شعر کا انتخاب کرتے ہوئے اس کے صحیح الفاظ، شاعر کے نام اور مفہوم کی صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ محض قافیہ و ردیف کی دل کشی یا کسی مشہور مصرعے کی مقبولیت اس کے استعمال کے لیے کافی نہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نثر کی اپنی ایک مستقل قوت ہے۔ اچھی نثر کو ہر قدم پر شعر کی بیساکھی درکار نہیں ہوتی۔ شاعری نثر کی معاون ضرور ہے، متبادل نہیں۔ نثر نگار کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنے خیالات کو اپنے الفاظ میں بھی مؤثر انداز سے بیان کرسکے اور جہاں شعر کی ضرورت محسوس ہو، وہاں اسے اس خوبی سے برتے کہ شعر تحریر میں اجنبی پیوند بننے کے بجائے اس کا فطری جزو معلوم ہو۔
اردو نثر میں شاعری کی اہمیت کو ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ نثر خیال کو زبان دیتی ہے اور شاعری اس زبان کو آہنگ عطا کرتی ہے؛ نثر بات سمجھاتی ہے اور شاعری کبھی کبھی وہ بات دل میں اتار دیتی ہے۔ جب فکر کی سنجیدگی، نثر کی روانی اور شعر کی رعنائی و زیبائی یکجا ہوجائیں تو تحریر محض پڑھی نہیں جاتی، محسوس بھی کی جاتی ہے؛ اسی طرح بعض تحریریں ایسی ہوتی ہیں جن کا آہنگ دیر تک دل و دماغ میں گونجتا رہتا ہے۔
کبھی کبھی آپ کا برمحل شعر آپ کی شعر دانی کی دلیل بن جاتا ہے اور کبھی کبھی بے محل استعمال ذلیل کرجاتا ہے۔
آپ یہ بالکل نہ سوچیں کہ آپ فکر دیتے ہیں نہیں آپ اپنے قارئین کر فکر کے ساتھ راہ دیتے ہیں، کتابوں کی طرف کھینچتے ہیں، گل و گلشن کی دعوت دیتے ہیں، فکر و فن کا خوگر بناتے ہیں، الفاظ و تراکیب کا درست استعمال بتاتے ہیں، لفظی تبدیلیوں کا ہنر سکھاتے ہیں، ہر سطر ہر صفحہ پر مقالہ و مضمون قاری کو کچھ نہ کچھ دے کر جاتا ہے۔آپ بھی دینے والے ہیں تو اچھی چیزیں اپنے مضمون کے ذریعہ دیجیے ۔
(تین جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نثر کی اپنی ایک مستقل قوت ہے۔ اچھی نثر کو ہر قدم پر شعر کی بیساکھی درکار نہیں ہوتی۔ شاعری نثر کی معاون ضرور ہے، متبادل نہیں۔ نثر نگار کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ اپنے خیالات کو اپنے الفاظ میں بھی مؤثر انداز سے بیان کرسکے اور جہاں شعر کی ضرورت محسوس ہو، وہاں اسے اس خوبی سے برتے کہ شعر تحریر میں اجنبی پیوند بننے کے بجائے اس کا فطری جزو معلوم ہو۔
اردو نثر میں شاعری کی اہمیت کو ایک جملے میں سمیٹنا ہو تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ نثر خیال کو زبان دیتی ہے اور شاعری اس زبان کو آہنگ عطا کرتی ہے؛ نثر بات سمجھاتی ہے اور شاعری کبھی کبھی وہ بات دل میں اتار دیتی ہے۔ جب فکر کی سنجیدگی، نثر کی روانی اور شعر کی رعنائی و زیبائی یکجا ہوجائیں تو تحریر محض پڑھی نہیں جاتی، محسوس بھی کی جاتی ہے؛ اسی طرح بعض تحریریں ایسی ہوتی ہیں جن کا آہنگ دیر تک دل و دماغ میں گونجتا رہتا ہے۔
کبھی کبھی آپ کا برمحل شعر آپ کی شعر دانی کی دلیل بن جاتا ہے اور کبھی کبھی بے محل استعمال ذلیل کرجاتا ہے۔
آپ یہ بالکل نہ سوچیں کہ آپ فکر دیتے ہیں نہیں آپ اپنے قارئین کر فکر کے ساتھ راہ دیتے ہیں، کتابوں کی طرف کھینچتے ہیں، گل و گلشن کی دعوت دیتے ہیں، فکر و فن کا خوگر بناتے ہیں، الفاظ و تراکیب کا درست استعمال بتاتے ہیں، لفظی تبدیلیوں کا ہنر سکھاتے ہیں، ہر سطر ہر صفحہ پر مقالہ و مضمون قاری کو کچھ نہ کچھ دے کر جاتا ہے۔آپ بھی دینے والے ہیں تو اچھی چیزیں اپنے مضمون کے ذریعہ دیجیے ۔
(تین جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
❤1
بیتی یادیں (04) آخری
انٹرویو: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی
سابق مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
مولانائے مرحوم سے مولوی عبد المتین منیری کے لئے ہوئے یادگار انٹرویو کا آخری حصہ
www.youtube.com/watch?v=MrBsAeTq3N0&t=134s
انٹرویو: مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی
سابق مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو
مولانائے مرحوم سے مولوی عبد المتین منیری کے لئے ہوئے یادگار انٹرویو کا آخری حصہ
www.youtube.com/watch?v=MrBsAeTq3N0&t=134s
YouTube
Beeti Yadain Part 04 Moulana Saidur Rahman Azami Nadwi
حضرت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی ۔ سابق مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو و مدیر البعث الاسلامی لکھنو کی یادوں پر مبنی سنہ 2007ء مولوی عبد المتین منیری کو دئے گئے تاریخی انٹرویو کی آخری قسط
❤1
*دور المكتبات في التاريخ الإسلامي*
*محاضرة الشيخ العلامة أبو الحسن علي الحسن الندوي رحمة الله*
بمناسبة افتتاح مكتبة الشيخ عبد الله على المحمود بالشارقة
في عام 1982ء
الرابط
https://youtu.be/o_OkmCO7k44?si=cjC38FG3ENYT9-pQ
*محاضرة الشيخ العلامة أبو الحسن علي الحسن الندوي رحمة الله*
بمناسبة افتتاح مكتبة الشيخ عبد الله على المحمود بالشارقة
في عام 1982ء
الرابط
https://youtu.be/o_OkmCO7k44?si=cjC38FG3ENYT9-pQ
❤1
*غلطی ہائے مضامین*
*کُنجی کو کمر بند میں زِنہار نہ باندھو*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
کوئی ہفتہ بھر پہلے برادرم سہیل احمد صدیقی کی ”بزمِ زبان فہمی“ میں ’زینہار فہمی‘ کی کوشش کی گئی۔ سوچا کہ اس کوشش میں اِس کالم کے قارئین کو بھی شریک کر لیا جائے۔ وہاں بات چلی تھی غالبؔ کی ایک نظم کے اُس شعر سے جس میں غالبؔ نے ”ہیں گے“ استعمال کیا ہے:
بیچ میں ان کے نہ آنا زینہار
یہ نہیں ہیں گے کسے کے یارِ غار
”ہیں گے“ اور ”ہے گا“ کا استعمال ہندوستان میں مغربی یوپی اور دہلی کے اطراف میں عام تھا۔ شاید اسی وجہ سے غالبؔ نے بھی استعمال کر لیا ۔ علی گڑھ، امروہہ، بلند شہر اور مظفر نگر وغیرہ میں روز مرہ بول چال کا حصہ تھا۔ عوام کی بول چال ہی میں نہیں قدما کی شاعری میں بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہیں ، مثلاً بلبل کو گُل پر پھولتے دیکھ کرمیر تقی میرؔ نے محبوب کی کچھ ایسی مدح کی کہ محبوب بھی پھول کر کُپّا ہوگیا ہوگا:
تُو گُلِ باغ پر نہ بلبل پھول
وہ بھی ہے گا گلاب کا سا پھول
اسی طرح میرؔ صاحب نے اس دنیائے فانی میں ’حیات‘ کے قیدیوں کو ’موت‘ کے منہ میں جاتے دیکھ کرقدرے حیرت کا اظہار کیا:
قیدِ حیات، قید کوئی سخت ہے کہ روز
مر رہتے ہیں گے اِس کے گرفتار ایک دو
شیخ ظہور الدین حاتمؔ نے تو سخاوت کر کے پوری غزل کی ردیف ہی ’ہے گا‘ باندھ دی۔ آپ کی خدمت میں غزل کامطلع عرض ہے:
دل مرا آج یار میں ہے گا
کس خزاں میں بہار میں ہے گا
پھر میر اَمّن دہلوی کی ”داستانِ باغ و بہار“ یعنی قصۂ چہار درویش کا دوسرا درویش چار زانو بیٹھ کر اپنی داستان یوں شروع کرتا ہے:
اے یارو! اِس فقیر کا ٹک ماجرا سنو
میں ابتدا سے کہتا ہوں تا انتہا سنو
جس کا علاج کر نہیں سکتا کوئی حکیم
ہے گا ہمارا درد نپٹ لا دوا سنو
تو قدیم اُردو میں ایسی مثالیں اور بھی بہت مل جائیں گی۔ مگرجدید اُردو کی نظم و نثر میں ”ہے گا“ یا ”ہیں گے“ کے استعمال کی مثالیں کم ملتی ہیں ۔ تاہم بول چال میں ہمارے صوبہ سند ھ کے بعض شہروں (بالخصوص کراچی ، حیدر آباد) اورصوبہ پنجاب کے کچھ شہری علاقوں میں اب بھی ”ہے گا“ اور ”ہیں گے“ بولنے والے جا بجا ملتے ہیں گے۔ ناظرین کو یاد ہوگا کہ فاروق قیصر مرحوم کے مقبول طنزیہ و مزاحیہ پروگرام ”کلیاں “ کے ایک دلچسپ کردار کا نام ہی ”ہیگا“ تھا ۔ انکل سرگم جب بھی ”ہیگا“ کوآواز دے کر بُلاتے، وہ اُٹھ کر جھٹ جواب دیتا:
”انکل! ہیگا موجود ہے گا، جیسے پانی میں دودھ ہے گا!“
(دودھ میں پانی ملانے والوں پر لطیف طنز)
مگر ہمارے آج کے کالم کا موضوع تو ”ہے گا“ نہیں ہے گا۔آج کاموضوع ہے گا ’زینہار‘ اور’ زنہار‘۔
ہاں تو……اُس روز ”بزمِ زبان فہی“ میں جب ”زینہار“ یا ”زنہار“ کے متعلق بار بار استفسار کیا گیا تو ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے۔ سو، اُس وقت تو بزم میں بس یہ عرض کر دیا تھا کہ
ؔؔ ”زنہار کے اور بھی کئی معانی ہیں ، مگر اُردو میں ’زنہار‘ بالعموم نفی کے لیے آتا ہے۔ ہرگزاور حاشا وغیرہ کے معنوں میں “۔
پھر اِن معنوں میں زنہار کے استعمال کی جو مثال فور ی طور پر ذہن میں آئی وہ اکبرؔ الٰہ آبادی کا ایک شعر تھا۔سو، شعر بھی عرض کر دیا:
کُنجی کو کمر بند میں زنہار نہ باندھو
لوہے سے بہت ڈرتی ہے سرکار ہماری
سنہ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مقامی کارخانوں میں ہتھیاروں کی تیاری روکنے کے لیے انگریزی سامراج نے 1878ء میں ایک سخت قانون بنایا تھا۔ ہر قسم کا لوہا، حتیٰ کہ خام لوہا رکھنا اور جمع کرنابھی جرم قرار دے دیا گیا۔ ممکن ہے اکبرؔ نے یہ شعر اُسی تناظرمیں کہا ہو۔
’زِنہار‘ فارسی لفظ ہے۔ اصلاً یہ لفظ’زینہار‘ ہے۔ تخفیف کر کے ضرورتِ شعری کے تحت ’زنہار‘ کر لیا گیا ہے۔ بے ضرورتِ شعری، یعنی نثر میں بھی، ’زنہار‘ استعمال کر لیا جاتا ہے۔ ویسے شعرائے کرام نے اشعار میں بھی دونوں طرح سے استعمال کیا ہے۔ تخفیف کے ساتھ بھی اور تخفیف کے بغیر بھی۔ مثلاً میرؔ نے ظالم محبوب کے متوقع مظلومین یعنی نو واردانِ عشق کو”آگے خطرہ ہے“ کی تنبیہ کرتے ہوئے ڈرایا:
ہونا نہ چار چشمِ دل اُس ظلم پیشہ سے
ہُشیار، زینہار، خبردار دیکھنا
پھر میرؔ صاحب نے اسی پر بس نہیں کیا ، بلکہ بڑے شدّ و مد سے (دیگراں را) نصیحت کا فریضہ بھی ادا کیا اور فارغ ہوئے شتابی سے:
مانگ پناہ خدا سے بندے دل لگنا اِک آفت ہے
عشق نہ کر، زنہار نہ کر، واللہ نہ کر، باللہ نہ کر
سو، دیکھ لیا ہوگا آپ نے میرؔ کے ان اشعار میں ، کہ زینہار یا زنہار کا لفظ احتیاط کی تلقین کے لیے یا کسی خطرے سے ہوشیار اور خبردار کرنے کو کلمۂ تاکید وتنبیہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہرگز، حاشا، بالکل، کبھی اور مطلق کے معانی و مفاہیم میں۔ مگر یہ لفظ محض نفی کے لیے، یعنی صرف منع کرنے کے لیے نہیں آتا، اثبات میں کسی بات پر اصرار کرنے یا زور دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ میرؔ کی طرح غالبؔ نے بھی نئے نویلے عشاق کو نصیحت کرتے ہوئے اُنھیں اپنی ہی مثال دے دے کر عبرت دلائی
*کُنجی کو کمر بند میں زِنہار نہ باندھو*
*احمد حاطب صدیقی (ابونثر)*
کوئی ہفتہ بھر پہلے برادرم سہیل احمد صدیقی کی ”بزمِ زبان فہمی“ میں ’زینہار فہمی‘ کی کوشش کی گئی۔ سوچا کہ اس کوشش میں اِس کالم کے قارئین کو بھی شریک کر لیا جائے۔ وہاں بات چلی تھی غالبؔ کی ایک نظم کے اُس شعر سے جس میں غالبؔ نے ”ہیں گے“ استعمال کیا ہے:
بیچ میں ان کے نہ آنا زینہار
یہ نہیں ہیں گے کسے کے یارِ غار
”ہیں گے“ اور ”ہے گا“ کا استعمال ہندوستان میں مغربی یوپی اور دہلی کے اطراف میں عام تھا۔ شاید اسی وجہ سے غالبؔ نے بھی استعمال کر لیا ۔ علی گڑھ، امروہہ، بلند شہر اور مظفر نگر وغیرہ میں روز مرہ بول چال کا حصہ تھا۔ عوام کی بول چال ہی میں نہیں قدما کی شاعری میں بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہیں ، مثلاً بلبل کو گُل پر پھولتے دیکھ کرمیر تقی میرؔ نے محبوب کی کچھ ایسی مدح کی کہ محبوب بھی پھول کر کُپّا ہوگیا ہوگا:
تُو گُلِ باغ پر نہ بلبل پھول
وہ بھی ہے گا گلاب کا سا پھول
اسی طرح میرؔ صاحب نے اس دنیائے فانی میں ’حیات‘ کے قیدیوں کو ’موت‘ کے منہ میں جاتے دیکھ کرقدرے حیرت کا اظہار کیا:
قیدِ حیات، قید کوئی سخت ہے کہ روز
مر رہتے ہیں گے اِس کے گرفتار ایک دو
شیخ ظہور الدین حاتمؔ نے تو سخاوت کر کے پوری غزل کی ردیف ہی ’ہے گا‘ باندھ دی۔ آپ کی خدمت میں غزل کامطلع عرض ہے:
دل مرا آج یار میں ہے گا
کس خزاں میں بہار میں ہے گا
پھر میر اَمّن دہلوی کی ”داستانِ باغ و بہار“ یعنی قصۂ چہار درویش کا دوسرا درویش چار زانو بیٹھ کر اپنی داستان یوں شروع کرتا ہے:
اے یارو! اِس فقیر کا ٹک ماجرا سنو
میں ابتدا سے کہتا ہوں تا انتہا سنو
جس کا علاج کر نہیں سکتا کوئی حکیم
ہے گا ہمارا درد نپٹ لا دوا سنو
تو قدیم اُردو میں ایسی مثالیں اور بھی بہت مل جائیں گی۔ مگرجدید اُردو کی نظم و نثر میں ”ہے گا“ یا ”ہیں گے“ کے استعمال کی مثالیں کم ملتی ہیں ۔ تاہم بول چال میں ہمارے صوبہ سند ھ کے بعض شہروں (بالخصوص کراچی ، حیدر آباد) اورصوبہ پنجاب کے کچھ شہری علاقوں میں اب بھی ”ہے گا“ اور ”ہیں گے“ بولنے والے جا بجا ملتے ہیں گے۔ ناظرین کو یاد ہوگا کہ فاروق قیصر مرحوم کے مقبول طنزیہ و مزاحیہ پروگرام ”کلیاں “ کے ایک دلچسپ کردار کا نام ہی ”ہیگا“ تھا ۔ انکل سرگم جب بھی ”ہیگا“ کوآواز دے کر بُلاتے، وہ اُٹھ کر جھٹ جواب دیتا:
”انکل! ہیگا موجود ہے گا، جیسے پانی میں دودھ ہے گا!“
(دودھ میں پانی ملانے والوں پر لطیف طنز)
مگر ہمارے آج کے کالم کا موضوع تو ”ہے گا“ نہیں ہے گا۔آج کاموضوع ہے گا ’زینہار‘ اور’ زنہار‘۔
ہاں تو……اُس روز ”بزمِ زبان فہی“ میں جب ”زینہار“ یا ”زنہار“ کے متعلق بار بار استفسار کیا گیا تو ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے۔ سو، اُس وقت تو بزم میں بس یہ عرض کر دیا تھا کہ
ؔؔ ”زنہار کے اور بھی کئی معانی ہیں ، مگر اُردو میں ’زنہار‘ بالعموم نفی کے لیے آتا ہے۔ ہرگزاور حاشا وغیرہ کے معنوں میں “۔
پھر اِن معنوں میں زنہار کے استعمال کی جو مثال فور ی طور پر ذہن میں آئی وہ اکبرؔ الٰہ آبادی کا ایک شعر تھا۔سو، شعر بھی عرض کر دیا:
کُنجی کو کمر بند میں زنہار نہ باندھو
لوہے سے بہت ڈرتی ہے سرکار ہماری
سنہ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مقامی کارخانوں میں ہتھیاروں کی تیاری روکنے کے لیے انگریزی سامراج نے 1878ء میں ایک سخت قانون بنایا تھا۔ ہر قسم کا لوہا، حتیٰ کہ خام لوہا رکھنا اور جمع کرنابھی جرم قرار دے دیا گیا۔ ممکن ہے اکبرؔ نے یہ شعر اُسی تناظرمیں کہا ہو۔
’زِنہار‘ فارسی لفظ ہے۔ اصلاً یہ لفظ’زینہار‘ ہے۔ تخفیف کر کے ضرورتِ شعری کے تحت ’زنہار‘ کر لیا گیا ہے۔ بے ضرورتِ شعری، یعنی نثر میں بھی، ’زنہار‘ استعمال کر لیا جاتا ہے۔ ویسے شعرائے کرام نے اشعار میں بھی دونوں طرح سے استعمال کیا ہے۔ تخفیف کے ساتھ بھی اور تخفیف کے بغیر بھی۔ مثلاً میرؔ نے ظالم محبوب کے متوقع مظلومین یعنی نو واردانِ عشق کو”آگے خطرہ ہے“ کی تنبیہ کرتے ہوئے ڈرایا:
ہونا نہ چار چشمِ دل اُس ظلم پیشہ سے
ہُشیار، زینہار، خبردار دیکھنا
پھر میرؔ صاحب نے اسی پر بس نہیں کیا ، بلکہ بڑے شدّ و مد سے (دیگراں را) نصیحت کا فریضہ بھی ادا کیا اور فارغ ہوئے شتابی سے:
مانگ پناہ خدا سے بندے دل لگنا اِک آفت ہے
عشق نہ کر، زنہار نہ کر، واللہ نہ کر، باللہ نہ کر
سو، دیکھ لیا ہوگا آپ نے میرؔ کے ان اشعار میں ، کہ زینہار یا زنہار کا لفظ احتیاط کی تلقین کے لیے یا کسی خطرے سے ہوشیار اور خبردار کرنے کو کلمۂ تاکید وتنبیہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہرگز، حاشا، بالکل، کبھی اور مطلق کے معانی و مفاہیم میں۔ مگر یہ لفظ محض نفی کے لیے، یعنی صرف منع کرنے کے لیے نہیں آتا، اثبات میں کسی بات پر اصرار کرنے یا زور دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ میرؔ کی طرح غالبؔ نے بھی نئے نویلے عشاق کو نصیحت کرتے ہوئے اُنھیں اپنی ہی مثال دے دے کر عبرت دلائی
❤2
اور سبق لینے کی تاکید کی:
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمھیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا،”زنہار کے اور بھی کئی معانی ہیں ،تو ’زنہار‘ کے ایک معنی امان، پناہ اور رحم وغیرہ کے بھی ہیں ۔ ان معنوں میں لفظ ’زنہار‘ کے استعمال کی ایک مثال ہمیں اقبالؔ کے اس شعر میں ملتی ہے:
خام ہے جب تک، تو ہے مٹی کا اِک انبار تُو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تُو
اسی طرح ”جاوید نامہ“ میں کہتے ہیں کہ یہ جو ’لااِلٰہ‘ کے دو حرف ہیں یہ محض’ گفتار‘ نہیں ہیں یہ ’تیغِ بے زنہار‘ ہیں ۔ایسی تلوار جو کسی کو نہیں بخشتی۔خواہ آئی ایم ایف ہو (کوئی اقتصادی طاقت) یا دنیا کی بڑی سے بڑی عسکری طاقت: ’لااِلٰہ‘۔اِن میں سے کسی کو اِلٰہ نہ جانو!
٭٭
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمھیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا،”زنہار کے اور بھی کئی معانی ہیں ،تو ’زنہار‘ کے ایک معنی امان، پناہ اور رحم وغیرہ کے بھی ہیں ۔ ان معنوں میں لفظ ’زنہار‘ کے استعمال کی ایک مثال ہمیں اقبالؔ کے اس شعر میں ملتی ہے:
خام ہے جب تک، تو ہے مٹی کا اِک انبار تُو
پختہ ہو جائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تُو
اسی طرح ”جاوید نامہ“ میں کہتے ہیں کہ یہ جو ’لااِلٰہ‘ کے دو حرف ہیں یہ محض’ گفتار‘ نہیں ہیں یہ ’تیغِ بے زنہار‘ ہیں ۔ایسی تلوار جو کسی کو نہیں بخشتی۔خواہ آئی ایم ایف ہو (کوئی اقتصادی طاقت) یا دنیا کی بڑی سے بڑی عسکری طاقت: ’لااِلٰہ‘۔اِن میں سے کسی کو اِلٰہ نہ جانو!
٭٭
❤1
2026-10-16 Dastan Jari Hai 005.pdf
7.5 MB
داستان جاری ہے (05) ابو الحسن نغمی
*دور المكتبات في التاريخ الإسلامي*
*محاضرة الشيخ العلامة أبو الحسن علي الحسن الندوي رحمة الله*
بمناسبة افتتاح مكتبة الشيخ عبد الله على المحمود بالشارقة
في عام 1982ء
الرابط
https://youtu.be/o_OkmCO7k44?si=cjC38FG3ENYT9-pQ
*محاضرة الشيخ العلامة أبو الحسن علي الحسن الندوي رحمة الله*
بمناسبة افتتاح مكتبة الشيخ عبد الله على المحمود بالشارقة
في عام 1982ء
الرابط
https://youtu.be/o_OkmCO7k44?si=cjC38FG3ENYT9-pQ
❤1
*وفیات مورخہ:اکتوبر 17*
1729ء کلیم اللہ جہاں آبادی ( شاہ)۔ صوفی بزرگ
1934ء امداد امام اثر۔ شاعر وادیب
1941ء می زیادہ۔ لبنانی ادیبہ
1963ء حیرت شاہ وارثی (رحیم بخش)۔ ،
1965ء حلیمہ بیگم۔ بیگم آئی آی چندریگر ،
1977ء حکیم محمد سعید۔ بانی ہمدرد پاکستان
1977ء محمد یوسف بنوری۔ حضرت مولانا، بانی جامعہ علوم اسلامیہ، بنوری ٹاون، کراچی
1978ء حسن حبنكة۔ شامی عالم ومجاہد
1978ء ساجد اسدی جے پوری (ساجد علی )۔ شاعر
1978ء عبد الحليم محمود۔ شیخ الازہر، ڈاکٹر
1978ء عبد الحلیم محمود۔ شیخ الازہر، ڈاکٹر
1982ء عبدالودود۔ مولانا، قاری
1991ء محمد اسحاق میمن۔ ،
1996ء فیروز گل۔ ،
1997ء سید اختر حسن ۔ ماہر تعلیم
2008ء محمد ایوب قادری۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
2009ء وحید قریشی۔ ڈاکٹڑ، ادیب، محقق، صدر اقبال اکیڈمی لاہور
2011ء حمید اختر۔ ادیب
2015ء سید نظام الدین گیاوی۔ مولانا، امیر شریعت بہار واڑیسہ، جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لابورڈ
2020ء ساحر شیوی (عبد اللہ)۔
2023ء ف۔ عبدالرحیم۔ ڈاکٹر،سربراہ شعبہ ترجمہ قرآن شاہ فہد پریس
1729ء کلیم اللہ جہاں آبادی ( شاہ)۔ صوفی بزرگ
1934ء امداد امام اثر۔ شاعر وادیب
1941ء می زیادہ۔ لبنانی ادیبہ
1963ء حیرت شاہ وارثی (رحیم بخش)۔ ،
1965ء حلیمہ بیگم۔ بیگم آئی آی چندریگر ،
1977ء حکیم محمد سعید۔ بانی ہمدرد پاکستان
1977ء محمد یوسف بنوری۔ حضرت مولانا، بانی جامعہ علوم اسلامیہ، بنوری ٹاون، کراچی
1978ء حسن حبنكة۔ شامی عالم ومجاہد
1978ء ساجد اسدی جے پوری (ساجد علی )۔ شاعر
1978ء عبد الحليم محمود۔ شیخ الازہر، ڈاکٹر
1978ء عبد الحلیم محمود۔ شیخ الازہر، ڈاکٹر
1982ء عبدالودود۔ مولانا، قاری
1991ء محمد اسحاق میمن۔ ،
1996ء فیروز گل۔ ،
1997ء سید اختر حسن ۔ ماہر تعلیم
2008ء محمد ایوب قادری۔ ڈاکٹر ، پروفیسر
2009ء وحید قریشی۔ ڈاکٹڑ، ادیب، محقق، صدر اقبال اکیڈمی لاہور
2011ء حمید اختر۔ ادیب
2015ء سید نظام الدین گیاوی۔ مولانا، امیر شریعت بہار واڑیسہ، جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لابورڈ
2020ء ساحر شیوی (عبد اللہ)۔
2023ء ف۔ عبدالرحیم۔ ڈاکٹر،سربراہ شعبہ ترجمہ قرآن شاہ فہد پریس
خلافت بنی آدم
بیان و آواز: مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ
بانی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون ۔ کراچی
مورخہ 17/ أكتوبر 1977ء عظیم محدث و عالم دین حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ کی وفات ہوئی تھی۔ مولانا کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز مین ایک نادر ریکارڈنگ پیش کی جارہی ہے
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=khatm-e-nubauwat, Khatm-E-Nubauwat
علم وکتاب
بیان و آواز: مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ
بانی جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون ۔ کراچی
مورخہ 17/ أكتوبر 1977ء عظیم محدث و عالم دین حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ کی وفات ہوئی تھی۔ مولانا کو یاد کرتے ہوئے آپ کی آواز مین ایک نادر ریکارڈنگ پیش کی جارہی ہے
لنک
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=khatm-e-nubauwat, Khatm-E-Nubauwat
علم وکتاب
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
❤2
رد علی مقال ملحد
بیان وآواز: شیخ حسن حنبکہ المیدانیؒ
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=rad-ala-maqalat-mulhid, Rad Ala Maqalat Mulhid
شام کے عظیم عالم دین ومجاہد شیخ حسن حبنکہ المیدانی رحمۃ اللہ کی وفات مورخہ 10/ اکتوبر سنہ 1978ء کو واقع ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے 25-05-1967ء کو ہوئی ایک نادر تقریر پیش کی جارہی ہے۔
علم و کتاب
بیان وآواز: شیخ حسن حنبکہ المیدانیؒ
https://audio.bhatkallys.com/audios/?id=rad-ala-maqalat-mulhid, Rad Ala Maqalat Mulhid
شام کے عظیم عالم دین ومجاہد شیخ حسن حبنکہ المیدانی رحمۃ اللہ کی وفات مورخہ 10/ اکتوبر سنہ 1978ء کو واقع ہوئی تھی۔ اس مناسبت سے آپ کو یاد کرتے ہوئے 25-05-1967ء کو ہوئی ایک نادر تقریر پیش کی جارہی ہے۔
علم و کتاب
Bhatkallys
Audios » Urdu Audio
Listen to the huge collection of urdu audios on UrduAudio.com
❤3
*وفیات مورخہ:اکتوبر 18*
1899ء حاجی امداد اللہ مہاجر مکی۔ سید الطائفہ حضرت
1908ء حسن رضا خان بریلوی۔ صوفی شاعر
1916ء لطف اللہ علی گڑھی۔ مولانا
1935ء محمد بخیت مطیعی۔ مفتی اعظم مصر
1948ء یوسف شاہ تاجی (عبدالکریم شاہ )۔ صوفی بزرگ
1969ء محمد اجمل خان۔ پروفیسر ،
1969ء محمد اجمل خان۔ پروفیسر ،
1972ء سید حسن ریاض۔ صحافی ، ادیب ، مورخ
1980ء محمد حسن زبیری۔ نعت گو شاعر
1980ء محمد حسن زبیری۔ نعت گو شاعر
1983ء احمد حسن دیوبندی۔ مولانا، شیخ الحدیث مفتاح العلوم جلال آباد
1986ء محمد عمران خان ندوی ازہری۔ مولانا، مہتمم مدرسہ تاج المساجد بھوپال
1988ء نسیم احمد فریدی امروہوی۔ مولانا مفتی
1989ء عبدالمصطفیٰ الازہری۔ مولانا ، مفسر قرآن ، شیخ الحدیث ، بریلوی مکتب فکر
1995ء محمد جعفر شیخ۔ خلیفہ ڈاکٹر فضل الرحمن، المرکز الاسلامی کراچی
2008ء مونس انصاری (پیر بخش)۔ شاعر
2009ء مقتدی حسن ازہری۔ مولانا، ڈاکٹر، مہتمم جامعہ سلفیہ بنارس
2011ء عزت اللہ صدیقی مروہوی۔ مولانا مفتی
2014ء خلیفہ عبد القیوم۔ پاکستانی سیاست دان
2016ء خلیق انجم۔ ادیب، محقق، صدر انجمن ترقی اردو ہند
2021ء اجمل نیازی۔ شاعر، صحافی
2022ء متین اچل پوری۔ شاعر
2023ء شارب ردولوی۔ شاعر، ادیب
1899ء حاجی امداد اللہ مہاجر مکی۔ سید الطائفہ حضرت
1908ء حسن رضا خان بریلوی۔ صوفی شاعر
1916ء لطف اللہ علی گڑھی۔ مولانا
1935ء محمد بخیت مطیعی۔ مفتی اعظم مصر
1948ء یوسف شاہ تاجی (عبدالکریم شاہ )۔ صوفی بزرگ
1969ء محمد اجمل خان۔ پروفیسر ،
1969ء محمد اجمل خان۔ پروفیسر ،
1972ء سید حسن ریاض۔ صحافی ، ادیب ، مورخ
1980ء محمد حسن زبیری۔ نعت گو شاعر
1980ء محمد حسن زبیری۔ نعت گو شاعر
1983ء احمد حسن دیوبندی۔ مولانا، شیخ الحدیث مفتاح العلوم جلال آباد
1986ء محمد عمران خان ندوی ازہری۔ مولانا، مہتمم مدرسہ تاج المساجد بھوپال
1988ء نسیم احمد فریدی امروہوی۔ مولانا مفتی
1989ء عبدالمصطفیٰ الازہری۔ مولانا ، مفسر قرآن ، شیخ الحدیث ، بریلوی مکتب فکر
1995ء محمد جعفر شیخ۔ خلیفہ ڈاکٹر فضل الرحمن، المرکز الاسلامی کراچی
2008ء مونس انصاری (پیر بخش)۔ شاعر
2009ء مقتدی حسن ازہری۔ مولانا، ڈاکٹر، مہتمم جامعہ سلفیہ بنارس
2011ء عزت اللہ صدیقی مروہوی۔ مولانا مفتی
2014ء خلیفہ عبد القیوم۔ پاکستانی سیاست دان
2016ء خلیق انجم۔ ادیب، محقق، صدر انجمن ترقی اردو ہند
2021ء اجمل نیازی۔ شاعر، صحافی
2022ء متین اچل پوری۔ شاعر
2023ء شارب ردولوی۔ شاعر، ادیب
*سچی باتیں (24؍مارچ 1941ء)۔۔۔ مسلمان اور ڈسپلن*
*تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی*
دُنیا میں جتنی بھی سلطنتوں کی فوجیں ہیں، بڑی سے بڑی ، اور بہتر سے بہتر، بہرحال زمین کے کسی مخصوص خطّہ ورقبہ کے اندر ہی ان کا وجود ہے۔ اب فرض کیجئے کوئی فوج ایسی ہے، جس کے سپاہی، تھوڑے یا بہت، روئے زمین کے ہر حصہ، ہر گوشہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اور ایک ہی وقت میں آسٹریلیا میں بھی ہیں اور افریقہ میں بھی۔ ہندوستان میں بھی اور چین میں بھی۔ استنبول میں بھی اور لندن میں بھی۔ مختلف عمروں کے، مختلف صحتوں کے، مختلف پیشون اور شغلوں میں۔ عورتیں بھی مردبھی۔ گورے بھی کالے بھی۔ اسی اسی سال کے بوڑھے بھی ، بارہ بارہ پندرہ پندرہ سال کے لڑکے بھی۔ ادھر اُن کو فوجی بگل بجا، اور اُدھر ایک ایک سپاہی اِس منتشر فوج کا، اپنی اپنی جگہ پریڈ کے لئے آمادہ ہوگیا! تنہا ہواتوتنہا، اور کئی ہوئے تو مل جُل کر، پھر یہ پریڈ کسی موسم، کسی مہینہ کے ساتھ مخصوص نہیں، گرمی میں لُو بدن جھلسائے دے رہی ہو تو ، برسات میں مینھ کی جھڑی لگی ہو تو، سال کے پورے تین سو پینسٹھ دن وہ پریڈ لازمی۔ سفر ہوتو، حضرہوتو، پریڈ کی پابندی سے معافی نہیں……ایسی عجیب وغریب فوج کی مثال آپ نے کہیں دیکھی ہے؟ اس ڈسپلن کی نظیر کہیں ملے گی؟اسے شکست دینے کا حوصلہ دنیا کی کوئی قوت رکھ سکتی ہے؟
فوج نظروں سے غائب نہیں، نگاہوں کے روبرو ہے، آپ کے گرداگرد ہے۔ عجب نہیں کی آپ خود اسی فوج کے سپاہی ہوں……مسلمان، دنیا کے کسی حصہ میں ہو، کسی حال میں ہو، ادھر نماز کا وقت آیا، اُدھر معًا کھڑا ہوجائے گا۔تنہا ہے تو دست بستہ، اور جماعت میں ہے تو صف بستہ! وہ منتظر پریڈ کے بگل کا نہ رہے گا۔ اپنے لشکر کا وہ آپ بگلچی ہے۔ اذان تو بس کہیں کہیں ہوتی ہے۔ وقت آنے پر وہ آپ ہی آپ ’’اٹینشن‘‘ پر ہوجائے گا……مسلمان اپروایسرائے کی پارٹی میں چائے پی رہاہے، مغرب کا وقت آتاہے ۔ معًا وہیں سبزہ پر قبلہ رُخ کھڑاہوجاتاہے۔ مسلمان غریب جنگل میں لکڑی کاٹ رہاہے پسینے میں شرابور۔ ظہر کا وقت آیا، اور جنگل میں اُس نے اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لئے!جہاز چلے جارہے ہیں ، اور نمازیں ہوتی جارہی ہیں۔ ریل چلی جارہی ہے، اورکھڑے یا بیٹھے جس طرح بھی ممکن ہے، نماز ادا ہورہی ہے۔ آس پاس کے مسافر سورہے ہیں، ہنس بول رہے ہیں، تاش کھیل رہے ہیں، لڑجھگڑ رہے ہیں، مسلمان مسافر مصلّی بچھانے کی فکر میں۔ ریل ٹھہری ، دوسرے مسافر سودے والوں پر ٹوٹ پڑے،مسلمان مسافر وضو اور نماز کی دوڑ دھوپ میں۔ شام کے وقت پارک میں تماشائیوں کا ہجوم، بازاری گاہکوں کی دھوم، رات کے وقت کا سنّاٹا ، صبح کی ٹھنڈی ہوا، دوپہر کواور سہ پہر کو عدالتوں میں، دفتروں میں، اسکولوں میں، کاروبار کی گرم بازاری میں، مسلمانوں کی لَو اپنی اسی پریڈ سے لگی ہوئی! پریڈ بھی دن رات میں ایک بار نہیں، پانچ پانچ بار، صبح بھی، دوپہر بھی، سہ پہر بھی، شام بھی، رات بھی!
زندہ مذہب، خالی الذہن ہوکر سوچئے، یہ ہے یا کوئی اور؟ حرکت اور زندگی جو اس مذہب میں ہے، اس کی نظیر کہیں اور ملے گی؟ یہ چوبیسوں گھنٹے والا، زندہ، بیدار، متحرک، مذہب اسلام ہی ہے یا کوئی اور؟……اور مستمر، مستقل، ہمہ وقتی، ہمہ جائی، ڈسپلن کی، بیداری کی، چستی کی، مستعدی کی، تازگیِ تعلق کی، مثال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی ڈسپلن والی، فوج میں ملے گی؟ جرمنی میں؟ امریکہ میں؟ روس میں؟ برطانیہ میں؟……حیف ہے کہ جس قوم یا امت کے اندر خود اتنا زبردست نظم، ایسی عظیم الشان تنظیم موجود ہو، اُس کے افراد ثابت ہوں، کارزار حیات کے کسی معرکے میں، دنیا وعقبیٰ کے کسی میدان میں بھی سست اور کاہل، پست ہمت اور ناکارے غافل وخوابیدہ!
Https://telegram.me/ilmokitab
*تحریر: مولانا عبد الماجد دریابادی*
دُنیا میں جتنی بھی سلطنتوں کی فوجیں ہیں، بڑی سے بڑی ، اور بہتر سے بہتر، بہرحال زمین کے کسی مخصوص خطّہ ورقبہ کے اندر ہی ان کا وجود ہے۔ اب فرض کیجئے کوئی فوج ایسی ہے، جس کے سپاہی، تھوڑے یا بہت، روئے زمین کے ہر حصہ، ہر گوشہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اور ایک ہی وقت میں آسٹریلیا میں بھی ہیں اور افریقہ میں بھی۔ ہندوستان میں بھی اور چین میں بھی۔ استنبول میں بھی اور لندن میں بھی۔ مختلف عمروں کے، مختلف صحتوں کے، مختلف پیشون اور شغلوں میں۔ عورتیں بھی مردبھی۔ گورے بھی کالے بھی۔ اسی اسی سال کے بوڑھے بھی ، بارہ بارہ پندرہ پندرہ سال کے لڑکے بھی۔ ادھر اُن کو فوجی بگل بجا، اور اُدھر ایک ایک سپاہی اِس منتشر فوج کا، اپنی اپنی جگہ پریڈ کے لئے آمادہ ہوگیا! تنہا ہواتوتنہا، اور کئی ہوئے تو مل جُل کر، پھر یہ پریڈ کسی موسم، کسی مہینہ کے ساتھ مخصوص نہیں، گرمی میں لُو بدن جھلسائے دے رہی ہو تو ، برسات میں مینھ کی جھڑی لگی ہو تو، سال کے پورے تین سو پینسٹھ دن وہ پریڈ لازمی۔ سفر ہوتو، حضرہوتو، پریڈ کی پابندی سے معافی نہیں……ایسی عجیب وغریب فوج کی مثال آپ نے کہیں دیکھی ہے؟ اس ڈسپلن کی نظیر کہیں ملے گی؟اسے شکست دینے کا حوصلہ دنیا کی کوئی قوت رکھ سکتی ہے؟
فوج نظروں سے غائب نہیں، نگاہوں کے روبرو ہے، آپ کے گرداگرد ہے۔ عجب نہیں کی آپ خود اسی فوج کے سپاہی ہوں……مسلمان، دنیا کے کسی حصہ میں ہو، کسی حال میں ہو، ادھر نماز کا وقت آیا، اُدھر معًا کھڑا ہوجائے گا۔تنہا ہے تو دست بستہ، اور جماعت میں ہے تو صف بستہ! وہ منتظر پریڈ کے بگل کا نہ رہے گا۔ اپنے لشکر کا وہ آپ بگلچی ہے۔ اذان تو بس کہیں کہیں ہوتی ہے۔ وقت آنے پر وہ آپ ہی آپ ’’اٹینشن‘‘ پر ہوجائے گا……مسلمان اپروایسرائے کی پارٹی میں چائے پی رہاہے، مغرب کا وقت آتاہے ۔ معًا وہیں سبزہ پر قبلہ رُخ کھڑاہوجاتاہے۔ مسلمان غریب جنگل میں لکڑی کاٹ رہاہے پسینے میں شرابور۔ ظہر کا وقت آیا، اور جنگل میں اُس نے اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ باندھ لئے!جہاز چلے جارہے ہیں ، اور نمازیں ہوتی جارہی ہیں۔ ریل چلی جارہی ہے، اورکھڑے یا بیٹھے جس طرح بھی ممکن ہے، نماز ادا ہورہی ہے۔ آس پاس کے مسافر سورہے ہیں، ہنس بول رہے ہیں، تاش کھیل رہے ہیں، لڑجھگڑ رہے ہیں، مسلمان مسافر مصلّی بچھانے کی فکر میں۔ ریل ٹھہری ، دوسرے مسافر سودے والوں پر ٹوٹ پڑے،مسلمان مسافر وضو اور نماز کی دوڑ دھوپ میں۔ شام کے وقت پارک میں تماشائیوں کا ہجوم، بازاری گاہکوں کی دھوم، رات کے وقت کا سنّاٹا ، صبح کی ٹھنڈی ہوا، دوپہر کواور سہ پہر کو عدالتوں میں، دفتروں میں، اسکولوں میں، کاروبار کی گرم بازاری میں، مسلمانوں کی لَو اپنی اسی پریڈ سے لگی ہوئی! پریڈ بھی دن رات میں ایک بار نہیں، پانچ پانچ بار، صبح بھی، دوپہر بھی، سہ پہر بھی، شام بھی، رات بھی!
زندہ مذہب، خالی الذہن ہوکر سوچئے، یہ ہے یا کوئی اور؟ حرکت اور زندگی جو اس مذہب میں ہے، اس کی نظیر کہیں اور ملے گی؟ یہ چوبیسوں گھنٹے والا، زندہ، بیدار، متحرک، مذہب اسلام ہی ہے یا کوئی اور؟……اور مستمر، مستقل، ہمہ وقتی، ہمہ جائی، ڈسپلن کی، بیداری کی، چستی کی، مستعدی کی، تازگیِ تعلق کی، مثال دنیا کی کسی بڑی سے بڑی ڈسپلن والی، فوج میں ملے گی؟ جرمنی میں؟ امریکہ میں؟ روس میں؟ برطانیہ میں؟……حیف ہے کہ جس قوم یا امت کے اندر خود اتنا زبردست نظم، ایسی عظیم الشان تنظیم موجود ہو، اُس کے افراد ثابت ہوں، کارزار حیات کے کسی معرکے میں، دنیا وعقبیٰ کے کسی میدان میں بھی سست اور کاہل، پست ہمت اور ناکارے غافل وخوابیدہ!
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤1
مولانا_احمد_حسن_دیوبندی۔_تحریرندیم_الواجدی.pdf
9.5 MB
مولانا احمد حسن دیوبندی۔۔۔ تحریر: ندیم الواجدی
سجدے میں سر مارا
(ناصرالدین مظاہری)
ہمارے حضرت مولانا نسیم احمد غازی مظاہری رحمہ اللہ بڑے حق گو انسان تھے۔ وہ لومۃ لائم کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اسی حق گوئی کی وجہ سے انھوں نے اپنا بڑا نقصان کیا، بڑے طبقے سے ہٹ کر یکسو ہوئے، بڑی دنیا نے ان سے قطع تعلق کیا، مگر مردِ مجاہد کو بھلا ان ذاتی مفادات کی کب پروا رہی ہے! اگر حق گو طبقہ ذاتی نفع اور وقتی فائدے پر اپنی توجہ دے تو روئے زمین سے حق گوئی کا وجود ختم ہوجائے، اور اللہ پاک ایک جماعت تا قیامِ قیامت ایسی ضرور رکھے گا جو حق دیکھے، حق بولے، حق پر چلے اور حق کی خوگر رہے۔
مولانا اپنی تقریروں اور تحریروں میں ایک جملہ فرمایا کرتے تھے: ’’فسادی عناصر، عنادی اکابر۔‘‘ اس جملے کا کبھی آپ نے ہدف تو متعین نہیں کیا، البتہ ان کی حیات میں بھی اور بعد الممات بھی بعض ایسے نفوس کو دیکھا ضرور، جو ’’أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ الْحُبُّ فِي اللّٰهِ وَالْبُغْضُ فِي اللّٰهِ‘‘ کا عکس و نقش نکلے۔
ان کی مجالس میں عقیدت مندانہ حاضری تو ہوئی، مگر جب وہاں سے نکلے تو عقیدتوں کا محل مسمار ہوچکا تھا، محبتوں کی دیواروں میں دراڑ پڑ چکی تھی، نبوی تعلیمات کی کھلم کھلا مخالفت اور اتباعِ ہویٰ و ہوس کی پوجا ہورہی تھی۔ حاضرینِ بے چارے ’’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘‘ کے اندھے پن میں مبتلا نظر آئے۔ ان کی زبانِ مقال پر عقیدتوں کے وزنی تالے جھول رہے تھے۔ ’’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘‘ کا منظر تھا، ورنہ ہم نے تو اپنے بزرگوں کی سیرتیں پڑھی ہیں کہ وہ منبر پر جمعے کے دن خطبہ پیش کر رہے ہیں۔ اسی دوران ایک عام شخص کھڑا ہوتا ہے اور معترض ہوتا ہے کہ جب مالِ غنیمت میں سب کو ایک ایک چادر ملی ہے تو آپ کے پاس یہ دو چادریں کیسے ہیں؟ کیوں ہیں؟
سائل گمنام ہے، مگر مجیب وہ ہستی ہے جس کے نام کا سکہ دنیا میں چلتا تھا، مگر خدا ترسی اور خدا خوفی ان کے قلوب میں ایسی تھی کہ برجستہ جواب دیا کہ ایک چادر میری ہے، دوسری چادر میرے بیٹے نے مجھے دے دی ہے۔
جتنی جلدی اعتراض ہوا، اتنی ہی جلدی جواب دے دیا۔ اگر چاہتے تو جواب نہ دیتے، لیکن وہ جانتے تھے کہ یہ اسلام کا ابتدائی دور ہے، ریت پر عمارتِ اسلام کھڑی نہیں کی جاسکتی، لوگوں کی زبانوں پر تالے ڈال کر دعوتِ اسلام نہیں دی جاسکتی۔
حضرت مولانا نسیم احمد غازی مظاہری سہارنپور تشریف لائے۔ اپنے ایک استاد زادے کی عیادت کے لیے گئے۔ مجھے ساتھ لے گئے۔ استاد زادے نے مجھے دیکھا تو برجستہ گویا ہوئے کہ اچھا، مخالفین بھی ساتھ ہیں!
میں چپ رہ کر اپنے موقف کو کمزور نہیں کرسکتا تھا۔ میں نے کہا: ’’اس کے باوجود آیا ہوں، کیونکہ ہمارے نبی کی تعلیم یہی ہے۔‘‘
خدا جانے، ہم میں سے کچھ لوگ پوری پوری زندگی خانقاہوں میں گزار دیتے ہیں، پھر بھی نفس و نفسانیت کے اسیر و نخچیر نظر آتے ہیں۔ وہ کسی دوسرے زندہ بزرگ کا تذکرہ سننا نہیں چاہتے، خدمات دیکھنا نہیں چاہتے۔ کسی کو ان سے ملتا دیکھتے ہیں تو ماہئی بے آب ہوجاتے ہیں۔ ملنے کی چاہت رکھنے والوں کی راہ کے روڑے بن جاتے ہیں، حالات ایسے بنادیتے ہیں کہ بندہ مل نہ سکے، جا نہ سکے۔
حالاں کہ ہمارے اکابر کے یہاں ایسا نہیں تھا۔ حضرت شیخ الاسلام مدنی رحمہ اللہ کے لیے حضرت تھانوی کے یہاں چوبیس گھنٹے کے مرتب اصول الگ تھلگ کردیے گئے تھے۔
میں خود اپنے استاد، حضرت فقیہ الاسلام مفتی مظفر حسین رحمہ اللہ، کے ساتھ متعدد بزرگوں کے یہاں حاضر ہوا ہوں۔ جانشینِ فقیہ الاسلام حضرت مولانا محمد سعیدی تو بزرگوں کے شیدائی تھے۔ استادِ محترم حضرت مولانا اطہر حسین رحمہ اللہ تو زندہ یا رفتہ بزرگ کی خوب قدر کرتے تھے۔ اپنے معاصر اکابر، بالخصوص حضرت مولانا عبد اللطیف نلہیڑوی، کے پاس بکثرت جاتے تھے، حالاں کہ خود حضرت رحمہ اللہ کمال کے درجے پر فائز تھے۔
مگر آج ہم خوردوں میں ’’خوردن و خفتن اور ریدن و شاشیدن‘‘ کے علاوہ کچھ رہا ہی نہیں۔ عمریں گزار دیتے ہیں، پھر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
اسی لیے کہتا ہوں کہ خانقاہیں روحانی اسپتال ہیں۔ یہاں نفسانیت، کبر و غرور، نخوت و حسد کا علاج ہوتا ہے۔ انسان کو انسان بنایا جاتا ہے، طالب کا علاجِ شافی کیا جاتا ہے، مگر جو لوگ ڈاکٹر کی دوا ہی نہ کھائیں، اپنی نبض اور رپورٹ ہی نہ دکھائیں، دوائیں کوڑے دان میں پھینک دیں، ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل نہ کریں، وہ کیا خاک صحیح و شفایاب ہوں گے؟
گیا شیطان، مارا ایک سجدے کے نہ کرنے میں
اگر لاکھوں برس سجدے میں سر مارا تو کیا مارا
(ذوقؔ)
(سات جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
(ناصرالدین مظاہری)
ہمارے حضرت مولانا نسیم احمد غازی مظاہری رحمہ اللہ بڑے حق گو انسان تھے۔ وہ لومۃ لائم کی پروا نہیں کرتے تھے۔ اسی حق گوئی کی وجہ سے انھوں نے اپنا بڑا نقصان کیا، بڑے طبقے سے ہٹ کر یکسو ہوئے، بڑی دنیا نے ان سے قطع تعلق کیا، مگر مردِ مجاہد کو بھلا ان ذاتی مفادات کی کب پروا رہی ہے! اگر حق گو طبقہ ذاتی نفع اور وقتی فائدے پر اپنی توجہ دے تو روئے زمین سے حق گوئی کا وجود ختم ہوجائے، اور اللہ پاک ایک جماعت تا قیامِ قیامت ایسی ضرور رکھے گا جو حق دیکھے، حق بولے، حق پر چلے اور حق کی خوگر رہے۔
مولانا اپنی تقریروں اور تحریروں میں ایک جملہ فرمایا کرتے تھے: ’’فسادی عناصر، عنادی اکابر۔‘‘ اس جملے کا کبھی آپ نے ہدف تو متعین نہیں کیا، البتہ ان کی حیات میں بھی اور بعد الممات بھی بعض ایسے نفوس کو دیکھا ضرور، جو ’’أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ الْحُبُّ فِي اللّٰهِ وَالْبُغْضُ فِي اللّٰهِ‘‘ کا عکس و نقش نکلے۔
ان کی مجالس میں عقیدت مندانہ حاضری تو ہوئی، مگر جب وہاں سے نکلے تو عقیدتوں کا محل مسمار ہوچکا تھا، محبتوں کی دیواروں میں دراڑ پڑ چکی تھی، نبوی تعلیمات کی کھلم کھلا مخالفت اور اتباعِ ہویٰ و ہوس کی پوجا ہورہی تھی۔ حاضرینِ بے چارے ’’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘‘ کے اندھے پن میں مبتلا نظر آئے۔ ان کی زبانِ مقال پر عقیدتوں کے وزنی تالے جھول رہے تھے۔ ’’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘‘ کا منظر تھا، ورنہ ہم نے تو اپنے بزرگوں کی سیرتیں پڑھی ہیں کہ وہ منبر پر جمعے کے دن خطبہ پیش کر رہے ہیں۔ اسی دوران ایک عام شخص کھڑا ہوتا ہے اور معترض ہوتا ہے کہ جب مالِ غنیمت میں سب کو ایک ایک چادر ملی ہے تو آپ کے پاس یہ دو چادریں کیسے ہیں؟ کیوں ہیں؟
سائل گمنام ہے، مگر مجیب وہ ہستی ہے جس کے نام کا سکہ دنیا میں چلتا تھا، مگر خدا ترسی اور خدا خوفی ان کے قلوب میں ایسی تھی کہ برجستہ جواب دیا کہ ایک چادر میری ہے، دوسری چادر میرے بیٹے نے مجھے دے دی ہے۔
جتنی جلدی اعتراض ہوا، اتنی ہی جلدی جواب دے دیا۔ اگر چاہتے تو جواب نہ دیتے، لیکن وہ جانتے تھے کہ یہ اسلام کا ابتدائی دور ہے، ریت پر عمارتِ اسلام کھڑی نہیں کی جاسکتی، لوگوں کی زبانوں پر تالے ڈال کر دعوتِ اسلام نہیں دی جاسکتی۔
حضرت مولانا نسیم احمد غازی مظاہری سہارنپور تشریف لائے۔ اپنے ایک استاد زادے کی عیادت کے لیے گئے۔ مجھے ساتھ لے گئے۔ استاد زادے نے مجھے دیکھا تو برجستہ گویا ہوئے کہ اچھا، مخالفین بھی ساتھ ہیں!
میں چپ رہ کر اپنے موقف کو کمزور نہیں کرسکتا تھا۔ میں نے کہا: ’’اس کے باوجود آیا ہوں، کیونکہ ہمارے نبی کی تعلیم یہی ہے۔‘‘
خدا جانے، ہم میں سے کچھ لوگ پوری پوری زندگی خانقاہوں میں گزار دیتے ہیں، پھر بھی نفس و نفسانیت کے اسیر و نخچیر نظر آتے ہیں۔ وہ کسی دوسرے زندہ بزرگ کا تذکرہ سننا نہیں چاہتے، خدمات دیکھنا نہیں چاہتے۔ کسی کو ان سے ملتا دیکھتے ہیں تو ماہئی بے آب ہوجاتے ہیں۔ ملنے کی چاہت رکھنے والوں کی راہ کے روڑے بن جاتے ہیں، حالات ایسے بنادیتے ہیں کہ بندہ مل نہ سکے، جا نہ سکے۔
حالاں کہ ہمارے اکابر کے یہاں ایسا نہیں تھا۔ حضرت شیخ الاسلام مدنی رحمہ اللہ کے لیے حضرت تھانوی کے یہاں چوبیس گھنٹے کے مرتب اصول الگ تھلگ کردیے گئے تھے۔
میں خود اپنے استاد، حضرت فقیہ الاسلام مفتی مظفر حسین رحمہ اللہ، کے ساتھ متعدد بزرگوں کے یہاں حاضر ہوا ہوں۔ جانشینِ فقیہ الاسلام حضرت مولانا محمد سعیدی تو بزرگوں کے شیدائی تھے۔ استادِ محترم حضرت مولانا اطہر حسین رحمہ اللہ تو زندہ یا رفتہ بزرگ کی خوب قدر کرتے تھے۔ اپنے معاصر اکابر، بالخصوص حضرت مولانا عبد اللطیف نلہیڑوی، کے پاس بکثرت جاتے تھے، حالاں کہ خود حضرت رحمہ اللہ کمال کے درجے پر فائز تھے۔
مگر آج ہم خوردوں میں ’’خوردن و خفتن اور ریدن و شاشیدن‘‘ کے علاوہ کچھ رہا ہی نہیں۔ عمریں گزار دیتے ہیں، پھر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
اسی لیے کہتا ہوں کہ خانقاہیں روحانی اسپتال ہیں۔ یہاں نفسانیت، کبر و غرور، نخوت و حسد کا علاج ہوتا ہے۔ انسان کو انسان بنایا جاتا ہے، طالب کا علاجِ شافی کیا جاتا ہے، مگر جو لوگ ڈاکٹر کی دوا ہی نہ کھائیں، اپنی نبض اور رپورٹ ہی نہ دکھائیں، دوائیں کوڑے دان میں پھینک دیں، ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل نہ کریں، وہ کیا خاک صحیح و شفایاب ہوں گے؟
گیا شیطان، مارا ایک سجدے کے نہ کرنے میں
اگر لاکھوں برس سجدے میں سر مارا تو کیا مارا
(ذوقؔ)
(سات جمادی الاولی چودہ سو اڑتالیس ہجری)
*وفیات مورخہ:اکتوبر 20*
1909ء جلال لکھنوی ( حکیم سید ضامن علی)۔ شاعر
1912ء نادر کاکوروی۔ شاعر
1943ء محفوظ علی بدایونی۔ ادیب
1943ء محفوظ علی بدایونی (سید)۔ ادیب
1944ء فضل الرحمن ندوی۔ مولانا ، حافظ
1968ء شبیر علی تھانوی۔ مولانا ، مہتمم خانقاہ امدادیۃ تھانہ بھون
1985ء نسیم متھراوی (حبیب احمد)۔ مولوی
1989ء معین الحق (سید)۔ ڈاکٹر، ادیب ، ماہر، تعلیم ، جامعہ ملیہ دہلی
2003ء ضمیر علی بدایونی۔ ادبی نقاد
2010ء فاروق احمد خان لغاری۔ سردار، صدر پاکستان
2011ء معمر قذافی۔ سربراہ لیبیا
2015ء ڈبل شاہ (سید سبط الحسن)۔ مالیاتی فراڈیا
2018ء محمد اشفاق احمد۔
2020ء مسعود یلماز۔
2021ء سردار محمد یعقوب۔ پاکستانی سیاست دان
2022ء صدف نعیم۔ شاعرہ
2023ء ثروت کریم انصاری۔ سیاست دان
2024ء فتح اللہ گولن۔ رہنما نورسی تحریک
1909ء جلال لکھنوی ( حکیم سید ضامن علی)۔ شاعر
1912ء نادر کاکوروی۔ شاعر
1943ء محفوظ علی بدایونی۔ ادیب
1943ء محفوظ علی بدایونی (سید)۔ ادیب
1944ء فضل الرحمن ندوی۔ مولانا ، حافظ
1968ء شبیر علی تھانوی۔ مولانا ، مہتمم خانقاہ امدادیۃ تھانہ بھون
1985ء نسیم متھراوی (حبیب احمد)۔ مولوی
1989ء معین الحق (سید)۔ ڈاکٹر، ادیب ، ماہر، تعلیم ، جامعہ ملیہ دہلی
2003ء ضمیر علی بدایونی۔ ادبی نقاد
2010ء فاروق احمد خان لغاری۔ سردار، صدر پاکستان
2011ء معمر قذافی۔ سربراہ لیبیا
2015ء ڈبل شاہ (سید سبط الحسن)۔ مالیاتی فراڈیا
2018ء محمد اشفاق احمد۔
2020ء مسعود یلماز۔
2021ء سردار محمد یعقوب۔ پاکستانی سیاست دان
2022ء صدف نعیم۔ شاعرہ
2023ء ثروت کریم انصاری۔ سیاست دان
2024ء فتح اللہ گولن۔ رہنما نورسی تحریک
*اخلاق احمد دہلوی کےمضامین کے مجموعے اور بیان اپنا پر مشہور نقاد ڈاکٹر وقار عظیم کا فلیپ*
*یہ سلسلہ مضامین قسطوار علم وکتاب گروپ پر پیش کئے جارہے ہیں*
دلی کا محاورہ نئے زمانے کے سانچوں میں ڈھلتا ہے تو کتنا مؤثر اور دل نشین ہوتا ہے ۔ اور ۔ ادیب جب بے جھجک ہمارے سامنے آتا ہے تو اس میں کیا شان محبوبی پیدا ہو جاتی ہے ۔ یہ دونوں باتیں اخلاق احمد دہلوی نے اپنے مضامین کے مجموعے ”اور پھر بیان اپنا“ کے ذریعے غیر ارادی طور پر ادبی دنیا کو بتائی ہیں ۔
یہ مضامین مصنف کے مشاہدات ' تجربات و محسوسات کا بے لوث اور پرخلوص بیان ہیں ۔ اس نے اشخاص و اشیاء کے سر بستہ رازوں سے آشنا ہوکر اپنے بیگانے ہر ایک کو جی بھر کے ”رسوا“ کیا ہے ۔ اور ”رسوا کرنے“ کو ایک حسین اور لطیف فن بنایا ہے اس حسن لطافت ' نزاکت اور رعنائی سے دوسروں کو رسوا ہوتے دیکھ کر کون ہے جو رسوا ہونے کی آرزو نہ کرے ۔ اس رسوائی میں عجیب لذت اور عجیب کیفیت ہے ۔
یہ لذت اور یہ کیفیت دو باتوں نے پیدا کی ہے ــ شخصیت کے اس خلوص نے 'جس کی تشکیل جرأت ' بے باکی' سچائی اور محبت سے ہوتی ہے اور بیان کی اس بے تکلفی اور بے ساختگی نے جس میں لفظوں کی مزاج دانی اور مرتبہ شناسی کو بڑا دخل ہے ۔
اخلاق صاحب نے لفظوں کی انفرادی شخصیت ' مزاج اور ماحول کو پہچان کر ان کی بے شمار معنوی تہوں کو ابھارا اور بظاہر معمولی اور حقیر لفظوں اور محاوروں کو معزز ' اور محترم بنایا ہے ۔
موضوع اور بیان دونوں کے ساتھ محبت اور یگانگت کا وہ رشتہ قائم نہ کیا جائے جو اخلاق صاحب نے کیا ہے تو بات کبھی ایسی نہیں بنتی کہ وہ اپنے دل کی بات معلوم ہونے لگے ' ”اور پھر بیان اپنا“ میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ ہمارے دل کی بات ہے جو اس طرح کہی گئی ہے کہ ہم اسے اس طرح نہ کہہ سکتے ............................. وقار عظیم📝
*یہ سلسلہ مضامین قسطوار علم وکتاب گروپ پر پیش کئے جارہے ہیں*
دلی کا محاورہ نئے زمانے کے سانچوں میں ڈھلتا ہے تو کتنا مؤثر اور دل نشین ہوتا ہے ۔ اور ۔ ادیب جب بے جھجک ہمارے سامنے آتا ہے تو اس میں کیا شان محبوبی پیدا ہو جاتی ہے ۔ یہ دونوں باتیں اخلاق احمد دہلوی نے اپنے مضامین کے مجموعے ”اور پھر بیان اپنا“ کے ذریعے غیر ارادی طور پر ادبی دنیا کو بتائی ہیں ۔
یہ مضامین مصنف کے مشاہدات ' تجربات و محسوسات کا بے لوث اور پرخلوص بیان ہیں ۔ اس نے اشخاص و اشیاء کے سر بستہ رازوں سے آشنا ہوکر اپنے بیگانے ہر ایک کو جی بھر کے ”رسوا“ کیا ہے ۔ اور ”رسوا کرنے“ کو ایک حسین اور لطیف فن بنایا ہے اس حسن لطافت ' نزاکت اور رعنائی سے دوسروں کو رسوا ہوتے دیکھ کر کون ہے جو رسوا ہونے کی آرزو نہ کرے ۔ اس رسوائی میں عجیب لذت اور عجیب کیفیت ہے ۔
یہ لذت اور یہ کیفیت دو باتوں نے پیدا کی ہے ــ شخصیت کے اس خلوص نے 'جس کی تشکیل جرأت ' بے باکی' سچائی اور محبت سے ہوتی ہے اور بیان کی اس بے تکلفی اور بے ساختگی نے جس میں لفظوں کی مزاج دانی اور مرتبہ شناسی کو بڑا دخل ہے ۔
اخلاق صاحب نے لفظوں کی انفرادی شخصیت ' مزاج اور ماحول کو پہچان کر ان کی بے شمار معنوی تہوں کو ابھارا اور بظاہر معمولی اور حقیر لفظوں اور محاوروں کو معزز ' اور محترم بنایا ہے ۔
موضوع اور بیان دونوں کے ساتھ محبت اور یگانگت کا وہ رشتہ قائم نہ کیا جائے جو اخلاق صاحب نے کیا ہے تو بات کبھی ایسی نہیں بنتی کہ وہ اپنے دل کی بات معلوم ہونے لگے ' ”اور پھر بیان اپنا“ میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ ہمارے دل کی بات ہے جو اس طرح کہی گئی ہے کہ ہم اسے اس طرح نہ کہہ سکتے ............................. وقار عظیم📝