فہمِ حدیث کے لیے قرآن سے رشتہ ناگزیر ہے
مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی علیہ الرحمہ نے فرمایا: یہ امام بخاری رحمۃ اللّٰه علیہ کا خاص طریقہ ہے کہ وہ حتی الامکان، قرآن مجید کی آیت پہلے لاتے ہیں، احادیث بعد میں ذکر کرتے ہیں، یہ بتانے کے لیے کہ جتنی احادیث ہیں، یہ دراصل قرآن مجید کی تفسیر ہیں۔ اسی لیے ہم نے آپ کو کہا تھا کہ اگر آپ، قرآن مجید کی روزانہ تلاوت کرو گے، کم از کم ایک پارہ، تو احادیث سمجھنے میں آپ کو مدد ملے گی اور اگر آپ قرآن ہی نہیں پڑھو گے، تو اس کی تفسیر، یعنی "احادیث" سمجھ آنا بھی مشکل ہوگا۔
(معارف البخاری، کتاب المغازی، جلد اول، صفحہ: ۱۴۲/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی علیہ الرحمہ نے فرمایا: یہ امام بخاری رحمۃ اللّٰه علیہ کا خاص طریقہ ہے کہ وہ حتی الامکان، قرآن مجید کی آیت پہلے لاتے ہیں، احادیث بعد میں ذکر کرتے ہیں، یہ بتانے کے لیے کہ جتنی احادیث ہیں، یہ دراصل قرآن مجید کی تفسیر ہیں۔ اسی لیے ہم نے آپ کو کہا تھا کہ اگر آپ، قرآن مجید کی روزانہ تلاوت کرو گے، کم از کم ایک پارہ، تو احادیث سمجھنے میں آپ کو مدد ملے گی اور اگر آپ قرآن ہی نہیں پڑھو گے، تو اس کی تفسیر، یعنی "احادیث" سمجھ آنا بھی مشکل ہوگا۔
(معارف البخاری، کتاب المغازی، جلد اول، صفحہ: ۱۴۲/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
*وفیات مورخہ:اکتوبر 05*
1302ء ابن دقیق العید۔ شافعی محدث وفقیہ
1595ء ابو الفیض فیضی۔ مصنف تفسیر بے نقط، سواطع الالھام، نورتن
1985ء احمد اللہ قادری۔ لسان الملک۔ ادیب ونقاد
1979ء احمد پرویز۔ مصور
1988ء اختر انصاری دہلوی۔ شاعر
2003ء آفتاب عالم قزلباش۔ ،
1967ء سدرشن (پنڈٹ بدری ناتھ شرما)۔ ڈرامہ نویس
2013ء داؤد رہبر۔ شاعر، ادیب
1968ء رسا لکھنوی (حافظ رسول محمد )۔ شاعر ،
2020ء رشید مسعود۔ پروفیسر، بھارتی سیاست دان
1967ء سدرشن (پنڈٹ بدری ناتھ شرما)۔ افسانہ نگار ،
1968ء سید عتیق الرحمٰن۔
1754ء صفدر جنگ۔ نواب اودھ
1967ء عبد العزیز فطرت۔
2020ء عبد الغفار عزیز۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان
1986ء غلام احمد ناز۔
2005ء قیصر الجعفری۔ شاعر ،
2015ء کاوش رضوی۔ شاعر
2013ء منصور بجنوری۔ علامہ
1855ء میر ضمیر۔ شاعر دبستان لکھنو
1302ء ابن دقیق العید۔ شافعی محدث وفقیہ
1595ء ابو الفیض فیضی۔ مصنف تفسیر بے نقط، سواطع الالھام، نورتن
1985ء احمد اللہ قادری۔ لسان الملک۔ ادیب ونقاد
1979ء احمد پرویز۔ مصور
1988ء اختر انصاری دہلوی۔ شاعر
2003ء آفتاب عالم قزلباش۔ ،
1967ء سدرشن (پنڈٹ بدری ناتھ شرما)۔ ڈرامہ نویس
2013ء داؤد رہبر۔ شاعر، ادیب
1968ء رسا لکھنوی (حافظ رسول محمد )۔ شاعر ،
2020ء رشید مسعود۔ پروفیسر، بھارتی سیاست دان
1967ء سدرشن (پنڈٹ بدری ناتھ شرما)۔ افسانہ نگار ،
1968ء سید عتیق الرحمٰن۔
1754ء صفدر جنگ۔ نواب اودھ
1967ء عبد العزیز فطرت۔
2020ء عبد الغفار عزیز۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان
1986ء غلام احمد ناز۔
2005ء قیصر الجعفری۔ شاعر ،
2015ء کاوش رضوی۔ شاعر
2013ء منصور بجنوری۔ علامہ
1855ء میر ضمیر۔ شاعر دبستان لکھنو
❤1
*وفیات مورخہ:اکتوبر 06*
1955ء محمد حلیم عطا سلونوی۔ شیخ الحدیث، مولانا ، ندوۃ العلماء لکھنو
1963ء علی احمد۔ ڈاکٹر ،
1965ء منظور رائے پوری (سید منظور مہدی)۔ شاعر
1976ء محمد شفیع دیوبندی۔ حضرت مولانا مفتی اعظم پاکستان، خلیفہ حضرت حکیم الامت تھانوی
1981ء محمد انور السادات۔ صدر مصر
1984ء غلام محمد فرہاد۔ ،
1987ء بندو خان۔ کباب فروش ، کراچی
1988ء مبارک مونگیری (مبارک احمد)۔ شاعر ،
1993ء قیصر احمد حمیدی۔ جسٹس (ر) ،
1998ء محمد اسلم۔ پروفیسر
2010ء محمد امین۔ مولانا ،
2012ء ابرارالحق کلیانوی۔ مولانا ، حافظ
1955ء محمد حلیم عطا سلونوی۔ شیخ الحدیث، مولانا ، ندوۃ العلماء لکھنو
1963ء علی احمد۔ ڈاکٹر ،
1965ء منظور رائے پوری (سید منظور مہدی)۔ شاعر
1976ء محمد شفیع دیوبندی۔ حضرت مولانا مفتی اعظم پاکستان، خلیفہ حضرت حکیم الامت تھانوی
1981ء محمد انور السادات۔ صدر مصر
1984ء غلام محمد فرہاد۔ ،
1987ء بندو خان۔ کباب فروش ، کراچی
1988ء مبارک مونگیری (مبارک احمد)۔ شاعر ،
1993ء قیصر احمد حمیدی۔ جسٹس (ر) ،
1998ء محمد اسلم۔ پروفیسر
2010ء محمد امین۔ مولانا ،
2012ء ابرارالحق کلیانوی۔ مولانا ، حافظ
آج مورخہ 6/اکتوبر حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ مفتی اعظم پاکستان و مصنف معارف القرآن کی تاریخ وفات ہے، آپ کی رحلت سنہ 1976ء میں واقع ہوئی تھی۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز میں ریکارڈ شدہ آب بیتی پر مشتمل ایک انٹریو پیش خدمت ہے۔
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interviewz9rsnzmnec3f6wnps5epy1s908m3xtwc, Interview
آپ کی آواز میں مزید انٹرویوز، تقریر اور تفسیر سورہ فاتحہ سننے اور ڈون لوڈ کرنے کے لئے اردو آڈیو ڈاٹ کام کی مندرجہ ذیل لنک پر کلک کرین
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=mufti-muhammed-shafi&t=
علم و کتاب
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=interviewz9rsnzmnec3f6wnps5epy1s908m3xtwc, Interview
آپ کی آواز میں مزید انٹرویوز، تقریر اور تفسیر سورہ فاتحہ سننے اور ڈون لوڈ کرنے کے لئے اردو آڈیو ڈاٹ کام کی مندرجہ ذیل لنک پر کلک کرین
https://audio.bhatkallys.com/audios/?q=&c=&s=mufti-muhammed-shafi&t=
علم و کتاب
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
اج مصر کے سابق صدر محمد انور السادات کا یوم وفات ہے، آپ مورخہ ۶ نومبر ۱۹۸۱ء سالانہ قومی دن ، فوجی پیریڈ کے موقعہ پر ایک فوجہ خالد الاسلامبولی کی گولی سے ہلاک ہوئے تھے۔ سادات کے دور میں مصر میں جو آزادیاں ملیں وہ آپ سے پہلے یا بعد میں نہ مل سکیں، آپ کے دور میں اسرائیل کو جنگ میں شکست ہوئی، اور مصری فوجوں نے ۱۹۶۷ء میں غصب شدہ مصری اراضی کو واگذار کریا ۔ اس مناسبت سے کی گئی سادات کی ایک تقریر کی ویڈیو علم وکتاب پر پیش خدمت ہے۔
اطلاع: ہم نے قارئین کی سہولت کے لئے ٹیلگرام پر علم وکتاب لائبریری کا آغاز کیا تھا، لیکن غلطی سے وہ ڈیلیٹ ہوگئی ہے۔ لہذا اب ایک نئی لائبریری شروع کی گئی ہے، احباب سے گذارش ہے کہ چاہیں تو اس میں شریک ہوں، لیکن یہ اصل علم وکتاب چینل نہ چھوڑیں۔ شکریہ
عبد المتین منیری
علم و کتاب لائبریری
عبد المتین منیری
علم و کتاب لائبریری
انقلابی تحریکیں اور ان کا انجام
مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں: جن لوگوں نے انقلابی تحریکوں اور دعوتی کوششوں کی تاریخیں پڑھی ہیں، اُن کو اندازہ ہوگا کہ بہت سی تحریکیں شروع تو ہوئیں خالص دین اور اصلاح کے لیے، مگر ان کی انتہا ہوئی ایک خاندان یا گھرانے کے لئے جاہ و جلال، حکومت و سلطنت کے حصول پر، یا سیاسی و فوجی قسم کا نفوذ حاصل کرنے پر۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ، جن کا دینی حاسّہ قوی ہے اور جن کو اللّٰه نے فہم و بصیرت عطا کی ہے، وہ اس طرح کی تحریکوں سے مشکوک اور خائف رہتے ہیں کہ معلوم نہیں کہ اُن کا کیا انجام ہوگا۔
(المرتضیٰ کرم اللّٰه وجھہ، صفحہ: ۱۳۱/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ لکھتے ہیں: جن لوگوں نے انقلابی تحریکوں اور دعوتی کوششوں کی تاریخیں پڑھی ہیں، اُن کو اندازہ ہوگا کہ بہت سی تحریکیں شروع تو ہوئیں خالص دین اور اصلاح کے لیے، مگر ان کی انتہا ہوئی ایک خاندان یا گھرانے کے لئے جاہ و جلال، حکومت و سلطنت کے حصول پر، یا سیاسی و فوجی قسم کا نفوذ حاصل کرنے پر۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ، جن کا دینی حاسّہ قوی ہے اور جن کو اللّٰه نے فہم و بصیرت عطا کی ہے، وہ اس طرح کی تحریکوں سے مشکوک اور خائف رہتے ہیں کہ معلوم نہیں کہ اُن کا کیا انجام ہوگا۔
(المرتضیٰ کرم اللّٰه وجھہ، صفحہ: ۱۳۱/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
جو کتابوں سے پہچانے گئے
مولانا ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
(ناصرالدین مظاہری)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کچھ لوگ کتابیں پڑھتے ہیں، کچھ لکھتے ہیں، کچھ تبصرے کرتے ہیں اور کچھ کتابوں کو اپنی زندگی کا ایسا رفیق بنا لیتے ہیں کہ پھر آدمی اور کتاب میں تمیز کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔
مولانا ڈاکٹر محمد اکرم ندوی انہی خوش نصیب لوگوں میں ہیں جنہیں کتابوں نے صرف علم نہیں دیا، ایک علمی شناخت بھی عطا کی ہے۔ ان کی زندگی اور کتابوں کا تعلق محض شغف مطالعہ کا تعلق نہیں، بلکہ ایک ایسی دیرینہ رفاقت ہے جس میں کتاب کبھی ہم سفر ہے، کبھی ہم نشیں اور کبھی رازدار۔ وہ کتابوں کے بڑے شوقین ہیں؛ جتنا پڑھتے ہیں اتنا لکھتے نہیں، اور جو لکھتے ہیں وہ لوہا لاٹ لکھتے ہیں۔ ان کی تحریر میں فارسی آمیز تعبیرات کی خوشبو، عربی آمیز نگارشات کی شان اور کلاسیکی علمی روایت کی وہ چاشنی ہے جسے پڑھ کر قاری کو معیاری مٹھائیوں سے زیادہ لطف و لذت حاصل ہوتی ہے۔ عبارت ایسی رواں دواں، شگفتہ اور جواں کہ ایک صفحہ ختم ہوتے ہی طبیعت دوسرے کی طلب گار ہوجاتی ہے؛ گویا سخن بھی رواں، فکر بھی تاباں اور اسلوب بھی دل ستاں۔
مولانا 1963ء میں جونپور کے ایک گاؤں جمدہا میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی فارسی تعلیم کے بعد ندوۃ العلماء لکھنؤ پہنچے اور علوم دینیہ کے ساتھ عربی ادب اور حدیث میں خصوصی اشتغال اختیار کیا۔
فارسی میں ایم اے کیا اور یوں فارسی سے ان کا تعلق محض درسی کتابوں تک محدود نہ رہا، بلکہ رفتہ رفتہ ذوق مطالعہ اور شوق سخن کا حصہ بن گیا۔
گلستاں، بوستاں اور اخلاق محسنی سے لے کر حافظ کے دیوان اور مولانا روم کی مثنوی تک ان کے مطالعے نے ان کی زبان اور ذوق کو خاص رنگ عطا کیا۔ شاید اسی لیے ان کی نثر میں کہیں گلستاں کی شگفتگی، کہیں بوستاں کی حکمت اور کہیں سخن حافظ کی لطافت محسوس ہوتی ہے۔ فارسی ان کے لیے محض ایک زبان نہیں، ایک تہذیبی فضا ہے؛ جس میں لفظ معنی سے ملتا ہے اور معنی ذوق سے مربوط ہے۔
مجھ سے ان کا تعارف براہ راست نہیں، بلکہ حضرت مولانا سید محمد واضح رشید ندوی رحمہ اللہ کے واسطے سے ہوا۔ میں حضرت کے دفتر میں بیٹھا تھا، اچانک فرمایا:
’’مولانا محمد یونس جونپوری کے سلسلے میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی سے ضرور رابطہ کرنا، وہ اتھارٹی ہیں۔‘‘
یہ جملہ میرے لیے باب معرفت وا کرنے والا ثابت ہوا۔ چنانچہ مولانا سے رابطہ ہوگیا، پھر رابطہ ملاقات میں بدلا اور ملاقات آشنائی میں، اور آشنائی نے رفتہ رفتہ تعلق کی صورت اختیار کرلی۔ ایسا ہوا کہ مولانا میرے دل میں بس گئے۔
ان سے بالمشافہ ملاقات 17 جمادى الآخرة سنة 1445ھ میں صرف ایک ہی بار ہوئی ہے، وہ بھی بلد امن وامان، مکہ مکرمہ میں، جہاں میری روح و جسم دونوں قربان ہیں۔ آپ چونکہ بیک وقت عربی، اردو، فارسی اور انگریزی میں لکھنے پر قادر ہیں مکہ مکرمہ میں میری اس ملاقات کا تذکرہ اپنے ایک عربی سفرنامہ میں کیا اور میرے تعلق سے یہ الفاظ لکھے جو بہرحال میرے لئے کسی سند اور فال نیک ہیں:
"وله أسلوب جميل في الكتابة، يفتن به القراء، يتناول المواضيع الإصلاحية التي تهمهم" الخ
فون پر بھی جب کبھی گفتگو ہوئی، کتاب کی نسبت سے ہوئی، علم کے تعلق سے ہوئی۔ کبھی کسی کتاب کا سراغ، کبھی کسی بزرگ کی علمی روایت، کبھی کسی محدث کی سند، کبھی کسی شیخ کے تلامذہ اور کبھی کسی ایسے علمی گوشے کی خبر جو عام مطالعہ کرنے والے کی دسترس سے بہت دور ہوتا ہے۔
یوں ہماری گفتگو میں دنیا کی باتیں کم اور اہل علم، اہل کتاب اور ارباب روایت کی باتیں زیادہ ہیں۔ اساتذہ و شیوخ کی سندات حدیث اور علمی سلسلوں کی تلاش میں انہیں خاص ذوق اور غیر معمولی تجسس حاصل ہے۔ کسی گم گشتہ نام کا سراغ مل جائے، کسی قدیم کتاب میں کسی محدث کا ذکر ہاتھ آجائے یا کسی علمی سلسلے کی کوئی کڑی مل جائے تو گویا گنج شایگاں ہاتھ آگیا۔
ان کی تصانیف کی فہرست دیکھئے تو آدمی سوچتا ہے کہ یہ ایک شخص کا علمی سرمایہ ہے یا ایک پورا کتب خانہ اٹھا کر چل پڑا ہے۔ حدیث، فقہ، رجال، سیرت، تاریخ، عربی زبان، اصول حدیث، اصول تفسیر، اصول فقہ اور اسلامی فکر؛ کون سا میدان ہے جہاں ان کے قلم نے اپنی کوئی نہ کوئی یادگار نہ چھوڑی ہو؟
ان کی اشاعتی فہرست میں ستر سے زائد کتب اور بڑے علمی کام شامل ہیں، مگر ان کے علمی سفر کا سب سے نمایاں اور شاید سب سے حیرت انگیز کارنامہ ’’الوفاء بأسماء النساء‘‘ ہے۔ عربی زبان میں 43 جلدوں پر مشتمل یہ عظیم تذکرہ محدثات تقریباً دس ہزار خواتین محدثات و راویات کے حالات اور علمی خدمات کو سامنے لاتا ہے۔ دو دہائیوں کی تحقیق کے بعد یہ ضخیم علمی خزانہ 2021ء میں دار المنهاج، جدہ سے شائع ہوا۔
مولانا ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
(ناصرالدین مظاہری)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کچھ لوگ کتابیں پڑھتے ہیں، کچھ لکھتے ہیں، کچھ تبصرے کرتے ہیں اور کچھ کتابوں کو اپنی زندگی کا ایسا رفیق بنا لیتے ہیں کہ پھر آدمی اور کتاب میں تمیز کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔
مولانا ڈاکٹر محمد اکرم ندوی انہی خوش نصیب لوگوں میں ہیں جنہیں کتابوں نے صرف علم نہیں دیا، ایک علمی شناخت بھی عطا کی ہے۔ ان کی زندگی اور کتابوں کا تعلق محض شغف مطالعہ کا تعلق نہیں، بلکہ ایک ایسی دیرینہ رفاقت ہے جس میں کتاب کبھی ہم سفر ہے، کبھی ہم نشیں اور کبھی رازدار۔ وہ کتابوں کے بڑے شوقین ہیں؛ جتنا پڑھتے ہیں اتنا لکھتے نہیں، اور جو لکھتے ہیں وہ لوہا لاٹ لکھتے ہیں۔ ان کی تحریر میں فارسی آمیز تعبیرات کی خوشبو، عربی آمیز نگارشات کی شان اور کلاسیکی علمی روایت کی وہ چاشنی ہے جسے پڑھ کر قاری کو معیاری مٹھائیوں سے زیادہ لطف و لذت حاصل ہوتی ہے۔ عبارت ایسی رواں دواں، شگفتہ اور جواں کہ ایک صفحہ ختم ہوتے ہی طبیعت دوسرے کی طلب گار ہوجاتی ہے؛ گویا سخن بھی رواں، فکر بھی تاباں اور اسلوب بھی دل ستاں۔
مولانا 1963ء میں جونپور کے ایک گاؤں جمدہا میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی فارسی تعلیم کے بعد ندوۃ العلماء لکھنؤ پہنچے اور علوم دینیہ کے ساتھ عربی ادب اور حدیث میں خصوصی اشتغال اختیار کیا۔
فارسی میں ایم اے کیا اور یوں فارسی سے ان کا تعلق محض درسی کتابوں تک محدود نہ رہا، بلکہ رفتہ رفتہ ذوق مطالعہ اور شوق سخن کا حصہ بن گیا۔
گلستاں، بوستاں اور اخلاق محسنی سے لے کر حافظ کے دیوان اور مولانا روم کی مثنوی تک ان کے مطالعے نے ان کی زبان اور ذوق کو خاص رنگ عطا کیا۔ شاید اسی لیے ان کی نثر میں کہیں گلستاں کی شگفتگی، کہیں بوستاں کی حکمت اور کہیں سخن حافظ کی لطافت محسوس ہوتی ہے۔ فارسی ان کے لیے محض ایک زبان نہیں، ایک تہذیبی فضا ہے؛ جس میں لفظ معنی سے ملتا ہے اور معنی ذوق سے مربوط ہے۔
مجھ سے ان کا تعارف براہ راست نہیں، بلکہ حضرت مولانا سید محمد واضح رشید ندوی رحمہ اللہ کے واسطے سے ہوا۔ میں حضرت کے دفتر میں بیٹھا تھا، اچانک فرمایا:
’’مولانا محمد یونس جونپوری کے سلسلے میں ڈاکٹر محمد اکرم ندوی سے ضرور رابطہ کرنا، وہ اتھارٹی ہیں۔‘‘
یہ جملہ میرے لیے باب معرفت وا کرنے والا ثابت ہوا۔ چنانچہ مولانا سے رابطہ ہوگیا، پھر رابطہ ملاقات میں بدلا اور ملاقات آشنائی میں، اور آشنائی نے رفتہ رفتہ تعلق کی صورت اختیار کرلی۔ ایسا ہوا کہ مولانا میرے دل میں بس گئے۔
ان سے بالمشافہ ملاقات 17 جمادى الآخرة سنة 1445ھ میں صرف ایک ہی بار ہوئی ہے، وہ بھی بلد امن وامان، مکہ مکرمہ میں، جہاں میری روح و جسم دونوں قربان ہیں۔ آپ چونکہ بیک وقت عربی، اردو، فارسی اور انگریزی میں لکھنے پر قادر ہیں مکہ مکرمہ میں میری اس ملاقات کا تذکرہ اپنے ایک عربی سفرنامہ میں کیا اور میرے تعلق سے یہ الفاظ لکھے جو بہرحال میرے لئے کسی سند اور فال نیک ہیں:
"وله أسلوب جميل في الكتابة، يفتن به القراء، يتناول المواضيع الإصلاحية التي تهمهم" الخ
فون پر بھی جب کبھی گفتگو ہوئی، کتاب کی نسبت سے ہوئی، علم کے تعلق سے ہوئی۔ کبھی کسی کتاب کا سراغ، کبھی کسی بزرگ کی علمی روایت، کبھی کسی محدث کی سند، کبھی کسی شیخ کے تلامذہ اور کبھی کسی ایسے علمی گوشے کی خبر جو عام مطالعہ کرنے والے کی دسترس سے بہت دور ہوتا ہے۔
یوں ہماری گفتگو میں دنیا کی باتیں کم اور اہل علم، اہل کتاب اور ارباب روایت کی باتیں زیادہ ہیں۔ اساتذہ و شیوخ کی سندات حدیث اور علمی سلسلوں کی تلاش میں انہیں خاص ذوق اور غیر معمولی تجسس حاصل ہے۔ کسی گم گشتہ نام کا سراغ مل جائے، کسی قدیم کتاب میں کسی محدث کا ذکر ہاتھ آجائے یا کسی علمی سلسلے کی کوئی کڑی مل جائے تو گویا گنج شایگاں ہاتھ آگیا۔
ان کی تصانیف کی فہرست دیکھئے تو آدمی سوچتا ہے کہ یہ ایک شخص کا علمی سرمایہ ہے یا ایک پورا کتب خانہ اٹھا کر چل پڑا ہے۔ حدیث، فقہ، رجال، سیرت، تاریخ، عربی زبان، اصول حدیث، اصول تفسیر، اصول فقہ اور اسلامی فکر؛ کون سا میدان ہے جہاں ان کے قلم نے اپنی کوئی نہ کوئی یادگار نہ چھوڑی ہو؟
ان کی اشاعتی فہرست میں ستر سے زائد کتب اور بڑے علمی کام شامل ہیں، مگر ان کے علمی سفر کا سب سے نمایاں اور شاید سب سے حیرت انگیز کارنامہ ’’الوفاء بأسماء النساء‘‘ ہے۔ عربی زبان میں 43 جلدوں پر مشتمل یہ عظیم تذکرہ محدثات تقریباً دس ہزار خواتین محدثات و راویات کے حالات اور علمی خدمات کو سامنے لاتا ہے۔ دو دہائیوں کی تحقیق کے بعد یہ ضخیم علمی خزانہ 2021ء میں دار المنهاج، جدہ سے شائع ہوا۔
مولانا نے صرف کتاب نہیں لکھی؛ انہوں نے کتابوں کے اندر چھپے ہوئے ہزاروں ناموں کو دوبارہ زندہ کیا۔ جن خواتین محدثات کے علمی وجود پر زمانے کی گرد جم گئی تھی، انہیں تحقیق کے چراغ میں تلاش کیا اور دنیا کے سامنے پیش کردیا۔ یہ کام محض معلومات جمع کرنے کا نہیں؛ تتبع، جستجو، صبر مسلسل اور عرق ریزی کا کام ہے۔ ایک ایک نام کے پیچھے ایک داستان، ایک ایک روایت کے پیچھے ایک سند اور ایک ایک سند کے پیچھے علم کی ایک پوری دنیا چھپی ہوئی ہے۔
ان کی دوسری تصانیف بھی ان کے علمی ذوق کی وسعت اور مطالعے کی ہمہ گیری کی گواہی دیتی ہیں۔ ’’مدرسہ لائف‘‘ میں ندوۃ العلماء کی علمی و طلبہ زندگی کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں، ’’بستان المحدثین‘‘ کے ذریعے حدیث کے علماء کی ایک قدیم علمی روایت کو نئی زندگی ملتی ہے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی حیات، فقہی منہج اور علمی وراثت پر مستقل کتاب لکھی، حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی حیات و خدمات کو بھی قلم بند کیا، اندلس کے سفر کے بہانے وہاں کی تاریخ و تہذیب سے قاری کو روشناس کرایا اور علم حدیث کے بنیادی اصولوں پر بھی مفید کتابیں تحریر کیں۔
ان کے قلم کا دائرہ صرف حدیث و رجال تک محدود نہیں؛ فقہ، اصول فقہ، تفسیر، سیرت، تاریخ، عربی زبان و ادب اور اسلامی فکر کے مختلف گوشے ان کی تصنیفات میں جگہ پاتے ہیں۔ گویا بسیار خوانی نے ان کے قلم کو وسعت دی اور وسعت مطالعہ نے موضوعات کو تنوع بخشا۔
مولانا کے ذاتی کتب خانے کا ذکر آئے اور میری طبیعت سوال نہ کرے، یہ کیسے ممکن تھا! میں نے ایک مرتبہ ان سے دریافت کیا کہ آپ کے پاس تو کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ ہوگا، اتنی کتابوں کو رکھنے، سنبھالنے اور ترتیب دینے کا کیا نظام ہے؟
مولانا نے بڑی سادگی سے فرمایا:
’’میں چونکہ برطانیہ میں رہتا ہوں، یہاں کشادہ رہائش کا بڑا مسئلہ ہے۔ اس لیے جو بھی کتاب خریدتا یا حاصل کرتا ہوں، اپنی تحقیق اور تصنیفی کام سے فارغ ہونے کے بعد وہ کتاب کسی شخصیت یا ادارے کو دے دیتا ہوں۔ صرف تفسیر، احادیث اور اصولی کتابیں ہی رکھ پاتا ہوں، اور یہ کتابیں بھی الحمدللہ بہت زیادہ ہیں۔‘‘
مجھے مولانا کا یہ جواب بہت دیر تک سوچنے پر مجبور کرتا رہا۔ عام آدمی کتاب خریدتا ہے تو اسے رکھنے کے لیے جگہ تلاش کرتا ہے، مولانا کتاب پڑھتے ہیں تو اس سے آگے علم کی جگہ تلاش کرتے ہیں۔ ان کے لیے کتاب محض الماری بھرنے کی چیز نہیں، ایک علمی امانت ہے؛ جب اس سے اپنا کام لے لیا تو کسی دوسرے طالب علم، عالم یا ادارے کے حوالے کردی۔
یوں کتاب ان کے پاس ٹھہرتی کم ہے، سفر زیادہ کرتی ہے۔ وہ کتاب کو قید نہیں کرتے، آزاد کرتے ہیں؛ اپنے مطالعے سے فیض اٹھاتے ہیں اور پھر اسے دوسرے اہل علم کے لیے روانہ کردیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں کتابیں صرف جمع نہیں ہوتیں، گردش کرتی ہیں، علم بانٹتی ہیں اور نئے قاری تلاش کرتی ہیں۔
البتہ تفسیر، حدیث اور اصول کی کتابیں وہ اپنے پاس رکھتے ہیں، اور ان کا یہ ذاتی ذخیرہ بھی، ان کے اپنے الفاظ میں، ’’بہت زیادہ‘‘ ہے۔ جس شخص نے عمر بھر کتابوں کے ساتھ گزاری ہو، اس کے یہاں ’’بہت زیادہ‘‘ بھی کسی اور کے پورے کتب خانے پر بھاری ہوسکتا ہے۔
شاید یہی کتاب دوستی کی اصل علامت ہے کہ کتابیں صرف جمع نہ ہوں۔
مولانا ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کتابیں رکھنے والے آدمی نہیں، کتابوں میں رہنے والے آدمی ہیں۔ ان کی پہچان صرف یہ نہیں کہ انہوں نے کتنی کتابیں لکھیں؛ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے کتنی کتابوں کو پڑھ کر، پرکھ کر، تلاش کرکے اور اپنے علم میں سمو کر دوسروں تک پہنچادیا۔
ان کے یہاں کتاب زینت طاق نہیں، زاد سفر ہے؛ الماری کی آرائش نہیں، زندگی کی رفاقت ہے؛ اور علم کا بوجھ نہیں، علم کی امانت ہے۔
(چوبیس ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
ان کی دوسری تصانیف بھی ان کے علمی ذوق کی وسعت اور مطالعے کی ہمہ گیری کی گواہی دیتی ہیں۔ ’’مدرسہ لائف‘‘ میں ندوۃ العلماء کی علمی و طلبہ زندگی کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں، ’’بستان المحدثین‘‘ کے ذریعے حدیث کے علماء کی ایک قدیم علمی روایت کو نئی زندگی ملتی ہے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی حیات، فقہی منہج اور علمی وراثت پر مستقل کتاب لکھی، حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی حیات و خدمات کو بھی قلم بند کیا، اندلس کے سفر کے بہانے وہاں کی تاریخ و تہذیب سے قاری کو روشناس کرایا اور علم حدیث کے بنیادی اصولوں پر بھی مفید کتابیں تحریر کیں۔
ان کے قلم کا دائرہ صرف حدیث و رجال تک محدود نہیں؛ فقہ، اصول فقہ، تفسیر، سیرت، تاریخ، عربی زبان و ادب اور اسلامی فکر کے مختلف گوشے ان کی تصنیفات میں جگہ پاتے ہیں۔ گویا بسیار خوانی نے ان کے قلم کو وسعت دی اور وسعت مطالعہ نے موضوعات کو تنوع بخشا۔
مولانا کے ذاتی کتب خانے کا ذکر آئے اور میری طبیعت سوال نہ کرے، یہ کیسے ممکن تھا! میں نے ایک مرتبہ ان سے دریافت کیا کہ آپ کے پاس تو کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ ہوگا، اتنی کتابوں کو رکھنے، سنبھالنے اور ترتیب دینے کا کیا نظام ہے؟
مولانا نے بڑی سادگی سے فرمایا:
’’میں چونکہ برطانیہ میں رہتا ہوں، یہاں کشادہ رہائش کا بڑا مسئلہ ہے۔ اس لیے جو بھی کتاب خریدتا یا حاصل کرتا ہوں، اپنی تحقیق اور تصنیفی کام سے فارغ ہونے کے بعد وہ کتاب کسی شخصیت یا ادارے کو دے دیتا ہوں۔ صرف تفسیر، احادیث اور اصولی کتابیں ہی رکھ پاتا ہوں، اور یہ کتابیں بھی الحمدللہ بہت زیادہ ہیں۔‘‘
مجھے مولانا کا یہ جواب بہت دیر تک سوچنے پر مجبور کرتا رہا۔ عام آدمی کتاب خریدتا ہے تو اسے رکھنے کے لیے جگہ تلاش کرتا ہے، مولانا کتاب پڑھتے ہیں تو اس سے آگے علم کی جگہ تلاش کرتے ہیں۔ ان کے لیے کتاب محض الماری بھرنے کی چیز نہیں، ایک علمی امانت ہے؛ جب اس سے اپنا کام لے لیا تو کسی دوسرے طالب علم، عالم یا ادارے کے حوالے کردی۔
یوں کتاب ان کے پاس ٹھہرتی کم ہے، سفر زیادہ کرتی ہے۔ وہ کتاب کو قید نہیں کرتے، آزاد کرتے ہیں؛ اپنے مطالعے سے فیض اٹھاتے ہیں اور پھر اسے دوسرے اہل علم کے لیے روانہ کردیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں کتابیں صرف جمع نہیں ہوتیں، گردش کرتی ہیں، علم بانٹتی ہیں اور نئے قاری تلاش کرتی ہیں۔
البتہ تفسیر، حدیث اور اصول کی کتابیں وہ اپنے پاس رکھتے ہیں، اور ان کا یہ ذاتی ذخیرہ بھی، ان کے اپنے الفاظ میں، ’’بہت زیادہ‘‘ ہے۔ جس شخص نے عمر بھر کتابوں کے ساتھ گزاری ہو، اس کے یہاں ’’بہت زیادہ‘‘ بھی کسی اور کے پورے کتب خانے پر بھاری ہوسکتا ہے۔
شاید یہی کتاب دوستی کی اصل علامت ہے کہ کتابیں صرف جمع نہ ہوں۔
مولانا ڈاکٹر محمد اکرم ندوی کتابیں رکھنے والے آدمی نہیں، کتابوں میں رہنے والے آدمی ہیں۔ ان کی پہچان صرف یہ نہیں کہ انہوں نے کتنی کتابیں لکھیں؛ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے کتنی کتابوں کو پڑھ کر، پرکھ کر، تلاش کرکے اور اپنے علم میں سمو کر دوسروں تک پہنچادیا۔
ان کے یہاں کتاب زینت طاق نہیں، زاد سفر ہے؛ الماری کی آرائش نہیں، زندگی کی رفاقت ہے؛ اور علم کا بوجھ نہیں، علم کی امانت ہے۔
(چوبیس ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
❤1
جن احباب کے ٹیلگرام میں ہماری علم وکتاب لائبریری کام کررہی ان سے گذارش ہے کہ اس کے موجودہ اڈمن سے مطلع کریں۔ عبد المتین منیری
محمد سرر جامعی.pdf
402.2 KB
محمد سرور جامعی۔ تحریر: محمد اسحاق بھٹی
*وفیات مورخہ:اکتوبر 07*
1851ء مملوک علی نانوتوی۔ مولانا ، مدرس عربک کالج دہلی، استاد مولانا نانوتوی وگنگوہی
1939ء عنایت احمد نقوی۔ ،
1970ء اعظم جاہ (میر حمایت علی خان)۔ فرزند اکبر نواب میر عثمان علی خان
1970ء میر حمایت علی شاہ۔
1988ء عبدالرحمٰن خان نشتر۔
1988ء عبدالرحمٰن خان نشتر۔ مدرس جامعہ اسلامیہ بھٹکل
1989ء شوکت علی درویش۔ ،
1990ء راشد بن سعید آل مکتوم۔ حاکم دبی
1993ء ہرمزی جلیل قدوائی۔ ،
1994ء عبد المجید سلیم۔
1997ء ذاکر دہلوی (حافظ قاری معین الدین)۔ ،
2010ء انیس ناگی۔ ادیب
2015ء حسن جمیل۔ ،
2017ء اکبر حیدرآبادی(اکبر علی خان)۔ شاعر
2017ء عبد الوہاب خان سلیم۔
1851ء مملوک علی نانوتوی۔ مولانا ، مدرس عربک کالج دہلی، استاد مولانا نانوتوی وگنگوہی
1939ء عنایت احمد نقوی۔ ،
1970ء اعظم جاہ (میر حمایت علی خان)۔ فرزند اکبر نواب میر عثمان علی خان
1970ء میر حمایت علی شاہ۔
1988ء عبدالرحمٰن خان نشتر۔
1988ء عبدالرحمٰن خان نشتر۔ مدرس جامعہ اسلامیہ بھٹکل
1989ء شوکت علی درویش۔ ،
1990ء راشد بن سعید آل مکتوم۔ حاکم دبی
1993ء ہرمزی جلیل قدوائی۔ ،
1994ء عبد المجید سلیم۔
1997ء ذاکر دہلوی (حافظ قاری معین الدین)۔ ،
2010ء انیس ناگی۔ ادیب
2015ء حسن جمیل۔ ،
2017ء اکبر حیدرآبادی(اکبر علی خان)۔ شاعر
2017ء عبد الوہاب خان سلیم۔
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کا انتقال
لکھنؤ، 7 اکتوبر 2026ء، مطابق 24 ربیع الثانی 1448ھ، بدھ: دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے مہتمم مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کا آج 92 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ اسپتال کی جانب سے بھی ان کے انتقال کی تصدیق کی گئی ہے۔
ان کے انتقال کی خبر علم و کتاب واٹس ایپ گروپ میں مولانا سمعان خلیفہ ندوی نے دی۔ بعد ازاں The Jamia Times نے بھی لکھنؤ سے مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کے انتقال کی خبر شائع کرتے ہوئے اسپتال سے ان کے انتقال کی تصدیق کا ذکر کیا۔ خبر کے مطابق وہ اسلامی تعلیم و علمی خدمات کے حوالے سے ایک ممتاز شخصیت تھے اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کی سربراہی کئی برس تک انجام دیتے رہے۔
مولانا کے انتقال کی خبر سے علمی و دینی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
إنا لله وإنا إليه راجعون۔
لکھنؤ، 7 اکتوبر 2026ء، مطابق 24 ربیع الثانی 1448ھ، بدھ: دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ کے مہتمم مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کا آج 92 برس کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ اسپتال کی جانب سے بھی ان کے انتقال کی تصدیق کی گئی ہے۔
ان کے انتقال کی خبر علم و کتاب واٹس ایپ گروپ میں مولانا سمعان خلیفہ ندوی نے دی۔ بعد ازاں The Jamia Times نے بھی لکھنؤ سے مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کے انتقال کی خبر شائع کرتے ہوئے اسپتال سے ان کے انتقال کی تصدیق کا ذکر کیا۔ خبر کے مطابق وہ اسلامی تعلیم و علمی خدمات کے حوالے سے ایک ممتاز شخصیت تھے اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کی سربراہی کئی برس تک انجام دیتے رہے۔
مولانا کے انتقال کی خبر سے علمی و دینی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
إنا لله وإنا إليه راجعون۔
❤1
Mr Sid
قاری شبیر احمد صاحب کی عبقریت اور بے مثال ذہانت ***** بدر الحسن القاسمی نابینا علماء میں ایک سے بڑھ کر ایک باکمال اہل علم گزرے ہیں شعراء اور ادباء کی صف میں بھی نامور شاعر ابو العلاء المعری بشار بن برد اور قریب کے زمانہ کے عربی کے صاحب طرز ادیب اور انشاء…
عربی زبان کے نامور ادیب اور کئی نسلوں کے استاذ مولانا سعید الاعظمی کی وفات کا سانحہ
********
بدر الحسن القاسمی
مولانا سعید الاعظمی دار العلوم ندوة العلماء کے مہتمم عربی ماہنامہ "البعث الاسلامی" کے چیف ایڈیٹر اور ندوة العلماء کےقدیم اساتذہ میں سے تھے
انکے والد مولانا محمدایوب صاحب اعظمی امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگردوں میں سےتھے
اور مئو کے تین ہم عصر بڑے علماء مولانا حبیب الرحمن اعظمی مولانا عبد اللطیف نعمانی اورمولانا محمد ایوب ا عظمی کے مثلث کا ایک حصہ رہے وہ طویل عرصہ تک جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کے شیخ الحدیث بھی رہے
مولانا سعید الاعظمی کی تعلیم کا بڑا مرحلہ مئو میں اپنے والدگرامی کی نگرانی ہی میں پورا ہوا
عربی زبان کی مزید پختگی کیلئے انہوں نے بغداد میں رہ کر مولانا سید ابو الحسن ندوی کے استاذ نامور سلفی عالم وادیب ڈاکٹر تقی الدین الہلالی المراکشی سے بھی استفادہ کیا جو پہلے کئ سال تک دار العلوم ندوة العلماء میں بحیثیت استاد رہ چکے تھے اور عربی زبان میں حجت تسلیم کئے جاتے تھے عربی کے علاوہ انہیں انگلش اور جرمن زبان میں بھی مہارت تھی
مولانا سعید الاعظمی کے بڑے بھائی حکیم عز یز الرحمن اعظمی صاحب دارالعلوم دیوبند میں جامعہ طبیہ کے لائق استاذ تھے اور عمر میں تفاوت کے باوجود میرے ساتھ وہ بےحد بے تکلف تھے غیر معمولی ذہین اور بذلہ سنج انسان تھے
حضرت شاہ وصی اللہ صاحب
الہ آبادی کے فیض یافتہ اورانکے بیحد معتقد تھے اور اپنی طبی علوم میں مہارت کو انکی کرامت کا ہی نتیجہ سمجھتے تھے انکے بارے میں میرا تفصیلی مضمون "تابندہ نقوش" میں شامل ہے
مولانا سعید الاعظمی اس طرح ایک علمی خانوادہ کے فرد اور غیر معمولی محنت وقابلیت کے انسان تھے
دارالعلوم ندوة العلماء کو خون جگر سے پروان چڑھا نے والوں میں وہ بھی شامل تھے
ان سے کئی نسلوں کو فیض پہنچا
تدریس کے علا وہ انکے امتیاز کی ایک بڑی علامت اور انکی اہم پہچان مجلہ" البعث الاسلامی" کی ادارت میں انکی شمولیت اور معاونت اور پھر مولانا محمد الحسنی مرحوم کی جوانمرگی کے بعد بحیثیت ایڈیٹر انکی انفرادیت بھی ہے
وہ پچاس سال سے زیادہ عرصہ تک اڈیٹر رہے اور انکے اداریے ہی مجلہ کی زینت بنے رہے
مولانا عربی زبان میں بہت زیادہ لکھنے والی شخصیات میں سے ایک ہیں انکے لکھے ہوئے اداریے کئ جلدوں کا مواد فراہم کرتے ہیں
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی صاحب کو ان پر بڑا اعتماد تھا وہ انکی تحریروں کے مداح تھے
تاریخ دعوت وعزیمت " یا رجال الفکر والدعوة في الاسلام" کی بعض جلدوں کا عربی میں ترجمہ بھی انہیں کے قلم سے ہے
شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کے بعض رسائل اور فضائل اعمال کے بعض حصوں کی ترجمانی بھی انہوں نے ہی کی ہے
خود مولانا سعید الاعظمی کی کی عربی زبان میں اپنی تصنیف کردہ متعدد کتابیں اور لاتعداد مضامین ومقالات ہیں
البعث الاسلامی کے اداریے اور الرائد میں شائع شدہ مضامین انکے علاوہ ہیں
تدریس میں امتیازی شان رکھنے کے علاوہ دارالعلوم ندوہ العلماء کے منصب اہتمام پر بھی وہ فائز تھے اور ندوہ کی مسجد میں جمعہ کے خطیب بھی عام طور پر وہی ہوا کرتے تھے
انکی عربی تحریروں کا ذخیرہ انکے شاگردوں کیلئے آئندہ تحقیق و ریسرچ کا بہترین موضوع ہوسکتا ہے
مجھ سے انکی ملاقاتیں کویت میں ہوا کرتی تھیں حضرت شیخ الحدیث صاحب کے انتقال کے دن ہم دونوں ہی مدینہ طیبہ میں تھے
انکے دولت کدہ پر بھی غالبا ایک آدھ بار حاضری کا اتفاق ہوا دہلی میں فقہ اکیڈمی کے اسٹیج پر بھی ایک دوبار یکجائی ہوئی
وہ ایک عرصہ سے بیمارتھے اور انتہائی کمزور ہوگئے تھے اور اب وہ وقت آگیا جس سے کسی کو مفر نہیں ہے اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے
انا للہ وانا الیہ راجعون
اللہ تعالی سے دعاء ہیکہ انکے اعمال صالحہ کو قبول فرمائے
انکے درجات بلند فرمائے اور انہیں فردوس بریں میں صدیقین و وصالحین کے ساتھ اپنی نعمتوں سے بہرہ ور کر ے آمین مولاناسعید الاعظمی کا دنیا سے رخصت ہوجانا زبردست سانحہ ہے دارالعلوم ندوة العلماءکیلئے بھی که وہ اپنے قدیم ترین اورمخلص ترین استاد سے محروم ہوگیا ہے
اورعربی زبان وادب سے شغف رکھنے والوں کیلئے بھی کہ ان کے درمیان ایک مایہ ناز صاحب قلم اور دینی واصلاحی فکر کے حامل عربی زبان کے مصنف اور قلم کار کی جگہ خالی ہوگئی ہے
وماكان قيس هلكه هلك واحد
ولكنه بنيان قوم تهد ما
٧. ١٠. ٢٠٢٦ م ( کویت )
********
بدر الحسن القاسمی
مولانا سعید الاعظمی دار العلوم ندوة العلماء کے مہتمم عربی ماہنامہ "البعث الاسلامی" کے چیف ایڈیٹر اور ندوة العلماء کےقدیم اساتذہ میں سے تھے
انکے والد مولانا محمدایوب صاحب اعظمی امام العصر علامہ انور شاہ کشمیری کے شاگردوں میں سےتھے
اور مئو کے تین ہم عصر بڑے علماء مولانا حبیب الرحمن اعظمی مولانا عبد اللطیف نعمانی اورمولانا محمد ایوب ا عظمی کے مثلث کا ایک حصہ رہے وہ طویل عرصہ تک جامعہ اسلامیہ ڈابھیل کے شیخ الحدیث بھی رہے
مولانا سعید الاعظمی کی تعلیم کا بڑا مرحلہ مئو میں اپنے والدگرامی کی نگرانی ہی میں پورا ہوا
عربی زبان کی مزید پختگی کیلئے انہوں نے بغداد میں رہ کر مولانا سید ابو الحسن ندوی کے استاذ نامور سلفی عالم وادیب ڈاکٹر تقی الدین الہلالی المراکشی سے بھی استفادہ کیا جو پہلے کئ سال تک دار العلوم ندوة العلماء میں بحیثیت استاد رہ چکے تھے اور عربی زبان میں حجت تسلیم کئے جاتے تھے عربی کے علاوہ انہیں انگلش اور جرمن زبان میں بھی مہارت تھی
مولانا سعید الاعظمی کے بڑے بھائی حکیم عز یز الرحمن اعظمی صاحب دارالعلوم دیوبند میں جامعہ طبیہ کے لائق استاذ تھے اور عمر میں تفاوت کے باوجود میرے ساتھ وہ بےحد بے تکلف تھے غیر معمولی ذہین اور بذلہ سنج انسان تھے
حضرت شاہ وصی اللہ صاحب
الہ آبادی کے فیض یافتہ اورانکے بیحد معتقد تھے اور اپنی طبی علوم میں مہارت کو انکی کرامت کا ہی نتیجہ سمجھتے تھے انکے بارے میں میرا تفصیلی مضمون "تابندہ نقوش" میں شامل ہے
مولانا سعید الاعظمی اس طرح ایک علمی خانوادہ کے فرد اور غیر معمولی محنت وقابلیت کے انسان تھے
دارالعلوم ندوة العلماء کو خون جگر سے پروان چڑھا نے والوں میں وہ بھی شامل تھے
ان سے کئی نسلوں کو فیض پہنچا
تدریس کے علا وہ انکے امتیاز کی ایک بڑی علامت اور انکی اہم پہچان مجلہ" البعث الاسلامی" کی ادارت میں انکی شمولیت اور معاونت اور پھر مولانا محمد الحسنی مرحوم کی جوانمرگی کے بعد بحیثیت ایڈیٹر انکی انفرادیت بھی ہے
وہ پچاس سال سے زیادہ عرصہ تک اڈیٹر رہے اور انکے اداریے ہی مجلہ کی زینت بنے رہے
مولانا عربی زبان میں بہت زیادہ لکھنے والی شخصیات میں سے ایک ہیں انکے لکھے ہوئے اداریے کئ جلدوں کا مواد فراہم کرتے ہیں
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی صاحب کو ان پر بڑا اعتماد تھا وہ انکی تحریروں کے مداح تھے
تاریخ دعوت وعزیمت " یا رجال الفکر والدعوة في الاسلام" کی بعض جلدوں کا عربی میں ترجمہ بھی انہیں کے قلم سے ہے
شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کے بعض رسائل اور فضائل اعمال کے بعض حصوں کی ترجمانی بھی انہوں نے ہی کی ہے
خود مولانا سعید الاعظمی کی کی عربی زبان میں اپنی تصنیف کردہ متعدد کتابیں اور لاتعداد مضامین ومقالات ہیں
البعث الاسلامی کے اداریے اور الرائد میں شائع شدہ مضامین انکے علاوہ ہیں
تدریس میں امتیازی شان رکھنے کے علاوہ دارالعلوم ندوہ العلماء کے منصب اہتمام پر بھی وہ فائز تھے اور ندوہ کی مسجد میں جمعہ کے خطیب بھی عام طور پر وہی ہوا کرتے تھے
انکی عربی تحریروں کا ذخیرہ انکے شاگردوں کیلئے آئندہ تحقیق و ریسرچ کا بہترین موضوع ہوسکتا ہے
مجھ سے انکی ملاقاتیں کویت میں ہوا کرتی تھیں حضرت شیخ الحدیث صاحب کے انتقال کے دن ہم دونوں ہی مدینہ طیبہ میں تھے
انکے دولت کدہ پر بھی غالبا ایک آدھ بار حاضری کا اتفاق ہوا دہلی میں فقہ اکیڈمی کے اسٹیج پر بھی ایک دوبار یکجائی ہوئی
وہ ایک عرصہ سے بیمارتھے اور انتہائی کمزور ہوگئے تھے اور اب وہ وقت آگیا جس سے کسی کو مفر نہیں ہے اور وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے
انا للہ وانا الیہ راجعون
اللہ تعالی سے دعاء ہیکہ انکے اعمال صالحہ کو قبول فرمائے
انکے درجات بلند فرمائے اور انہیں فردوس بریں میں صدیقین و وصالحین کے ساتھ اپنی نعمتوں سے بہرہ ور کر ے آمین مولاناسعید الاعظمی کا دنیا سے رخصت ہوجانا زبردست سانحہ ہے دارالعلوم ندوة العلماءکیلئے بھی که وہ اپنے قدیم ترین اورمخلص ترین استاد سے محروم ہوگیا ہے
اورعربی زبان وادب سے شغف رکھنے والوں کیلئے بھی کہ ان کے درمیان ایک مایہ ناز صاحب قلم اور دینی واصلاحی فکر کے حامل عربی زبان کے مصنف اور قلم کار کی جگہ خالی ہوگئی ہے
وماكان قيس هلكه هلك واحد
ولكنه بنيان قوم تهد ما
٧. ١٠. ٢٠٢٦ م ( کویت )
❤1
بیتی یادیں (01)
انٹریو: حضرت مولانا سعیدالرحمن اعظمی ندوی رحمۃ اللہ علیہ
سابق مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
مصاحبہ کار: عبد المتین منیری (بھٹکل)
ایک عظیم مربی ، معلم، ادیب وصحافی کے زندگی یاد گار لمحات پر مشتمل آج سے انیس سال قبل مورخہ 07-09-2007ء گیا ویڈیو انٹرویو چار قسطوں میں بھٹکلیس یوٹیوب چینل پر پیش کیا جاریا ہے، لنک پارٹ نمبر (01)
https://youtu.be/8VJRP0EphlQ?si=H6TCS8JI7ewNcUUu
عبد المتین منیری صاحب کے لئے ہوئے مزید یادگار انٹرویوز کے لئے کلک کریں
www.youtube.com/watch?v=CDZgbME-4Rw&list=PLjseW6sQdLXGctd_Syj4AWGOaep-xsg18
انٹریو: حضرت مولانا سعیدالرحمن اعظمی ندوی رحمۃ اللہ علیہ
سابق مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
مصاحبہ کار: عبد المتین منیری (بھٹکل)
ایک عظیم مربی ، معلم، ادیب وصحافی کے زندگی یاد گار لمحات پر مشتمل آج سے انیس سال قبل مورخہ 07-09-2007ء گیا ویڈیو انٹرویو چار قسطوں میں بھٹکلیس یوٹیوب چینل پر پیش کیا جاریا ہے، لنک پارٹ نمبر (01)
https://youtu.be/8VJRP0EphlQ?si=H6TCS8JI7ewNcUUu
عبد المتین منیری صاحب کے لئے ہوئے مزید یادگار انٹرویوز کے لئے کلک کریں
www.youtube.com/watch?v=CDZgbME-4Rw&list=PLjseW6sQdLXGctd_Syj4AWGOaep-xsg18
YouTube
Beeti Yadain Part 01 Moulana Saidur Rahman Azami Nadwi
بیتی یادیں (01)
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی ۔ مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی یادوں پر مشتمل یادگار انٹرویو کی پہلی قسط
یہ انٹریو عبد المتین منیری نے مورخہ 7-09-2007 ء کو بھٹکلیس ڈاٹ کام کے لئے لیا تھا۔ یہ انٹرویو چار قسطوں پر مشتمل ہے۔
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی ۔ مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی یادوں پر مشتمل یادگار انٹرویو کی پہلی قسط
یہ انٹریو عبد المتین منیری نے مورخہ 7-09-2007 ء کو بھٹکلیس ڈاٹ کام کے لئے لیا تھا۔ یہ انٹرویو چار قسطوں پر مشتمل ہے۔
*غلطی ہائے مضامین*
*خطا کرو، مگر اتنی بڑی خطا نہ کرو!*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
پچھلے کالم میں دیوانِ غالبؔ کے مرتبین کا ذکر تھا۔ نہ جانے کس جھونک میں آکر ہم ’علامہ آسی‘ کو ’علامہ آلوسی‘ لکھ گئے۔ اپنی آنکھ کا شہتیر تو خیر ہمیں بھی نظر نہیں آتا ۔ مگر ہماری آنکھ (کی خطا) کا یہ تنکا دوسروں کو بھی دکھائی نہ دیا۔ الحمدللہ تا دمِ تحریر کسی قاری نے اس خطا پر ہماری گرفت نہیں کی۔ وہ تو اللہ بھلا کرے برادر عبدالخالق بٹ کا جنھوں نے چپکے سے فون کر کے ہم سے پوچھا کہ
”حاطب بھائی! محض اپنی اُلجھن دُور کرنے کے لیے پوچھ رہا ہوں ، کیا علامہ آلوسیؒ نے بھی دیوانِ غالبؔ مرتب کیا ہے؟ وہی جن کی تفسیر ’روح المعانی‘ مشہورہے!“
حاطب بھائی کیا کہتے؟ہر چند علامہ محمود شہاب الدین ابوثنا حسینی آلوسیؒ خود بھی ایک شاعر تھے، لیکن افسوس ،اُنھیں دیوانِ غالبؔ مرتب کرنے کی توفیق ہوئی نہ اس کا خیال آیا۔ گو اُنھوں نے بھی غالبؔ کا زمانہ پایا،مگر وہ تو عمر بھر عراق کے شہر آلوس کے آس پاس ہی گھومتے رہے۔ بہت ہوا تو استنبول اور بغداد چلے گئے۔ نیز علامہ آلوسیؒ ساری زندگی تفسیر، حدیث اور فقہ کی درس و تدریس یا تصنیف و تالیف ہی میں مصروف رہے۔شاید اِنھیں مصروفیات (اور اُردو سے عدم رغبت) کے باعث علامہ آلوسیؒ نے کلامِ غالبؔ سے خود کو آلودہ کرنا پسند نہ کیا۔
صاحبو! دیوانِ غالبؔ مرتب کرنے اور اُس کی شرح لکھنے کی سعادت توعلامہ عبدالباری آسیؔ الدنی کو حاصل ہوئی تھی۔ ہماری آنکھوں نے خطا کی توآسی کو آلوسی پڑھ لیا۔ قلم نے خطا کی تو یہی لکھ دیااوریہی چھپ گیا۔ محولہ کالم کے کوئی چار پانچ ہزار سے زائد قارئین میں سے شاید ہی کسی ایک قاری کی نظر اس خطا پر پڑی ہو۔ پَر، اُس ایک اکیلے قاری کے لیے زیڈ اے بخاری کی لغت میں بہت بُرا لفظ ملا۔
ریڈیو پاکستان کے اوّلین ڈائریکٹر جنرل جناب ذوالفقار علی بخاری نے ایک بار اپنی نشری گفتگو میں لفظ ’زَعم‘ (’ز‘ پر زبر) کو نہ جانے کس جھونک میں آکر ’زُعم‘ (’ز‘ پر پیش کے ساتھ) پڑھ دیا۔ریکارڈنگ سنی تو اِس خطا کا احساس ہوا،(اپنا ہی) سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ اُٹھے تو پروگرام کے پیش کار سے کہا:
”میاں !تلفظ کی یہ غلطی پکڑی جائے گی۔ چلو، گفتگو دوبارہ ریکارڈ کرو!“
پروگرام کے پروڈیوسر نے غالباً دوبارہ محنت سے جان چھڑانے کے لیے کہا:
”سر! جانے دیجیے۔ سَو میں سے کوئی ایک ہی سامع ایسا ہوگا جوپوری گفتگو میں سے بس اتنی ذرا سی غلطی پکڑ کے کھڑاہوجائے گا“۔
بخاری صاحب بولے: ” اُسی ایک …… زادے سے تو ڈر رہا ہوں !“
مشہور مقولہ ہے: ” انسان خطا و نسیان کا پُتلا ہے“۔
یوسفیؔ صاحب نے اس مقولے میں ’نسیان‘ کی جگہ ’نسوان‘ استعمال کیا ہے، مگر یہ اُن کی خطا نہیں ، اُن کی عطا ہے۔
خطا کا مطلب بھول چوک، قصور، غلطی، سہو ، جرم اور گناہ ہے۔ مگرجرم اور گناہِ بے ارادہ۔’بے ارادہ‘ پر یاد آیا کہ ابھی چند روز قبل ”عالمی یومِ اساتذہ“منایا گیا ہے۔ہماری طرف سے ہر اُستادِ محترم کو سلام۔ مگر بچپن میں بعض ایسے جلّاد اساتذہ سے بھی سابقہ پڑا جنھیں دیکھتے ہی ’پیشاب خطا‘ ہو جاتا تھا۔ مرکھنے اساتذہ کا ذکراس لیے کیا کہ آپ کو ’خطا‘ کے بے اراد سر زد ہوجانے کی مثال یاد دلا دی جائے۔
یہ بات توآپ جانتے ہی ہوں گے کہ ’خطا‘ شمالی چین (ترکستان، تاتار) کے ایک شہر کا نام بھی ہے۔ ہمارے ہاں ’نانِ خطائی‘ نے بڑی شہرت پائی۔ ہم نے تو پاکستان میں بنی ہوئی ’نانِ خطائی‘ بھی مزے لے لے کر کھائی۔ تاہم اُردو میں ’خطا‘ کے اتنے مزے نہیں ہیں ۔ قواعد و انشا کے اساتذہ کہتے ہیں کہ ”خطاہونا“ فعلِ لازم ہے،اس سے بچنا مشکل ہے۔ اِنھیں میں سے ایک پروفیسر اقبالؔ عظیم کا کہنا ہے:
ہم آدمی سے فرشتے تو بن نہیں سکتے
وہ چاہتے ہیں کہ ہم سے کوئی خطا ہی نہ ہو
پروفیسر صاحب مرحوم اپنی خطا کوتو ’آدمیت‘ کی علامت جانتے تھے، مگر قوم کو ڈانٹ ڈانٹ کریوں اپنی پروفیسری جھاڑتے تھے کہ
نقاب پوشوں کو للہ رہنما نہ کرو
خطا کرو، مگر اتنی بڑی خطا نہ کرو
پھر بھی قوم نے اُن کی ایک نہ سُنی۔اِس معاملے میں ہمیشہ خطا کار اور خطا وار ہی رہی۔’خطا کار‘ قصورکرنے والا ہوتا ہے اور’خطا وار‘ وہ ہوتا ہے جس پر قصور ثابت ہو جائے یا ثابت نہ ہو رہا ہو تو وہ خود مان لے کہ مجھ سے یہ قصور ہوا۔ ہمارے’اہلِ تھانہ‘ قصور منوانے میں ماہر ہیں ۔ کبھی کبھی کسی کو منانے کے لیے بھی قصور ماننا پڑجاتاہے۔ مولوی سید احمد دہلوی (مؤلف ”فرہنگِ آصفیہ“) فرماتے ہیں :
خفا گرچہ ناحق بھی پاتے ہیں ہم
خطا وار بن کر مناتے ہیں ہم
ماننے اور منانے پر ایک پُرانا محاورہ یاد آگیا،جس کا تعلق بزرگوں کو ماننے سے یا بزرگوں کی ماننے سے ہے۔ عام طور پر”خطائے بزرگاں گرفتن خطاست“ کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ بزرگوں کی خطا پکڑنا خود ایک خطا ہے۔ فہم کی یہ خطا شیخ سعدیؒ کے ایک شعر سے عام ہوئی۔ مگرشیخ سعدیؒ نے تو ’خطائے بزرگاں ‘نہیں ’خطا بر بزرگاں ‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں ۔سعدیؔ کا شعر یوں ہے:
نہ در ہر سخن بحث کردن رواست
*خطا کرو، مگر اتنی بڑی خطا نہ کرو!*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
پچھلے کالم میں دیوانِ غالبؔ کے مرتبین کا ذکر تھا۔ نہ جانے کس جھونک میں آکر ہم ’علامہ آسی‘ کو ’علامہ آلوسی‘ لکھ گئے۔ اپنی آنکھ کا شہتیر تو خیر ہمیں بھی نظر نہیں آتا ۔ مگر ہماری آنکھ (کی خطا) کا یہ تنکا دوسروں کو بھی دکھائی نہ دیا۔ الحمدللہ تا دمِ تحریر کسی قاری نے اس خطا پر ہماری گرفت نہیں کی۔ وہ تو اللہ بھلا کرے برادر عبدالخالق بٹ کا جنھوں نے چپکے سے فون کر کے ہم سے پوچھا کہ
”حاطب بھائی! محض اپنی اُلجھن دُور کرنے کے لیے پوچھ رہا ہوں ، کیا علامہ آلوسیؒ نے بھی دیوانِ غالبؔ مرتب کیا ہے؟ وہی جن کی تفسیر ’روح المعانی‘ مشہورہے!“
حاطب بھائی کیا کہتے؟ہر چند علامہ محمود شہاب الدین ابوثنا حسینی آلوسیؒ خود بھی ایک شاعر تھے، لیکن افسوس ،اُنھیں دیوانِ غالبؔ مرتب کرنے کی توفیق ہوئی نہ اس کا خیال آیا۔ گو اُنھوں نے بھی غالبؔ کا زمانہ پایا،مگر وہ تو عمر بھر عراق کے شہر آلوس کے آس پاس ہی گھومتے رہے۔ بہت ہوا تو استنبول اور بغداد چلے گئے۔ نیز علامہ آلوسیؒ ساری زندگی تفسیر، حدیث اور فقہ کی درس و تدریس یا تصنیف و تالیف ہی میں مصروف رہے۔شاید اِنھیں مصروفیات (اور اُردو سے عدم رغبت) کے باعث علامہ آلوسیؒ نے کلامِ غالبؔ سے خود کو آلودہ کرنا پسند نہ کیا۔
صاحبو! دیوانِ غالبؔ مرتب کرنے اور اُس کی شرح لکھنے کی سعادت توعلامہ عبدالباری آسیؔ الدنی کو حاصل ہوئی تھی۔ ہماری آنکھوں نے خطا کی توآسی کو آلوسی پڑھ لیا۔ قلم نے خطا کی تو یہی لکھ دیااوریہی چھپ گیا۔ محولہ کالم کے کوئی چار پانچ ہزار سے زائد قارئین میں سے شاید ہی کسی ایک قاری کی نظر اس خطا پر پڑی ہو۔ پَر، اُس ایک اکیلے قاری کے لیے زیڈ اے بخاری کی لغت میں بہت بُرا لفظ ملا۔
ریڈیو پاکستان کے اوّلین ڈائریکٹر جنرل جناب ذوالفقار علی بخاری نے ایک بار اپنی نشری گفتگو میں لفظ ’زَعم‘ (’ز‘ پر زبر) کو نہ جانے کس جھونک میں آکر ’زُعم‘ (’ز‘ پر پیش کے ساتھ) پڑھ دیا۔ریکارڈنگ سنی تو اِس خطا کا احساس ہوا،(اپنا ہی) سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ اُٹھے تو پروگرام کے پیش کار سے کہا:
”میاں !تلفظ کی یہ غلطی پکڑی جائے گی۔ چلو، گفتگو دوبارہ ریکارڈ کرو!“
پروگرام کے پروڈیوسر نے غالباً دوبارہ محنت سے جان چھڑانے کے لیے کہا:
”سر! جانے دیجیے۔ سَو میں سے کوئی ایک ہی سامع ایسا ہوگا جوپوری گفتگو میں سے بس اتنی ذرا سی غلطی پکڑ کے کھڑاہوجائے گا“۔
بخاری صاحب بولے: ” اُسی ایک …… زادے سے تو ڈر رہا ہوں !“
مشہور مقولہ ہے: ” انسان خطا و نسیان کا پُتلا ہے“۔
یوسفیؔ صاحب نے اس مقولے میں ’نسیان‘ کی جگہ ’نسوان‘ استعمال کیا ہے، مگر یہ اُن کی خطا نہیں ، اُن کی عطا ہے۔
خطا کا مطلب بھول چوک، قصور، غلطی، سہو ، جرم اور گناہ ہے۔ مگرجرم اور گناہِ بے ارادہ۔’بے ارادہ‘ پر یاد آیا کہ ابھی چند روز قبل ”عالمی یومِ اساتذہ“منایا گیا ہے۔ہماری طرف سے ہر اُستادِ محترم کو سلام۔ مگر بچپن میں بعض ایسے جلّاد اساتذہ سے بھی سابقہ پڑا جنھیں دیکھتے ہی ’پیشاب خطا‘ ہو جاتا تھا۔ مرکھنے اساتذہ کا ذکراس لیے کیا کہ آپ کو ’خطا‘ کے بے اراد سر زد ہوجانے کی مثال یاد دلا دی جائے۔
یہ بات توآپ جانتے ہی ہوں گے کہ ’خطا‘ شمالی چین (ترکستان، تاتار) کے ایک شہر کا نام بھی ہے۔ ہمارے ہاں ’نانِ خطائی‘ نے بڑی شہرت پائی۔ ہم نے تو پاکستان میں بنی ہوئی ’نانِ خطائی‘ بھی مزے لے لے کر کھائی۔ تاہم اُردو میں ’خطا‘ کے اتنے مزے نہیں ہیں ۔ قواعد و انشا کے اساتذہ کہتے ہیں کہ ”خطاہونا“ فعلِ لازم ہے،اس سے بچنا مشکل ہے۔ اِنھیں میں سے ایک پروفیسر اقبالؔ عظیم کا کہنا ہے:
ہم آدمی سے فرشتے تو بن نہیں سکتے
وہ چاہتے ہیں کہ ہم سے کوئی خطا ہی نہ ہو
پروفیسر صاحب مرحوم اپنی خطا کوتو ’آدمیت‘ کی علامت جانتے تھے، مگر قوم کو ڈانٹ ڈانٹ کریوں اپنی پروفیسری جھاڑتے تھے کہ
نقاب پوشوں کو للہ رہنما نہ کرو
خطا کرو، مگر اتنی بڑی خطا نہ کرو
پھر بھی قوم نے اُن کی ایک نہ سُنی۔اِس معاملے میں ہمیشہ خطا کار اور خطا وار ہی رہی۔’خطا کار‘ قصورکرنے والا ہوتا ہے اور’خطا وار‘ وہ ہوتا ہے جس پر قصور ثابت ہو جائے یا ثابت نہ ہو رہا ہو تو وہ خود مان لے کہ مجھ سے یہ قصور ہوا۔ ہمارے’اہلِ تھانہ‘ قصور منوانے میں ماہر ہیں ۔ کبھی کبھی کسی کو منانے کے لیے بھی قصور ماننا پڑجاتاہے۔ مولوی سید احمد دہلوی (مؤلف ”فرہنگِ آصفیہ“) فرماتے ہیں :
خفا گرچہ ناحق بھی پاتے ہیں ہم
خطا وار بن کر مناتے ہیں ہم
ماننے اور منانے پر ایک پُرانا محاورہ یاد آگیا،جس کا تعلق بزرگوں کو ماننے سے یا بزرگوں کی ماننے سے ہے۔ عام طور پر”خطائے بزرگاں گرفتن خطاست“ کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ بزرگوں کی خطا پکڑنا خود ایک خطا ہے۔ فہم کی یہ خطا شیخ سعدیؒ کے ایک شعر سے عام ہوئی۔ مگرشیخ سعدیؒ نے تو ’خطائے بزرگاں ‘نہیں ’خطا بر بزرگاں ‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں ۔سعدیؔ کا شعر یوں ہے:
نہ در ہر سخن بحث کردن رواست
❤2
خطا بر بزرگاں گرفتن خطاست
یعنی بات بات پربحث کرنا ٹھیک نہیں ۔ کا ش یہ بات سماجی ذرائع ابلاغ پر ’بحثیائے‘ ہوئے لوگوں کو بھی سمجھادی جاتی۔ شیخ سعدیؒ کے درست مصرعے کی جگہ جو غلط مصرع، زباں زدِ خاص و عام ہو گیا ہے ،وہ بھی ہمارے کسی بزرگ ہی کی خطا ہوگی۔ ہماری نسل کی تو نہیں ہے۔ مگر یہ بات ہمارے دل میں ہمیشہ کھٹکتی رہی کہ بزرگوں کی کسی خطا پر گرفت،خطا کیسے ہوگئی؟ خطا تو ہوتی ہی قابلِ گرفت ہے۔ ایک دن ہمارے ایک استاد نے اس گرفت پر دل گرفتہ دیکھا تو سمجھایا:
”بیٹا اس محاورے میں ’گرفتن‘کا مطلب ’تھامنا‘ ہے۔یوں سمجھو کہ بزرگوں کی خطاؤں کو مضبوطی سے تھامنا خطا ہے“۔
اب بات سمجھ میں آگئی۔ ہمارے دین کی تعلیم یہی ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر170 میں ارشادہوا:
”ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے ہیں اُن کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اُسی طریقے کی پیروی کیے جائیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہِ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ اُنھیں کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟“
تو صاحب!یہ ہوا ”خطائے بزرگاں گرفتن خطاست“ کا برحق مفہوم۔ عربی زبان میں بھی ’گرفتن‘ کے مفہوم کا ایک لفظ’ خُذ‘ استعمال ہوتا ہے۔ جس کے معنی مضبوطی سے تھام لینے کے علاوہ کسی کو پکڑلینے اور گرفتار کرنے کے ہیں ۔’مواخذہ‘ اور’ماخوذ‘ اسی سے نکلاہے۔ مشہور عربی محاورہ ہے: ’خُذ ما صفا و دَع ما کَدِر‘۔ یعنی صاف ستھری، پاک چیزیں تھام لو اور گندی ناپاک چیزیں چھوڑ دو۔ عزیزؔ لکھنوی لکھتے ہیں :
صاف باطن دیر سے ہیں منتظر
ساقیا! خُذ ما صَفا، دَع ما کَدِر
سورۃ الحشر کی آیت نمبر7 میں اہلِ ایمان کو حکم ہے کہ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم جو عطا فرمائیں اُسے تھام لو (فَخُذُوْہ) اور جس چیز سے منع فرمادیں اُس سے باز رہو“۔ پس، اے لوگو! بزرگوں کی خطائیں تھام کراُن ہی پرڈٹے نہ رہو ۔خطا کرو، مگر اتنی بڑی خطا نہ کرو!
٭٭
یعنی بات بات پربحث کرنا ٹھیک نہیں ۔ کا ش یہ بات سماجی ذرائع ابلاغ پر ’بحثیائے‘ ہوئے لوگوں کو بھی سمجھادی جاتی۔ شیخ سعدیؒ کے درست مصرعے کی جگہ جو غلط مصرع، زباں زدِ خاص و عام ہو گیا ہے ،وہ بھی ہمارے کسی بزرگ ہی کی خطا ہوگی۔ ہماری نسل کی تو نہیں ہے۔ مگر یہ بات ہمارے دل میں ہمیشہ کھٹکتی رہی کہ بزرگوں کی کسی خطا پر گرفت،خطا کیسے ہوگئی؟ خطا تو ہوتی ہی قابلِ گرفت ہے۔ ایک دن ہمارے ایک استاد نے اس گرفت پر دل گرفتہ دیکھا تو سمجھایا:
”بیٹا اس محاورے میں ’گرفتن‘کا مطلب ’تھامنا‘ ہے۔یوں سمجھو کہ بزرگوں کی خطاؤں کو مضبوطی سے تھامنا خطا ہے“۔
اب بات سمجھ میں آگئی۔ ہمارے دین کی تعلیم یہی ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر170 میں ارشادہوا:
”ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے ہیں اُن کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اُسی طریقے کی پیروی کیے جائیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہِ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ اُنھیں کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟“
تو صاحب!یہ ہوا ”خطائے بزرگاں گرفتن خطاست“ کا برحق مفہوم۔ عربی زبان میں بھی ’گرفتن‘ کے مفہوم کا ایک لفظ’ خُذ‘ استعمال ہوتا ہے۔ جس کے معنی مضبوطی سے تھام لینے کے علاوہ کسی کو پکڑلینے اور گرفتار کرنے کے ہیں ۔’مواخذہ‘ اور’ماخوذ‘ اسی سے نکلاہے۔ مشہور عربی محاورہ ہے: ’خُذ ما صفا و دَع ما کَدِر‘۔ یعنی صاف ستھری، پاک چیزیں تھام لو اور گندی ناپاک چیزیں چھوڑ دو۔ عزیزؔ لکھنوی لکھتے ہیں :
صاف باطن دیر سے ہیں منتظر
ساقیا! خُذ ما صَفا، دَع ما کَدِر
سورۃ الحشر کی آیت نمبر7 میں اہلِ ایمان کو حکم ہے کہ” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم جو عطا فرمائیں اُسے تھام لو (فَخُذُوْہ) اور جس چیز سے منع فرمادیں اُس سے باز رہو“۔ پس، اے لوگو! بزرگوں کی خطائیں تھام کراُن ہی پرڈٹے نہ رہو ۔خطا کرو، مگر اتنی بڑی خطا نہ کرو!
٭٭
❤2
*مانگے کا اجالا*.... روسی بہت کم بچے پیدا کرتے ہیں۔ ایک روسی کے چھ بچے دیکھ کر ہم نے پوچھا:
’’آپ کے چھ بچے ہیں؟ لیکن ہم نے تو سنا ہے روسی بہت کم بچے پیدا کرتے ہیں۔‘‘
وہ بولا:
’’میں روسی ہوں، میری بیوی روسی نہیں ہے۔‘‘
اس کے باوجود روس میں آبادی کی شرح منفی کی طرف جا رہی ہے۔
گاندھی جی نے بھی ایک بار کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمان بڑھ رہے ہیں کیونکہ یہ زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں، جبکہ ہندوؤں کے ہاں کم بچے ہوتے ہیں۔
مولانا ظفر علی خاں نے جواب دیا:
’’گاندھی جی! ہم مسلمان اس سلسلے میں آپ کے کس کام آ سکتے ہیں؟‘‘
پاکستان کی آبادی ان ممالک سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے جن ممالک کی آبادی پاکستان سے کم تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ویسے بھی وہ ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے، کیونکہ ہمارے ہاں راتیں بہت لمبی ہوتی ہیں۔
اس کے باوجود وہاں لوگ بچوں کے معاملے میں اس قدر حساس ہیں کہ میاں بیوی میں طلاق ہو رہی تھی۔ ان کے تین بچے تھے۔ مسئلہ یہ کھڑا ہوا کہ تین بچوں کو دونوں میں برابر برابر کیسے تقسیم کیا جائے۔ اس پر بیوی خاوند سے بولی:
’’اٹھو، گھر چلتے ہیں۔ اگلے سال آئیں گے تاکہ بچے برابر برابر تقسیم ہو سکیں۔‘‘
(ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب ’’حوائیاں‘‘ سے اقتباس)
’’آپ کے چھ بچے ہیں؟ لیکن ہم نے تو سنا ہے روسی بہت کم بچے پیدا کرتے ہیں۔‘‘
وہ بولا:
’’میں روسی ہوں، میری بیوی روسی نہیں ہے۔‘‘
اس کے باوجود روس میں آبادی کی شرح منفی کی طرف جا رہی ہے۔
گاندھی جی نے بھی ایک بار کہا تھا کہ ہندوستان میں مسلمان بڑھ رہے ہیں کیونکہ یہ زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں، جبکہ ہندوؤں کے ہاں کم بچے ہوتے ہیں۔
مولانا ظفر علی خاں نے جواب دیا:
’’گاندھی جی! ہم مسلمان اس سلسلے میں آپ کے کس کام آ سکتے ہیں؟‘‘
پاکستان کی آبادی ان ممالک سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے جن ممالک کی آبادی پاکستان سے کم تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ویسے بھی وہ ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتے، کیونکہ ہمارے ہاں راتیں بہت لمبی ہوتی ہیں۔
اس کے باوجود وہاں لوگ بچوں کے معاملے میں اس قدر حساس ہیں کہ میاں بیوی میں طلاق ہو رہی تھی۔ ان کے تین بچے تھے۔ مسئلہ یہ کھڑا ہوا کہ تین بچوں کو دونوں میں برابر برابر کیسے تقسیم کیا جائے۔ اس پر بیوی خاوند سے بولی:
’’اٹھو، گھر چلتے ہیں۔ اگلے سال آئیں گے تاکہ بچے برابر برابر تقسیم ہو سکیں۔‘‘
(ڈاکٹر محمد یونس بٹ کی کتاب ’’حوائیاں‘‘ سے اقتباس)
❤2
*وفیات مورخہ:اکتوبر 10*
1949ء اصغرحسین۔ مولانا (پٹنہ)
1956ء عبدالسلام ندوی۔ مولانا ، مصنف، مترجم
1959ء کامل کیلانی۔ مصری بچوں کے ادیب
1962ء نوح ناروی۔ شاعر
1974ء بہزاد لکھنوی ( سردار حسین خاں)۔ نغمہ نگار وشاعر
1985ء سید عبدالہادی۔ ،
1988ء مسٹر دہلوی (مشتاق احمد چاندنا)۔ مزاحیہ شاعر
1998ء محمد فرید الحق۔ ایڈوکیٹ
1999ء گل حسن خان۔
2000ء سریما بندرا نائیکے۔
2001ء حسن زیدی (سید)۔
2001ء سید حسن زیدی (سید)۔ ،
2002ء شہرت بلگرامی (سید ابوذر)۔ ،
2004ء معین الحق۔ ڈاکٹر ، سید
2004ء مقبول احمد۔ ڈاکٹر ،
2005ء عبد الحلیم ندوی گورکھپوری۔ پروفیسر ڈاکٹر
2007ء سید علی مختار رضوی (سید)۔ ،
2011ء جگجیت سنگھ۔ گلوکار
2015ء سلیم باسط۔ ،
2015ء شوکت علی نظیر (سید)۔ مولانا، خطیب جامع مسجد ممبئی
2015ء محمد علی شاہ۔
2020ء محمد عادل خان۔ مولانا، جامعہ فاروقیہ کراچی
2020ء محمد عادل خان۔ مولانا، جامعہ فاروقیہ کراچی
2021ء عبد القدیر خان۔ ایٹمی سائنس داں
2022ء ملائم سنگھ یادو۔ وزیر اعلی یو پی
2023ء محمد شاهد حسنی مظاہری۔ ناظم مظاہر علوم سہارنپور
ء عبدالغنی وارثی عظیم آبادی۔ مولوی
1949ء اصغرحسین۔ مولانا (پٹنہ)
1956ء عبدالسلام ندوی۔ مولانا ، مصنف، مترجم
1959ء کامل کیلانی۔ مصری بچوں کے ادیب
1962ء نوح ناروی۔ شاعر
1974ء بہزاد لکھنوی ( سردار حسین خاں)۔ نغمہ نگار وشاعر
1985ء سید عبدالہادی۔ ،
1988ء مسٹر دہلوی (مشتاق احمد چاندنا)۔ مزاحیہ شاعر
1998ء محمد فرید الحق۔ ایڈوکیٹ
1999ء گل حسن خان۔
2000ء سریما بندرا نائیکے۔
2001ء حسن زیدی (سید)۔
2001ء سید حسن زیدی (سید)۔ ،
2002ء شہرت بلگرامی (سید ابوذر)۔ ،
2004ء معین الحق۔ ڈاکٹر ، سید
2004ء مقبول احمد۔ ڈاکٹر ،
2005ء عبد الحلیم ندوی گورکھپوری۔ پروفیسر ڈاکٹر
2007ء سید علی مختار رضوی (سید)۔ ،
2011ء جگجیت سنگھ۔ گلوکار
2015ء سلیم باسط۔ ،
2015ء شوکت علی نظیر (سید)۔ مولانا، خطیب جامع مسجد ممبئی
2015ء محمد علی شاہ۔
2020ء محمد عادل خان۔ مولانا، جامعہ فاروقیہ کراچی
2020ء محمد عادل خان۔ مولانا، جامعہ فاروقیہ کراچی
2021ء عبد القدیر خان۔ ایٹمی سائنس داں
2022ء ملائم سنگھ یادو۔ وزیر اعلی یو پی
2023ء محمد شاهد حسنی مظاہری۔ ناظم مظاہر علوم سہارنپور
ء عبدالغنی وارثی عظیم آبادی۔ مولوی