہ شریف میں آئے،یعنی حضور پرنورکے روبرو، سلام پیش کیا،درود و صلوٰۃ کے لیے بارگاہ ذوالجلال میں دامن پھیلایا، آنکھوں سے گداز و محبت اور اخلاص و نیاز کے آنسو رواں ہوئے،دل تڑپا،چشم فقیر بے نوا روئی،تڑپتی ہوئی نگاہوں نے تکرار دید کا عجب سماں باندھا، خیالوں نے محبت رسول اور عشق نبی کی محفل سجائی،جذبات وفور شوق میں مچلے اور پھر فرط عقیدت میں سیلاب بن کر حریم دل کی دیواروں سے ٹکرانے لگے، عقل نے کہا کہ یہ مقام ہوش ہے اور دل چیخا یہ جائے بے خودی ہے۔ قریب تھا کہ عقل و وجدان اور قلب و شعور باہم دست گریباں ہو جاتے کہ ہم چل دیئے ۔ کاش اُس وقت مجھے شکیل بدایونی کی نعتیہ غزل کا یہ مصرع یاد ہوتا تو میں ضرور گنگناتا اور لطف لیتا: ” میری آرزو محمد میری جستجو مدینہ“
سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر بن الخطاب کی پاک قبروں پر بھی الوداعی سلام کہا۔ ان کے لیے بھی مالک ارض و سما سے بخشش و مغفرت اور ان دونوں کے درجات کی بلندی طلب کی۔
بعد میں باب جبریل پر آئے،دورکعت نماز نفل یہاں بھی ادا کی،پھر وہی روش فقیراں اور بندہ پروری کی بات چلی۔ یہاں سے بھی یہ ازلی دریوزہ گر خالی نہیں سیرابی روح و بدن کے بعد ہی اٹھے، رحمتوں کو سمیٹا، نوازشوں سے اپنے جیب و داماں بھر لیے اور برکتوں کے خرمن سجائے ہوئے گنبد خضرا پر پیاسی نگاہوں نے دائمی سیرابیوں کے جام پیے اور بار بار پیے ۔ شراب محبت اور خمار عقیدت کی جھلک آنکھوں میں اتری اور ادھر دل بے قرار سے فریاد بن کر ایک ہوک اٹھی ۔
عاصی کرنالی نے کیا خوبصورت ترجمانی کی ہے:۔
”مدینے سے ہمارا قافلہ چلنے کا وقت آیا“
الٰہی قافلہ چلنے میں کچھ تاخیر ہو جائے! باب مجید سے ہوتے ہوئے محلہ مجیدیہ میں اپنی قیام گاہ پر آئے،قُلی لیا، سامان اٹھوایا اور ہجوم کو چیرتے ہوئے ٹیکسی اسٹینڈ کی طرف چل دیئے، راستے میں مدینۃ الرسول کے کوچہ و بازار اور ہر ہر درو دیوار کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے چلتے رہے اور دل ہی دل میں یہ دعائیں کرتے ہوئے کہ اے باری تعالیٰ ایک بار پھر اپنے پیارے رسول کے پیارے شہر مدینہ طیبہ میں لائیو ۔ آمین ثم آمین!
تقریبا دس بجے دن ٹیکسی چلی اور ہم آنکھوں میں آنسوؤں کا طوفان لیے داغ جدائی سے آہیں بھرتے ہوئے اور درود و سلام پڑھتے ہوئے مدینۃ الرسول کو خیر باد کہ گئے۔ ٹھیک تین بجے بعد دوپہر ہماری ٹیکسی حاجی کیمپ جدہ پہنچ گئی، پانچ گھنٹوں میں یہ طویل مسافت طے ہوئی،جدہ میں پھر وہی انسانوں کا سمندر تلاطم بلا ہے، حج سے پہلے اگر آنے والوں کا ہجوم تھا تو اب واپس جانے والوں کا اژدہام ہے اور نہ جانے یہ سلسلہ نقل و حرکت ابھی کب تک چلتا رہے، حاجی کیمپ (مدینہ الحجاج ) میں قدم رکھتے ہی سامان سڑک کے کنارے رکھا، ام صفوان کو پاس کھڑا کیا اور خود پاسپورٹ اور ٹکٹ لیے وکیل حجاج کے دفتر گیا، خروج کی مہریں لگوائیں۔ دخول و خروج کی جدید کارروائیوں اور نئی زحمتوں کو وہی جانتے ہیں جو ان راہوں سے گزرے ہیں، خروج کی مہروں کے بعد واپس آیا ، سامان اٹھایا اور ایک برآمدے میں ڈیرہ جمادیا۔
ام عمران نے سامان سلیقے سے رکھا، قرینے سے بیٹھے اور پھر دم لینے کے بعد کھانے کی فکر
ہوئی، کھانا تیار کیا گیا کہ ان خانہ بدوشوں اور جہاں گردوں کے پاس ہر وقت اور ہر حال میں معقول راشن ہوتا، زاد راہ کے بغیر دشت نوردی ممکن ہی نہیں، کھانا کھایا اور اللہ رب العالمین کا شکر ادا کیا۔ اب میں نے پاسپورٹ اور ہوائی ٹکٹ لیے اور سعودی ایئر لائنز کے ہنگامی دفتر گیا جو صرف حجاج کی سہولتوں کے لیے حاجی کیمپ کے بالکل قریب ہی کھولا گیا تھا۔ معمول ہے کہ جدہ سے پرواز کرنے والے مسافر اپنے ہوائی
❤2
Mr Sid
و تقویٰ کی انہی کیفیات کو خدائے عزوجل نے اپنی آخری اور حکمتوں بھری نورانی کتاب میں یوں بیان فرمایا ہے: {لمَسْجِدٌ أُسِّسَ على التقوٰى من اول يوم}(التوبه : ۱۰۸) ” البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد رکھی گئی ہے تقوی پر اول روز سے۔“ اس بابرکت اور عظیم الشان مسجد میں…
دفتر میں اپنی روانگی سے چوبیس گھنٹے پہلے دفتر متعلقہ میں پاسپورٹ جمع کروادیں اور یہ طریق و ضابطہ عام حالات یعنی موسم حج کے علاوہ بھی جاری رہتا ہے۔
کھڑکی کے قریب پہنچتے ہی ایک اہلکار نے دیکھتے ہی اگلی صبح آنے کو کہا، سو واپس آگیا۔ اتنے میں ام عمران نے بڑی خوش اسلوبی اور چابکدستی سے ایک بینچ پر قبضہ کرلیا، پھر تو ان تھکے ہاروں کے وارے نیارے ہوگئے۔ تمام نمازیں اپنے ٹھیک وقت پر ادا کی گئیں ۔ شام کو چائے کا دور چلا۔ حج کے موسم میں جہاں آگ جلے اور چولہا گرم ہو تو بوڑھی خواتین خود بخود چلی آتی ہیں۔ پھر ان کو چائے کی پیالی پلا دو تو لاکھوں دعائیں دیں گی اور کروڑوں بلائیں لیں گیں، خواہ وہ کسی ملک کی بھی ہوں، حاجی کیمپ کے وسیع میدان میں ہم مصریوں کے جھرمٹ میں رہے۔ ہر کوئی سراپا خلوص اور مجسمہ ایثار واخوت۔
دوسرے دن صبح آٹھ بجے حسب ہدایت ہوائی کمپنی کے دفتر پہنچا۔ پاسپورٹ جمع کروادیئے گئے اور ساتھ ہی ٹکٹ بھی،کہا گیا کہ نشستوں کی تصدیق کے لیے شام پانچ بجے آؤ، دل ہر وقت فکر و غم میں ڈوبا ہوا تھا کہ یا اللہ خیر ۔ طرابلس لیبیا میں ہمارے دخول کی تاریخ 8 جنوری 75 ء ہے،اگر سیٹ کی تصدیق نہ ہوسکی تو پھر کیا ہوگا ؟ ذہن میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہوتے رہے اور ساتھ دعائیں بھی تکتی رہیں۔ جو کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ اس رند خراباتی کا یہ تجربہ بھی ہے اور دعوی بھی،کہ بارگاہ بے نیاز میں ہر دعا قبول ہوتی ہے؛ لہذا یہ دعا بھی قبول ہوئی اور پانچ بجے شام جاکر کھڑکی سے ٹکٹ اور پاسپورٹ واپس لیے جو کہ اب الحمد للہ مصدقہ تھے۔ اللہ بزرگ و برتر کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ سب امور اپنے اپنے مناسب وقت پر انجام پاگئے۔
آج کی رات جدہ حاجی کیمپ میں ہماری آخری رات ہے اور ان شاء اللہ العزیز صبح آٹھ بجے 8 جنوری 75ء کو ہم عازم سفر ہوں گے، انہی حسین خیالوں میں کھوکر چند ساعتوں کے لیے سو گئے اور پھر تین بجے رات اٹھ بیٹھے۔ تہجد کی نماز پڑھی۔ پھر چائے نوش جان کی ، سامان باندھا، ٹیکسی پکڑی اور ساڑھے چار بجے ہم قدیمی مطار یعنی پرانے ایئر پورٹ پر آئے کہ ہمارے جہاز کو یہاں سے پرواز کرنا تھی ۔ سامان قلی نے اٹھایا ، وزن کرلیا اور کمپنی والوں کے سپرد کیا اور ہم صوفے پر بیٹھ گئے۔ فجر کی نماز یہیں مطار میں پڑھی، ہم سے پہلے ایک پرواز کراچی کو جانا تھی ۔ اس میں جانے والے لاہور کے جواں سال ، شعلہ بیاں خطیب اور مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نامور عالم دین علامہ احسان الہی ظہیر اور روزنامہ مشرق کے چیف ایڈیٹر بھی ان کے ساتھ ہی ملے۔ یہ دونوں صاحبان علم و فضل سعودی گورنمنٹ کی دعوت پر حج کرنے آئے تھے۔ ان کو لاہور کی طرف مائل بہ پرواز دیکھ کر دل حزیں ایک بار پھر مضطرب ہوگیا،
اب موسم گل یاد نہ گلشن کی فضا یاد
اس طرح قفس میں رہے کچھ بھی نہ رہا یاد
اور بے اختیار وطن کی محبت جاگ پڑی،عزیز واقارب کی یاد بھڑک اٹھی اور حسرتیں زبان پر آکر پکار اٹھیں کہ کاش ہم بھی حج کے بعد اپنے وطن جاتے اور والدین، بہن بھائی اور دوست احباب ہم پر محبت و خلوص کے پھول نچھاور کرتے اور پھر پوشیدہ محبت کا اظہار و انکشاف، آنکھوں میں رواں ہو کر یہ آنسو “ اور ”وہ آنسوؤ“ کر دیتے ۔ دیکھو کسی دل جلے مگر رقیق القلب شاعر نے کیا خوب کہا اور سچ کہا:
ٹھہرے گا دل تھمیں گے اشک، آه! مگر ابھی نہیں
مسافت کی تھکن دور ہوتی اور روح کی خلش کافور ہو جاتی لیکن پیٹ کی مجبوریوں اور معاش کی مشکلات نے وہ مارا کہ ہائے ہائے! صبح آٹھ بجے جدہ سے سوار ہوئے اور بعد دو پہر تین بجے طرابلس ایئر پورٹ پر اترے، مقامی عرب حاجنوں نے منزل پر پہنچنے کی خوشی میں نیز حج کی سعادتوں سے بہرہ مند ہونے کی مسرت میں روایتی چیخ ماری اور پھر اپنا یہ عالم! کہ واہ حسرتا!
ہمارے استقبال کے لیے کسی بہن بھائی کا قدم نہ اٹھا اور نہ والدین نے بازو پھیلائے اور نہ کوئی بغل گیر ہوا! ہمارا مبارک سفر کہنے کو تو کٹ گیا لیکن منزل ابھی کہاں؟ شام کے چھ بجے گھر پہنچے، دروازہ کھولا ، اندر آئے، پھر وہی غریب اور وہی شام غریباں، وہی کُنج قفس اور وہی جان لیوا انتہائی تنہائیاں، مایوسیوں کا مسکن ، غربتوں کا مدفن ، سفر کی ذہنی تھکان سے برا حال ، سر درد اپنی انتہائی شدتوں پر ، درد و کرب کی انہی کیفیات میں وضو کیا، پھر بارگاہ قدوس میں شکرانے کے نفل پڑھے اور حمد و شکر کے بعد میں نے کمرہ صاف کیا اور ام صفوان نے چائے تیار کی، تھوڑی دیر کے بعد کھانا کھایا آہ!
پھر وہی لیل و نہار ، وہی فکر فردا اور غم امروز،گویا روحانی دنیا سے خروج ہوا اور مادی دنیا میں پھر دخول ہوا۔
یکم اکتوبر 1975ء
بوقت 9 بجے رات
27 رمضان المبارک
(صحن حرم، صفحہ: 145، طبع: صفہ پبلشر،لاھور)
کھڑکی کے قریب پہنچتے ہی ایک اہلکار نے دیکھتے ہی اگلی صبح آنے کو کہا، سو واپس آگیا۔ اتنے میں ام عمران نے بڑی خوش اسلوبی اور چابکدستی سے ایک بینچ پر قبضہ کرلیا، پھر تو ان تھکے ہاروں کے وارے نیارے ہوگئے۔ تمام نمازیں اپنے ٹھیک وقت پر ادا کی گئیں ۔ شام کو چائے کا دور چلا۔ حج کے موسم میں جہاں آگ جلے اور چولہا گرم ہو تو بوڑھی خواتین خود بخود چلی آتی ہیں۔ پھر ان کو چائے کی پیالی پلا دو تو لاکھوں دعائیں دیں گی اور کروڑوں بلائیں لیں گیں، خواہ وہ کسی ملک کی بھی ہوں، حاجی کیمپ کے وسیع میدان میں ہم مصریوں کے جھرمٹ میں رہے۔ ہر کوئی سراپا خلوص اور مجسمہ ایثار واخوت۔
دوسرے دن صبح آٹھ بجے حسب ہدایت ہوائی کمپنی کے دفتر پہنچا۔ پاسپورٹ جمع کروادیئے گئے اور ساتھ ہی ٹکٹ بھی،کہا گیا کہ نشستوں کی تصدیق کے لیے شام پانچ بجے آؤ، دل ہر وقت فکر و غم میں ڈوبا ہوا تھا کہ یا اللہ خیر ۔ طرابلس لیبیا میں ہمارے دخول کی تاریخ 8 جنوری 75 ء ہے،اگر سیٹ کی تصدیق نہ ہوسکی تو پھر کیا ہوگا ؟ ذہن میں طرح طرح کے وسوسے پیدا ہوتے رہے اور ساتھ دعائیں بھی تکتی رہیں۔ جو کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ اس رند خراباتی کا یہ تجربہ بھی ہے اور دعوی بھی،کہ بارگاہ بے نیاز میں ہر دعا قبول ہوتی ہے؛ لہذا یہ دعا بھی قبول ہوئی اور پانچ بجے شام جاکر کھڑکی سے ٹکٹ اور پاسپورٹ واپس لیے جو کہ اب الحمد للہ مصدقہ تھے۔ اللہ بزرگ و برتر کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ سب امور اپنے اپنے مناسب وقت پر انجام پاگئے۔
آج کی رات جدہ حاجی کیمپ میں ہماری آخری رات ہے اور ان شاء اللہ العزیز صبح آٹھ بجے 8 جنوری 75ء کو ہم عازم سفر ہوں گے، انہی حسین خیالوں میں کھوکر چند ساعتوں کے لیے سو گئے اور پھر تین بجے رات اٹھ بیٹھے۔ تہجد کی نماز پڑھی۔ پھر چائے نوش جان کی ، سامان باندھا، ٹیکسی پکڑی اور ساڑھے چار بجے ہم قدیمی مطار یعنی پرانے ایئر پورٹ پر آئے کہ ہمارے جہاز کو یہاں سے پرواز کرنا تھی ۔ سامان قلی نے اٹھایا ، وزن کرلیا اور کمپنی والوں کے سپرد کیا اور ہم صوفے پر بیٹھ گئے۔ فجر کی نماز یہیں مطار میں پڑھی، ہم سے پہلے ایک پرواز کراچی کو جانا تھی ۔ اس میں جانے والے لاہور کے جواں سال ، شعلہ بیاں خطیب اور مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نامور عالم دین علامہ احسان الہی ظہیر اور روزنامہ مشرق کے چیف ایڈیٹر بھی ان کے ساتھ ہی ملے۔ یہ دونوں صاحبان علم و فضل سعودی گورنمنٹ کی دعوت پر حج کرنے آئے تھے۔ ان کو لاہور کی طرف مائل بہ پرواز دیکھ کر دل حزیں ایک بار پھر مضطرب ہوگیا،
اب موسم گل یاد نہ گلشن کی فضا یاد
اس طرح قفس میں رہے کچھ بھی نہ رہا یاد
اور بے اختیار وطن کی محبت جاگ پڑی،عزیز واقارب کی یاد بھڑک اٹھی اور حسرتیں زبان پر آکر پکار اٹھیں کہ کاش ہم بھی حج کے بعد اپنے وطن جاتے اور والدین، بہن بھائی اور دوست احباب ہم پر محبت و خلوص کے پھول نچھاور کرتے اور پھر پوشیدہ محبت کا اظہار و انکشاف، آنکھوں میں رواں ہو کر یہ آنسو “ اور ”وہ آنسوؤ“ کر دیتے ۔ دیکھو کسی دل جلے مگر رقیق القلب شاعر نے کیا خوب کہا اور سچ کہا:
ٹھہرے گا دل تھمیں گے اشک، آه! مگر ابھی نہیں
مسافت کی تھکن دور ہوتی اور روح کی خلش کافور ہو جاتی لیکن پیٹ کی مجبوریوں اور معاش کی مشکلات نے وہ مارا کہ ہائے ہائے! صبح آٹھ بجے جدہ سے سوار ہوئے اور بعد دو پہر تین بجے طرابلس ایئر پورٹ پر اترے، مقامی عرب حاجنوں نے منزل پر پہنچنے کی خوشی میں نیز حج کی سعادتوں سے بہرہ مند ہونے کی مسرت میں روایتی چیخ ماری اور پھر اپنا یہ عالم! کہ واہ حسرتا!
ہمارے استقبال کے لیے کسی بہن بھائی کا قدم نہ اٹھا اور نہ والدین نے بازو پھیلائے اور نہ کوئی بغل گیر ہوا! ہمارا مبارک سفر کہنے کو تو کٹ گیا لیکن منزل ابھی کہاں؟ شام کے چھ بجے گھر پہنچے، دروازہ کھولا ، اندر آئے، پھر وہی غریب اور وہی شام غریباں، وہی کُنج قفس اور وہی جان لیوا انتہائی تنہائیاں، مایوسیوں کا مسکن ، غربتوں کا مدفن ، سفر کی ذہنی تھکان سے برا حال ، سر درد اپنی انتہائی شدتوں پر ، درد و کرب کی انہی کیفیات میں وضو کیا، پھر بارگاہ قدوس میں شکرانے کے نفل پڑھے اور حمد و شکر کے بعد میں نے کمرہ صاف کیا اور ام صفوان نے چائے تیار کی، تھوڑی دیر کے بعد کھانا کھایا آہ!
پھر وہی لیل و نہار ، وہی فکر فردا اور غم امروز،گویا روحانی دنیا سے خروج ہوا اور مادی دنیا میں پھر دخول ہوا۔
یکم اکتوبر 1975ء
بوقت 9 بجے رات
27 رمضان المبارک
(صحن حرم، صفحہ: 145، طبع: صفہ پبلشر،لاھور)
*وفیات مورخہ: 8/جون*
1707ء بیدار بخت۔ مغل شہزادہ
1975ء بدر النساء بیگم قریشی۔ ڈاکٹر ،
1988ء حبیب اللہ خان پراچہ۔ ،
1993ء شاہد اکبر آبادی۔ شاعر
1996ء محمد اسحاق پٹیل ندوی۔
1999ء عبدالحفیظ سلفی۔ ڈاکٹر، سید
1999ء عبدالحفیظ سلفی۔ ڈاکٹر، سید
2000ء شبیر حسین قریشی۔ پروفیسر ،
2000ء کمال الدین۔ الحاج ،
2000ء لطیف اثر۔ ،
2006ء محمد عارف سنبھلی ندوی۔ مولانا، استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
2009ء حبیب تنویر۔ کہانی نگار
2011ء منصورہ احمد۔ ادیبہ، مدیر فنون لاہور
2018ء محمد غزالی خطیبی ندوی۔ مولانا، بھٹکلی عالم وداعی
2019ء عباس کمیلی۔ بانی جعفریہ الائنس پاکستان
2020ء شبیر احمد قاسمی۔ مولانا مفتی
2022ء اسلم آزاد۔
HTTPS://TELEGRAM.ME/ILMOKITAB
1707ء بیدار بخت۔ مغل شہزادہ
1975ء بدر النساء بیگم قریشی۔ ڈاکٹر ،
1988ء حبیب اللہ خان پراچہ۔ ،
1993ء شاہد اکبر آبادی۔ شاعر
1996ء محمد اسحاق پٹیل ندوی۔
1999ء عبدالحفیظ سلفی۔ ڈاکٹر، سید
1999ء عبدالحفیظ سلفی۔ ڈاکٹر، سید
2000ء شبیر حسین قریشی۔ پروفیسر ،
2000ء کمال الدین۔ الحاج ،
2000ء لطیف اثر۔ ،
2006ء محمد عارف سنبھلی ندوی۔ مولانا، استاد دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
2009ء حبیب تنویر۔ کہانی نگار
2011ء منصورہ احمد۔ ادیبہ، مدیر فنون لاہور
2018ء محمد غزالی خطیبی ندوی۔ مولانا، بھٹکلی عالم وداعی
2019ء عباس کمیلی۔ بانی جعفریہ الائنس پاکستان
2020ء شبیر احمد قاسمی۔ مولانا مفتی
2022ء اسلم آزاد۔
HTTPS://TELEGRAM.ME/ILMOKITAB
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
*وفیات مورخہ: 7/جون*
1972ء حسین ابراہیم جمال۔
1973ء حشرپوری ، سید محمد کاظم۔
1975ء فقیر محمد ساقی۔
1976ء عبدالجلیل۔ مولانا
1991ء طاہر علاء الدین قادری جیلانی۔ سرپرست تحریک منہاج القرآن
1997ء نصیر الدین ۔ حاجی
2012ء امین الدین شجاع الدین۔ مولانا ، مدیر تعمیر حیات لکھنو
2012ء حسین علی توحیدی۔ مولانا، بانی جامعہ عربیہ اسلامیہ حسینیہ راولپنڈی
2018ء رسول بخش پلیچو۔
2020ء سعید احمد۔ الحاج حافظ
https;//telegram.me/ilmokitab
1972ء حسین ابراہیم جمال۔
1973ء حشرپوری ، سید محمد کاظم۔
1975ء فقیر محمد ساقی۔
1976ء عبدالجلیل۔ مولانا
1991ء طاہر علاء الدین قادری جیلانی۔ سرپرست تحریک منہاج القرآن
1997ء نصیر الدین ۔ حاجی
2012ء امین الدین شجاع الدین۔ مولانا ، مدیر تعمیر حیات لکھنو
2012ء حسین علی توحیدی۔ مولانا، بانی جامعہ عربیہ اسلامیہ حسینیہ راولپنڈی
2018ء رسول بخش پلیچو۔
2020ء سعید احمد۔ الحاج حافظ
https;//telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
آج مولانا محمد عارف سنبھلی ندوی کا یوم وفات ہے، آپ کی وفات 8 جون 2006ء کو ہوئی تھی، آپ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کے استاد اور فرق ومذاہب کے استاد تھے، آپ علمی دنیا میں خاص طور پر بریلوی فتنہ کا نیا روپ سے بہت مشور ہوئے۔ آپ ایک کامیاب خطیب اور مقرر بھی تھے۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی ایک تقریر پیش خدمت ہے
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=qadiyaniat-aur-eisaiyat, Qadiyaniat Aur Eisaiyat
لنک اردو آڈیو ڈاٹ کام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=qadiyaniat-aur-eisaiyat, Qadiyaniat Aur Eisaiyat
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
سچی باتیں (23؍دسمبر 1940ء)۔۔۔ اسلام پر دوسرے مذاہب کا اطلاق
تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
جامعہ عثمانیہ کے شعبۂ دینیات کی بزم سالانہ کے صدر نے حال میں اپنے خطبۂ صدارت میں کہا:-
’’آج کل جو یہ کہا جاتاہے کہ اہل یورپ نے جب سے مذہب کو چھوڑدیا ترقی کے منازل طے کرنے لگے۔ غورکرنے سے معلوم ہوگا کی اس سے گویا ایک طرح سے مشرق کو مشورہ دیاجاتاہے کہ ہم بھی یہی سلوک اپنے مذہب سے کریں حالانکہ یہ ایک صریحی مغالطہ ہے۔ اس لئے اہل یورپ اگر مذہب کو نہ چھوڑتے تو وہ اور کیاکرتے۔ ان کے پاس مذہب تھا کب؟ ان کے پاس ایک کتاب تھی جو دراصل کتاب الٰہی نہ تھی بلک صرف کتاب الٰہی کے ہم نام تھی۔ ان کے پاس ایک تعلیم تھی جسے تعلیم الٰہی باور کرایاگیاتھا لیکن وہ الٰہی تعلیم ہی نہ تھی۔ خود ان ہی کی تحقیقات سے معلوم ہوتاہے نہ وہ اصل کتاب خدا کی ہے نہ اُس کی تعلیم وہ ہے جو کسی رسول نے دی ہو۔ وہ مطلق مذہب سے بیزار نہیں بلکہ وہ اس مذہب سے بیزار ہیں جو ان کے آباء واجداد ان کے لئے چھوڑ گئے ہیں‘‘۔
یہ کہہ کے انھوں نے وقت کے ایک بہت بڑے اور چلتے ہوئے مغالطہ کا پردہ چاک کرکے رکھ دیا۔ اور مغالطہ ایسا جو آج بیسیوں قالبوں اور صورتوں میں ہمارے سامنے آرہاہے۔
کہاجاتاہے، اور کس شدومد سے، کہ علماء کا اقتدار ختم کرو، ان کا زور توڑ کررکھ دو۔ جب تک یورپ میں کلیسا کا زور نہ ٹوٹ لیا، اور ہندودل کے ہاں سے برہمنوں کا اقتدار نہ رخصت ہوگیا، ترقی نہ اہل فرنگ کرسکے نہ ہندو۔ بلند بانگ دعویٰ کا اول تو یہی جزو صحیح نہیں، کہ یورپ سے کلیسا، اور ہندوؤں کے ہاں سے برہمن کا اقتدار رخصت ہوچکاہے، یا ان کا زور ٹوٹ چکاہے۔ لیکن بالفرض یہ صحیح ہو بھی، تو مسیحیوں کے کلیسا اور ہندوؤں کے برہمن پر، مسلمانوں کے علماء کو قیاس کرنا ہی کب درست ہے؟ اسلام نے علماء کو مطلق الاختیار بنایا ہی کب ہے؟ اِس میں اُن کے شاہنشاہانہ اقتدارات کو تسلیم ہی کب کیاہے؟ بجز ’’مذہبی پیشوا‘‘ کے لفظی اورمحض لفظی اشتراک کے، عملًا اور معنًا کوئی شے بھی ہمارے ہاں کے فقہاء ، محدثین، مفسرین، متکلمین ، اور دوسروں کے ہاں کے پروہتوں، پنڈتوں، پادریوں کے درمیان مشترک ہی کہاں؟……اور پھر کہاجاتاہے کہ عورتوں کو آزادی دور یورپ نے جب تک عورتوں کو آزاد نہ کیا، قوم ترقی نہ کرسکی۔ گزارش پھر وہی کرنی پڑتی ہے، کہ یورپ نے اگرآزادی دی تو اچھا کیا، اُس نے تو نسل انسانی کی اس نصف آبادی کو واقعتا غلام بناہی رکھاتھا۔ ہمارے یہاں عورت غلام ہے ہی کہاں، جو اُس کی’’آزادی‘‘ کامطالبہ اِس زور وشور سے جاری ہے؟ باقی اگر حدود وقیود کا نام، ضبط وانضباط کانام کسی کی اصطلاح میں غلامی ہے، تو پھر ہر شاگرد جسے مدرسہ کے قاعدوں کی پابندی کرنی ہوتی ہے، غلام ہے اپنے اُستاد کا، ہر بیٹا جسے ادب ملحوظ رکھناہوتاہے، غلام ہے اپنے باپ کا، ہر مریض جس کے لئے دوا، غذا، وغیرہ میں احتیاط اور پابندی ہوتی ہے، غلام ہے طبیب کا!
آخری اور سب سے مہلک مغالطہ اِس سطحیت کا ، جس کا دوسرا نام تجدُّد ہے، یہ ہے کہ عیسائی قوموں نے دنیوی ترقی صرف اُس وقت حاصل کی جب بائبل سے بالکل قطع نظر کرکے اُسے پس پشت ڈال کر اپنے معاشری، معاشی، سیاسی، اخلاقی قوانین وضوابط خود اپنے عقل وتجربہ سے اخذ کرنا شروع کردئیے، اس لئے مسلمان بھی جب تک اپنے قوانین کو خود اپنے تجربہ کی روشنی میں وضع نہ کرنے لگیں گے، ترقی کرہی نہیں سکتے…استدلال میں لفظ ’ترقی‘ کے اندر جو عظیم الشان ضابطہ موجود ہے، اُس سے قطع نظر، قرآن کو انجیل پر قیاس کرنا ہی کب، اور کسی معنیٰ میں بھی صحیح ہے؟ کیا انجیل میں بھی سیاسیات، اخلاقیات، معاشیات کے قوانین ، قرآن کی آدھی، چوتھائی، تفصیل کے ساتھ مدوّن ہیں؟ کیا موجودہ انجیل، جسے مسیحی دنیا انجیل تسلیم کرتی ہے، کسی معنیٰ میں بھی کلام الٰہی ہے؟ لفظًا نہ سہی، معنًا بھی اُسے کون کلام الٰہی مانتاہے؟ کیا مسیحیوں کے ہاں اُس کا وہ مرتبہ بھی ہے جو ہمارے ہاں احادیث قدسیہ کا ہے؟بجز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چند غیر مستند اقوال وحالات کے مجموعہ کے، اورمجموعہ بھی ایسا جو نامعلوم ہاتھوں کا جمع کیاہو، وہ ہے کیا؟ بائبل پر قرآن کو قیاس کرنا، اور ایک کے لئے وہ نتیجے نکالنا جو دوسرے کے لئے نکالے گئے ہیں، اس سے بڑھ کر ظلم، دین پر نہیں، خود عقل پر اور کیا ہوگا؟
Https://telegram.me/ilmokitab
تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادیؒ
جامعہ عثمانیہ کے شعبۂ دینیات کی بزم سالانہ کے صدر نے حال میں اپنے خطبۂ صدارت میں کہا:-
’’آج کل جو یہ کہا جاتاہے کہ اہل یورپ نے جب سے مذہب کو چھوڑدیا ترقی کے منازل طے کرنے لگے۔ غورکرنے سے معلوم ہوگا کی اس سے گویا ایک طرح سے مشرق کو مشورہ دیاجاتاہے کہ ہم بھی یہی سلوک اپنے مذہب سے کریں حالانکہ یہ ایک صریحی مغالطہ ہے۔ اس لئے اہل یورپ اگر مذہب کو نہ چھوڑتے تو وہ اور کیاکرتے۔ ان کے پاس مذہب تھا کب؟ ان کے پاس ایک کتاب تھی جو دراصل کتاب الٰہی نہ تھی بلک صرف کتاب الٰہی کے ہم نام تھی۔ ان کے پاس ایک تعلیم تھی جسے تعلیم الٰہی باور کرایاگیاتھا لیکن وہ الٰہی تعلیم ہی نہ تھی۔ خود ان ہی کی تحقیقات سے معلوم ہوتاہے نہ وہ اصل کتاب خدا کی ہے نہ اُس کی تعلیم وہ ہے جو کسی رسول نے دی ہو۔ وہ مطلق مذہب سے بیزار نہیں بلکہ وہ اس مذہب سے بیزار ہیں جو ان کے آباء واجداد ان کے لئے چھوڑ گئے ہیں‘‘۔
یہ کہہ کے انھوں نے وقت کے ایک بہت بڑے اور چلتے ہوئے مغالطہ کا پردہ چاک کرکے رکھ دیا۔ اور مغالطہ ایسا جو آج بیسیوں قالبوں اور صورتوں میں ہمارے سامنے آرہاہے۔
کہاجاتاہے، اور کس شدومد سے، کہ علماء کا اقتدار ختم کرو، ان کا زور توڑ کررکھ دو۔ جب تک یورپ میں کلیسا کا زور نہ ٹوٹ لیا، اور ہندودل کے ہاں سے برہمنوں کا اقتدار نہ رخصت ہوگیا، ترقی نہ اہل فرنگ کرسکے نہ ہندو۔ بلند بانگ دعویٰ کا اول تو یہی جزو صحیح نہیں، کہ یورپ سے کلیسا، اور ہندوؤں کے ہاں سے برہمن کا اقتدار رخصت ہوچکاہے، یا ان کا زور ٹوٹ چکاہے۔ لیکن بالفرض یہ صحیح ہو بھی، تو مسیحیوں کے کلیسا اور ہندوؤں کے برہمن پر، مسلمانوں کے علماء کو قیاس کرنا ہی کب درست ہے؟ اسلام نے علماء کو مطلق الاختیار بنایا ہی کب ہے؟ اِس میں اُن کے شاہنشاہانہ اقتدارات کو تسلیم ہی کب کیاہے؟ بجز ’’مذہبی پیشوا‘‘ کے لفظی اورمحض لفظی اشتراک کے، عملًا اور معنًا کوئی شے بھی ہمارے ہاں کے فقہاء ، محدثین، مفسرین، متکلمین ، اور دوسروں کے ہاں کے پروہتوں، پنڈتوں، پادریوں کے درمیان مشترک ہی کہاں؟……اور پھر کہاجاتاہے کہ عورتوں کو آزادی دور یورپ نے جب تک عورتوں کو آزاد نہ کیا، قوم ترقی نہ کرسکی۔ گزارش پھر وہی کرنی پڑتی ہے، کہ یورپ نے اگرآزادی دی تو اچھا کیا، اُس نے تو نسل انسانی کی اس نصف آبادی کو واقعتا غلام بناہی رکھاتھا۔ ہمارے یہاں عورت غلام ہے ہی کہاں، جو اُس کی’’آزادی‘‘ کامطالبہ اِس زور وشور سے جاری ہے؟ باقی اگر حدود وقیود کا نام، ضبط وانضباط کانام کسی کی اصطلاح میں غلامی ہے، تو پھر ہر شاگرد جسے مدرسہ کے قاعدوں کی پابندی کرنی ہوتی ہے، غلام ہے اپنے اُستاد کا، ہر بیٹا جسے ادب ملحوظ رکھناہوتاہے، غلام ہے اپنے باپ کا، ہر مریض جس کے لئے دوا، غذا، وغیرہ میں احتیاط اور پابندی ہوتی ہے، غلام ہے طبیب کا!
آخری اور سب سے مہلک مغالطہ اِس سطحیت کا ، جس کا دوسرا نام تجدُّد ہے، یہ ہے کہ عیسائی قوموں نے دنیوی ترقی صرف اُس وقت حاصل کی جب بائبل سے بالکل قطع نظر کرکے اُسے پس پشت ڈال کر اپنے معاشری، معاشی، سیاسی، اخلاقی قوانین وضوابط خود اپنے عقل وتجربہ سے اخذ کرنا شروع کردئیے، اس لئے مسلمان بھی جب تک اپنے قوانین کو خود اپنے تجربہ کی روشنی میں وضع نہ کرنے لگیں گے، ترقی کرہی نہیں سکتے…استدلال میں لفظ ’ترقی‘ کے اندر جو عظیم الشان ضابطہ موجود ہے، اُس سے قطع نظر، قرآن کو انجیل پر قیاس کرنا ہی کب، اور کسی معنیٰ میں بھی صحیح ہے؟ کیا انجیل میں بھی سیاسیات، اخلاقیات، معاشیات کے قوانین ، قرآن کی آدھی، چوتھائی، تفصیل کے ساتھ مدوّن ہیں؟ کیا موجودہ انجیل، جسے مسیحی دنیا انجیل تسلیم کرتی ہے، کسی معنیٰ میں بھی کلام الٰہی ہے؟ لفظًا نہ سہی، معنًا بھی اُسے کون کلام الٰہی مانتاہے؟ کیا مسیحیوں کے ہاں اُس کا وہ مرتبہ بھی ہے جو ہمارے ہاں احادیث قدسیہ کا ہے؟بجز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے چند غیر مستند اقوال وحالات کے مجموعہ کے، اورمجموعہ بھی ایسا جو نامعلوم ہاتھوں کا جمع کیاہو، وہ ہے کیا؟ بائبل پر قرآن کو قیاس کرنا، اور ایک کے لئے وہ نتیجے نکالنا جو دوسرے کے لئے نکالے گئے ہیں، اس سے بڑھ کر ظلم، دین پر نہیں، خود عقل پر اور کیا ہوگا؟
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤2
*بات سے بات: بشار عواد معروف*
*از: عبد المتین منیری*
بشار عواد معروف بنیادی طور پر تحقیق مخطوطات کے آدمی ہیں، اور اس میدان کے آدمی کی اولین ضرورت قدیم خطوط کو سمجھنا، اور انہیں بغیر غلطیوں کے نقل کرنا ہے، اگرمحقق اس میدان کا ماہر ہے تو پھر دوسرے اوصاف ثانوی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں، ایسا محقق اگر تفسیر، حدیث ، فقہ و تاریخ پر عبور رکھتا ہوں تو سونے پر سہاگہ ہے۔
بشار عواد کو اگر مفسر، محدث اور فقیہ کے پیمانے پر تولیں گے تو پھر وہ اس پیمانے پر پورے نہیں اتریں گے۔انہیں ان کی جگہ پر رکھ کر بات کریں گے، تو ان کے ساتھ انصاف ہوگا، بشار عواد کے تذکرہ میں ہمارے احباب نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں ان کے لئے لازمی اصل وصف پر کوئی تبصرہ نہیں ہے، اوران کی مخطوطہ شناسی پر کسی ماہر فن کی رائے سامنے نہیں آئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بد قسمتی سے یہ مہارت ہمارے یہاں عنقا ہوتی جارہی ہے۔
جہاں تک ہم نے بشار کی تحقیقات کو دیکھا ہے، صحت نص کے اعتبار سے ان کا درجہ بلند ہے، خاص طور پرامام ذھبی کی سیر اعلام النبلاء کی تحقیق جو عصر حاضر کے محققین میں انہیں ممتاز کردیتی ہے۔ بشار کافی عمر رسیدہ ہیں، باوجود اس کے وہ محققین کی ایک ٹیم تیار کرنے میں مصروف ہیں، اور اپنی سرپرستی میں وہ ان کی تربیت کررہے ہیں۔ ہمیں اس کام کی قدر کرنی چاہئے۔
بیسویں صدی میں جب عربی مخطوطات کی تحقیق وتصویب کا کام عروج پر پہنچا تھا تو ان میں سے علامہ احمد محمد شاکر، شیخ محمد ناصر الدین الالبانی، احمد صقر، عبد الفتاح ابو غدہ، محمد زاہد الکوثری، عبد القادر ارناؤط، محمد شعیب الارناؤط ، عبدالمجید السلفی ، وغیرہ کا پس منظر حدیث وفقہ علم دین تھا،عبد السلام ہارون، عبد العزیز میمنی، محموداحمد شاکر، محمود الطناحی، عبد الہادی التازی، عبد الفتاح الحلو، فواد سید لغت وتاریخ یا کوئی دوسرا پس مظر رکھتے تھے، عمالقہ کا یہ دور اب ختم ہوچکا ہے، صحیح یا غلط اب جو بقید حیات ہیں ان میں بشار عواد معروف کی ٹکر کا محقق مخطوطات نظر نہیں آتا۔ ان کی تعلیقات سے لاکھ اختلاف کے باوجود ان کی تحقیق نص، مخطوط شناسی سے بے نیاز نہیں رہا جاسکتا۔ اب رہی ان علماء کی بات جو تفسیر حدیث وفقہ کے تو ماہر ہیں، لیکن عربی زبان اور مخطوطات شناسی ان کا امتیاز نہیں ہے، ان کی تحقیقات کتابوں کو ایسی تحریفات سے بھر سکتی ہیں، جن سے کتابوں کے معانی ومفہوم بدل سکتے ہیں۔ ان سے دار الکتب العلمیہ جیسے اداروں کی تجارت کو عروج مل سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ علمی زوال کا بھی سبب بن جاتا ہے۔
2026-06-10
*از: عبد المتین منیری*
بشار عواد معروف بنیادی طور پر تحقیق مخطوطات کے آدمی ہیں، اور اس میدان کے آدمی کی اولین ضرورت قدیم خطوط کو سمجھنا، اور انہیں بغیر غلطیوں کے نقل کرنا ہے، اگرمحقق اس میدان کا ماہر ہے تو پھر دوسرے اوصاف ثانوی حیثیت اختیار کرجاتے ہیں، ایسا محقق اگر تفسیر، حدیث ، فقہ و تاریخ پر عبور رکھتا ہوں تو سونے پر سہاگہ ہے۔
بشار عواد کو اگر مفسر، محدث اور فقیہ کے پیمانے پر تولیں گے تو پھر وہ اس پیمانے پر پورے نہیں اتریں گے۔انہیں ان کی جگہ پر رکھ کر بات کریں گے، تو ان کے ساتھ انصاف ہوگا، بشار عواد کے تذکرہ میں ہمارے احباب نے جو باتیں لکھی ہیں ان میں ان کے لئے لازمی اصل وصف پر کوئی تبصرہ نہیں ہے، اوران کی مخطوطہ شناسی پر کسی ماہر فن کی رائے سامنے نہیں آئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بد قسمتی سے یہ مہارت ہمارے یہاں عنقا ہوتی جارہی ہے۔
جہاں تک ہم نے بشار کی تحقیقات کو دیکھا ہے، صحت نص کے اعتبار سے ان کا درجہ بلند ہے، خاص طور پرامام ذھبی کی سیر اعلام النبلاء کی تحقیق جو عصر حاضر کے محققین میں انہیں ممتاز کردیتی ہے۔ بشار کافی عمر رسیدہ ہیں، باوجود اس کے وہ محققین کی ایک ٹیم تیار کرنے میں مصروف ہیں، اور اپنی سرپرستی میں وہ ان کی تربیت کررہے ہیں۔ ہمیں اس کام کی قدر کرنی چاہئے۔
بیسویں صدی میں جب عربی مخطوطات کی تحقیق وتصویب کا کام عروج پر پہنچا تھا تو ان میں سے علامہ احمد محمد شاکر، شیخ محمد ناصر الدین الالبانی، احمد صقر، عبد الفتاح ابو غدہ، محمد زاہد الکوثری، عبد القادر ارناؤط، محمد شعیب الارناؤط ، عبدالمجید السلفی ، وغیرہ کا پس منظر حدیث وفقہ علم دین تھا،عبد السلام ہارون، عبد العزیز میمنی، محموداحمد شاکر، محمود الطناحی، عبد الہادی التازی، عبد الفتاح الحلو، فواد سید لغت وتاریخ یا کوئی دوسرا پس مظر رکھتے تھے، عمالقہ کا یہ دور اب ختم ہوچکا ہے، صحیح یا غلط اب جو بقید حیات ہیں ان میں بشار عواد معروف کی ٹکر کا محقق مخطوطات نظر نہیں آتا۔ ان کی تعلیقات سے لاکھ اختلاف کے باوجود ان کی تحقیق نص، مخطوط شناسی سے بے نیاز نہیں رہا جاسکتا۔ اب رہی ان علماء کی بات جو تفسیر حدیث وفقہ کے تو ماہر ہیں، لیکن عربی زبان اور مخطوطات شناسی ان کا امتیاز نہیں ہے، ان کی تحقیقات کتابوں کو ایسی تحریفات سے بھر سکتی ہیں، جن سے کتابوں کے معانی ومفہوم بدل سکتے ہیں۔ ان سے دار الکتب العلمیہ جیسے اداروں کی تجارت کو عروج مل سکتا ہے، لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ علمی زوال کا بھی سبب بن جاتا ہے۔
2026-06-10
❤7
*وفیات مورخہ: 11/جون*
1988ء حبیب احمد صدیقی۔ ،
1990ء قاری ممتاز احمد رحمانی۔ مولانا ،
1991ء فضل محمود۔ ڈاکٹر ،
1994ء سیده حمیرا بی۔
1996ء روشن لکھنوی (سید نثار رضوی)۔ ،
1996ء زبیدہ یزدانی۔
2000ء احمدعلی بدر پوری۔
2000ء راجیش پائلٹ۔ کانگریسی لیڈر
2003ء اظہر ملک۔ ،
2003ء عبدالرزاق خان ایڈووکیٹ۔
2004ء ضمیر نیازی (ابراہیم جان محمد درویش)۔ صحافی ،
2006ء محمد مختار اصلاحی۔ مولانا، حکیم ،
2009ء رشید وارثی۔
2011ء صبا دشتیاری (غلام حسین)۔ پروفیسر ،
2012ء شاکر علی۔ ،
Https://telegram.me/ilmokitab
1988ء حبیب احمد صدیقی۔ ،
1990ء قاری ممتاز احمد رحمانی۔ مولانا ،
1991ء فضل محمود۔ ڈاکٹر ،
1994ء سیده حمیرا بی۔
1996ء روشن لکھنوی (سید نثار رضوی)۔ ،
1996ء زبیدہ یزدانی۔
2000ء احمدعلی بدر پوری۔
2000ء راجیش پائلٹ۔ کانگریسی لیڈر
2003ء اظہر ملک۔ ،
2003ء عبدالرزاق خان ایڈووکیٹ۔
2004ء ضمیر نیازی (ابراہیم جان محمد درویش)۔ صحافی ،
2006ء محمد مختار اصلاحی۔ مولانا، حکیم ،
2009ء رشید وارثی۔
2011ء صبا دشتیاری (غلام حسین)۔ پروفیسر ،
2012ء شاکر علی۔ ،
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
غفلت، ظاہری رونق مگر باطن کا اندھیرا
از: طارق علی عباسی
غفلت کیا ہے؟ غفلت دراصل خود سے غافل ہوکر اپنے مقصدِ حیات کو بھلا ڈالنا ہے، یہ غفلت دل، ضمیر اور اندرونی احساسات کی معطلی کا نام ہے۔ یہ سچ ہے کہ جب اندرونی احساسات کی بیداری ختم ہوجائے تو اپنے وجود کا شعوری احساس بھی فنا ہوجاتا ہے، پھر بے مقصدیت مقصد کی جگہ لے لیتی ہے اور انسان اپنی حقیقی راہ بھلا بیٹھتا ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ غفلت کا مطلب شاید عارضی طور پر غافل بن جانا ہے، لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ غفلت تو اس کیفیت کا نام ہے جو دل کو لاحق ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دل اپنی طاقت، اپنی توانائی، اپنی وضاحت اور اپنی بصیرت کھو دیتا ہے۔ غفلت سے دل زنگ آلود ہوجاتا ہے، پھر ایسا دل دھڑکتا تو ہے، مگر اس کی دھڑکنوں میں وہ توانائی نہیں ہوتی، جو وجدانی کیفیات کو ابھار سکے اور کسی جذبے کے اظہار کا سبب بن سکے۔ غفلت کا مطلب ظاہری اعضاء کی حرکت جاری رہنے کے ساتھ، اندر کا بجھ جانا ہے۔ یعنی دل حرکت تو کرتا ہے، لیکن بغیر شعور کے، زندگی تو گزارتا ہے لیکن بغیر بیداری کے، کام تو کرتا ہے لیکن دیکھتا سمجھتا کچھ نہیں اور سانس تو لیتا ہے لیکن بغیر احساسوں کے!
حقیقت یہ ہے کہ غفلت کا اصل مطلب دل سے اللہ تعالیٰ کی یاد کا غائب ہوجانا اور اس احساس کا ختم ہوجانا ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ آپ کو دیکھ رہی ہے، آپ کے ساتھ ہے اور آپ کی رہنمائی کر رہی ہے۔ قرآن حکیم کے مطابق انسان اپنی شہہ رگ سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہے، اس کے علاوہ حدیثِ جبرئیل اس پر شاہد ہے کہ احسان کا کم درجہ یہ ہے کہ یہ یقین رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے، پورے سلوک و احسان کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ اس احساس کو اپنے دل سے مٹنے نہ دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ بقول صوفی شاعر شاہ تراب علی قلندرؒ:
دم غنیمت ہے، نہ ہو غافل خدا سے ایک دم
زندگی نعمت ہے غفلت میں اسے کھوتا ہے کیا
اسی کو غفلت کہتے ہیں کہ انسان بڑے مقصد کے احساس کو کھو دے اور اس کا دل غیر اہم چیزوں میں مشغول ہوجائے۔ غافل انسان کبھی بھی مطمئن زندگی نہیں گزارتا، وہ اکثر و بیشتر بے چین رہتا ہے، وہ چھوٹی چھوٹی غیر اہم چیزوں کے بدلے بڑے اہداف کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ غفلت دراصل دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا ہے۔ اگرچہ دنیا کی ہر چیز فنا ہونے والی، عارضی اور وقتی ہے، مگر غافل اسی تگ و دو میں لگا رہتا ہے کہ یہاں کی آسائشوں اور لذتوں میں ایک ہی دھن کے ساتھ مگن رہے، جب کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔ یوں وہ دنیا ہی کو اپنی توجہ کا مرکز، اپنے خوف کا منبع اور اپنی پریشانی کا سبب بنا لیتا ہے۔ اسی لیے غفلت کوئی وقتی رویہ نہیں ہے، بلکہ ایک بڑی اضطرابی قلبی حالت ہے۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ دلجمعی اور غفلت اکٹھے ہوں؟ ہرگز نہیں۔ غفلت یہ ہے کہ ظاہری زندگی تو ٹھاٹھ باٹھ سے پوری طرح مزین ہو، لیکن اندرونی حیات بجھ چکی ہو۔ عبادات میں دل کا نہ لگنا اس مرض کی شروعات ہے اور عبادات میں دل کا بالکل ہی نہ لگنا یا عبادات و فرائض کا چھوٹ جانا اس مرض کی پختگی ہے۔ غفلت دل کے دروازوں کو بند کردیتی ہے، پھر جلتے اور روشن چراغ بھی بجھے ہوئے لگتے ہیں، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
اس معاملہ میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ غفلت انسان کو یکدم نیچے نہیں گراتی، بلکہ اسے بند گلی کی طرف ایک چھوٹا سا قدم بڑھانے پر مجبور کرتی ہے اور پھر اس پر باہر نکلنے کے راستے بند کردیتی ہے۔ غفلت انسان کی طاقت کو مٹا دیتی ہے، یعنی دل دیکھنے، تمیز کرنے، چلنے، ثابت قدم رہنے، خشوع اختیار کرنے اور انتخاب کرنے کی صلاحیت کو صحیح معنوں میں کھو دیتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دل کی یہ طاقت کیوں ختم ہوجاتی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ دل کی اصل طاقت تو اس کی بصیرت، اس کا عزم، اس کا ارادہ، اس کی محبت، اس کی استقامت اور خواہشاتِ نفس کے خلاف اس کی مزاحمت ہے۔ چنانچہ جب ذکرِ الہٰی دل سے غائب ہوتا ہے تو شعور چلا جاتا ہے اور جب شعور چلا جاتا ہے تو خواہشِ نفس اس میں داخل ہوجاتی ہے اور جب دل میں خواہشِ نفس داخل ہوجائے تو انسان پر وسعتِ فکری کے سارے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ غفلت اپنے آپ کو خواہشِ نفس اور شہوت کا قیدی بنا لینے کی طرف پہلا قدم ہے۔ بڑا ہی محروم ہے وہ انسان، جو خدائے واحد سے اپنی خواہشوں کی وجہ سے دور ہے، کیا ہم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ ہمارا دل اللہ تعالیٰ کے قریب ہے یا دور؟ کیا ہمارے دلی احساسات بیدار ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ظاہری طور پر تو حرکت میں ہیں، مگر اندرونی طور پر بالکل ہی بجھے ہوئے ہیں؟
https://telegram.me/ilmokitab
از: طارق علی عباسی
غفلت کیا ہے؟ غفلت دراصل خود سے غافل ہوکر اپنے مقصدِ حیات کو بھلا ڈالنا ہے، یہ غفلت دل، ضمیر اور اندرونی احساسات کی معطلی کا نام ہے۔ یہ سچ ہے کہ جب اندرونی احساسات کی بیداری ختم ہوجائے تو اپنے وجود کا شعوری احساس بھی فنا ہوجاتا ہے، پھر بے مقصدیت مقصد کی جگہ لے لیتی ہے اور انسان اپنی حقیقی راہ بھلا بیٹھتا ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ غفلت کا مطلب شاید عارضی طور پر غافل بن جانا ہے، لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ غفلت تو اس کیفیت کا نام ہے جو دل کو لاحق ہوتی ہے، جس کی وجہ سے دل اپنی طاقت، اپنی توانائی، اپنی وضاحت اور اپنی بصیرت کھو دیتا ہے۔ غفلت سے دل زنگ آلود ہوجاتا ہے، پھر ایسا دل دھڑکتا تو ہے، مگر اس کی دھڑکنوں میں وہ توانائی نہیں ہوتی، جو وجدانی کیفیات کو ابھار سکے اور کسی جذبے کے اظہار کا سبب بن سکے۔ غفلت کا مطلب ظاہری اعضاء کی حرکت جاری رہنے کے ساتھ، اندر کا بجھ جانا ہے۔ یعنی دل حرکت تو کرتا ہے، لیکن بغیر شعور کے، زندگی تو گزارتا ہے لیکن بغیر بیداری کے، کام تو کرتا ہے لیکن دیکھتا سمجھتا کچھ نہیں اور سانس تو لیتا ہے لیکن بغیر احساسوں کے!
حقیقت یہ ہے کہ غفلت کا اصل مطلب دل سے اللہ تعالیٰ کی یاد کا غائب ہوجانا اور اس احساس کا ختم ہوجانا ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ آپ کو دیکھ رہی ہے، آپ کے ساتھ ہے اور آپ کی رہنمائی کر رہی ہے۔ قرآن حکیم کے مطابق انسان اپنی شہہ رگ سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہے، اس کے علاوہ حدیثِ جبرئیل اس پر شاہد ہے کہ احسان کا کم درجہ یہ ہے کہ یہ یقین رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے، پورے سلوک و احسان کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ اس احساس کو اپنے دل سے مٹنے نہ دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔ بقول صوفی شاعر شاہ تراب علی قلندرؒ:
دم غنیمت ہے، نہ ہو غافل خدا سے ایک دم
زندگی نعمت ہے غفلت میں اسے کھوتا ہے کیا
اسی کو غفلت کہتے ہیں کہ انسان بڑے مقصد کے احساس کو کھو دے اور اس کا دل غیر اہم چیزوں میں مشغول ہوجائے۔ غافل انسان کبھی بھی مطمئن زندگی نہیں گزارتا، وہ اکثر و بیشتر بے چین رہتا ہے، وہ چھوٹی چھوٹی غیر اہم چیزوں کے بدلے بڑے اہداف کو کچل کر رکھ دیتا ہے۔ غفلت دراصل دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا ہے۔ اگرچہ دنیا کی ہر چیز فنا ہونے والی، عارضی اور وقتی ہے، مگر غافل اسی تگ و دو میں لگا رہتا ہے کہ یہاں کی آسائشوں اور لذتوں میں ایک ہی دھن کے ساتھ مگن رہے، جب کہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔ یوں وہ دنیا ہی کو اپنی توجہ کا مرکز، اپنے خوف کا منبع اور اپنی پریشانی کا سبب بنا لیتا ہے۔ اسی لیے غفلت کوئی وقتی رویہ نہیں ہے، بلکہ ایک بڑی اضطرابی قلبی حالت ہے۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ دلجمعی اور غفلت اکٹھے ہوں؟ ہرگز نہیں۔ غفلت یہ ہے کہ ظاہری زندگی تو ٹھاٹھ باٹھ سے پوری طرح مزین ہو، لیکن اندرونی حیات بجھ چکی ہو۔ عبادات میں دل کا نہ لگنا اس مرض کی شروعات ہے اور عبادات میں دل کا بالکل ہی نہ لگنا یا عبادات و فرائض کا چھوٹ جانا اس مرض کی پختگی ہے۔ غفلت دل کے دروازوں کو بند کردیتی ہے، پھر جلتے اور روشن چراغ بھی بجھے ہوئے لگتے ہیں، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
اس معاملہ میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ غفلت انسان کو یکدم نیچے نہیں گراتی، بلکہ اسے بند گلی کی طرف ایک چھوٹا سا قدم بڑھانے پر مجبور کرتی ہے اور پھر اس پر باہر نکلنے کے راستے بند کردیتی ہے۔ غفلت انسان کی طاقت کو مٹا دیتی ہے، یعنی دل دیکھنے، تمیز کرنے، چلنے، ثابت قدم رہنے، خشوع اختیار کرنے اور انتخاب کرنے کی صلاحیت کو صحیح معنوں میں کھو دیتا ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دل کی یہ طاقت کیوں ختم ہوجاتی ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ دل کی اصل طاقت تو اس کی بصیرت، اس کا عزم، اس کا ارادہ، اس کی محبت، اس کی استقامت اور خواہشاتِ نفس کے خلاف اس کی مزاحمت ہے۔ چنانچہ جب ذکرِ الہٰی دل سے غائب ہوتا ہے تو شعور چلا جاتا ہے اور جب شعور چلا جاتا ہے تو خواہشِ نفس اس میں داخل ہوجاتی ہے اور جب دل میں خواہشِ نفس داخل ہوجائے تو انسان پر وسعتِ فکری کے سارے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ غفلت اپنے آپ کو خواہشِ نفس اور شہوت کا قیدی بنا لینے کی طرف پہلا قدم ہے۔ بڑا ہی محروم ہے وہ انسان، جو خدائے واحد سے اپنی خواہشوں کی وجہ سے دور ہے، کیا ہم نے کبھی محسوس کیا ہے کہ ہمارا دل اللہ تعالیٰ کے قریب ہے یا دور؟ کیا ہمارے دلی احساسات بیدار ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم ظاہری طور پر تو حرکت میں ہیں، مگر اندرونی طور پر بالکل ہی بجھے ہوئے ہیں؟
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
آج اردو زبان وادب کے عظیم مجاہد پنڈت آنند نارائن ملا کا یوم وفات ہے۔ آپ کی وفات مورخہ: ۱۲/ جون ۱۹۹۷ء کو ہوئی تھی، اس مناسبت سے آپ کی آواز میں ریکارڈ شدہ کلام پیش خدمت ہے۔
کلام شاعر بزبان شاعر
علم و جاہ و زور و زر
کلام وآواز: آنند نرائن ملا
لنک
https://telegram.me/ilmokitab
کلام شاعر بزبان شاعر
علم و جاہ و زور و زر
کلام وآواز: آنند نرائن ملا
لنک
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
*وفیات مورخہ: 12/جون*
1903ء حسن علی فیضی۔
1933ء میر ناصر علی دہلوی۔ مدیر صلائے عام ، دہلی ،
1956ء بشیر الدین۔ خان بہادر، مولوی
1969ء محمد اظہر وارثی۔
1977ء شکیل احمد۔ ،
1983ء امین الدین خان۔ نوب لوہارو
1989ء شہزادی نیلوفر فرحت بیگم۔
1991ء وفا ڈبائیوی (محمد حفظ الرحمٰن)۔ ،
1995ء اثر فیض آبادی۔
1996ء افضال احمد خاں شیروانی۔ ،
1997ء آنند نرائن ملا۔ جج، شاعر وادیب ،
1998ء محمد علی رنگون والا۔
1999ء محمد وصی خاں۔ ،
2003ء حسین احمدؒ ( کوٹ دوار)۔ مولانا
2004ء خواجہ غلام صادق۔ ،
2005ء محمودہ سلطانہ۔ ،
2009ء سرفراز احمد نعیمی۔ مولانا
2010ء رشید قیصرانی۔
2020ء گلزار زتشی دہلوی ( پنڈت آنند موہن)۔ شاعر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1903ء حسن علی فیضی۔
1933ء میر ناصر علی دہلوی۔ مدیر صلائے عام ، دہلی ،
1956ء بشیر الدین۔ خان بہادر، مولوی
1969ء محمد اظہر وارثی۔
1977ء شکیل احمد۔ ،
1983ء امین الدین خان۔ نوب لوہارو
1989ء شہزادی نیلوفر فرحت بیگم۔
1991ء وفا ڈبائیوی (محمد حفظ الرحمٰن)۔ ،
1995ء اثر فیض آبادی۔
1996ء افضال احمد خاں شیروانی۔ ،
1997ء آنند نرائن ملا۔ جج، شاعر وادیب ،
1998ء محمد علی رنگون والا۔
1999ء محمد وصی خاں۔ ،
2003ء حسین احمدؒ ( کوٹ دوار)۔ مولانا
2004ء خواجہ غلام صادق۔ ،
2005ء محمودہ سلطانہ۔ ،
2009ء سرفراز احمد نعیمی۔ مولانا
2010ء رشید قیصرانی۔
2020ء گلزار زتشی دہلوی ( پنڈت آنند موہن)۔ شاعر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور کی انتہا پسندی کا ایک تحقیقی جائزہ
. ڈاکٹر محمد سہیل شفیق - June 12, 2026
اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور
کی انتہاپسندی کا ایک تحقیقی جائزہ
مصنف : ڈاکٹر رضا علی عابدی
صفحات : 300 قیمت: درج نہیں
ناشر : افق پبلی کیشنز، کراچی
رابطہ : 03023227850
اسلام کا تصورِ اعتدال زندگی کے ہر پہلو میں توازن، میانہ روی اور انصاف پر مبنی ہے۔ قرآن کریم نے امتِ مسلمہ کو ’’اُمَّۃً وَسَطاً‘‘ (درمیانی امت) قرار دیا ہے، تاکہ وہ افراط و تفریط سے بچ کر اعتدال کی راہ اختیار کرے۔ عبادات ہوں یا معاملات، اخلاق ہوں یا معاشرتی تعلقات… اسلام انسان کو ایسا معتدل رویہ اپنانے کی تعلیم دیتا ہے جو نہ حد سے تجاوز ہو اور نہ کوتاہی۔ یہی اعتدال روحانی بلندی، معاشرتی ہم آہنگی اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔
پیشِ نظر مقالہ ’’اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور کی انتہا پسندی کا ایک تحقیقی جائزہ‘‘ جناب علی رضا عابدی کا پی ایچ۔ ڈی کا تحقیق مقالہ ہے جو انہوں نے ڈاکٹر حافظ محمد ثانی (انچارج ڈین کلیہ معارفِ اسلامیہ، وفاقی اردو یونیورسٹی، کراچی) کی زیرِ نگرانی مکمل کیا ہے۔ فاضل مقالہ نگار نے اس تحقیق میں اسلام کے بنیادی اصول ’’اعتدال‘‘ کو موضوع بنایا ہے اور معاصر دنیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ موضوع عصرِ حاضر کے اہم ترین علمی و فکری مباحث میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اعتدال اسلامی فکر کا بنیادی جوہر ہے اور انتہا پسندی عصرِ حاضر کا سب سے بڑا عالمی بحران۔
مقالہ چار ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں اسلام اور اعتدال کی وضاحت، دوسرے میں موجودہ دور کی انتہا پسندی کا جائزہ، تیسرے میں اسلام کی تعلیماتِ تحمل اور چوتھے میں اصلاحِ معاشرہ کے لیے اعتدال کی راہوں کو بیان کیا گیا ہے۔ مقالہ نگار نے قرآن و سنت کی روشنی میں اعتدال کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے اور اس کے فروغ کے لیے قابلِ عمل تجاویز بھی دی ہیں۔
اگرچہ بعض مباحث غیرضروری طور پر طویل ہیں ، تاہم مجموعی طور پر یہ تحقیق اسلام کے اعتدال پسند مزاج کی توضیح اور انتہا پسندی کے انسداد کے سلسلے میں ایک مفید اور بامقصد کاوش ہے۔
دعا ہے کہ یہ مقالہ موجودہ دور کے فکری اور عملی چیلنجز کو سمجھنے اور اسلام کے اعتدال کے پیغام کو فروغ دینے میں معاون و مفید ثابت ہو۔
. ڈاکٹر محمد سہیل شفیق - June 12, 2026
اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور
کی انتہاپسندی کا ایک تحقیقی جائزہ
مصنف : ڈاکٹر رضا علی عابدی
صفحات : 300 قیمت: درج نہیں
ناشر : افق پبلی کیشنز، کراچی
رابطہ : 03023227850
اسلام کا تصورِ اعتدال زندگی کے ہر پہلو میں توازن، میانہ روی اور انصاف پر مبنی ہے۔ قرآن کریم نے امتِ مسلمہ کو ’’اُمَّۃً وَسَطاً‘‘ (درمیانی امت) قرار دیا ہے، تاکہ وہ افراط و تفریط سے بچ کر اعتدال کی راہ اختیار کرے۔ عبادات ہوں یا معاملات، اخلاق ہوں یا معاشرتی تعلقات… اسلام انسان کو ایسا معتدل رویہ اپنانے کی تعلیم دیتا ہے جو نہ حد سے تجاوز ہو اور نہ کوتاہی۔ یہی اعتدال روحانی بلندی، معاشرتی ہم آہنگی اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔
پیشِ نظر مقالہ ’’اسلام کا تصورِ اعتدال اور موجودہ دور کی انتہا پسندی کا ایک تحقیقی جائزہ‘‘ جناب علی رضا عابدی کا پی ایچ۔ ڈی کا تحقیق مقالہ ہے جو انہوں نے ڈاکٹر حافظ محمد ثانی (انچارج ڈین کلیہ معارفِ اسلامیہ، وفاقی اردو یونیورسٹی، کراچی) کی زیرِ نگرانی مکمل کیا ہے۔ فاضل مقالہ نگار نے اس تحقیق میں اسلام کے بنیادی اصول ’’اعتدال‘‘ کو موضوع بنایا ہے اور معاصر دنیا میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کا تجزیہ کیا ہے۔ یہ موضوع عصرِ حاضر کے اہم ترین علمی و فکری مباحث میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اعتدال اسلامی فکر کا بنیادی جوہر ہے اور انتہا پسندی عصرِ حاضر کا سب سے بڑا عالمی بحران۔
مقالہ چار ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں اسلام اور اعتدال کی وضاحت، دوسرے میں موجودہ دور کی انتہا پسندی کا جائزہ، تیسرے میں اسلام کی تعلیماتِ تحمل اور چوتھے میں اصلاحِ معاشرہ کے لیے اعتدال کی راہوں کو بیان کیا گیا ہے۔ مقالہ نگار نے قرآن و سنت کی روشنی میں اعتدال کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے اور اس کے فروغ کے لیے قابلِ عمل تجاویز بھی دی ہیں۔
اگرچہ بعض مباحث غیرضروری طور پر طویل ہیں ، تاہم مجموعی طور پر یہ تحقیق اسلام کے اعتدال پسند مزاج کی توضیح اور انتہا پسندی کے انسداد کے سلسلے میں ایک مفید اور بامقصد کاوش ہے۔
دعا ہے کہ یہ مقالہ موجودہ دور کے فکری اور عملی چیلنجز کو سمجھنے اور اسلام کے اعتدال کے پیغام کو فروغ دینے میں معاون و مفید ثابت ہو۔
❤2
*غلطی ہائے مضامین*
*دنیا کے اکثر حکمرانوں کامرغوب ترین رقص*
*احمد حاطب صدیقی(ابونثر)*
’ننگ‘ کا لفظ ہمارے ہاں فارسی سے آیا تھا۔یہاں آتے ہی ’ننگا‘ ہوگیا۔ مگر لفظِ ننگ بھی اُردو میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی ہیں ’شرم، لحاظ، غیرت، حیا،خِفّت، رُسوائی، عیب، ذلت، سُبکی، بدنامی، فضیحتی اور عار‘۔نواب مصطفی خان شیفتہؔ کایہ شعر اُن لوگوں کی شان میں اکثر پڑھا جاتا ہے، جن کو شہرت حاصل کرنے کی دُھن میں شرم، لحاظ، رسوائی، ذلت، سُبکی یا خِفّت کااحساس چھو کر بھی نہیں گزرا ہوتا۔یہ بڑے ڈھیٹ لوگ ہوتے ہیں۔شعر سن کر بھی مُسکراتے رہتے ہیں۔جی چاہے توآپ بھی یہ شعر پڑھ کراُن پر مُسکرا لیجے:
ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا؟
نام کے ساتھ ’ننگ‘ لگا کر ’ننگ و نام‘ کہا جائے تو اس کا مطلب عزت و حرمت اور عفت و عصمت لیا جائے گا۔اسی مفہوم کو ’ننگ و ناموس‘ کی ترکیب سے بھی ادا کیا جاتا ہے۔غالبؔ نے عشق کے چکر میں پڑ کر اپنا گھر برباد کر لیا،بے عزت ہوئے اور پچھتاتے پھرے کہ
لو وہ بھی کہتے ہیں کہ ”یہ بے ننگ و نام ہے“
یہ جانتا اگر، تو لُٹاتا نہ گھر کو میں
گھر کے لوگوں کی ذلت و رُسوائی کا سبب بن جانے والے شخص کو ’ننگِ خاندان‘ قرار دیا جاتا ہے۔ مراد ہے خاندان کی عزت و ناموس کو بٹّا لگانے والا۔ بٹّا لگانے والے تو ملک و ملت کی عزت و ناموس کو بھی بٹّا لگا دیتے ہیں۔علامہ اقبالؔ نے ”جاوید نامہ“ میں ارواحِ رذیلہ کا ذکر کرتے ہوئے شدید دُکھ کا اظہار کیا ہے کہ صرف ’دو تَن‘ (یعنی دو افراد) کے ذاتی مفادات کی تکمیل میں پوری قوم کی رُوح کچلی گئی:
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
دین و وطن اور آدمیت کی بدنامی بیان کرنے کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ’ننگ‘ اُردو میں عریانی، بے لباسی اور مفلسی کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔بالکل برہنہ شخص کو ’ننگ دھڑنگ‘ کہہ دیا جاتا ہے، مجازاً بے شرم اور بے حیاکو کہتے ہیں۔ ’ننگ دھڑنگ‘ ایسے مفلس کو بھی کہا جاتا ہے جس کے پاس پہننے کو لنگوٹی تک نہ ہو۔مثلاً:”کاروبار میں نقصان کے بعدنتھو تو بالکل ننگ دھڑنگ ہوگیا ہے“۔
’لنگوٹی‘ کے ذکر پر یاد آیا کہ مولانا ظفر علی خان نے اقبالؔ کے محولہ بالا شعر کی ایک تضمینِ معکوس (Parody) کی ہے۔برعظیم کے دو مشہور لیڈر، موہن داس کرم چند گاندھی اور اچاریہ ونوبا بھاوے اپنی سادگی کا اظہار کرنے کو مجمعِ عام میں بھی ننگ دھڑنگ پھرا کرتے تھے، فقط ایک لنگوٹی سے سترپوشی کیے ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ گاندھی جی کو ستمبر1921ء میں مدراس کے دورے کے موقعے پر احساس ہوا کہ ملک کے کروڑوں غریب عوام کو تن ڈھانپنے کے لیے پورے کپڑے بھی میسر نہیں ہیں۔ یہ احساس ہوتے ہی اُنھوں نے غربا سے اپنا فاصلہ گھٹانے کا فی الفور فیصلہ کیا اور ملک کے کم لباسوں سے یکجہتی کا اظہارکرنے کو اپنے تن کے کپڑے بھی اُتار کر کم کر دیے۔ اچاریہ ونوبا بھاوے نے بھی گاندھی جی کی تقلید کی۔ اِس پر مولانا ظفر علی خان نے برعظیم کے اِن دونوں عظیم لیڈروں کو اپنے اس شعر سے خراجِ تضمین پیش کیا:
گاندھی از گجرات، بھاوے از دکن
ننگے پاؤں، ننگے سر، ننگے بدن
اقبالؔ کے شعر میں جن دو ”لیڈروں“ کا نام آیا ہے، اُنھوں نے تو برعظیم میں انگریزوں کی آمد کے موقعے پر ’ننگئی‘ دکھائی تھی، جب کہ مولانا ظفر علی خان کے شعر میں جگہ پانے والے دونوں لیڈروں نے وہ زمانہ پایا جب انگریز برعظیم سے روانہ ہونے والے تھے۔
’ننگا‘ کا استعمال ’مفلس‘ کے معنوں میں اُس ”گزارشِ مصنف بحضورِ شاہ“ میں بھی ملتا ہے، جو چچا غالبؔ نے اپنی تنخواہ کی ادائی سالانہ کی جگہ ماہانہ کروانے کو بطور منظوم درخواست دربارِ شاہی میں کی تھی۔عُذر اور عرض داشت دونوں ملاحظہ فرمائیے:
آپ کا بندہ اور پھروں ننگا؟
آپ کا نوکر اور کھاؤں اُدھار؟
میری تنخواہ کیجیے ماہ بہ ماہ
تا، نہ ہو مجھ کو زندگی دُشوار
زندگی خواتین کی زیادہ دُشوار ہوتی ہے۔ اُنھیں زرتار لباس بھی درکار ہوتے ہیں اور گہنا پاتا یعنی زیور بھی۔کسی خاتون کے پاس زیور ہو نہ زرتار لباس، یعنی وہ مفلس و قلاش اور تہی دست ہو، تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے کہ ”ننگی کیا نہائے گی، کیا نچوڑے گی“۔ اس ضرب المثل کو مرد بھی استعمال کر سکتے ہیں، مگرمرد ضرب المثل کے الفاظ بدلنے کی حماقت نہ کریں۔شادؔ عظیم آبادی نے اپنی مفلسی کا اظہار یوں کیا تھا:
کاٹو تو لہو نہیں بدن میں
کیا ننگی نہائے، کیا نچوڑے
جب کہ انشاء اللہ خان انشاؔ نے دنیا ہی کو بے لباس بمعنی مفلس و قلاش قرار دے ڈالا تھا:
کوئی دنیا سے کیا بھلا مانگے
وہ تو بے چاری آپ ننگی ہے
*دنیا کے اکثر حکمرانوں کامرغوب ترین رقص*
*احمد حاطب صدیقی(ابونثر)*
’ننگ‘ کا لفظ ہمارے ہاں فارسی سے آیا تھا۔یہاں آتے ہی ’ننگا‘ ہوگیا۔ مگر لفظِ ننگ بھی اُردو میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے، جس کے معنی ہیں ’شرم، لحاظ، غیرت، حیا،خِفّت، رُسوائی، عیب، ذلت، سُبکی، بدنامی، فضیحتی اور عار‘۔نواب مصطفی خان شیفتہؔ کایہ شعر اُن لوگوں کی شان میں اکثر پڑھا جاتا ہے، جن کو شہرت حاصل کرنے کی دُھن میں شرم، لحاظ، رسوائی، ذلت، سُبکی یا خِفّت کااحساس چھو کر بھی نہیں گزرا ہوتا۔یہ بڑے ڈھیٹ لوگ ہوتے ہیں۔شعر سن کر بھی مُسکراتے رہتے ہیں۔جی چاہے توآپ بھی یہ شعر پڑھ کراُن پر مُسکرا لیجے:
ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا؟
نام کے ساتھ ’ننگ‘ لگا کر ’ننگ و نام‘ کہا جائے تو اس کا مطلب عزت و حرمت اور عفت و عصمت لیا جائے گا۔اسی مفہوم کو ’ننگ و ناموس‘ کی ترکیب سے بھی ادا کیا جاتا ہے۔غالبؔ نے عشق کے چکر میں پڑ کر اپنا گھر برباد کر لیا،بے عزت ہوئے اور پچھتاتے پھرے کہ
لو وہ بھی کہتے ہیں کہ ”یہ بے ننگ و نام ہے“
یہ جانتا اگر، تو لُٹاتا نہ گھر کو میں
گھر کے لوگوں کی ذلت و رُسوائی کا سبب بن جانے والے شخص کو ’ننگِ خاندان‘ قرار دیا جاتا ہے۔ مراد ہے خاندان کی عزت و ناموس کو بٹّا لگانے والا۔ بٹّا لگانے والے تو ملک و ملت کی عزت و ناموس کو بھی بٹّا لگا دیتے ہیں۔علامہ اقبالؔ نے ”جاوید نامہ“ میں ارواحِ رذیلہ کا ذکر کرتے ہوئے شدید دُکھ کا اظہار کیا ہے کہ صرف ’دو تَن‘ (یعنی دو افراد) کے ذاتی مفادات کی تکمیل میں پوری قوم کی رُوح کچلی گئی:
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
دین و وطن اور آدمیت کی بدنامی بیان کرنے کے لیے استعمال ہونے والا لفظ ’ننگ‘ اُردو میں عریانی، بے لباسی اور مفلسی کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔بالکل برہنہ شخص کو ’ننگ دھڑنگ‘ کہہ دیا جاتا ہے، مجازاً بے شرم اور بے حیاکو کہتے ہیں۔ ’ننگ دھڑنگ‘ ایسے مفلس کو بھی کہا جاتا ہے جس کے پاس پہننے کو لنگوٹی تک نہ ہو۔مثلاً:”کاروبار میں نقصان کے بعدنتھو تو بالکل ننگ دھڑنگ ہوگیا ہے“۔
’لنگوٹی‘ کے ذکر پر یاد آیا کہ مولانا ظفر علی خان نے اقبالؔ کے محولہ بالا شعر کی ایک تضمینِ معکوس (Parody) کی ہے۔برعظیم کے دو مشہور لیڈر، موہن داس کرم چند گاندھی اور اچاریہ ونوبا بھاوے اپنی سادگی کا اظہار کرنے کو مجمعِ عام میں بھی ننگ دھڑنگ پھرا کرتے تھے، فقط ایک لنگوٹی سے سترپوشی کیے ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ گاندھی جی کو ستمبر1921ء میں مدراس کے دورے کے موقعے پر احساس ہوا کہ ملک کے کروڑوں غریب عوام کو تن ڈھانپنے کے لیے پورے کپڑے بھی میسر نہیں ہیں۔ یہ احساس ہوتے ہی اُنھوں نے غربا سے اپنا فاصلہ گھٹانے کا فی الفور فیصلہ کیا اور ملک کے کم لباسوں سے یکجہتی کا اظہارکرنے کو اپنے تن کے کپڑے بھی اُتار کر کم کر دیے۔ اچاریہ ونوبا بھاوے نے بھی گاندھی جی کی تقلید کی۔ اِس پر مولانا ظفر علی خان نے برعظیم کے اِن دونوں عظیم لیڈروں کو اپنے اس شعر سے خراجِ تضمین پیش کیا:
گاندھی از گجرات، بھاوے از دکن
ننگے پاؤں، ننگے سر، ننگے بدن
اقبالؔ کے شعر میں جن دو ”لیڈروں“ کا نام آیا ہے، اُنھوں نے تو برعظیم میں انگریزوں کی آمد کے موقعے پر ’ننگئی‘ دکھائی تھی، جب کہ مولانا ظفر علی خان کے شعر میں جگہ پانے والے دونوں لیڈروں نے وہ زمانہ پایا جب انگریز برعظیم سے روانہ ہونے والے تھے۔
’ننگا‘ کا استعمال ’مفلس‘ کے معنوں میں اُس ”گزارشِ مصنف بحضورِ شاہ“ میں بھی ملتا ہے، جو چچا غالبؔ نے اپنی تنخواہ کی ادائی سالانہ کی جگہ ماہانہ کروانے کو بطور منظوم درخواست دربارِ شاہی میں کی تھی۔عُذر اور عرض داشت دونوں ملاحظہ فرمائیے:
آپ کا بندہ اور پھروں ننگا؟
آپ کا نوکر اور کھاؤں اُدھار؟
میری تنخواہ کیجیے ماہ بہ ماہ
تا، نہ ہو مجھ کو زندگی دُشوار
زندگی خواتین کی زیادہ دُشوار ہوتی ہے۔ اُنھیں زرتار لباس بھی درکار ہوتے ہیں اور گہنا پاتا یعنی زیور بھی۔کسی خاتون کے پاس زیور ہو نہ زرتار لباس، یعنی وہ مفلس و قلاش اور تہی دست ہو، تو یہ کہاوت کہی جاتی ہے کہ ”ننگی کیا نہائے گی، کیا نچوڑے گی“۔ اس ضرب المثل کو مرد بھی استعمال کر سکتے ہیں، مگرمرد ضرب المثل کے الفاظ بدلنے کی حماقت نہ کریں۔شادؔ عظیم آبادی نے اپنی مفلسی کا اظہار یوں کیا تھا:
کاٹو تو لہو نہیں بدن میں
کیا ننگی نہائے، کیا نچوڑے
جب کہ انشاء اللہ خان انشاؔ نے دنیا ہی کو بے لباس بمعنی مفلس و قلاش قرار دے ڈالا تھا:
کوئی دنیا سے کیا بھلا مانگے
وہ تو بے چاری آپ ننگی ہے
❤2
’ننگی‘ کا لفظ منفی معنوں ہی میں استعمال نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی کسی کی جرأت، بے باکی، بے خوفی اور صاف گوئی کی تحسین کے لیے بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ ”فلاں صاحب تو ننگی تلوار ہیں“۔جب کہ حقیقتاً ننگی تلوار وہ تلوار ہوتی ہے جو میان (یا نیام) میں نہ ہو۔ تلوار جب تک نیام میں رہتی ہے، تب تک اُس سے کسی کو خطرہ نہیں ہوتا۔ لیکن اگر کوئی ننگی تلوار نیام سے باہر لیے گھوم رہا ہو تو اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ آج وہ کسی کا کام تمام کرنے جا رہا ہے۔ تلوار نہ ہو تو چھری سے بھی کام چل جاتا ہے، مگر کوئی چھری تلے آنے والا دستیاب تو ہو۔ اشرفؔ کہتے ہیں:
دل لگی اس کی نہ تھی، خوش اس لیے قاتل نہ تھا
ہاتھ میں ننگی چھری تھی، سامنے بسمل نہ تھا
چھری اور تلوار ہی نہیں، کوئی بھی شے اپنے غلاف، لباس یا آپے سے باہر ہو تو اُسے ’ننگا‘ قرار دے ڈالا جاتا ہے۔بجلی کے تار پربطور ’حاجز‘ پلاسٹک کا جو ملمع چڑھایا جاتا ہے، اگر تار اُس کے بغیر ہو توبجلی کا وہ تار ’ننگا تار‘ کہلائے گا۔ایسا پہاڑ جو سبزے کی پوشاک سے عاری ہو، نہ اُس پر گھاس اُگتی ہو، نہ اُس پر پھول کھلتے ہوں، اُسے ’ننگا پہاڑ‘ کہا جاتا ہے۔ جس زمین پر سبزہ نہ ہو،اور بیٹھنے کے لیے کوئی چٹائی وغیرہ نہ بچھائی گئی ہو، وہ زمین ’ننگی زمین‘ ہے اور ایسا فرش ’ننگا فرش‘۔ خزاں رسیدہ ٹنڈ منڈ درخت کو بھی’ننگا پیڑ‘ کہتے ہیں۔ہاتھی یا گھوڑے کی پیٹھ پر اگر ہودج یا زین نہ ہو تو اُس کی پیٹھ ’ننگی پیٹھ‘ کہلائے گی۔ کسی خاتون کے ہاتھ میں چُوڑی یا کوئی اور زیور نہ ہوتوایسے خالی زنانہ ہاتھ کوخود خواتین ’ننگا ہاتھ‘ قرار دیتی ہیں اور جو ناچ کپڑوں کے بغیر ناچا جائے اُسے اہلِ نظر یا اہلِ نظارہ ’ننگا ناچ‘ کہوے ہیں۔یہی ناچ دنیا کے اکثر حکمرانوں کامرغوب ترین ناچ ہے،جو وہ بڑی دھوم دھام سے اُس وقت تک ناچتے رہتے ہیں جب تک چکرا کر دھڑام سے گر نہ جائیں۔ بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
٭٭
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
دل لگی اس کی نہ تھی، خوش اس لیے قاتل نہ تھا
ہاتھ میں ننگی چھری تھی، سامنے بسمل نہ تھا
چھری اور تلوار ہی نہیں، کوئی بھی شے اپنے غلاف، لباس یا آپے سے باہر ہو تو اُسے ’ننگا‘ قرار دے ڈالا جاتا ہے۔بجلی کے تار پربطور ’حاجز‘ پلاسٹک کا جو ملمع چڑھایا جاتا ہے، اگر تار اُس کے بغیر ہو توبجلی کا وہ تار ’ننگا تار‘ کہلائے گا۔ایسا پہاڑ جو سبزے کی پوشاک سے عاری ہو، نہ اُس پر گھاس اُگتی ہو، نہ اُس پر پھول کھلتے ہوں، اُسے ’ننگا پہاڑ‘ کہا جاتا ہے۔ جس زمین پر سبزہ نہ ہو،اور بیٹھنے کے لیے کوئی چٹائی وغیرہ نہ بچھائی گئی ہو، وہ زمین ’ننگی زمین‘ ہے اور ایسا فرش ’ننگا فرش‘۔ خزاں رسیدہ ٹنڈ منڈ درخت کو بھی’ننگا پیڑ‘ کہتے ہیں۔ہاتھی یا گھوڑے کی پیٹھ پر اگر ہودج یا زین نہ ہو تو اُس کی پیٹھ ’ننگی پیٹھ‘ کہلائے گی۔ کسی خاتون کے ہاتھ میں چُوڑی یا کوئی اور زیور نہ ہوتوایسے خالی زنانہ ہاتھ کوخود خواتین ’ننگا ہاتھ‘ قرار دیتی ہیں اور جو ناچ کپڑوں کے بغیر ناچا جائے اُسے اہلِ نظر یا اہلِ نظارہ ’ننگا ناچ‘ کہوے ہیں۔یہی ناچ دنیا کے اکثر حکمرانوں کامرغوب ترین ناچ ہے،جو وہ بڑی دھوم دھام سے اُس وقت تک ناچتے رہتے ہیں جب تک چکرا کر دھڑام سے گر نہ جائیں۔ بہ شکریہ فرائیڈے اسپیشل
٭٭
علم وکتاب https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
شروحِ تورات کی افادیت
مولانا احمد رضا بجنوری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللّٰه علیہ نے فرمایا کہ تورات کی شروح میں بہت سی چیزیں مسلمانوں کے لیے کار آمد ہیں، مثلاً: عرب و شام وغیرہ کا پورا جغرافیہ، انبیاء علیہم السلام کی پیدائش و نسب وغیرہ کے حالات اور اس میں سے تمام وہ باتیں لی جاسکتی ہیں، جو اسلام کے خلاف نہ ہوں۔
(افاداتِ علامہ کشمیریؒ و علامہ عثمانیؒ/صفحہ: ۵۳/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
مولانا احمد رضا بجنوری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللّٰه علیہ نے فرمایا کہ تورات کی شروح میں بہت سی چیزیں مسلمانوں کے لیے کار آمد ہیں، مثلاً: عرب و شام وغیرہ کا پورا جغرافیہ، انبیاء علیہم السلام کی پیدائش و نسب وغیرہ کے حالات اور اس میں سے تمام وہ باتیں لی جاسکتی ہیں، جو اسلام کے خلاف نہ ہوں۔
(افاداتِ علامہ کشمیریؒ و علامہ عثمانیؒ/صفحہ: ۵۳/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤5
کیا ہم مسلمان ہیں (٤١) سورج چھپ گیا.... روشنی باقی ہے (پانچويں اور آخری قسط)
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
پُرانے زمانے کی مخصوص بڑی بوڑھیوں کی طرح امام صاحبؒ کی والدہ کو شہر کے واعظوں سے بڑی عقیدت تھی ۔ وہ دینی مسئلہ میں کوئی تحقیق کرنا چاہتیں تو امام صاحبؒ سے پوچھنے کے بجائے ان کو شہر کے مشہور واعظ عمرو بن زرقہؒ کے پاس دوڑایا کرتی تھیں اور وقت کا جلیل القدر امام اپنی ماں کے حکم کی تعمیل میں ایک طالبِ علم کی طرح واعظِ شہر کی خدمت میں حاضر ہوتا تو خود عمرو بن زرقہؒ پکار اُٹھتے " ارے بھئی ! ــــ آپ کے سامنے میں کیا منہ کھول سکتا ہوں امام صاحب ــــ!"
"نہیں" امام صاحبؒ بوڑھی والدہ کے سعادت مند بیٹے کے انداز میں عجز و انکسار کے ساتھ اصرار کرتے " نہیں آپ ہی فرمائیے ۔ اماں جی نےایسا ہی حکم دیا ہے۔"
"اچھا تو آپ مجھے یہ مسئلہ بتا دیجیے ۔" واعظ شہر لاچار ہو کر کہتے " میں اس کو آپ کے سامنے دہرا دوں گا۔"
کبھی کبھی والدہ کے شک وشبہ سے نوبت یہاں تک آتی کہ وہ حکم دیتیں مجھے خود ورقہ واعظ کے پاس لے کر چلو، میں خود مسئلہ معلوم کروں گی ـــ اور فوراً امام صاحبؒ اپنی محترمہ ماں کو خچر پر سوار کراتے لگام ہاتھ میں لے کر پیادہ پا ساتھ ساتھ دوڑتے اور ماں کی تسلّی کرا کے ان کے دل و رُوح کو سکون ہوتا تھا۔
__***___
دوسروں کے لیے رِقّتِ قلب کا تو یہ عام تھا کہ کِسی کی تکلیف دیکھنا تو کیسا سکون سے سُن بھی نہ سکتے تھے ۔ ایک دفعہ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ کسی نے خبر سُنادی کہ فلاں شخص کو ٹھے پر سے نیچے گر پڑا ۔ امام صاحبؒ کے دل پر بجلی سی گری اور وہ دفعتًہ اس زور سے چیخ اُٹھے کہ مسجد میں تہلکہ پڑ گیا۔ حلقۂ درس چھوڑ چھاڑ کر ننگے پاؤں اس شخص کے گھر دوڑے ہوئے آئے اور بہت کچھ دلاسا دے کر واپس ہوئے اور جب تک وہ شفایاب نہ ہوگیا امام صاحبؒ نے اس کی عیادت کو ناغہ نہ ہونے دیا ۔
دُوسری طرف خود اپنے لیے اس قدر مستقل مزاج اور خطر پسند حد تک جری تھے کہ مسجد میں درس دے رہے تھے اور ایک سیاہ سانپ چھت سے گر کر امامؒ کی گود میں آپڑا ــــــــ تمام لوگ بے اختیار گھبراکر بھاگے اور امام صاحبؒ ــــــــ ؟ وہ تو اطمینان سے وہیں کے وہیں بیٹھے ہوئے تھے!
___
"امام صاحبؒ" ایک بار کسی نے حیرت کا اظہار کیا " لوگ آپ کی شان میں کیا کچھ نہیں کہتے مگر آپ ہیں کہ آپ کی زبان سے کبھی کسی کی بُرائی سننے کو کان ترستے ہیں !"
"ہاں بھائی ! " امام صاحبؒ نے سکون اور احساسِ نعمت کا ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے کہا " یہ خدا کا فضل ہے جس کو وہ چاہتا ہے عطا کرتا ہے-"
امام سفیان ثوریؒ کے سامنے ایک بار ذکر آیا کہ ابو حنیفہؒ کی زبان سے کبھی کسی کی غیبت نہیں سُنی گئی ۔ امام ثوریؒ نے کہا " ابوحنیفہؒ ایسے بے وقوف نہیں کہ اپنے اعمال صالح کو برباد کرتے پھریں۔"
_____
انسانوں کے درمیان جس شخص کی شرافت و پاک بازی کا یہ عالم تھا وہ جب خدا کے سامنے جاتا تھا تو اس کا عالم دیدنی ہوتا ــــ نماز میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے کرتے ان کی آواز کانپ اُٹھتی ،اگر یہ طاری ہوتا اور پھوٹ پھوٹ کر رویا کرتے تھے ۔ ابراہیم بصریؒ نے دیکھا کہ نمازِ فجر میں امام صاحبؒ نے قرآن کی ایک آیت پڑھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ " خدا کو ظلم کرنے والوں کی چال سے بے خبر نہ سمجھ لینا " امام صاحبؒ پر خشیت کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ کھڑے کھڑے پورے جسم پر لرزہ پڑ گیا اور ٹانگیں تھر تھرانے لگیں ، دوسرے شخص زائدہ کا کہنا ہے کہ میں ایک بار نمازِ عشاء میں امام صاحبؒ کے ساتھ شریک ہوا اور منتظر بیٹھا رہا کہ وہ نوافل سے فارغ ہوں تو فلاں مسئلہ دریافت کروں ۔ مگر امام صاحبؒ قرآن پڑھتے پڑھتے وَوَقٰنَا عَذَابِ السَّمُومْ کے ٹکڑے پر پہنچے تو جیسے اس آیت کی زہرہ گدازیوں نے ان کو خوفِ عذاب سے بے قرار کر دیا ــــ رات بھر وہ یہی آیت پڑھتے رہے اور روتے رہے یہاں تک کہ ســپیدۂ سحر نمودار ہو گیا ۔
مشہور ہم عصر عابد یزید بن کمیت نے کہا کہ ایک بار نمازِ عشاء میں امام صاحبؒ نے " اِذَا زُلْزِلَت " پڑھی لوگ نماز پڑھ کر چلے گئے۔ میں ٹھہرا رہا۔ دیکھا کہ امام ابو حنیفہؒ سر جھکائے استغراق میں بیٹھے ہیں اور رہ رہ کرٹھنڈی آہیں بھرنے کی آواز ان کے سینے سے نکلتی ہے اور ڈوب جاتی ہے ۔ ان کی اس غم ناک کیفیت میں خلل انداز ہونے کے بجائے مَیں چپکے سے اُٹھ کر چلا آیا۔ صبح کی نماز کو پہنچا تو دیکھا کہ امام صاحبؒ اسی عالم میں اسی جگہ بیٹھے ہیں اور داڑھی ہاتھ میں ہے اور سـسکیاں بھرتے ہوئے خُدا سے کہہ رہے ہیں "اے وہ جو ذرّہ بھر نیکی اور بدی کا بدلہ دے گا۔ اپنے غلام نعمان کو آگ سے بچائیو۔ آگ سے بچائیو!!"
____
ایک دن بازار میں چلے جارہے تھے کہ کسی لڑکے کے پاؤں پر پاؤں پڑ گیا وہ چیخ اُٹھا اور کہا:
" "تو خُدا سے نہیں ڈرتا ؟
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
پُرانے زمانے کی مخصوص بڑی بوڑھیوں کی طرح امام صاحبؒ کی والدہ کو شہر کے واعظوں سے بڑی عقیدت تھی ۔ وہ دینی مسئلہ میں کوئی تحقیق کرنا چاہتیں تو امام صاحبؒ سے پوچھنے کے بجائے ان کو شہر کے مشہور واعظ عمرو بن زرقہؒ کے پاس دوڑایا کرتی تھیں اور وقت کا جلیل القدر امام اپنی ماں کے حکم کی تعمیل میں ایک طالبِ علم کی طرح واعظِ شہر کی خدمت میں حاضر ہوتا تو خود عمرو بن زرقہؒ پکار اُٹھتے " ارے بھئی ! ــــ آپ کے سامنے میں کیا منہ کھول سکتا ہوں امام صاحب ــــ!"
"نہیں" امام صاحبؒ بوڑھی والدہ کے سعادت مند بیٹے کے انداز میں عجز و انکسار کے ساتھ اصرار کرتے " نہیں آپ ہی فرمائیے ۔ اماں جی نےایسا ہی حکم دیا ہے۔"
"اچھا تو آپ مجھے یہ مسئلہ بتا دیجیے ۔" واعظ شہر لاچار ہو کر کہتے " میں اس کو آپ کے سامنے دہرا دوں گا۔"
کبھی کبھی والدہ کے شک وشبہ سے نوبت یہاں تک آتی کہ وہ حکم دیتیں مجھے خود ورقہ واعظ کے پاس لے کر چلو، میں خود مسئلہ معلوم کروں گی ـــ اور فوراً امام صاحبؒ اپنی محترمہ ماں کو خچر پر سوار کراتے لگام ہاتھ میں لے کر پیادہ پا ساتھ ساتھ دوڑتے اور ماں کی تسلّی کرا کے ان کے دل و رُوح کو سکون ہوتا تھا۔
__***___
دوسروں کے لیے رِقّتِ قلب کا تو یہ عام تھا کہ کِسی کی تکلیف دیکھنا تو کیسا سکون سے سُن بھی نہ سکتے تھے ۔ ایک دفعہ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ کسی نے خبر سُنادی کہ فلاں شخص کو ٹھے پر سے نیچے گر پڑا ۔ امام صاحبؒ کے دل پر بجلی سی گری اور وہ دفعتًہ اس زور سے چیخ اُٹھے کہ مسجد میں تہلکہ پڑ گیا۔ حلقۂ درس چھوڑ چھاڑ کر ننگے پاؤں اس شخص کے گھر دوڑے ہوئے آئے اور بہت کچھ دلاسا دے کر واپس ہوئے اور جب تک وہ شفایاب نہ ہوگیا امام صاحبؒ نے اس کی عیادت کو ناغہ نہ ہونے دیا ۔
دُوسری طرف خود اپنے لیے اس قدر مستقل مزاج اور خطر پسند حد تک جری تھے کہ مسجد میں درس دے رہے تھے اور ایک سیاہ سانپ چھت سے گر کر امامؒ کی گود میں آپڑا ــــــــ تمام لوگ بے اختیار گھبراکر بھاگے اور امام صاحبؒ ــــــــ ؟ وہ تو اطمینان سے وہیں کے وہیں بیٹھے ہوئے تھے!
___
"امام صاحبؒ" ایک بار کسی نے حیرت کا اظہار کیا " لوگ آپ کی شان میں کیا کچھ نہیں کہتے مگر آپ ہیں کہ آپ کی زبان سے کبھی کسی کی بُرائی سننے کو کان ترستے ہیں !"
"ہاں بھائی ! " امام صاحبؒ نے سکون اور احساسِ نعمت کا ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے کہا " یہ خدا کا فضل ہے جس کو وہ چاہتا ہے عطا کرتا ہے-"
امام سفیان ثوریؒ کے سامنے ایک بار ذکر آیا کہ ابو حنیفہؒ کی زبان سے کبھی کسی کی غیبت نہیں سُنی گئی ۔ امام ثوریؒ نے کہا " ابوحنیفہؒ ایسے بے وقوف نہیں کہ اپنے اعمال صالح کو برباد کرتے پھریں۔"
_____
انسانوں کے درمیان جس شخص کی شرافت و پاک بازی کا یہ عالم تھا وہ جب خدا کے سامنے جاتا تھا تو اس کا عالم دیدنی ہوتا ــــ نماز میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے کرتے ان کی آواز کانپ اُٹھتی ،اگر یہ طاری ہوتا اور پھوٹ پھوٹ کر رویا کرتے تھے ۔ ابراہیم بصریؒ نے دیکھا کہ نمازِ فجر میں امام صاحبؒ نے قرآن کی ایک آیت پڑھی جس کا مفہوم یہ ہے کہ " خدا کو ظلم کرنے والوں کی چال سے بے خبر نہ سمجھ لینا " امام صاحبؒ پر خشیت کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ کھڑے کھڑے پورے جسم پر لرزہ پڑ گیا اور ٹانگیں تھر تھرانے لگیں ، دوسرے شخص زائدہ کا کہنا ہے کہ میں ایک بار نمازِ عشاء میں امام صاحبؒ کے ساتھ شریک ہوا اور منتظر بیٹھا رہا کہ وہ نوافل سے فارغ ہوں تو فلاں مسئلہ دریافت کروں ۔ مگر امام صاحبؒ قرآن پڑھتے پڑھتے وَوَقٰنَا عَذَابِ السَّمُومْ کے ٹکڑے پر پہنچے تو جیسے اس آیت کی زہرہ گدازیوں نے ان کو خوفِ عذاب سے بے قرار کر دیا ــــ رات بھر وہ یہی آیت پڑھتے رہے اور روتے رہے یہاں تک کہ ســپیدۂ سحر نمودار ہو گیا ۔
مشہور ہم عصر عابد یزید بن کمیت نے کہا کہ ایک بار نمازِ عشاء میں امام صاحبؒ نے " اِذَا زُلْزِلَت " پڑھی لوگ نماز پڑھ کر چلے گئے۔ میں ٹھہرا رہا۔ دیکھا کہ امام ابو حنیفہؒ سر جھکائے استغراق میں بیٹھے ہیں اور رہ رہ کرٹھنڈی آہیں بھرنے کی آواز ان کے سینے سے نکلتی ہے اور ڈوب جاتی ہے ۔ ان کی اس غم ناک کیفیت میں خلل انداز ہونے کے بجائے مَیں چپکے سے اُٹھ کر چلا آیا۔ صبح کی نماز کو پہنچا تو دیکھا کہ امام صاحبؒ اسی عالم میں اسی جگہ بیٹھے ہیں اور داڑھی ہاتھ میں ہے اور سـسکیاں بھرتے ہوئے خُدا سے کہہ رہے ہیں "اے وہ جو ذرّہ بھر نیکی اور بدی کا بدلہ دے گا۔ اپنے غلام نعمان کو آگ سے بچائیو۔ آگ سے بچائیو!!"
____
ایک دن بازار میں چلے جارہے تھے کہ کسی لڑکے کے پاؤں پر پاؤں پڑ گیا وہ چیخ اُٹھا اور کہا:
" "تو خُدا سے نہیں ڈرتا ؟
❤3
یہ سُنتے ہی امام صاحبؒ سڑک پر غش کھا کر گر پڑے ــــ ہوش آنے پر جب پوچھا گیا کہ ایک لڑکے کی بات پر اس قدر متاثر ہونے کی کیا ضرورت تھی تو فرمایا " کیا عجب کہ اس کی زبان سے غیبی آواز نے مجھے تنبیہہ کی ہو!"
ایک دفعہ کسی کو مسئلہ بتارہے تھے کہ وہ شخص کہ اُٹھا:
ابو حنیفہؒ ! خدا سے ڈر کر فتوی دیا کرو " یہ الفاظ سنتے ہی امام صاحبؒ خوف وخشیّت سے پيلے پڑ گئے۔ تھر تھراتی ہوئی آواز میں فرمایا " بھائی خُدا تمہارا بھلا کرے اگر مجھ کو یہ یقین نہ ہوتا کہ خدا مجھ سے مواخذہ کرے گا کہ تو نے جان بوجھ کر علم کو کیوں چھپایا تو مَیں ہرگز زبان نہ کھولتا!"
مشہور بزرگ حضرت فضیل بن عیاضؒ نے جب یہ سُنا کہ امام صاحبؒ کو اگر کسی مسئلے میں ذرا دشواری پیش آتی تو یہ سوچ کر رونے لگتے کہ ضرور کسی گناہ کی شامت میں پکڑ ہوگئی ہے فوراً وضو کرتے ــــ خدا کے آگے سجدہ ریز ہو جاتے اور رو رو کر تو بہ کرتے تھے۔" یہ معلوم کر کے حضرت فضیلؒ پکار اُٹھے کہ : ابو حنیفہؒ کے گناہ بہت کم تھے اس لیے ان کو یہ خیال دامن گیر ہوتا تھا جو لوگ گناہوں میں سر سے پاؤں تک ڈُوبے ہوئے ہیں ان پر ہزار آفتیں آتی ہیں اور مطلق احساس نہیں ہوتا کہ یہ کوئی غیبی تنبیہہ بھی ہو سکتی ہے ۔"
ہاں یہ اسی بندۂ مومن ہی کا تو واقعہ ہے کہ ایک دن ان کے ملازم نے دوکان کھولی اور بطور فال نیک کے یہ کہہ دیا : "خدا ہمیں جنّت دے“ امام صاحبؒ نے یہ الفاظ سُنے اور خشوع بندگی کی شدّت سے آب دیدہ ہو گئے۔ روتے روتے ہچکی بندھ گئی ۔ دوکان پر بیٹھنا دو بھر ہو گیا ۔ دوکان بند کرائی اور کسی جنگل کی طرف روتے ہوئے نکل گئے واپس آئے اور قدرے سکون ہوا تو ملازم سے کہا ہم اس قابل کہاں ہیں کہ ایسی بڑی بات مُنہ سے نکالیں ــــ ارے ہماری جان عذاب سے ہی بچ جاتے تو بڑی خیریت ہوگی ۔" یہ کہہ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا واقعہ یاد دلایا جو فرمایا کرتے تھے کہ اگر حساب برابر برابر بھی ہو جائے تو میں سمجھوں گا کہ ســستا چھوٹا ۔
___
ایسے ہوتے وہ لوگ جو " مسلمان " کہلائے ـــــ اور ایک ہم بھی ہیں۔ خُدا کے حسین آسـتانے سے بھاگ بھاگ کر ذلیل دنیا کے قدموں پر ناک رگڑنے والے ـــــ ! اور ہم مسلمان ہیں ! ہائے یہ احسانِ عظیم کہ خدا نے ہمیں مسلمان پیدا کیا اور ہائے یہ جاں گداز مسئلہ کہ ابھی ہمیں مسلمان ہی مرنا باقی ہے ـــــ لیکن ..... بس.....
وائے بر حالِ ما!!
Https://telegram.me/ilmokitab
_______
ایک دفعہ کسی کو مسئلہ بتارہے تھے کہ وہ شخص کہ اُٹھا:
ابو حنیفہؒ ! خدا سے ڈر کر فتوی دیا کرو " یہ الفاظ سنتے ہی امام صاحبؒ خوف وخشیّت سے پيلے پڑ گئے۔ تھر تھراتی ہوئی آواز میں فرمایا " بھائی خُدا تمہارا بھلا کرے اگر مجھ کو یہ یقین نہ ہوتا کہ خدا مجھ سے مواخذہ کرے گا کہ تو نے جان بوجھ کر علم کو کیوں چھپایا تو مَیں ہرگز زبان نہ کھولتا!"
مشہور بزرگ حضرت فضیل بن عیاضؒ نے جب یہ سُنا کہ امام صاحبؒ کو اگر کسی مسئلے میں ذرا دشواری پیش آتی تو یہ سوچ کر رونے لگتے کہ ضرور کسی گناہ کی شامت میں پکڑ ہوگئی ہے فوراً وضو کرتے ــــ خدا کے آگے سجدہ ریز ہو جاتے اور رو رو کر تو بہ کرتے تھے۔" یہ معلوم کر کے حضرت فضیلؒ پکار اُٹھے کہ : ابو حنیفہؒ کے گناہ بہت کم تھے اس لیے ان کو یہ خیال دامن گیر ہوتا تھا جو لوگ گناہوں میں سر سے پاؤں تک ڈُوبے ہوئے ہیں ان پر ہزار آفتیں آتی ہیں اور مطلق احساس نہیں ہوتا کہ یہ کوئی غیبی تنبیہہ بھی ہو سکتی ہے ۔"
ہاں یہ اسی بندۂ مومن ہی کا تو واقعہ ہے کہ ایک دن ان کے ملازم نے دوکان کھولی اور بطور فال نیک کے یہ کہہ دیا : "خدا ہمیں جنّت دے“ امام صاحبؒ نے یہ الفاظ سُنے اور خشوع بندگی کی شدّت سے آب دیدہ ہو گئے۔ روتے روتے ہچکی بندھ گئی ۔ دوکان پر بیٹھنا دو بھر ہو گیا ۔ دوکان بند کرائی اور کسی جنگل کی طرف روتے ہوئے نکل گئے واپس آئے اور قدرے سکون ہوا تو ملازم سے کہا ہم اس قابل کہاں ہیں کہ ایسی بڑی بات مُنہ سے نکالیں ــــ ارے ہماری جان عذاب سے ہی بچ جاتے تو بڑی خیریت ہوگی ۔" یہ کہہ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا واقعہ یاد دلایا جو فرمایا کرتے تھے کہ اگر حساب برابر برابر بھی ہو جائے تو میں سمجھوں گا کہ ســستا چھوٹا ۔
___
ایسے ہوتے وہ لوگ جو " مسلمان " کہلائے ـــــ اور ایک ہم بھی ہیں۔ خُدا کے حسین آسـتانے سے بھاگ بھاگ کر ذلیل دنیا کے قدموں پر ناک رگڑنے والے ـــــ ! اور ہم مسلمان ہیں ! ہائے یہ احسانِ عظیم کہ خدا نے ہمیں مسلمان پیدا کیا اور ہائے یہ جاں گداز مسئلہ کہ ابھی ہمیں مسلمان ہی مرنا باقی ہے ـــــ لیکن ..... بس.....
وائے بر حالِ ما!!
Https://telegram.me/ilmokitab
_______
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤8
*وفیات مورخہ: 14/جون*
1889ء عبد الغفور نساخ۔ شاعر ،
1902ء عبد الرحمن الکواکبی۔ عرب مفکر ،
1945ء ضیاء الحسن علوی، سید۔ مولانا ، پروفیسر
1964ء صلاح الدین احمد۔ مولانا ، مدیر ادبی دنیا لاہور
1971ء حبیب اشعر دہلوی (حکیم حبیب احمد)۔ مدیر فنون لاہور ،
1988ء اکبر علی نقشبندی۔ پیر ،
1998ء رحمان گل۔ لیفٹننٹ جنرل ،
2001ء احمد زاہد۔ ،
2001ء شوکت الٰہ آبادی (محمد زبیر فاروقی)۔ شاعر ،
2003ء ہاشم علی اختر، سید۔
2007ء خلیل احمد۔ مولانا
2007ء کورٹ والڈاہیم۔ سکرٹری جنرل اقوام متحدہ ،
2011ء ابرار عابد۔ ،
2018ء شجاعت بخاری۔ صحافی ،
Https://telegram.me/ilmokitab
1889ء عبد الغفور نساخ۔ شاعر ،
1902ء عبد الرحمن الکواکبی۔ عرب مفکر ،
1945ء ضیاء الحسن علوی، سید۔ مولانا ، پروفیسر
1964ء صلاح الدین احمد۔ مولانا ، مدیر ادبی دنیا لاہور
1971ء حبیب اشعر دہلوی (حکیم حبیب احمد)۔ مدیر فنون لاہور ،
1988ء اکبر علی نقشبندی۔ پیر ،
1998ء رحمان گل۔ لیفٹننٹ جنرل ،
2001ء احمد زاہد۔ ،
2001ء شوکت الٰہ آبادی (محمد زبیر فاروقی)۔ شاعر ،
2003ء ہاشم علی اختر، سید۔
2007ء خلیل احمد۔ مولانا
2007ء کورٹ والڈاہیم۔ سکرٹری جنرل اقوام متحدہ ،
2011ء ابرار عابد۔ ،
2018ء شجاعت بخاری۔ صحافی ،
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri