RAHI HIJAZI راہی حجازی
8.18K subscribers
1.21K photos
329 videos
96 files
1.38K links
ہماری اردو موبائل ایپ ⬇

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.arshad.rahihijaziurducalender


ٹیلی گرام رابطہ آئی ڈی ⬇
@RAHIHIJAZI
Download Telegram
جو فضلاء و علماء کسب معاش کے لیے محنت مزدوری کو عار سمجھتے ہیں ان کے لیے سرمہ غیرت و بصیرت ۔
حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم کا اہم خط
❤11
دینی مدارس تعلیمی ادارے ہیں ، ان کا بنیادی کام دینی علوم کی تعلیم ہے ، معاشی سرگرمی مستقل الگ میدان ہے ، دو باتوں میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔ ورنہ خلط مبحث ہوگا ۔
دور اول سے علوم نبوت کی درس وتدریس کاتعلق کبھی معاش سے نہیں جوڑا گیا ، بلکہ لوگ اپنے طور پر معاشی سرگرمی اختیار کرتے تھے ، بلکہ دوران تعلیم بھی طلبہ اپنی رہائش اور کھانے کا انتظام خود کرتے تھے ، تحصیل علم کے بعد درس وتدریس کے ساتھ وہ کوئ معاشی سلسلہ بھی اپنے طور پر شروع کردیتے تھے ۔
علم برائے معاش کی سوچ تو زیادہ تر استعماری دور کے بعد پیدا ہوئ ، چنانچہ سرکاری تعلیمی اداروں میں یہی سوچ کار فرما ہے ، اس سے متاثر ہوکر اب مدارس کو بھی اسی نقطہ نظر سے دیکھا جارھا ہے ۔
یہ بھی دیکھنا چاھئے کہ خود کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کی معاشی سرگرمی کا ذمہ دار کب ان تعلیمی اداروں کو قرار دی جاتا ہے ، دوسرے ان کے سب طلبہ اس تعلیم کے بل بوتے پر روزگار حاصل نہیں کرپاتے ، کچھ ہی ہوتے ہیں ، اس لحاظ سے دینی مدارس کے فضلاء بھی بڑی تعداد میں اسی تعلیم کی بنیادپر اچھی علمی دینی سرگرمیاں اختیار کر لیتے ہیں جن میں ان کی معاش کی کفالت بھی ہوجاتی ھے ۔ الغرض دینی مدارس کو اس بنیاد پر مطعون کرنا درست نہیں ہے ۔
البتہ اگر دینی مدارس کے نظام میں دینی تعلیم کے علاوہ کوئ فنی تربیت کا سلسلہ بھی شروع کیا جاسکے جو بعض طلبہ کی معاش کے لئے معاون بن سکے تو تبرعا ایسا کرنا مستحسن اقدام ہوگا ۔
❤4
اکابرِ دیوبند کی غربت و ثروت پر مولانا نور الحسن راشد کاندھلوی کی رائے

پیش کردہ:
ارشد قاسم کاندھلوی

ایک معروف واٹس ایپ گروپ میں چند دنوں سے گفتگو ہے کہ غربت، علم اور تجارت اور تدریس کا ایک ساتھ جمع ہونا غیر مفید ہے۔ اس سلسلے میں، میں نے مولانا کاندھلوی مدظلہم سے عرض کیا کہ آپ نے تذکروں، سوانحاتِ اکابر کا اکثر مطالعہ فرمایا ہے، ان میں کیا ملتا ہے؟ مولانا مدظلّہ نے برجستہ فرمایا کہ یہ بات تو اصول کے خلاف ہے، اور پھر اکابر کی خوش حالی، ان کی ثروت و دولت مندی، ان کی تجارت، ان کے کمپنیوں میں حصے (shares) وغیرہ شمار کرائے، جو اس طرح ہیں:

1: حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے ترکے میں نقد ایک لاکھ روپے (موجودہ دور کے تقریباً سات، آٹھ کروڑ) اور 50، 50 ہزار کے غالیچے تھے۔

2: حضرت گنگوہی نہایت خوش حال تھے، لباس بھی ایسا عمدہ پہنتے تھے کہ لوگ نوابی لباس کہہ کر اعتراض کرتے تھے۔

3: حضرت شیخ الہند اور مولانا خلیل احمد سہارن پوری، اگرچہ تجارت تو نہ کرتے تھے، لیکن اچھے ذرائعِ معاش اور آبائی جائیداد سے آسودہ حال تھے۔

4: مولانا تھانوی کے کئی کمپنیوں میں تجارتی حصے (shares) تھے، نفیس لباس پہنتے تھے۔

5: مفتی صدر الدین آزردہ اور مولانا فضلِ حق خیرآبادی وغیرہ، سب ہی علماء دولت مند تھے۔

6: اکثر علماء کے استاد و مربی، حضرت مولانا احمد علی محدث سہارنپوری، نہایت خوشحال تھے۔ کئی کئی سو روپے سے 1297ھ سے پہلے لوگوں کا تعاون کرتے۔ مظاہر علوم کو سالانہ 500 روپے دیتے تھے۔ کلکتہ میں ملازمت کے وقت 1866ء میں 500 روپے تنخواہ تھی۔

7: ہمارے خاندان کے سب لوگ خوشحال تھے، ان میں حضرت مولانا محمد الیاس بھی شامل ہیں، جن کی اپنی کئی سو بیگھا زمین تھی، جو کچھ ضرورت مندوں کو دے دی، کچھ خاتمۂ زمینداری میں ختم ہو گئی۔ یہ روایت و اطلاع درست نہیں کہ یہ سب سرمایہ و جائداد تبلیغ کی راہ میں صرف کر دیا تھا۔

8: یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ مدرسہ دیوبند (دارالعلوم) کے پہلے مدرس، مولانا ملا محمود دیوبندی کی ماہانہ تنخواہ 15 روپے مقرر ہوئی تھی۔ اس وقت ایک گھرانے کا اوسط عمدہ خرچ تین روپے تھا، سونا نو روپے فی تولہ تھا۔
اگر اتباع کی بات درست ہو تو ڈیڑھ تولہ سونے کی قیمت کے برابر تنخواہ طے ہونی چاہیے۔

9: مولانا قاری احمد صاحب اور قاری طیب صاحب وغیرہ سب خوشحال تھے۔ حافظ احمد صاحب کے پانوں کی ڈبیا چار، پانچ روپے کی مالیت کی چاندی کی ہوتی تھی۔

10: مولانا حبیب الرحمن عثمانی بھی اچھے آسودہ حال تھے۔ ان کا بڑا تجارتی اور اشاعتِ کتب کا کام، اور ایک عمدہ پریس بھی تھا۔

غربت اور علم کا ساتھ ہونا ضروری نہیں۔ ایثار و توکل کے ساتھ کام کرنا اچھی بات ہے، مگر ہر ایک کو اس کا پابند بنانا صحیح نہیں۔ ہمارے یہاں ایک تہائی علماء کی تعداد اچھے، خوشحال اور تجارت کے مالک ہیں۔
❤15
RAHI HIJAZI راہی حجازی
Photo
حج کی قربانی سے متعلق مفتی تقی عثمانی صاحب کا اہم فتویٰ

اس سال حج کے حوالے سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ سعودی حکومت نے ایک نئی پالیسی جاری کی ہے، جس کے مطابق کسی بھی پرائیویٹ گروپ یا فرد کو حج کی قربانی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام قربانیاں سعودی حکومت کی طرف سے کی جائیں گی، جس کے لیے حاجی صاحبان پیشگی رقم ادا کریں گے۔

اب یہاں یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک حج کے اندر تین افعال میں ترتیب واجب ہے، “رمی، قربانی اور حلق”، لہذا حلق (سر منڈوانے) سے پہلے قربانی کرنا واجب ہے، اور اس ترتیب کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں دم واجب ہوتا ہے۔

پہلے حجاج کے لیے آسانی تھی کہ وہ اپنی قربانی کا انتظام خود یا کسی پرائیویٹ ذریعے سے کرواتے تھے، اور جب قربانی ہو جاتی تو انہیں اطلاع مل جاتی، جس کے بعد وہ حلق کروا لیتے تھے۔ لیکن اب اس نئی پالیسی کی وجہ سے حاجی اس ترتیب پر عمل نہیں کر سکتا، کیونکہ اسے یہ معلوم نہیں ہوگا کہ اس کی قربانی حلق سے پہلے ہوئی ہے یا بعد میں۔ مزید یہ کہ حکومت کے لیے بھی ممکن نہیں کہ وہ لاکھوں حجاج کی قربانی ایک ہی وقت میں کر کے اس کے بعد انہیں حلق کروانے کا موقع دے۔

اس صورتِ حال پر مفتی تقی عثمانی صاحب نے چند روز قبل فتویٰ جاری فرمایا ہے کہ ضرورتِ شدیدہ اور مجبوری کے پیشِ نظر صاحبین اور ائمہ ثلاثہ کے قول پر عمل کرنا جائز ہے۔ لہٰذا قربانی اور حلق میں ترتیب برقرار نہ رہنے کی وجہ سے دم واجب نہیں ہوگا۔

امام عطاء اللہ خان
❤4
مفتی اعظم بننے والے طالب علم کی طلب
❤25👍2
سعید بن المسيب: لفظ مسیب ی کے کسرہ کے ساتھ ہے یا فتحہ کے ساتھ؟؟
❤9
پڑوسیوں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کی رعایت ۔۔۔۔۔ ایک قابل تقلید خط
❤6😢4
مردوں کے نیفوں میں غلطی سے پستول چلنے کی غیر قانونی لیکن عبرت ناک سزا دینے والے ملک میں اپنے عاشق کو پانے کے لئیے اپنے ہی بچوں کی قاتل ماں کو کوئی ایسی سزا نہیں ہوگی

اور پھر بھی اس معاشرے میں مرد ہی ظالم ہے اور مرد کو گالی دینا جدید فیشن اور انسانی حقوق کے ترجمانی کی ادا ہے

ایک سال میں ایک درجن عورتیں عاشقی معشوقی میں اپنے میاں یا اپنے بچوں کو مار چکی ہیں، لیکن فیشن کے نام پر ویلڈنگ گلاسز پہن کر مخصوص دنوں میں حقوق نسواں کی دہایاں دینے والی انٹیاں دوربین میں بھی نہیں دکھائی دیتیں

ہم بول بول کر تھک گئے ہیں کہ برائیوں کو جنس کے ساتھ خاص مت کیجیے ،اچھی عورتیں بھی ہوتیں ہیں اچھے مردوں کی طرح اور بری عورتیں بھی ہوتی ہیں برے مردوں کی طرح ،

خود پر سے مظلومیت کا بخار تھوڑا کم کیجیے ،انڈین احمقانہ ڈراموں سے گریز کیجیے اور اپنے آس پاس دیکھیں

اسوقت پاکستانی مرد سے زیادہ مظلوم مخلوق کوئی روئے زمین پر نہیں

یہ کھوتے کی طرح دن رات جٹے محنت کرتا ہے ، اسکا اپنا کوئی حال نہیں ہوتا ،بیوی بچوں اور سسرال اور اپنی ہی ماں میں فٹبال بنا ٹھوکریں کھاتا ہے ،ایک ای ٹی ایم مشین جیسی حیثت ہے ، جہاں رشتوں کا اے ٹی ایم کارڈ لگا کر اسے لات ماریں تو تشریف سے پیسے گرنے لگ جاتے ہیں

جب بوڑھا یا کمزور ہوکر بے روزگار ہوجائے تو کھانستے ہوئے بڈھے کو کسی کوٹھی میں پھینک دیا جاتا ہے ،اور یہ کہانی بار بار ہر گاؤں و شہر میں دہرائی جاتی ہے ،لیکن یہ مرد اپنی خو سے پھر بھی باز نہیں آتا

آپ کو کوئی اس بڈھے سے خوش نہیں ملے گا

جسے پتہ بھی نہیں کہ اسکی جوانی کب کہاں کیسے گزر گئی

آج تین بچوں کی قاتل ماں کا انٹریو سنا جس میں وہ بتارہی تھی کہ عاشق سے شادی میں یہ تین بچے رکاوٹ تھے اس لئیے انہیں مارنا پڑا

میں ابھی غصے سے سکرین کو گھور ہی رہا تھا ،کہ اک مردوں سے بیزار آنٹی نے کمنٹ فرمایا

یہ مردوں کے ظلم کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہوئی ہوگی

زندگی میں پہلی مرتبہ میں نے تکلیف اور نفرت سے اس خاتون کی ڈی پی اور اپنے موبائل پر تھوک دیا

آخ تھو

سکندر حیات بابا
👍9❤4
اکثر ذہین و با صلاحیت طلبہ فراغت کے بعد مدرسی کیوں نہیں کرتے؟

اللہ تعالی نے انسان کو پیدا فرمایا اور اس کے ساتھ اس کی ضرورتیں بھی لگا دیں، ہر ایک کو ضرورتیں پیش آتی ہیں، پھر بہت سی ضرورتیں پوری ہو جاتی ہیں اور بہت سی نہیں۔ ہر شخص اپنی صلاحیت کے اعتبار سے ضرورتیں پوری کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔

جن کے اندر صلاحیتیں زیادہ ہوتی ہیں، جن کا ذہن بہت سی سمتوں میں چلتا ہے، وہ مختلف طریقوں سے کما کر ضرورتوں کی تکمیل کرتے ہیں اور جن میں صلاحیتیں کم ہوتی ہیں وہ اپنی صلاحیت کے اعتبار سے آسان طریقے اختیار کرتے ہیں، چاہے آمدنی کم ہی کیوں نہ ہو، چاہے حوائج پوری نہ بھی ہوتی ہوں، تب بھی وہی کام کریں گے جو ان کی صلاحیت کے موافق ہوگا۔ بہت سی مرتبہ مجبوری میں وہ کام بھی انجام دیں گے جو غیرت کے خلاف ہو، جو اسلامی حمیت کے برعکس ہو۔

اس تمہید کے بعد عرض یہ ہے کہ ذہین طلبہ جن کے اندر کئی طرح کی اچھی صلاحیتیں ہوتی ہیں، ان کے سامنے ذرائع آمدنی متعدد و متنوع ہوتے ہیں اور ترقی کی راہیں بھی کھلی ہوئی نظر آتی ہیں، سو وہ ایسی راہیں اور ذرائع اختیار کرتے ہیں، جن سے وہ زیادہ کما بھی سکیں اور زیادہ ترقی بھی کر سکیں۔ انسان کی فطرت بھی یہی ہے کہ وہ چاہتا ہے اس کے پاس زیادہ اختیارات (آپشنز) ہوں۔

ذہین و با صلاحیت طلبہ کے مدرس نہ بننے کی ایک وجہ تو یہ ہوئی ہے کہ اس کے سامنے مختلف راہیں اور ذرائع ہیں یعنی وہ صرف مدرسی ہی کرے یہ ضروری نہیں۔ اس لیے وہ دوسرے کام بھی اختیار کرتا ہے۔
دوسری وجہ مدارس میں مدرس کی تنخواہ میں اس قدر کمی ہے کہ وہ گھٹ گھٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوتا ہے، ضرورتیں پوری نہیں ہو پاتیں، اپنے بچوں کو معیاری تعلیم نہیں دلا پاتا، اہل خانہ میں سے کوئی بیمار پڑ جائے تو یا تو علاج نہیں کرا پاتا یا قرض میں ڈوب جاتا ہے وغیرہ۔

ایک وجہ جو بہت ہی عام ہے وہ یہ کہ بہت سے منتظمین مدرس سے کاسہ لیسی اور چاپلوسی کے خواہاں ہوتے ہیں۔ بعض کھل کر اور بعض اشارے اور کنایے میں اس کا اظہار بھی کر دیتے ہیں، کم صلاحیت والے یا جن کے سامنے راستے مسدود ہوتے ہیں وہ چاپلوسی کر لیتے ہیں اور درجات بلند کرواتے رہتے ہیں؛ مگر جس کو اللہ نے استعداد عطا فرمائی ہے، جس کو مضبوط علم عطا کیا ہے، وہ چاپلوسی کرنے سے رہا، چاہے ترقی دی جائے یا نہیں اور یہ چیز علم کے بھی منافی ہے، صاحب علم ہو اور چاپلوس ہو ایسا شاید بہت شاذ و نادر ہوتا ہوگا۔

ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض مدارس میں مدرس کو فراہمیِ مالیات و فراہمیِ طلبہ کا بھی مکلف بنایا جاتا ہے۔ یہ بات صاحب علم کی فطرت کے خلاف ہے، اس کو تو تعلیم و تدریس ہی میں مزہ آتا ہے اور اسی پر اپنی توجہ مرکوز رکھنا چاہتا ہے، جب کہ انتظامیہ کی طرف سے اصرار ہوتا ہے کہ چندہ بھی کرو اور طلبہ بھی مہیا کرو حالاں کہ اس کے لیے دوسرے افراد کی کمی نہیں ہے اگر تلاش کیا جائے۔ جو مدرس چاپلوسی کر لیتا ہے وہی انتظامیہ کے نزدیک مقبول ہوتا ہے اور ترقی بھی پاتا رہتا ہے۔ ایسی صورت حال میں اچھا مدرس تشویش میں مبتلا رہتا ہے اور بہت سی مرتبہ مدرسہ چھوڑ دیتا ہے اور اگر دو چار مدرسوں میں جانے کے بعد بھی ایسا ہی ہوتا ہے تو وہ مدرسی سے بھی توبہ کر لیتا ہے۔

میرے خیال میں یہ خاص وجوہات ہیں، جن کی وجہ سے اچھے و با صلاحیت طلبہ فراغت کے بعد مدارس کے بجائے دوسرے کاموں کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہم یہ دعوی نہیں کرتے کہ صرف یہی وجوہات ہیں۔ بعض دفعہ دنیا طلبی یا مادیت پسندی بھی اس کا محرک ہو سکتی ہے۔

آخر میں یہ بات ضرور عرض کروں گا کہ مدرسی بہت مشرف و مکرم پیشہ ہے، اگر کچھ قربانی کے ساتھ بھی انجام دیا جا سکے تو راقم کے نزدیک یہی قابل ترجیح ہے؛ البتہ اگر اس پیشے کو اختیار کر کے ضرورتیں نہ پوری کر پا رہا ہو یا کسی گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو یا بہت زیادہ ضمیر کے خلاف چلنا پڑ رہا ہو، تو یاد رکھنا چاہیے کہ دین صرف مدرسی میں ہی منحصر نہیں ہے، کہیں بھی رہ کر، کسی بھی شعبے یا کام میں لگ کر دین دار رہا جا سکتا ہے اور دین دار رہنا ہی زندگی کا خلاصہ اور مقصد ہے۔

محمد اعظم سیتاپوری
❤9👍6😢1
Media is too big
VIEW IN TELEGRAM
سال 1857 کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کا کردار کتنا تھا؟

حقیقت حال کی کہانی ایک انصاف پسند غیر مسلم ٹیچر کی زبانی
❤4👍1
میں کیسے پڑھتا تھا؟؟؟

ان دنوں میرے چند شاگردوں نے مشورہ طلب کیا کہ دورہء حدیث کے سال ہمیں کیسے پڑھنا چاہئے اور کونسی کتابیں زیر مطالعہ رکھنی چاہئیں۔ ان کو نجی طور پر جواب دے چکا لیکن پھر سوچا کہ موضوع اہم ہے، ممکن ہے کسی اور کے ذہن میں بھی یہ سوالات ہوں، اس لئے سوچا کہ ایک تحریر کے ذریعے اپنا تجربہ سب کے سامنے رکھ دیا جائے۔

یہ بات عام قارئین کے لئے عرض ہے کہ پاکستان میں دینی مدارس عام طور پر کل وقتی اور اقامتی ادارے ہیں۔ اس لئے وہاں کے تعلیمی اوقات کار اور سرگرمیاں دیگر تعلیمی اداروں سے مختلف ہوتی ہیں۔ یہ سرگرمیاں فجر یا ناشتے کے بعد شروع ہوتی ہیں اور عشاء کے بعد تک جاری رہتی ہیں جبکہ حفظ قرآن والے طلبہ کے معمولات بہت سے مدارس میں فجر سے پہلے شروع ہو جاتے ہیں۔

یہ سرگرمیاں تین حصوں میں تقسیم کی جا سکتی ہیں۔ اول رات کو اگلے دن کے اسباق کی تیاری، دوم دن کو درسگاہ میں تعلیم اور سوم شام کے وقت دن کو پڑھے ہوئے اسباق کو دہرانا۔ اول کو مدارس کی اصطلاح میں مطالعہ اور سوم کو ’’تکرار‘‘ کہتے ہیں۔ یہ تینوں سرگرمیاں مدارس کے طریقہء تدریس کی جان ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب طالب علم رات کو اگلے دن کے سبق کا مطالعہ کرتا ہے تو اسے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کل کے سبق میں اسے کہاں کہاں توجہ دینی ہے جبکہ دن کو پڑھائی کے بعد شام کو تکرار میں استاد کے پڑھائے ہوئے سبق کو دہرایا جاتا ہے۔

ہمارے استاد محترم حضرت مفتی نظام الدین شامزئی شہید رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر طالب علم یہ تین کام کرلے تو ضمانت دی جا سکتی ہے کہ اسے ستر فیصد سبق یاد ہو جائے گا، اول مطالعہ، دوم سبق غور سے سننا اور سوم پڑھے ہوئے سبق کو کم از کم ایک بار دہرانا۔

اس تمہید کے بعد میں اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتا ہوں۔ الحمد للہ، اللہ تعالیٰ کی توفیق اور عنایت سے راقم کے مزاج میں پڑھنے کا شوق ودیعت ہوا تھا۔ اس لئے پرائمری سکول کے بعد کسی کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں پیش آئی کہ پڑھا کرو۔ یہ الگ بات ہے کہ جو پڑھا اس میں سے کچھ سمجھ میں آیا اور کچھ نہیں لیکن اس کے باوجود عام طور پر امتحانی نتائج بفضلہ تعالیٰ اچھے رہے البتہ ایک بار ناکامی کا مزہ بھی چکھا ہے۔

مدرسے میں طالب علم کے مطالعے کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ اسے اپنی معلومات اور مجہولات میں تمیز ہو جائے اور اگلے دن اگر اسے درسگاہ میں استاد کے روبرو عبارت پڑھنی پڑ جائے تو وہ یہ مہم سر کر سکے۔ اس مطالعے کا یہ مطلب بالکل نہیں کہ وہ سب کچھ خود سمجھ جائے۔

اس سلسلے میں میرا طریق کار یہ رہا ہے کہ کتاب کی عبارت غور سے پڑھی، پھر حاشیہ دیکھ لیا اور ضرورت محسوس کی تو لغت دیکھ لی۔ اس سے آگے شروحات کی جانب میں بہت کم گیا ہوں۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ میں تعلیم کے زمانے میں عربی شروحات خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا جبکہ اردو شروحات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ایک اور بات یہ کہ اردو شروحات بہت سے مقامات پر تشفی کی بجائے مایوسی کا سبب بھی بن جاتی ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ مدارس والوں کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ ان کی جانب سے فراہم کردہ درسی کتابوں سے سال کے دوران مستفید ہوتا اور سال کے آخر میں واپس جمع کرا دیتا لیکن یہاں بھی اس بات کی بھرپور کوشش ہوتی کہ مدرسے کی کتاب پر کسی قسم کی حاشیہ آرائی نہ کی جائے اور اپنی ذاتی کتاب سے زیادہ اس کی حفاظت کا خیال رکھا جائے۔

اردو شروحات کے حوالے سے طالب علمی کے زمانے اور اس کے بعد کوئی پچیس برس کی تدریسی زندگی میں بھی میرا یہ پختہ خیال ہے کہ درسگاہ اور استاد کی تعلیم کے بعد ان کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے کیونکہ یہ طالب علم کی صلاحیت کو گھن کی طرح کھا جاتی ہیں کیونکہ اسے محنت کی بجائے تیار خوری کی عادت پڑ جاتی ہے۔ خود پڑھنے اور اردو ترجمہ اور شرح سے مستفید ہونے کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی آٹا گوندھ کر روٹی پکا کر کھاتا ہے اور دوسرا پکی پکائی روٹی تندور سے منگوا لیتا ہے۔ سو، کبھی روٹی پکا کر کھانے کی ضرورت پیش آ جائے تو دوسرا آدمی ناکام ہو جائے گا اور یہی ہو رہا ہے۔ یہ ایک الگ موضوع ہے۔ اس پر پھر کبھی کچھ لکھوں گا۔ ان شاء اللہ۔

میرے لئے ایک اور مشکل یہ ہوتی تھی کہ اگر اکیلے مطالعے کے لئے بیٹھ جاتا تو متن سے حاشئے اور وہاں سے لغت کی جانب نکل جانے سے ایک سبق کا مطالعہ بھی بمشکل ہو پاتا تھا۔ اس لئے تکرار کو ترجیح دیتا تھا تاکہ ساتھیوں کے ساتھ دن کے اسباق دہرا لوں اور ادھر ہی بیٹھے بیٹھے ہلکا پھلکا مطالعہ بھی ہو جائے۔ اسی دوران نچلے درجات کے بہت سے طلبہ دوست عبارت پڑھنے بھی آ جاتے تو ان کی رہنمائی بھی ہو جاتی۔ الحمد للہ، راقم اپنی جماعت کے ان قلیل طلبہ میں شامل رہا ہے جو درسگاہ میں سال کے آخر تک عبارت پڑھتے تھے۔ یہاں اس کی بھی وضاحت ہو جائے کہ عبارت پڑھنا اس لئے مشکل کام ہوتا ہے کہ کتابیں عربی زبان میں ہیں اور درسی کتابوں پر اعراب نہیں لگا ہوتا۔ اس لئے صرف ونحو(عربی قواعد) کے علم کے زور پر اسے درست پڑھنا ہوتا
❤6
ہے۔

اس سلسلے میں ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ میرا معمول رہا ہے کہ درسگاہ میں استاد کے سبق کی اہم باتیں لکھ لیا کرتا تھا جبکہ مدارس میں ایسے طلبہ بھی ہوتے ہیں جو لائق اور اچھے اساتذہ کا پورا پورا سبق اس باریکی سے لکھ لیتے ہیں کہ بعد ازاں ان کی لکھی ہوئی کاپی طلبہ میں شرح کی طرح مقبول ہو جاتی ہے۔ ایسے اساتذہ بہت کم ہوتے ہیں۔ بہر حال، درسگاہ میں لکھی گئی یہ رف کاپی میرے لئے شرح کا متبادل ہوتی تھی اور جہاں پھنس گئے، وہاں کاپی سے دیکھ لیا۔ یہ بہت اہم بات ہے اگرچہ لوگ اس کا خیال کم رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ استاد تیاری کر کے سبق پڑھاتا ہے۔ اس لئے وہ مقامات جو مشکل ہوتے ہیں، ان کو حل کرتا ہے۔ ایسے میں اگر طالب علم صرف حافظے پر اعتماد کر کے بیٹھ جائے تو کوئی ضروری نہیں کہ اسے وہ بات یاد بھی رہ جائے۔

امتحان کے دنوں میں بھی میرا معمول یہی رہتا تھا کیونکہ امتحان کو میں معمول کی چیز اور تعلیم کا حصہ سمجھتا ہوں۔ اس لئے امتحان کے لئے کبھی ’’خطرناک ہنگامی حالت‘‘ نافذ نہیں کی البتہ اس اعتماد کے ساتھ امتحان دینے کے لئے ضروری ہے کہ آپ کتاب کو سرسری ہی سہی، ایک بار نظر سے گزار لیں۔ اس سے بڑا فائدہ ہوتا ہے۔ اسی طرح مخصوص مقامات کا تصور ذہن سے نکال دیں۔ اس سے ساری کتاب آپ کے لئے برابر ہو جائے گی۔ اسی بنیاد پر تدریس کے دوران بھی میرے لئے ساری کتاب ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ اس لئے میرا گمان ہے کہ میرے شاگرد یہ اندازہ کم ہی لگا سکتے ہیں کہ پرچہ کہاں سے آئے گا۔

بات بہت طویل ہو گئی۔ اس لئے خلاصہ تحریر کر کے قلم ’’بند‘‘ کرتا ہوں:
• مطالعے کے بغیر درسگاہ کبھی نہ جائیں۔
• درسگاہ میں استاد کا سبق غور سے سنیں۔
• دوران درس جو بات اہم یا اچھی لگے اسے فورا لکھ لیں۔
• کم از کم ایک بار سبق کو دہرا لیں۔
• کتاب کی عبارت اچھی طرح پڑھیں اور شروحات کی بجائے حاشئے اور لغت سے کام چلائیں۔
• علم میں بخل نہ کریں۔ اگر آپ سمجھدار ہیں تو اپنے سے کمزور ساتھیوں کو تکرار میں شامل کریں تاکہ ان کو بھی فائدہ ہو۔
• امتحان کے دنوں میں نصاب کو کم از کم ایک بار نظر سے گزار لیں۔
• امتحان کو کبھی بھی سر پر سوار نہ ہونے دیں کیونکہ اس سے نفسیات پر برا اثر پڑتا ہے۔
• علم ادب سے آتا ہے۔ اس لئے ادوات علم، اساتذہ اور مدرسے کا احترام اور ادب ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو علم نافع نصیب فرمائے۔ اللهم علمنا ما ينفعنا وانفعنا بما علمتنا. إنك أنت العليم الحكيم.

اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
ہم نے تو دل جلا کہ سر عام رکھ دیا
۔
مولانا عبد الخالق ہمدرد
❤11👍2
اساتذہ کیسے پڑھائیں؟

گزشتہ دنوں ’’میں کیسے پڑھتا تھا؟‘‘ کے عنوان سے ایک تحریر میں مدارس میں اپنے زمانہء طالب علمی کے تجربات تحریر کئے تو ایک عزیز دوست نے یہ سوال پوچھ لیا کہ استاد کو کیسے پڑھانا چاہئے؟ چنانچہ اپنی ناقص فہم اور تجربے کی بنیاد پر اس کا جواب حاضر خدمت ہے۔

اس سلسلے میں اصل اور بنیادی بات یہ ہے کہ استاد کو علم میں اپنے شاگردوں سے ایک قدم آگے ہونا چاہئے۔ یہ طلبہ کو قابو کرنے کا سنہری گر ہے کیونکہ جب طالب علم یہ سمجھے گا کہ مجھے استاد کتاب سے زیادہ علم دے سکتا ہے، تو وہ استاد کا احترام بھی کرے گا اور اس سے مستفید ہونے کی کوشش بھی۔ اگر کوئی استاد اور معلم یہ کام نہیں کر سکتا تو درسگاہ میں اس کا شور شرابا، ترشروئی اور رعب جھاڑنے کی ہر کوشش بیکار اورلا حاصل مشق ہے۔ استاد کا رعب اس کا علم ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہر انسان ہر فن مولا نہیں ہو سکتا۔ اس لئے تقسیم اسباق کے وقت اہل مدرسہ اور خود مدرس کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ کونسا علم اور فن اچھی طرح پڑھا سکتا ہے۔ اس بات کی رعایت رکھنے کے بےشمار فوائد ہیں۔ مثلا اس سے مدرس پر مطالعے کا بوجھ کم ہوگا اور مدرس سمجھ کر پڑھائے گا، جس سے طلبہ میں اس علم اور فن کا شوق پیدا ہوگا۔ اگر کوئی مدرس کوئی بھی کتاب پڑھاتے وقت درسگاہ میں ایک بار بھی یہ کہہ دے کہ ’’بھئی اس کتاب کا کیا فائدہ ہے؟‘‘ تو اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔

تیسری بات یہ کہ استاد سبق کا اچھی طرح مطالعہ کر کے جائے کیونکہ مطالعے کے بغیر درسگاہ جانا ایسا ہی ہے جیسے آدمی تلوار کے بغیر میدان جنگ میں اتر جائے اور استاد کے مطالعے کا مطلب (میرے خیال میں) یہ ہے کہ وہ کتاب کی عبارت سے لے کر مسائل تک، ہر بات کو سمجھتا ہو۔ اس سلسلے میں کتاب کے حاشئے، کسی اچھی شرح (اگر عربی میں ہو تو بہت اچھا ہوگا) سے استفادہ کر لے تو اور اچھا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دوران مطالعہ آپ کو کوئی نئی بات مل گئی اور آپ اسے ضرور بیان کرنا چاہتے ہیں تو اسے مختصرا لکھ لیں اور درسگاہ میں بیان کر دیں لیکن ایسی طویل تقریر سے پرہیز بہتر ہے جس میں دنیا جہان کی باتیں تو آ جائیں لیکن کتاب فہمی نہ ہو کیونکہ ہمارے مدارس میں کوئی بھی فن کتاب کو سامنے رکھ کر پڑھایا جاتا ہے اور طالب علم سے اس کتاب کا امتحان بھی لیا جاتا ہے۔ اس لئے کتاب کی ہر گنجھلک عبارت کی وضاحت ضروری ہے۔

سبق سے قبل اس کا خلاصہ بیان کر دیں اور درسگاہ میں تختہ سیاہ یا سفید ضرور استعمال کریں کیونکہ اس سے سمجھانے میں بڑی آسانی ہوتی ہے۔ یہ کام تفسیر، حدیث اور فقہ پڑھاتے وقت بھی کیا جا سکتا ہے حالانکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تختہ سیاہ کا استعمال ریاضی اور اس جیسے دوسرے مضامین کے لئے ہوتا ہے۔

درسگاہ کا ماحول دوستانہ رکھیں اور طلبہ کو مناسب وقت پر سوالات کی اجازت دے دیں۔ اگر کسی سوال کا جواب فوری طور پر معلوم نہ ہو تو ’’استادی‘‘ کر کے طالب علم کو خاموش کرانے کی بجائے، اگلے دن بتانے کا کہہ دیں اور پھر تلاش کر کے بتا دیں۔ ایسے ہی اگر کوئی طالب علم کسی جگہ غلطی کی نشاندہی کر دے تو اسے کھلے دل سے قبول کر لیں، انا کا مسئلہ نہ بنائیں کیونکہ علم ایک بحر بیکراں ہے۔ اس میں سے کوئی قطرہ استاد کے حصے میں آیا ہے تو دوسرا قطرہ طالب علم کے حصے میں بھی جا سکتا ہے۔
دوران تدریس پوری درسگاہ پر نگاہ رکھیں تاکہ سبق میں کوئی خلل نہ ڈال سکے لیکن اگر کسی طالب علم سے کوئی لغزش ہو جائے تو بات کو طول دینے کی بجائے فوری فیصلہ کریں کہ اس کے ساتھ کیا کیا جائے کیونکہ ایک آدمی کی وجہ سے ساری درسگاہ متاثر ہوتی ہے۔

اسی طرح استاد کو چاہئے کہ وہ اپنے طلبہ کو لکھنے اور مطالعے کی ترغیب دیتا رہے اور گاہے بگاہے کوئی ایسا سوال کرتا رہے جس کا جواب طلبہ خود تلاش کریں۔ ایسے ہی درسگاہ کے اندر اچھی کارکردگی پر حوصلہ افزائی بھی کرے۔ میں نے جب پڑھانے کا آغاز کیا تو طالب علم کی کوئی بات یا جواب پسند آ جائے تو پچاس پیسے انعام دیتا تھا اور اب وہ بڑھتے بڑھتے دس روپے ہو گیا ہے۔

آخری بات یہ ہے کہ طالب علم اور اس کا وقت استاد کے پاس امانت ہے۔ اس لئے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ اس میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی خیال رہے کہ مدرسہ ’’صفہ‘‘ کا تسلسل ہے۔ اس لئے اس کا ماحول صفہ کی طرح پیار بھرا اور شفقت سے لبریز ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان باتوں پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔ ۔۔۔۔
(ھمدردیات)
❤9👍3
قربانی کرنے والے متوجہ ہوں


انڈیا پاکستان میں آج 17 مئی بروزِ اتوار ذو القعدہ کی 29 تاریخ ہے اور چاند نظر آنے کا امکان بھی ہے، اس لیے قربانی کرنے والے حضرات چاند نظر آنے سے پہلے اپنے ناخن اور بال کاٹنے کا اہتمام کریں کیوں کہ پھر ان کے لیے قربانی کرنے تک ناخن اور بال نہ کاٹنا مستحب ہے۔ دیگر ممالک کے حضرات اپنے ملک کی تاریخ کے اعتبار سے اس پر عمل کریں۔
❤1👍1
معاشی سرگرمی علمی سرگرمی میں کیسے تبدیل ہوگیی؟

عاصم افتخار

معاشی سرگرمی اور علمی سرگرمی کے درمیان فرق کو سمجھے بغیر جدید تعلیمی نظام کے اثرات کو سمجھنا ممکن نہیں۔ جدید مسلم ذہن کے اندر جو سب سے بڑا خلطِ مبحث پیدا ہوا ہے، وہ دراصل “علم” کی تعریف، اس کی غرض و غایت، اور اس کے منہج (Methodology) کے درمیان فرق کو ختم کر دینے کا نتیجہ ہے۔ اسی خلطِ مبحث نے معاشی سرگرمی کو علمی سرگرمی میں تبدیل کر دیا، حتیٰ کہ اب ایک ایسا پورا اجتماعی شعور پیدا ہو چکا ہے جس میں معاش کے لیے ہونے والی سرگرمیوں کو بھی “علم” کے فضائل اور تقدس کا حامل سمجھا جانے لگا ہے۔

سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اسلامی روایت میں “معاشی سرگرمی” کیا ہے۔ اسلامی تصور میں معاشی سرگرمی وہ عمل ہے جس میں فعل کا ابتدائی ارادہ بھی معاش سے متعلق ہو اور اس کا نتیجہ بھی مادی ضروریات یا خواہشات کو پورا کرنے والے اسباب کی فراہمی ہو۔ یعنی وہ سرگرمی جس کا بنیادی مقصد انسان کے صنعت، تجارت، حرفت، زراعت یا مادی ضروریات کے لیے وسائل پیدا کرنا ہو، وہ معاشی سرگرمی کہلاتی تھی۔ اس میں مہارت، تجربہ، تربیت اور بعض اوقات پیچیدہ فنی نظام بھی شامل ہو تے تھے، لیکن اس کے باوجود اس کی حقیقت معاشی ہی سمجھی جاتی تھی۔

اس کے برعکس اسلامی روایت میں “علمی سرگرمی” بنیادی طور پر وہ ہے جس کا تعلق خدا کی ذات، صفات، احکام کو جاننے یا ان علوم سے ہو جو فرضِ کفایہ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہیں۔ یعنی علم کی اصل تعریف نیت اور غرض و غایت سے متعین ہوتی تھی، نہ کہ صرف اس کے طریقۂ کار سے۔ اسی لیے فقہ، حدیث، تفسیر، اصول، کلام، اخلاق، اور وہ فنون جو مسلمانوں کے اجتماعی فرائض کی ادائیگی کے لیے ضروری ہوں، انہیں “علم” کہا جاتا تھا۔

یہاں ایک نہایت اہم نکتہ یہ ہے کہ اسلامی روایت میں معاشی اور علمی دونوں سرگرمیوں کو دینی تصور کیا جاتا ہے، لیکن ان دونوں کی حقیقت ایک شمار نہیں کیا جاتا۔ تجارت بھی دینی عمل ہے، زراعت بھی عبادت بن سکتی ہے، اور صنعت بھی باعثِ اجر ہو سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں “علم” کی وہ وجودی حیثیت حاصل نہیں جو علمِ دین یا فرضِ کفایہ سے متعلق علوم کو حاصل ہے۔ یعنی اسلام نے معاشی سرگرمی کو دین کے دائرے میں ضرور شامل کیا ہے، مگر اسے “علم” کی حقیقت کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا۔

جدید مغرب میں مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ وہاں “علم” کی تعریف بنیادی طور پر سائنسی منہج (Scientific Method) کے ساتھ وابستہ ہو گئی۔ یعنی وہی چیز علم قرار پائی جو تجرباتی (Empirical)، قابلِ پیمائش (Measurable)، یا سائنسی طریقۂ تحقیق کے تحت ثابت ہو سکے۔ اس تبدیلی نے علم کی تعریف کو اس کی غرض و غایت سے الگ کر کے محض منہج کے تابع کر دیا۔ نتیجتاً وہ تمام علوم جن کا تعلق خدا، وحی، آخرت اور اخلاق سے ہے، آہستہ آہستہ “علم” کے دائرے سے خارج ہونے لگے۔ دوسری طرف وہ تمام سرگرمیاں جو پہلے معاشی یا فنی سمجھی جاتی تھیں، اگر وہ سائنسی منہج کے تحت منظم کر دی جائیں تو وہ “علم” بن گئیں۔

یہاں سے ایک عظیم فکری انقلاب پیدا ہوا۔ طاقت اور معاش کے ارادہ و عرض و غایت پر مبنی صنعت، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، معاشیات، مینجمنٹ، اور حتیٰ کہ مارکیٹنگ جیسے شعبے بھی “علم” کے مقدس دائرے میں شامل ہوچکے ہیں، کیونکہ ان کے پیچھے سائنسی منہج موجود ہے۔ گویا مغرب میں “علم” کی تعریف کا مرکز “غرض و غایت” سے ہٹ کر “منہج” بن گیا۔

اسلامی معاشروں کی تاریخ دیکھی جائے تو وہاں اس قسم کا خلطِ مبحث موجود نہیں۔ مثال کے طور پر آج بھی کشمیر میں قالین بافی ایک انتہائی نفیس فن ہے۔ اس فن کو سیکھنے کے لیے طویل تربیت، مہارت، ڈیزائن کے پیچیدہ رموز، اور ایک خاص قسم کی symbolic language یا code system سیکھنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات ایک قالین کی تیاری میں کئی مہینے یا سال لگ جاتے ہیں۔ اس پورے عمل میں استاد، شاگرد، قواعد، تربیت، اور باقاعدہ تعلیمی نظم موجود ہوتا ہے۔ قالین بافوں کے حلقے میں اس پورے عمل کو “تعلیم” بھی کہا جاتا تھا۔

لیکن اس کے باوجود کشمیری معاشرہ جو اسلامی روایت رکھتا ہے کبھی اس سرگرمی پر قرآن و سنت میں وارد “علم” کے فضائل کا اطلاق نہیں کرتا ۔ کوئی شخص یہ نہیں کہتا کہ قالین بافی کے پیچیدہ نظام کو سیکھنا وہی “علم” ہے جس کی فضیلت حدیث “طلب العلم فریضة” میں بیان ہوئی ہے۔ وجہ یہ تھی کہ اسلامی ذہن علمی اور معاشی سرگرمی کے فرق سے واقف تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ہر سیکھنے کا عمل “علم” نہیں ہوتا، اگرچہ وہ مفید، ضروری یا پیچیدہ ہی کیوں نہ ہو۔

جدید مغربی نظامِ تعلیم نے یہاں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کی۔ اب اگر یہی قالین بافی کسی یونیورسٹی، انسٹیٹیوٹ، یا “فیشن ڈیزائننگ” کے شعبے کے تحت پڑھائی جائے، اس کے لیے research methodology، empirical analysis، یا industrial framework بنایا جائے، تو جدید ذہن فوراً اسے “علم” کے دائرے میں شامل کر لیتا ہے۔ یعنی اب معیار نیت اور غرض و غایت نہیں بلکہ منہج ہے‌ یعنی۔۔۔۔ 1/2
2/2
جو چیز سائنسی منہج کے تابع ہو گئی، وہ “علم” بن گئی۔

اسی تبدیلی کو قبول کرنے سے مسلم معاشرے کے اندر تصورِ علم مسخ ہونا شروع ہوا۔ انگریزی تعلیمی نظام چونکہ بنیادی طور پر طاقت کے حصول اور معاش کے لیے پیدا ہوا تھا، اس لیے اس کی اصل غایت تسخیر کائنات ، طاقت کا ارتکاز اور معاشی سرگرمی ہی ہے، نہ کہ خدا، آخرت، یا دینی فرائض کی معرفت۔ لیکن چونکہ اس نظام نے طاقت کے ذریعہ خود کو “علم” کے نام سے پیش کیا، اور مسلمان استعمار کے چنگل میں پھنسنے کی وجہ سے ان کے طاقت کو قبول کرلیا جس سے رفتہ رفتہ مسلمانوں نے بھی اس پر “علم” کی حقیقت اور فضیلت کا اطلاق کرنا شروع کر دیا۔

انیسویں اور بیسویں صدی میں بہت سے متجددین نے اس بیانیے کو قبول کرنے‌پر اصرار کیا ، لیکن طویل عرصے تک مسلم معاشرے کے اندر علم کی قدیم تعریف کسی نہ کسی درجے میں باقی رہی۔ تاہم اب صورتِ حال یہ محسوس ہوتی ہے کہ سرمایہ دارانہ پر مبنی تعلیمی نظام کے بڑھتے ہوئے اثرات نے نہ صرف مسلم عوام بلکہ علماء کے ایک طبقے کو بھی اس بات پر آمادہ کر دیا ہے کہ انگریزی نظامِ تعلیم میں پڑھائی جانے والی ہر چیز کو بھی اسی “علم” کے درجے میں رکھا جائے جس کے فضائل قرآن و سنت میں وارد ہوئے ہیں۔

حالانکہ اسلامی روایت میں علم کی حقیقت کا تعلق محض طریقۂ کار سے نہیں بلکہ نیت، ارادہ، اور غرض و غایت سے ہے۔ اسی لیے قدیم اسلامی نظامِ تعلیم میں علوم و فنون کی تدریس سے پہلے اور دوران تدریس بار بار “نیت” کی اصلاح، علم کی تعریف، اور اس کی غایت بیان کی جاتی ہے۔ کیونکہ اسلامی روایت یہ مانتی ہے کہ علم کے کئی مناہج ہو سکتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اس علم کا مقصد کیا ہے؟ وہ انسان کو کس طرف لے جا رہا ہے؟ اس کا تعلق خدا اور انسانی ذمہ داری سے کیا ہے؟

جدید انگریزی تعلیمی نظام میں ایسا کرنا تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ اس نظام کی بنیاد ہی ایک ایسے تصورِ علم پر قائم ہے جو سرمایہ مرکزیت ہے ، خدا مخالف ہے اور اسلامی غایات سے الگ ہے۔ اسی لیے مغربی نظام اور فریم ورک میں رہتے ہویے “Islamization of Knowledge” جیسے منصوبے بھی کوئی بڑا تمدنی نتیجہ پیدا نہ کر سکے، وہ اکثر اپنی اسلامی علمی روایت سے منقطع ہوتے ہیں اور کر جدید علوم پر اسلامی لیبل لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس تمام بحث کا مقصد یہ نہیں کہ مسلمان جدید انگریزی نظامِ تعلیم سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ موجودہ نظام دنیا میں اس نظام میں حصہ لینا ایک عملی ضرورت ہے۔ لیکن ضرورت اور حقیقت دو الگ چیزیں ہیں۔ اگر مسلمان اس نظام میں حصہ لیتے ہوئے اپنے تصورِ علم کو بھی مغرب زدہ کر دیں، تو پھر وہ صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ اپنے پورے علمی و تہذیبی شعور کو تبدیل کر بیٹھیں گے۔ اور معاشی سرگرمی ہمیشہ کے لیے علمی سرگرمی میں تبدیل ہو جائے گی، اور پھر “علم” کا لفظ اپنے اسلامی مفہوم سے خالی ہو جائے گا جو کہ بہت تیزی سے ہو رہا ہے۔


کشمیر قالین بافی علامتی زبان کے متعلق مزید پڑھیں۔

https://www.josetfine.com/post/taleem-secret-language-of-handknotted-kashmiri-carpets
❤4
دوران سبق بعض ایسے نکات سامنے آتے ہیں جو بعد میں یاد نہیں رہتے اگر ان کو قلم بند کر لیا جائے تو بہت قیمتی سرمایہ اپنے ہاتھ لگ جاتا ہے، تحریر کر لینے کے بعد بات ذہن میں اور زیادہ جا گزیں ہو جاتی ہے، پھر اگر کبھی زمانے کی درازی یا ذمے داریوں کے بوجھ کے سبب یادداشت پر گرد کی پرتیں جم جاتی ہیں، تو جب کبھی لکھا ہوا سامنے آ جاتا ہے تو گرد صاف ہو جاتی ہے اور ذہن پھر سے چیزوں کو ری اسٹور کر لیتا ہے۔ اس لیے کچھ ضروری چیزیں لکھ لینی چاہییں۔ جن طلبہ کے سرپرستوں کو اللہ نے مالی فراوانی عطا کی ہے یا جو کسی صورت برداشت کر سکتے ہوں ان کو اپنی ذاتی کتابیں خریدنی چاہییں تاکہ بوقت ضرورت بین السطور و حواشی وغیرہ لگا سکیں، بعض دفعہ تھوڑا اشارہ مل جاتا ہے اور استاد کی پوری بات ذہن میں آ جاتی ہے۔

مگر یہ سب کرے گا کون؟ وہی کرے گا جس کو پڑھنے کا شوق ہوگا، جو واقعی صلاحیت سازی پر توجہ دیتا ہوگا اور جس نے شروحات پر مکمل اعتماد نہ کیا ہو۔ آج کل طلبہ کے ذہنوں میں یہ بات رہتی ہے کہ شرح میں دیکھ کر سبق یاد کر لیں گے۔ سبق یاد کرنے تک ہی بات ہو تب بھی غنیمت ہے، اکثر کے ذہن میں تو یہ رہتا ہے کہ جب امتحان آئے گا تب شروحات سے مدد لے کر تیاری کر لیں گے۔ بھلا بتائیے جس کے ذہن میں یہ زہر پہلے سے ہی بھرا ہو وہ سبق کیوں کر غور سے سنے گا، اس کے دل میں استاد کی عظمت و اہمیت بھلا کیوں ہوگی؟

سبق پڑھنے کے بعد دوسرا مرحلہ اس کے اعادے و مذاکرے کا ہوتا ہے، اس کے لیے بہت اچھا وقت سبق کے فوراً بعد کا ہوتا ہے اگر گھنٹہ ختم ہونے کے بعد دس پندرہ منٹ میسر آ جائیں اور یہ چھوٹی کتابوں میں ممکن ہے۔ ہاں کچھ ذہین طلبہ بڑی کتابوں میں بھی سرسری نظر ڈال کر اعادہ کر لیں تو بہت بہتر ہے۔ پھر مغرب بعد اور عشاء بعد کا وقت بہترین وقت ہے۔ مذاکرے و تکرار کے نام پر طلبہ مغرب بعد بیٹھتے ہیں، اکثر یہ ہوتا ہے کہ ایک طالب علم تکرار کراتا ہے، باقی سنتے ہیں، بعض دفعہ سامعین کا گروپ بڑا ہوتا ہے اور وہ سبق ہی کی طرح خاموشی سے تکرار سن کر سمجھ لیتے ہیں کہ سبق یاد ہو گیا؛ مگر یہ ان کی غلط فہمی ہے، سبق جب تک خود نہ دہرایا جائے تب تک اچھی طرح یاد نہیں ہوتا یا یاد ہو جائے تو جلدی ذہن سے نکل بھی جاتا ہے۔

چھوٹے چھوٹے گروپس میں تقسیم ہو کر تکرار کرنا زیادہ مفید ہے، جس میں ہر طالب علم کسی نہ کسی کتاب کا مذاکرہ کرائے، اس سے ہر ایک کے اندر مرتب انداز میں بولنے اور تفہیم کی صلاحیت پیدا ہوگی اور وہ کتاب بھی بہتر طریقے پر یاد ہو جائے گی۔ ایک کتاب کے مذاکرے کے بعد چند منٹ سامعین طلبہ کو پھر سے ایک نظر ڈال لینی چاہیے، کچھ سوال بھی آپس میں کر لینے چاہیئیں تاکہ مذاکرے کا پورا فایدہ حاصل ہو سکے۔

محمد اعظم سیتاپوری
مدرسہ عربیہ قرآنیہ اٹاوہ
❤10
Pakistan Aur India Ke madaris ko mobile Ne barbad kar Diya hai |…
Islam ki Roshni Noorulhadi
@kashkoleurdu

پاکستان اور انڈیا کے مدرسوں کو موبائل نے برباد کردیا:
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا بیان
👍6❤5