*غلطی ہائے مضامین*
*عشق رَجعت ہے کہ اقدام ہے؟ معلوم نہیں!*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
مالیگاؤں، ہند سے تعلق رکھنے والے جناب ذکی انور ہمدانی نے میلبورن، آسٹریلیا سے ایک نامۂ طویل ارسال فرمایا ہے۔ ہم تو دل تھام کر بیٹھ گئے کہ ’’کس ’طوالت‘ کے یہ نامے مرے نام آتے ہیں‘‘۔ بہرحال، تلخیص اس ’نامۂ طویل‘ کی پیشِ خدمت ہے۔ فرماتے ہیں:
’’عرض یہ ہے کہ لفظِ رجوع کے دو استعمالات عرصے سے میرے ذہن میں ایک لطیف اشکال پیدا کررہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کسی مسئلے کی توضیح کے لیے فلاں کتاب یا فلاں اُستاد سے رجوع کیجیے۔ مفہوم گویا کسی سرچشمۂ علم،کسی مرجعِ استناد یا کسی ماخذِ معرفت کی طرف رُخ کرنے اور استفادہ کرنے کا ہے۔ دوسری جانب یہی لفظ اس مفہوم میں بھی مستعمل ہے کہ کسی شخص نے اپنی سابقہ رائے، موقف یا دعوے سے رجوع کرلیا۔ یہاں کسی شے کی طرف رُخ کرنا نہیں، بلکہ اس سے دست بردار ہونا یا اس کے دائرۂ التزام سے باہر نکل آنا ہے۔ یہی پہلو موجبِ حیرت ہے کہ ایک ہی لفظ ایک مقام پر قرب، توجہ اور اقبال کا مفہوم ادا کرتا ہے، دوسری جگہ بُعد اور انقطاع کا تاثر اُبھرتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ لفظ رجوع کی اصل معنوی اساس کیا ہے؟‘‘
صاحب! آپ ہم سے مستفتی ہیں کہ ’’لفظ رجوع کی اصل معنوی اساس کیا ہے؟‘‘ جب کہ یہاں بجز ندامت کے پاس کیا ہے۔ ایسے متضاد معنی رکھنے پر ہم اس لفظ کی طرف سے ندامت کا اظہارکرتے ہیں اور اسی لفظ کی جانب سے آپ سے معافی کے خواستگار ہیں۔ نیز یہ کہ اس لفظ کی وجہ سے آپ کو جو حیرت کرنی پڑی اس کے لیے معذرت۔
بعد معذرت کے، عرضِ خدمت ہے کہ لفظ ’رجوع‘کی ’اصل معنوی اساس‘ جاننے کو ہم نے لغت سے رجوع کیا تو لغت نے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا۔ ہمیں ڈانٹا کہ درست ترکیب ’رجوع کرنا‘ نہیں، ’رجوع لانا‘ ہے۔ چلیے، ہم لغت سے رجوع لائے تو پتا چلا کہ اس لفظ کی اساس ’رجع‘ ہے جس کے متعدد معانی میں سے چند معنی ’لَوٹنا، جھکنا، مائل ہونا، واپس آنا یا دوبارہ آجانا اور عود کرنا‘ ہیں۔ مزید یہ کہ ’راجع‘ کہتے ہیں ’واپس آنے والے یا لوٹ آنے والے‘ شخص کو۔ ’راجع‘ کی جمع راجعین اور راجعون ہے۔ اللہ کے ہاں سے ہمارے ہاں آنے والی کوئی (نیک یا بد) روح کسی دن واپس اللہ کے پاس چلی جائے تو ہم کہتے ہیں کہ ’’اِنّا للہ‘‘ہم اللہ ہی کے ہیں، ’’وَاِنّا الیہ راجعون‘‘ اور ہم اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
لَوٹ جانے کی اصل معنوی اساس یعنی ’رجع‘ ہی سے اِسم بنا ’رجوع‘۔ مطلب ہے: واپسی، جھکاؤ، مَیلان اور رغبت۔ بیوی سے بے رغبتی ہوجائے اور پھر ایک یا دو طلاق دینے کے بعد عدت کی مدت کے اندر اندر شوہر اپنی رغبت سے بیوی کو واپس زوجیت میں لے لے تو اسے بھی ’رجوع‘ کہا جاتا ہے۔ ایسی طلاق بھی ’طلاقِ رجعی‘ کہلاتی ہے۔ ان سب مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’رجوع‘ کا اصل اور اساسی مفہوم قرب، توجہ اوراقبال ہی ہے۔ خواہ کسی کتاب اور اُستاد سے رجوع لایا جائے یا اپنے مؤقف اور خیالات سے رجوع کیا جائے۔ بھئی،سیدھی سی بات ہے ، کسی شخص نے اپنے غلط مؤقف اور اپنی خام خیالی سے رجوع کر لیا یا دست بردار ہوگیا، تو گویا وہ شخص درست مؤقف اور صحیح خیالات کی طرف واپس آگیا، یعنی حق کے قریب ہوگیا۔حق سے رجوع لے آیا۔
’رجوع لانا‘ فصیح ترکیب سہی، مگر فصحا نے ’رجوع کرنا‘ کی ترکیب بھی بکثرت استعمال کی ہے۔مثلاً میرتقی میرؔ کہتے ہیں::
رہے حال دل کا جو ایک سا تو رجوع کرتے کہیں بھلا
سو تو یہ کبھو ہمہ داغ ہے، کبھو نیم سوز کباب ہے
اسی طرح شیخ امام بخش ناسخؔ بھی بلبل بن کر گُل سے استفسار کرتے ہیں کہ
ایسا طبیب کون ہے اے گُل کہ بارہا
تجھ سے رجوع نرگسِ بیمار نے کیا
جھکنا اور مائل ہونا کے معنوں میں ایک ترکیب ’رجوعِ قلب‘ بھی رائج ہے، جس کا مطلب ہے دلی توجہ۔شَرَف کا شعر ہے:
کریمی اُس کی بھر دیتی شرفؔ دامن مرادوں سے
رجوعِ قلب سے جو بندۂ عاجز دُعا کرتا
رَجع سے بننے والا ایک اور لفظ ’رَجعت‘ ہے۔’رُجوع‘ کے ’’ر‘‘ پر تو پیش ہے، مگر’رَجعت کے’ر‘ پر زبرہے۔اِسے پیش کے ساتھ پڑھنا درست نہیں۔’رَجعت‘ ہمارے ہاں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ اُردو میں یہ لفظ عموماً پسپائی کے معنوں میں لیا جاتا ہے، جو پیش قدمی یا اِقدام کی ضد ہے۔ رئیسؔ امروہوی عشق سے متعلق اپنی لا علمی (’ہم بہو بیٹیاں یہ کیا جانیں؟‘) کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کرتے ہیں:
عشق رَجعت ہے کہ اِقدام ہے؟ معلوم نہیں!
یا فقط اِک روشِ عام ہے؟ معلوم نہیں!
رَجعت بھی پیچھے ہی مُڑنے کا عمل ہے۔ جو لوگ ماضی کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں وہ ’رَجعت پسند‘ کہلاتے ہیں، یعنی ’قدامت پرست‘۔ سیاسی اصطلاح میں ’رَجعت پسندی‘ ضد ہے ’ترقی پسندی‘ کی۔ یہ الگ بحث ہے کہ آج کل جو لوگ اپنے آپ کو ’ترقی پسند‘ کہتے ہیں وہ واقعی آگے بڑھنا چاہتے ہیں یا پتھر کے دور تک پسپائی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ بھلا پتھروں کی پُوجا کون سی ترقی پسندی ہے؟ ہاں پتھر کے بتوں کو پاش پاش کردینا البتہ انقلابی اِقدام، پیش قدمی اور ترقی پسندی
*عشق رَجعت ہے کہ اقدام ہے؟ معلوم نہیں!*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
مالیگاؤں، ہند سے تعلق رکھنے والے جناب ذکی انور ہمدانی نے میلبورن، آسٹریلیا سے ایک نامۂ طویل ارسال فرمایا ہے۔ ہم تو دل تھام کر بیٹھ گئے کہ ’’کس ’طوالت‘ کے یہ نامے مرے نام آتے ہیں‘‘۔ بہرحال، تلخیص اس ’نامۂ طویل‘ کی پیشِ خدمت ہے۔ فرماتے ہیں:
’’عرض یہ ہے کہ لفظِ رجوع کے دو استعمالات عرصے سے میرے ذہن میں ایک لطیف اشکال پیدا کررہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کسی مسئلے کی توضیح کے لیے فلاں کتاب یا فلاں اُستاد سے رجوع کیجیے۔ مفہوم گویا کسی سرچشمۂ علم،کسی مرجعِ استناد یا کسی ماخذِ معرفت کی طرف رُخ کرنے اور استفادہ کرنے کا ہے۔ دوسری جانب یہی لفظ اس مفہوم میں بھی مستعمل ہے کہ کسی شخص نے اپنی سابقہ رائے، موقف یا دعوے سے رجوع کرلیا۔ یہاں کسی شے کی طرف رُخ کرنا نہیں، بلکہ اس سے دست بردار ہونا یا اس کے دائرۂ التزام سے باہر نکل آنا ہے۔ یہی پہلو موجبِ حیرت ہے کہ ایک ہی لفظ ایک مقام پر قرب، توجہ اور اقبال کا مفہوم ادا کرتا ہے، دوسری جگہ بُعد اور انقطاع کا تاثر اُبھرتا ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ لفظ رجوع کی اصل معنوی اساس کیا ہے؟‘‘
صاحب! آپ ہم سے مستفتی ہیں کہ ’’لفظ رجوع کی اصل معنوی اساس کیا ہے؟‘‘ جب کہ یہاں بجز ندامت کے پاس کیا ہے۔ ایسے متضاد معنی رکھنے پر ہم اس لفظ کی طرف سے ندامت کا اظہارکرتے ہیں اور اسی لفظ کی جانب سے آپ سے معافی کے خواستگار ہیں۔ نیز یہ کہ اس لفظ کی وجہ سے آپ کو جو حیرت کرنی پڑی اس کے لیے معذرت۔
بعد معذرت کے، عرضِ خدمت ہے کہ لفظ ’رجوع‘کی ’اصل معنوی اساس‘ جاننے کو ہم نے لغت سے رجوع کیا تو لغت نے ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا۔ ہمیں ڈانٹا کہ درست ترکیب ’رجوع کرنا‘ نہیں، ’رجوع لانا‘ ہے۔ چلیے، ہم لغت سے رجوع لائے تو پتا چلا کہ اس لفظ کی اساس ’رجع‘ ہے جس کے متعدد معانی میں سے چند معنی ’لَوٹنا، جھکنا، مائل ہونا، واپس آنا یا دوبارہ آجانا اور عود کرنا‘ ہیں۔ مزید یہ کہ ’راجع‘ کہتے ہیں ’واپس آنے والے یا لوٹ آنے والے‘ شخص کو۔ ’راجع‘ کی جمع راجعین اور راجعون ہے۔ اللہ کے ہاں سے ہمارے ہاں آنے والی کوئی (نیک یا بد) روح کسی دن واپس اللہ کے پاس چلی جائے تو ہم کہتے ہیں کہ ’’اِنّا للہ‘‘ہم اللہ ہی کے ہیں، ’’وَاِنّا الیہ راجعون‘‘ اور ہم اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔
لَوٹ جانے کی اصل معنوی اساس یعنی ’رجع‘ ہی سے اِسم بنا ’رجوع‘۔ مطلب ہے: واپسی، جھکاؤ، مَیلان اور رغبت۔ بیوی سے بے رغبتی ہوجائے اور پھر ایک یا دو طلاق دینے کے بعد عدت کی مدت کے اندر اندر شوہر اپنی رغبت سے بیوی کو واپس زوجیت میں لے لے تو اسے بھی ’رجوع‘ کہا جاتا ہے۔ ایسی طلاق بھی ’طلاقِ رجعی‘ کہلاتی ہے۔ ان سب مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’رجوع‘ کا اصل اور اساسی مفہوم قرب، توجہ اوراقبال ہی ہے۔ خواہ کسی کتاب اور اُستاد سے رجوع لایا جائے یا اپنے مؤقف اور خیالات سے رجوع کیا جائے۔ بھئی،سیدھی سی بات ہے ، کسی شخص نے اپنے غلط مؤقف اور اپنی خام خیالی سے رجوع کر لیا یا دست بردار ہوگیا، تو گویا وہ شخص درست مؤقف اور صحیح خیالات کی طرف واپس آگیا، یعنی حق کے قریب ہوگیا۔حق سے رجوع لے آیا۔
’رجوع لانا‘ فصیح ترکیب سہی، مگر فصحا نے ’رجوع کرنا‘ کی ترکیب بھی بکثرت استعمال کی ہے۔مثلاً میرتقی میرؔ کہتے ہیں::
رہے حال دل کا جو ایک سا تو رجوع کرتے کہیں بھلا
سو تو یہ کبھو ہمہ داغ ہے، کبھو نیم سوز کباب ہے
اسی طرح شیخ امام بخش ناسخؔ بھی بلبل بن کر گُل سے استفسار کرتے ہیں کہ
ایسا طبیب کون ہے اے گُل کہ بارہا
تجھ سے رجوع نرگسِ بیمار نے کیا
جھکنا اور مائل ہونا کے معنوں میں ایک ترکیب ’رجوعِ قلب‘ بھی رائج ہے، جس کا مطلب ہے دلی توجہ۔شَرَف کا شعر ہے:
کریمی اُس کی بھر دیتی شرفؔ دامن مرادوں سے
رجوعِ قلب سے جو بندۂ عاجز دُعا کرتا
رَجع سے بننے والا ایک اور لفظ ’رَجعت‘ ہے۔’رُجوع‘ کے ’’ر‘‘ پر تو پیش ہے، مگر’رَجعت کے’ر‘ پر زبرہے۔اِسے پیش کے ساتھ پڑھنا درست نہیں۔’رَجعت‘ ہمارے ہاں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ اُردو میں یہ لفظ عموماً پسپائی کے معنوں میں لیا جاتا ہے، جو پیش قدمی یا اِقدام کی ضد ہے۔ رئیسؔ امروہوی عشق سے متعلق اپنی لا علمی (’ہم بہو بیٹیاں یہ کیا جانیں؟‘) کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کرتے ہیں:
عشق رَجعت ہے کہ اِقدام ہے؟ معلوم نہیں!
یا فقط اِک روشِ عام ہے؟ معلوم نہیں!
رَجعت بھی پیچھے ہی مُڑنے کا عمل ہے۔ جو لوگ ماضی کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں وہ ’رَجعت پسند‘ کہلاتے ہیں، یعنی ’قدامت پرست‘۔ سیاسی اصطلاح میں ’رَجعت پسندی‘ ضد ہے ’ترقی پسندی‘ کی۔ یہ الگ بحث ہے کہ آج کل جو لوگ اپنے آپ کو ’ترقی پسند‘ کہتے ہیں وہ واقعی آگے بڑھنا چاہتے ہیں یا پتھر کے دور تک پسپائی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ بھلا پتھروں کی پُوجا کون سی ترقی پسندی ہے؟ ہاں پتھر کے بتوں کو پاش پاش کردینا البتہ انقلابی اِقدام، پیش قدمی اور ترقی پسندی
قرار دیا جاسکتا ہے۔ تمھیں کہو اے صاحبو! بھلا کافری اور دورِ جاہلیت کی طرف رَجعت ِ قہقری کو ترقی پسندی کہا جا سکتا ہے؟ بقولِ اقبالؔ ’’بتوں سے تجھ کو اُمیدیں، خدا سے نَو میدی‘‘۔
’رَجعت ِ قہقری‘ کا مطلب ہے اُلٹے قدموں واپسی۔ منہ آگے کی طرف، مگر قدم پیچھے جارہے ہوں۔ منصور الدین منصورؔ کہتے ہیں:
قہقری رَجعت ہے اپنے ذہن کی
حال میں ماضی کی عظمت ڈھونڈنا
حال میں ماضی کی عظمت ڈھونڈنا کوئی مذموم کام نہیں۔ ماضی سے وہی لوگ نظریں چراتے ہیں جن کا ماضی مشکوک ہو۔ مگر شان دار ماضی کے مزاروں پر چراغ جلاتے رہ جانا اور وہیں ڈیرہ ڈال کر پڑ رہنا ایسی رَجعت پسندی ہے جو مطلوب نہیں۔ ماضی سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ وہ سبق جو حال کو بہتر کردے اور مستقبل کو روشن۔ مراد، ہمیں ماضی کی خوبیوں کو اپنانا چاہیے، لیکن خامیوں کو دُہرانا نہیں چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے، اہلِ دانش کہتے ہیں کہ گاہے گاہے قصہ ہائے پارینہ کو پڑھتے رہنا چاہیے۔ اُن سے رُجوع کرتے رہنا چاہیے۔
’رِجع‘ ہی سے ’ترجیع‘ بھی ہے۔ ’ترجیع‘ کا مطلب ہے لوٹانا، پھیرنا یا دُہرانا۔ اذان کے کلمات کو مؤذن دُہراتا یا دوبارہ ادا کرتا ہے۔ اس عمل کو ’ترجیع‘ کہا جاتا ہے۔ ناگہانی مصیبت آپڑنے پر اہلِ صبر ’’اِنّا للہ و اِنّااِلیہ راجعون‘‘ پڑھتے ہیں۔ اصطلاحاً اس عمل کو بھی ’ترجیع‘ کہا جاتا ہے، کیوں کہ اس قرآنی آیت میں اللہ کی طرف لَوٹنے کا اظہار ہے۔ شاعری میں بھی ایک اصطلاح ملتی ہے ’ترجیع بند‘۔ اس کے لغوی معنی ہیں ’بند کو پھر سے بیان کرنا‘۔ ماہرینِ علم ِ عَروض کہتے ہیں کہ جب شاعر ایسے بند کہتا ہے جو بحر میں موافق اور قافیے میں مختلف ہوں اور ہر بند کے بعد ایک شعر یا ایک مصرع بار بار اس طرح لایا جائے کہ وہ بند کے آخری شعر سے مربوط ہوجائے تو اسے ’ترجیع بند‘ کہتے ہیں۔
صاحبو! ابھی ہم ’ترجیع بند‘ ہی تک پہنچے تھے کہ ہمارے چچا چودھری چراغ دین چکڑالوی چیں بول گئے۔کہنے لگے:
’’میاں! رجوع سے رجعت کرتے کرتے ’ترجیع بند‘ تک جا پہنچے نا؟ بس اب یہیں پر اپنی بک بک بھی بند کردو۔‘‘
’رَجعت ِ قہقری‘ کا مطلب ہے اُلٹے قدموں واپسی۔ منہ آگے کی طرف، مگر قدم پیچھے جارہے ہوں۔ منصور الدین منصورؔ کہتے ہیں:
قہقری رَجعت ہے اپنے ذہن کی
حال میں ماضی کی عظمت ڈھونڈنا
حال میں ماضی کی عظمت ڈھونڈنا کوئی مذموم کام نہیں۔ ماضی سے وہی لوگ نظریں چراتے ہیں جن کا ماضی مشکوک ہو۔ مگر شان دار ماضی کے مزاروں پر چراغ جلاتے رہ جانا اور وہیں ڈیرہ ڈال کر پڑ رہنا ایسی رَجعت پسندی ہے جو مطلوب نہیں۔ ماضی سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ وہ سبق جو حال کو بہتر کردے اور مستقبل کو روشن۔ مراد، ہمیں ماضی کی خوبیوں کو اپنانا چاہیے، لیکن خامیوں کو دُہرانا نہیں چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے، اہلِ دانش کہتے ہیں کہ گاہے گاہے قصہ ہائے پارینہ کو پڑھتے رہنا چاہیے۔ اُن سے رُجوع کرتے رہنا چاہیے۔
’رِجع‘ ہی سے ’ترجیع‘ بھی ہے۔ ’ترجیع‘ کا مطلب ہے لوٹانا، پھیرنا یا دُہرانا۔ اذان کے کلمات کو مؤذن دُہراتا یا دوبارہ ادا کرتا ہے۔ اس عمل کو ’ترجیع‘ کہا جاتا ہے۔ ناگہانی مصیبت آپڑنے پر اہلِ صبر ’’اِنّا للہ و اِنّااِلیہ راجعون‘‘ پڑھتے ہیں۔ اصطلاحاً اس عمل کو بھی ’ترجیع‘ کہا جاتا ہے، کیوں کہ اس قرآنی آیت میں اللہ کی طرف لَوٹنے کا اظہار ہے۔ شاعری میں بھی ایک اصطلاح ملتی ہے ’ترجیع بند‘۔ اس کے لغوی معنی ہیں ’بند کو پھر سے بیان کرنا‘۔ ماہرینِ علم ِ عَروض کہتے ہیں کہ جب شاعر ایسے بند کہتا ہے جو بحر میں موافق اور قافیے میں مختلف ہوں اور ہر بند کے بعد ایک شعر یا ایک مصرع بار بار اس طرح لایا جائے کہ وہ بند کے آخری شعر سے مربوط ہوجائے تو اسے ’ترجیع بند‘ کہتے ہیں۔
صاحبو! ابھی ہم ’ترجیع بند‘ ہی تک پہنچے تھے کہ ہمارے چچا چودھری چراغ دین چکڑالوی چیں بول گئے۔کہنے لگے:
’’میاں! رجوع سے رجعت کرتے کرتے ’ترجیع بند‘ تک جا پہنچے نا؟ بس اب یہیں پر اپنی بک بک بھی بند کردو۔‘‘
❤2
*وفیات مورخہ:اگسٹ /08*
1872ء فضل رسول بدایونی،شاہ۔ عالم دین، ماہر علوم عقلیۃ ونقلیۃ
1880ء ماسٹر رام چندر۔ صحافی و ریاضی داں
1929ء فتح محمد جالندھری۔ مترجم قرآن
1957ء احمق پھپھوندوی (حکیم محمد مصطفی خان)۔ شاعر
1965ء سید علی جعفری۔ مولانا ،
1971ء قیس سہار نپوری (محمد یاسین)۔ شاعر
1982ء اقبال احمد خان۔ ،
1989ء غوث بخش بزنجو۔ بلوچ رہنما
1990ء کرارنوری (سید کرار میرزا)۔ شاعر
1992ء ابو القاسم الخوئی۔ عراقی شیعہ مرجع
2000ء یس نجلنگپا۔ وزیر اعلی کرناٹک
2003ء رشید عمر تھانوی۔ فرزند شوکت تھانوی
2005ء احمد دیدات ( احمد حسین کاظم)۔ ہندوستانی نژاد افریقی مناظر
2006ء محمد حلیم۔ جسٹس
2009ء حبیب ریحان خان ازہری ندوی۔ مولانا ، معتمد تعلیمات تاج المساجد بھوپال
2012ء شمشیر الحیدری۔ سندھی ادیب
2013ء فرید احمد صدیقی۔ ڈاکٹر ،
2015ء وہبہ الزحیلی۔ شامی فقیہ
2017ء اویس احمد دوراں۔ ادیب
2020ء راحت اندوری۔ شاعر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1872ء فضل رسول بدایونی،شاہ۔ عالم دین، ماہر علوم عقلیۃ ونقلیۃ
1880ء ماسٹر رام چندر۔ صحافی و ریاضی داں
1929ء فتح محمد جالندھری۔ مترجم قرآن
1957ء احمق پھپھوندوی (حکیم محمد مصطفی خان)۔ شاعر
1965ء سید علی جعفری۔ مولانا ،
1971ء قیس سہار نپوری (محمد یاسین)۔ شاعر
1982ء اقبال احمد خان۔ ،
1989ء غوث بخش بزنجو۔ بلوچ رہنما
1990ء کرارنوری (سید کرار میرزا)۔ شاعر
1992ء ابو القاسم الخوئی۔ عراقی شیعہ مرجع
2000ء یس نجلنگپا۔ وزیر اعلی کرناٹک
2003ء رشید عمر تھانوی۔ فرزند شوکت تھانوی
2005ء احمد دیدات ( احمد حسین کاظم)۔ ہندوستانی نژاد افریقی مناظر
2006ء محمد حلیم۔ جسٹس
2009ء حبیب ریحان خان ازہری ندوی۔ مولانا ، معتمد تعلیمات تاج المساجد بھوپال
2012ء شمشیر الحیدری۔ سندھی ادیب
2013ء فرید احمد صدیقی۔ ڈاکٹر ،
2015ء وہبہ الزحیلی۔ شامی فقیہ
2017ء اویس احمد دوراں۔ ادیب
2020ء راحت اندوری۔ شاعر
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
*وفیات مورخہ:اگسٹ /09*
1980ء نذیر عباسی۔ کیمونسٹ رہنما
1984ء خواجہ حسن عسکری۔ نواب ڈھاکہ
1985ء حسن یارجنگ۔ نواب
1992ء عین الحق اعظمی۔ الحاج مولوی، تاجر چرم
1998ء محمد صفدر میر۔ شاعر، صحافی
2001ء رشید احمد لدھیانوی۔ مولانا مفتی، فقیہ العصر
2008ء محمود دریش۔ فلسطینی شاعر
2016ء اے جی ین قاضی ( آفتاب غلام نبی)۔ بیروکریٹ
2019ء پال اگسٹن فنڈلے۔ موید فلسطین امریکی سیاست داں
2022ء عبد الودود اکرمی مدنی۔ بھٹکلی عالم دین
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1980ء نذیر عباسی۔ کیمونسٹ رہنما
1984ء خواجہ حسن عسکری۔ نواب ڈھاکہ
1985ء حسن یارجنگ۔ نواب
1992ء عین الحق اعظمی۔ الحاج مولوی، تاجر چرم
1998ء محمد صفدر میر۔ شاعر، صحافی
2001ء رشید احمد لدھیانوی۔ مولانا مفتی، فقیہ العصر
2008ء محمود دریش۔ فلسطینی شاعر
2016ء اے جی ین قاضی ( آفتاب غلام نبی)۔ بیروکریٹ
2019ء پال اگسٹن فنڈلے۔ موید فلسطین امریکی سیاست داں
2022ء عبد الودود اکرمی مدنی۔ بھٹکلی عالم دین
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
*وفیات مورخہ:اگسٹ /12*
1932ء منورنجن بھٹا چاریہ۔
1962ء حفظ الرحمان سیوہاروی۔ مجاہد ملت ، مولانا
1970ء امیر الدین خاں جے پوری۔
1973ء محمد طاہر بن عاشور۔ تونسی مفسر
1973ء نذیر احمد۔ ڈاکٹر ، جماعت اسلامی
1974ء طفیل احمد جمالی۔ شاعر وادیب ،
1974ء طفیل احمد جمالی۔ شاعر وادیب ،
1975ء رشید احمد حسنی (سید)۔ والد ماجد مولانا سید محمد رابع حسنی
1983ء نیئر مدنی (سید محمد مدنی)۔ ،
1987ء حبیب جونپوری (سید محبوب الحسن ہاشمی)۔
1990ء خواجہ ریاض حسن انور۔ ،
1992ء مہدی حسن۔ ڈاکٹر ،
1996ء علی احمد۔ ڈرامہ نگار
1998ء ریاض الدین، ۔ مولوی
1999ء محمد عبد الرشید نعمائی۔ مولانا، عالم حدیث
2004ء عبد الرحمن حسن حبنکہ۔ شامی مفکر
2008ء سید محمد سالم ہنسوی۔ مولوی
2010ء نورالاسلام قادری۔ ،
2019ء محمد طلحہ کاندھلوی۔ مولانا
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1932ء منورنجن بھٹا چاریہ۔
1962ء حفظ الرحمان سیوہاروی۔ مجاہد ملت ، مولانا
1970ء امیر الدین خاں جے پوری۔
1973ء محمد طاہر بن عاشور۔ تونسی مفسر
1973ء نذیر احمد۔ ڈاکٹر ، جماعت اسلامی
1974ء طفیل احمد جمالی۔ شاعر وادیب ،
1974ء طفیل احمد جمالی۔ شاعر وادیب ،
1975ء رشید احمد حسنی (سید)۔ والد ماجد مولانا سید محمد رابع حسنی
1983ء نیئر مدنی (سید محمد مدنی)۔ ،
1987ء حبیب جونپوری (سید محبوب الحسن ہاشمی)۔
1990ء خواجہ ریاض حسن انور۔ ،
1992ء مہدی حسن۔ ڈاکٹر ،
1996ء علی احمد۔ ڈرامہ نگار
1998ء ریاض الدین، ۔ مولوی
1999ء محمد عبد الرشید نعمائی۔ مولانا، عالم حدیث
2004ء عبد الرحمن حسن حبنکہ۔ شامی مفکر
2008ء سید محمد سالم ہنسوی۔ مولوی
2010ء نورالاسلام قادری۔ ،
2019ء محمد طلحہ کاندھلوی۔ مولانا
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
قاری شبیر احمد صاحب کی عبقریت اور بے مثال ذہانت
***** بدر الحسن القاسمی
نابینا علماء میں ایک سے بڑھ کر ایک باکمال اہل علم گزرے ہیں
شعراء اور ادباء کی صف میں بھی نامور شاعر ابو العلاء المعری بشار بن برد اور قریب کے زمانہ کے عربی کے صاحب طرز ادیب اور انشاء پرداز ڈاکٹر طہ حسین کو کون نہیں جانتا
ذہانت اور حافظہ کی قوت خدا کی دین وہ بعض لوگوں کو اس طرح نوازتا ہے کہ وہ امتیازی شخصیت کے مالک اور اپنی نظیر آپ ہوتے ہیں اور دوسرے ان پر رشک کرتے ہیں
ائمہ لغت میں ابن الانباری ابن سید ہ مشہور سیرت نگاروں میں الروض الانف کے مصنف ابوالقاسم السہیلی اور نہ جانے کتنی ہی
نامور شخصیات گزری جنہوں نے نابینا ہونے کے باوجود بڑے بڑے کارنامے انجام دئے ہیں قریب کے زمانہ میں سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن باز انکے معاصر شیخ عبد اللہ بن حمید اور انکے استاذ شیخ محمد بن ابراھیم سبھی نابینا تھے لیکن اپنے زمانہ کے بڑے علماء میں شمار ہوتے تھے
ہمارے اہل تعلق میں جناب قاری شبیر احمد صاحب کا شمار بھی اسی طرح کی عبقری شخصیات میں ہوتاہے
مولانا اعجاز احمد اعظمی مرحوم جنہوں نے برسوں قاری صاحب کو دیکھا اور انکی رفاقت سے ہمکنار رہے وہ اپنی خود نوشت سوانح "حکایت ہستی "میں قاری صاحب سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
" میں ایک ایسے شخص کی زبان سے جو نابینا تھا اور درجہ حفظ کا طالبعلم تھا بہترین شستہ شگفتہ اور فصیح وبلیغ نیز معلومات سےلبریز گفتگو سن کر چونک گیا اور بہت متاثر ہوا
قاری صاحب ذہانت وذکاوت کاپیکر اور قوت حافظہ کے شاہکار تھے
آنکھوں سے معذور ہونے کی وجہ سے انہیں مطالعہ کیلئے ایک
مدد گار کی ضرورت تھی
قاری صاحب مطالعہ کے شیدائی تھے میں پڑھتا اور قاری صاحب سنتے تھے
قاری صاحب کو بعض شعراء کے دواوین وکلیات حفظ تھے
غالب اقبال اکبر الہ آبادی جوش ملیح آبادی فیض اور فراق گورکھپوری کے اتنے اشعار انہیں یاد تھے کہ حیرت ہوتی تھی وہ
مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے تھے
گفتگو کی زبان اتنی شستہ اور فصیح ہوتی جیسے مولانا آزاد کا قلم چل رہاہو
مولانا آزاد کی تحریر اور قاری صاحب کی تقریر ہو بہو باہم دیگر مشابہ ہوتی
کسی کے خط کا جواب دینے کیلئے کہتے لکھو
کاتب قلم کاغذ لیکر بیٹھ جاتا اور کاتب بھی میں ہی ہوتا تھا
انکی زبان پر فصاحت وبلاغت کا فرشتہ بولتا رہتا اور میں قلمبند کرتا چلا جاتا
الفاظ معلومات بر جستہ اشعار
بر محل فقروں کا ایک سیل رواں ہوتا اور میں انہیں کاغذ پر سمیٹتا رہتا
قاری صاحب کے مکاتیب کو جمع کیا جاتا تو " غبار خاطر " کا ایک دوسرا جلوہ نگاہوں کے سامنے آجاتا
میں نے ان خطوط کا ایک مجموعہ تیار کیا تھا مگر اللہ ہی جانتا ہے کہ کون مجھ سے لیکر گیا اور ابتک واپس نہیں کیا
میں کہ سکتا ہوں کہ انکی ذکاوت ذہانت کے بعد کسی کی ذہانت کا مجھ پر اثر نہیں پڑا "
( 232 سے 238 تک)
قاری صاحب اپنی معذوری اور بینائی سے محر ومی کے باوجود اچھے منتظم بھی ہیں چنانچہ "مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھرواڑہ " انکی دینی وتعلیمی خدمات کا شاہکار ہے
مدرسہ کی خوشنما عمارت طلبہ کی معقول تعداد اور تعلیم کا بہترین معیار سبھی قاری صاحب کی محنت اور سلیقہ مندی کی شہادت دیتے ہیں
وہ بہترین مقرر اور اچھے شاعر بھی ہیں ملکی اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے انتہائی با بصیرت اور قابل فخر انسان ہیں
برسوں سے ممبئی میں اصلاحی کاموں اور وعظ و نصیحت کے پروگراموں کی وجہ سے ایک حلقہ انکے ارادت مندوں میں شامل ہے
علاقہ میں بھی انکی تقریریں بیحد مقبول ہیں اور وہ د ینی پروگراموں کی زینت اور اجلاس کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے ہیں
قاری شبیر احمد صاحب کئی سال مدرسہ دینیہ غازیپور میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے
اور وابستگی توانکی حفظ وتجوید کے شعبہ سے تھی لیکن انکی ذات پورے ماحول پر اثر انداز رہی
اور وہ جہاں کہیں بھی رہے ان کا حلقہ اثر وسیع اور سارے ماحول پر اثر انداز رہا
در اصل انکی غیر معمولی ذہانت
گفتگو کا عالمانہ انداز وادیبانہ لب ولہجہ استدلال کی بے پناہ قدرت اور مطالعہ کی وسعت کے نتیجہ میں معلومات کی فرا وانی بہت جلد لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے اور وہ ہمیشہ مجلس پر چھائے رہتے اور اچھی صلاحیت کے علماء بھی انکے لب و لہجہ کی خوبی او ر زبان کی شگفتگی سے متا ثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے اور بہت سے اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی انکے سامنے اپنی زبان کھولنے اوراپنا نقطہ نظر رکھنے میں بسا اوقات ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں
انہوں نے کبھی درس نظامی کا کورس مکمل کرنے یا باقاعدہ فراغت کی سند لینے کی کوشش نہیں کی لیکن انکی معلومات بہت سے سند یافتہ علماء سے کسی طرح کم نہیں ہیں
***** بدر الحسن القاسمی
نابینا علماء میں ایک سے بڑھ کر ایک باکمال اہل علم گزرے ہیں
شعراء اور ادباء کی صف میں بھی نامور شاعر ابو العلاء المعری بشار بن برد اور قریب کے زمانہ کے عربی کے صاحب طرز ادیب اور انشاء پرداز ڈاکٹر طہ حسین کو کون نہیں جانتا
ذہانت اور حافظہ کی قوت خدا کی دین وہ بعض لوگوں کو اس طرح نوازتا ہے کہ وہ امتیازی شخصیت کے مالک اور اپنی نظیر آپ ہوتے ہیں اور دوسرے ان پر رشک کرتے ہیں
ائمہ لغت میں ابن الانباری ابن سید ہ مشہور سیرت نگاروں میں الروض الانف کے مصنف ابوالقاسم السہیلی اور نہ جانے کتنی ہی
نامور شخصیات گزری جنہوں نے نابینا ہونے کے باوجود بڑے بڑے کارنامے انجام دئے ہیں قریب کے زمانہ میں سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن باز انکے معاصر شیخ عبد اللہ بن حمید اور انکے استاذ شیخ محمد بن ابراھیم سبھی نابینا تھے لیکن اپنے زمانہ کے بڑے علماء میں شمار ہوتے تھے
ہمارے اہل تعلق میں جناب قاری شبیر احمد صاحب کا شمار بھی اسی طرح کی عبقری شخصیات میں ہوتاہے
مولانا اعجاز احمد اعظمی مرحوم جنہوں نے برسوں قاری صاحب کو دیکھا اور انکی رفاقت سے ہمکنار رہے وہ اپنی خود نوشت سوانح "حکایت ہستی "میں قاری صاحب سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
" میں ایک ایسے شخص کی زبان سے جو نابینا تھا اور درجہ حفظ کا طالبعلم تھا بہترین شستہ شگفتہ اور فصیح وبلیغ نیز معلومات سےلبریز گفتگو سن کر چونک گیا اور بہت متاثر ہوا
قاری صاحب ذہانت وذکاوت کاپیکر اور قوت حافظہ کے شاہکار تھے
آنکھوں سے معذور ہونے کی وجہ سے انہیں مطالعہ کیلئے ایک
مدد گار کی ضرورت تھی
قاری صاحب مطالعہ کے شیدائی تھے میں پڑھتا اور قاری صاحب سنتے تھے
قاری صاحب کو بعض شعراء کے دواوین وکلیات حفظ تھے
غالب اقبال اکبر الہ آبادی جوش ملیح آبادی فیض اور فراق گورکھپوری کے اتنے اشعار انہیں یاد تھے کہ حیرت ہوتی تھی وہ
مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے تھے
گفتگو کی زبان اتنی شستہ اور فصیح ہوتی جیسے مولانا آزاد کا قلم چل رہاہو
مولانا آزاد کی تحریر اور قاری صاحب کی تقریر ہو بہو باہم دیگر مشابہ ہوتی
کسی کے خط کا جواب دینے کیلئے کہتے لکھو
کاتب قلم کاغذ لیکر بیٹھ جاتا اور کاتب بھی میں ہی ہوتا تھا
انکی زبان پر فصاحت وبلاغت کا فرشتہ بولتا رہتا اور میں قلمبند کرتا چلا جاتا
الفاظ معلومات بر جستہ اشعار
بر محل فقروں کا ایک سیل رواں ہوتا اور میں انہیں کاغذ پر سمیٹتا رہتا
قاری صاحب کے مکاتیب کو جمع کیا جاتا تو " غبار خاطر " کا ایک دوسرا جلوہ نگاہوں کے سامنے آجاتا
میں نے ان خطوط کا ایک مجموعہ تیار کیا تھا مگر اللہ ہی جانتا ہے کہ کون مجھ سے لیکر گیا اور ابتک واپس نہیں کیا
میں کہ سکتا ہوں کہ انکی ذکاوت ذہانت کے بعد کسی کی ذہانت کا مجھ پر اثر نہیں پڑا "
( 232 سے 238 تک)
قاری صاحب اپنی معذوری اور بینائی سے محر ومی کے باوجود اچھے منتظم بھی ہیں چنانچہ "مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھرواڑہ " انکی دینی وتعلیمی خدمات کا شاہکار ہے
مدرسہ کی خوشنما عمارت طلبہ کی معقول تعداد اور تعلیم کا بہترین معیار سبھی قاری صاحب کی محنت اور سلیقہ مندی کی شہادت دیتے ہیں
وہ بہترین مقرر اور اچھے شاعر بھی ہیں ملکی اور عالمی حالات پر گہری نظر رکھنے والے انتہائی با بصیرت اور قابل فخر انسان ہیں
برسوں سے ممبئی میں اصلاحی کاموں اور وعظ و نصیحت کے پروگراموں کی وجہ سے ایک حلقہ انکے ارادت مندوں میں شامل ہے
علاقہ میں بھی انکی تقریریں بیحد مقبول ہیں اور وہ د ینی پروگراموں کی زینت اور اجلاس کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے ہیں
قاری شبیر احمد صاحب کئی سال مدرسہ دینیہ غازیپور میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے
اور وابستگی توانکی حفظ وتجوید کے شعبہ سے تھی لیکن انکی ذات پورے ماحول پر اثر انداز رہی
اور وہ جہاں کہیں بھی رہے ان کا حلقہ اثر وسیع اور سارے ماحول پر اثر انداز رہا
در اصل انکی غیر معمولی ذہانت
گفتگو کا عالمانہ انداز وادیبانہ لب ولہجہ استدلال کی بے پناہ قدرت اور مطالعہ کی وسعت کے نتیجہ میں معلومات کی فرا وانی بہت جلد لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے اور وہ ہمیشہ مجلس پر چھائے رہتے اور اچھی صلاحیت کے علماء بھی انکے لب و لہجہ کی خوبی او ر زبان کی شگفتگی سے متا ثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے اور بہت سے اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی انکے سامنے اپنی زبان کھولنے اوراپنا نقطہ نظر رکھنے میں بسا اوقات ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں
انہوں نے کبھی درس نظامی کا کورس مکمل کرنے یا باقاعدہ فراغت کی سند لینے کی کوشش نہیں کی لیکن انکی معلومات بہت سے سند یافتہ علماء سے کسی طرح کم نہیں ہیں
میں تو ابتدائی تعارف کے وقت کم عمر اور کم علم تھا اور میرے بارے میں بجاطور پر وہ کہ سکتے تھے کہ :
بات تک کرنی نہ آتی تھی انہیں
یہ ہمارے سامنے کی بات ہے
لیکن اپنی تعلیمی مصروفیتوں کے ساتھ کسی نہ کسی درجہ میں
فارغ اوقات اور عصر بعد کی تفریح اور چہل قدمی کے لمحات میں مجلس کے حاضر باشوں میں
میں بھی شامل تھا
ایک دلچسپ حرکت ہم لوگوں کی یہ بھی تھی کہ کچھ احباب جنکو کتابیں پڑھنے کاشوق کم لیکن اپنے کمرے میں نئی اچھی اور خوشنما جلد و اچھی طباعت والی کتابوں کو سجا کر رکھنے کا شوق زیادہ تھا
چنانچہ جیسے ہی کوئی نئی کتاب شائع ہوتی قاری صاحب کے ساتھ جاکر انکے سامنے کتاب کی ایسی تعریف کرتے کہ وہ فورا خریداری پر آمادہ ہوجاتے
قاری صاحب کی زبان ہی ایسی تھی کہ سامنے والا چند جملے سن کر ہی قائل ہوجاتا اور جب کتاب آجاتی تو ہم مستعار لیکر پڑھ لیتے قاری صاحب کو سناتے اور کتاب واپس کردیتے تھے
ظاہر ہیکہ اپنے پاس مالی وسائل کی کمی یااپنی کم مائیگی کے ساتھ پڑھنے کے شوق کی تکمیل کا طالب علمی کے زمانہ میں اس کے علاوہ اور وسیلہ بھی کیا ہو سکتا تھا جسے ایک طرح کا حیلہ ہی کہنا چاہیے
جی چاہے تو اسے طالب علموں کی زبان پر جاری بچکانہ جملہ
"يجوز لطالب العلم مالا يجوز لغيره" پر محمول کرلیجئے
بہر حال یہ تو اس زمانہ کی بعض حرکتوں کا ذکر تھا اب کوئی دریافت کرے تو یہی کہینگے کہ :
این گناہیست کہ در شہر شما نیز کنند
آور اگر آپ کو اپنی پاکدامنی ہی پر اصرار ہو تو پھر ہم کہینگے کہ:
ما نہ کردم شما حذر بکنید
قاری صاحب کئی سال دیوبند میں رہے وہ انکی برزخی زندگی تھی یعنی نہ وہ طالب علمی کا زمانہ تھا اور نہ اور نہ ملازمت کا
اسکے باوجود وہ جہاں بھی ہوتے مجلس کی رونق وہی ہوتے تھے اور اپنی باوقار گفتگو حاضر دماغی صوتی آہنگ استدلال کی قوت زبان کی فصاحت و بلاغت شستگی وشائستگی اورگفتگو کے دوران اشعار کے بر محل استعمال کی قدرت سے سب پر چھائے رہتے تھے
ان خصوصیات میں ان کا کوئی مقابلہ بھی نہیں کر سکتا تھا
دیوبند میں مقیم ایک نہایت ہی نستعلیق با کما ل شاعر ادیب خود داری اور بے نیازی کاپیکر وجود مولانا کاشف الہاشمی کا تھا مولانا ریاست علی بجنوری بھی شاعری میں انکو اپنا استاد مانتے اور ان سے اصلاح لیا کرتے تھے اس کا انہوں نے تحریری طور پر اظہار بھی کیا ہے اور غالبا انکے کلام کا مجموعہ بھی شائع کیا ہے
قاری صاحب کے ساتھ میری بھی کھبی کبھی انکی رہائش گاہ پر حاضری ہوا کرتی تھی نہایت ہی نفیس آدمی تھے قرآن کریم سے انہیں خاص شغف تھا عوام کیلئے"ہدایت القرآن " نامی تفسیر انہوں نے ہی لکھنی شروع کی تھی مالی وسائل کمی اور اپنی خودداری و بے نیازی والے مزاج کی وجہ سے اسے جاری نہ رکھ سکے
ظاہر ہیکہ انکی زبان اور انکے اسلوب کو برقرار رکھنا کسی اور کے بس میں نہیں تھا
قاری صاحب سےکاشف الہاشمی صاحب بیحد مانوس تھے ان سے قرآن کریم کی تلاوت بھی سنتے اشعا ر بھی سنتے اور مشورے بھی دیتے تھے
مجھ سے کبھی میرے اسباق کے بارے میں سوال کرتے اور کبھی بعض دقیق مسائل بھ سمجھا تے بھی تھے
ان تمام مجلسو ں میں قاری صاحب ہی ہراول دستہ کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کا وجود مجلس کی رونق کو بڑھا دیتا تھا
یہ کہنا چاہیے کہ قاری صاحب کا طبقہ عمر اورتجربہ وغیرہ میں مجھ سے اوپر کا طبقہ تھا
وہ مولانا محمد رضوان القاسمی کے طبقہ کے کےآدمی تھے
انہوں نے اپنے آپکو فارغ کر رکھا تھا اور ہمہ وقت کسی نہ کسی کی مدد سے کتابوں کا مطالعہ جاری رکھے ہوئے تھے
اور میں طالبعلمی کے مرحلہ میں تھا اور بتدریج فراغت اور افتاء وغیرہ کے مراحل پورے کرتا رہا
لیکن قاری صاحب جب تک دیوبند میں رہے انکی رفاقت بھی حاصل رہی
قاری شبیر احمد صاحب کی ذات میں مستقبل کی ایک عظیم شخصیت کی تمام خصوصیات موجود تھیں
وہ بہترین قاری روشن دماغ اور بلند پایہ ادیب کہنہ مشق شاعر زباں آور خطیب اور ایک اچھے انشاءپرداز سبھی کچھ تھے
انکے زیر انتظام چلنے والے مدرسہ کی ترقی کی رفتار کو دیکھیں تو وہ ایک اچھے منتظم اورکامیاب مربی بھی نظر آتے ہیں
قاری صاحب اہل علم اور ارباب فکر ودانش کی جس مجلس میں بھی ہوں میر مجلس وہی ہوتے ہیں اور مجلس کی رونق انہیں کے دم سے قائم رہتی ہے
شعر وسخن کی بزم ہو تو انکی طرف لوگوں کی توجہ اور بھی بڑھ جاتی ہے
افسوس ہیکہ حضرت قاری صاحب چند دنوں سے سخت بیمار تھے اور اسپتال میں خصوصی نگہداشت کے شعبہ میں رکھے گئے تھے پھر آپریشن کے مرحلہ سے بھی گزرے
اب میرے ساتھ آپ بھی دعاء کیجئے کہ اللہ تعالی انہیں شفائے کامل سے نوازے اور انکی تعلیمی واصلاحی سر گرمیاں جاری رہیں
آمین
بات تک کرنی نہ آتی تھی انہیں
یہ ہمارے سامنے کی بات ہے
لیکن اپنی تعلیمی مصروفیتوں کے ساتھ کسی نہ کسی درجہ میں
فارغ اوقات اور عصر بعد کی تفریح اور چہل قدمی کے لمحات میں مجلس کے حاضر باشوں میں
میں بھی شامل تھا
ایک دلچسپ حرکت ہم لوگوں کی یہ بھی تھی کہ کچھ احباب جنکو کتابیں پڑھنے کاشوق کم لیکن اپنے کمرے میں نئی اچھی اور خوشنما جلد و اچھی طباعت والی کتابوں کو سجا کر رکھنے کا شوق زیادہ تھا
چنانچہ جیسے ہی کوئی نئی کتاب شائع ہوتی قاری صاحب کے ساتھ جاکر انکے سامنے کتاب کی ایسی تعریف کرتے کہ وہ فورا خریداری پر آمادہ ہوجاتے
قاری صاحب کی زبان ہی ایسی تھی کہ سامنے والا چند جملے سن کر ہی قائل ہوجاتا اور جب کتاب آجاتی تو ہم مستعار لیکر پڑھ لیتے قاری صاحب کو سناتے اور کتاب واپس کردیتے تھے
ظاہر ہیکہ اپنے پاس مالی وسائل کی کمی یااپنی کم مائیگی کے ساتھ پڑھنے کے شوق کی تکمیل کا طالب علمی کے زمانہ میں اس کے علاوہ اور وسیلہ بھی کیا ہو سکتا تھا جسے ایک طرح کا حیلہ ہی کہنا چاہیے
جی چاہے تو اسے طالب علموں کی زبان پر جاری بچکانہ جملہ
"يجوز لطالب العلم مالا يجوز لغيره" پر محمول کرلیجئے
بہر حال یہ تو اس زمانہ کی بعض حرکتوں کا ذکر تھا اب کوئی دریافت کرے تو یہی کہینگے کہ :
این گناہیست کہ در شہر شما نیز کنند
آور اگر آپ کو اپنی پاکدامنی ہی پر اصرار ہو تو پھر ہم کہینگے کہ:
ما نہ کردم شما حذر بکنید
قاری صاحب کئی سال دیوبند میں رہے وہ انکی برزخی زندگی تھی یعنی نہ وہ طالب علمی کا زمانہ تھا اور نہ اور نہ ملازمت کا
اسکے باوجود وہ جہاں بھی ہوتے مجلس کی رونق وہی ہوتے تھے اور اپنی باوقار گفتگو حاضر دماغی صوتی آہنگ استدلال کی قوت زبان کی فصاحت و بلاغت شستگی وشائستگی اورگفتگو کے دوران اشعار کے بر محل استعمال کی قدرت سے سب پر چھائے رہتے تھے
ان خصوصیات میں ان کا کوئی مقابلہ بھی نہیں کر سکتا تھا
دیوبند میں مقیم ایک نہایت ہی نستعلیق با کما ل شاعر ادیب خود داری اور بے نیازی کاپیکر وجود مولانا کاشف الہاشمی کا تھا مولانا ریاست علی بجنوری بھی شاعری میں انکو اپنا استاد مانتے اور ان سے اصلاح لیا کرتے تھے اس کا انہوں نے تحریری طور پر اظہار بھی کیا ہے اور غالبا انکے کلام کا مجموعہ بھی شائع کیا ہے
قاری صاحب کے ساتھ میری بھی کھبی کبھی انکی رہائش گاہ پر حاضری ہوا کرتی تھی نہایت ہی نفیس آدمی تھے قرآن کریم سے انہیں خاص شغف تھا عوام کیلئے"ہدایت القرآن " نامی تفسیر انہوں نے ہی لکھنی شروع کی تھی مالی وسائل کمی اور اپنی خودداری و بے نیازی والے مزاج کی وجہ سے اسے جاری نہ رکھ سکے
ظاہر ہیکہ انکی زبان اور انکے اسلوب کو برقرار رکھنا کسی اور کے بس میں نہیں تھا
قاری صاحب سےکاشف الہاشمی صاحب بیحد مانوس تھے ان سے قرآن کریم کی تلاوت بھی سنتے اشعا ر بھی سنتے اور مشورے بھی دیتے تھے
مجھ سے کبھی میرے اسباق کے بارے میں سوال کرتے اور کبھی بعض دقیق مسائل بھ سمجھا تے بھی تھے
ان تمام مجلسو ں میں قاری صاحب ہی ہراول دستہ کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کا وجود مجلس کی رونق کو بڑھا دیتا تھا
یہ کہنا چاہیے کہ قاری صاحب کا طبقہ عمر اورتجربہ وغیرہ میں مجھ سے اوپر کا طبقہ تھا
وہ مولانا محمد رضوان القاسمی کے طبقہ کے کےآدمی تھے
انہوں نے اپنے آپکو فارغ کر رکھا تھا اور ہمہ وقت کسی نہ کسی کی مدد سے کتابوں کا مطالعہ جاری رکھے ہوئے تھے
اور میں طالبعلمی کے مرحلہ میں تھا اور بتدریج فراغت اور افتاء وغیرہ کے مراحل پورے کرتا رہا
لیکن قاری صاحب جب تک دیوبند میں رہے انکی رفاقت بھی حاصل رہی
قاری شبیر احمد صاحب کی ذات میں مستقبل کی ایک عظیم شخصیت کی تمام خصوصیات موجود تھیں
وہ بہترین قاری روشن دماغ اور بلند پایہ ادیب کہنہ مشق شاعر زباں آور خطیب اور ایک اچھے انشاءپرداز سبھی کچھ تھے
انکے زیر انتظام چلنے والے مدرسہ کی ترقی کی رفتار کو دیکھیں تو وہ ایک اچھے منتظم اورکامیاب مربی بھی نظر آتے ہیں
قاری صاحب اہل علم اور ارباب فکر ودانش کی جس مجلس میں بھی ہوں میر مجلس وہی ہوتے ہیں اور مجلس کی رونق انہیں کے دم سے قائم رہتی ہے
شعر وسخن کی بزم ہو تو انکی طرف لوگوں کی توجہ اور بھی بڑھ جاتی ہے
افسوس ہیکہ حضرت قاری صاحب چند دنوں سے سخت بیمار تھے اور اسپتال میں خصوصی نگہداشت کے شعبہ میں رکھے گئے تھے پھر آپریشن کے مرحلہ سے بھی گزرے
اب میرے ساتھ آپ بھی دعاء کیجئے کہ اللہ تعالی انہیں شفائے کامل سے نوازے اور انکی تعلیمی واصلاحی سر گرمیاں جاری رہیں
آمین
❤2
*وفیات مورخہ:اگسٹ /13*
1890ء غلام سرور قریشی چشتی لاہوری۔
1893ء برجیس قدر۔
1928ء سید امیر علی۔ مصنف روح اسلام، جسٹس ،
1949ء حسنی الزعیم۔ فوجی جنرل سوریہ
1951ء عیش امروہوی (حکیم محمد اسماعیل)۔ ،
1961ء ابوسعید شرف الدین دہلوی۔ محدث ،
1970ء ضیاء القادری (محمد یعقوب حسین)۔ شاعر
1971ء شعیب حزیں امروہوی (شعیب احمد عباسی)۔ شاعر
1979ء آفتاب اقبال۔ فرزند اقبال ،
1985ء انور صٓابری۔ شاعر انقلاب ،
1992ء سجاد باقر نقوی۔ شاعر
1994ء نجم الدین اصلاحی۔ مولانا
1996ء عبدالغفور قریشی۔ مولانا، قطب دکن
2019ء حسن الدین احمد۔ سول سرونٹ، ادیب ومورخ
2022ء نفیس صادق۔
2023ء دلاور حسین سعیدی۔ مولانا، بنگالی خطیب
2024ء انور بدخشانی۔ مولانا، استاد حدیث جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1890ء غلام سرور قریشی چشتی لاہوری۔
1893ء برجیس قدر۔
1928ء سید امیر علی۔ مصنف روح اسلام، جسٹس ،
1949ء حسنی الزعیم۔ فوجی جنرل سوریہ
1951ء عیش امروہوی (حکیم محمد اسماعیل)۔ ،
1961ء ابوسعید شرف الدین دہلوی۔ محدث ،
1970ء ضیاء القادری (محمد یعقوب حسین)۔ شاعر
1971ء شعیب حزیں امروہوی (شعیب احمد عباسی)۔ شاعر
1979ء آفتاب اقبال۔ فرزند اقبال ،
1985ء انور صٓابری۔ شاعر انقلاب ،
1992ء سجاد باقر نقوی۔ شاعر
1994ء نجم الدین اصلاحی۔ مولانا
1996ء عبدالغفور قریشی۔ مولانا، قطب دکن
2019ء حسن الدین احمد۔ سول سرونٹ، ادیب ومورخ
2022ء نفیس صادق۔
2023ء دلاور حسین سعیدی۔ مولانا، بنگالی خطیب
2024ء انور بدخشانی۔ مولانا، استاد حدیث جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
❤1
*ہو گئے سب ’آں جہانی*
* احمد حاطب صدیقی *
کراچی سے عزیزہ ’’خاک زادی‘‘ نے ایک عریضہ ارسال کیا ہے:
’’آں جہانی غیر مسلم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہی پڑھا تھا۔ مگر ایک صاحب نے کہا کہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ فارسی الاصل لفظ ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیے‘‘۔
سوال برطرف۔ جواب دینے پہلے ہم اِس صاحبزادی کو ’خاک زادی‘ کا عرف اختیار کرنے پر داد دینا چاہیں گے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہماری اِس بیٹی کا نام ’ماہم‘ (میرا چاند) ہے یا ’ماہِ تمام‘ (پورا چاند)۔ ہم سب ہی ’خاک زادے‘ ہیں۔ ’ماہ زادہ‘ کوئی نہیں۔
خطبۂ حجۃ الوداع میں، کہ رہتی دنیا تک کے انسانوں سے خطاب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کا ایک ارشاد اِس مفہوم کا ملتا ہے:
’’تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے‘‘۔
مولانا ابوالجلال ندویؒ نے پیدائشِ آدم ؑ پر ایک طویل نظم ’’تکوین‘‘ (بمعنی ’’تخلیق‘‘) کہی تھی۔ اُسی نظم کا ایک شعر ہے:
خاک زادے کو خلافت دی گئی
ذاتِ باری کی نیابت دی گئی
’زادہ‘ کا مطلب ہے ’جنا ہوا‘۔ ’شاہ زادہ‘ کسی بادشاہ کا جنا ہوتا ہے، ’نواب زادہ‘ کسی نواب کا، ’خان زادہ‘ کسی خان کا، اور ’پیرزادہ‘ کسی پیر صاحب کا۔ ہمارے ہاں کچھ خال خال لوگ اور مغرب میں بڑی تعداد میں لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو اُردو کی زنانی لغت کے مطابق ’حرام کے جنے‘ ہوتے ہیں۔ اُنھیں کیا کہا جاتا ہے؟ آپ جانتے ہی ہوں گے۔ غالباً ایسے ہی لوگوں کو دیکھ کر اقبالؔ نے ’’حضورِ حق‘‘ اپنا وہ شعر پڑھا ہوگا، جو ’’ارمغانِ حجاز‘‘ (فارسی) میں ہے اور جس کا دوسرا مصرع شیخ سعدیؔ کا ہے:
بسے نا دیدنی را دیدہ ام من
’’مرا اے کاشکے مادر نہ زادے‘‘
’’مجھے بہت سی ’نہ دیکھنے والی‘ چیزیں بھی دیکھنی پڑگئی ہیں۔ اے کاش! میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا‘‘۔
’جننے‘ پرایک قصہ یہ بھی یاد آیا کہ مجیدؔ لاہوری نے حفیظؔ جالندھری کے ایک شعر کی ’تقلیدِ معکوس‘ کی تھی۔ حفیظؔ کا شعر کچھ یوں تھاکہ
حفیظؔ اہلِ زباں کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
جب کہ مجیدؔ لاہوری نے بڑے معنی خیز انداز میں یہ دعویٰ کیا:
مجیدؔ اہلِ جہاں کب جانتے تھے
بڑے زوروں سے جنوایا گیا ہوں
بات بہت لمبی ہوگئی۔ بتانا بس یہ تھا کہ ’زادہ‘ کا مطلب ہے ’جنا ہوا‘ اور ’زادی‘ اس کی تانیث ہے۔ لہٰذا جو لوگ اپنے بیٹے کا تعارف اِن الفاظ میں کراتے ہیں کہ ’’یہ میرا ’صاحب زادہ‘ ہے‘‘ وہ ذرا سوچ سمجھ کر تعارف کرایا کریں۔ بین السطور بڑی بیہودہ بات مستور ہے۔
اب آئیے اُس سوال کی طرف جو پیدا ہوگیا ہے، غالباً لوگوں کے تکیۂ کلام میں دیے جانے والے یہ طعنے سن سن کر کہ ’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔ تکیۂ کلام پر خیال آیا کہ سوال میں خاک زادی ’’آں جہانی‘‘ کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ ’’ایک صاحب نے کہا کہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ فارسی الاصل لفظ ہے‘‘۔ یہ ’ایک صاحب‘ کون صاحب ہیں؟ ان کا بڑا تذکرہ سنا ہے۔ ہمارے ایک دوست تو جب بھی ملتے ہیں ان کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔’’ایک صاحب نے بتایا ہے … ایک صاحب کہہ رہے تھے… ایک صاحب نے انکشاف کیا ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ایک دن اپنے اِس دوست کو دیکھا کہ لپک جھپک کر تیز تیز چلتے ہوئے کہیں جارہے ہیں۔ یوں ہی دریافت کرلیا:
’’حضرت! خیر تو ہے؟کہاں جارہے ہیں؟‘‘
جواب ملا: ’’ایک صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، اُن کے جنازے میں جارہا ہوں‘‘۔
’’اناللہ … ‘‘ پڑھ کر اُن سے تعزیت کی اور سکون کا سانس لیا کہ اب ’ایک صاحب‘ کے ارشادات و فرمودات سے نجات مل جائے گی۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ … بلکہ ’خاک زادی‘ شدہ۔
* احمد حاطب صدیقی *
کراچی سے عزیزہ ’’خاک زادی‘‘ نے ایک عریضہ ارسال کیا ہے:
’’آں جہانی غیر مسلم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہی پڑھا تھا۔ مگر ایک صاحب نے کہا کہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ فارسی الاصل لفظ ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیے‘‘۔
سوال برطرف۔ جواب دینے پہلے ہم اِس صاحبزادی کو ’خاک زادی‘ کا عرف اختیار کرنے پر داد دینا چاہیں گے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ہماری اِس بیٹی کا نام ’ماہم‘ (میرا چاند) ہے یا ’ماہِ تمام‘ (پورا چاند)۔ ہم سب ہی ’خاک زادے‘ ہیں۔ ’ماہ زادہ‘ کوئی نہیں۔
خطبۂ حجۃ الوداع میں، کہ رہتی دنیا تک کے انسانوں سے خطاب تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کا ایک ارشاد اِس مفہوم کا ملتا ہے:
’’تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے‘‘۔
مولانا ابوالجلال ندویؒ نے پیدائشِ آدم ؑ پر ایک طویل نظم ’’تکوین‘‘ (بمعنی ’’تخلیق‘‘) کہی تھی۔ اُسی نظم کا ایک شعر ہے:
خاک زادے کو خلافت دی گئی
ذاتِ باری کی نیابت دی گئی
’زادہ‘ کا مطلب ہے ’جنا ہوا‘۔ ’شاہ زادہ‘ کسی بادشاہ کا جنا ہوتا ہے، ’نواب زادہ‘ کسی نواب کا، ’خان زادہ‘ کسی خان کا، اور ’پیرزادہ‘ کسی پیر صاحب کا۔ ہمارے ہاں کچھ خال خال لوگ اور مغرب میں بڑی تعداد میں لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو اُردو کی زنانی لغت کے مطابق ’حرام کے جنے‘ ہوتے ہیں۔ اُنھیں کیا کہا جاتا ہے؟ آپ جانتے ہی ہوں گے۔ غالباً ایسے ہی لوگوں کو دیکھ کر اقبالؔ نے ’’حضورِ حق‘‘ اپنا وہ شعر پڑھا ہوگا، جو ’’ارمغانِ حجاز‘‘ (فارسی) میں ہے اور جس کا دوسرا مصرع شیخ سعدیؔ کا ہے:
بسے نا دیدنی را دیدہ ام من
’’مرا اے کاشکے مادر نہ زادے‘‘
’’مجھے بہت سی ’نہ دیکھنے والی‘ چیزیں بھی دیکھنی پڑگئی ہیں۔ اے کاش! میری ماں نے مجھے نہ جنا ہوتا‘‘۔
’جننے‘ پرایک قصہ یہ بھی یاد آیا کہ مجیدؔ لاہوری نے حفیظؔ جالندھری کے ایک شعر کی ’تقلیدِ معکوس‘ کی تھی۔ حفیظؔ کا شعر کچھ یوں تھاکہ
حفیظؔ اہلِ زباں کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
جب کہ مجیدؔ لاہوری نے بڑے معنی خیز انداز میں یہ دعویٰ کیا:
مجیدؔ اہلِ جہاں کب جانتے تھے
بڑے زوروں سے جنوایا گیا ہوں
بات بہت لمبی ہوگئی۔ بتانا بس یہ تھا کہ ’زادہ‘ کا مطلب ہے ’جنا ہوا‘ اور ’زادی‘ اس کی تانیث ہے۔ لہٰذا جو لوگ اپنے بیٹے کا تعارف اِن الفاظ میں کراتے ہیں کہ ’’یہ میرا ’صاحب زادہ‘ ہے‘‘ وہ ذرا سوچ سمجھ کر تعارف کرایا کریں۔ بین السطور بڑی بیہودہ بات مستور ہے۔
اب آئیے اُس سوال کی طرف جو پیدا ہوگیا ہے، غالباً لوگوں کے تکیۂ کلام میں دیے جانے والے یہ طعنے سن سن کر کہ ’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔ تکیۂ کلام پر خیال آیا کہ سوال میں خاک زادی ’’آں جہانی‘‘ کے حوالے سے لکھتی ہیں کہ ’’ایک صاحب نے کہا کہ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ فارسی الاصل لفظ ہے‘‘۔ یہ ’ایک صاحب‘ کون صاحب ہیں؟ ان کا بڑا تذکرہ سنا ہے۔ ہمارے ایک دوست تو جب بھی ملتے ہیں ان کا ذکر ضرور کرتے ہیں۔’’ایک صاحب نے بتایا ہے … ایک صاحب کہہ رہے تھے… ایک صاحب نے انکشاف کیا ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ایک دن اپنے اِس دوست کو دیکھا کہ لپک جھپک کر تیز تیز چلتے ہوئے کہیں جارہے ہیں۔ یوں ہی دریافت کرلیا:
’’حضرت! خیر تو ہے؟کہاں جارہے ہیں؟‘‘
جواب ملا: ’’ایک صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، اُن کے جنازے میں جارہا ہوں‘‘۔
’’اناللہ … ‘‘ پڑھ کر اُن سے تعزیت کی اور سکون کا سانس لیا کہ اب ’ایک صاحب‘ کے ارشادات و فرمودات سے نجات مل جائے گی۔ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ … بلکہ ’خاک زادی‘ شدہ۔
❤1
ہاں تو’ایک صاحب‘ نے یہ بات تو بالکل درست بتائی ہے کہ ’آں جہانی‘ فارسی الاصل لفظ ہے۔ ’آں‘ کے معنی ہیں ’وہ‘ اور ’جہاں‘ کے معنی ہیں ’دُنیا‘۔ ’اِیں جہاں‘ یہ دُنیا اور ’آں جہاں‘ وہ دُنیا۔ یائے نسبتی (ی) لگاکر ’آں جہاں‘ سے ’آں جہانی‘ بنالیا گیا ہے۔ ’آں جہانی‘ کے لفظی معنی ہوئے ’اُس دنیا میں جا بسنے والا، یا ’اگلی دنیا میں چلا جانے والا‘۔ مگر ’ایک صاحب‘ کی یہ بات درست نہیں کہ ’آں جہانی‘ مسلم و غیر مسلم دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نہیں صاحب! استعمال تو نہیں ہوتا، ہاں کوئی استعمال کرلے تو بھلا کون روک سکتا ہے؟ یوں تو سب ہی اِس جہان سے اُس جہان میں جاتے ہیں۔ خواہ اُس جہان کے وجود کو مانیں یا نہ مانیں۔ مگر مسلم وہ ہے جس نے اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے احکام کے آگے اپنا سرِ تسلیم خم کردیا۔ غیر مسلم نے ایسا نہیں کیا۔ کیوں نہیں کیا؟ وہ جانے، اُس کا کام جانے۔ پس جب کوئی مسلمان اِس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو ہم اُسے ’مرحوم‘ کہتے ہیں یا ’مرحومہ‘۔ لفظی معنی مرحوم یا مرحومہ کے ہیں ’’جس پر اللہ نے رحم فرمایا‘‘۔ ایمان کے ساتھ اِس دنیا سے رخصت ہونا ’اللہ کی رحمت‘ ہی ہے۔ لہٰذا ہماری زبان میں ہر فوت شدہ مسلمان کے لیے مرحوم، مرحومہ، رحمۃ اللہ علیہ یا رحمۃ اللہ علیہا جیسے دعائیہ کلمات استعمال کرنے کا رواج ہے۔ غیر مسلم تو کفر اور انکار پر ڈٹا رہ کر اِس دنیا سے اُس دنیا میں جاتا ہے۔ چلا گیا، اب کیا کِیا جا سکتا ہے؟ اُس کی مرضی و منشا کے خلاف اُس کا لاشہ گھسیٹ کر اب اسلام کے دامنِ رحمت میں لا ڈالنے کا اختیار ہمیں تو نہیں۔ یہ اختیار خود اُسی کو تھا۔ سو احتراماً یا تعظیماً ہر فوت شدہ غیر مسلم کو اُردو میں ’آں جہانی‘ کہہ کر یاد کیا جاتا ہے۔
جو لوگ اس بات کے قائل تھے کہ مسلم و غیر مسلم دونوں کو ’آں جہانی‘ کہا جائے، ذرا خود اُن کے نام کے ساتھ ’آں جہانی‘ لگا کر دیکھیے کیسا لگے گا، مثلاً ’آں جہانی رشید حسن خان‘ یا ’آں جہانی شمس الرحمٰن فاروقی‘۔ رائج طریقہ تو یہی ہے کہ مسلم کو ’مرحوم‘ کہا جائے، غیر مسلم کو ’آں جہانی‘۔ اگر ’ایک صاحب‘ نہیں کہنا چاہتے تو نہ کہیں۔ اُن سے ہاتھا پائی کرنے کی ضرورت نہیں۔ ضرورتِ شعری کے تحت اُردو شاعری میں حسن کو بھی ’کافر‘ قرار دیا گیا ہے۔ سید آلِ رضاؔ مرحوم کہتے ہیں:
سوچیے تو حسنِ کافر کچھ نہیں
دیکھیے تو دیکھتے رہ جائیے
ان ’کافروں‘ کی وجہ سے ’بتوں‘ سے بھی عشق کرلیا جاتا ہے۔ محبوب کو ’صنم‘ کہہ دیا جاتا ہے یا ’بُتِ کافر‘ قرار دیا جاتا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ کافر انسانوں کے ساتھ ساتھ پتھر کے بت بھی جہنم کا ایندھین بنیں گے۔ چناں چہ اسی ’جان کاری‘ کی وجہ سے حضرتِ بیدلؔ جونپوری اپنے ’بتوں‘ کی وفات کی اطلاع یوں دیتے ہیں:
اِس جہاں میں جن بتوں کو ہم نے اپنا دل دیا
ہو گئے سب آں جہانی، اطلاعاً عرض ہے
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
جو لوگ اس بات کے قائل تھے کہ مسلم و غیر مسلم دونوں کو ’آں جہانی‘ کہا جائے، ذرا خود اُن کے نام کے ساتھ ’آں جہانی‘ لگا کر دیکھیے کیسا لگے گا، مثلاً ’آں جہانی رشید حسن خان‘ یا ’آں جہانی شمس الرحمٰن فاروقی‘۔ رائج طریقہ تو یہی ہے کہ مسلم کو ’مرحوم‘ کہا جائے، غیر مسلم کو ’آں جہانی‘۔ اگر ’ایک صاحب‘ نہیں کہنا چاہتے تو نہ کہیں۔ اُن سے ہاتھا پائی کرنے کی ضرورت نہیں۔ ضرورتِ شعری کے تحت اُردو شاعری میں حسن کو بھی ’کافر‘ قرار دیا گیا ہے۔ سید آلِ رضاؔ مرحوم کہتے ہیں:
سوچیے تو حسنِ کافر کچھ نہیں
دیکھیے تو دیکھتے رہ جائیے
ان ’کافروں‘ کی وجہ سے ’بتوں‘ سے بھی عشق کرلیا جاتا ہے۔ محبوب کو ’صنم‘ کہہ دیا جاتا ہے یا ’بُتِ کافر‘ قرار دیا جاتا ہے، یہ جانتے ہوئے کہ کافر انسانوں کے ساتھ ساتھ پتھر کے بت بھی جہنم کا ایندھین بنیں گے۔ چناں چہ اسی ’جان کاری‘ کی وجہ سے حضرتِ بیدلؔ جونپوری اپنے ’بتوں‘ کی وفات کی اطلاع یوں دیتے ہیں:
اِس جہاں میں جن بتوں کو ہم نے اپنا دل دیا
ہو گئے سب آں جہانی، اطلاعاً عرض ہے
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*سچی باتیں (24؍فروری 1941ء)۔۔۔ تہذیب جدید*
*تحریر: مولانا عبد الماجد دریادبادیؒ*
’’سونا کم بختوں نے مشکل کردیا‘‘۔ ’’رات کی نیند حرام کردی‘‘ ۔ آپ کروٹیں بدل بدل کر کہہ رہے ہیں۔ اور عجب نہیں کہ جھنجلاہٹ میں زیر لب کچھ اس سے بھی زیادہ کہہ رہے ہوں۔ گانے کی چیختی ہوئی آوازیں اور باجے کی دُھم دُھم، پھٹ پھَٹ، کانوں کے پردے پھاڑے دیتی ہیں۔ پڑوس میں کچھ کچّے مکان ہیں۔ ایک آدھ کھپریل، دو ایک چھپر، ان میں لودھے آباد ہیں۔ آج اُن کے ہاں بارات ہے۔ یہ شوروشغب وہیں کا ہے……ان کے ہاں خوش گلو بیسوائیں نہیں آتیں۔ اونچی اونچی قیس پر زنانہ اور مردانہ طائفے نہیں بُلائے جاتے۔ نہ ریڈیو نہ گراموفون، نہ کرایہ کے اربابِ نشاط۔ ’’خود کوزۂ وخود کوزہ گر وخود گلِ کوزہ‘‘کا معاملہ۔ جب کبھی دل میں اُمنگ آئی، ترنگ آئی،شادی بیاہ کا دن آیا، تَیر تیوہارہوا، ہنسنے بولنے کا جی چاہا، خودہی ڈھول مجیرے لے کر بیٹھ گئے لگے خود ہی گانے اور خود ہی بجانے۔ خود ہی اُچھلنے ، کودنے، ناچنے، تھرکنے۔کبھی باری گھر کے مَردوں کی آئی، کبھی عورتوں کی……لودھے، چوہرے، چمار، پاسی، بھنگی، جن جن کو آپ نہیں، آپ کے ہم وطن ’’نیچ ذات‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں، سے کے ہاں یہی دستور ، یہ شعار، کہ
خود تماشا و خود تماشائی!
آج رات کو لکھنؤ کے چھتر منزل کلب میں ’’ڈانس ‘‘ ہے۔ نئی دہلی کے روشن آرا کلب میں ’’فینسی بال‘‘ ہے۔ لق ودَق عمارت بجلی کے قمقموں اور منڈوں سے بڑی جگمگارہی ہے۔ رات کی روشنی دن کے اُجالے کو مات لئے ہوئے ، موٹروں کا ہجوم، ایک سے ایک اعلیٰ اور نفیس جگمگاتے جسموں پر جگمگاتے لباس، اور لباس سے بھی بڑھ عریانیاں ……ناچ مجرا کس کا ہوگا؟ کوئی نامور بائی جی آرہی ہیں! کوئی نامی گرامی آرٹسٹ قدم رنجہ فرمارہی ہیںْ! جی نہیں۔یہ سب تکلفات ، زمانۂ قدیم کے ساتھ رخصت ہوگئے۔ یہ سن و سال کا امتیاز، یہ تماشہ اور تماشائی ، تفریق ختم ہوگئی قرون وسطیٰ کے ساتھ! یہاں تھرکنے والے مرد اور ناچنے والی عورتیں کوئی غیر نہیں، سب آپس ہی کے ! بڑے سے بڑے صاحب بہادر اور اونچی سے اونچی لیڈیاں سب رونق افروز۔ خود ہی ناچیں گے، خود ہی نچوائیں گے۔ شمپئین اور وھسکی کے دَور چل رہے ہیں۔ ان کی میم صاحبہ ناچ رہی ہیں اُن کے ساتھ ، اور اُن کی مس صاحبہ ان کے ساتھ! جس نے جوسی چاہی جوڑ پسند کرلی۔ جوڑے اپنی اپنی پسند کے ، اِن کا ہاتھ اُن کے شانے پر ، اُن کا ہاتھ ان کی کمر میں! جسم سے جسم مِلے ہوئے،بدن سے بدن جُڑے ہوئے……نشہ اور نشۂ عشرت دونوں کے عالم میں ، وہ وہ آزادیاں ، کہ قلم ان کی مصوّری سے عاجز!
خامہ انگشت بدنداں کہ انھیں کیا لکھئے!
وحشت وجہالت کی پستیاں وہ تھیں ! علم وتمدن کی بلندیاں یہ ہیں! گھوم پھر کر پہونچ گئے وہیں جہاں سے چلے تھے! گانا بجانا وہاں بھی خود ہی تھا، یہاں بھی وہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے ، کہ وہاں شرم وغیرت بالکل دور نہیں ہوئی تھی، مردوعورت میں حجاب ایک گونہ باقی تھا۔ مَردوں کا ناچ گانا الگ رہتاتھا، عورتوں کا الگ۔ ’’تعلیم وتہذیب‘‘ کی ’’ترقیوں‘‘ نے اس دوئی کا بھی پردہ اُٹھا دیا!……’’صاحب‘‘ کے تمدن میں گھر کی بیویوں نے جگہ لے لی ہے ڈومنیوں کی، کنچنیوں کی، اور گھر کی بہو بیٹیوں نے بے دخل کردیا ہے بیسواؤں کو، طائفہ والیوں کو! اب میم صاحب اور مس صاحب ، نازوانداز کے ساتھ ہنستی ہوئی، مسکراتی ہوئی اُٹھتی ہوئی، اور نیم عریاں لباس کے ساتھ غیر مَردون سے ہم آغوش ہوہوکر باپوں اور شوہروں کے اور بھائیوں کے دلوں کو ٹھنڈک پہونچاتی رہتی ہیں!……چمار بیچارہ اب بھی حقیر ہے، ذلیل ہے، رذیل ہے……شاید اس لئے کہ اس کے ٹوٹے ہوئے ڈھول مجیرے کسی شاندار ارکسٹرا کا مقابلہ نہیں کرسکتے، اس کی جھوپڑی کسی عالیشان کوٹھی کے مقابلہ میں نہیں لائی جاسکتی اور اُس کی مٹی کے تیل کی ٹمٹماتی ہوئی ڈبیا برقی لیمپ سے ٹکّر نہیں کھاسکتی…… انقلاب زندہ باد ! مخلوط تمدن کی جے! مخلوط تعلیم کی جے!
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
posted
*تحریر: مولانا عبد الماجد دریادبادیؒ*
’’سونا کم بختوں نے مشکل کردیا‘‘۔ ’’رات کی نیند حرام کردی‘‘ ۔ آپ کروٹیں بدل بدل کر کہہ رہے ہیں۔ اور عجب نہیں کہ جھنجلاہٹ میں زیر لب کچھ اس سے بھی زیادہ کہہ رہے ہوں۔ گانے کی چیختی ہوئی آوازیں اور باجے کی دُھم دُھم، پھٹ پھَٹ، کانوں کے پردے پھاڑے دیتی ہیں۔ پڑوس میں کچھ کچّے مکان ہیں۔ ایک آدھ کھپریل، دو ایک چھپر، ان میں لودھے آباد ہیں۔ آج اُن کے ہاں بارات ہے۔ یہ شوروشغب وہیں کا ہے……ان کے ہاں خوش گلو بیسوائیں نہیں آتیں۔ اونچی اونچی قیس پر زنانہ اور مردانہ طائفے نہیں بُلائے جاتے۔ نہ ریڈیو نہ گراموفون، نہ کرایہ کے اربابِ نشاط۔ ’’خود کوزۂ وخود کوزہ گر وخود گلِ کوزہ‘‘کا معاملہ۔ جب کبھی دل میں اُمنگ آئی، ترنگ آئی،شادی بیاہ کا دن آیا، تَیر تیوہارہوا، ہنسنے بولنے کا جی چاہا، خودہی ڈھول مجیرے لے کر بیٹھ گئے لگے خود ہی گانے اور خود ہی بجانے۔ خود ہی اُچھلنے ، کودنے، ناچنے، تھرکنے۔کبھی باری گھر کے مَردوں کی آئی، کبھی عورتوں کی……لودھے، چوہرے، چمار، پاسی، بھنگی، جن جن کو آپ نہیں، آپ کے ہم وطن ’’نیچ ذات‘‘ کہہ کر پکارتے ہیں، سے کے ہاں یہی دستور ، یہ شعار، کہ
خود تماشا و خود تماشائی!
آج رات کو لکھنؤ کے چھتر منزل کلب میں ’’ڈانس ‘‘ ہے۔ نئی دہلی کے روشن آرا کلب میں ’’فینسی بال‘‘ ہے۔ لق ودَق عمارت بجلی کے قمقموں اور منڈوں سے بڑی جگمگارہی ہے۔ رات کی روشنی دن کے اُجالے کو مات لئے ہوئے ، موٹروں کا ہجوم، ایک سے ایک اعلیٰ اور نفیس جگمگاتے جسموں پر جگمگاتے لباس، اور لباس سے بھی بڑھ عریانیاں ……ناچ مجرا کس کا ہوگا؟ کوئی نامور بائی جی آرہی ہیں! کوئی نامی گرامی آرٹسٹ قدم رنجہ فرمارہی ہیںْ! جی نہیں۔یہ سب تکلفات ، زمانۂ قدیم کے ساتھ رخصت ہوگئے۔ یہ سن و سال کا امتیاز، یہ تماشہ اور تماشائی ، تفریق ختم ہوگئی قرون وسطیٰ کے ساتھ! یہاں تھرکنے والے مرد اور ناچنے والی عورتیں کوئی غیر نہیں، سب آپس ہی کے ! بڑے سے بڑے صاحب بہادر اور اونچی سے اونچی لیڈیاں سب رونق افروز۔ خود ہی ناچیں گے، خود ہی نچوائیں گے۔ شمپئین اور وھسکی کے دَور چل رہے ہیں۔ ان کی میم صاحبہ ناچ رہی ہیں اُن کے ساتھ ، اور اُن کی مس صاحبہ ان کے ساتھ! جس نے جوسی چاہی جوڑ پسند کرلی۔ جوڑے اپنی اپنی پسند کے ، اِن کا ہاتھ اُن کے شانے پر ، اُن کا ہاتھ ان کی کمر میں! جسم سے جسم مِلے ہوئے،بدن سے بدن جُڑے ہوئے……نشہ اور نشۂ عشرت دونوں کے عالم میں ، وہ وہ آزادیاں ، کہ قلم ان کی مصوّری سے عاجز!
خامہ انگشت بدنداں کہ انھیں کیا لکھئے!
وحشت وجہالت کی پستیاں وہ تھیں ! علم وتمدن کی بلندیاں یہ ہیں! گھوم پھر کر پہونچ گئے وہیں جہاں سے چلے تھے! گانا بجانا وہاں بھی خود ہی تھا، یہاں بھی وہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے ، کہ وہاں شرم وغیرت بالکل دور نہیں ہوئی تھی، مردوعورت میں حجاب ایک گونہ باقی تھا۔ مَردوں کا ناچ گانا الگ رہتاتھا، عورتوں کا الگ۔ ’’تعلیم وتہذیب‘‘ کی ’’ترقیوں‘‘ نے اس دوئی کا بھی پردہ اُٹھا دیا!……’’صاحب‘‘ کے تمدن میں گھر کی بیویوں نے جگہ لے لی ہے ڈومنیوں کی، کنچنیوں کی، اور گھر کی بہو بیٹیوں نے بے دخل کردیا ہے بیسواؤں کو، طائفہ والیوں کو! اب میم صاحب اور مس صاحب ، نازوانداز کے ساتھ ہنستی ہوئی، مسکراتی ہوئی اُٹھتی ہوئی، اور نیم عریاں لباس کے ساتھ غیر مَردون سے ہم آغوش ہوہوکر باپوں اور شوہروں کے اور بھائیوں کے دلوں کو ٹھنڈک پہونچاتی رہتی ہیں!……چمار بیچارہ اب بھی حقیر ہے، ذلیل ہے، رذیل ہے……شاید اس لئے کہ اس کے ٹوٹے ہوئے ڈھول مجیرے کسی شاندار ارکسٹرا کا مقابلہ نہیں کرسکتے، اس کی جھوپڑی کسی عالیشان کوٹھی کے مقابلہ میں نہیں لائی جاسکتی اور اُس کی مٹی کے تیل کی ٹمٹماتی ہوئی ڈبیا برقی لیمپ سے ٹکّر نہیں کھاسکتی…… انقلاب زندہ باد ! مخلوط تمدن کی جے! مخلوط تعلیم کی جے!
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
posted
2026-08-18 Yadoun Ka safar 93+94.pdf
239.7 KB
یادوں کا سفر (۹۳۔۹۴) اخلاق احمد دہلوی
وفیات مورخہ:اگسٹ /18
1971ء سید تجمل حسین۔ ،
1978ء فضل احمد صدیقی حرماں۔ ،
1981ء بیگم نعمت (حکیم محمد سعید)۔ ،
1985ء اختر انصاری۔ شاعر ،
1985ء شاذ تمکنت۔ شاعر
1993ء جمیل نظر (جمیل احمد)۔
1996ء سید سلیمان شاہ۔ ،
2010ء عمر حیات خان غوری۔ ادیب ومصنف
2010ء مریم مشکور احمد۔ ،
2010ء میراحمد دیہاتی۔ ،
2013ء نسیم اللہ خان۔ ،
2018ء کوفی عنان۔ سکریٹری جنرل اقوام متحدہ
2020ء محمد علی تسخیری۔ شیعہ عالم دین
2021ء عبدالمغنی ۔ مولانا مفتی
1971ء سید تجمل حسین۔ ،
1978ء فضل احمد صدیقی حرماں۔ ،
1981ء بیگم نعمت (حکیم محمد سعید)۔ ،
1985ء اختر انصاری۔ شاعر ،
1985ء شاذ تمکنت۔ شاعر
1993ء جمیل نظر (جمیل احمد)۔
1996ء سید سلیمان شاہ۔ ،
2010ء عمر حیات خان غوری۔ ادیب ومصنف
2010ء مریم مشکور احمد۔ ،
2010ء میراحمد دیہاتی۔ ،
2013ء نسیم اللہ خان۔ ،
2018ء کوفی عنان۔ سکریٹری جنرل اقوام متحدہ
2020ء محمد علی تسخیری۔ شیعہ عالم دین
2021ء عبدالمغنی ۔ مولانا مفتی
اسلام کا پیغامِ مساوات
"الْحَمْدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ" ساری خوبیاں اس ایک خدا کی ہیں، جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے، ایک ہی ربوبیت ہے، جس میں نہ صرف کل دنیا بلکہ کل دنیاؤں کی ساری مخلوقات یکساں شریک ہیں اور اس لحاظ سے محمد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیم نے ان تمام تفرقوں کو مٹادیا، جو ایک خدا کے ماننے کے باوجود دنیا کی قوموں اور خاندانوں کو مختلف خداؤں میں تقسیم کردیتے تھے اور بتا دیا کہ ہم سب کے سب ایک خدائے واحد کے بندے ہونے کی حیثیت سے باہم بھائی بھائی ہیں، سید ہوں کہ شیخ، پرانے خاندانی مسلمان ہوں کہ نو مسلم برہمن ہوں کہ چمار، یورپین ہوں کہ ایشیائی سب ایک ہی آقا کے غلام اور باہم خواجہ تاش ہیں۔
(علامہ سید سلیمان ندویؒ کے چند نادر خطبات و رسائل، صفحہ ۳۵/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
"الْحَمْدُلِلّٰهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ" ساری خوبیاں اس ایک خدا کی ہیں، جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے، ایک ہی ربوبیت ہے، جس میں نہ صرف کل دنیا بلکہ کل دنیاؤں کی ساری مخلوقات یکساں شریک ہیں اور اس لحاظ سے محمد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیم نے ان تمام تفرقوں کو مٹادیا، جو ایک خدا کے ماننے کے باوجود دنیا کی قوموں اور خاندانوں کو مختلف خداؤں میں تقسیم کردیتے تھے اور بتا دیا کہ ہم سب کے سب ایک خدائے واحد کے بندے ہونے کی حیثیت سے باہم بھائی بھائی ہیں، سید ہوں کہ شیخ، پرانے خاندانی مسلمان ہوں کہ نو مسلم برہمن ہوں کہ چمار، یورپین ہوں کہ ایشیائی سب ایک ہی آقا کے غلام اور باہم خواجہ تاش ہیں۔
(علامہ سید سلیمان ندویؒ کے چند نادر خطبات و رسائل، صفحہ ۳۵/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
*وفیات مورخہ:اگسٹ /19*
1963ء تمیز الدین۔ اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان
1965ء اطہر جعفری (سید علی اطہر )۔ شاعر
1976ء جاں نثار اختر۔ شاعر ،
1983ء جعفرحسین۔ مولانا مفتی ، شیعہ ذاکر
1985ء ظفر احمد تھانوی۔ خلیفہ حکیم الامت تھانوی
1986ء ضیاء فتح آبادی (مہرلال سونی)۔ شاعر
1993ء صلاح جدید۔ شامی بعثی لیڈر
1998ء مطیع الامام۔ پروفیسر ، ڈاکٹر سید
1999ء شوکت حسین رضوی۔ فلمی ہدایت کار
2007ء ظل الرحمٰن ۔ مولانا، صدر جمعیۃ علمائے ہند مہاراشٹر
2015ء نثار احمد کلیم بیدری۔
2019ء محمد ظہور خیام۔ موسیقار
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
1963ء تمیز الدین۔ اسپیکر قومی اسمبلی پاکستان
1965ء اطہر جعفری (سید علی اطہر )۔ شاعر
1976ء جاں نثار اختر۔ شاعر ،
1983ء جعفرحسین۔ مولانا مفتی ، شیعہ ذاکر
1985ء ظفر احمد تھانوی۔ خلیفہ حکیم الامت تھانوی
1986ء ضیاء فتح آبادی (مہرلال سونی)۔ شاعر
1993ء صلاح جدید۔ شامی بعثی لیڈر
1998ء مطیع الامام۔ پروفیسر ، ڈاکٹر سید
1999ء شوکت حسین رضوی۔ فلمی ہدایت کار
2007ء ظل الرحمٰن ۔ مولانا، صدر جمعیۃ علمائے ہند مہاراشٹر
2015ء نثار احمد کلیم بیدری۔
2019ء محمد ظہور خیام۔ موسیقار
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
مورخہ 19 اکتوبر 1976ء کو اردو کے ممتاز شاعر جاں نثار اختر کی وفات ہوئی تھی، اس مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز میں کلام پیش خدمت ہے
کلام شاعر بزبان شاعر
جان نثار اختر
ہم سے بھاگا نہ کرو
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=hum-say-bhaga-na-karo-door, Hum Say Bhaga Na Karo Door
مزید کلام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=jan-nisar-akhtar&t=
علم و کتاب
کلام شاعر بزبان شاعر
جان نثار اختر
ہم سے بھاگا نہ کرو
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=hum-say-bhaga-na-karo-door, Hum Say Bhaga Na Karo Door
مزید کلام
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=jan-nisar-akhtar&t=
علم و کتاب
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
نام پیارا کتنا تیرا
کلام: مولانا سید محمد ثانی حسنی ندوی رحمہ اللہ
انتخاب و نقل: محمود الحسن مدراسی
خاک کا یہ ذرہ ذکرِ مہو شاں کیسے کرے،
عشق کے رازِ نہاں کو وہ عیاں کیسے کرے،
مدح؛ آقا کی گدائے بے نشاں کیسے کرے،
مشک سے دھوئے زباں کو پھر بیاں ایسے کرے۔
کُشت بے تیغم، بَعشوہ تُرک نازک پیکرے،
خوش بیانے، مہربانے، جانِ جانے، دل برے،
نعت کہتا ہوں تری آقائے من، شاہِ زمن!
نام پیارا کتنا تیرا، پاک تن، پاکیزہ من،
خندہ رو، روشن جبیں، غنچہ دہن، شیریں سُخن،
نکہتِ زُلفِ معنبر، پر فدا مُشکِ ختن،
یاسمن، رشکِ سمن، جانِ چمن، یا جانِ من،
آشنائے، دل رُبائے، خود نمائے، خود سَرے،
تُو ہے بحرِ بیکراں اور میں ذرا سی آب جُو،
اے سراپا نُور! تُو ہے دو جہاں کی آبرو،
مرحبا, صل علیٰ، جانِ جہانِ رنگ و بُو،
قیصریت؛ تیری آمد سے ہوئی ہے زرد رُو،
کفر سوزے، دل فروزے، خُوب رُو، آہستہ خو،
پاک دینے، پاک بینے، خوش تر از ہر خوش ترے۔
اخترِ تاباں کہوں یا مہِ کامل تجھے،
میں کہوں، کون و مکاں کی جان یا پھر دل تجھے،
میں سمجھتا ہوں نشانِ جادۂ منزل تجھے۔
دل کھنچیں بے ساختہ، وہ ہے کشش حاصل تجھے،
ناز نینے، مہ جبینے، دل کَشے یا دل کُشے،
جاں گدازے، دل نوازے، گوہرے یا اخترے۔
کوچۂ جاناں گئے تو بن کے دیوانہ گئے،
بادۂ عشق و محبت پی کے مستانہ گئے،
صبر آیا جب نہ ہم کو پھر تو روزانہ گئے،
نعت یہ پڑھتے ہوئے بے اختیارانہ گئے۔
سادۂ، آزادۂ، مستانۂ، جانانۂ،
مست چشمے، دیر خشمے، طرفہ زیبا منظرے۔
اے سراپا خُلق! تیری ذات ہے ہر دل عزیز،
تیرے صدقے میں خدا نے دی ہمیں عقل و تمیز،
تیرے در کی خاک ہی سُرمہ بنانے کی ہے چیز،
توڑنا دم تیرے در پر جان و دل سے ہے عزیز،
بے قرارم، اشک بارم، سخت زارم، اے عزیز!
دل بُرد، جاں آورد ہر دم، بطرزِ دیگرے۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔
کلام: مولانا سید محمد ثانی حسنی ندوی رحمہ اللہ
انتخاب و نقل: محمود الحسن مدراسی
خاک کا یہ ذرہ ذکرِ مہو شاں کیسے کرے،
عشق کے رازِ نہاں کو وہ عیاں کیسے کرے،
مدح؛ آقا کی گدائے بے نشاں کیسے کرے،
مشک سے دھوئے زباں کو پھر بیاں ایسے کرے۔
کُشت بے تیغم، بَعشوہ تُرک نازک پیکرے،
خوش بیانے، مہربانے، جانِ جانے، دل برے،
نعت کہتا ہوں تری آقائے من، شاہِ زمن!
نام پیارا کتنا تیرا، پاک تن، پاکیزہ من،
خندہ رو، روشن جبیں، غنچہ دہن، شیریں سُخن،
نکہتِ زُلفِ معنبر، پر فدا مُشکِ ختن،
یاسمن، رشکِ سمن، جانِ چمن، یا جانِ من،
آشنائے، دل رُبائے، خود نمائے، خود سَرے،
تُو ہے بحرِ بیکراں اور میں ذرا سی آب جُو،
اے سراپا نُور! تُو ہے دو جہاں کی آبرو،
مرحبا, صل علیٰ، جانِ جہانِ رنگ و بُو،
قیصریت؛ تیری آمد سے ہوئی ہے زرد رُو،
کفر سوزے، دل فروزے، خُوب رُو، آہستہ خو،
پاک دینے، پاک بینے، خوش تر از ہر خوش ترے۔
اخترِ تاباں کہوں یا مہِ کامل تجھے،
میں کہوں، کون و مکاں کی جان یا پھر دل تجھے،
میں سمجھتا ہوں نشانِ جادۂ منزل تجھے۔
دل کھنچیں بے ساختہ، وہ ہے کشش حاصل تجھے،
ناز نینے، مہ جبینے، دل کَشے یا دل کُشے،
جاں گدازے، دل نوازے، گوہرے یا اخترے۔
کوچۂ جاناں گئے تو بن کے دیوانہ گئے،
بادۂ عشق و محبت پی کے مستانہ گئے،
صبر آیا جب نہ ہم کو پھر تو روزانہ گئے،
نعت یہ پڑھتے ہوئے بے اختیارانہ گئے۔
سادۂ، آزادۂ، مستانۂ، جانانۂ،
مست چشمے، دیر خشمے، طرفہ زیبا منظرے۔
اے سراپا خُلق! تیری ذات ہے ہر دل عزیز،
تیرے صدقے میں خدا نے دی ہمیں عقل و تمیز،
تیرے در کی خاک ہی سُرمہ بنانے کی ہے چیز،
توڑنا دم تیرے در پر جان و دل سے ہے عزیز،
بے قرارم، اشک بارم، سخت زارم، اے عزیز!
دل بُرد، جاں آورد ہر دم، بطرزِ دیگرے۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔
❤8
*بات سے بات: مولانا آزاد کی انڈیا ونس فریڈم اور برصغیر میں اس وقت کے حالات*
*تحریر: عبد المتین منیری*
دو ایک روز قبل ہماری بزم علم و کتاب میں مولانا ابو الکلام آزاد کی سوانح پر کتابوں کے بارے میں استفسار آیا تھا، جس کے جواب میں بعض احباب نے مولانا آزاد کی آب بیتی انڈیا ونس فریڈم کے مطالعہ کی سفارش کی تھی، یہ کالم اسی سے متعلق ہے)
مولانا کی سوانح پر اردو میں کئی ساری کتابیں آچکی ہیں، آخری دنوں میں شورش کاشمیری کی رحلت کے دو عشروں بعد شائع ہونے والی کتاب کو بڑی مقبولیت اور شہرت حاصل ہوئی، ہماری ناچیز رائے میں اثر پذیری میں یہ کتاب دوسری کتابوں پر فائق ہے، لیکن شورش کی تصانیف میں یہ بوئے گل اور پس دیوار زنداں کے پائے کی نہیں ہے۔
اپنے موضوع پر ڈھیر ساری کتابوں میں سے ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہان پوری، مولانا غلام رسول مہر، عبد الرزاق ملیح آبادی، عبد اللہ بٹ، اور مالک رام کی کتابیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ان کے علاوہ اور بھی کئی ساری کتابیں ہیں۔
ہمارے خیال میں مولانا آزاد کو غبار خاطر کے علاوہ کسی اور کتاب کو جم کر لکھنے کا موقع نہیں ملا، رہی کتاب "انڈیا ونس فریڈم'' نہ تو مولانا آزاد ابوالکلام کی مکمل سوانح عمری ہے اور نہ برصغیر کی جنگ آزادی کی مکمل تاریخ ہے۔ یہ کتاب 1937ء سے 1948ء تک صرف گیارہ برس کے سیاسی اتار چڑھاؤ کی کہانی ہے۔ اس دَور میں مولانا آزاد نے جو کچھ دیکھا، جن حالات سے گزرے اور جو کچھ محسوس کیا، اور حالات و واقعات پر انھوں نے اپنے مخصوص نقطۂ نظر سے جو رائے قائم کی، اور جس فیصلے پر ان کا قلب مطمئن ہوگیا تھا، اسے انھوں نے کتاب میں بے کم و کاست بیان کر دیا ہے۔
انڈیا ونس فریڈم میں مولانا ابوالکلام آزاد کے ترجمان اور کتاب کے مؤلف پروفیسر ہمایوں کبیر 1906ء میں کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے کلکتہ اور آکسفورڈ میں شاندار کامیابیوں کے ساتھ تعلیم مکمل کی 1933ء میں انھوں نے عملی زندگی کے میدان میں قدم رکھا تھا۔
مولانا آزاد سے ہمایوں کبیر کی پہلی ملاقات 1936ء میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ اُن سے اکثر ملتے رہے‘ قلعہ احمد نگر جیل میں مولانا نے ان کے مہاراجا سیاجی خطبات پڑھے تھے جو ”ہندوستانی ورثہ“ کے عنوان سے تھے۔ 1935ء میں شملہ کانفرنس کے موقع پر مولانا نے ہمایوں کبیر کو اپنے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کرنے کی دعوت دی‘ وہ اس وقت بنگال لیجسلیٹو اسمبلی کے رکن تھے۔ اس کے بعد کابینہ مشن کے ساتھ بات چیت کے موقع پر مولانا نے سیکرٹری کی حیثیت سے انھیں اپنے ساتھ رکھا۔ اس زمانے سے انھیں مولانا آزاد کو بہت قریب سے دیکھنے اور انھیں علمی اور اخلاقی حیثیتوں سے جانچنے اور پرکھنے کا موقع ملا تھا‘ اور وہ ان کی عظمت کے قائل تھے۔ مولانا آزاد بھی ان پر اعتماد اُن سے محبت اور ان کی رائے کا احترام کرتے تھے۔
ہندوستان کی آزادی کے بعد مولانا آزاد کی وزارت تعلیم میں انھیں ایڈوائزر مقرر کیا گیا ۔ 1957ء میں انھیں پنڈت نہرو کی کابینہ میں شہری ہوا بازی کی وزارت سونپی گئی ۔ یہ سلسلہ پنڈت نہرو کے بعد لال بہادر شاستری کی وزارت عظمیٰ کے دور (1964-66ء) اور اس کے بعد مسز اندرا گاندھی کی وزارت عظمیٰ کے زمانے میں 1968ء تک جاری رہا۔
انڈیا ونس فریڈم کا پہلا مجلد ایڈیشن مولانا کے انتقال کے گیارہ ماہ بعد جنوری ۱۹۵۹ء میں شائع ہوا تھا۔
اس کا پہلا اردو ترجمہ پروفیسر مجیب نے کیا تھا، اور ”ہماری آزادی“ کے نام سے ”اورینٹ لونگ مین“ نے فروری 1961ء میں ہندوستان سے شائع کیا تھا۔ ۱۹۸۸ء میں جب کتاب کے بقیہ تیس صفحات شائع ہوئے تو پھر اس کا ترجمہ ڈاکٹر ریاض الرحمن شروانی اور پروانہ ردولوی نے کیا تھا۔
۱۹۸۸ء میں اس کتاب کے بقیہ تیس صفحات کی اشاعت کے بعد ایک ادارے نے ڈاکٹر شمیم حنفی سے کتاب کا مکمل ترجمہ کروا کے شائع کیا تھا۔
اس کتاب کی اشاعت کے فورا بعد سنہ ۱۹۵۹ء میں آزادی کی کہانی کے عنوان سے مولانا غلام رسول مہر نے اس کا ترجمہ کیا تھا، اور اس پر تحقیقی حواشی بھی لکھے تھے، لیکن ان کی زندگی میں یہ چھپ نہیں سکی، تین سا ل قبل انکے فرزند امجد سلیم علوی نے اسے شاندار انداز سے شائع کیا ہے۔ لیکن ابھی یہ کتاب ہماری دسترس میں نہیں ہے، اس کالم میں مذکورہ دیگر کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں۔
انڈیا ونس فریڈم کی اشاعت کے فورا بعد رئیس احمد جعفری ندوی نے آزادی ہند کے منتخب مضامین کا انتخاب، تلخیص،اور استدراک کیا ، بنیادی طور پر یہ آزاد کی کتاب پر تنقید ہے، اسے اپنے وقت میں بڑی مقبولیت ملی،جعفری صاحب نے اسے ۸/ مئی ۱۹۵۹ء کو لکھنا شروع کرکے ۳۳/جون کو ختم کیا تھا۔ ایک ماہ کے اندر اس کے دو ایڈیشن نکلے تھے۔
یوپی مسلم لیگ کے ایک سابق رہنما عبد الوحید خان نے بھی تقسیم ہند کے عنوان سے مولانا آزاد کی کتاب کا ایک رد لکھا تھا، جو اکتوبر ۱۹۵۹ء میں شائع ہوئی، اس کے مصنف تقسیم ہند سے قبل یوپی مسلم لیگ کے رہنما تھے، اور سابق وزیر تھے۔
*تحریر: عبد المتین منیری*
دو ایک روز قبل ہماری بزم علم و کتاب میں مولانا ابو الکلام آزاد کی سوانح پر کتابوں کے بارے میں استفسار آیا تھا، جس کے جواب میں بعض احباب نے مولانا آزاد کی آب بیتی انڈیا ونس فریڈم کے مطالعہ کی سفارش کی تھی، یہ کالم اسی سے متعلق ہے)
مولانا کی سوانح پر اردو میں کئی ساری کتابیں آچکی ہیں، آخری دنوں میں شورش کاشمیری کی رحلت کے دو عشروں بعد شائع ہونے والی کتاب کو بڑی مقبولیت اور شہرت حاصل ہوئی، ہماری ناچیز رائے میں اثر پذیری میں یہ کتاب دوسری کتابوں پر فائق ہے، لیکن شورش کی تصانیف میں یہ بوئے گل اور پس دیوار زنداں کے پائے کی نہیں ہے۔
اپنے موضوع پر ڈھیر ساری کتابوں میں سے ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہان پوری، مولانا غلام رسول مہر، عبد الرزاق ملیح آبادی، عبد اللہ بٹ، اور مالک رام کی کتابیں بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ان کے علاوہ اور بھی کئی ساری کتابیں ہیں۔
ہمارے خیال میں مولانا آزاد کو غبار خاطر کے علاوہ کسی اور کتاب کو جم کر لکھنے کا موقع نہیں ملا، رہی کتاب "انڈیا ونس فریڈم'' نہ تو مولانا آزاد ابوالکلام کی مکمل سوانح عمری ہے اور نہ برصغیر کی جنگ آزادی کی مکمل تاریخ ہے۔ یہ کتاب 1937ء سے 1948ء تک صرف گیارہ برس کے سیاسی اتار چڑھاؤ کی کہانی ہے۔ اس دَور میں مولانا آزاد نے جو کچھ دیکھا، جن حالات سے گزرے اور جو کچھ محسوس کیا، اور حالات و واقعات پر انھوں نے اپنے مخصوص نقطۂ نظر سے جو رائے قائم کی، اور جس فیصلے پر ان کا قلب مطمئن ہوگیا تھا، اسے انھوں نے کتاب میں بے کم و کاست بیان کر دیا ہے۔
انڈیا ونس فریڈم میں مولانا ابوالکلام آزاد کے ترجمان اور کتاب کے مؤلف پروفیسر ہمایوں کبیر 1906ء میں کلکتہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے کلکتہ اور آکسفورڈ میں شاندار کامیابیوں کے ساتھ تعلیم مکمل کی 1933ء میں انھوں نے عملی زندگی کے میدان میں قدم رکھا تھا۔
مولانا آزاد سے ہمایوں کبیر کی پہلی ملاقات 1936ء میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ اُن سے اکثر ملتے رہے‘ قلعہ احمد نگر جیل میں مولانا نے ان کے مہاراجا سیاجی خطبات پڑھے تھے جو ”ہندوستانی ورثہ“ کے عنوان سے تھے۔ 1935ء میں شملہ کانفرنس کے موقع پر مولانا نے ہمایوں کبیر کو اپنے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کرنے کی دعوت دی‘ وہ اس وقت بنگال لیجسلیٹو اسمبلی کے رکن تھے۔ اس کے بعد کابینہ مشن کے ساتھ بات چیت کے موقع پر مولانا نے سیکرٹری کی حیثیت سے انھیں اپنے ساتھ رکھا۔ اس زمانے سے انھیں مولانا آزاد کو بہت قریب سے دیکھنے اور انھیں علمی اور اخلاقی حیثیتوں سے جانچنے اور پرکھنے کا موقع ملا تھا‘ اور وہ ان کی عظمت کے قائل تھے۔ مولانا آزاد بھی ان پر اعتماد اُن سے محبت اور ان کی رائے کا احترام کرتے تھے۔
ہندوستان کی آزادی کے بعد مولانا آزاد کی وزارت تعلیم میں انھیں ایڈوائزر مقرر کیا گیا ۔ 1957ء میں انھیں پنڈت نہرو کی کابینہ میں شہری ہوا بازی کی وزارت سونپی گئی ۔ یہ سلسلہ پنڈت نہرو کے بعد لال بہادر شاستری کی وزارت عظمیٰ کے دور (1964-66ء) اور اس کے بعد مسز اندرا گاندھی کی وزارت عظمیٰ کے زمانے میں 1968ء تک جاری رہا۔
انڈیا ونس فریڈم کا پہلا مجلد ایڈیشن مولانا کے انتقال کے گیارہ ماہ بعد جنوری ۱۹۵۹ء میں شائع ہوا تھا۔
اس کا پہلا اردو ترجمہ پروفیسر مجیب نے کیا تھا، اور ”ہماری آزادی“ کے نام سے ”اورینٹ لونگ مین“ نے فروری 1961ء میں ہندوستان سے شائع کیا تھا۔ ۱۹۸۸ء میں جب کتاب کے بقیہ تیس صفحات شائع ہوئے تو پھر اس کا ترجمہ ڈاکٹر ریاض الرحمن شروانی اور پروانہ ردولوی نے کیا تھا۔
۱۹۸۸ء میں اس کتاب کے بقیہ تیس صفحات کی اشاعت کے بعد ایک ادارے نے ڈاکٹر شمیم حنفی سے کتاب کا مکمل ترجمہ کروا کے شائع کیا تھا۔
اس کتاب کی اشاعت کے فورا بعد سنہ ۱۹۵۹ء میں آزادی کی کہانی کے عنوان سے مولانا غلام رسول مہر نے اس کا ترجمہ کیا تھا، اور اس پر تحقیقی حواشی بھی لکھے تھے، لیکن ان کی زندگی میں یہ چھپ نہیں سکی، تین سا ل قبل انکے فرزند امجد سلیم علوی نے اسے شاندار انداز سے شائع کیا ہے۔ لیکن ابھی یہ کتاب ہماری دسترس میں نہیں ہے، اس کالم میں مذکورہ دیگر کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں۔
انڈیا ونس فریڈم کی اشاعت کے فورا بعد رئیس احمد جعفری ندوی نے آزادی ہند کے منتخب مضامین کا انتخاب، تلخیص،اور استدراک کیا ، بنیادی طور پر یہ آزاد کی کتاب پر تنقید ہے، اسے اپنے وقت میں بڑی مقبولیت ملی،جعفری صاحب نے اسے ۸/ مئی ۱۹۵۹ء کو لکھنا شروع کرکے ۳۳/جون کو ختم کیا تھا۔ ایک ماہ کے اندر اس کے دو ایڈیشن نکلے تھے۔
یوپی مسلم لیگ کے ایک سابق رہنما عبد الوحید خان نے بھی تقسیم ہند کے عنوان سے مولانا آزاد کی کتاب کا ایک رد لکھا تھا، جو اکتوبر ۱۹۵۹ء میں شائع ہوئی، اس کے مصنف تقسیم ہند سے قبل یوپی مسلم لیگ کے رہنما تھے، اور سابق وزیر تھے۔
❤2
اپنے وقت میں مسلم لیگ کے طاقتور لیڈر چودھری خلیق الزماں کی تصنیف" شاہراہ پاکستان" بھی بنیادی طور پر مولانا آزاد کی اس کتاب کا ہی رد تھی۔
مولانا آزاد کی کتاب پر تنقید میں جو کتابیں اس وقت منظر عام پر آئی تھیں، امید تھی کہ ان کے جواب میں مولانا غلام رسول مہر کا قلم چلے گا۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا، ان کے حواشی کے ساتھ انڈیا ونس فریڈم کا ترجمہ بھی منظر عام پر اس وقت آ نہ سکا۔ یہ فریضہ مولانا آزاد کے محقق اور سیاسیاتِ ہند کے مبصر ڈاکٹر ریاض الرحمن شروانی (علی گڑھ) نے نہایت ذمہ داری، خوش اسلوبی اور قابلیت کے ساتھ ادا کیا۔ انھوں نے ہفت روزہ الکلام پٹنہ میں ایک سلسلۂ مضمون لکھنا شروع کیا، جس میں ان تمام غلط فہمیوں کو دُور کیا، جو جعفری مرحوم کی کتاب سے پیدا ہورہی تھیں، اور ان تمام اعتراضات کا دلائل کے ساتھ جواب دیا، جو مرحوم کی کتاب سے مولانا پر وارد ہوئے تھے۔یہ مجموعہ مضامین بعد میں " انڈیا ونس فریڈم۔ ایک مطالعہ " کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس سلسلے کا ایک اور اہم علمی کام مولانا محمد قریشی (لاہور) کی کتاب " مولانا ابو الکلام آزاد اور قوم پرست مسلمانوں کی سیاست " بھی ہے۔ جو سنہ ۱۹۹۱ء میں شائع ہوئی تھی۔ سنہ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں احمد حسین کمال کی کتاب" مولانا ابو الکلام آزاد نے برصغیر پاک وہند کے بارے میں کیا کہاتھا" منظر عام پر آئی تھی، جس میں انڈیا ونس فریڈم سے موضوع سے متعلق اقتباسات منتخب کئے گئے تھے۔ ہماری ناقص رائے میں مولانا آزاد کی کتاب کو پڑھنا بڑے صبر کا کام ہے، اور رئیس احمد جعفری کی کتاب کو پڑھنے کے بعد تو یہ کام اور بھی مشکل ہوجاتا ہے، لیکن ہماری رائے احمد حسین کمال کی کتاب مولانا آزاد کی طرف سے سب سے پرزور جواب ہے، اس کتاب نے مولانا آزاد کے تدبر اور دوربینی کو اظہر من الشمس کردیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد نظر آتا ہے کہ مولانا آزاد کے سامنے مستقبل آئینہ کی طرح کتنا واضح اور شفاف تھا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولانا آزاد نے ملک کی سیاسی ڈائری لکھنے کا آغاز ۱۹۳۷ء سے کیوں کیا؟، حالانکہ آزادی کی تحریکیں اس سے قبل اٹھیں تھی، اورمولانا آزاد ان میں قائد سالار کی حیثیت سے شریک بھی تھے،ریشمی رومال تحریک، تحریک خلافت ، اور تحریک ہجرت ، شہادت مسجد کانپور کی یادوں کو آپ نے محفوظ کرنا کیوں ضروری نہیں سمجھا؟۔ اسے آسانی سے سمجھنے میں ممد ومعاون ہونے کے لئے مولانا سید ابو الاعلی مودودی کی ۲۷/ اگست ۱۹۷۰ء کی ایک طویل تقریر تحریک اسلامی کے انتیس سال سے چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔
"۱۹۲۴ءکے بعد مسلمان قوم میں ایک شدید انتشار برپا ہوا۔ اس انتشار کے دور میں پے در پے ایسی صورت حال پیدا ہوتی چلی گئی کہ جس سے مجھے یہ محسوس ہوا کہ مسلمان سیدھے تباہی کی طرف چلے جارہے ہیں۔ میں تین چار چیزیں بطور مثال آپ کو بتانا چاہتا ہوں ۔ اسی زمانے میں ترکی میں اور ترکی کی نقل اتارتے ہوئے افغانستان اور ایران میں مغربی تہذیب کا بڑے زور شور سے ایک طوفان اٹھا ، مسلمانوں کے قومی لباس کو تبدیل کیا گیا۔ ٹرکی میں یکایک رسم الخط تبدیل کیا گیا۔ شریعت اسلامیہ کو منسوخ کیا گیا اور یوروپین ممالک سے قوانین لا کر نافذ کیے گئے۔ ان ساری چیزوں کا اثر ہندوستان کے مسلمانوں پر پڑنا شروع ہوا۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں بھی یہ خیال پیدا ہونا شروع ہوگیا کہ ہم کو مغربی لباس اختیار کرنا چاہیے۔ مغربی تہذیب اختیار کرنا چاہیے۔ بہت سے لوگ ایسے بھی کھڑے ہوگئے جو رسم الخط کو بھی تبدیل کرنے کے لیےتیار ہوگئے۔۔۔۔
۔ دوسری طرف میں دیکھ رہا تھا کہ 1928 تک جو ہندوستان میں عام خیال یہ پایا جاتا تھا کہ کوئی آزادی کی تحریک مسلمانوں کو ساتھ ملائے بغیر نہیں چل سکتی اور مسلمان اس بھروسے پر تھے کہ کانگریس آزادی کے راستے پر ہمیں ساتھ لیے بغیر نہیں بڑھے گی۔ لیکن 1929 تک پہنچتے پہنچتے گاندھی نے مسلمانوں کی اس کمزوری کو بھانپ لیا کہ یہ قوم بالکل پراگندہ ہوچکی ہے اس میں کوئی قیادت باقی نہیں رہی ہے اس کے اندر کوئی تنظیم باقی نہیں رہی ہے۔اور میں صرف ہندوؤں کو لے کر اور انگریزوں سے لڑ کر آزادی حاصل کرسکتا ہوں۔ 1929 میں پہلی مرتبہ اس نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ WITH YOU, WITHOUT YOU, INSPITE OF YOU. میں آزادی کی جنگ لڑوں گا تم ساتھ آؤ تو آؤ نہیں آتے تمہارے بغیر لڑوں گا، مزاحمت کروگے تو تمہاری مزاحمت کے باوجود لڑوں گا۔ یہ 1929 میں اس وقت یہ بات کہی اور میں نے اندازہ کرلیا کہ اب مسلمانوں کی خیر نہیں ہے اس لیے کہ وہ واقعی اس پوزیشن میں تھا کہ ہندو قوم کو ساتھ لے کر انگریزی قوم کو عاجز کردے آزادی دینے پر مجبور کردے اور مسلمان دیکھتے کے دیکھتے رہ جائیں۔ ۔۔۔
مولانا آزاد کی کتاب پر تنقید میں جو کتابیں اس وقت منظر عام پر آئی تھیں، امید تھی کہ ان کے جواب میں مولانا غلام رسول مہر کا قلم چلے گا۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا، ان کے حواشی کے ساتھ انڈیا ونس فریڈم کا ترجمہ بھی منظر عام پر اس وقت آ نہ سکا۔ یہ فریضہ مولانا آزاد کے محقق اور سیاسیاتِ ہند کے مبصر ڈاکٹر ریاض الرحمن شروانی (علی گڑھ) نے نہایت ذمہ داری، خوش اسلوبی اور قابلیت کے ساتھ ادا کیا۔ انھوں نے ہفت روزہ الکلام پٹنہ میں ایک سلسلۂ مضمون لکھنا شروع کیا، جس میں ان تمام غلط فہمیوں کو دُور کیا، جو جعفری مرحوم کی کتاب سے پیدا ہورہی تھیں، اور ان تمام اعتراضات کا دلائل کے ساتھ جواب دیا، جو مرحوم کی کتاب سے مولانا پر وارد ہوئے تھے۔یہ مجموعہ مضامین بعد میں " انڈیا ونس فریڈم۔ ایک مطالعہ " کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس سلسلے کا ایک اور اہم علمی کام مولانا محمد قریشی (لاہور) کی کتاب " مولانا ابو الکلام آزاد اور قوم پرست مسلمانوں کی سیاست " بھی ہے۔ جو سنہ ۱۹۹۱ء میں شائع ہوئی تھی۔ سنہ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں احمد حسین کمال کی کتاب" مولانا ابو الکلام آزاد نے برصغیر پاک وہند کے بارے میں کیا کہاتھا" منظر عام پر آئی تھی، جس میں انڈیا ونس فریڈم سے موضوع سے متعلق اقتباسات منتخب کئے گئے تھے۔ ہماری ناقص رائے میں مولانا آزاد کی کتاب کو پڑھنا بڑے صبر کا کام ہے، اور رئیس احمد جعفری کی کتاب کو پڑھنے کے بعد تو یہ کام اور بھی مشکل ہوجاتا ہے، لیکن ہماری رائے احمد حسین کمال کی کتاب مولانا آزاد کی طرف سے سب سے پرزور جواب ہے، اس کتاب نے مولانا آزاد کے تدبر اور دوربینی کو اظہر من الشمس کردیا ہے۔ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد نظر آتا ہے کہ مولانا آزاد کے سامنے مستقبل آئینہ کی طرح کتنا واضح اور شفاف تھا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مولانا آزاد نے ملک کی سیاسی ڈائری لکھنے کا آغاز ۱۹۳۷ء سے کیوں کیا؟، حالانکہ آزادی کی تحریکیں اس سے قبل اٹھیں تھی، اورمولانا آزاد ان میں قائد سالار کی حیثیت سے شریک بھی تھے،ریشمی رومال تحریک، تحریک خلافت ، اور تحریک ہجرت ، شہادت مسجد کانپور کی یادوں کو آپ نے محفوظ کرنا کیوں ضروری نہیں سمجھا؟۔ اسے آسانی سے سمجھنے میں ممد ومعاون ہونے کے لئے مولانا سید ابو الاعلی مودودی کی ۲۷/ اگست ۱۹۷۰ء کی ایک طویل تقریر تحریک اسلامی کے انتیس سال سے چند اقتباسات پیش کئے جاتے ہیں۔
"۱۹۲۴ءکے بعد مسلمان قوم میں ایک شدید انتشار برپا ہوا۔ اس انتشار کے دور میں پے در پے ایسی صورت حال پیدا ہوتی چلی گئی کہ جس سے مجھے یہ محسوس ہوا کہ مسلمان سیدھے تباہی کی طرف چلے جارہے ہیں۔ میں تین چار چیزیں بطور مثال آپ کو بتانا چاہتا ہوں ۔ اسی زمانے میں ترکی میں اور ترکی کی نقل اتارتے ہوئے افغانستان اور ایران میں مغربی تہذیب کا بڑے زور شور سے ایک طوفان اٹھا ، مسلمانوں کے قومی لباس کو تبدیل کیا گیا۔ ٹرکی میں یکایک رسم الخط تبدیل کیا گیا۔ شریعت اسلامیہ کو منسوخ کیا گیا اور یوروپین ممالک سے قوانین لا کر نافذ کیے گئے۔ ان ساری چیزوں کا اثر ہندوستان کے مسلمانوں پر پڑنا شروع ہوا۔ ہندوستان کے مسلمانوں میں بھی یہ خیال پیدا ہونا شروع ہوگیا کہ ہم کو مغربی لباس اختیار کرنا چاہیے۔ مغربی تہذیب اختیار کرنا چاہیے۔ بہت سے لوگ ایسے بھی کھڑے ہوگئے جو رسم الخط کو بھی تبدیل کرنے کے لیےتیار ہوگئے۔۔۔۔
۔ دوسری طرف میں دیکھ رہا تھا کہ 1928 تک جو ہندوستان میں عام خیال یہ پایا جاتا تھا کہ کوئی آزادی کی تحریک مسلمانوں کو ساتھ ملائے بغیر نہیں چل سکتی اور مسلمان اس بھروسے پر تھے کہ کانگریس آزادی کے راستے پر ہمیں ساتھ لیے بغیر نہیں بڑھے گی۔ لیکن 1929 تک پہنچتے پہنچتے گاندھی نے مسلمانوں کی اس کمزوری کو بھانپ لیا کہ یہ قوم بالکل پراگندہ ہوچکی ہے اس میں کوئی قیادت باقی نہیں رہی ہے اس کے اندر کوئی تنظیم باقی نہیں رہی ہے۔اور میں صرف ہندوؤں کو لے کر اور انگریزوں سے لڑ کر آزادی حاصل کرسکتا ہوں۔ 1929 میں پہلی مرتبہ اس نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ WITH YOU, WITHOUT YOU, INSPITE OF YOU. میں آزادی کی جنگ لڑوں گا تم ساتھ آؤ تو آؤ نہیں آتے تمہارے بغیر لڑوں گا، مزاحمت کروگے تو تمہاری مزاحمت کے باوجود لڑوں گا۔ یہ 1929 میں اس وقت یہ بات کہی اور میں نے اندازہ کرلیا کہ اب مسلمانوں کی خیر نہیں ہے اس لیے کہ وہ واقعی اس پوزیشن میں تھا کہ ہندو قوم کو ساتھ لے کر انگریزی قوم کو عاجز کردے آزادی دینے پر مجبور کردے اور مسلمان دیکھتے کے دیکھتے رہ جائیں۔ ۔۔۔
❤1
1937ء میں مجھے حیدرآباد سے شمالی ہند کی طرف سفر کرنے کی ضرورت پیش آئی میں دہلی آیا۔ اس زمانے میں میں نے یکا یک یہ محسوس کیا کہ کیوں کہ ہندوستان کے چھ صوبوں میں ہندوؤں کی حکومت قائم ہوچکی تھی۔ اس وجہ سے مسلمانوں پر ایک کھلی شکست خوردگی کے آثار پائے جارہے تھے۔ جدھر میں گیا میں نے محسوس کیا کہ مسلمان اپنے آپ کو ایک شکست خوردہ قوم محسوس کررہے ہیں۔ دہلی سے جب میں واپس حیدرآباد گیا ہوں تو ریل میں ایک مشہور ہندو لیڈر ڈاکٹر کھرے اتفاق سے اسی کمپارٹمنٹ میں تھے جس میں میں تھا۔ بہت سے مسلمان بھی اس کمپارٹمنٹ میں موجود دتھے۔ مسلمان ڈاکٹر کھرے سے اس طرح بات کررہے تھے کہ جیسے ایک محکوم قوم کے افراد ایک حاکم قوم کے ایک آدمی سے بات کررہے ہوں۔ یہ منظر دیکھنے کے بعد میں حیدرآباد پہنچااور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کئی رات میرے لیے سونا مشکل ہوگیا۔ سوچتا رہا کہ یا اللہ اب کیا ہوگا۔۔۔۔
۔ اس کے بعد 1938 میں میں نے دیکھا کہ کانگریس اب اس بات پر اکتفا نہیں کررہی ہے کہ مسلمان آتے ہیں تو آئیں ہم تو اپنی آزادی کی جنگ لڑیں گے جو پالیسی 1929ء میں جس کا اعلان گاندھی نے کیا تھا بلکہ اس نے یہ پالیسی بنائی تھی کہ مسلمانوں سے بحیثیت جماعت سرے سے بات ہی نہ کی جائے بلکہ مسلم ماس کا نٹیکٹ کی ایک مہم چلائی جائے رابطہ عوام کی ایک مہم چلائی جائے۔ اور مسلمان افراد کو توڑ توڑ کر اپنے ساتھ ملایا جائے۔ یعنی ہم تمہاری کسی جماعت کو تسلیم نہیں کرتے۔ تمہاری کسی جماعت سے معاملہ طے کرکے مسلمانوں کے حقوق کے متعلق کوئی چیز طے کرنا نہیں چاہتے۔فرد فرد کو توڑ کر اپنے ساتھ اپنے اندر جذب کرلینا چاہتے ہیں۔۔۔(اقتباسات تحریک اسلامی کے انتیس سال)
ایسا لگتا ہے کہ ۱۸۵۷ء کے بعد سے مسلمانوں نے تحریک آزادی کے لئے زبردست قربانیاں دیں، اور تحریکیں چلائیں، لیکن جب انگریزوں کے جانے کا وقت آیا تو پھر آپسی انتشار کے دلدل میں پھنس گئے، اور تحریک آزادی میں ان کا وزن ختم ہونے لگا۔
یہی زمانہ تھا کہ ۱۹۳۴ء میں محمد علی جناح مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی، اور قوم کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر اور انہیں تقسیم کرکے ان کے ایک بڑے طبقے کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔
(اس کالم کے لئے ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری کی تحقیق وترتیب سے شائع شدہ انڈیا ونز فریڈم سے کافی استفادہ کیا گیا ہے)
2026-08-20
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
۔ اس کے بعد 1938 میں میں نے دیکھا کہ کانگریس اب اس بات پر اکتفا نہیں کررہی ہے کہ مسلمان آتے ہیں تو آئیں ہم تو اپنی آزادی کی جنگ لڑیں گے جو پالیسی 1929ء میں جس کا اعلان گاندھی نے کیا تھا بلکہ اس نے یہ پالیسی بنائی تھی کہ مسلمانوں سے بحیثیت جماعت سرے سے بات ہی نہ کی جائے بلکہ مسلم ماس کا نٹیکٹ کی ایک مہم چلائی جائے رابطہ عوام کی ایک مہم چلائی جائے۔ اور مسلمان افراد کو توڑ توڑ کر اپنے ساتھ ملایا جائے۔ یعنی ہم تمہاری کسی جماعت کو تسلیم نہیں کرتے۔ تمہاری کسی جماعت سے معاملہ طے کرکے مسلمانوں کے حقوق کے متعلق کوئی چیز طے کرنا نہیں چاہتے۔فرد فرد کو توڑ کر اپنے ساتھ اپنے اندر جذب کرلینا چاہتے ہیں۔۔۔(اقتباسات تحریک اسلامی کے انتیس سال)
ایسا لگتا ہے کہ ۱۸۵۷ء کے بعد سے مسلمانوں نے تحریک آزادی کے لئے زبردست قربانیاں دیں، اور تحریکیں چلائیں، لیکن جب انگریزوں کے جانے کا وقت آیا تو پھر آپسی انتشار کے دلدل میں پھنس گئے، اور تحریک آزادی میں ان کا وزن ختم ہونے لگا۔
یہی زمانہ تھا کہ ۱۹۳۴ء میں محمد علی جناح مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی، اور قوم کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر اور انہیں تقسیم کرکے ان کے ایک بڑے طبقے کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔
(اس کالم کے لئے ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہانپوری کی تحقیق وترتیب سے شائع شدہ انڈیا ونز فریڈم سے کافی استفادہ کیا گیا ہے)
2026-08-20
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B