*بیتی یادیں*
(پارٹ۔ 02)
*مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی*
مدیر البعث الاسلامی و مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
https://www.youtube.com/watch?v=vPDBcNRUqXU&t=39s
(پارٹ۔ 02)
*مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی*
مدیر البعث الاسلامی و مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
https://www.youtube.com/watch?v=vPDBcNRUqXU&t=39s
YouTube
Beeti Yadain Part 02 Moulana Saidur Rahman Azami Nadwi
بیتی یادیں (01)
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی ۔ مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی یادوں پر مشتمل یادگار انٹرویو کی پہلی قسط
یہ انٹریو عبد المتین منیری نے مورخہ 7-09-2007 ء کو بھٹکلیس ڈاٹ کام کے لئے لیا تھا۔ یہ انٹرویو چار قسطوں پر مشتمل ہے۔
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی ۔ مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی یادوں پر مشتمل یادگار انٹرویو کی پہلی قسط
یہ انٹریو عبد المتین منیری نے مورخہ 7-09-2007 ء کو بھٹکلیس ڈاٹ کام کے لئے لیا تھا۔ یہ انٹرویو چار قسطوں پر مشتمل ہے۔
اسلام میں اختلافات اور خیال آرائی
علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں: اسلام میں اختلافات کی جو بنیاد پڑی، جب تک ان میں عجمی عنصر غالب نہ ہوا، وہ عمل اور زندگی کی جنگ تھی، وہ مذہب کی آمیزش کے بغیر خالص سیاسی اور پولیٹیکل جنگ رہی، جس کے فیصلے کئی بار تلوار سے چاہے گئے، عجمیت کے عنصر نے پولیٹکس کو مذہب کے پردے میں چھپا دیا اور تلوار کی جگہ شکوک و شبہات، استدلالات، فریب، تاویلِ فاسد اور تغیرِ عقائد نے لے لی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تلوار کی جنگ، گو مادی اجسام کو فنا کر رہی تھی، لیکن قومی زندگی کی رُوح کو نہیں فنا کر رہی تھی، قوم میں زندہ رہنے کا جوش و خروش تھا، لیکن خیال آرائی کے اس طرزِ جنگ نے زندگی کے اصل جوہر، مذہب کی اصل رُوح، اور عمل کی اصلی قوت کو فنا کردیا۔
(اہل السُنّۃ والجماعۃ، صفحہ: ۳۹/۴۰/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
https://telegram.me/ilmokitab
علامہ سید سلیمان ندویؒ لکھتے ہیں: اسلام میں اختلافات کی جو بنیاد پڑی، جب تک ان میں عجمی عنصر غالب نہ ہوا، وہ عمل اور زندگی کی جنگ تھی، وہ مذہب کی آمیزش کے بغیر خالص سیاسی اور پولیٹیکل جنگ رہی، جس کے فیصلے کئی بار تلوار سے چاہے گئے، عجمیت کے عنصر نے پولیٹکس کو مذہب کے پردے میں چھپا دیا اور تلوار کی جگہ شکوک و شبہات، استدلالات، فریب، تاویلِ فاسد اور تغیرِ عقائد نے لے لی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تلوار کی جنگ، گو مادی اجسام کو فنا کر رہی تھی، لیکن قومی زندگی کی رُوح کو نہیں فنا کر رہی تھی، قوم میں زندہ رہنے کا جوش و خروش تھا، لیکن خیال آرائی کے اس طرزِ جنگ نے زندگی کے اصل جوہر، مذہب کی اصل رُوح، اور عمل کی اصلی قوت کو فنا کردیا۔
(اہل السُنّۃ والجماعۃ، صفحہ: ۳۹/۴۰/مطالعاتی پیشکش: طارق علی عباسی)
https://whatsapp.com/channel/0029Vahcr7L4NVitnhxGr60B
https://telegram.me/ilmokitab
وفیات مورخہ:اکتوبر 11
1952ء جھنڈے خان۔
1953ء آغا لکھنوی (سید مختار حسین)۔ ،
1971ء ناصر خلیق فگار۔ حکیم،سید
1978ء امانت علی قریشی ، قاضی ابوالخیال۔ ،
1978ء مسرت جہاں فاروقی۔ ،
1981ء عارف ہوشیاری پوری (سید محمد عبدالقیوم)۔ شاعر
1991ء محمد بشارت علی۔ ڈاکٹر ،
1992ء قیصر قصری۔ شاعر
1997ء میاں محمد شریف۔ ریاضی داں
2000ء گل محمد آدم جی۔ تاجر
2001ء شہرت بخاری (سید محمد انور)۔ شاعر
2004ء محمد رضوان القاسمی۔ مولانا, بانی سبیل السلام حیدرآباد دکن
2005ء شان الحق حقی۔ ڈاکٹر ، لغت نویس
2012ء شیر افگن نیازی۔ سیاست دان
1952ء جھنڈے خان۔
1953ء آغا لکھنوی (سید مختار حسین)۔ ،
1971ء ناصر خلیق فگار۔ حکیم،سید
1978ء امانت علی قریشی ، قاضی ابوالخیال۔ ،
1978ء مسرت جہاں فاروقی۔ ،
1981ء عارف ہوشیاری پوری (سید محمد عبدالقیوم)۔ شاعر
1991ء محمد بشارت علی۔ ڈاکٹر ،
1992ء قیصر قصری۔ شاعر
1997ء میاں محمد شریف۔ ریاضی داں
2000ء گل محمد آدم جی۔ تاجر
2001ء شہرت بخاری (سید محمد انور)۔ شاعر
2004ء محمد رضوان القاسمی۔ مولانا, بانی سبیل السلام حیدرآباد دکن
2005ء شان الحق حقی۔ ڈاکٹر ، لغت نویس
2012ء شیر افگن نیازی۔ سیاست دان
ہمارے مشفق مولانا محمد رضوان القاسمی صاحب بانی جامعہ سبیل السلام حیدرآباد کو ہم سے جدا ہوئے 22 سال بیت گئے، آپ کی وفات مورخہ: 11/اکتوبر 2004ء کو ہوئی تھی۔ آپ کو یاد کرتے ہوئے، آپ کی ایک پرانی ویڈیو کلپ پیش خدمت ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=tZ3cTfOnRu4&list=PL5AFF3B0018DDC975&index=56
https://www.youtube.com/watch?v=tZ3cTfOnRu4&list=PL5AFF3B0018DDC975&index=56
YouTube
Moulana Rizwan Qasimi Taaruf Moulana Qazi Mujahidul islam Qasimi 02 05 1989
مولانا محمد رضوان القاسمی
سابق مہتمم جامعہ سبیل السلام حیدرآباد
تعارف مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی 02-05-1989
www.bhatkaltv.com
سابق مہتمم جامعہ سبیل السلام حیدرآباد
تعارف مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی 02-05-1989
www.bhatkaltv.com
*وفیات مورخہ:اکتوبر 12*
1959ء سعید الدین احمد فاروقی نقشبندی۔ قاضی
1967ء رام منوہر لوہیا۔ حریت پسند سیاست دان
1970ء مصطفٰی زیدی (مصطفٰی حسن)۔ شاعر
1972ء محمد اسماعیل پانی پتی، شیخ۔ مترجم، مصنف
1974ء منظور قادر، شیخ۔ وزیر خارجہ پاکستان
1979ء نسیم احمد اللہ والا۔ ڈاکٹر ،
1991ء محمد احمد پر تا بگڑھی۔ عارف باللہ ، حضرت مولانا
1993ء علی ناصر زیدی۔ سائنس دان
1993ء علی ناصر زیدی۔ سائنس دان
1999ء فیاض کاوش۔
2002ء فاطمہ شاہ۔ ڈاکٹر ،
2003ء ناطق بدایونی (ابوالحسنین)۔ ،
2005ء عبدالحلیم ندوی۔ پروفیسر
2005ء عبدالحلیم ندوی۔ پروفیسر ،
2020ء عبد الحلیم چشتی نعمانی۔ مولانا، ڈاکٹر، صدر شعبہ حدیث جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن
2024ء سخاوت علی جوہر۔ شاعر
2025ء عبد اللہ عمر نصیف۔ سکریٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ
1959ء سعید الدین احمد فاروقی نقشبندی۔ قاضی
1967ء رام منوہر لوہیا۔ حریت پسند سیاست دان
1970ء مصطفٰی زیدی (مصطفٰی حسن)۔ شاعر
1972ء محمد اسماعیل پانی پتی، شیخ۔ مترجم، مصنف
1974ء منظور قادر، شیخ۔ وزیر خارجہ پاکستان
1979ء نسیم احمد اللہ والا۔ ڈاکٹر ،
1991ء محمد احمد پر تا بگڑھی۔ عارف باللہ ، حضرت مولانا
1993ء علی ناصر زیدی۔ سائنس دان
1993ء علی ناصر زیدی۔ سائنس دان
1999ء فیاض کاوش۔
2002ء فاطمہ شاہ۔ ڈاکٹر ،
2003ء ناطق بدایونی (ابوالحسنین)۔ ،
2005ء عبدالحلیم ندوی۔ پروفیسر
2005ء عبدالحلیم ندوی۔ پروفیسر ،
2020ء عبد الحلیم چشتی نعمانی۔ مولانا، ڈاکٹر، صدر شعبہ حدیث جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن
2024ء سخاوت علی جوہر۔ شاعر
2025ء عبد اللہ عمر نصیف۔ سکریٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ
ابن صفی:
نیندیں بھی کوئی لے گیا اپنے قلم کے ساتھ
(ناصرالدین مظاہری)
ابن صفی نام ہے ایک ایسے سحر نگار قلم کار و فن کار کا جو قلم اٹھاتا ہے تو کاغذ پر محض لفظ نہیں بکھیرتا، ایک پوری دنیا آباد کردیتا ہے۔ ایسی دنیا جس میں داخل ہونے کے بعد آدمی اپنے کمرے میں بیٹھا ہوتا ہے مگر ذہن کبھی شنگھائی کی پرپیچ گلیوں میں بھٹک رہا ہوتا ہے، کبھی ٹپ ٹاپ نائٹ کلب کے راستوں میں سرگرداں ہوتا ہے، کبھی کسی پراسرار جزیرے پر زندگی اور موت کی آنکھ مچولی کھیل رہا ہوتا ہے اور کبھی کسی ایسے مکان کے بند دروازے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے جس کے پیچھے کوئی راز سانس لے رہا ہوتا ہے۔
ابن صفی محض ناول نگار نہیں، قاری کے اعصاب پر گرفت رکھنے والے فن کار ہیں۔ وہ انگلی پکڑ کر قاری کو اپنے ساتھ لے چلتے ہیں؛ کبھی سنگ ہی کے کردار میں، کبھی جولیانا فٹر واٹر کے بھیس میں، کبھی عمران کے روپ اور بہروپ میں اور کبھی فریدی و حمید کے ہم رکاب وہم قاب۔ پھر ایسا ہوتا ہے کہ باہر رات گہری ہوجاتی ہے، گھڑی کی سوئیاں اپنی منزلیں طے کرتی رہتی ہیں، گھر کے دوسرے افراد نیند کی آغوش میں جاچکے ہوتے ہیں، مگر قاری کے لیے ابھی ایک قتل کا معمہ حل کرنا باقی ہوتا ہے، ایک مجرم کا نقاب اترنا باقی ہوتا ہے، ایک بند کمرے کا راز کھلنا باقی ہوتا ہے۔ وہ سوچتا ہے، بس یہ آخری باب پڑھ لوں؛ مگر ابن صفی کا آخری باب اگلے ناول کے پہلے صفحے کی تمہید بن جاتا ہے۔
ابن صفی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ قاری کو محض واقعات نہیں سناتے، اسے واقعات کے اندر اتار دیتے ہیں۔ وہ منظر بناتے نہیں، آنکھوں کے سامنے کھڑا کردیتے ہیں؛ کردار متعارف نہیں کراتے، رفتہ رفتہ قاری کی زندگی کا حصہ بنادیتے ہیں۔ ان کے یہاں ایک معمولی سی آہٹ بھی بے معنی نہیں، ایک اجنبی چہرہ بھی محض چہرہ نہیں، ایک غیر ضروری معلوم ہونے والا جملہ بھی کبھی کبھی پورے معمہ کی کنجی بن جاتا ہے۔ قاری جس بات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرتا ہے، ابن صفی اسی کو اچانک ایسی اہمیت عطا کرتے ہیں کہ آدمی پچھلے صفحات کی طرف پلٹ کر دیکھنے لگتا ہے۔ یہی واقعہ نگاری کا کمال ہے کہ مصنف قاری کو اپنے ذہن سے سوچنے پر مجبور کردے اور پھر اس کی سوچ کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کرے جہاں اس کے تمام اندازے منہ دیکھتے رہ جائیں۔
ان کے ناولوں میں تجسس کی کیفیت کچھ ایسی ہے جیسے کسی سنسان عمارت میں قدموں کی آواز سنائی دے، آواز قریب آئے، پھر یکایک خاموش ہوجائے؛ آدمی دروازہ کھولے تو سامنے کوئی نہ ہو، مگر کمرے کی کھڑکی کھلی ملے اور میز پر ایک ایسا خط رکھا ہو جسے کسی نے پڑھنے کی کوشش کی ہو۔ اب بتائیے، کون بدبخت ہے جو اس خط کو پڑھے بغیر کتاب بند کردے؟ ابن صفی اسی نفسیات کے نباض ہیں۔ وہ راز کو ایک ہی سانس میں افشا نہیں کرتے؛ اس کے گرد پردے اٹھاتے اور گراتے ہیں، قاری کو کبھی امید دلاتے ہیں، کبھی مایوس کرتے ہیں، کبھی ایک سراغ دیتے ہیں اور کبھی اسی سراغ کو ایک نئے سوال میں تبدیل کردیتے ہیں۔ ان کے یہاں تجسس محض تڑپانے کا نام نہیں، ایک باقاعدہ فن ہے؛ ایک ایسی شطرنج جس پر مصنف اور قاری کے درمیان چالیں چلتی رہتی ہیں، مگر مصنف کو اگلی چال کا علم ہوتا ہے اور قاری ابھی پچھلی چال کے نتائج سمجھنے میں مصروف ہوتا ہے۔
اور پھر ان کے کردار! کیا خوب صورت کہکشاں ہے! فریدی کی سنجیدگی، ذہانت، خود اعتمادی اور غیر معمولی مشاہدہ؛ حمید کی شوخی، ظرافت، بے تکلفی اور موقع شناسی؛ عمران کی نرالی شخصیت، بے ڈھنگی حرکات کے پیچھے چھپی ذہانت اور اس کا ایسا غیر متوقع انداز کہ آدمی کبھی ہنستا ہے، کبھی حیران ہوتا ہے اور کبھی سوچنے لگتا ہے کہ یہ شخص واقعی بے وقوف ہے یا ساری دنیا کو بے وقوف بنا رہا ہے! ابن صفی اپنے کرداروں کو ایک ہی سانچے میں نہیں ڈھالتے۔ ہر کردار کی اپنی زبان، اپنا مزاج، اپنی افتاد طبع اور اپنا طرز عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری صرف قاتل کی شناخت کے لیے نہیں پڑھتا، وہ عمران کی اگلی حرکت، حمید کی اگلی شوخی اور فریدی کے اگلے انکشاف کے لیے بھی بے قرار رہتا ہے۔
ابن صفی کے یہاں مزاح بھی کسی طفیلی پودے کی طرح نہیں اگتا کہ اصل کہانی سے الگ کھڑا دکھائی دے۔ وہ سنجیدہ ترین صورت حال میں بھی ایسا جملہ رکھ دیتے ہیں کہ ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے، مگر کہانی کی رفتار متاثر نہیں ہوتی۔ ان کی ظرافت میں شگفتگی ہے، پھکڑ پن نہیں؛ برجستگی ہے، بے موقع لفاظی نہیں۔ بالخصوص عمران کے کردار میں مزاح اور ذہانت کی جو آمیزش ملتی ہے، وہ اردو کے جاسوسی ادب کا ایک منفرد ذائقہ ہے۔ قاری کبھی اس کی حرکتوں پر ہنستا ہے اور کبھی اسی شخص کی ذہانت پر انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔
نیندیں بھی کوئی لے گیا اپنے قلم کے ساتھ
(ناصرالدین مظاہری)
ابن صفی نام ہے ایک ایسے سحر نگار قلم کار و فن کار کا جو قلم اٹھاتا ہے تو کاغذ پر محض لفظ نہیں بکھیرتا، ایک پوری دنیا آباد کردیتا ہے۔ ایسی دنیا جس میں داخل ہونے کے بعد آدمی اپنے کمرے میں بیٹھا ہوتا ہے مگر ذہن کبھی شنگھائی کی پرپیچ گلیوں میں بھٹک رہا ہوتا ہے، کبھی ٹپ ٹاپ نائٹ کلب کے راستوں میں سرگرداں ہوتا ہے، کبھی کسی پراسرار جزیرے پر زندگی اور موت کی آنکھ مچولی کھیل رہا ہوتا ہے اور کبھی کسی ایسے مکان کے بند دروازے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے جس کے پیچھے کوئی راز سانس لے رہا ہوتا ہے۔
ابن صفی محض ناول نگار نہیں، قاری کے اعصاب پر گرفت رکھنے والے فن کار ہیں۔ وہ انگلی پکڑ کر قاری کو اپنے ساتھ لے چلتے ہیں؛ کبھی سنگ ہی کے کردار میں، کبھی جولیانا فٹر واٹر کے بھیس میں، کبھی عمران کے روپ اور بہروپ میں اور کبھی فریدی و حمید کے ہم رکاب وہم قاب۔ پھر ایسا ہوتا ہے کہ باہر رات گہری ہوجاتی ہے، گھڑی کی سوئیاں اپنی منزلیں طے کرتی رہتی ہیں، گھر کے دوسرے افراد نیند کی آغوش میں جاچکے ہوتے ہیں، مگر قاری کے لیے ابھی ایک قتل کا معمہ حل کرنا باقی ہوتا ہے، ایک مجرم کا نقاب اترنا باقی ہوتا ہے، ایک بند کمرے کا راز کھلنا باقی ہوتا ہے۔ وہ سوچتا ہے، بس یہ آخری باب پڑھ لوں؛ مگر ابن صفی کا آخری باب اگلے ناول کے پہلے صفحے کی تمہید بن جاتا ہے۔
ابن صفی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ قاری کو محض واقعات نہیں سناتے، اسے واقعات کے اندر اتار دیتے ہیں۔ وہ منظر بناتے نہیں، آنکھوں کے سامنے کھڑا کردیتے ہیں؛ کردار متعارف نہیں کراتے، رفتہ رفتہ قاری کی زندگی کا حصہ بنادیتے ہیں۔ ان کے یہاں ایک معمولی سی آہٹ بھی بے معنی نہیں، ایک اجنبی چہرہ بھی محض چہرہ نہیں، ایک غیر ضروری معلوم ہونے والا جملہ بھی کبھی کبھی پورے معمہ کی کنجی بن جاتا ہے۔ قاری جس بات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرتا ہے، ابن صفی اسی کو اچانک ایسی اہمیت عطا کرتے ہیں کہ آدمی پچھلے صفحات کی طرف پلٹ کر دیکھنے لگتا ہے۔ یہی واقعہ نگاری کا کمال ہے کہ مصنف قاری کو اپنے ذہن سے سوچنے پر مجبور کردے اور پھر اس کی سوچ کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کرے جہاں اس کے تمام اندازے منہ دیکھتے رہ جائیں۔
ان کے ناولوں میں تجسس کی کیفیت کچھ ایسی ہے جیسے کسی سنسان عمارت میں قدموں کی آواز سنائی دے، آواز قریب آئے، پھر یکایک خاموش ہوجائے؛ آدمی دروازہ کھولے تو سامنے کوئی نہ ہو، مگر کمرے کی کھڑکی کھلی ملے اور میز پر ایک ایسا خط رکھا ہو جسے کسی نے پڑھنے کی کوشش کی ہو۔ اب بتائیے، کون بدبخت ہے جو اس خط کو پڑھے بغیر کتاب بند کردے؟ ابن صفی اسی نفسیات کے نباض ہیں۔ وہ راز کو ایک ہی سانس میں افشا نہیں کرتے؛ اس کے گرد پردے اٹھاتے اور گراتے ہیں، قاری کو کبھی امید دلاتے ہیں، کبھی مایوس کرتے ہیں، کبھی ایک سراغ دیتے ہیں اور کبھی اسی سراغ کو ایک نئے سوال میں تبدیل کردیتے ہیں۔ ان کے یہاں تجسس محض تڑپانے کا نام نہیں، ایک باقاعدہ فن ہے؛ ایک ایسی شطرنج جس پر مصنف اور قاری کے درمیان چالیں چلتی رہتی ہیں، مگر مصنف کو اگلی چال کا علم ہوتا ہے اور قاری ابھی پچھلی چال کے نتائج سمجھنے میں مصروف ہوتا ہے۔
اور پھر ان کے کردار! کیا خوب صورت کہکشاں ہے! فریدی کی سنجیدگی، ذہانت، خود اعتمادی اور غیر معمولی مشاہدہ؛ حمید کی شوخی، ظرافت، بے تکلفی اور موقع شناسی؛ عمران کی نرالی شخصیت، بے ڈھنگی حرکات کے پیچھے چھپی ذہانت اور اس کا ایسا غیر متوقع انداز کہ آدمی کبھی ہنستا ہے، کبھی حیران ہوتا ہے اور کبھی سوچنے لگتا ہے کہ یہ شخص واقعی بے وقوف ہے یا ساری دنیا کو بے وقوف بنا رہا ہے! ابن صفی اپنے کرداروں کو ایک ہی سانچے میں نہیں ڈھالتے۔ ہر کردار کی اپنی زبان، اپنا مزاج، اپنی افتاد طبع اور اپنا طرز عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قاری صرف قاتل کی شناخت کے لیے نہیں پڑھتا، وہ عمران کی اگلی حرکت، حمید کی اگلی شوخی اور فریدی کے اگلے انکشاف کے لیے بھی بے قرار رہتا ہے۔
ابن صفی کے یہاں مزاح بھی کسی طفیلی پودے کی طرح نہیں اگتا کہ اصل کہانی سے الگ کھڑا دکھائی دے۔ وہ سنجیدہ ترین صورت حال میں بھی ایسا جملہ رکھ دیتے ہیں کہ ہونٹوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے، مگر کہانی کی رفتار متاثر نہیں ہوتی۔ ان کی ظرافت میں شگفتگی ہے، پھکڑ پن نہیں؛ برجستگی ہے، بے موقع لفاظی نہیں۔ بالخصوص عمران کے کردار میں مزاح اور ذہانت کی جو آمیزش ملتی ہے، وہ اردو کے جاسوسی ادب کا ایک منفرد ذائقہ ہے۔ قاری کبھی اس کی حرکتوں پر ہنستا ہے اور کبھی اسی شخص کی ذہانت پر انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔
❤2
ان کے اسلوب نگارش کا ایک اور امتیاز زبان کی روانی ہے۔ عبارت میں ایسی بے تکلفی، مکالموں میں ایسی برجستگی اور منظر نگاری میں ایسی چستی کہ قاری کو محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کسی مشکل ادبی عبارت سے گزر رہا ہے۔ الفاظ راستہ نہیں روکتے، راستہ بناتے ہیں۔ جملے بوجھ نہیں بنتے، کہانی کو آگے دھکیلتے ہیں۔ وہ ضرورت کے مطابق منظر کو پھیلاتے ہیں اور جہاں رفتار تیز کرنی ہو وہاں چند مختصر جملوں میں پورا ماحول بدل دیتے ہیں۔ ان کے یہاں خاموشی بھی بولتی ہے، اندھیرا بھی کردار بن جاتا ہے اور ایک معمولی سا اشارہ بھی قاری کے ذہن میں کئی امکانات روشن کردیتا ہے۔
ان کی واقعہ نگاری میں جمال بھی ہے اور کمال بھی۔ جمال اس بات کا کہ منظر آنکھوں میں اتر جائے، کردار دل و دماغ میں جگہ بنالیں اور عبارت میں ایک دل کش روانی باقی رہے؛ کمال اس بات کا کہ یہ سب کچھ محض آرائش کے لیے نہ ہو بلکہ کہانی کے مقصد، تجسس کی تعمیر اور انجام کی تیاری میں اپنا کردار ادا کرے۔ ان کے یہاں واقعات ایک دوسرے کے پیچھے محض قطار باندھ کر نہیں چلتے، ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ ایک واقعہ دوسرے کو جنم دیتا ہے، ایک انکشاف نئے سوال پیدا کرتا ہے اور ایک سوال قاری کو اس نتیجے تک پہنچنے سے روکے رکھتا ہے جسے وہ بڑی آسانی سے حاصل کرلینے کا گمان کررہا ہوتا ہے۔ یہی فنی تنظیم کسی جاسوسی ناول کو محض سنسنی خیز قصہ بننے سے بچاتی اور اسے ایک مربوط تخلیقی تجربہ بنادیتی ہے۔
ابن صفی کی کتابیں پڑھتے ہوئے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ چین کا شنگھائی اپنی تمام پیچیدگیوں سمیت سامنے کھڑا ہے، پرانی دہلی کی گھماؤ دار گلیاں اپنے سارے بھید لیے ہوئے ہیں، مگر اگلے ہی صفحے پر مصنف ایسا موڑ لے آتا ہے کہ شنگھائی کی سڑکیں بھی سیدھی معلوم ہونے لگتی ہیں اور دہلی کی گلیاں بھی آسان! یہاں قاری کی عقل، حافظہ، مشاہدہ اور قوت استدلال سب آزمائش میں پڑجاتے ہیں۔ وہ مجرم کو پکڑنے کے لیے مصنف سے پہلے منزل تک پہنچنا چاہتا ہے، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ منزل پر پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ مصنف تو پہلے ہی وہاں بیٹھا مسکرا رہا ہے۔
یہی ابن صفی کا جادو ہے: وہ قاری کو صرف کہانی کا تماشائی نہیں رہنے دیتے، اسے تفتیش کا شریک، معمہ کا حل کنندہ اور کرداروں کا ہم سفر بنادیتے ہیں۔ ان کے ناول بند ہوجاتے ہیں، مگر ان کے کردار ذہن میں چلتے پھرتے رہتے ہیں؛ آخری صفحہ ختم ہوجاتا ہے، مگر آخری سوال ختم نہیں ہوتا۔ آدمی کتاب رکھ کر کچھ دیر سوچتا ہے، پھر کتاب اٹھا لیتا ہے؛ اور اگر کتاب ہاتھ سے رکھ بھی دے تو دل میں ایک نئی کتاب کی طلب جاگ اٹھتی ہے۔
سو اگر آپ نے ابن صفی کو نہیں پڑھا تو اردو جاسوسی ادب کی ایک دل چسپ دنیا ابھی آپ کی منتظر ہے، اور اگر پڑھ چکے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ ان کے ناولوں کی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ ایک ناول ختم ہوتے ہی دوسرا ناول یاد آنے لگتا ہے۔ کتب خانے میں داخل ہونے والا شخص کتابوں کی الماری دیکھتا ہے، مگر ابن صفی کا قاری ان الماریوں میں عمران، فریدی، حمید اور ان گنت پراسرار واقعات کو تلاش کرتا ہے۔ وہ کتاب خریدنے نہیں جاتا، گویا ایک نئے سفر کا ٹکٹ لینے جاتا ہے۔
ایک زمانے تک میں ابن صفی کا قیدی بنا رہا ، مدتوں عمران سیریز کا دیوانہ رہا، کتنی ہی راتیں میں نے ابن صفی سے باتیں کی ہیں، نوید ہی سی او پر اظہر بھائی کو کبھی نہیں بھول سکتا جن سے ایک روپیہ میں کتاب کرایہ پر لیتا اور اس لئے جلدی جلدی پڑھ لیتا کہ اگلی تاریخ شروع ہونے سے پہلے واپس کردو تاکہ اگلا کرایہ نہ دینا پڑے۔اس طرح مجھے نوید ہی سی او پر موجود ابن صفی کے چکر میں دوسرے بہت سے ناول نگاروں کے ناول پڑھنے کا موقع ملا، میں نے محی الدین نواب کی پراسرار دنیا میں بھی بہت وقت گزارا، التمش اور نسیم حجازی تو اپنے گھر کے بندے لگے، صادق سردھنوی کی طولانی عبارات پر بارہا سر دھنتا رہا، مظہر کلیم ایم اے کے عمران کو بھی آزمایا، اے حمید کے طلسم کدوں کی سیر بھی کی، ایم اے راحت کے پراسرار جزیروں میں بھی بھٹکا، ایچ اقبال کے معمہ ہائے سربستہ بھی کھولنے کی کوشش کی اور اشتیاق احمد کے ناولوں میں بھی اپنی افتاد طبع کے لیے سامان پیدا کیا۔ شوکت تھانوی کا دیوانہ تھا اور ہوں،
واجدہ تبسم کو بھی پڑھا، ان کے یہاں معاشرتی زندگی کے وہ گوشے نظر آئے جن پر سماج عموماً پردہ ڈالے رکھنا چاہتا ہے۔ ان کی تحریروں میں زندگی کی تلخیاں، انسانی کمزوریاں اور معاشرتی تضادات اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ سلمی اعوان کو پڑھا تو محسوس ہوا کہ ان کے قلم میں محض قصہ گوئی نہیں، تاریخ کے اوراق الٹنے، تہذیبوں کی خوشبو سمیٹنے اور اجنبی خطوں کو اپنی تحریر میں زندہ کردینے کا ہنر بھی ہے۔ وہ کبھی ماضی کے دریچوں سے جھانکتی ہیں، کبھی دور دراز علاقوں کی زندگی کو ہمارے سامنے لا کھڑا کرتی ہیں اور کبھی واقعات کے پس منظر میں انسانی جذبات کی ایسی تصویریں بناتی ہیں کہ قاری صرف پڑھتا نہیں، ان مناظر میں اترتا چلا جاتا ہے۔ واجدہ تبسم کا اپنا رنگ ہے اور
ان کی واقعہ نگاری میں جمال بھی ہے اور کمال بھی۔ جمال اس بات کا کہ منظر آنکھوں میں اتر جائے، کردار دل و دماغ میں جگہ بنالیں اور عبارت میں ایک دل کش روانی باقی رہے؛ کمال اس بات کا کہ یہ سب کچھ محض آرائش کے لیے نہ ہو بلکہ کہانی کے مقصد، تجسس کی تعمیر اور انجام کی تیاری میں اپنا کردار ادا کرے۔ ان کے یہاں واقعات ایک دوسرے کے پیچھے محض قطار باندھ کر نہیں چلتے، ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ ایک واقعہ دوسرے کو جنم دیتا ہے، ایک انکشاف نئے سوال پیدا کرتا ہے اور ایک سوال قاری کو اس نتیجے تک پہنچنے سے روکے رکھتا ہے جسے وہ بڑی آسانی سے حاصل کرلینے کا گمان کررہا ہوتا ہے۔ یہی فنی تنظیم کسی جاسوسی ناول کو محض سنسنی خیز قصہ بننے سے بچاتی اور اسے ایک مربوط تخلیقی تجربہ بنادیتی ہے۔
ابن صفی کی کتابیں پڑھتے ہوئے کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ چین کا شنگھائی اپنی تمام پیچیدگیوں سمیت سامنے کھڑا ہے، پرانی دہلی کی گھماؤ دار گلیاں اپنے سارے بھید لیے ہوئے ہیں، مگر اگلے ہی صفحے پر مصنف ایسا موڑ لے آتا ہے کہ شنگھائی کی سڑکیں بھی سیدھی معلوم ہونے لگتی ہیں اور دہلی کی گلیاں بھی آسان! یہاں قاری کی عقل، حافظہ، مشاہدہ اور قوت استدلال سب آزمائش میں پڑجاتے ہیں۔ وہ مجرم کو پکڑنے کے لیے مصنف سے پہلے منزل تک پہنچنا چاہتا ہے، لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ منزل پر پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ مصنف تو پہلے ہی وہاں بیٹھا مسکرا رہا ہے۔
یہی ابن صفی کا جادو ہے: وہ قاری کو صرف کہانی کا تماشائی نہیں رہنے دیتے، اسے تفتیش کا شریک، معمہ کا حل کنندہ اور کرداروں کا ہم سفر بنادیتے ہیں۔ ان کے ناول بند ہوجاتے ہیں، مگر ان کے کردار ذہن میں چلتے پھرتے رہتے ہیں؛ آخری صفحہ ختم ہوجاتا ہے، مگر آخری سوال ختم نہیں ہوتا۔ آدمی کتاب رکھ کر کچھ دیر سوچتا ہے، پھر کتاب اٹھا لیتا ہے؛ اور اگر کتاب ہاتھ سے رکھ بھی دے تو دل میں ایک نئی کتاب کی طلب جاگ اٹھتی ہے۔
سو اگر آپ نے ابن صفی کو نہیں پڑھا تو اردو جاسوسی ادب کی ایک دل چسپ دنیا ابھی آپ کی منتظر ہے، اور اگر پڑھ چکے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ ان کے ناولوں کی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ ایک ناول ختم ہوتے ہی دوسرا ناول یاد آنے لگتا ہے۔ کتب خانے میں داخل ہونے والا شخص کتابوں کی الماری دیکھتا ہے، مگر ابن صفی کا قاری ان الماریوں میں عمران، فریدی، حمید اور ان گنت پراسرار واقعات کو تلاش کرتا ہے۔ وہ کتاب خریدنے نہیں جاتا، گویا ایک نئے سفر کا ٹکٹ لینے جاتا ہے۔
ایک زمانے تک میں ابن صفی کا قیدی بنا رہا ، مدتوں عمران سیریز کا دیوانہ رہا، کتنی ہی راتیں میں نے ابن صفی سے باتیں کی ہیں، نوید ہی سی او پر اظہر بھائی کو کبھی نہیں بھول سکتا جن سے ایک روپیہ میں کتاب کرایہ پر لیتا اور اس لئے جلدی جلدی پڑھ لیتا کہ اگلی تاریخ شروع ہونے سے پہلے واپس کردو تاکہ اگلا کرایہ نہ دینا پڑے۔اس طرح مجھے نوید ہی سی او پر موجود ابن صفی کے چکر میں دوسرے بہت سے ناول نگاروں کے ناول پڑھنے کا موقع ملا، میں نے محی الدین نواب کی پراسرار دنیا میں بھی بہت وقت گزارا، التمش اور نسیم حجازی تو اپنے گھر کے بندے لگے، صادق سردھنوی کی طولانی عبارات پر بارہا سر دھنتا رہا، مظہر کلیم ایم اے کے عمران کو بھی آزمایا، اے حمید کے طلسم کدوں کی سیر بھی کی، ایم اے راحت کے پراسرار جزیروں میں بھی بھٹکا، ایچ اقبال کے معمہ ہائے سربستہ بھی کھولنے کی کوشش کی اور اشتیاق احمد کے ناولوں میں بھی اپنی افتاد طبع کے لیے سامان پیدا کیا۔ شوکت تھانوی کا دیوانہ تھا اور ہوں،
واجدہ تبسم کو بھی پڑھا، ان کے یہاں معاشرتی زندگی کے وہ گوشے نظر آئے جن پر سماج عموماً پردہ ڈالے رکھنا چاہتا ہے۔ ان کی تحریروں میں زندگی کی تلخیاں، انسانی کمزوریاں اور معاشرتی تضادات اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ سلمی اعوان کو پڑھا تو محسوس ہوا کہ ان کے قلم میں محض قصہ گوئی نہیں، تاریخ کے اوراق الٹنے، تہذیبوں کی خوشبو سمیٹنے اور اجنبی خطوں کو اپنی تحریر میں زندہ کردینے کا ہنر بھی ہے۔ وہ کبھی ماضی کے دریچوں سے جھانکتی ہیں، کبھی دور دراز علاقوں کی زندگی کو ہمارے سامنے لا کھڑا کرتی ہیں اور کبھی واقعات کے پس منظر میں انسانی جذبات کی ایسی تصویریں بناتی ہیں کہ قاری صرف پڑھتا نہیں، ان مناظر میں اترتا چلا جاتا ہے۔ واجدہ تبسم کا اپنا رنگ ہے اور
سلمی اعوان کا اپنا مزاج؛ ایک کے یہاں معاشرتی زندگی کے پیچیدہ اور تلخ پہلو توجہ کھینچتے ہیں، دوسری کے یہاں سفر، تاریخ اور تہذیبی مشاہدے کی وسعت دل چسپی پیدا کرتی ہے۔ یہی تو مطالعے کی اصل لذت ہے کہ ہر قلم کار ایک نئی دنیا کا دروازہ کھولتا ہے اور ہر نئی دنیا میں داخل ہوتے ہوئے قاری اپنے ذوق کی ایک نئی جہت دریافت کرتا ہے۔
ان کتابوں میں سے بعض کتابیں صرف الفاظ و تعبیرات کا تحفہ نہیں دیتی ہیں تجربات بھی دیتی ہیں،مشاہدات بھی دیتی ہیں، جینے کا ہنر بھی سکھاتی ہیں، آداب زندگی بھی بتاتی ہیں، عادات و اطوار بھی بتاتی ہیں۔کبھی کبھی وہ باتیں کھیل کھیل میں سکھاتی ہیں جو تاحیات نسخہ کیمیا کا کرادر بن جاتی ہیں۔
(انتیس ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری. وارد حال ندوۃ العلماء لکھنؤ)
ان کتابوں میں سے بعض کتابیں صرف الفاظ و تعبیرات کا تحفہ نہیں دیتی ہیں تجربات بھی دیتی ہیں،مشاہدات بھی دیتی ہیں، جینے کا ہنر بھی سکھاتی ہیں، آداب زندگی بھی بتاتی ہیں، عادات و اطوار بھی بتاتی ہیں۔کبھی کبھی وہ باتیں کھیل کھیل میں سکھاتی ہیں جو تاحیات نسخہ کیمیا کا کرادر بن جاتی ہیں۔
(انتیس ربیع الثانی چودہ سو اڑتالیس ہجری. وارد حال ندوۃ العلماء لکھنؤ)
❤1
*سچی باتیں (24؍مارچ 1941ء)۔۔۔ نماز اور ڈسپلن*
*تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی*
دُنیا میں جتنی بھی سلطنتوں کی فوجیں ہیں، بڑی سے بڑی ، اور بہتر سے بہتر، بہرحال زمین کے کسی مخصوص خطّہ ورقبہ کے اندر ہی ان کا وجود ہے۔ اب فرض کیجئے کوئی فوج ایسی ہے، جس کے سپاہی، تھوڑے یا بہت، روئے زمین کے ہر حصہ، ہر گوشہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اور ایک ہی وقت میں آسٹریلیا میں بھی ہیں اور افریقہ میں بھی۔ ہندوستان میں بھی اور چین میں بھی۔ استنبول میں بھی اور لندن میں بھی۔ مختلف عمروں کے، مختلف صحتوں کے، مختلف پیشون اور شغلوں میں۔ عورتیں بھی مردبھی۔ گورے بھی کالے بھی۔ اسی اسی سال کے بوڑھے بھی ، بارہ بارہ پندرہ پندرہ سال کے لڑکے بھی۔ ادھر اُن کو فوجی بگل بجا، اور اُدھر ایک ایک سپاہی اِس منتشر فوج کا، اپنی اپنی جگہ پریڈ کے لئے آمادہ ہوگیا! تنہا ہواتوتنہا، اور کئی ہوئے تو مل جُل کر، پھر یہ پریڈ کسی موسم، کسی مہینہ کے ساتھ مخصوص نہیں، گرمی میں لُو بدن جھلسائے دے رہی ہو تو ، برسات میں مینھ کی جھڑی لگی ہو تو، سال کے پورے تین سو پینسٹھ دن وہ پریڈ لازمی۔ سفر ہوتو، حضرہوتو، پریڈ کی پابندی سے معافی نہیں……ایسی عجیب وغریب فوج کی مثال آپ نے کہیں دیکھی ہے؟ اس ڈسپلن کی نظیر کہیں ملے گی؟اسے شکست دینے کا حوصلہ دنیا کی کوئی قوت رکھ سکتی ہے؟
فوج نظروں سے غائب نہیں، نگاہوں کے روبرو ہے، آپ کے گرداگرد ہے۔ عجب نہیں کی آپ خود اسی فوج کے سپاہی ہوں……مسلمان، دنیا کے کسی حصہ میں ہو، کسی حال میں ہو، ادھر نماز کا وقت آیا، اُدھر معًا کھڑا ہوجائے گا۔تنہا ہے تو دست بستہ، اور جماعت میں ہے تو صف بستہ! وہ منتظر پریڈ کے بگل کا نہ رہے گا۔ اپنے لشکر کا وہ آپ بگلچی ہے۔ اذان تو بس کہیں کہیں ہوتی ہے۔ وقت آنے پر وہ آپ ہی آپ ’’اٹینشن‘‘ پر ہوجائے گا……مسلمان اپروایسرائے کی پارٹی میں چائے پی رہاہے، مغرب کا وقت آتاہے ۔ معًا وہیں سبزہ پر قبلہ رُخ کھڑاہوجاتاہے۔ مسلمان غریب جنگل میں لکڑی کاٹ رہاہے پسینے میں شرابور۔ ظہر کا وقت آیا، اور جنگل میں اُس نے اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لئے!جہاز چلے جارہے ہیں ، اور نمازیں ہوتی جارہی ہیں۔ ریل چلی جارہی ہے، اورکھڑے یا بیٹھے جس طرح بھی ممکن ہے، نماز ادا ہورہی ہے۔ آس پاس کے مسافر سورہے ہیں، ہنس بول رہے ہیں، تاش کھیل رہے ہیں، لڑجھگڑ رہے ہیں، مسلمان مسافر مصلّی بچھانے کی فکر میں۔ ریل ٹھہری ، دوسرے مسافر سودے والوں پر ٹوٹ پڑے،مسلمان مسافر وضو اور نماز کی دوڑ دھوپ میں۔ شام کے وقت پارک میں تماشائیوں کا ہجوم، بازاری گاہکوں کی دھوم، رات کے وقت کا سنّاٹا ، صبح کی ٹھنڈی ہوا، دوپہر کواور سہ پہر کو عدالتوں میں، دفتروں میں، اسکولوں میں، کاروبار کی گرم بازاری میں، مسلمانوں کی لَو اپنی اسی پریڈ سے لگی ہوئی! پریڈ بھی دن رات میں ایک بار نہیں، پانچ پانچ بار، صبح بھی، دوپہر بھی، سہ پہر بھی، شام بھی، رات بھی!
زندہ مذہب، خالی الذہن ہوکر سوچئے، یہ ہے یا کوئی اور؟ حرکت اور زندگی جو اس مذہب میں ہے، اس کی نظیر کہیں اور ملے گی؟ یہ چوبیسوں گھنٹے والا، زندہ، بیدار، متحرک، مذہب اسلام ہی ہے یا کوئی اور؟……اور مستمر، مستقل، ہمہ وقتی، ہمہ جائی، ڈسپلن کی، بیداری کی، چستی کی، مستعدی کی، تازگیِ تعلق کی، مثال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی ڈسپلن والی، فوج میں ملے گی؟ جرمنی میں؟ امریکہ میں؟ روس میں؟ برطانیہ میں؟……حیف ہے کہ جس قوم یا امت کے اندر خود اتنا زبردست نظم، ایسی عظیم الشان تنظیم موجود ہو، اُس کے افراد ثابت ہوں، کارزار حیات کے کسی معرکے میں، دنیا وعقبیٰ کے کسی میدان میں بھی سست اور کاہل، پست ہمت اور ناکارے غافل وخوابیدہ!
علم وکتاب
Https://telegram.me/ilmokitab
*تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی*
دُنیا میں جتنی بھی سلطنتوں کی فوجیں ہیں، بڑی سے بڑی ، اور بہتر سے بہتر، بہرحال زمین کے کسی مخصوص خطّہ ورقبہ کے اندر ہی ان کا وجود ہے۔ اب فرض کیجئے کوئی فوج ایسی ہے، جس کے سپاہی، تھوڑے یا بہت، روئے زمین کے ہر حصہ، ہر گوشہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اور ایک ہی وقت میں آسٹریلیا میں بھی ہیں اور افریقہ میں بھی۔ ہندوستان میں بھی اور چین میں بھی۔ استنبول میں بھی اور لندن میں بھی۔ مختلف عمروں کے، مختلف صحتوں کے، مختلف پیشون اور شغلوں میں۔ عورتیں بھی مردبھی۔ گورے بھی کالے بھی۔ اسی اسی سال کے بوڑھے بھی ، بارہ بارہ پندرہ پندرہ سال کے لڑکے بھی۔ ادھر اُن کو فوجی بگل بجا، اور اُدھر ایک ایک سپاہی اِس منتشر فوج کا، اپنی اپنی جگہ پریڈ کے لئے آمادہ ہوگیا! تنہا ہواتوتنہا، اور کئی ہوئے تو مل جُل کر، پھر یہ پریڈ کسی موسم، کسی مہینہ کے ساتھ مخصوص نہیں، گرمی میں لُو بدن جھلسائے دے رہی ہو تو ، برسات میں مینھ کی جھڑی لگی ہو تو، سال کے پورے تین سو پینسٹھ دن وہ پریڈ لازمی۔ سفر ہوتو، حضرہوتو، پریڈ کی پابندی سے معافی نہیں……ایسی عجیب وغریب فوج کی مثال آپ نے کہیں دیکھی ہے؟ اس ڈسپلن کی نظیر کہیں ملے گی؟اسے شکست دینے کا حوصلہ دنیا کی کوئی قوت رکھ سکتی ہے؟
فوج نظروں سے غائب نہیں، نگاہوں کے روبرو ہے، آپ کے گرداگرد ہے۔ عجب نہیں کی آپ خود اسی فوج کے سپاہی ہوں……مسلمان، دنیا کے کسی حصہ میں ہو، کسی حال میں ہو، ادھر نماز کا وقت آیا، اُدھر معًا کھڑا ہوجائے گا۔تنہا ہے تو دست بستہ، اور جماعت میں ہے تو صف بستہ! وہ منتظر پریڈ کے بگل کا نہ رہے گا۔ اپنے لشکر کا وہ آپ بگلچی ہے۔ اذان تو بس کہیں کہیں ہوتی ہے۔ وقت آنے پر وہ آپ ہی آپ ’’اٹینشن‘‘ پر ہوجائے گا……مسلمان اپروایسرائے کی پارٹی میں چائے پی رہاہے، مغرب کا وقت آتاہے ۔ معًا وہیں سبزہ پر قبلہ رُخ کھڑاہوجاتاہے۔ مسلمان غریب جنگل میں لکڑی کاٹ رہاہے پسینے میں شرابور۔ ظہر کا وقت آیا، اور جنگل میں اُس نے اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لئے!جہاز چلے جارہے ہیں ، اور نمازیں ہوتی جارہی ہیں۔ ریل چلی جارہی ہے، اورکھڑے یا بیٹھے جس طرح بھی ممکن ہے، نماز ادا ہورہی ہے۔ آس پاس کے مسافر سورہے ہیں، ہنس بول رہے ہیں، تاش کھیل رہے ہیں، لڑجھگڑ رہے ہیں، مسلمان مسافر مصلّی بچھانے کی فکر میں۔ ریل ٹھہری ، دوسرے مسافر سودے والوں پر ٹوٹ پڑے،مسلمان مسافر وضو اور نماز کی دوڑ دھوپ میں۔ شام کے وقت پارک میں تماشائیوں کا ہجوم، بازاری گاہکوں کی دھوم، رات کے وقت کا سنّاٹا ، صبح کی ٹھنڈی ہوا، دوپہر کواور سہ پہر کو عدالتوں میں، دفتروں میں، اسکولوں میں، کاروبار کی گرم بازاری میں، مسلمانوں کی لَو اپنی اسی پریڈ سے لگی ہوئی! پریڈ بھی دن رات میں ایک بار نہیں، پانچ پانچ بار، صبح بھی، دوپہر بھی، سہ پہر بھی، شام بھی، رات بھی!
زندہ مذہب، خالی الذہن ہوکر سوچئے، یہ ہے یا کوئی اور؟ حرکت اور زندگی جو اس مذہب میں ہے، اس کی نظیر کہیں اور ملے گی؟ یہ چوبیسوں گھنٹے والا، زندہ، بیدار، متحرک، مذہب اسلام ہی ہے یا کوئی اور؟……اور مستمر، مستقل، ہمہ وقتی، ہمہ جائی، ڈسپلن کی، بیداری کی، چستی کی، مستعدی کی، تازگیِ تعلق کی، مثال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی ڈسپلن والی، فوج میں ملے گی؟ جرمنی میں؟ امریکہ میں؟ روس میں؟ برطانیہ میں؟……حیف ہے کہ جس قوم یا امت کے اندر خود اتنا زبردست نظم، ایسی عظیم الشان تنظیم موجود ہو، اُس کے افراد ثابت ہوں، کارزار حیات کے کسی معرکے میں، دنیا وعقبیٰ کے کسی میدان میں بھی سست اور کاہل، پست ہمت اور ناکارے غافل وخوابیدہ!
علم وکتاب
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤3
Audio
صور من حياة الصحابة- عتبة بن غزوان - بصوت المؤلف الدكتور عبد الرحمن رافت الباشا رحمه
علم و کتاب ٹیلگرام لائبریری (گروپ)
قارئین کی سہولت کے لئے علم وکتاب ٹیلگرام چینل اور واٹس اپ گروپ پر شائع ہونے سلسلوں کو موضوع وار تقسیم کی غرض سے علم وکتاب ٹیلگرام لائبریری کا کچھ عرصہ قبل آغاز کیا گیا تھا۔
لیکن غلطی سے یہ گروپ ڈیلیٹ ہوگیا، اب دوبارہ اسے ترتیب دیا گیا ہے۔ خواہش مند احباب مندرجہ ذیل لنک پر کلک کرکے اس سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔
https://telegram.me/ilmokitablibrary
قارئین کی سہولت کے لئے علم وکتاب ٹیلگرام چینل اور واٹس اپ گروپ پر شائع ہونے سلسلوں کو موضوع وار تقسیم کی غرض سے علم وکتاب ٹیلگرام لائبریری کا کچھ عرصہ قبل آغاز کیا گیا تھا۔
لیکن غلطی سے یہ گروپ ڈیلیٹ ہوگیا، اب دوبارہ اسے ترتیب دیا گیا ہے۔ خواہش مند احباب مندرجہ ذیل لنک پر کلک کرکے اس سے استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔
https://telegram.me/ilmokitablibrary
صحافی اور مسلم مجلس کے رہنما پرویز پرواز بھی چل بسے
سہیل انجم
عمر قید کی سزا کاٹ رہے گورکھپور کے صحافی اور مسلم مجلس کے لیڈر پرویز پرواز کے انتقال کی خبر نے بہت سے دلوں کو ملول کر دیا۔ وہ کافی دنوں سے بیمار چل رہے تھے۔ ان کو جیل میں شوگر اور بلڈ پریشر سمیت کئی عارضے لاحق ہو گئے تھے۔ ہفتے کی شب میں ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ جیل انتظامیہ نے انھیں ضلع اسپتال میں داخل کرایا جہاں دیر رات ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ 72 برس کے تھے اور گزشتہ آٹھ برس سے جیل میں تھے۔ اس سے قبل جیل انتظامیہ نے ان کی آنکھوں کا آپریشن بھی کرایا تھا۔ وہ ترکمان پور گورکھپور کے باشندہ تھے۔ ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں صحافت کرتے تھے۔ انھوں نے گورکھپور کے ہندی اخباروں میں بھی کام کیا تھا اور وہ خود اپنا بھی ایک اردو روزنامہ نکال رہے تھے۔ جس کا نام غالباً ’گورکھپور کا غازی‘ تھا۔
بستی اور گورکھپور اضلاع میں مسلم مجلس کی توسیع اور عوام میں اس کو مقبول بنانے میں ان کا اہم کردار تھا۔ دہلی آنے سے قبل ان کی تحریک پر میں بھی کچھ دنوں تک مسلم مجلس میں مقامی طور پر سرگرم رہا۔ میں نے ان کے ساتھ کئی مقامات کے دورے بھی کیے تھے۔ وہ اکثر و بیشتر ہمارے گاوں آیا کرتے جہاں کئی لوگوں سے ان کے دوستانہ مراسم قائم ہو گئے تھے۔ انھوں نے ہمارے گاوں میں مسلم مجلس یوپی کے صدر اور رکن اسمبلی فضل الباری کے دورے کا پروگرام بنایا۔ اس وقت مجلس کا مقامی ذمہ دار میں تھا۔ دورے سے ایک روز قبل میں نے لاوڈ اسپیکر سے علاقے میں اعلان کرا دیا۔ فضل الباری جب پہنچے تو زبردست ہجوم تھا۔ انھوں نے بہت اچھی تقریر کی جس کا عوام پر خاصا اثر پڑا۔ اس موقع پر میں نے ان کا انٹرویو کیا جو بعد ازاں ہفت روزہ اخبار نو میں شائع ہوا تھا۔ دہلی آنے کے بعد ایک روز میں سینئر صحافی محفوظ الرحمن صاحب کے گھر بیٹھا ہوا تھا کہ فضل الباری آگئے۔ انھوں نے مجھے پہچان لیا۔ میں نے محفوظ صاحب کو بتایا کہ میں بھی کچھ دنوں تک مسلم مجلس میں رہا ہوں۔ میں نے اپنے گاوں میں ان کے پروگرام اور انٹرویو کا بھی حوالہ دیا۔ اس پر فضل الباری نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہم تو انھیں سیاست میں لانا چاہتے تھے مگر یہ صحافت میں آگئے۔ محفوظ صاحب مسکرا کر رہ گئے۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا پرویز پرواز ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں صحافت کرتے تھے۔ لیکن ان کو عشق اردو زبان سے تھا۔ اردو میں لکھنا پڑھنا ان کو زیادہ پسند تھا۔ وہ مسلم معاملات میں مقامی طور پر کافی سرگرم رہتے تھے۔ جہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کا کوئی معاملہ سامنے آتا وہ فوراً وہاں پہنچ جاتے اور مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرتے۔ انھیں صحافتی حلقوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور عوامی حلقوں میں بھی۔ وہ ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ ان کے اندر بذلہ سنجی بھی تھی۔ حاضر جواب بھی تھے۔ ملکی سیاست پر ان کی گہری نظر تھی۔ وہ کتابوں کے مطالعے کے بھی شوقین تھے۔ 1980 کے عشرے میں بازار میں آنے والی چھوٹی موٹر سائیکل ’وکی‘ سے چلتے تھے۔ جو پرانی بھی تھی اور خراب بھی ہو جایا کرتی تھی۔ اسی سے وہ مختلف علاقوں کے دورے کرتے اور مسلم معاملات کو سرکاری حکام کے سامنے اٹھاتے۔ ضلع انتظامیہ میں ان کے اچھے مراسم رہے ہیں۔ بالخصوص پولیس محکمہ کے بہت سے اہل کار ان سے نہ صرف واقف تھے بلکہ ان کی عوامی خدمات کی وجہ سے قدر بھی کرتے تھے۔ وہ ان سے اپنے ذاتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ہندو مسلم تنازعات کو حل کراتے۔
سہیل انجم
عمر قید کی سزا کاٹ رہے گورکھپور کے صحافی اور مسلم مجلس کے لیڈر پرویز پرواز کے انتقال کی خبر نے بہت سے دلوں کو ملول کر دیا۔ وہ کافی دنوں سے بیمار چل رہے تھے۔ ان کو جیل میں شوگر اور بلڈ پریشر سمیت کئی عارضے لاحق ہو گئے تھے۔ ہفتے کی شب میں ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی۔ جیل انتظامیہ نے انھیں ضلع اسپتال میں داخل کرایا جہاں دیر رات ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ 72 برس کے تھے اور گزشتہ آٹھ برس سے جیل میں تھے۔ اس سے قبل جیل انتظامیہ نے ان کی آنکھوں کا آپریشن بھی کرایا تھا۔ وہ ترکمان پور گورکھپور کے باشندہ تھے۔ ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں صحافت کرتے تھے۔ انھوں نے گورکھپور کے ہندی اخباروں میں بھی کام کیا تھا اور وہ خود اپنا بھی ایک اردو روزنامہ نکال رہے تھے۔ جس کا نام غالباً ’گورکھپور کا غازی‘ تھا۔
بستی اور گورکھپور اضلاع میں مسلم مجلس کی توسیع اور عوام میں اس کو مقبول بنانے میں ان کا اہم کردار تھا۔ دہلی آنے سے قبل ان کی تحریک پر میں بھی کچھ دنوں تک مسلم مجلس میں مقامی طور پر سرگرم رہا۔ میں نے ان کے ساتھ کئی مقامات کے دورے بھی کیے تھے۔ وہ اکثر و بیشتر ہمارے گاوں آیا کرتے جہاں کئی لوگوں سے ان کے دوستانہ مراسم قائم ہو گئے تھے۔ انھوں نے ہمارے گاوں میں مسلم مجلس یوپی کے صدر اور رکن اسمبلی فضل الباری کے دورے کا پروگرام بنایا۔ اس وقت مجلس کا مقامی ذمہ دار میں تھا۔ دورے سے ایک روز قبل میں نے لاوڈ اسپیکر سے علاقے میں اعلان کرا دیا۔ فضل الباری جب پہنچے تو زبردست ہجوم تھا۔ انھوں نے بہت اچھی تقریر کی جس کا عوام پر خاصا اثر پڑا۔ اس موقع پر میں نے ان کا انٹرویو کیا جو بعد ازاں ہفت روزہ اخبار نو میں شائع ہوا تھا۔ دہلی آنے کے بعد ایک روز میں سینئر صحافی محفوظ الرحمن صاحب کے گھر بیٹھا ہوا تھا کہ فضل الباری آگئے۔ انھوں نے مجھے پہچان لیا۔ میں نے محفوظ صاحب کو بتایا کہ میں بھی کچھ دنوں تک مسلم مجلس میں رہا ہوں۔ میں نے اپنے گاوں میں ان کے پروگرام اور انٹرویو کا بھی حوالہ دیا۔ اس پر فضل الباری نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہم تو انھیں سیاست میں لانا چاہتے تھے مگر یہ صحافت میں آگئے۔ محفوظ صاحب مسکرا کر رہ گئے۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا پرویز پرواز ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں صحافت کرتے تھے۔ لیکن ان کو عشق اردو زبان سے تھا۔ اردو میں لکھنا پڑھنا ان کو زیادہ پسند تھا۔ وہ مسلم معاملات میں مقامی طور پر کافی سرگرم رہتے تھے۔ جہاں بھی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کا کوئی معاملہ سامنے آتا وہ فوراً وہاں پہنچ جاتے اور مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرتے۔ انھیں صحافتی حلقوں میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور عوامی حلقوں میں بھی۔ وہ ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔ ان کے اندر بذلہ سنجی بھی تھی۔ حاضر جواب بھی تھے۔ ملکی سیاست پر ان کی گہری نظر تھی۔ وہ کتابوں کے مطالعے کے بھی شوقین تھے۔ 1980 کے عشرے میں بازار میں آنے والی چھوٹی موٹر سائیکل ’وکی‘ سے چلتے تھے۔ جو پرانی بھی تھی اور خراب بھی ہو جایا کرتی تھی۔ اسی سے وہ مختلف علاقوں کے دورے کرتے اور مسلم معاملات کو سرکاری حکام کے سامنے اٹھاتے۔ ضلع انتظامیہ میں ان کے اچھے مراسم رہے ہیں۔ بالخصوص پولیس محکمہ کے بہت سے اہل کار ان سے نہ صرف واقف تھے بلکہ ان کی عوامی خدمات کی وجہ سے قدر بھی کرتے تھے۔ وہ ان سے اپنے ذاتی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ہندو مسلم تنازعات کو حل کراتے۔
❤1
27 جنوری 2007 کو یوم عاشورہ کے جلوس کے موقع پر گورکھپور میں تشدد پھوٹ پڑا تھا جس میں ایک ہندو نوجوان ہلاک ہوا تھا۔ پرویز پرواز نے 26 ستمبر 2008 کو ”ہندو یوا واہنی“ کے لیڈر، گورکھ ناتھ مندر کے مہنت اور اس وقت کے گورکھپور سے رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف پولیس میں رپورٹ درج کرائی اور یہ الزام لگایا کہ انھوں نے اشتعال انگیز تقریر کرکے اس ہندو نوجوان کی موت کا انتقام لینے کی دھمکی دی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ایک بار یوگی آدتیہ ناتھ پارلیمانی اجلاس کے دوران لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے رو پڑے تھے۔ اس وقت سومناتھ چٹرجی لوک سبھا کے اسپیکر تھے۔ انھوں نے ہمدردانہ انداز میں پوچھا کہ یوگی جی بتائیے آپ کے ساتھ کیا ہوا، انصاف کیا جائے گا۔ اس پر انھوں نے کہا کہ ان کے خلاف کیس قائم کیا گیا ہے اور پولیس ان کو دھمکیاں دے رہی ہے۔ ارکانِ ایوان نے پولیس کے رویے کی مذمت کی۔ یوگی آدتیہ ناتھ اسی کیس کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ انٹرنیشنل بزنس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یوگی آدتیہ ناتھ کے علاوہ اس وقت کے شہر کے مئیر ارون چودھری اور ایم ایل اے رادھا موہن اگروال وغیرہ کے خلاف تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس وقت ضلع مجسٹریٹ نے یوگی پر ہندو نوجوان کے گھر جانے پر پابندی لگا دی تھی۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس حکم پر عمل کیا۔ لیکن جب اس نوجوان کی موت ہو گئی تو انھوں نے موقع واردات پر جا کر دھرنا دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس وقت تشدد پھوٹ پڑا۔ پولیس نے کرفیو نافذ کر دیا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے کرفیو کی خلاف ورزی کی جس پر ان کو اور ہندو یووا واہنی کے کچھ کارکنوں کے ساتھ جیل بھیج دیا گیا۔ ان کی گرفتاری پر ہندو یووا واہنی کے کارکن ناراض ہو گئے۔ ہنگامہ آرائی ہوئی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق گورکھپور ممبئی گودان ایکسپریس کے متعدد ڈبوں کو نقصان پہنچا۔
بہرحال جب ریاست میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی تو ریاستی اسمبلی نے تین مئی 2017 کو پرویز پرواز کے دائر کردہ کیس میں عدالتی کارروائی چلانے کی اجازت نہیں دی اور بعد میں تمام مقدمات خارج کر دیے گئے۔ پرویز پرواز نے اس فیصلے کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جسے 22 مئی 2018 کو خارج کر دیا گیا۔ انھوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ اس نے بھی اسے خارج کر دیا۔ انھیں بعد ازاں ستمبر 2018 میں ایک مبینہ اجتماعی عصمت دری کیس میں انھیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ پرویز پرواز نے اس الزام کی سختی سے تردید کی۔ لیکن عدالت نے ثبوتوں کی بنیاد پر جولائی 2020 میں انھیں عمر قید کی سزا سنائی۔ عصمت دری کا الزام لگانے والی خاتون نے ان کے ساتھ ساتھ ایک اور شخص محمود عرف جمن بابا کو بھی مورد الزام ٹھہرایا تھا۔ اس معاملے میں ضلع عدالت نے دونوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ جمن بابا کا پہلے ہی جیل میں انتقال ہو چکا تھا۔ اب جبکہ پرویز پرواز کا بھی انتقال ہو گیا تو اس کے ساتھ ہی گورکھپور کی ملی سیاست و صحافت کے ایک دور کا خاتمہ ہو گیا۔ ان کا انتقال جہاں ان کے اہل خانہ کا ذاتی نقصان ہے وہیں ملی سیاست و صحافت کا بھی نقصان ہے۔
موبائل: 9818195929
بہرحال جب ریاست میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی تو ریاستی اسمبلی نے تین مئی 2017 کو پرویز پرواز کے دائر کردہ کیس میں عدالتی کارروائی چلانے کی اجازت نہیں دی اور بعد میں تمام مقدمات خارج کر دیے گئے۔ پرویز پرواز نے اس فیصلے کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جسے 22 مئی 2018 کو خارج کر دیا گیا۔ انھوں نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ اس نے بھی اسے خارج کر دیا۔ انھیں بعد ازاں ستمبر 2018 میں ایک مبینہ اجتماعی عصمت دری کیس میں انھیں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔ پرویز پرواز نے اس الزام کی سختی سے تردید کی۔ لیکن عدالت نے ثبوتوں کی بنیاد پر جولائی 2020 میں انھیں عمر قید کی سزا سنائی۔ عصمت دری کا الزام لگانے والی خاتون نے ان کے ساتھ ساتھ ایک اور شخص محمود عرف جمن بابا کو بھی مورد الزام ٹھہرایا تھا۔ اس معاملے میں ضلع عدالت نے دونوں کو عمر قید کی سزا سنائی۔ جمن بابا کا پہلے ہی جیل میں انتقال ہو چکا تھا۔ اب جبکہ پرویز پرواز کا بھی انتقال ہو گیا تو اس کے ساتھ ہی گورکھپور کی ملی سیاست و صحافت کے ایک دور کا خاتمہ ہو گیا۔ ان کا انتقال جہاں ان کے اہل خانہ کا ذاتی نقصان ہے وہیں ملی سیاست و صحافت کا بھی نقصان ہے۔
موبائل: 9818195929
❤2
*وفیات مورخہ:اکتوبر 13*
1240ء رضیہ سلطانہ۔ فرماں روا سلطنت دہلی
1897ء احمد بن خالد الناصری۔ عرب مورخ
1900ء امیر مینائی۔ شاعر، مصنفی امیر اللغات
1902ء نذیر حسین محدث دہلوی۔ شیخ الکل، شمس العلماء، میاں
1927ء خلیل احمد انبھیٹوی۔ حضرت مولانا ، مصنف بذل المجھود شرح سنن ابو داؤد
1932ء علی امام۔ سر، بہار کے مسل لیڈر
1938ء احسان اللہ شاہ ۔ پیر جھنڈا
1951ء محمد علی لاہوری۔ سربراہ لاہوری قادیانی جماعت، مترجم انگریزی قرآن
1975ء حمود الرحمن۔ جسٹس
1981ء جمیل احمد۔ خواجہ، اردو انگریزی مصنف ومورخ
1981ء خواجہ جمیل احمد۔ اردو انگریزی مصنف ومورخ
1982ء قاضی فیض محمد۔ کارکن تحریک خلافت
1997ء اظہر سہیل۔ ہاکستانی صحافی
1999ء انور ظہیر خان۔ ادیب
2000ء عبداللہ حسینی۔ ڈاکٹر ، سرجن
2009ء اخلاق حسین قاسمی دہلوی۔ مولانا ، سید
2014ء محمد ارشاد ماجردی۔
2021ء عبد الجبار شاکر۔ محقق، اقبال شناس
1240ء رضیہ سلطانہ۔ فرماں روا سلطنت دہلی
1897ء احمد بن خالد الناصری۔ عرب مورخ
1900ء امیر مینائی۔ شاعر، مصنفی امیر اللغات
1902ء نذیر حسین محدث دہلوی۔ شیخ الکل، شمس العلماء، میاں
1927ء خلیل احمد انبھیٹوی۔ حضرت مولانا ، مصنف بذل المجھود شرح سنن ابو داؤد
1932ء علی امام۔ سر، بہار کے مسل لیڈر
1938ء احسان اللہ شاہ ۔ پیر جھنڈا
1951ء محمد علی لاہوری۔ سربراہ لاہوری قادیانی جماعت، مترجم انگریزی قرآن
1975ء حمود الرحمن۔ جسٹس
1981ء جمیل احمد۔ خواجہ، اردو انگریزی مصنف ومورخ
1981ء خواجہ جمیل احمد۔ اردو انگریزی مصنف ومورخ
1982ء قاضی فیض محمد۔ کارکن تحریک خلافت
1997ء اظہر سہیل۔ ہاکستانی صحافی
1999ء انور ظہیر خان۔ ادیب
2000ء عبداللہ حسینی۔ ڈاکٹر ، سرجن
2009ء اخلاق حسین قاسمی دہلوی۔ مولانا ، سید
2014ء محمد ارشاد ماجردی۔
2021ء عبد الجبار شاکر۔ محقق، اقبال شناس
❤1
علم وکتاب ٹیلگرام لائبریری
احباب کی سہولت کے لئے ٹیلگرام پر علم و کتاب لائبریری کا اپڈیٹ جاری ہے۔ قند مکرر کے طور پر سابقہ پوسٹ شدی (32) خاکے اس پر پوسٹ ہوچکے ہیں۔
احباب سے گذارش ہے کہ وہ ہمارے اصل گروپ یا چینل چھوڑے بغیر اگر دلچسپی ہو تو اس لائبریری کو بھی جوئن کریں۔ واضح رہے کہ ٹیلگرام لائبریری پر منتخب چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں،
شکریہ
عبد المتین منیری
اڈمن
https://telegram.me/ilmokitablibrary
احباب کی سہولت کے لئے ٹیلگرام پر علم و کتاب لائبریری کا اپڈیٹ جاری ہے۔ قند مکرر کے طور پر سابقہ پوسٹ شدی (32) خاکے اس پر پوسٹ ہوچکے ہیں۔
احباب سے گذارش ہے کہ وہ ہمارے اصل گروپ یا چینل چھوڑے بغیر اگر دلچسپی ہو تو اس لائبریری کو بھی جوئن کریں۔ واضح رہے کہ ٹیلگرام لائبریری پر منتخب چیزیں پوسٹ ہوتی ہیں،
شکریہ
عبد المتین منیری
اڈمن
https://telegram.me/ilmokitablibrary
❤2
اخلاق احمد دہلوی کی آب بیتی یادوں کا سفر کی جملہ قسطیں علم و کتاب لائبریری پر پوسٹ کردی گئی ہیں۔ https://t.me/ilmokitablibrary/47
شعریات (ترجمہ بوطیقا).pdf
14.3 MB
بوطیقا ۔ شمس الرحمن فاروقی
بعض ممبران نے ہمیں میسیج بھیجا ہے کہ چینل کا مواد ڈون لوڈ کرنے میں دشواری ہورہی ہی اور انہیں یہ مسیج پہنچ رہا ہے۔ It blocks me to join. By saying that I do not have enough stars برائے مہربانی بتائیں کہ اس دشواری کا حل کیا ہے۔ تاکہ چینل کی منفعت عام ہو۔ عبد المتین منیری اڈمن