گذشتہ مہینوں میں اس چینل کے ممبران کی تعداد کم ہورہی ہے، اسے فروغ دینے میں احباب حصہ لیں، اور اس کی لنکس کو اپنے احباب میں فروغ دیں۔ عبد المتین منیری
ستارہ جو ڈوب گیا۔ مجاور حسین.pdf
2.5 MB
ابن صفی پر آپ کے ساتھی پروفیسر مجاور حسین کی یادگار تحریر
*وفیات مورخہ:اکتوبر 31*
933ء ابو جعفر طحاوی۔ امام ومحدث
1707ء ولی دکنی۔ شاعر
1929ء غازی علم الدین شہید۔
1950ء سامی الحناوی۔ صدر سوریہ
1973ء مالك بن نبي۔ جزائری مفکر
1973ء وقار اللہ عثمانی پانی پتی۔ قاری
1975ء یس ڈی برمن۔ موسیقار
1977ء عثمان حسن جوباپو۔ ہیڈ ماسٹر انجمن اسلامیہ اینگلو ہائی اسکول بھٹکل
1978ء ثمر دہلوی (وکٹر آئی نیوٹنن)۔ شاعر
1980ء غلام محی الدین اشرفی۔ ،
1981ء وحید الدین قادری۔ پروفیسر ،
1984ء اندرا گاندھی۔ وزیر اعظم ہند ،
2003ء ضیاء الدین احمد۔ پروفیسر ،
2007ء محمد امین شاہ اوکاڑوی (سید)۔ مولانا، مناظر احناف
2009ء مصطفی محمود۔ مصری مفکر، فلسفی
2012ء مریم جمیلہ۔ نومسلم مستشرق
933ء ابو جعفر طحاوی۔ امام ومحدث
1707ء ولی دکنی۔ شاعر
1929ء غازی علم الدین شہید۔
1950ء سامی الحناوی۔ صدر سوریہ
1973ء مالك بن نبي۔ جزائری مفکر
1973ء وقار اللہ عثمانی پانی پتی۔ قاری
1975ء یس ڈی برمن۔ موسیقار
1977ء عثمان حسن جوباپو۔ ہیڈ ماسٹر انجمن اسلامیہ اینگلو ہائی اسکول بھٹکل
1978ء ثمر دہلوی (وکٹر آئی نیوٹنن)۔ شاعر
1980ء غلام محی الدین اشرفی۔ ،
1981ء وحید الدین قادری۔ پروفیسر ،
1984ء اندرا گاندھی۔ وزیر اعظم ہند ،
2003ء ضیاء الدین احمد۔ پروفیسر ،
2007ء محمد امین شاہ اوکاڑوی (سید)۔ مولانا، مناظر احناف
2009ء مصطفی محمود۔ مصری مفکر، فلسفی
2012ء مریم جمیلہ۔ نومسلم مستشرق
قلب کیسے روشن ہوتا ہے؟
پروفیسر یوسف سلیم چشتی مرحوم، شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ کے متعلق لکھتے ہیں: مجھ سے ایک دن فرمایا: عقیدت اور اطاعت یہ بجلی کے دو تار ہیں، منفی اور مثبت دونوں ہوں تو بلب روشن ہوسکتا ہے، اسی طرح عقیدت اور اطاعت دونوں ہیں تو قلب روشن ہوسکتا ہے۔
(خدام الدین، مولانا احمد علی لاہوریؒ نمبر، صفحہ: ۵۳۰)
https://t.me/ilmokitab
پروفیسر یوسف سلیم چشتی مرحوم، شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوریؒ کے متعلق لکھتے ہیں: مجھ سے ایک دن فرمایا: عقیدت اور اطاعت یہ بجلی کے دو تار ہیں، منفی اور مثبت دونوں ہوں تو بلب روشن ہوسکتا ہے، اسی طرح عقیدت اور اطاعت دونوں ہیں تو قلب روشن ہوسکتا ہے۔
(خدام الدین، مولانا احمد علی لاہوریؒ نمبر، صفحہ: ۵۳۰)
https://t.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
کیا ہم مسلمان ہیں (٤٦) ہدایت کی راہ پر - دوسری اور آخری قسط
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
ابھی اسلام رسولِ خدا ﷺ کے ہونٹوں تک ہی آیا تھا کہ ابو بکرؓ کا سینہ کُھلا اور اس نور کو اپنے اندر جذب کر کے خُدا کے سوا ہر شے کے لیے بند ہو گیا اور ابھی اسلام صرف اُنتالیس سینوں کی آڑ میں خون اور سیاہی کفر اور شرک اور درندگی و وحشت کے خوگر انسانوں کی طرف ایک خاموش دعوتِ حیات کی صورت میں آگے بڑھ رہا تھا کہ ابو بکرؓ کو محسوس ہوا کہ حق کی آواز کو سینے کے اندر ہی اندر ضبط کرتے کرتے ان کا سینہ شدّتِ ضبط سے پھٹ جانے کے قریب ہے ۔ جھوٹ چھپانے ہی کے قابل ہے اور حق ظاہر ہو جانے ہی کے لائق ہے ۔ یہ بات سوائے ایک حق پسند کے کوئی نہیں جانتا کہ جس حق کو اُٹھانے سے پہاڑوں نے انکار کر دیا تھا اس حق کو اُٹھانے والے انسان کو اس حقیقت کا طوفان سینے کے اندر دبانے سے کیسی تکلیف ہوتی ہوگی ! جب خطرات کی ڈراونی پر چھائیاں در و دیوار پر ناچتی ہوئی حق پسندوں کو گُھور گُھور کر دیکھ رہی تھیں ۔ جب ”خداے واحد“ کا نام زبان پر لانا ایسا تھا جیسے کوئی کعبے میں رکھے ہوئے تین سو ساٹھ پتھر کے بتوں سے سر ٹکرا کر پاش پاش ہو جانے کے لیے تیار ہو جائے اس وقت یہ ایک معبُود کا بے لوث پُجاری بارگارہِ رسالتﷺ میں یہ التجا کر رہا تھا:
"اجازت دیجیے کہ ایک بار کُھل کر وہ بات زبان سے کہ دُوں جو میرے دل میں ہے ۔ یہ خدا سے مایوس اور پتھروں سے آس لگانے والے نادان لوگ ـــــ ! جی چاہتا ہے کہ ان کے سامنے اپنا سینہ چیر کر رکھ دوں ـــــ!"
رسُول خدا ﷺ کی نگاہوں سے موج در موج اُبلتا ہوا جذبۂ حق ابو بکرؓ کے سینے میں آنکھوں کی راہ سے اُتر کر جیسے ایک زبر دست طوفان بن چکا تھا ۔ حضور ﷺ نے کماں پذیرائی کے ساتھ اس بندۂ مومن کی طرف دیکھا اور اجازت عطا فرمادی گئی ـــــ اجازت عطا فرمادی گئی کہ جس امانت کو اُٹھانے کے تصوّر سے یہ اُونچے اُونچے سر بفلک پہاڑ لرز اُٹھے تھے تم اس امانت کو اُٹھا کر اینٹ پتھر کی اُونچی نیچی دنیا میں جا سکتے ہو اور دُنیا کو بتا سکتے ہو کہ وہ خُدا ہے جو اس کائنات میں انسان کو اپنی زندگی سے بھی پیارا ہو جاتا ہے۔
عجز و عرفان کی دو آتشہ کیفیت میں حضرت ابو بکرؓ وقار اور کس متانت کے ساتھ خدا کا نام لے کر میدانِ عمل میں تشریف لا رہے تھے ! یہ جان پر کھیل جانے کی تمنّا قبول ہو گئی تھی کہ دُنیا بھر کے شاہی خزانوں کی کُنجیاں کسی سائل کی جھولی میں ڈال دی گئی تھیں اعلانِ حق جو تلوار کی دھار سے زیادہ خطرناک راستہ ہے وہ اس شمشیر آب دار پر کس خوشی اور کس کیف کے ساتھ وجد کرتے ہوئے چلے تھے۔
تحریر: شمس نوید عثمانیؒ
ابھی اسلام رسولِ خدا ﷺ کے ہونٹوں تک ہی آیا تھا کہ ابو بکرؓ کا سینہ کُھلا اور اس نور کو اپنے اندر جذب کر کے خُدا کے سوا ہر شے کے لیے بند ہو گیا اور ابھی اسلام صرف اُنتالیس سینوں کی آڑ میں خون اور سیاہی کفر اور شرک اور درندگی و وحشت کے خوگر انسانوں کی طرف ایک خاموش دعوتِ حیات کی صورت میں آگے بڑھ رہا تھا کہ ابو بکرؓ کو محسوس ہوا کہ حق کی آواز کو سینے کے اندر ہی اندر ضبط کرتے کرتے ان کا سینہ شدّتِ ضبط سے پھٹ جانے کے قریب ہے ۔ جھوٹ چھپانے ہی کے قابل ہے اور حق ظاہر ہو جانے ہی کے لائق ہے ۔ یہ بات سوائے ایک حق پسند کے کوئی نہیں جانتا کہ جس حق کو اُٹھانے سے پہاڑوں نے انکار کر دیا تھا اس حق کو اُٹھانے والے انسان کو اس حقیقت کا طوفان سینے کے اندر دبانے سے کیسی تکلیف ہوتی ہوگی ! جب خطرات کی ڈراونی پر چھائیاں در و دیوار پر ناچتی ہوئی حق پسندوں کو گُھور گُھور کر دیکھ رہی تھیں ۔ جب ”خداے واحد“ کا نام زبان پر لانا ایسا تھا جیسے کوئی کعبے میں رکھے ہوئے تین سو ساٹھ پتھر کے بتوں سے سر ٹکرا کر پاش پاش ہو جانے کے لیے تیار ہو جائے اس وقت یہ ایک معبُود کا بے لوث پُجاری بارگارہِ رسالتﷺ میں یہ التجا کر رہا تھا:
"اجازت دیجیے کہ ایک بار کُھل کر وہ بات زبان سے کہ دُوں جو میرے دل میں ہے ۔ یہ خدا سے مایوس اور پتھروں سے آس لگانے والے نادان لوگ ـــــ ! جی چاہتا ہے کہ ان کے سامنے اپنا سینہ چیر کر رکھ دوں ـــــ!"
رسُول خدا ﷺ کی نگاہوں سے موج در موج اُبلتا ہوا جذبۂ حق ابو بکرؓ کے سینے میں آنکھوں کی راہ سے اُتر کر جیسے ایک زبر دست طوفان بن چکا تھا ۔ حضور ﷺ نے کماں پذیرائی کے ساتھ اس بندۂ مومن کی طرف دیکھا اور اجازت عطا فرمادی گئی ـــــ اجازت عطا فرمادی گئی کہ جس امانت کو اُٹھانے کے تصوّر سے یہ اُونچے اُونچے سر بفلک پہاڑ لرز اُٹھے تھے تم اس امانت کو اُٹھا کر اینٹ پتھر کی اُونچی نیچی دنیا میں جا سکتے ہو اور دُنیا کو بتا سکتے ہو کہ وہ خُدا ہے جو اس کائنات میں انسان کو اپنی زندگی سے بھی پیارا ہو جاتا ہے۔
عجز و عرفان کی دو آتشہ کیفیت میں حضرت ابو بکرؓ وقار اور کس متانت کے ساتھ خدا کا نام لے کر میدانِ عمل میں تشریف لا رہے تھے ! یہ جان پر کھیل جانے کی تمنّا قبول ہو گئی تھی کہ دُنیا بھر کے شاہی خزانوں کی کُنجیاں کسی سائل کی جھولی میں ڈال دی گئی تھیں اعلانِ حق جو تلوار کی دھار سے زیادہ خطرناک راستہ ہے وہ اس شمشیر آب دار پر کس خوشی اور کس کیف کے ساتھ وجد کرتے ہوئے چلے تھے۔
اعلانِ حق کے جواب میں نہ پُھول پر سے نہ واہ واہ ہوئی ۔ وہی ہوا جو سدا سے اس جگ میں ہوتا آیا ہے ۔ اسی ادائے بندگی پر تو ہمیشہ دنیا خفا ہوتی آئی ہے اور سرفروشوں کو فقط ایک اَن دیکھے خدا کے سہارے جینا پڑا ہے ۔ ابوبکرؓ کو یہی خوشی مطلوب تھی اسی لیے جب چاروں طرف سے نفرت ، سنگ لی، درندگی اور سفّاکی کی وحشیانہ یلغار ہوئی ۔ جب خدا کی مخلوق نے خدا کا نام سُن کر غیظ و غضب کے عالم میں دائمی حق کی ایک ایک ہڈی پر آہنی ہتھوڑے برسانے شروع کیے تو چوٹ پر چوٹ کھاتے ہوئے بندۂ مومن کی نظر سوئے فلک اُٹھی اور خوں چکاں زخموں کی گود میں اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھلنے لگی ! یقیناً اس عظیم ترین خوشی کا راز صرف یہی احساس تھا کہ اس وقت ان زخموں کو وہ آنکھ دیکھ رہی ہے جس کو نہ نیند پکڑ سکتی ہے نہ اونگھ ــــــ جس کو صرف یک بار اپنی طرف اُٹھتا ہوا دیکھنے کے لیے انسان ہزار بار آگ اور خُون کی بھٹیوں میں گر جانے کے لیے سر کے بل چل کر بھی جائے تو سودا سستا ہے۔ گھائل ابو بکرؓ کی سمت خدا کی نظر اُٹھی اور دُکھ درد کے سارے احساسات نے بے ہوشی کی آغوش میں دم توڑ دیا ۔ کتنے درد ناک ستم ہوئے تھے کہ خود ظالموں کے دل ہل گئے۔ کفر پر خود کفر نے ملامت کی اور ابو بکرؓ کو زخموں سے چُور چُور حالت میں اُٹھا کر ان کے گھر پہنچا دیا گیا۔ لیکن جیسے ہی ہوش و حواس پلٹے پھر وہی آواز حق ان کے دِل سے اُبل کر ہونٹوں تک آنے لگی جس کو بے ہوشی میں ڈوبتے ہوئے انسان کے آخری سانس تک سُنا گیا تھا۔ اب اس آواز کے مخاطب غیر نہیں اپنے تھے ــــــ وہ ماں اور باپ تھے جن کے خونِ جگر کے احسانات میں اپنے بال بال کو بندھا ہوا پاکر ابو بکرؓ بے قرار تھے کہ ان کے احسانات کا کچھ صلہ پیش کر سکیں ــــــ درد میں ڈوبی ہوئی آواز ــــــ زخموں کی کسک اور خونِ دل و جگر میں نہائی ہُوئی یہ پکار بھلا رائیگاں کیسے جاتی ! باپ کے قدموں میں جنبش نہ ہوئی لیکن دِل ضرور ہل گیا اور ماں کا تو پورا وجود بے تاب ہو کر اپنے بیٹے کے ساتھ ہو گیا ــــــ صبح ہوئی تو ابو بکرؓ روحانی مسرت میں ڈوبے ہوئے اپنی والدہ ماجدہ کو ساتھ لیے ہوئے بارگاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے اور جس ماں نے ان کو جنم دیا تھا اس کو اس کے خالق و پروردگار کے قدموں تک پہنچا دیا ! ہماری رگوں میں دوڑتا ہوا خُون بھی گواہ ہے کہ اس خون کے قطرے قطرے پر باپ کے پسینے اور ماں کی مامتا کی گہری چھاپ ایک اَن مٹ احسان کے نقشِ دوام کی طرح ثبت ہے۔ لیکن ہم میں سے کتنے احسان شناس ہیں ایسے مومن جو جذبۂ شکر و پزیرائی لے کر حیات دنیا کے ان دو عظیم محسنوں کو عذابِ نار سے بچانے اور باغِ فردوس تک پہنچانے کے لیے بے قرار ہوئے ہوں جن کو دنیا والدین کے قیمتی نام سے یاد کرتی آئی ہے ــــــ خدا تو نظروں سے اوجھل ہے لیکن ماں باپ ؟ ان کے احسانات کی طرف سے آنکھیں بند کرنے کا جواز کیا ہے آخر ــــــ ؟ کاش ہم سچ مچ "مسلمان" ہوتے تو احسان کی پزیرائی کا یہ پہلو ہمیں انسانوں کی شکر گزاری سے بڑھ کر معبود کے آگے تصویرِ شکر بن جانے کے بلند مقام تک کھینچ لاتا ــــــ شکر جو ریاضتوں اور مجاہدوں کے بغیر انسان کو کمالِ تقویٰ کی سربلندیوں تک لے جاسکتا ہے۔ "شکر" جس کے جذب و جنون میں خدا کے رسول ﷺ کی یہ حالت ہوتی تھی کہ جائے نماز پر وہ مقدس پاؤں سُوج جاتے تھے اور سینے میں گُھٹی ہوئی ہوک کی آواز اس طرح سننے والوں کو سُنائی دیتی تھی کہ کلیجہ مُنہ کو آنے لگتا تھا ۔ ایک معصُوم رسول ﷺ کا اگر جذبۂ شکر سے یہ حال ہوتا تھا تو ان لوگوں کا کیا حال ہونا چاہیے جن پر مسلسل خدائی احسانات کی بارش ہو رہی ہے اور مسلسل غفلت کی سرد مہریوں نے ان کے فرضِ بندگی کے احساسات کو پتھرا کر رکھ دیا ہے ــــــ ایمان آنکھوں سے نظر نہیں آسکتا لیکن اس کے آثار نظر آیا کرتے ہیں ــــــ تو کیا شکر والدین کی یہ ایمانی علامت بھی کہیں سے کہیں تک ہماری زندگی میں دیکھی جا سکتی ہے ؟
___***___
___***___
حضرت مولانا محمد جسیم الدین قاسمی سمستی پوریؒ: حیات و خدمات
https://t.me/ilmokitab
محمد روح الامین قاسمی
(دار العلوم حسینیہ مدنی نگر، چَڑَئی بَھول، ضلع میُوربھنج، اڈیشا)
حضرت مولانا محمد جسیم الدین قاسمی سمستی پوریؒ دارالعلوم دیوبند کے فاضل، ممتاز عالمِ دین، شعلہ بیاں خطیب اور تحریکِ جمعیۃ علماء کے سرگرم حامی تھے۔ آپ نے اپنی زندگی کا تقریباً نصف صدی کا عرصہ صوبہ اڈیشا، بالخصوص کیندرہ پاڑہ میں گزارا، جہاں درس و تدریس، دعوت و اصلاح اور دینی و ملی خدمات انجام دیں۔ آپ کی علمی و خطیبانہ صلاحیتوں کے ساتھ علاقائی و صوبائی معاملات پر گہری نظر اور اکابرِ اڈیشا سے مضبوط روابط بھی آپ کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔ آپ نے مختلف دینی اداروں سے وابستہ رہ کر نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور دینی شعور کی بیداری کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔
ابتدائی و تعلیمی زندگی
آپ کا نام محمد جسیم الدین تھا۔ آپ کا آبائی وطن بڑاہی، ضلع سمستی پور، بہار ہے، جو پہلے غیر منقسم ضلع دربھنگہ کا حصہ تھا۔ چند سالوں سے آپ اپنے آبائی وطن ہیں میں مقیم تھے۔ آپ کی تاریخِ پیدائش یا سنہ پیدائش یاد نہیں۔ غالباً 1950ء سے 1955ء کے درمیان کی پیدائش رہی ہوگی۔
آپ نے ابتدائی دینی تعلیم مدرسہ خیر العلوم بردونی، ضلع سمستی پور میں حاصل کی، جہاں ان کے اساتذہ میں مولانا احمد علی رحمانی، مولانا یوسف بٹس پوری اور الحاج ماسٹر عبد الرحیم صاحبان تھے۔ اس کے بعد مدرسہ بدر الاسلام، بیگو سرائے میں داخلہ لیا اور متوسط درجات کی تعلیم حاصل کی، جہاں ان کے اساتذہ میں مولانا محمد اسماعیل مونگیریؒ (تلمیذِ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ) اور ان کے چھوٹے بھائی مولانا محمد اسحاق مونگیریؒ بھی شامل تھے۔ (صوبۂ اڈیشا میں یہ حضرات پٹنوی کے لاحقے کے ساتھ معروف ہیں۔)
اعلیٰ تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور شعبان 1392ھ مطابق ستمبر 1972ء میں دورۂ حدیث کا سال پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے۔ دارالعلوم دیوبند میں آپ نے اپنے عہد کے متعدد جلیل القدر علماء و محدثین سے کسبِ فیض کیا، جن میں فخر المحدثین مولانا سید فخر الدین احمد مرادآبادیؒ، فقیہ الامت مولانا محمود حسن گنگوہیؒ، مولانا سید فخر الحسن مرادآبادیؒ، مولانا شریف حسن دیوبندیؒ، مولانا عبد الاحد دیوبندیؒ، فقیہِ عصر مولانا انظر شاہ کشمیریؒ، مولانا نصیر احمد خان بلند شہریؒ، مولانا وحید الزماں کیرانویؒ، مولانا محمد نعیم دیوبندیؒ، خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمیؒ اور مولانا قمر الدین احمد گورکھپوریؒ شامل تھے۔
آپ کے ممتاز شرکائے دورۂ حدیث میں مولانا مجیب اللہ گونڈوی (استاذ حدیث دار العلوم دیوبند)، جو اپنے زمانے میں ترجمانِ دورۂ حدیث تھے، مولانا بدر الحسن قاسمی (مقیم حال کویت و نائب صدر اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)، مولانا عبد الخالق سنبھلیؒ (سابق نائب مہتمم و استاذِ حدیث دارالعلوم دیوبند) اور مولانا ابو العاص بستوی شامل تھے۔
آپ کے زمانۂ طالب علمی یعنی دورۂ حدیث کے سال کا ایک اہم واقعہ کا ہے۔ درمیان سال اس وقت کے شیخ الحدیث فخر المحدثین مولانا سید فخر الدین احمد مرادآبادیؒ کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد جب انتظامیہ کی جانب سے مولانا فخر الحسن مرادآبادیؒ کو شیخ الحدیث بنانے کی بات آ رہی تھی تو طلبہ نے اس پر احتجاج کیا اور مولانا شریف حسن دیوبندیؒ کو اس منصب پر فائز کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت مولانا محمد جسیم الدین قاسمیؒ اور دورۂ حدیث کے ترجمان مولانا مجیب اللہ گونڈوی پیش پیش تھے۔
زمانۂ طالب علمی میں مولانا محمد ذبیح اللہ قاسمیؒ (ولادت: 1953ء، وفات: 2022ء) آپ کے رفیق درس تھے۔ مدرسہ خیر العلوم بردونی، مدرسہ بدر الاسلام بیگو سرائے اور دارالعلوم دیوبند؛ تینوں ہی اداروں میں دونوں کی رفاقت رہی۔ مولانا ذبیح اللہ قاسمیؒ آپ کے ہم عمر یا آپ سے چند سال بڑے تھے اور 1971ء میں فارغ ہوئے، جب کہ آپ نے 1972ء میں فراغت حاصل کی۔
عملی و تدریسی زندگی
دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد 1972ء میں آپ صوبۂ اڈیشا تشریف لے آئے۔ یہاں سب سے پہلے آپ کا تقرر؛ مدرسہ اسلامیہ دینیہ (ارشد العلوم)، اسریسر، چودہ محلہ، سبلنگ کنی پاڑہ، ضلع کٹک میں بحیثیت مدرس ہوا۔ اس کے بعد سرکاری ادارے مدرسہ اشرف العلوم رمضانیہ، فقیر آباد، کیندرہ پاڑہ میں آپ کا تقرر ہوا اور طویل عرصے تک وہاں تدریسی فرائض انجام دینے کے بعد ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ آپ نے جامع مسجد، فقیر آباد، کیندرہ پاڑہ میں سالہا سال امام و خطیب، پھر خطیب کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
آپ نے اپنی زندگی کا تقریباً نصف صدی کا عرصہ اڈیشا میں گزارا۔ بالخصوص شہر کیندرہ پاڑہ میں اپنی طویل علمی و دینی خدمات کے باعث ایک محترم اور معتبر عالم کی حیثیت سے اکابر علمائے اڈیشا میں آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ آپ جامعہ اشرف العلوم محمود آباد، کیندرہ پاڑہ کی مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی تھے۔ جامعہ اسلامیہ مرکز العلوم
https://t.me/ilmokitab
محمد روح الامین قاسمی
(دار العلوم حسینیہ مدنی نگر، چَڑَئی بَھول، ضلع میُوربھنج، اڈیشا)
حضرت مولانا محمد جسیم الدین قاسمی سمستی پوریؒ دارالعلوم دیوبند کے فاضل، ممتاز عالمِ دین، شعلہ بیاں خطیب اور تحریکِ جمعیۃ علماء کے سرگرم حامی تھے۔ آپ نے اپنی زندگی کا تقریباً نصف صدی کا عرصہ صوبہ اڈیشا، بالخصوص کیندرہ پاڑہ میں گزارا، جہاں درس و تدریس، دعوت و اصلاح اور دینی و ملی خدمات انجام دیں۔ آپ کی علمی و خطیبانہ صلاحیتوں کے ساتھ علاقائی و صوبائی معاملات پر گہری نظر اور اکابرِ اڈیشا سے مضبوط روابط بھی آپ کی شخصیت کے نمایاں پہلو تھے۔ آپ نے مختلف دینی اداروں سے وابستہ رہ کر نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور دینی شعور کی بیداری کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔
ابتدائی و تعلیمی زندگی
آپ کا نام محمد جسیم الدین تھا۔ آپ کا آبائی وطن بڑاہی، ضلع سمستی پور، بہار ہے، جو پہلے غیر منقسم ضلع دربھنگہ کا حصہ تھا۔ چند سالوں سے آپ اپنے آبائی وطن ہیں میں مقیم تھے۔ آپ کی تاریخِ پیدائش یا سنہ پیدائش یاد نہیں۔ غالباً 1950ء سے 1955ء کے درمیان کی پیدائش رہی ہوگی۔
آپ نے ابتدائی دینی تعلیم مدرسہ خیر العلوم بردونی، ضلع سمستی پور میں حاصل کی، جہاں ان کے اساتذہ میں مولانا احمد علی رحمانی، مولانا یوسف بٹس پوری اور الحاج ماسٹر عبد الرحیم صاحبان تھے۔ اس کے بعد مدرسہ بدر الاسلام، بیگو سرائے میں داخلہ لیا اور متوسط درجات کی تعلیم حاصل کی، جہاں ان کے اساتذہ میں مولانا محمد اسماعیل مونگیریؒ (تلمیذِ شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ) اور ان کے چھوٹے بھائی مولانا محمد اسحاق مونگیریؒ بھی شامل تھے۔ (صوبۂ اڈیشا میں یہ حضرات پٹنوی کے لاحقے کے ساتھ معروف ہیں۔)
اعلیٰ تعلیم کے لیے دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور شعبان 1392ھ مطابق ستمبر 1972ء میں دورۂ حدیث کا سال پڑھ کر فارغ التحصیل ہوئے۔ دارالعلوم دیوبند میں آپ نے اپنے عہد کے متعدد جلیل القدر علماء و محدثین سے کسبِ فیض کیا، جن میں فخر المحدثین مولانا سید فخر الدین احمد مرادآبادیؒ، فقیہ الامت مولانا محمود حسن گنگوہیؒ، مولانا سید فخر الحسن مرادآبادیؒ، مولانا شریف حسن دیوبندیؒ، مولانا عبد الاحد دیوبندیؒ، فقیہِ عصر مولانا انظر شاہ کشمیریؒ، مولانا نصیر احمد خان بلند شہریؒ، مولانا وحید الزماں کیرانویؒ، مولانا محمد نعیم دیوبندیؒ، خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمیؒ اور مولانا قمر الدین احمد گورکھپوریؒ شامل تھے۔
آپ کے ممتاز شرکائے دورۂ حدیث میں مولانا مجیب اللہ گونڈوی (استاذ حدیث دار العلوم دیوبند)، جو اپنے زمانے میں ترجمانِ دورۂ حدیث تھے، مولانا بدر الحسن قاسمی (مقیم حال کویت و نائب صدر اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا)، مولانا عبد الخالق سنبھلیؒ (سابق نائب مہتمم و استاذِ حدیث دارالعلوم دیوبند) اور مولانا ابو العاص بستوی شامل تھے۔
آپ کے زمانۂ طالب علمی یعنی دورۂ حدیث کے سال کا ایک اہم واقعہ کا ہے۔ درمیان سال اس وقت کے شیخ الحدیث فخر المحدثین مولانا سید فخر الدین احمد مرادآبادیؒ کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کے بعد جب انتظامیہ کی جانب سے مولانا فخر الحسن مرادآبادیؒ کو شیخ الحدیث بنانے کی بات آ رہی تھی تو طلبہ نے اس پر احتجاج کیا اور مولانا شریف حسن دیوبندیؒ کو اس منصب پر فائز کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت مولانا محمد جسیم الدین قاسمیؒ اور دورۂ حدیث کے ترجمان مولانا مجیب اللہ گونڈوی پیش پیش تھے۔
زمانۂ طالب علمی میں مولانا محمد ذبیح اللہ قاسمیؒ (ولادت: 1953ء، وفات: 2022ء) آپ کے رفیق درس تھے۔ مدرسہ خیر العلوم بردونی، مدرسہ بدر الاسلام بیگو سرائے اور دارالعلوم دیوبند؛ تینوں ہی اداروں میں دونوں کی رفاقت رہی۔ مولانا ذبیح اللہ قاسمیؒ آپ کے ہم عمر یا آپ سے چند سال بڑے تھے اور 1971ء میں فارغ ہوئے، جب کہ آپ نے 1972ء میں فراغت حاصل کی۔
عملی و تدریسی زندگی
دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد 1972ء میں آپ صوبۂ اڈیشا تشریف لے آئے۔ یہاں سب سے پہلے آپ کا تقرر؛ مدرسہ اسلامیہ دینیہ (ارشد العلوم)، اسریسر، چودہ محلہ، سبلنگ کنی پاڑہ، ضلع کٹک میں بحیثیت مدرس ہوا۔ اس کے بعد سرکاری ادارے مدرسہ اشرف العلوم رمضانیہ، فقیر آباد، کیندرہ پاڑہ میں آپ کا تقرر ہوا اور طویل عرصے تک وہاں تدریسی فرائض انجام دینے کے بعد ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ آپ نے جامع مسجد، فقیر آباد، کیندرہ پاڑہ میں سالہا سال امام و خطیب، پھر خطیب کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔
آپ نے اپنی زندگی کا تقریباً نصف صدی کا عرصہ اڈیشا میں گزارا۔ بالخصوص شہر کیندرہ پاڑہ میں اپنی طویل علمی و دینی خدمات کے باعث ایک محترم اور معتبر عالم کی حیثیت سے اکابر علمائے اڈیشا میں آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ آپ جامعہ اشرف العلوم محمود آباد، کیندرہ پاڑہ کی مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی تھے۔ جامعہ اسلامیہ مرکز العلوم
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
سونگڑہ سے بھی آپ کو خصوصی تعلق اور قلبی وابستگی تھی۔ آپ کو اکابر علمائے اڈیشا کے درمیان خاص مقام حاصل تھا۔ امیرِ شریعت اول اڈیشا حضرت مولانا سید محمد اسماعیل کٹکیؒ، امیرِ شریعت ثانی حضرت مولانا سید سراج الساجدین قاسمی کٹکیؒ اور دیگر اکابرِ اڈیشا سے آپ کے گہرے روابط تھے اور ان کے نزدیک آپ کی خاص قدر و منزلت تھی۔
آپ تحریکِ جمعیۃ علماء کے پرجوش حامی اور سرگرم علم بردار تھے۔ امیرِ شریعت اول اڈیشا اور امیرِ شریعت ثانی اڈیشا کے انتقال کے مواقع پر آپ بنفسِ نفیس نمازِ جنازہ میں شریک تھے اور ان دونوں مواقع پر جانشین کے انتخاب سے متعلق اہم اعلانات بھی آپ ہی نے کیے تھے؛ ایسا میں نے اپنے بڑوں سے سنا ہے۔
تدریس کے ساتھ خطابت آپ کی نمایاں صلاحیت تھی۔ آپ کا شمار اڈیشا کے ممتاز خطباء میں ہوتا تھا۔ تقریر میں روانی، برجستگی اور مؤثر اندازِ بیان آپ کا خاص وصف تھا۔ مختلف دینی اجتماعات اور کانفرنسوں میں آپ کو خطاب کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔ اڈیشا اور بیرون اڈیشا مختلف مقامات کے بڑے بڑے علماء کی موجودگی میں آپ کو خطاب کا شرف حاصل تھا۔ شاہی امام جامع مسجد مولانا سید عبد اللہ بخاری کے سامنے دہلی میں خطاب ہوا تھا۔
امیر شریعت حضرت مولانا محمد فاروق قاسمی (رئیس الجامعہ جامعہ اشرف العلوم کیندرہ پاڑہ) کی رفاقت میں اکثر آپ کے اسفار ہوا کرتے تھے اور دونوں میں بہت گہرے مراسم تھے۔ حضرت امیر شریعت جب 1984ء میں دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہو کر کیندرہ پاڑہ تشریف لائے تھے تو دیگر اکابرین کے ساتھ مولانا محمد جسیم الدین صاحب نے بھی انھیں بند پڑے مدرسہ اشرف العلوم حنفیہ کی باگ ڈور سنبھالنے کا مشورہ دیا تھا، جس کا تذکرہ خود حضرت امیر شریعت نے مجھ سے کیا تھا۔
27 فروری 2009ء کو مسجد بلال، کیونجھر میں آپ کا ایک اہم خطاب ہوا تھا۔ 26 فروری 2009ء کو امیر الہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم اردو ٹریننگ اسکول، شیخ بازار، کٹک منعقدہ جمعیۃ علماء اڈیشا کے اجلاس میں شرکت کے بعد 27 فروری 2009ء بہ روز جمعہ چَڑَئی بَھول، ضلع میُوربھنج کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ دن میں ان کا قیام شہر کیونجھر میں ہوا، جہاں انھوں نے مسجد بلال، کیونجھر میں جمعہ کا خطبہ دیا، تاہم اردو خطاب سے معذرت فرمائی تھی۔ اس موقع پر مولانا محمد جسیم الدین قاسمیؒ نے اردو میں نہایت شاندار تقریر کی اور حضرت مولانا سید ارشد مدنی مد ظلہ العالی کا شاندار تعارف بھی کروایا تھا۔
اسی روز مغرب کے بعد آپ نے چڑئی بھول میں منعقدہ اجلاسِ عام سے خطاب فرمایا اور وہاں بھی خانوادۂ مدنی کا خصوصی تعارف فرمایا تھا۔ اس اجلاس کے موقع پر دارالعلوم حسینیہ، مدنی نگر، چڑئی بھول کا سنگِ بنیاد حضرت مولانا سید ارشد مدنی مد ظلہ العالی نے رکھا تھا۔ اس سے قبل بھی آپ والد محترم قاری محمد نور الامین صاحب کی دعوت پر مرتبہ چڑئی بھول تشریف لا چکے تھے۔ اسی طرح جامعہ تجوید القرآن عثمانیہ، بارہ بٹیا، تیرن، ضلع جگت سنگھ پور، اڈیشا میں بھی آپ کی متعدد مرتبہ آمد ہو چکی تھی۔
2004ء میں چڑئی بھول میں منعقدہ ”تحفظِ سنت کانفرنس“ میں بھی آپ نے والد محترم قاری محمد نور الامین صاحب کی دعوت پر شرکت کی تھی اور خطاب بھی فرمایا تھا۔ یہ کانفرنس امیر شریعت اول اڈیشا مناظر اسلام مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی رحمہ اللہ کے زیر صدارت منعقد ہوا تھا اور جس میں مناظر اسلام مولانا سید طاہر حسین گیاوی رحمہ اللہ بھی شریک تھے۔
آپ کو اڈیشا، بالخصوص ضلع کیندرہ پاڑہ کے علاقائی و صوبائی سیاسی حالات پر گہری نظر حاصل تھی۔ سیاسی حلقوں میں بھی آپ کی رائے اور مشورے کو اہمیت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ افراد آپ سے مشورہ اور رہنمائی کے لیے رجوع کرتے تھے۔ اس طرح دینی و علمی حلقوں کے علاوہ سماجی اور سیاسی میدان میں بھی آپ کا ایک مؤثر مقام تھا۔
اخلاق و اوصاف
والد محترم قاری محمد نور الامین صاحب کے بیان کے مطابق؛ آپ کی شخصیت میں علم و فضل کے ساتھ شفقت، محبت، خوش اخلاقی اور مہمان نوازی کے اوصاف نمایاں تھے۔ آپ سے ملاقات کے لیے آنے والوں کا عزت و احترام سے استقبال کرتے اور ہر شخص کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔ چھوٹوں پر شفقت اور اپنے متعلقین سے محبت آپ کی طبیعت کا خاص حصہ تھی۔ آپ کے ساتھ دیرینہ تعلق رکھنے والوں کو ہمیشہ آپ کی محبت اور حسنِ سلوک کا تجربہ رہا۔ جب 2022ء میں میں نے ان سے انٹرویو لیا تھا تب بھی اپ نے بڑی شفقت کے ساتھ گفتگو فرمائی تھی۔
وفات
زندگی کے آخری ایام میں مولانا محمد جسیم الدین قاسمیؒ علیل تھے اور چند سالوں سے اپنے آبائی گاؤں بڑاہی، ضلع سمستی پور، بہار ہی میں مقیم تھے۔ آج یکم نومبر 2026ء کو وہیں آپ کا انتقال ہوگیا۔ آپ کی وفات پر صوبۂ اڈیشا میں ایک غم کی لہر دوڑ گئی ہے اور سب ان کے لیے دعائے مغفرت کر رہے ہیں۔
آپ تحریکِ جمعیۃ علماء کے پرجوش حامی اور سرگرم علم بردار تھے۔ امیرِ شریعت اول اڈیشا اور امیرِ شریعت ثانی اڈیشا کے انتقال کے مواقع پر آپ بنفسِ نفیس نمازِ جنازہ میں شریک تھے اور ان دونوں مواقع پر جانشین کے انتخاب سے متعلق اہم اعلانات بھی آپ ہی نے کیے تھے؛ ایسا میں نے اپنے بڑوں سے سنا ہے۔
تدریس کے ساتھ خطابت آپ کی نمایاں صلاحیت تھی۔ آپ کا شمار اڈیشا کے ممتاز خطباء میں ہوتا تھا۔ تقریر میں روانی، برجستگی اور مؤثر اندازِ بیان آپ کا خاص وصف تھا۔ مختلف دینی اجتماعات اور کانفرنسوں میں آپ کو خطاب کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔ اڈیشا اور بیرون اڈیشا مختلف مقامات کے بڑے بڑے علماء کی موجودگی میں آپ کو خطاب کا شرف حاصل تھا۔ شاہی امام جامع مسجد مولانا سید عبد اللہ بخاری کے سامنے دہلی میں خطاب ہوا تھا۔
امیر شریعت حضرت مولانا محمد فاروق قاسمی (رئیس الجامعہ جامعہ اشرف العلوم کیندرہ پاڑہ) کی رفاقت میں اکثر آپ کے اسفار ہوا کرتے تھے اور دونوں میں بہت گہرے مراسم تھے۔ حضرت امیر شریعت جب 1984ء میں دار العلوم دیوبند سے فارغ التحصیل ہو کر کیندرہ پاڑہ تشریف لائے تھے تو دیگر اکابرین کے ساتھ مولانا محمد جسیم الدین صاحب نے بھی انھیں بند پڑے مدرسہ اشرف العلوم حنفیہ کی باگ ڈور سنبھالنے کا مشورہ دیا تھا، جس کا تذکرہ خود حضرت امیر شریعت نے مجھ سے کیا تھا۔
27 فروری 2009ء کو مسجد بلال، کیونجھر میں آپ کا ایک اہم خطاب ہوا تھا۔ 26 فروری 2009ء کو امیر الہند حضرت مولانا سید ارشد مدنی دامت برکاتہم اردو ٹریننگ اسکول، شیخ بازار، کٹک منعقدہ جمعیۃ علماء اڈیشا کے اجلاس میں شرکت کے بعد 27 فروری 2009ء بہ روز جمعہ چَڑَئی بَھول، ضلع میُوربھنج کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ دن میں ان کا قیام شہر کیونجھر میں ہوا، جہاں انھوں نے مسجد بلال، کیونجھر میں جمعہ کا خطبہ دیا، تاہم اردو خطاب سے معذرت فرمائی تھی۔ اس موقع پر مولانا محمد جسیم الدین قاسمیؒ نے اردو میں نہایت شاندار تقریر کی اور حضرت مولانا سید ارشد مدنی مد ظلہ العالی کا شاندار تعارف بھی کروایا تھا۔
اسی روز مغرب کے بعد آپ نے چڑئی بھول میں منعقدہ اجلاسِ عام سے خطاب فرمایا اور وہاں بھی خانوادۂ مدنی کا خصوصی تعارف فرمایا تھا۔ اس اجلاس کے موقع پر دارالعلوم حسینیہ، مدنی نگر، چڑئی بھول کا سنگِ بنیاد حضرت مولانا سید ارشد مدنی مد ظلہ العالی نے رکھا تھا۔ اس سے قبل بھی آپ والد محترم قاری محمد نور الامین صاحب کی دعوت پر مرتبہ چڑئی بھول تشریف لا چکے تھے۔ اسی طرح جامعہ تجوید القرآن عثمانیہ، بارہ بٹیا، تیرن، ضلع جگت سنگھ پور، اڈیشا میں بھی آپ کی متعدد مرتبہ آمد ہو چکی تھی۔
2004ء میں چڑئی بھول میں منعقدہ ”تحفظِ سنت کانفرنس“ میں بھی آپ نے والد محترم قاری محمد نور الامین صاحب کی دعوت پر شرکت کی تھی اور خطاب بھی فرمایا تھا۔ یہ کانفرنس امیر شریعت اول اڈیشا مناظر اسلام مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی رحمہ اللہ کے زیر صدارت منعقد ہوا تھا اور جس میں مناظر اسلام مولانا سید طاہر حسین گیاوی رحمہ اللہ بھی شریک تھے۔
آپ کو اڈیشا، بالخصوص ضلع کیندرہ پاڑہ کے علاقائی و صوبائی سیاسی حالات پر گہری نظر حاصل تھی۔ سیاسی حلقوں میں بھی آپ کی رائے اور مشورے کو اہمیت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ افراد آپ سے مشورہ اور رہنمائی کے لیے رجوع کرتے تھے۔ اس طرح دینی و علمی حلقوں کے علاوہ سماجی اور سیاسی میدان میں بھی آپ کا ایک مؤثر مقام تھا۔
اخلاق و اوصاف
والد محترم قاری محمد نور الامین صاحب کے بیان کے مطابق؛ آپ کی شخصیت میں علم و فضل کے ساتھ شفقت، محبت، خوش اخلاقی اور مہمان نوازی کے اوصاف نمایاں تھے۔ آپ سے ملاقات کے لیے آنے والوں کا عزت و احترام سے استقبال کرتے اور ہر شخص کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔ چھوٹوں پر شفقت اور اپنے متعلقین سے محبت آپ کی طبیعت کا خاص حصہ تھی۔ آپ کے ساتھ دیرینہ تعلق رکھنے والوں کو ہمیشہ آپ کی محبت اور حسنِ سلوک کا تجربہ رہا۔ جب 2022ء میں میں نے ان سے انٹرویو لیا تھا تب بھی اپ نے بڑی شفقت کے ساتھ گفتگو فرمائی تھی۔
وفات
زندگی کے آخری ایام میں مولانا محمد جسیم الدین قاسمیؒ علیل تھے اور چند سالوں سے اپنے آبائی گاؤں بڑاہی، ضلع سمستی پور، بہار ہی میں مقیم تھے۔ آج یکم نومبر 2026ء کو وہیں آپ کا انتقال ہوگیا۔ آپ کی وفات پر صوبۂ اڈیشا میں ایک غم کی لہر دوڑ گئی ہے اور سب ان کے لیے دعائے مغفرت کر رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ آپ کی دینی و علمی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، آپ کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ آمین۔
نوٹ:
اپنے والد محترم قاری محمد نور الامین صاحب کے ہمراہ 2003ء میں فقیر آباد، کیندرہ پاڑہ میں میری آپ سے ملاقات ہوئی۔ تبھی ایک بار کیندرہ پاڑہ جانے کا اتفاق ہوا تھا۔
اس کے بعد 27 اگست 2022ء میں مولانا محمد ذبیح اللہ قاسمیؒ کے انتقال کے بعد ان کی حیات و خدمات پر مواد جمع کرنے کے سلسلے میں مولانا جسیم الدین قاسمیؒ سے فون پر گھنٹوں تفصیلی گفتگو ہوئی تھی، مولانا محمد ذبیح اللہ قاسمیؒ کے ساتھ ساتھ آپ کے سلسلے میں بھی میں نے انٹرویو لیا تھا۔ اس گفتگو کی ریکارڈنگ محفوظ تھی، لیکن موبائل فون گم ہوجانے کے باعث وہ ریکارڈنگ محفوظ نہ رہ سکی۔ تاہم اس گفتگو کی روشنی میں میں نے مولانا محمد ذبیح اللہ قاسمیؒ پر سوانح خاکہ تیار کیا تھا، جس میں خود آپ کے بھی احوال آ گئے تھے۔ حالیہ دنوں میں علمائے اڈیشا پر زیر ترتیب اپنی کتاب کے سلسلے میں، میں نے مولانا سے رابطہ کرنے کی کئی بار کوشش کی؛ مگر اس میں ناکام رہا۔ بعد میں مولانا توحید الرحمن قاسمی (کیندرہ پاڑہ) سے معلوم ہوا کہ مولانا اس وقت بہت علیل چل رہے ہیں۔ کئی اور علماء سے بھی رابطہ نہ ہو پانے کا ذکر سنا تھا۔
اللہ تعالی حضرت مولانا کی بال بال مغفرت فرمائے اور پس ماندگان و متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
خصوصی نوٹ:
مولانا کے سلسلے میں جن حضرات کو مزید قابلِ ذکر باتیں معلوم ہوں، وہ درج ذیل نمبر پر رابطہ کر کے بندے کو اطلاع دے سکتے ہیں:
موبائل و واٹس ایپ نمبر: 7409912239
ای میل ایڈریس: ramin014007@gmail.com
نوٹ:
اپنے والد محترم قاری محمد نور الامین صاحب کے ہمراہ 2003ء میں فقیر آباد، کیندرہ پاڑہ میں میری آپ سے ملاقات ہوئی۔ تبھی ایک بار کیندرہ پاڑہ جانے کا اتفاق ہوا تھا۔
اس کے بعد 27 اگست 2022ء میں مولانا محمد ذبیح اللہ قاسمیؒ کے انتقال کے بعد ان کی حیات و خدمات پر مواد جمع کرنے کے سلسلے میں مولانا جسیم الدین قاسمیؒ سے فون پر گھنٹوں تفصیلی گفتگو ہوئی تھی، مولانا محمد ذبیح اللہ قاسمیؒ کے ساتھ ساتھ آپ کے سلسلے میں بھی میں نے انٹرویو لیا تھا۔ اس گفتگو کی ریکارڈنگ محفوظ تھی، لیکن موبائل فون گم ہوجانے کے باعث وہ ریکارڈنگ محفوظ نہ رہ سکی۔ تاہم اس گفتگو کی روشنی میں میں نے مولانا محمد ذبیح اللہ قاسمیؒ پر سوانح خاکہ تیار کیا تھا، جس میں خود آپ کے بھی احوال آ گئے تھے۔ حالیہ دنوں میں علمائے اڈیشا پر زیر ترتیب اپنی کتاب کے سلسلے میں، میں نے مولانا سے رابطہ کرنے کی کئی بار کوشش کی؛ مگر اس میں ناکام رہا۔ بعد میں مولانا توحید الرحمن قاسمی (کیندرہ پاڑہ) سے معلوم ہوا کہ مولانا اس وقت بہت علیل چل رہے ہیں۔ کئی اور علماء سے بھی رابطہ نہ ہو پانے کا ذکر سنا تھا۔
اللہ تعالی حضرت مولانا کی بال بال مغفرت فرمائے اور پس ماندگان و متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
خصوصی نوٹ:
مولانا کے سلسلے میں جن حضرات کو مزید قابلِ ذکر باتیں معلوم ہوں، وہ درج ذیل نمبر پر رابطہ کر کے بندے کو اطلاع دے سکتے ہیں:
موبائل و واٹس ایپ نمبر: 7409912239
ای میل ایڈریس: ramin014007@gmail.com
*عثمان حسن جوباپو (ہیڈ ماسٹر) ۔۔۔ ایسا دردمند معلم ومربی کہاں سے لائیں*
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل) *
( یوم وفات ۳۱/ اکتوبر کی مناسبت سے ایک تحریر)
ایک کم پچاس (۴۹) سال ہونے کو آرہے ہیں، ۳۱/ اکتوبر کی تاریخ تھی۔اور سنہ ۱۹۷۷ء، جامعہ آباد میں جہاں اب ثانویہ جاتے ہوئے بائیں جانب اسٹاف کوارٹر ہے،پہلے وہاں ایک چھوٹا سا مکان ہوا کرتا تھا، جس میں نہ صرف ہمارے استاد بلکہ استاد الاساتذہ ، جامعہ کے اولین معتمد و مہتمم ، قوم کے عظیم محسن ، حضرت مولانا عبد الحمید ندوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے محبین اساتذہ وطلبہ کے جلو میں بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت مولانا اپنی اہلیہ کے انتقال کے بعد الحاج محی الدین منیری مرحوم کی دعوت پر بھٹکل تشریف لائے ہوئے تھے۔ یہی چھوٹا سا مکان آپ کا مسکن تھا۔ صبح کا وقت تھا کہ خبر آئی کہ ماسٹر عثمان حسن ہیڈ ماسٹر انجمن اسلامیہ ہائی اسکول نے اپنی ڈیوٹی ادا کرتے ہوئے، اپنی میز ہی پر داعی اجل کو لبیک کہا۔ یہ خبر جب مولانا کے کان میں پڑی تو آپ کے منہ سے ایک چیخ اٹھی ، اور پھر ٓپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی، فورا ہی مولانا کو ضروری دیکھ بال کے لئے اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لے جایا گیا۔
عثمان حسن مرحوم کے اچانک انتقال کی اس خبر سے مولانا پر غمزدگی کا جو اثر ہوا تھا وہ کوئی تعجب کی بات نہیں تھی، در اصل جب مولانا قیام جامعہ کے لئے ۱۹۶۲ء میں بھٹکل تشریف لائے تھے،تو اس وقت اس تحریک کے ہراول دستے کے عثمان حسن بھی ایک رکن تھے۔ اگر بعد میں کچھ حالات دگرگوں نہ ہوتے تو آپ کا نام بھی بانیان جامعہ کی فہرست میں گنا جاتا۔ بانی جامعہ ڈاکٹر علی ملپا اور ماسٹر صاحب ہم مشرب تھے، یہ دونوں حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ اجل مصلح الامت حضرت مولانا وصی اللہ فتحپوری رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھوں پر بیعت تھے، اور ان سے اصلاح و ارشاد کا تعلق رکھتے تھے، جب جامعہ کی تاسیس کی تحریک چلی تھی تواس جد وجہد میں یہ بھی اپنے پیر بھائی کے ساتھ ابتدا ہی میں شریک ہوگئے تھے۔
جامعہ کی تاسیس کے وقت آپ انجمن ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے، اور آپ کا خیال تھا کہ پرائمری بورڈ اسکولوں پر سرکار کا مکمل کنٹرول ہونے کی وجہ سے یہاں پر نونہالوں کی تعلیم کا معیار بہت پست ہوگیا ہے، اور دینی بنیادوں پر ان کی تعلیم وتربیت بہت دشوار ہوگئی ہے، لہذا آپ کی خواہش تھی کہ بچوں کی پرائمری تعلیم کے لئے ایک آزاد دینی درسگاہ بنائی جائے، جہاں سے پرائمری تعلیم پانچویں یا ساتویں مکمل کرکے طلبہ انجمن اسکول میں داخل ہوں، اس سے اسلامی خطوط پر ان کی تعلیم تربیت آسان ہوگی۔ اور اس کے بعد اعلی تعلیم حاصل کرکے جو نسل نکلے گی وہ قوم وملت کا درد لئے ہوگی، اور اس کے صراط مستقیم سے ہٹنے کے امکانات بہت کم ہونگے۔جامعہ ان کے اسی خواب کی تعبیر تھی، ان کا یہ تصور بھی اعلی و ارفع تھا، لیکن مولانا عبد الحمید ندویؒ کی رہنمائی میں ذمہ داران نے جامعہ کو پرائمری کی حد تک محدود کرنے کے بجائے ابتداہی میں اسے ایک عظیم اسلامی دارالعلوم بنانے کا خاکہ پیش کردیا، سننے میں آیا ہے کہ اس تعلق سے غالبا ماسٹر صاحب اور مولانا عبد الحمید ندوی میں کچھ اختلاف رائے بھی ہوا، اور تلخ باتیں بھی ہوئیں،اسی دوران مولانا کا ۱۹۶۷ء میں بھٹکل چھوڑ کر جانا ہوا۔ایک دہائی بعد بھٹکل دوبارہ واپسی کے موقعہ پر ماسٹر صاحب کی اچانک انتقال کی خبر کے بعد یہ رد عمل اختلاف رائے کے باوجود ماسٹر صاحب سے بے پناہ محبت اور تعلق کی علامت تھا، جو لاشعوری میں ایک تڑپ بن گیا تھا۔
ماسٹر عثمان حسن کی ولادت سنہ ۱۹۲۹میں بھٹکل میں ہوئی تھی۔ آپ کی والدہ کا سایہ بچپن ہی میں سر سے اٹھ گیا تھا، والد ماجد سے مدت تک ملاقات نہیں ہوئی تھی، ممتا کا حق آپ کی نانی نے ادا کیا، اور آپ نے غربت اور ناداری میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔
انجمن میں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے ممبئی کا رخ کیا، جہاں آپ کی تعلیم وہاں کی قابل فخر تعلیم گاہ اسماعیل یوسف کالج جوگیشوری میں ہوئی، یہاں آپ کو مسلمانان ممبئی کے عظیم محسن اور بانی پرنسپل ڈاکٹر محمد بذل الرحمن اور دبستان شبلی وسید سلیمان کے چشم وچراغ اورعظیم محقق ومعلم ڈاکٹر سید محمد نجیب اشرف ندوی کی صحبت نصیب ہوئی۔
*تحریر: عبد المتین منیری (بھٹکل) *
( یوم وفات ۳۱/ اکتوبر کی مناسبت سے ایک تحریر)
ایک کم پچاس (۴۹) سال ہونے کو آرہے ہیں، ۳۱/ اکتوبر کی تاریخ تھی۔اور سنہ ۱۹۷۷ء، جامعہ آباد میں جہاں اب ثانویہ جاتے ہوئے بائیں جانب اسٹاف کوارٹر ہے،پہلے وہاں ایک چھوٹا سا مکان ہوا کرتا تھا، جس میں نہ صرف ہمارے استاد بلکہ استاد الاساتذہ ، جامعہ کے اولین معتمد و مہتمم ، قوم کے عظیم محسن ، حضرت مولانا عبد الحمید ندوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے محبین اساتذہ وطلبہ کے جلو میں بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت مولانا اپنی اہلیہ کے انتقال کے بعد الحاج محی الدین منیری مرحوم کی دعوت پر بھٹکل تشریف لائے ہوئے تھے۔ یہی چھوٹا سا مکان آپ کا مسکن تھا۔ صبح کا وقت تھا کہ خبر آئی کہ ماسٹر عثمان حسن ہیڈ ماسٹر انجمن اسلامیہ ہائی اسکول نے اپنی ڈیوٹی ادا کرتے ہوئے، اپنی میز ہی پر داعی اجل کو لبیک کہا۔ یہ خبر جب مولانا کے کان میں پڑی تو آپ کے منہ سے ایک چیخ اٹھی ، اور پھر ٓپ پر بے ہوشی طاری ہوگئی، فورا ہی مولانا کو ضروری دیکھ بال کے لئے اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لے جایا گیا۔
عثمان حسن مرحوم کے اچانک انتقال کی اس خبر سے مولانا پر غمزدگی کا جو اثر ہوا تھا وہ کوئی تعجب کی بات نہیں تھی، در اصل جب مولانا قیام جامعہ کے لئے ۱۹۶۲ء میں بھٹکل تشریف لائے تھے،تو اس وقت اس تحریک کے ہراول دستے کے عثمان حسن بھی ایک رکن تھے۔ اگر بعد میں کچھ حالات دگرگوں نہ ہوتے تو آپ کا نام بھی بانیان جامعہ کی فہرست میں گنا جاتا۔ بانی جامعہ ڈاکٹر علی ملپا اور ماسٹر صاحب ہم مشرب تھے، یہ دونوں حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ اجل مصلح الامت حضرت مولانا وصی اللہ فتحپوری رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھوں پر بیعت تھے، اور ان سے اصلاح و ارشاد کا تعلق رکھتے تھے، جب جامعہ کی تاسیس کی تحریک چلی تھی تواس جد وجہد میں یہ بھی اپنے پیر بھائی کے ساتھ ابتدا ہی میں شریک ہوگئے تھے۔
جامعہ کی تاسیس کے وقت آپ انجمن ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے، اور آپ کا خیال تھا کہ پرائمری بورڈ اسکولوں پر سرکار کا مکمل کنٹرول ہونے کی وجہ سے یہاں پر نونہالوں کی تعلیم کا معیار بہت پست ہوگیا ہے، اور دینی بنیادوں پر ان کی تعلیم وتربیت بہت دشوار ہوگئی ہے، لہذا آپ کی خواہش تھی کہ بچوں کی پرائمری تعلیم کے لئے ایک آزاد دینی درسگاہ بنائی جائے، جہاں سے پرائمری تعلیم پانچویں یا ساتویں مکمل کرکے طلبہ انجمن اسکول میں داخل ہوں، اس سے اسلامی خطوط پر ان کی تعلیم تربیت آسان ہوگی۔ اور اس کے بعد اعلی تعلیم حاصل کرکے جو نسل نکلے گی وہ قوم وملت کا درد لئے ہوگی، اور اس کے صراط مستقیم سے ہٹنے کے امکانات بہت کم ہونگے۔جامعہ ان کے اسی خواب کی تعبیر تھی، ان کا یہ تصور بھی اعلی و ارفع تھا، لیکن مولانا عبد الحمید ندویؒ کی رہنمائی میں ذمہ داران نے جامعہ کو پرائمری کی حد تک محدود کرنے کے بجائے ابتداہی میں اسے ایک عظیم اسلامی دارالعلوم بنانے کا خاکہ پیش کردیا، سننے میں آیا ہے کہ اس تعلق سے غالبا ماسٹر صاحب اور مولانا عبد الحمید ندوی میں کچھ اختلاف رائے بھی ہوا، اور تلخ باتیں بھی ہوئیں،اسی دوران مولانا کا ۱۹۶۷ء میں بھٹکل چھوڑ کر جانا ہوا۔ایک دہائی بعد بھٹکل دوبارہ واپسی کے موقعہ پر ماسٹر صاحب کی اچانک انتقال کی خبر کے بعد یہ رد عمل اختلاف رائے کے باوجود ماسٹر صاحب سے بے پناہ محبت اور تعلق کی علامت تھا، جو لاشعوری میں ایک تڑپ بن گیا تھا۔
ماسٹر عثمان حسن کی ولادت سنہ ۱۹۲۹میں بھٹکل میں ہوئی تھی۔ آپ کی والدہ کا سایہ بچپن ہی میں سر سے اٹھ گیا تھا، والد ماجد سے مدت تک ملاقات نہیں ہوئی تھی، ممتا کا حق آپ کی نانی نے ادا کیا، اور آپ نے غربت اور ناداری میں اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔
انجمن میں ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے ممبئی کا رخ کیا، جہاں آپ کی تعلیم وہاں کی قابل فخر تعلیم گاہ اسماعیل یوسف کالج جوگیشوری میں ہوئی، یہاں آپ کو مسلمانان ممبئی کے عظیم محسن اور بانی پرنسپل ڈاکٹر محمد بذل الرحمن اور دبستان شبلی وسید سلیمان کے چشم وچراغ اورعظیم محقق ومعلم ڈاکٹر سید محمد نجیب اشرف ندوی کی صحبت نصیب ہوئی۔
ممبئی میں آپ کو بھٹکل کے عظیم قائد الحاج محی الدین منیری مرحوم کی سرپرستی حاصل رہی، معاشی حالات ایسے نہیں تھے کہ ممبئی جیسے شہر میں تعلیم جاری رکھی جاسکتی، منیری صاحب کی قوم کے ہونہار بچوں پر نظر ہوتی تھی، قیام جامعہ سے سات آٹھ سال پہلے آپ نے بھٹکل میں دینی ادارے میں تدریسی صلاحیتوں کے حامل اساتذہ و علماء کی پیشگی تیاری کی غرض سےکئی ایک طلبہ کو دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنو جانے پر آمادہ کیا تھا، ان میں مولانا حافظ محمد اقبال ندوی، اور مولانا عبد المجید ملپا ندوی جیسے افراد قابل ذکر ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ مختلف وجوہات سے ان میں سے کئی ایک جامعہ بننے کے بعد اس میں خدمات انجام نہ دے سکے۔
اسی طرح آپ نے ممبئی میں عصری تعلیم پانے والے ہونہار طلبہ پر بھی توجہ دی، ان میں عثمان حسن مرحوم آپ کی توجہات کا خاص مرکز بنے۔ مرحوم ظفر علی معلم راوی ہیں بھٹکل کے خشی چیڈو کے ہوٹل میں آپ کے کھانے پینے کا بندوبست منیری صاحب ہی نے کیا تھا۔ ماسٹر صاحب نے ممبئی سے عربی زبان میں یم اے کی تعلیم مکمل کی، اور پھر بعد میں بلگام سے بی ایڈ کیا۔
۱۹۵۸ء کے بعد مولانا قاضی شریف محی الدین اکرمیؒ یکسوئی کے ساتھ ممبئی منتقل ہوگئے تھے، اور انجمن سے عربی ودینیات کے استاد کی حیثیت سے استعفی دے دیاتھا، تو اس وقت ۳۰ /جون ۱۹۵۹ء کو انجمن اسکول میں ماسٹر عثمان حسن کا پہلے بحیثیت عربی ودینیات ٹیچر تقرر عمل میں آیا، پھر سنہ ۱۹۶۱ء میں ہیڈ ماسٹر بھٹ کی سبکدوشی کے بعد آپ کا بحیثیت ہیڈ ماسٹر تقرر ہوا۔ اور انجمن اپنے ایک نئے سنہرے دور میں داخل ہوگیا۔ جو سنہ ۱۹۷۷ء میں آپ کی وفات تک جملہ (۱۶) سال کے عرصے پر محیط رہا۔
اس دور میں ماسٹر صاحب نے انجمن کو بلندیوں تک لے جانے کے لئے جان کی بازی لگادی، اور اس میں شک نہیں کہ بانی انجمن جناب اسماعیل حسن صدیق مرحوم کے بعد اس ادارے کو آپ جیسا درد مند ، مخلص ،مدبر، معلم و سربراہ نہ مل سکا۔
اپنی ہیڈ ماسٹری کے زمانے میں آپ کی کوشش رہی کہ قوم کے فرزندان نئی نسل کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری سنبھالیں، جس کے لئے آپ نے اپنے شاگردان کی ایک کھیپ تیار کی، جہاں اس کے لئے آپ نے ملا اقبال ،محمد غزالی خطیبی جیسے سینیرزیر تعلیم طلبہ کو تربیت دی ، وہیں آپ نے فارغ التحصیل طلبہ میں سے ڈاکٹر عبد الستار دامدا، محمد جعفر دامدا، عبد القادر باشا خلیفہ، محمد جعفر گنگاولی، اور محمد زبیر چمپا جیسے ہونہار فارغین کو تدریس کے شعبہ سے جوڑ دیا، اور اس کے لئے ایک بیس سالہ منصوبہ تیار کیا، لیکن عمر نے وفا نہ کی اور یہ منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔
ماسٹر صاحب کی تمنا تھی کہ قوم کا ہر فرد زیور تعلیم سے آراستہ ہو، وہ بھٹکل میں بڑی غربت کا زمانہ تھا، خوش حالی ابھی عنقا تھی، خلیج میں تلاش رزق اور تجارت کے دروازے ابھی کھلنے ہی والے تھے۔ بچے ساتویں جماعت سے پہلے ہی تعلیم چھوڑ کر مزدوری اور تلاش معاش میں لگ جاتے تھے۔ اس دور میں ماسٹر صاحب ایک ایک کمزور بچے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ اور کوئی بچہ غربت کی وجہ سے تعلیم چھوڑتا تو اس کے والدین سے مل کر انہیں اپنے نونہالوں کی تعلیم جاری رکھنے پر آمادہ کرنے، اور ان کے لئے سہولتیں پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
آپ ہی کے زمانے میں انجمن نے ترقی کرتے ہوئے ڈگری کالج کا آغاز کیا، لڑکیوں کی تعلیم بھی ساتویں سے ترقی کرتے ہوئے کالج تک کا زینہ طے کیا۔ کچھ عرصہ آپ انجمن کے سکریٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی۔
آپ نے معاشرے میں خالص اردو ادب کا ذوق پیدا کرنے کی غرض سے جامعہ علی گڑھ کے ادیب، ادیب ماہر، اور ادیب کامل کے امتحانات کو بھٹکل میں جاری کیا، اس زمانے کے کئےایک طلبہ محمد حسین فطرت، ملا محمد اقبال وغیرہ نے ان امتحانات کو اعلی نمبرات سے پاس کیا، یہ بھی بھٹکل میں سلیس اور فصیح اردو زبان کے رواج کا باعث بنا۔
طلبہ میں غیر درسی مطالعہ کا فروغ کا سہر ا بھی ماسٹر صاحب کے سر جاتا ہے، آپ نے اپنے وقت کے لحاظ سے انجمن اسکول میں ایک بہترین لائبریری تشکیل دی تھی، اس وقت بچوں میں ان کتابوں کی ترویج میں آپ کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک تنخواہ دار ملازم کے ساتھ جو رویہ رہا ہے کہ قربانیوں کے باوجود اسے اعزازی کام کرنے والوں کا مقام نہیں مل پاتا، ماسٹر صاحب بھی اس روئیے کے شکار ہوئے، زندگی میں آپ کو وہ عزت اور مقام نہ مل سکا جس کے بجا طور پر وہ مستحق تھے، کالجوں اور انسٹی ٹیوٹوں کے سامنے ان کو ہائی اسکول کے ایک ہیڈ ماسٹر سے زیادہ نہیں سمجھا گیا۔ بلند وبالا عمارتوں کے سامنے ان کی بنیاد وں کو سیسے کی دیوار بنانے کے لئے خون بہانے والوں کو قابل اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ ماسٹر صاحب کی بار بار یہ خواہش رہی کہ انہیں اتنی مالی وسعت حاصل ہوتی جو ان کی گھریلو ضرورتوں کو پورا کرتی تو وہ قوم کی خدمت بلا معاوضہ انجام دیتے۔
اسی طرح آپ نے ممبئی میں عصری تعلیم پانے والے ہونہار طلبہ پر بھی توجہ دی، ان میں عثمان حسن مرحوم آپ کی توجہات کا خاص مرکز بنے۔ مرحوم ظفر علی معلم راوی ہیں بھٹکل کے خشی چیڈو کے ہوٹل میں آپ کے کھانے پینے کا بندوبست منیری صاحب ہی نے کیا تھا۔ ماسٹر صاحب نے ممبئی سے عربی زبان میں یم اے کی تعلیم مکمل کی، اور پھر بعد میں بلگام سے بی ایڈ کیا۔
۱۹۵۸ء کے بعد مولانا قاضی شریف محی الدین اکرمیؒ یکسوئی کے ساتھ ممبئی منتقل ہوگئے تھے، اور انجمن سے عربی ودینیات کے استاد کی حیثیت سے استعفی دے دیاتھا، تو اس وقت ۳۰ /جون ۱۹۵۹ء کو انجمن اسکول میں ماسٹر عثمان حسن کا پہلے بحیثیت عربی ودینیات ٹیچر تقرر عمل میں آیا، پھر سنہ ۱۹۶۱ء میں ہیڈ ماسٹر بھٹ کی سبکدوشی کے بعد آپ کا بحیثیت ہیڈ ماسٹر تقرر ہوا۔ اور انجمن اپنے ایک نئے سنہرے دور میں داخل ہوگیا۔ جو سنہ ۱۹۷۷ء میں آپ کی وفات تک جملہ (۱۶) سال کے عرصے پر محیط رہا۔
اس دور میں ماسٹر صاحب نے انجمن کو بلندیوں تک لے جانے کے لئے جان کی بازی لگادی، اور اس میں شک نہیں کہ بانی انجمن جناب اسماعیل حسن صدیق مرحوم کے بعد اس ادارے کو آپ جیسا درد مند ، مخلص ،مدبر، معلم و سربراہ نہ مل سکا۔
اپنی ہیڈ ماسٹری کے زمانے میں آپ کی کوشش رہی کہ قوم کے فرزندان نئی نسل کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری سنبھالیں، جس کے لئے آپ نے اپنے شاگردان کی ایک کھیپ تیار کی، جہاں اس کے لئے آپ نے ملا اقبال ،محمد غزالی خطیبی جیسے سینیرزیر تعلیم طلبہ کو تربیت دی ، وہیں آپ نے فارغ التحصیل طلبہ میں سے ڈاکٹر عبد الستار دامدا، محمد جعفر دامدا، عبد القادر باشا خلیفہ، محمد جعفر گنگاولی، اور محمد زبیر چمپا جیسے ہونہار فارغین کو تدریس کے شعبہ سے جوڑ دیا، اور اس کے لئے ایک بیس سالہ منصوبہ تیار کیا، لیکن عمر نے وفا نہ کی اور یہ منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔
ماسٹر صاحب کی تمنا تھی کہ قوم کا ہر فرد زیور تعلیم سے آراستہ ہو، وہ بھٹکل میں بڑی غربت کا زمانہ تھا، خوش حالی ابھی عنقا تھی، خلیج میں تلاش رزق اور تجارت کے دروازے ابھی کھلنے ہی والے تھے۔ بچے ساتویں جماعت سے پہلے ہی تعلیم چھوڑ کر مزدوری اور تلاش معاش میں لگ جاتے تھے۔ اس دور میں ماسٹر صاحب ایک ایک کمزور بچے کی فکر میں لگے رہتے تھے۔ اور کوئی بچہ غربت کی وجہ سے تعلیم چھوڑتا تو اس کے والدین سے مل کر انہیں اپنے نونہالوں کی تعلیم جاری رکھنے پر آمادہ کرنے، اور ان کے لئے سہولتیں پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
آپ ہی کے زمانے میں انجمن نے ترقی کرتے ہوئے ڈگری کالج کا آغاز کیا، لڑکیوں کی تعلیم بھی ساتویں سے ترقی کرتے ہوئے کالج تک کا زینہ طے کیا۔ کچھ عرصہ آپ انجمن کے سکریٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی۔
آپ نے معاشرے میں خالص اردو ادب کا ذوق پیدا کرنے کی غرض سے جامعہ علی گڑھ کے ادیب، ادیب ماہر، اور ادیب کامل کے امتحانات کو بھٹکل میں جاری کیا، اس زمانے کے کئےایک طلبہ محمد حسین فطرت، ملا محمد اقبال وغیرہ نے ان امتحانات کو اعلی نمبرات سے پاس کیا، یہ بھی بھٹکل میں سلیس اور فصیح اردو زبان کے رواج کا باعث بنا۔
طلبہ میں غیر درسی مطالعہ کا فروغ کا سہر ا بھی ماسٹر صاحب کے سر جاتا ہے، آپ نے اپنے وقت کے لحاظ سے انجمن اسکول میں ایک بہترین لائبریری تشکیل دی تھی، اس وقت بچوں میں ان کتابوں کی ترویج میں آپ کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک تنخواہ دار ملازم کے ساتھ جو رویہ رہا ہے کہ قربانیوں کے باوجود اسے اعزازی کام کرنے والوں کا مقام نہیں مل پاتا، ماسٹر صاحب بھی اس روئیے کے شکار ہوئے، زندگی میں آپ کو وہ عزت اور مقام نہ مل سکا جس کے بجا طور پر وہ مستحق تھے، کالجوں اور انسٹی ٹیوٹوں کے سامنے ان کو ہائی اسکول کے ایک ہیڈ ماسٹر سے زیادہ نہیں سمجھا گیا۔ بلند وبالا عمارتوں کے سامنے ان کی بنیاد وں کو سیسے کی دیوار بنانے کے لئے خون بہانے والوں کو قابل اعتناء نہیں سمجھا گیا۔ ماسٹر صاحب کی بار بار یہ خواہش رہی کہ انہیں اتنی مالی وسعت حاصل ہوتی جو ان کی گھریلو ضرورتوں کو پورا کرتی تو وہ قوم کی خدمت بلا معاوضہ انجام دیتے۔
❤1
ماسٹر صاحب نے جب ڈیوٹی ادا کرتے ہوئے میز پر ہی اپنی جان جان آفرینی کے سپرد کی تو کالج کے پروفیسر شاعر رشید کوثر فاروقی مرحوم نے اس وقت آپ کے تعزیتی اجلاس کے لئے ایک طویل تاثراتی نظم لکھی تھی، جس کا عنوان تھا " مرثیہ مگر کس کا"۔ جس نے مجمع کو رلا دیا تھا۔اس کا آخری بند کچھ یوں ہے۔(شاعر کی زبانی مکمل ویڈیو اور آڈیو اردو آڈیو ڈاٹ کام پر دستیاب ہے۔
بلندیوں سے گریزاں ہیں پست قوم ہیں ہم
ہمیں ہے فخر کہ مردہ پرست قوم ہیں ہم
جو قدر چاہتے ہو جان سے گزر جاؤ
اگر پسند ہو جینا تو پہلے مر جاؤ
یہ قوم وہ ہے جو زندوں کی جان لیتی ہے
یہ قوم وہ ہے جو مردوں پر جان دیتی ہے
یہ قوم تو دہ خاکی کے بت بناتی ہے
یہ قوم قبر کی مٹی بھی بیچ کھاتی ہے
یہ مر چکی ہے اسے گرو زندگی رکھ دو
عجائب بات میں اس قوم کی ممی رکھ دو
2026-10-10
WA:00919008175269
Https://telegram.me/ilmokitab
بلندیوں سے گریزاں ہیں پست قوم ہیں ہم
ہمیں ہے فخر کہ مردہ پرست قوم ہیں ہم
جو قدر چاہتے ہو جان سے گزر جاؤ
اگر پسند ہو جینا تو پہلے مر جاؤ
یہ قوم وہ ہے جو زندوں کی جان لیتی ہے
یہ قوم وہ ہے جو مردوں پر جان دیتی ہے
یہ قوم تو دہ خاکی کے بت بناتی ہے
یہ قوم قبر کی مٹی بھی بیچ کھاتی ہے
یہ مر چکی ہے اسے گرو زندگی رکھ دو
عجائب بات میں اس قوم کی ممی رکھ دو
2026-10-10
WA:00919008175269
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
*وفیات مورخہ:نومبر /01*
1942ء لالہ دیا نرائن نگم۔ ادیب
1971ء افقر موہانی وارثی (سید محمد حسین)۔ شاعر
1979ء نور محمد ولیکا۔ ،
1980ء صالحہ بیگم۔ ،
1982ء غلام عباس۔ افسانہ نگار
1994ء فروغ احمد۔ ادیب
1995ء محمد مرتضی حسین مظاہری (سید)۔ ناظر کتب خانہ شبلی نعمانی لکھنو
1997ء حبیب اللہ مختار۔ مولانا، ڈاکٹر ، مہتمم جامعہ علوم اسلامیہ کراچی
2000ء محمد بن علی با وہاب۔ ،
2001ء سید منصور بخاری۔ ،
2001ء مجیب سہالوی (عبد المجیب)۔ مزاح نگار
2004ء زاید بن سلطان آل نھیاں۔ بانی صدر متحدہ عرب امارات ، حاکم ابوظبی
2004ء محمد جسیم خان۔ ،
2018ء سمیع الحق حقانی۔ مولانا، مہتمم جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک
2021ء حمد اللہ مخلص۔
Https://telegram.me/ilmokitab
1942ء لالہ دیا نرائن نگم۔ ادیب
1971ء افقر موہانی وارثی (سید محمد حسین)۔ شاعر
1979ء نور محمد ولیکا۔ ،
1980ء صالحہ بیگم۔ ،
1982ء غلام عباس۔ افسانہ نگار
1994ء فروغ احمد۔ ادیب
1995ء محمد مرتضی حسین مظاہری (سید)۔ ناظر کتب خانہ شبلی نعمانی لکھنو
1997ء حبیب اللہ مختار۔ مولانا، ڈاکٹر ، مہتمم جامعہ علوم اسلامیہ کراچی
2000ء محمد بن علی با وہاب۔ ،
2001ء سید منصور بخاری۔ ،
2001ء مجیب سہالوی (عبد المجیب)۔ مزاح نگار
2004ء زاید بن سلطان آل نھیاں۔ بانی صدر متحدہ عرب امارات ، حاکم ابوظبی
2004ء محمد جسیم خان۔ ،
2018ء سمیع الحق حقانی۔ مولانا، مہتمم جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک
2021ء حمد اللہ مخلص۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
❤2
*وفیات مورخہ:نومبر /03*
1567ء علاء الدین علی المتقی۔ مصنف کز العمال
1928ء حافظ محمد احمد۔ مہتمم دارا لعلوم دیوبند
1949ء میراجی (محمد ثناء اللہ)۔ شاعر ،
1959ء عبد المجید سوہدری۔ عالم دین، طبیب، مصنف
1975ء ہزا لکھنوی ، حسن۔ شاعر
1975ء سید اقبال حسن شوقی (سید)۔ ،
1975ء اقبال شوقی (سید اقبال حسین)۔ ،
1975ء تاج الدین احمد۔
1975ء نذر الاسلام (سید)۔
1999ء مہربان علی بڑوتی ؒ۔ مولانا
2002ء محمد مشتاق عطاری۔ حاجی
2014ء جمشید علی خان۔ شیخ الحدیث مدرسہ عربیہ رائیونڈ
2015ء محمد عبد اللہ الخطیب۔ مصری عالم دین، مفتی
2016ء ظہیر غازی پوری۔
2019ء منظور احمد مظاہری کانپور۔ مولانا مفتی
2025ء کمال الدین صدیقی۔
Https://telegram.me/ilmokitab
1567ء علاء الدین علی المتقی۔ مصنف کز العمال
1928ء حافظ محمد احمد۔ مہتمم دارا لعلوم دیوبند
1949ء میراجی (محمد ثناء اللہ)۔ شاعر ،
1959ء عبد المجید سوہدری۔ عالم دین، طبیب، مصنف
1975ء ہزا لکھنوی ، حسن۔ شاعر
1975ء سید اقبال حسن شوقی (سید)۔ ،
1975ء اقبال شوقی (سید اقبال حسین)۔ ،
1975ء تاج الدین احمد۔
1975ء نذر الاسلام (سید)۔
1999ء مہربان علی بڑوتی ؒ۔ مولانا
2002ء محمد مشتاق عطاری۔ حاجی
2014ء جمشید علی خان۔ شیخ الحدیث مدرسہ عربیہ رائیونڈ
2015ء محمد عبد اللہ الخطیب۔ مصری عالم دین، مفتی
2016ء ظہیر غازی پوری۔
2019ء منظور احمد مظاہری کانپور۔ مولانا مفتی
2025ء کمال الدین صدیقی۔
Https://telegram.me/ilmokitab
Telegram
علم و کتاب
علمی و ادبی مواد کتابوں اور صوتیات کا چینل
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
اس میں شامل ہونے کے لئے لنک پر کلک کریں https://telegram.me/muniri
Audio
صور من حياة الصحابة - عثمان بن عفان رضي الله عنه بصوت المؤلف عبد الرحمن رافت باشا مع التمارين