Mr Sid
سلسلہ نمبر: 319 انتخاب مطالعہ تحریر: مولانا راشد امین *سیلف سینسر شپ (Self-Censorship)، خوف کی نفسیات اور ”چلنگ ایفیکٹ “* مسلسل ریاستی و سماجی نگرانی اور اسلاموفوبیا کا ایک بہت بڑا،خاموش مگر تباہ کن نفسیاتی اور علمی اثر یہ ہوا ہے کہ مسلم نوجوانوں، طالب،…
سلسلہ نمبر: 320
انتخاب مطالعہ
تحریر: عشرت علی صؔدیقی
*گورِ امیر*
سمرقند کی ترقی اور اس کی شہرت کا سہرا بلاشبہ تؔیمور کے سر ہے، اس نے نہ جانے کتنے ملک تاراج کیے، کتنے بادشاہوں کو اپنا باج گزار بنایا،کتنے محلوں کو لوٹا اور کتنی بستیوں کو اجاڑ دیا ؛مگر جب اپنی راجدھانی کی تعمیر کا خیال آیا تو اس پر ساری دنیا کی دولت خرچ کردی اور سمرقند تجارت کا مرکز، تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور دنیا کی بہترین فن تعمیر کی نمائش گاہ بن گیا ۔
ٹوٹی ہوئی نالیوں گرد سے اٹی ہوئی سڑکوں، گنجان بازاروں، اور کچے مکانوں سے گزر کر جیسے ہی ہم ایک نیم کچی اور نیم پکی سڑک پر آئے ویسے ہی ہم کو سامنے ایک نیم نیلا،نیم پیلا گنبد دکھائی دیا، فاصلے پر سے ایسا معلوم ہوا جیسے آسمان کے نیلے پردے پر کسی مصور نے ایک رنگین مرقع بنا دیاہو، جیسے جیسے ہم قریب آتے گئے ویسے ویسے خاک،دھول کی زیادتی ہوتی گئی اور جگہ جگہ مکانوں کے کھنڈر نظر آنے لگے، ان کھنڈروں کے بیچ میں تؔیمور کا مقبرہ آثار قدیمہ کے ایک ہیرو کی شان سے کھڑا ہے ۔ اس کے چاروں طرف لگے ہوئے ببول کے درخت اور ان کی ہری پتیاں اور زرد پھول ایک قدرتی زیور کا کام کرتے ہیں ۔
ایک اجاڑ کھنڈر کے بعد ہم ایک بہت بڑی محراب سے مقبرے میں داخل ہوئے، یہ محراب نصف دائرے کی شکل کی ہے اور کسی ستون یا دیوار پر نہیں لگی ہے، بس ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ادھر اُدھر کی گھاس سے اُگ آئی ہے ۔ اس میں نیلے اور ہرے پتھر بڑے سلیقے سے جڑے ہیں اور ان پر ایسے نقش و نگار بنے ہیں کہ دیکھنے والے کو کہیں پر کوئی جوڑ نہیں نظر آتا ۔
یہاں سے قبر کی عمارت تک ایک پکی روش بنی ہے اور مقبرے کے اوپر نیلے پیلے رنگ کا قبہ ہے، سامنے کی دیواروں پر گہرے رنگ کا بہت عمدہ کام بنا ہے، مقبرے کا دروازہ تنگ ہے اور باہر کی طرف اس پر انگور کی ہری بیل چڑھی ہے،جس کی وجہ سے وہ کافی تاریک ہوگیا ہے، ایک بزرگ صورت پیر مرد ہری عبا اور پگری میں ملبوس کمال سنجیدگی سے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے ان کے پاس ہی کچھ تصویریں اور طغرے رکھے تھے ۔
تیمور کی تربت سبز پتھر کی بنی ہے، یہ پتھر اتنا گہرا سبز ہے کہ سیاہی مائل معلوم ہوتا ہے ؛ مگر اس کے باوجود روشنی اس کے کناروں سے آر پار جاسکتی ہے ۔ اسی قسم کا(اگرچہ رنگ میں اس سے کسی قدر ہلکا) پتھر دیواروں میں بھی لگا ہے، یہ پتھر تؔیمور ہندوستان سے لے گیا تھا ۔ تربت کی دیوار کے چاروں طرف تیمور کا شجرہ خط کوفی میں لکھا ہوا ہے، تربت کے سرہانے چاندی کے لوبان دان میں لوبان سلگ رہا تھا!
(*لینن گراڈ تا سمر قند، صفحہ: ۱۱۵، طبع: عبد الحق اکیڈمی، اشاعت منزل، اردو گلی، حیدرآباد، دکن*)
✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی
انتخاب مطالعہ
تحریر: عشرت علی صؔدیقی
*گورِ امیر*
سمرقند کی ترقی اور اس کی شہرت کا سہرا بلاشبہ تؔیمور کے سر ہے، اس نے نہ جانے کتنے ملک تاراج کیے، کتنے بادشاہوں کو اپنا باج گزار بنایا،کتنے محلوں کو لوٹا اور کتنی بستیوں کو اجاڑ دیا ؛مگر جب اپنی راجدھانی کی تعمیر کا خیال آیا تو اس پر ساری دنیا کی دولت خرچ کردی اور سمرقند تجارت کا مرکز، تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور دنیا کی بہترین فن تعمیر کی نمائش گاہ بن گیا ۔
ٹوٹی ہوئی نالیوں گرد سے اٹی ہوئی سڑکوں، گنجان بازاروں، اور کچے مکانوں سے گزر کر جیسے ہی ہم ایک نیم کچی اور نیم پکی سڑک پر آئے ویسے ہی ہم کو سامنے ایک نیم نیلا،نیم پیلا گنبد دکھائی دیا، فاصلے پر سے ایسا معلوم ہوا جیسے آسمان کے نیلے پردے پر کسی مصور نے ایک رنگین مرقع بنا دیاہو، جیسے جیسے ہم قریب آتے گئے ویسے ویسے خاک،دھول کی زیادتی ہوتی گئی اور جگہ جگہ مکانوں کے کھنڈر نظر آنے لگے، ان کھنڈروں کے بیچ میں تؔیمور کا مقبرہ آثار قدیمہ کے ایک ہیرو کی شان سے کھڑا ہے ۔ اس کے چاروں طرف لگے ہوئے ببول کے درخت اور ان کی ہری پتیاں اور زرد پھول ایک قدرتی زیور کا کام کرتے ہیں ۔
ایک اجاڑ کھنڈر کے بعد ہم ایک بہت بڑی محراب سے مقبرے میں داخل ہوئے، یہ محراب نصف دائرے کی شکل کی ہے اور کسی ستون یا دیوار پر نہیں لگی ہے، بس ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ادھر اُدھر کی گھاس سے اُگ آئی ہے ۔ اس میں نیلے اور ہرے پتھر بڑے سلیقے سے جڑے ہیں اور ان پر ایسے نقش و نگار بنے ہیں کہ دیکھنے والے کو کہیں پر کوئی جوڑ نہیں نظر آتا ۔
یہاں سے قبر کی عمارت تک ایک پکی روش بنی ہے اور مقبرے کے اوپر نیلے پیلے رنگ کا قبہ ہے، سامنے کی دیواروں پر گہرے رنگ کا بہت عمدہ کام بنا ہے، مقبرے کا دروازہ تنگ ہے اور باہر کی طرف اس پر انگور کی ہری بیل چڑھی ہے،جس کی وجہ سے وہ کافی تاریک ہوگیا ہے، ایک بزرگ صورت پیر مرد ہری عبا اور پگری میں ملبوس کمال سنجیدگی سے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے ان کے پاس ہی کچھ تصویریں اور طغرے رکھے تھے ۔
تیمور کی تربت سبز پتھر کی بنی ہے، یہ پتھر اتنا گہرا سبز ہے کہ سیاہی مائل معلوم ہوتا ہے ؛ مگر اس کے باوجود روشنی اس کے کناروں سے آر پار جاسکتی ہے ۔ اسی قسم کا(اگرچہ رنگ میں اس سے کسی قدر ہلکا) پتھر دیواروں میں بھی لگا ہے، یہ پتھر تؔیمور ہندوستان سے لے گیا تھا ۔ تربت کی دیوار کے چاروں طرف تیمور کا شجرہ خط کوفی میں لکھا ہوا ہے، تربت کے سرہانے چاندی کے لوبان دان میں لوبان سلگ رہا تھا!
(*لینن گراڈ تا سمر قند، صفحہ: ۱۱۵، طبع: عبد الحق اکیڈمی، اشاعت منزل، اردو گلی، حیدرآباد، دکن*)
✍🏻... محمد عدنان وقار صدیقی
بیتی یادیں (03)
انٹرویو: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی سابق مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی آب بیتی پر مشتمل مولوی عبد المتین منیری کو سنہ 2007ء میں دیا ہوا یاد گار انٹرویو
لنک
www.youtube.com/watch?v=XQmXgjFObZk
انٹرویو: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی سابق مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی آب بیتی پر مشتمل مولوی عبد المتین منیری کو سنہ 2007ء میں دیا ہوا یاد گار انٹرویو
لنک
www.youtube.com/watch?v=XQmXgjFObZk
YouTube
Beeti Yadain Part (03) Moulana Saidur Rahman Azami Nadwi
مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی سابق مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو کی یاد داشتوں پر مبنی مولوی عبد المتین منیری کا 2007ء میں لئے گئے انٹرویو کا تیسرا حصہ
*وفیات مورخہ:اکتوبر 14*
1092ء نظام الدین طوسی۔ وزیر سلجوقی
1973ء راجا محمد امیر احمد خان۔ راجہ محمود آباد
1973ء محمد عامر احمد خان ۔
1980ء مفتی محمود۔ صدر جمعیت علمائے اسلام پاکستان
1988ء صبا متھراوی۔ شاعر
1999ء عطا کریم برق۔ ڈاکٹر ،
2004ء آفرین بیگ۔ ٹی وی پروڈیسر
2005ء محمد عثمان قاسمی بھاگل پوری۔ مولانا
2012ء طه أبو الليل۔ مصری داعی
2014ء محمد اسماعیل مدنی۔ مولانا
1092ء نظام الدین طوسی۔ وزیر سلجوقی
1973ء راجا محمد امیر احمد خان۔ راجہ محمود آباد
1973ء محمد عامر احمد خان ۔
1980ء مفتی محمود۔ صدر جمعیت علمائے اسلام پاکستان
1988ء صبا متھراوی۔ شاعر
1999ء عطا کریم برق۔ ڈاکٹر ،
2004ء آفرین بیگ۔ ٹی وی پروڈیسر
2005ء محمد عثمان قاسمی بھاگل پوری۔ مولانا
2012ء طه أبو الليل۔ مصری داعی
2014ء محمد اسماعیل مدنی۔ مولانا
Abdul Mateen Muniri
بعض ممبران نے ہمیں میسیج بھیجا ہے کہ چینل کا مواد ڈون لوڈ کرنے میں دشواری ہورہی ہی اور انہیں یہ مسیج پہنچ رہا ہے۔ It blocks me to join. By saying that I do not have enough stars برائے مہربانی بتائیں کہ اس دشواری کا حل کیا ہے۔ تاکہ چینل کی منفعت عام ہو۔ عبد…
گروپ ممبر مولوی عبد الاحد ابو حسینا نے اہتمام سے ہمارے استفسار کا یہ جواب دیا ہے، ہم ان کے تہ دل سے شکر گذار ہیں۔ اڈمن علم وکتاب۔۔۔ السَـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه
میں نے کئی ایک اکاؤنٹ سے دیکھ لیا مگر مجھے ایسی کوئی پریشانی نظر نہیں آئی، چینل/گروپ یا لائبریری وغیرہ سے جڑنا ہو یا پھر یہاں سے کوئی مواد ڈاؤنلوڈ کرنا ہو، مجھے کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوا۔
تاہم اگر کسی ممبر نے آپ کو کوئی اسکرین شاٹ وغیرہ بھیجا ہو تو میں دیکھنا چاہوں گا تاکہ معاملہ اور آسانی سے سمجھ سکوں۔
اسی کے ساتھ اگر میں لائبریری و کمیونٹی کے اختیارات و ترتیبات پر نظر کروں تو شاید سمجھنے میں اور آسانی ہو۔
پرانی اور نئی لائبریری میں ایک فرق
اس نئی لائبریری میں ایک فرق مجھے یہ نظر آیا کہ یہاں پر صرف ایڈمن ہی پیغام بھیج سکتے ہیں، دیگر ممبران کو اس کی اجازت نہیں ہے، جب کہ پرانی لائبریری میں سبھی ممبران کو میسج کرنے کی اجازت تھی، لیکن اب ۱۰ stars کے ساتھ اجازت ہے۔
لائبریری کا عام ممبران کے لیے بند رہنا ہی صحیح معلوم ہوتا ہے کہ دیگر ممبران کو تمام مواد و سلسلے ترتيب وار حاصل ہوں، جہاں تک تبصروں وغیرہ کی بات ہے تو علم و کتاب گروپ بغیر کسی قید و بند کے ساتھ تمام ممبروں کے لیے کھلا ہے۔
میں نے کئی ایک اکاؤنٹ سے دیکھ لیا مگر مجھے ایسی کوئی پریشانی نظر نہیں آئی، چینل/گروپ یا لائبریری وغیرہ سے جڑنا ہو یا پھر یہاں سے کوئی مواد ڈاؤنلوڈ کرنا ہو، مجھے کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوا۔
تاہم اگر کسی ممبر نے آپ کو کوئی اسکرین شاٹ وغیرہ بھیجا ہو تو میں دیکھنا چاہوں گا تاکہ معاملہ اور آسانی سے سمجھ سکوں۔
اسی کے ساتھ اگر میں لائبریری و کمیونٹی کے اختیارات و ترتیبات پر نظر کروں تو شاید سمجھنے میں اور آسانی ہو۔
پرانی اور نئی لائبریری میں ایک فرق
اس نئی لائبریری میں ایک فرق مجھے یہ نظر آیا کہ یہاں پر صرف ایڈمن ہی پیغام بھیج سکتے ہیں، دیگر ممبران کو اس کی اجازت نہیں ہے، جب کہ پرانی لائبریری میں سبھی ممبران کو میسج کرنے کی اجازت تھی، لیکن اب ۱۰ stars کے ساتھ اجازت ہے۔
لائبریری کا عام ممبران کے لیے بند رہنا ہی صحیح معلوم ہوتا ہے کہ دیگر ممبران کو تمام مواد و سلسلے ترتيب وار حاصل ہوں، جہاں تک تبصروں وغیرہ کی بات ہے تو علم و کتاب گروپ بغیر کسی قید و بند کے ساتھ تمام ممبروں کے لیے کھلا ہے۔
❤6
*وفیات مورخہ:اکتوبر 15*
1240ء رضیہ سلطانہ۔ حکمران سلطنت دہلی
1605ء جلال الدین محمد اکبر۔ مغل شہنشاہ
1917ء ماتا ہری۔ ولندیزی جاسوس
1964ء احمد حسین کاظمی۔ مولانا ،
1967ء محبوب علی (میر)۔
1971ء ضیاء الحسن موسوی (سید)۔ ،
1971ء یٰسین میاں قادری چشتی (سید)۔ ،
1979ء عبدالقادر۔ وزیر خزانہ پاکستان
1991ء محمد عرفان صدیقی۔ شاعر
1994ء قمر امروہوی (مہتاب الرب فاروقی )۔ ،
1999ء فضل حق قریشی۔ افسانہ نگار، صحافی
2003ء ممتاز ہاشمی اشرفی (سید)۔ ،
2013ء نعیم میرٹھی (نعیم الرحمٰن)۔ ،
2013ء اشفاق حسین نعیمی۔ مصنف, مفتی
2022ء محمد عزیر شمس الحق۔ بھارتی عالم ومحقق
2023ء غلام نبی خیال۔ کشمیری شاعر
1240ء رضیہ سلطانہ۔ حکمران سلطنت دہلی
1605ء جلال الدین محمد اکبر۔ مغل شہنشاہ
1917ء ماتا ہری۔ ولندیزی جاسوس
1964ء احمد حسین کاظمی۔ مولانا ،
1967ء محبوب علی (میر)۔
1971ء ضیاء الحسن موسوی (سید)۔ ،
1971ء یٰسین میاں قادری چشتی (سید)۔ ،
1979ء عبدالقادر۔ وزیر خزانہ پاکستان
1991ء محمد عرفان صدیقی۔ شاعر
1994ء قمر امروہوی (مہتاب الرب فاروقی )۔ ،
1999ء فضل حق قریشی۔ افسانہ نگار، صحافی
2003ء ممتاز ہاشمی اشرفی (سید)۔ ،
2013ء نعیم میرٹھی (نعیم الرحمٰن)۔ ،
2013ء اشفاق حسین نعیمی۔ مصنف, مفتی
2022ء محمد عزیر شمس الحق۔ بھارتی عالم ومحقق
2023ء غلام نبی خیال۔ کشمیری شاعر
اردو مضامین میں شاعری کی اہمیت
(ناصرالدین مظاہری)
اردو میں مضامین و مقالات کی بے شمار اقسام ہیں ، کچھ ادبی تو کچھ فقہی، کچھ سوانحی تو کچھ تخیلاتی، کچھ علمی تو کچھ تحقیقی ، کچھ جذباتی تو کچھ مطالعاتی یعنی اردو نثر نثر نہیں مال سینٹر اور بازار ادبستان ہے ، اردو نثر محض الفاظ کی ترتیب، جملوں کی ساخت اور خیالات کی ترسیل کا نام نہیں؛ یہ احساسات کی ترجمانی، جذبات کی عکاسی، تخیل کی پرواز اور فکر کی رعنائی کا بھی ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ نثر جب شاعری سے ہم آغوش ہوتی ہے تو اس کے دامن میں معنویت کی وسعت، اسلوب کی دل آویزی، بیان کی چاشنی اور تاثیر کی وہ دولت جمع ہوجاتی ہے جو خشک سے خشک موضوع کو بھی دل نشیں بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے بڑے نثاروں اور نثر نگاروں نے اپنی تحریروں میں اشعار سے خوب کام لیا ہے اور اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کے لیے کبھی کسی شاعر کا سہارا لیا ہے، کبھی کسی شعر کو اپنے مضمون کا عنوان بنایا ہے اور کبھی کسی مصرعے کو اپنی پوری تحریر کا حاصل قرار دیا ہے۔
شاعری اردو نثر کے لیے محض آرائش و زیبائش کا سامان نہیں، بلکہ اظہار و ابلاغ کا ایک اہم وسیلہ بھی ہے۔ بسا اوقات نثر نگار طویل عبارت لکھ کر بھی وہ بات نہیں کہہ پاتا جو ایک شعر کے دو مصرعے کہہ دیتے ہیں۔ شعر میں الفاظ کی کفایت، معانی کی وسعت اور جذبات کی شدت جمع ہوجاتی ہے۔ ایک اچھا شعر اپنے اندر ایک پورا مضمون سمیٹ سکتا ہے۔ وہ ایک واقعے کی ترجمانی، ایک عہد کی تصویر کشی، ایک کیفیت کی عکاسی اور ایک فکر کی توضیح کرسکتا ہے۔ نثر نگار جب ایسے شعر کو اپنی تحریر میں جگہ دیتا ہے تو گویا وہ اپنے مضمون کے لیے ایک ایسا آئینہ منتخب کرتا ہے جس میں اس کے خیالات زیادہ واضح اور اس کے احساسات زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آتے ہیں۔
شاعری نثر میں موسیقیت، روانی، دل کشی اور ادبی چاشنی پیدا کرتی ہے۔ ایک ہی بات کو سادہ نثر میں بیان کیا جائے تو ممکن ہے کہ وہ محض ایک اطلاع بن کر رہ جائے، لیکن اسی بات کے ساتھ کوئی موزوں شعر شامل ہوجائے تو وہ اطلاع احساس میں، خیال کیفیت میں اور عبارت تاثیر میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ شعر نثر کے بہاؤ میں کہیں ٹھہراؤ پیدا کرتا ہے، کہیں جذبات کی شدت بڑھاتا ہے اور کہیں قاری کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادبی نثر میں اشعار کا برمحل استعمال تحریر کو بوجھل ہونے سے بچاتا اور اس کی دل آویزی میں اضافہ کرتا ہے۔
نامور انشا پردازوں نے شاعری سے ہمیشہ استفادہ کیا ہے۔ سرسید احمد خان کی نثر ہو، مولانا شبلی نعمانی کی تحریریں ہوں، مولانا ابوالکلام آزاد کا خطیبانہ اسلوب ہو، پطرس بخاری کی شگفتہ نگاری ہو یا شوکت تھانوی کی متانت ہو ، رشید احمد صدیقی کی ظرافت آمیز نثر، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی بصیرت افروز فکری نگارشات ہوں یا دیگر ارباب قلم کے علمی و قلمی گل و لالہ ہر جگہ شاعری اور شعری ذوق کی اہمیت کسی نہ کسی صورت میں محسوس کی جاسکتی ہے۔
بالخصوص مولانا ابوالکلام آزاد کے اسلوب میں آیات و اشعار، ادبی تلمیحات اور زبان کی موسیقیت نے نثر کو ایک غیر معمولی شان عطا کی ہے۔ ان کے یہاں نثر کبھی شعر کی طرح گنگناتی ہے، کبھی خطابت کی طرح گرجتی ہے اور کبھی کسی درد مند دل کی طرح دھیرے دھیرے اپنے احساسات بیان کرتی ہے۔
شاعری کا ایک اہم وصف یہ بھی ہے کہ وہ نثر میں تاریخی، تہذیبی اور ادبی حوالوں کی معنویت بڑھاتی ہے۔ میر، غالب، اقبال، اکبر الہ آبادی، حالی، ذوق، مومن اور دیگر شعراء کے اشعار محض ادبی سرمایہ نہیں، بلکہ ہماری تہذیبی یادداشت کا حصہ ہیں۔ کسی مضمون میں ان کا برمحل استعمال قاری کے ذہن میں کئی دریچے کھول دیتا ہے۔ کبھی ایک شعر کسی تاریخی واقعے کی معنویت واضح کرتا ہے، کبھی کسی معاشرتی رویے پر تبصرہ بن جاتا ہے اور کبھی کسی انسانی تجربے کی ایسی ترجمانی کرتا ہے جسے نثر میں بیان کرنے کے لیے کئی صفحات درکار ہوں۔
تاہم نثر میں شاعری کے استعمال کا بھی ایک سلیقہ ہے۔ ہر جگہ شعر ٹھونس دینا، محض اپنی شعری معلومات کا مظاہرہ کرنا یا مضمون سے غیر متعلق اشعار کی بھرمار کردینا تحریر کی خامی ہے۔ شعر اسی وقت نثر کا حسن بنتا ہے جب وہ مضمون کے مزاج سے ہم آہنگ ہو، خیال کی وضاحت کرے، جذبے کی شدت بڑھائے یا بات کو زیادہ مؤثر بنائے۔
آپ نے بنگلور میں دیکھا ہوگا کہ خواتین پھول کو اپنے بالوں میں سجاتی ہیں، ہمارے یہاں مکان کی آرائش میں پھولوں کا استعمال عام ہے یہی پھول بے موقع و بے محل استعمال کرکے دیکھیں دنیا پاگل کہے گی کیونکہ آپ نے وضع الشئی فی غیر محلہ کا گناہ کیا ہے۔ کس شعر کا انتخاب کا جگہ کرنا ہے یہ ایک فن ہے اور فن کے فن کار بہت مشکل سے نظر آتے ہیں۔بعض تو شعر پورا رکھ دیتے ہیں جب کہ اس کے کسی ایک مصرع سے ان کا کام پورا ہورہا ہے اور دوسرے مصرع کا فکر و علاقہ ہی دوسرا ہے۔
(ناصرالدین مظاہری)
اردو میں مضامین و مقالات کی بے شمار اقسام ہیں ، کچھ ادبی تو کچھ فقہی، کچھ سوانحی تو کچھ تخیلاتی، کچھ علمی تو کچھ تحقیقی ، کچھ جذباتی تو کچھ مطالعاتی یعنی اردو نثر نثر نہیں مال سینٹر اور بازار ادبستان ہے ، اردو نثر محض الفاظ کی ترتیب، جملوں کی ساخت اور خیالات کی ترسیل کا نام نہیں؛ یہ احساسات کی ترجمانی، جذبات کی عکاسی، تخیل کی پرواز اور فکر کی رعنائی کا بھی ایک مؤثر وسیلہ ہے۔ نثر جب شاعری سے ہم آغوش ہوتی ہے تو اس کے دامن میں معنویت کی وسعت، اسلوب کی دل آویزی، بیان کی چاشنی اور تاثیر کی وہ دولت جمع ہوجاتی ہے جو خشک سے خشک موضوع کو بھی دل نشیں بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے بڑے نثاروں اور نثر نگاروں نے اپنی تحریروں میں اشعار سے خوب کام لیا ہے اور اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کے لیے کبھی کسی شاعر کا سہارا لیا ہے، کبھی کسی شعر کو اپنے مضمون کا عنوان بنایا ہے اور کبھی کسی مصرعے کو اپنی پوری تحریر کا حاصل قرار دیا ہے۔
شاعری اردو نثر کے لیے محض آرائش و زیبائش کا سامان نہیں، بلکہ اظہار و ابلاغ کا ایک اہم وسیلہ بھی ہے۔ بسا اوقات نثر نگار طویل عبارت لکھ کر بھی وہ بات نہیں کہہ پاتا جو ایک شعر کے دو مصرعے کہہ دیتے ہیں۔ شعر میں الفاظ کی کفایت، معانی کی وسعت اور جذبات کی شدت جمع ہوجاتی ہے۔ ایک اچھا شعر اپنے اندر ایک پورا مضمون سمیٹ سکتا ہے۔ وہ ایک واقعے کی ترجمانی، ایک عہد کی تصویر کشی، ایک کیفیت کی عکاسی اور ایک فکر کی توضیح کرسکتا ہے۔ نثر نگار جب ایسے شعر کو اپنی تحریر میں جگہ دیتا ہے تو گویا وہ اپنے مضمون کے لیے ایک ایسا آئینہ منتخب کرتا ہے جس میں اس کے خیالات زیادہ واضح اور اس کے احساسات زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آتے ہیں۔
شاعری نثر میں موسیقیت، روانی، دل کشی اور ادبی چاشنی پیدا کرتی ہے۔ ایک ہی بات کو سادہ نثر میں بیان کیا جائے تو ممکن ہے کہ وہ محض ایک اطلاع بن کر رہ جائے، لیکن اسی بات کے ساتھ کوئی موزوں شعر شامل ہوجائے تو وہ اطلاع احساس میں، خیال کیفیت میں اور عبارت تاثیر میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ شعر نثر کے بہاؤ میں کہیں ٹھہراؤ پیدا کرتا ہے، کہیں جذبات کی شدت بڑھاتا ہے اور کہیں قاری کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادبی نثر میں اشعار کا برمحل استعمال تحریر کو بوجھل ہونے سے بچاتا اور اس کی دل آویزی میں اضافہ کرتا ہے۔
نامور انشا پردازوں نے شاعری سے ہمیشہ استفادہ کیا ہے۔ سرسید احمد خان کی نثر ہو، مولانا شبلی نعمانی کی تحریریں ہوں، مولانا ابوالکلام آزاد کا خطیبانہ اسلوب ہو، پطرس بخاری کی شگفتہ نگاری ہو یا شوکت تھانوی کی متانت ہو ، رشید احمد صدیقی کی ظرافت آمیز نثر، حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کی بصیرت افروز فکری نگارشات ہوں یا دیگر ارباب قلم کے علمی و قلمی گل و لالہ ہر جگہ شاعری اور شعری ذوق کی اہمیت کسی نہ کسی صورت میں محسوس کی جاسکتی ہے۔
بالخصوص مولانا ابوالکلام آزاد کے اسلوب میں آیات و اشعار، ادبی تلمیحات اور زبان کی موسیقیت نے نثر کو ایک غیر معمولی شان عطا کی ہے۔ ان کے یہاں نثر کبھی شعر کی طرح گنگناتی ہے، کبھی خطابت کی طرح گرجتی ہے اور کبھی کسی درد مند دل کی طرح دھیرے دھیرے اپنے احساسات بیان کرتی ہے۔
شاعری کا ایک اہم وصف یہ بھی ہے کہ وہ نثر میں تاریخی، تہذیبی اور ادبی حوالوں کی معنویت بڑھاتی ہے۔ میر، غالب، اقبال، اکبر الہ آبادی، حالی، ذوق، مومن اور دیگر شعراء کے اشعار محض ادبی سرمایہ نہیں، بلکہ ہماری تہذیبی یادداشت کا حصہ ہیں۔ کسی مضمون میں ان کا برمحل استعمال قاری کے ذہن میں کئی دریچے کھول دیتا ہے۔ کبھی ایک شعر کسی تاریخی واقعے کی معنویت واضح کرتا ہے، کبھی کسی معاشرتی رویے پر تبصرہ بن جاتا ہے اور کبھی کسی انسانی تجربے کی ایسی ترجمانی کرتا ہے جسے نثر میں بیان کرنے کے لیے کئی صفحات درکار ہوں۔
تاہم نثر میں شاعری کے استعمال کا بھی ایک سلیقہ ہے۔ ہر جگہ شعر ٹھونس دینا، محض اپنی شعری معلومات کا مظاہرہ کرنا یا مضمون سے غیر متعلق اشعار کی بھرمار کردینا تحریر کی خامی ہے۔ شعر اسی وقت نثر کا حسن بنتا ہے جب وہ مضمون کے مزاج سے ہم آہنگ ہو، خیال کی وضاحت کرے، جذبے کی شدت بڑھائے یا بات کو زیادہ مؤثر بنائے۔
آپ نے بنگلور میں دیکھا ہوگا کہ خواتین پھول کو اپنے بالوں میں سجاتی ہیں، ہمارے یہاں مکان کی آرائش میں پھولوں کا استعمال عام ہے یہی پھول بے موقع و بے محل استعمال کرکے دیکھیں دنیا پاگل کہے گی کیونکہ آپ نے وضع الشئی فی غیر محلہ کا گناہ کیا ہے۔ کس شعر کا انتخاب کا جگہ کرنا ہے یہ ایک فن ہے اور فن کے فن کار بہت مشکل سے نظر آتے ہیں۔بعض تو شعر پورا رکھ دیتے ہیں جب کہ اس کے کسی ایک مصرع سے ان کا کام پورا ہورہا ہے اور دوسرے مصرع کا فکر و علاقہ ہی دوسرا ہے۔
❤1
شعر کا انتخاب کرتے ہوئے اس کے صحیح الفاظ، شاعر کے نام اور مفہوم کی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ محض قافیہ و ردیف کی دل کشی یا کسی مشہور مصرعے کی مقبولیت اس کے استعمال کے لیے کافی نہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نثر کی اپنی ایک مستقل قوت ہے۔ اچھی نثر کو ہر قدم پر شعر کی بیساکھی درکار نہیں ہوتی۔ شاعری نثر کی معاون ضرور ہے، متبادل نہیں۔ نثر نگار کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنے خیالات کو اپنے الفاظ میں بھی مؤثر انداز سے بیان کرسکے اور جہاں شعر کی ضرورت محسوس ہو، وہاں اسے اس خوبی سے برتے کہ شعر تحریر میں اجنبی پیوند بننے کے بجائے اس کا فطری جزو معلوم ہو۔
اردو نثر میں شاعری کی اہمیت کو ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ نثر خیال کو زبان دیتی ہے اور شاعری اس زبان کو آہنگ عطا کرتی ہے؛ نثر بات سمجھاتی ہے اور شاعری کبھی کبھی وہ بات دل میں اتار دیتی ہے۔ جب فکر کی سنجیدگی، نثر کی روانی اور شعر کی رعنائی و زیبائی یکجا ہوجائیں تو تحریر محض پڑھی نہیں جاتی، محسوس بھی کی جاتی ہے؛ اسی طرح بعض تحریریں ایسی ہوتی ہیں جن کا آہنگ دیر تک دل و دماغ میں گونجتا رہتا ہے۔
کبھی کبھی آپ کا برمحل شعر آپ کی شعر دانی کی دلیل بن جاتا ہے اور کبھی کبھی بے محل استعمال ذلیل کرجاتا ہے۔
آپ یہ بالکل نہ سوچیں کہ آپ فکر دیتے ہیں نہیں آپ اپنے قارئین کر فکر کے ساتھ راہ دیتے ہیں، کتابوں کی طرف کھینچتے ہیں، گل و گلشن کی دعوت دیتے ہیں، فکر و فن کا خوگر بناتے ہیں، الفاظ و تراکیب کا درست استعمال بتاتے ہیں، لفظی تبدیلیوں کا ہنر سکھاتے ہیں، ہر سطر ہر صفحہ پر مقالہ و مضمون قاری کو کچھ نہ کچھ دے کر جاتا ہے۔آپ بھی دینے والے ہیں تو اچھی چیزیں اپنے مضمون کے ذریعہ دیجیے ۔
(تین جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نثر کی اپنی ایک مستقل قوت ہے۔ اچھی نثر کو ہر قدم پر شعر کی بیساکھی درکار نہیں ہوتی۔ شاعری نثر کی معاون ضرور ہے، متبادل نہیں۔ نثر نگار کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنے خیالات کو اپنے الفاظ میں بھی مؤثر انداز سے بیان کرسکے اور جہاں شعر کی ضرورت محسوس ہو، وہاں اسے اس خوبی سے برتے کہ شعر تحریر میں اجنبی پیوند بننے کے بجائے اس کا فطری جزو معلوم ہو۔
اردو نثر میں شاعری کی اہمیت کو ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ نثر خیال کو زبان دیتی ہے اور شاعری اس زبان کو آہنگ عطا کرتی ہے؛ نثر بات سمجھاتی ہے اور شاعری کبھی کبھی وہ بات دل میں اتار دیتی ہے۔ جب فکر کی سنجیدگی، نثر کی روانی اور شعر کی رعنائی و زیبائی یکجا ہوجائیں تو تحریر محض پڑھی نہیں جاتی، محسوس بھی کی جاتی ہے؛ اسی طرح بعض تحریریں ایسی ہوتی ہیں جن کا آہنگ دیر تک دل و دماغ میں گونجتا رہتا ہے۔
کبھی کبھی آپ کا برمحل شعر آپ کی شعر دانی کی دلیل بن جاتا ہے اور کبھی کبھی بے محل استعمال ذلیل کرجاتا ہے۔
آپ یہ بالکل نہ سوچیں کہ آپ فکر دیتے ہیں نہیں آپ اپنے قارئین کر فکر کے ساتھ راہ دیتے ہیں، کتابوں کی طرف کھینچتے ہیں، گل و گلشن کی دعوت دیتے ہیں، فکر و فن کا خوگر بناتے ہیں، الفاظ و تراکیب کا درست استعمال بتاتے ہیں، لفظی تبدیلیوں کا ہنر سکھاتے ہیں، ہر سطر ہر صفحہ پر مقالہ و مضمون قاری کو کچھ نہ کچھ دے کر جاتا ہے۔آپ بھی دینے والے ہیں تو اچھی چیزیں اپنے مضمون کے ذریعہ دیجیے ۔
(تین جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
بیتی یادیں (04) آخری
انٹرویو: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی
سابق مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
مولانائے مرحوم سے مولوی عبد المتین منیری کے لئے ہوئے یادگار انٹرویو کا آخری حصہ
www.youtube.com/watch?v=MrBsAeTq3N0&t=134s
انٹرویو: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی
سابق مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
مولانائے مرحوم سے مولوی عبد المتین منیری کے لئے ہوئے یادگار انٹرویو کا آخری حصہ
www.youtube.com/watch?v=MrBsAeTq3N0&t=134s
YouTube
Beeti Yadain Part 04 Moulana Saidur Rahman Azami Nadwi
حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی ۔ سابق مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو و مدیر البعث الاسلامی لکھنو کی یادوں پر مبنی سنہ 2007ء مولوی عبد المتین منیری کو دئے گئے تاریخی انٹرویو کی آخری قسط
❤1
*دور المكتبات في التاريخ الإسلامي*
*محاضرة الشيخ العلامة أبو الحسن علي الحسن الندوي رحمة الله*
بمناسبة افتتاح مكتبة الشيخ عبد الله على المحمود بالشارقة
في عام 1982ء
الرابط
https://youtu.be/o_OkmCO7k44?si=cjC38FG3ENYT9-pQ
*محاضرة الشيخ العلامة أبو الحسن علي الحسن الندوي رحمة الله*
بمناسبة افتتاح مكتبة الشيخ عبد الله على المحمود بالشارقة
في عام 1982ء
الرابط
https://youtu.be/o_OkmCO7k44?si=cjC38FG3ENYT9-pQ
❤1
*غلطی ہائے مضامین*
*کُنجی کو کمر بند میں زِنہار نہ باندھو*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
کوئی ہفتہ بھر پہلے برادرم سہیل احمد صدیقی کی ”بزمِ زبان فہمی“ میں ’زینہار فہمی‘ کی کوشش کی گئی۔ سوچا کہ اس کوشش میں اِس کالم کے قارئین کو بھی شریک کر لیا جائے۔ وہاں بات چلی تھی غالبؔ کی ایک نظم کے اُس شعر سے جس میں غالبؔ نے ”ہیں گے“ استعمال کیا ہے:
بیچ میں ان کے نہ آنا زینہار
یہ نہیں ہیں گے کسے کے یارِ غار
”ہیں گے“ اور ”ہے گا“ کا استعمال ہندوستان میں مغربی یوپی اور دہلی کے اطراف میں عام تھا۔ شاید اسی وجہ سے غالبؔ نے بھی استعمال کر لیا ۔ علی گڑھ، امروہہ، بلند شہر اور مظفر نگر وغیرہ میں روز مرہ بول چال کا حصہ تھا۔ عوام کی بول چال ہی میں نہیں قدما کی شاعری میں بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہیں ، مثلاً بلبل کو گُل پر پھولتے دیکھ کرمیر تقی میرؔ نے محبوب کی کچھ ایسی مدح کی کہ محبوب بھی پھول کر کُپّا ہوگیا ہوگا:
تُو گُلِ باغ پر نہ بلبل پھول
وہ بھی ہے گا گلاب کا سا پھول
اسی طرح میرؔ صاحب نے اس دنیائے فانی میں ’حیات‘ کے قیدیوں کو ’موت‘ کے منہ میں جاتے دیکھ کرقدرے حیرت کا اظہار کیا:
قیدِ حیات، قید کوئی سخت ہے کہ روز
مر رہتے ہیں گے اِس کے گرفتار ایک دو
شیخ ظہور الدین حاتمؔ نے تو سخاوت کر کے پوری غزل کی ردیف ہی ’ہے گا‘ باندھ دی۔ آپ کی خدمت میں غزل کامطلع عرض ہے:
دل مرا آج یار میں ہے گا
کس خزاں میں بہار میں ہے گا
پھر میر اَمّن دہلوی کی ”داستانِ باغ و بہار“ یعنی قصۂ چہار درویش کا دوسرا درویش چار زانو بیٹھ کر اپنی داستان یوں شروع کرتا ہے:
اے یارو! اِس فقیر کا ٹک ماجرا سنو
میں ابتدا سے کہتا ہوں تا انتہا سنو
جس کا علاج کر نہیں سکتا کوئی حکیم
ہے گا ہمارا درد نپٹ لا دوا سنو
تو قدیم اُردو میں ایسی مثالیں اور بھی بہت مل جائیں گی۔ مگرجدید اُردو کی نظم و نثر میں ”ہے گا“ یا ”ہیں گے“ کے استعمال کی مثالیں کم ملتی ہیں ۔ تاہم بول چال میں ہمارے صوبہ سند ھ کے بعض شہروں (بالخصوص کراچی ، حیدر آباد) اورصوبہ پنجاب کے کچھ شہری علاقوں میں اب بھی ”ہے گا“ اور ”ہیں گے“ بولنے والے جا بجا ملتے ہیں گے۔ ناظرین کو یاد ہوگا کہ فاروق قیصر مرحوم کے مقبول طنزیہ و مزاحیہ پروگرام ”کلیاں “ کے ایک دلچسپ کردار کا نام ہی ”ہیگا“ تھا ۔ انکل سرگم جب بھی ”ہیگا“ کوآواز دے کر بُلاتے، وہ اُٹھ کر جھٹ جواب دیتا:
”انکل! ہیگا موجود ہے گا، جیسے پانی میں دودھ ہے گا!“
(دودھ میں پانی ملانے والوں پر لطیف طنز)
مگر ہمارے آج کے کالم کا موضوع تو ”ہے گا“ نہیں ہے گا۔آج کاموضوع ہے گا ’زینہار‘ اور’ زنہار‘۔
ہاں تو……اُس روز ”بزمِ زبان فہی“ میں جب ”زینہار“ یا ”زنہار“ کے متعلق بار بار استفسار کیا گیا تو ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے۔ سو، اُس وقت تو بزم میں بس یہ عرض کر دیا تھا کہ
ؔؔ ”زنہار کے اور بھی کئی معانی ہیں ، مگر اُردو میں ’زنہار‘ بالعموم نفی کے لیے آتا ہے۔ ہرگزاور حاشا وغیرہ کے معنوں میں “۔
پھر اِن معنوں میں زنہار کے استعمال کی جو مثال فور ی طور پر ذہن میں آئی وہ اکبرؔ الٰہ آبادی کا ایک شعر تھا۔سو، شعر بھی عرض کر دیا:
کُنجی کو کمر بند میں زنہار نہ باندھو
لوہے سے بہت ڈرتی ہے سرکار ہماری
سنہ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مقامی کارخانوں میں ہتھیاروں کی تیاری روکنے کے لیے انگریزی سامراج نے 1878ء میں ایک سخت قانون بنایا تھا۔ ہر قسم کا لوہا، حتیٰ کہ خام لوہا رکھنا اور جمع کرنابھی جرم قرار دے دیا گیا۔ ممکن ہے اکبرؔ نے یہ شعر اُسی تناظرمیں کہا ہو۔
’زِنہار‘ فارسی لفظ ہے۔ اصلاً یہ لفظ’زینہار‘ ہے۔ تخفیف کر کے ضرورتِ شعری کے تحت ’زنہار‘ کر لیا گیا ہے۔ بے ضرورتِ شعری، یعنی نثر میں بھی، ’زنہار‘ استعمال کر لیا جاتا ہے۔ ویسے شعرائے کرام نے اشعار میں بھی دونوں طرح سے استعمال کیا ہے۔ تخفیف کے ساتھ بھی اور تخفیف کے بغیر بھی۔ مثلاً میرؔ نے ظالم محبوب کے متوقع مظلومین یعنی نو واردانِ عشق کو”آگے خطرہ ہے“ کی تنبیہ کرتے ہوئے ڈرایا:
ہونا نہ چار چشمِ دل اُس ظلم پیشہ سے
ہُشیار، زینہار، خبردار دیکھنا
پھر میرؔ صاحب نے اسی پر بس نہیں کیا ، بلکہ بڑے شدّ و مد سے (دیگراں را) نصیحت کا فریضہ بھی ادا کیا اور فارغ ہوئے شتابی سے:
مانگ پناہ خدا سے بندے دل لگنا اِک آفت ہے
عشق نہ کر، زنہار نہ کر، واللہ نہ کر، باللہ نہ کر
سو، دیکھ لیا ہوگا آپ نے میرؔ کے ان اشعار میں ، کہ زینہار یا زنہار کا لفظ احتیاط کی تلقین کے لیے یا کسی خطرے سے ہوشیار اور خبردار کرنے کو کلمۂ تاکید وتنبیہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہرگز، حاشا، بالکل، کبھی اور مطلق کے معانی و مفاہیم میں۔ مگر یہ لفظ محض نفی کے لیے، یعنی صرف منع کرنے کے لیے نہیں آتا، اثبات میں کسی بات پر اصرار کرنے یا زور دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ میرؔ کی طرح غالبؔ نے بھی نئے نویلے عشاق کو نصیحت کرتے ہوئے اُنھیں اپنی ہی مثال دے دے کر عبرت دلائی
*کُنجی کو کمر بند میں زِنہار نہ باندھو*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
کوئی ہفتہ بھر پہلے برادرم سہیل احمد صدیقی کی ”بزمِ زبان فہمی“ میں ’زینہار فہمی‘ کی کوشش کی گئی۔ سوچا کہ اس کوشش میں اِس کالم کے قارئین کو بھی شریک کر لیا جائے۔ وہاں بات چلی تھی غالبؔ کی ایک نظم کے اُس شعر سے جس میں غالبؔ نے ”ہیں گے“ استعمال کیا ہے:
بیچ میں ان کے نہ آنا زینہار
یہ نہیں ہیں گے کسے کے یارِ غار
”ہیں گے“ اور ”ہے گا“ کا استعمال ہندوستان میں مغربی یوپی اور دہلی کے اطراف میں عام تھا۔ شاید اسی وجہ سے غالبؔ نے بھی استعمال کر لیا ۔ علی گڑھ، امروہہ، بلند شہر اور مظفر نگر وغیرہ میں روز مرہ بول چال کا حصہ تھا۔ عوام کی بول چال ہی میں نہیں قدما کی شاعری میں بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہیں ، مثلاً بلبل کو گُل پر پھولتے دیکھ کرمیر تقی میرؔ نے محبوب کی کچھ ایسی مدح کی کہ محبوب بھی پھول کر کُپّا ہوگیا ہوگا:
تُو گُلِ باغ پر نہ بلبل پھول
وہ بھی ہے گا گلاب کا سا پھول
اسی طرح میرؔ صاحب نے اس دنیائے فانی میں ’حیات‘ کے قیدیوں کو ’موت‘ کے منہ میں جاتے دیکھ کرقدرے حیرت کا اظہار کیا:
قیدِ حیات، قید کوئی سخت ہے کہ روز
مر رہتے ہیں گے اِس کے گرفتار ایک دو
شیخ ظہور الدین حاتمؔ نے تو سخاوت کر کے پوری غزل کی ردیف ہی ’ہے گا‘ باندھ دی۔ آپ کی خدمت میں غزل کامطلع عرض ہے:
دل مرا آج یار میں ہے گا
کس خزاں میں بہار میں ہے گا
پھر میر اَمّن دہلوی کی ”داستانِ باغ و بہار“ یعنی قصۂ چہار درویش کا دوسرا درویش چار زانو بیٹھ کر اپنی داستان یوں شروع کرتا ہے:
اے یارو! اِس فقیر کا ٹک ماجرا سنو
میں ابتدا سے کہتا ہوں تا انتہا سنو
جس کا علاج کر نہیں سکتا کوئی حکیم
ہے گا ہمارا درد نپٹ لا دوا سنو
تو قدیم اُردو میں ایسی مثالیں اور بھی بہت مل جائیں گی۔ مگرجدید اُردو کی نظم و نثر میں ”ہے گا“ یا ”ہیں گے“ کے استعمال کی مثالیں کم ملتی ہیں ۔ تاہم بول چال میں ہمارے صوبہ سند ھ کے بعض شہروں (بالخصوص کراچی ، حیدر آباد) اورصوبہ پنجاب کے کچھ شہری علاقوں میں اب بھی ”ہے گا“ اور ”ہیں گے“ بولنے والے جا بجا ملتے ہیں گے۔ ناظرین کو یاد ہوگا کہ فاروق قیصر مرحوم کے مقبول طنزیہ و مزاحیہ پروگرام ”کلیاں “ کے ایک دلچسپ کردار کا نام ہی ”ہیگا“ تھا ۔ انکل سرگم جب بھی ”ہیگا“ کوآواز دے کر بُلاتے، وہ اُٹھ کر جھٹ جواب دیتا:
”انکل! ہیگا موجود ہے گا، جیسے پانی میں دودھ ہے گا!“
(دودھ میں پانی ملانے والوں پر لطیف طنز)
مگر ہمارے آج کے کالم کا موضوع تو ”ہے گا“ نہیں ہے گا۔آج کاموضوع ہے گا ’زینہار‘ اور’ زنہار‘۔
ہاں تو……اُس روز ”بزمِ زبان فہی“ میں جب ”زینہار“ یا ”زنہار“ کے متعلق بار بار استفسار کیا گیا تو ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے۔ سو، اُس وقت تو بزم میں بس یہ عرض کر دیا تھا کہ
ؔؔ ”زنہار کے اور بھی کئی معانی ہیں ، مگر اُردو میں ’زنہار‘ بالعموم نفی کے لیے آتا ہے۔ ہرگزاور حاشا وغیرہ کے معنوں میں “۔
پھر اِن معنوں میں زنہار کے استعمال کی جو مثال فور ی طور پر ذہن میں آئی وہ اکبرؔ الٰہ آبادی کا ایک شعر تھا۔سو، شعر بھی عرض کر دیا:
کُنجی کو کمر بند میں زنہار نہ باندھو
لوہے سے بہت ڈرتی ہے سرکار ہماری
سنہ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مقامی کارخانوں میں ہتھیاروں کی تیاری روکنے کے لیے انگریزی سامراج نے 1878ء میں ایک سخت قانون بنایا تھا۔ ہر قسم کا لوہا، حتیٰ کہ خام لوہا رکھنا اور جمع کرنابھی جرم قرار دے دیا گیا۔ ممکن ہے اکبرؔ نے یہ شعر اُسی تناظرمیں کہا ہو۔
’زِنہار‘ فارسی لفظ ہے۔ اصلاً یہ لفظ’زینہار‘ ہے۔ تخفیف کر کے ضرورتِ شعری کے تحت ’زنہار‘ کر لیا گیا ہے۔ بے ضرورتِ شعری، یعنی نثر میں بھی، ’زنہار‘ استعمال کر لیا جاتا ہے۔ ویسے شعرائے کرام نے اشعار میں بھی دونوں طرح سے استعمال کیا ہے۔ تخفیف کے ساتھ بھی اور تخفیف کے بغیر بھی۔ مثلاً میرؔ نے ظالم محبوب کے متوقع مظلومین یعنی نو واردانِ عشق کو”آگے خطرہ ہے“ کی تنبیہ کرتے ہوئے ڈرایا:
ہونا نہ چار چشمِ دل اُس ظلم پیشہ سے
ہُشیار، زینہار، خبردار دیکھنا
پھر میرؔ صاحب نے اسی پر بس نہیں کیا ، بلکہ بڑے شدّ و مد سے (دیگراں را) نصیحت کا فریضہ بھی ادا کیا اور فارغ ہوئے شتابی سے:
مانگ پناہ خدا سے بندے دل لگنا اِک آفت ہے
عشق نہ کر، زنہار نہ کر، واللہ نہ کر، باللہ نہ کر
سو، دیکھ لیا ہوگا آپ نے میرؔ کے ان اشعار میں ، کہ زینہار یا زنہار کا لفظ احتیاط کی تلقین کے لیے یا کسی خطرے سے ہوشیار اور خبردار کرنے کو کلمۂ تاکید وتنبیہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہرگز، حاشا، بالکل، کبھی اور مطلق کے معانی و مفاہیم میں۔ مگر یہ لفظ محض نفی کے لیے، یعنی صرف منع کرنے کے لیے نہیں آتا، اثبات میں کسی بات پر اصرار کرنے یا زور دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ میرؔ کی طرح غالبؔ نے بھی نئے نویلے عشاق کو نصیحت کرتے ہوئے اُنھیں اپنی ہی مثال دے دے کر عبرت دلائی
❤1
اور سبق لینے کی تاکید کی:
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمھیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا،”زنہار کے اور بھی کئی معانی ہیں ،تو ’زنہار‘ کے ایک معنی امان، پناہ اور رحم وغیرہ کے بھی ہیں ۔ ان معنوں میں لفظ ’زنہار‘ کے استعمال کی ایک مثال ہمیں اقبالؔ کے اس شعر میں ملتی ہے:
خام ہے جب تک، تو ہے مٹی کا اِک انبار تُو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تُو
اسی طرح ”جاوید نامہ“ میں کہتے ہیں کہ یہ جو ’لااِلٰہ‘ کے دو حرف ہیں یہ محض’ گفتار‘ نہیں ہیں یہ ’تیغِ بے زنہار‘ ہیں ۔ایسی تلوار جو کسی کو نہیں بخشتی۔خواہ آئی ایم ایف ہو (کوئی اقتصادی طاقت) یا دنیا کی بڑی سے بڑی عسکری طاقت: ’لااِلٰہ‘۔اِن میں سے کسی کو اِلٰہ نہ جانو!
٭٭
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمھیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا،”زنہار کے اور بھی کئی معانی ہیں ،تو ’زنہار‘ کے ایک معنی امان، پناہ اور رحم وغیرہ کے بھی ہیں ۔ ان معنوں میں لفظ ’زنہار‘ کے استعمال کی ایک مثال ہمیں اقبالؔ کے اس شعر میں ملتی ہے:
خام ہے جب تک، تو ہے مٹی کا اِک انبار تُو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تُو
اسی طرح ”جاوید نامہ“ میں کہتے ہیں کہ یہ جو ’لااِلٰہ‘ کے دو حرف ہیں یہ محض’ گفتار‘ نہیں ہیں یہ ’تیغِ بے زنہار‘ ہیں ۔ایسی تلوار جو کسی کو نہیں بخشتی۔خواہ آئی ایم ایف ہو (کوئی اقتصادی طاقت) یا دنیا کی بڑی سے بڑی عسکری طاقت: ’لااِلٰہ‘۔اِن میں سے کسی کو اِلٰہ نہ جانو!
٭٭
2026-10-16 Dastan Jari Hai 005.pdf
7.5 MB
داستان جاری ہے (05) ابو الحسن نغمی
*دور المكتبات في التاريخ الإسلامي*
*محاضرة الشيخ العلامة أبو الحسن علي الحسن الندوي رحمة الله*
بمناسبة افتتاح مكتبة الشيخ عبد الله على المحمود بالشارقة
في عام 1982ء
الرابط
https://youtu.be/o_OkmCO7k44?si=cjC38FG3ENYT9-pQ
*محاضرة الشيخ العلامة أبو الحسن علي الحسن الندوي رحمة الله*
بمناسبة افتتاح مكتبة الشيخ عبد الله على المحمود بالشارقة
في عام 1982ء
الرابط
https://youtu.be/o_OkmCO7k44?si=cjC38FG3ENYT9-pQ
❤1
*وفیات مورخہ:اکتوبر 17*
1729ء کلیم اللہ جہاں آبادی ( شاہ)۔ صوفی بزرگ
1934ء امداد امام اثر۔ شاعر وادیب
1941ء می زیادہ۔ لبنانی ادیبہ
1963ء حیرت شاہ وارثی (رحیم بخش)۔ ،
1965ء حلیمہ بیگم۔ بیگم آئی آی چندریگر ،
1977ء حکیم محمد سعید۔ بانی ہمدرد پاکستان
1977ء محمد یوسف بنوری۔ حضرت مولانا، بانی جامعہ علوم اسلامیہ، بنوری ٹاون، کراچی
1978ء حسن حبنكة۔ شامی عالم ومجاہد
1978ء ساجد اسدی جے پوری (ساجد علی )۔ شاعر
1978ء عبد الحليم محمود۔ شیخ الازہر، ڈاکٹر
1978ء عبد الحلیم محمود۔ شیخ الازہر، ڈاکٹر
1982ء عبدالودود۔ مولانا، قاری
1991ء محمد اسحاق میمن۔ ،
1996ء فیروز گل۔ ،
1997ء سید اختر حسن ۔ ماہر تعلیم
2008ء محمد ایوب قادری۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
2009ء وحید قریشی۔ ڈاکٹڑ، ادیب، محقق، صدر اقبال اکیڈمی لاہور
2011ء حمید اختر۔ ادیب
2015ء سید نظام الدین گیاوی۔ مولانا، امیر شریعت بہار واڑیسہ، جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لابورڈ
2020ء ساحر شیوی (عبد اللہ)۔
2023ء ف۔ عبدالرحیم۔ ڈاکٹر،سربراہ شعبہ ترجمہ قرآن شاہ فہد پریس
1729ء کلیم اللہ جہاں آبادی ( شاہ)۔ صوفی بزرگ
1934ء امداد امام اثر۔ شاعر وادیب
1941ء می زیادہ۔ لبنانی ادیبہ
1963ء حیرت شاہ وارثی (رحیم بخش)۔ ،
1965ء حلیمہ بیگم۔ بیگم آئی آی چندریگر ،
1977ء حکیم محمد سعید۔ بانی ہمدرد پاکستان
1977ء محمد یوسف بنوری۔ حضرت مولانا، بانی جامعہ علوم اسلامیہ، بنوری ٹاون، کراچی
1978ء حسن حبنكة۔ شامی عالم ومجاہد
1978ء ساجد اسدی جے پوری (ساجد علی )۔ شاعر
1978ء عبد الحليم محمود۔ شیخ الازہر، ڈاکٹر
1978ء عبد الحلیم محمود۔ شیخ الازہر، ڈاکٹر
1982ء عبدالودود۔ مولانا، قاری
1991ء محمد اسحاق میمن۔ ،
1996ء فیروز گل۔ ،
1997ء سید اختر حسن ۔ ماہر تعلیم
2008ء محمد ایوب قادری۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
2009ء وحید قریشی۔ ڈاکٹڑ، ادیب، محقق، صدر اقبال اکیڈمی لاہور
2011ء حمید اختر۔ ادیب
2015ء سید نظام الدین گیاوی۔ مولانا، امیر شریعت بہار واڑیسہ، جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لابورڈ
2020ء ساحر شیوی (عبد اللہ)۔
2023ء ف۔ عبدالرحیم۔ ڈاکٹر،سربراہ شعبہ ترجمہ قرآن شاہ فہد پریس
خلافت بنی آدم
بیان و آواز: مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ
بانی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون ۔ کراچی
مورخہ 17/ أكتوبر 1977ء عظیم محدث و عالم دین حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ کی وفات ہوئی تھی۔ مولانا کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز مین ایک نادر ریکارڈنگ پیش کی جارہی ہے
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=khatm-e-nubauwat, Khatm-E-Nubauwat
علم وکتاب
بیان و آواز: مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ
بانی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون ۔ کراچی
مورخہ 17/ أكتوبر 1977ء عظیم محدث و عالم دین حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ کی وفات ہوئی تھی۔ مولانا کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز مین ایک نادر ریکارڈنگ پیش کی جارہی ہے
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=khatm-e-nubauwat, Khatm-E-Nubauwat
علم وکتاب
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
❤2
رد علی مقال ملحد
بیان وآواز: شیخ حسن حنبکہ المیدانیؒ
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=rad-ala-maqalat-mulhid, Rad Ala Maqalat Mulhid
شام کے عظیم عالم دین ومجاہد شیخ حسن حبنکہ المیدانی رحمۃ اللہ کی وفات مورخہ 10/ اکتوبر سنہ 1978ء کو واقع ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے 25-05-1967ء کو ہوئی ایک نادر تقریر پیش کی جارہی ہے۔
علم و کتاب
بیان وآواز: شیخ حسن حنبکہ المیدانیؒ
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=rad-ala-maqalat-mulhid, Rad Ala Maqalat Mulhid
شام کے عظیم عالم دین ومجاہد شیخ حسن حبنکہ المیدانی رحمۃ اللہ کی وفات مورخہ 10/ اکتوبر سنہ 1978ء کو واقع ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے 25-05-1967ء کو ہوئی ایک نادر تقریر پیش کی جارہی ہے۔
علم و کتاب
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
❤3
*وفیات مورخہ:اکتوبر 18*
1899ء حاجی امداد اللہ مہاجر مکی۔ سید الطائفہ حضرت
1908ء حسن رضا خان بریلوی۔ صوفی شاعر
1916ء لطف اللہ علی گڑھی۔ مولانا
1935ء محمد بخیت مطیعی۔ مفتی اعظم مصر
1948ء یوسف شاہ تاجی (عبدالکریم شاہ )۔ صوفی بزرگ
1969ء محمد اجمل خان۔ پروفیسر ،
1969ء محمد اجمل خان۔ پروفیسر ،
1972ء سید حسن ریاض۔ صحافی ، ادیب ، مورخ
1980ء محمد حسن زبیری۔ نعت گو شاعر
1980ء محمد حسن زبیری۔ نعت گو شاعر
1983ء احمد حسن دیوبندی۔ مولانا، شیخ الحدیث مفتاح العلوم جلال آباد
1986ء محمد عمران خان ندوی ازہری۔ مولانا، مہتمم مدرسہ تاج المساجد بھوپال
1988ء نسیم احمد فریدی امروہوی۔ مولانا مفتی
1989ء عبدالمصطفیٰ الازہری۔ مولانا ، مفسر قرآن ، شیخ الحدیث ، بریلوی مکتب فکر
1995ء محمد جعفر شیخ۔ خلیفہ ڈاکٹر فضل الرحمن، المرکز الاسلامی کراچی
2008ء مونس انصاری (پیر بخش)۔ شاعر
2009ء مقتدی حسن ازہری۔ مولانا، ڈاکٹر، مہتمم جامعہ سلفیہ بنارس
2011ء عزت اللہ صدیقی مروہوی۔ مولانا مفتی
2014ء خلیفہ عبد القیوم۔ پاکستانی سیاست دان
2016ء خلیق انجم۔ ادیب، محقق، صدر انجمن ترقی اردو ہند
2021ء اجمل نیازی۔ شاعر، صحافی
2022ء متین اچل پوری۔ شاعر
2023ء شارب ردولوی۔ شاعر، ادیب
1899ء حاجی امداد اللہ مہاجر مکی۔ سید الطائفہ حضرت
1908ء حسن رضا خان بریلوی۔ صوفی شاعر
1916ء لطف اللہ علی گڑھی۔ مولانا
1935ء محمد بخیت مطیعی۔ مفتی اعظم مصر
1948ء یوسف شاہ تاجی (عبدالکریم شاہ )۔ صوفی بزرگ
1969ء محمد اجمل خان۔ پروفیسر ،
1969ء محمد اجمل خان۔ پروفیسر ،
1972ء سید حسن ریاض۔ صحافی ، ادیب ، مورخ
1980ء محمد حسن زبیری۔ نعت گو شاعر
1980ء محمد حسن زبیری۔ نعت گو شاعر
1983ء احمد حسن دیوبندی۔ مولانا، شیخ الحدیث مفتاح العلوم جلال آباد
1986ء محمد عمران خان ندوی ازہری۔ مولانا، مہتمم مدرسہ تاج المساجد بھوپال
1988ء نسیم احمد فریدی امروہوی۔ مولانا مفتی
1989ء عبدالمصطفیٰ الازہری۔ مولانا ، مفسر قرآن ، شیخ الحدیث ، بریلوی مکتب فکر
1995ء محمد جعفر شیخ۔ خلیفہ ڈاکٹر فضل الرحمن، المرکز الاسلامی کراچی
2008ء مونس انصاری (پیر بخش)۔ شاعر
2009ء مقتدی حسن ازہری۔ مولانا، ڈاکٹر، مہتمم جامعہ سلفیہ بنارس
2011ء عزت اللہ صدیقی مروہوی۔ مولانا مفتی
2014ء خلیفہ عبد القیوم۔ پاکستانی سیاست دان
2016ء خلیق انجم۔ ادیب، محقق، صدر انجمن ترقی اردو ہند
2021ء اجمل نیازی۔ شاعر، صحافی
2022ء متین اچل پوری۔ شاعر
2023ء شارب ردولوی۔ شاعر، ادیب
*سچی باتیں (24؍مارچ 1941ء)۔۔۔ مسلمان اور ڈسپلن*
*تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی*
دُنیا میں جتنی بھی سلطنتوں کی فوجیں ہیں، بڑی سے بڑی ، اور بہتر سے بہتر، بہرحال زمین کے کسی مخصوص خطّہ ورقبہ کے اندر ہی ان کا وجود ہے۔ اب فرض کیجئے کوئی فوج ایسی ہے، جس کے سپاہی، تھوڑے یا بہت، روئے زمین کے ہر حصہ، ہر گوشہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اور ایک ہی وقت میں آسٹریلیا میں بھی ہیں اور افریقہ میں بھی۔ ہندوستان میں بھی اور چین میں بھی۔ استنبول میں بھی اور لندن میں بھی۔ مختلف عمروں کے، مختلف صحتوں کے، مختلف پیشون اور شغلوں میں۔ عورتیں بھی مردبھی۔ گورے بھی کالے بھی۔ اسی اسی سال کے بوڑھے بھی ، بارہ بارہ پندرہ پندرہ سال کے لڑکے بھی۔ ادھر اُن کو فوجی بگل بجا، اور اُدھر ایک ایک سپاہی اِس منتشر فوج کا، اپنی اپنی جگہ پریڈ کے لئے آمادہ ہوگیا! تنہا ہواتوتنہا، اور کئی ہوئے تو مل جُل کر، پھر یہ پریڈ کسی موسم، کسی مہینہ کے ساتھ مخصوص نہیں، گرمی میں لُو بدن جھلسائے دے رہی ہو تو ، برسات میں مینھ کی جھڑی لگی ہو تو، سال کے پورے تین سو پینسٹھ دن وہ پریڈ لازمی۔ سفر ہوتو، حضرہوتو، پریڈ کی پابندی سے معافی نہیں……ایسی عجیب وغریب فوج کی مثال آپ نے کہیں دیکھی ہے؟ اس ڈسپلن کی نظیر کہیں ملے گی؟اسے شکست دینے کا حوصلہ دنیا کی کوئی قوت رکھ سکتی ہے؟
فوج نظروں سے غائب نہیں، نگاہوں کے روبرو ہے، آپ کے گرداگرد ہے۔ عجب نہیں کی آپ خود اسی فوج کے سپاہی ہوں……مسلمان، دنیا کے کسی حصہ میں ہو، کسی حال میں ہو، ادھر نماز کا وقت آیا، اُدھر معًا کھڑا ہوجائے گا۔تنہا ہے تو دست بستہ، اور جماعت میں ہے تو صف بستہ! وہ منتظر پریڈ کے بگل کا نہ رہے گا۔ اپنے لشکر کا وہ آپ بگلچی ہے۔ اذان تو بس کہیں کہیں ہوتی ہے۔ وقت آنے پر وہ آپ ہی آپ ’’اٹینشن‘‘ پر ہوجائے گا……مسلمان اپروایسرائے کی پارٹی میں چائے پی رہاہے، مغرب کا وقت آتاہے ۔ معًا وہیں سبزہ پر قبلہ رُخ کھڑاہوجاتاہے۔ مسلمان غریب جنگل میں لکڑی کاٹ رہاہے پسینے میں شرابور۔ ظہر کا وقت آیا، اور جنگل میں اُس نے اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لئے!جہاز چلے جارہے ہیں ، اور نمازیں ہوتی جارہی ہیں۔ ریل چلی جارہی ہے، اورکھڑے یا بیٹھے جس طرح بھی ممکن ہے، نماز ادا ہورہی ہے۔ آس پاس کے مسافر سورہے ہیں، ہنس بول رہے ہیں، تاش کھیل رہے ہیں، لڑجھگڑ رہے ہیں، مسلمان مسافر مصلّی بچھانے کی فکر میں۔ ریل ٹھہری ، دوسرے مسافر سودے والوں پر ٹوٹ پڑے،مسلمان مسافر وضو اور نماز کی دوڑ دھوپ میں۔ شام کے وقت پارک میں تماشائیوں کا ہجوم، بازاری گاہکوں کی دھوم، رات کے وقت کا سنّاٹا ، صبح کی ٹھنڈی ہوا، دوپہر کواور سہ پہر کو عدالتوں میں، دفتروں میں، اسکولوں میں، کاروبار کی گرم بازاری میں، مسلمانوں کی لَو اپنی اسی پریڈ سے لگی ہوئی! پریڈ بھی دن رات میں ایک بار نہیں، پانچ پانچ بار، صبح بھی، دوپہر بھی، سہ پہر بھی، شام بھی، رات بھی!
زندہ مذہب، خالی الذہن ہوکر سوچئے، یہ ہے یا کوئی اور؟ حرکت اور زندگی جو اس مذہب میں ہے، اس کی نظیر کہیں اور ملے گی؟ یہ چوبیسوں گھنٹے والا، زندہ، بیدار، متحرک، مذہب اسلام ہی ہے یا کوئی اور؟……اور مستمر، مستقل، ہمہ وقتی، ہمہ جائی، ڈسپلن کی، بیداری کی، چستی کی، مستعدی کی، تازگیِ تعلق کی، مثال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی ڈسپلن والی، فوج میں ملے گی؟ جرمنی میں؟ امریکہ میں؟ روس میں؟ برطانیہ میں؟……حیف ہے کہ جس قوم یا امت کے اندر خود اتنا زبردست نظم، ایسی عظیم الشان تنظیم موجود ہو، اُس کے افراد ثابت ہوں، کارزار حیات کے کسی معرکے میں، دنیا وعقبیٰ کے کسی میدان میں بھی سست اور کاہل، پست ہمت اور ناکارے غافل وخوابیدہ!
Https://telegram.me/ilmokitab
*تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی*
دُنیا میں جتنی بھی سلطنتوں کی فوجیں ہیں، بڑی سے بڑی ، اور بہتر سے بہتر، بہرحال زمین کے کسی مخصوص خطّہ ورقبہ کے اندر ہی ان کا وجود ہے۔ اب فرض کیجئے کوئی فوج ایسی ہے، جس کے سپاہی، تھوڑے یا بہت، روئے زمین کے ہر حصہ، ہر گوشہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اور ایک ہی وقت میں آسٹریلیا میں بھی ہیں اور افریقہ میں بھی۔ ہندوستان میں بھی اور چین میں بھی۔ استنبول میں بھی اور لندن میں بھی۔ مختلف عمروں کے، مختلف صحتوں کے، مختلف پیشون اور شغلوں میں۔ عورتیں بھی مردبھی۔ گورے بھی کالے بھی۔ اسی اسی سال کے بوڑھے بھی ، بارہ بارہ پندرہ پندرہ سال کے لڑکے بھی۔ ادھر اُن کو فوجی بگل بجا، اور اُدھر ایک ایک سپاہی اِس منتشر فوج کا، اپنی اپنی جگہ پریڈ کے لئے آمادہ ہوگیا! تنہا ہواتوتنہا، اور کئی ہوئے تو مل جُل کر، پھر یہ پریڈ کسی موسم، کسی مہینہ کے ساتھ مخصوص نہیں، گرمی میں لُو بدن جھلسائے دے رہی ہو تو ، برسات میں مینھ کی جھڑی لگی ہو تو، سال کے پورے تین سو پینسٹھ دن وہ پریڈ لازمی۔ سفر ہوتو، حضرہوتو، پریڈ کی پابندی سے معافی نہیں……ایسی عجیب وغریب فوج کی مثال آپ نے کہیں دیکھی ہے؟ اس ڈسپلن کی نظیر کہیں ملے گی؟اسے شکست دینے کا حوصلہ دنیا کی کوئی قوت رکھ سکتی ہے؟
فوج نظروں سے غائب نہیں، نگاہوں کے روبرو ہے، آپ کے گرداگرد ہے۔ عجب نہیں کی آپ خود اسی فوج کے سپاہی ہوں……مسلمان، دنیا کے کسی حصہ میں ہو، کسی حال میں ہو، ادھر نماز کا وقت آیا، اُدھر معًا کھڑا ہوجائے گا۔تنہا ہے تو دست بستہ، اور جماعت میں ہے تو صف بستہ! وہ منتظر پریڈ کے بگل کا نہ رہے گا۔ اپنے لشکر کا وہ آپ بگلچی ہے۔ اذان تو بس کہیں کہیں ہوتی ہے۔ وقت آنے پر وہ آپ ہی آپ ’’اٹینشن‘‘ پر ہوجائے گا……مسلمان اپروایسرائے کی پارٹی میں چائے پی رہاہے، مغرب کا وقت آتاہے ۔ معًا وہیں سبزہ پر قبلہ رُخ کھڑاہوجاتاہے۔ مسلمان غریب جنگل میں لکڑی کاٹ رہاہے پسینے میں شرابور۔ ظہر کا وقت آیا، اور جنگل میں اُس نے اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لئے!جہاز چلے جارہے ہیں ، اور نمازیں ہوتی جارہی ہیں۔ ریل چلی جارہی ہے، اورکھڑے یا بیٹھے جس طرح بھی ممکن ہے، نماز ادا ہورہی ہے۔ آس پاس کے مسافر سورہے ہیں، ہنس بول رہے ہیں، تاش کھیل رہے ہیں، لڑجھگڑ رہے ہیں، مسلمان مسافر مصلّی بچھانے کی فکر میں۔ ریل ٹھہری ، دوسرے مسافر سودے والوں پر ٹوٹ پڑے،مسلمان مسافر وضو اور نماز کی دوڑ دھوپ میں۔ شام کے وقت پارک میں تماشائیوں کا ہجوم، بازاری گاہکوں کی دھوم، رات کے وقت کا سنّاٹا ، صبح کی ٹھنڈی ہوا، دوپہر کواور سہ پہر کو عدالتوں میں، دفتروں میں، اسکولوں میں، کاروبار کی گرم بازاری میں، مسلمانوں کی لَو اپنی اسی پریڈ سے لگی ہوئی! پریڈ بھی دن رات میں ایک بار نہیں، پانچ پانچ بار، صبح بھی، دوپہر بھی، سہ پہر بھی، شام بھی، رات بھی!
زندہ مذہب، خالی الذہن ہوکر سوچئے، یہ ہے یا کوئی اور؟ حرکت اور زندگی جو اس مذہب میں ہے، اس کی نظیر کہیں اور ملے گی؟ یہ چوبیسوں گھنٹے والا، زندہ، بیدار، متحرک، مذہب اسلام ہی ہے یا کوئی اور؟……اور مستمر، مستقل، ہمہ وقتی، ہمہ جائی، ڈسپلن کی، بیداری کی، چستی کی، مستعدی کی، تازگیِ تعلق کی، مثال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی ڈسپلن والی، فوج میں ملے گی؟ جرمنی میں؟ امریکہ میں؟ روس میں؟ برطانیہ میں؟……حیف ہے کہ جس قوم یا امت کے اندر خود اتنا زبردست نظم، ایسی عظیم الشان تنظیم موجود ہو، اُس کے افراد ثابت ہوں، کارزار حیات کے کسی معرکے میں، دنیا وعقبیٰ کے کسی میدان میں بھی سست اور کاہل، پست ہمت اور ناکارے غافل وخوابیدہ!
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
مولانا_احمد_حسن_دیوبندی۔_تحریرندیم_الواجدی.pdf
9.5 MB
مولانا احمد حسن دیوبندی۔۔۔ تحریر: ندیم الواجدی