उत्तर प्रदेश के मथुरा में कॉकरोच जनता पार्टी का असर उस वक्त देखने को मिला जब दीपक शर्मा नाम का युवक अचानक नगर निगम के दफ्तर में कॉकरोच बनकर पहुंच गया। दीपक शर्मा सामाजिक कार्यकर्ता हैं, शुक्रवार को उन्होंने यमुना नदी के प्रदूषण और मथुरा में फैली गंदगी के विरोध में अनोखे ढंग से प्रदर्शन किया. सामाजिक कार्यकर्ता दीपक ‘कॉकरोच’ का रूप धारण कर नाचते-गाते निगम परिसर में पहुंच गए। उन्हें देखकर अधिकारी, कर्मचारी और आम लोग हैरान रह गए.
uttar pradesh ke mathura mein cockroach janta party ka asar us waqt dekhne ko mila jab deepak sharma naam ka yuvak achanak nagar nigam ke daftar mein cockroach bankar pahunch gaya। deepak sharma samajik karyakarta han, shukravaar ko unhone yamuna nadi ke pradushan aur mathura mein faili gandagi ke virodh mein anokhe dhang se pradarshan kiya. samajik karyakarta deepak ‘cockroach’ ka roop dharan kar nachte-gaate nigam parisar mein pahunch gaye। unhen dekhkar adhikari, karmchari aur aam log hairan rah gaye.
कॉकरोच बनकर दीपक शर्मा का विरोध प्रदर्शन का वीडियो भी सोशल मीडिया पर जमकर वायरल हो रहा है, जिसमें वो कॉकरोच की तरह सीढ़ियों पर रेंगते हुए नाचते और गाते दिख रहे हैं. उन्होंने आरोप लगाया कि "यमुना प्रदूषण और शहर की गंदगी से मुंह मोड़े बैठे नाकारा अधिकारियों की आंखें खोलने के लिए मुझे यह रूप धारण करना पड़ा. जब हम जैसे युवा तथ्य लेकर न्यायालय जाते हैं, तब ऊंचे पदों पर बैठे जिम्मेदार लोग हमें ‘कॉकरोच’ कहकर मुद्दे को नजरअंदाज करते हैं."
cockroach bankar deepak sharma ka virodh pradarshan ka video bhi social media par jamkar viral ho raha hai, jisme woh cockroach ki tarah sidhiyon par rengte hue nachte aur gaate dikh rahe han. unhone aarop lagaya ki "yamuna pradushan aur shahar ki gandagi se munh mode baithe nakara adhikariyon ki aankhen kholne ke liye mujhe yah roop dharan karna pada. jab hum jaise yuva tathya lekar nyayalay jaate han, tab oonche padon par baithe jimmedaar log hamen ‘cockroach’ kahkar mudde ko najarandaj karte han."
uttar pradesh ke mathura mein cockroach janta party ka asar us waqt dekhne ko mila jab deepak sharma naam ka yuvak achanak nagar nigam ke daftar mein cockroach bankar pahunch gaya। deepak sharma samajik karyakarta han, shukravaar ko unhone yamuna nadi ke pradushan aur mathura mein faili gandagi ke virodh mein anokhe dhang se pradarshan kiya. samajik karyakarta deepak ‘cockroach’ ka roop dharan kar nachte-gaate nigam parisar mein pahunch gaye। unhen dekhkar adhikari, karmchari aur aam log hairan rah gaye.
कॉकरोच बनकर दीपक शर्मा का विरोध प्रदर्शन का वीडियो भी सोशल मीडिया पर जमकर वायरल हो रहा है, जिसमें वो कॉकरोच की तरह सीढ़ियों पर रेंगते हुए नाचते और गाते दिख रहे हैं. उन्होंने आरोप लगाया कि "यमुना प्रदूषण और शहर की गंदगी से मुंह मोड़े बैठे नाकारा अधिकारियों की आंखें खोलने के लिए मुझे यह रूप धारण करना पड़ा. जब हम जैसे युवा तथ्य लेकर न्यायालय जाते हैं, तब ऊंचे पदों पर बैठे जिम्मेदार लोग हमें ‘कॉकरोच’ कहकर मुद्दे को नजरअंदाज करते हैं."
cockroach bankar deepak sharma ka virodh pradarshan ka video bhi social media par jamkar viral ho raha hai, jisme woh cockroach ki tarah sidhiyon par rengte hue nachte aur gaate dikh rahe han. unhone aarop lagaya ki "yamuna pradushan aur shahar ki gandagi se munh mode baithe nakara adhikariyon ki aankhen kholne ke liye mujhe yah roop dharan karna pada. jab hum jaise yuva tathya lekar nyayalay jaate han, tab oonche padon par baithe jimmedaar log hamen ‘cockroach’ kahkar mudde ko najarandaj karte han."
تعارف جامعہ دارالعلوم کراچی - جامعہ دارالعلوم کراچی https://share.google/nlNIIoXXsAxrYzPFb
جامعہ دارالعلوم کراچی - Jamia Darululoom Karachi Official website
تعارف جامعہ دارالعلوم کراچی - جامعہ دارالعلوم کراچی
بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ ؕ نَحْمَدُہُ وَ نُصَلّیِ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْمْ اَمّا بَعْدْ جامعہ دارالعلوم کراچی، دینی درس گاہوں کے اس مقدس سلسلے کی ایک کڑی ہے جو اس برّصغیر میں اللہ کے کچھ نیک بندوں نے انگریزی استعمار کی تاریک رات میں دین کی…
قرآنی آیات پر مشتمل 'منزل' (جو کہ جادو، نظرِ بد اور حفاظت کے لیے پڑھی جاتی ہے) کو زبانی پڑھنے یا موبائل اسکرین سے دیکھنے کیلیے باوضو ہونا ہرگز لازمی نہیں ہے۔ تاہم، اگر آپ اسے کسی کتاب یا کاغذ پر چھو کر پڑھ رہے ہیں تو وضو ہونا شرط ہے۔ [1, 2, 3, 4, 5]
اس حوالے سے چند اہم نکات یہ ہیں:
زبانی پڑھنا: بغیر وضو کے زبانی تلاوت کرنا یا دعا کے طور پر پڑھنا جائز ہے۔
موبائل یا کمپیوٹر: اگر 'منزل' موبائل ایپ یا اسکرین پر کھلی ہوئی ہو تو بغیر وضو اس کی تلاوت کی جا سکتی ہے۔
کتاب کو چھونا: اگر آپ اسے قرآنِ مجید یا کسی ایسی کتاب کی شکل میں پڑھ رہے ہیں جہاں مکمل آیات درج ہیں، تو بے وضو حالت میں کتاب کے اوراق کو ہاتھ لگانا منع ہے۔
ادب کا تقاضا: اگرچہ وضو شرط نہیں ہے، لیکن کلامِ الٰہی کی برکت اور ادب کے پیشِ نظر باوضو ہو کر پڑھنا زیادہ بہتر اور ثواب کا باعث ہے۔ [3, 4, 5]
کیا آپ کو منزل کا صحیح تلفظ جاننا ہے، یا کیا آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسے دن میں کتنی بار اور کس طریقے سے پڑھنا زیادہ مؤثر ہے؟
[1] https://alikhlasonline.com
[2] https://alulama.org
[3] https://forum.mohaddis.com
[4] https://www.thefatwa.com
[5] https://www.darulifta.info
اس حوالے سے چند اہم نکات یہ ہیں:
زبانی پڑھنا: بغیر وضو کے زبانی تلاوت کرنا یا دعا کے طور پر پڑھنا جائز ہے۔
موبائل یا کمپیوٹر: اگر 'منزل' موبائل ایپ یا اسکرین پر کھلی ہوئی ہو تو بغیر وضو اس کی تلاوت کی جا سکتی ہے۔
کتاب کو چھونا: اگر آپ اسے قرآنِ مجید یا کسی ایسی کتاب کی شکل میں پڑھ رہے ہیں جہاں مکمل آیات درج ہیں، تو بے وضو حالت میں کتاب کے اوراق کو ہاتھ لگانا منع ہے۔
ادب کا تقاضا: اگرچہ وضو شرط نہیں ہے، لیکن کلامِ الٰہی کی برکت اور ادب کے پیشِ نظر باوضو ہو کر پڑھنا زیادہ بہتر اور ثواب کا باعث ہے۔ [3, 4, 5]
کیا آپ کو منزل کا صحیح تلفظ جاننا ہے، یا کیا آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسے دن میں کتنی بار اور کس طریقے سے پڑھنا زیادہ مؤثر ہے؟
[1] https://alikhlasonline.com
[2] https://alulama.org
[3] https://forum.mohaddis.com
[4] https://www.thefatwa.com
[5] https://www.darulifta.info
Alikhlasonline
Darulifta Al Ikhlas – Online Fatwa in Urdu & English
Ask Islamic questions and get authentic fatwas from our expert Muftis. Available Fatwa in Urdu & English for your guidance.
قرآنی آیات پر مشتمل 'منزل' (جو کہ جادو، نظرِ بد اور حفاظت کے لیے پڑھی جاتی ہے) کو زبانی پڑھنے یا موبائل اسکرین سے دیکھنے کیلیے باوضو ہونا ہرگز لازمی نہیں ہے۔ تاہم، اگر آپ اسے کسی کتاب یا کاغذ پر چھو کر پڑھ رہے ہیں تو وضو ہونا شرط ہے۔ [1, 2, 3, 4, 5]
اس حوالے سے چند اہم نکات یہ ہیں:
زبانی پڑھنا: بغیر وضو کے زبانی تلاوت کرنا یا دعا کے طور پر پڑھنا جائز ہے۔
موبائل یا کمپیوٹر: اگر 'منزل' موبائل ایپ یا اسکرین پر کھلی ہوئی ہو تو بغیر وضو اس کی تلاوت کی جا سکتی ہے۔
کتاب کو چھونا: اگر آپ اسے قرآنِ مجید یا کسی ایسی کتاب کی شکل میں پڑھ رہے ہیں جہاں مکمل آیات درج ہیں، تو بے وضو حالت میں کتاب کے اوراق کو ہاتھ لگانا منع ہے۔
ادب کا تقاضا: اگرچہ وضو شرط نہیں ہے، لیکن کلامِ الٰہی کی برکت اور ادب کے پیشِ نظر باوضو ہو کر پڑھنا زیادہ بہتر اور ثواب کا باعث ہے۔ [3, 4, 5]
کیا آپ کو منزل کا صحیح تلفظ جاننا ہے، یا کیا آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسے دن میں کتنی بار اور کس طریقے سے پڑھنا زیادہ مؤثر ہے؟
[1] https://alikhlasonline.com
[2] https://alulama.org
[3] https://forum.mohaddis.com
[4] https://www.thefatwa.com
[5] https://www.darulifta.info
اس حوالے سے چند اہم نکات یہ ہیں:
زبانی پڑھنا: بغیر وضو کے زبانی تلاوت کرنا یا دعا کے طور پر پڑھنا جائز ہے۔
موبائل یا کمپیوٹر: اگر 'منزل' موبائل ایپ یا اسکرین پر کھلی ہوئی ہو تو بغیر وضو اس کی تلاوت کی جا سکتی ہے۔
کتاب کو چھونا: اگر آپ اسے قرآنِ مجید یا کسی ایسی کتاب کی شکل میں پڑھ رہے ہیں جہاں مکمل آیات درج ہیں، تو بے وضو حالت میں کتاب کے اوراق کو ہاتھ لگانا منع ہے۔
ادب کا تقاضا: اگرچہ وضو شرط نہیں ہے، لیکن کلامِ الٰہی کی برکت اور ادب کے پیشِ نظر باوضو ہو کر پڑھنا زیادہ بہتر اور ثواب کا باعث ہے۔ [3, 4, 5]
کیا آپ کو منزل کا صحیح تلفظ جاننا ہے، یا کیا آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسے دن میں کتنی بار اور کس طریقے سے پڑھنا زیادہ مؤثر ہے؟
[1] https://alikhlasonline.com
[2] https://alulama.org
[3] https://forum.mohaddis.com
[4] https://www.thefatwa.com
[5] https://www.darulifta.info
Alikhlasonline
Darulifta Al Ikhlas – Online Fatwa in Urdu & English
Ask Islamic questions and get authentic fatwas from our expert Muftis. Available Fatwa in Urdu & English for your guidance.
'منزل' کو منزل اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عربی زبان کے لفظ "نُزُول" سے نکلا ہے، جس کے معنی "نازل ہونے" یا "پڑاؤ" کے ہیں۔
اسلامی روایت اور عربی زبان میں اس لفظ کے استعمال کی تین اہم وجوہات ہیں:
قرآن کا پڑاؤ: پرانے زمانے میں صحابہ کرام اور بزرگ پورے قرآن پاک کو ایک ہفتے میں ختم کرنے کے لیے اسے سات حصوں میں تقسیم کرتے تھے۔ ان روزانہ کے حصوں یا پڑاؤ کو 'منزل' کہا جاتا تھا۔
شفائیہ آیات کا مجموعہ: موجودہ دور میں جس 'منزل' کو ہم پڑھتے ہیں، وہ قرآنِ پاک کی مختلف سورتوں سے چنی گئی 33 مخصوص آیات کا ایک مجموعہ ہے، جو ایک ہی جگہ (ایک منزل پر) جمع کر دی گئی ہیں۔
حفاظت کا ٹھکانا: یہ آیات انسان کو شیطانی شر، جادو اور نظرِ بد سے بچا کر اللہ کی پناہ اور حفاظت میں لے آتی ہیں، جو کہ انسان کے لیے ایک محفوظ ٹھکانا یا منزل ہے۔
اس مجموعے کو سب سے پہلے حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے ایک کتابچے کی شکل میں جمع کیا تھا، تاکہ عام لوگ روزانہ آسانی سے اسے ایک ہی جگہ دیکھ کر پڑھ سکیں۔
اسلامی روایت اور عربی زبان میں اس لفظ کے استعمال کی تین اہم وجوہات ہیں:
قرآن کا پڑاؤ: پرانے زمانے میں صحابہ کرام اور بزرگ پورے قرآن پاک کو ایک ہفتے میں ختم کرنے کے لیے اسے سات حصوں میں تقسیم کرتے تھے۔ ان روزانہ کے حصوں یا پڑاؤ کو 'منزل' کہا جاتا تھا۔
شفائیہ آیات کا مجموعہ: موجودہ دور میں جس 'منزل' کو ہم پڑھتے ہیں، وہ قرآنِ پاک کی مختلف سورتوں سے چنی گئی 33 مخصوص آیات کا ایک مجموعہ ہے، جو ایک ہی جگہ (ایک منزل پر) جمع کر دی گئی ہیں۔
حفاظت کا ٹھکانا: یہ آیات انسان کو شیطانی شر، جادو اور نظرِ بد سے بچا کر اللہ کی پناہ اور حفاظت میں لے آتی ہیں، جو کہ انسان کے لیے ایک محفوظ ٹھکانا یا منزل ہے۔
اس مجموعے کو سب سے پہلے حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے ایک کتابچے کی شکل میں جمع کیا تھا، تاکہ عام لوگ روزانہ آسانی سے اسے ایک ہی جگہ دیکھ کر پڑھ سکیں۔
قرآنِ مجید کی پہلی منزل سورۃ الفاتحہ سے شروع ہو کر سورۃ النساء پر ختم ہوتی ہے. [1]
آپ کی مکمل معلومات اور آسانی کے لیے قرآنِ مجید کی تمام ساتوں منازل کی تفصیل درج ذیل ہے، جس کی مدد سے قاری ایک ہفتے میں پورا قرآن ختم کر سکتا ہے: [2]
پہلی منزل: سورۃ الفاتحہ سے سورۃ النساء تک (کل 4 سورتیں)
دوسری منزل: سورۃ المائدہ سے سورۃ التوبہ تک (کل 5 سورتیں)
تیسری منزل: سورۃ یونس سے سورۃ النحل تک (کل 7 سورتیں)
چوتھی منزل: سورۃ بنی اسرائیل (الاسراء) سے سورۃ الفرقان تک (کل 9 سورتیں)
پانچویں منزل: سورۃ الشعراء سے سورۃ یٰسٓ تک (کل 11 سورتیں)
چھٹی منزل: سورۃ الصافات سے سورۃ الحجرات تک (کل 13 سورتیں)
ساتویں منزل: سورۃ قٓ سے سورۃ الناس تک (کل 65 سورتیں) [1, 3]
کیا آپ ان منازل کو یاد رکھنے کا مخصوص عربی فارمولا (فمی بشوق) جاننا چاہتے ہیں، یا کسی خاص منزل کے پارے معلوم کرنا چاہتے ہیں؟
[1] https://www.facebook.com
[2] https://www.darulifta.info
[3] https://urdumehfil.net
آپ کی مکمل معلومات اور آسانی کے لیے قرآنِ مجید کی تمام ساتوں منازل کی تفصیل درج ذیل ہے، جس کی مدد سے قاری ایک ہفتے میں پورا قرآن ختم کر سکتا ہے: [2]
پہلی منزل: سورۃ الفاتحہ سے سورۃ النساء تک (کل 4 سورتیں)
دوسری منزل: سورۃ المائدہ سے سورۃ التوبہ تک (کل 5 سورتیں)
تیسری منزل: سورۃ یونس سے سورۃ النحل تک (کل 7 سورتیں)
چوتھی منزل: سورۃ بنی اسرائیل (الاسراء) سے سورۃ الفرقان تک (کل 9 سورتیں)
پانچویں منزل: سورۃ الشعراء سے سورۃ یٰسٓ تک (کل 11 سورتیں)
چھٹی منزل: سورۃ الصافات سے سورۃ الحجرات تک (کل 13 سورتیں)
ساتویں منزل: سورۃ قٓ سے سورۃ الناس تک (کل 65 سورتیں) [1, 3]
کیا آپ ان منازل کو یاد رکھنے کا مخصوص عربی فارمولا (فمی بشوق) جاننا چاہتے ہیں، یا کسی خاص منزل کے پارے معلوم کرنا چاہتے ہیں؟
[1] https://www.facebook.com
[2] https://www.darulifta.info
[3] https://urdumehfil.net
Darulifta.info
دار الافتاء . انفو | Darulifta.info
دار الافتاء انفو ایک مفت اسلامی ویب سائٹ ہے جو مفت فتاوی، اسلامی مضامین، اور دینی معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہاں آپ کو مختلف موضوعات پر مستند اسلامی رہنمائی ملے گی۔
قرآنِ مجید کی ساتوں منازل کو ترتیب سے یاد رکھنے کا سب سے آسان اور مشہور فارمولا "فَمِي بِشَوْقٍ" (Fami Bi Shawq) ہے۔
عربی کے اس جملے کا لفظی مطلب ہے "میرا منہ (قرآن کی) محبت میں ہے"۔ اس جملے کا ہر حرف ایک مخصوص سورت کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں سے وہ منزل شروع ہوتی ہے:
* ف (فَمِي کا پہلا حرف): اس سے مراد سورۃ الفاتحہ ہے، جہاں سے پہلی منزل شروع ہوتی ہے۔
* م (فَمِي کا دوسرا حرف): اس سے مراد سورۃ المائدہ ہے، جہاں سے دوسری منزل شروع ہوتی ہے۔
* ی (فَمِي کا تیسرا حرف): اس سے مراد سورۃ یونس ہے، جہاں سے تیسری منزل شروع ہوتی ہے۔
* ب (بِشَوْقٍ کا پہلا حرف): اس سے مراد سورۃ بنی اسرائیل (الاسراء) ہے، جہاں سے چوتھی منزل شروع ہوتی ہے۔
* ش (بِشَوْقٍ کا دوسرا حرف): اس سے مراد سورۃ الشعراء ہے، جہاں سے پانچویں منزل شروع ہوتی ہے۔
* و (بِشَوْقٍ کا تیسرا حرف): اس سے مراد سورۃ والصافات ہے، جہاں سے چھٹی منزل شروع ہوتی ہے۔
* ق (بِشَوْقٍ کا آخری حرف): اس سے مراد سورۃ قٓ ہے، جہاں سے ساتویں منزل شروع ہوتی ہے۔
اس ایک جملے کو یاد رکھ کر آپ کبھی نہیں بھولیں گے کہ کون سی منزل کس سورت سے شروع ہو رہی ہے۔
عربی کے اس جملے کا لفظی مطلب ہے "میرا منہ (قرآن کی) محبت میں ہے"۔ اس جملے کا ہر حرف ایک مخصوص سورت کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں سے وہ منزل شروع ہوتی ہے:
* ف (فَمِي کا پہلا حرف): اس سے مراد سورۃ الفاتحہ ہے، جہاں سے پہلی منزل شروع ہوتی ہے۔
* م (فَمِي کا دوسرا حرف): اس سے مراد سورۃ المائدہ ہے، جہاں سے دوسری منزل شروع ہوتی ہے۔
* ی (فَمِي کا تیسرا حرف): اس سے مراد سورۃ یونس ہے، جہاں سے تیسری منزل شروع ہوتی ہے۔
* ب (بِشَوْقٍ کا پہلا حرف): اس سے مراد سورۃ بنی اسرائیل (الاسراء) ہے، جہاں سے چوتھی منزل شروع ہوتی ہے۔
* ش (بِشَوْقٍ کا دوسرا حرف): اس سے مراد سورۃ الشعراء ہے، جہاں سے پانچویں منزل شروع ہوتی ہے۔
* و (بِشَوْقٍ کا تیسرا حرف): اس سے مراد سورۃ والصافات ہے، جہاں سے چھٹی منزل شروع ہوتی ہے۔
* ق (بِشَوْقٍ کا آخری حرف): اس سے مراد سورۃ قٓ ہے، جہاں سے ساتویں منزل شروع ہوتی ہے۔
اس ایک جملے کو یاد رکھ کر آپ کبھی نہیں بھولیں گے کہ کون سی منزل کس سورت سے شروع ہو رہی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا روزانہ کا معمول تھا کہ وہ ہر رات عشاء کے بعد یا رات کے پچھلے پہر (تہجد میں) ایک منزل لازمی تلاوت فرماتے تھے۔
اس خوبصورت معمول کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
* ایک ہفتے میں ختم: صحابہ کرام عام طور پر سات دنوں میں پورا قرآن مجید مکمل کر لیتے تھے، اور اسی ترتیب کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے قرآن کو سات حصوں (منازل) میں تقسیم کیا تھا۔
* تلاوت کا وقت: زیادہ تر صحابہ کرام رات کے وقت (تہجد کی نماز میں) یہ منازل پڑھتے تھے تاکہ دن بھر کے دنیاوی کاموں اور جہاد کی مصروفیات کے بعد سکون سے اللہ کے کلام میں غور و فکر کر سکیں۔
* کم از کم وقت: حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے مطابق، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ہدایت فرمائی تھی کہ قرآن کو کم از کم ایک ہفتے (سات دن) میں ختم کیا جائے تاکہ اس کے الفاظ اور معانی کو اچھی طرح سمجھا جا سکے۔
* رمضان المبارک کا معمول: رمضان کے مہینے میں بہت سے صحابہ کرام کا شوق اور بڑھ جاتا تھا، اور کچھ صحابہ ہر تین دن میں بھی پورا قرآن مکمل کر لیتے تھے۔
صحابہ کرام کی زندگی کا مقصد صرف قرآن پڑھنا نہیں تھا، بلکہ وہ جتنی تلاوت کرتے تھے، اسے اپنی عملی زندگی میں نافذ بھی کرتے تھے۔
اس خوبصورت معمول کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
* ایک ہفتے میں ختم: صحابہ کرام عام طور پر سات دنوں میں پورا قرآن مجید مکمل کر لیتے تھے، اور اسی ترتیب کو برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے قرآن کو سات حصوں (منازل) میں تقسیم کیا تھا۔
* تلاوت کا وقت: زیادہ تر صحابہ کرام رات کے وقت (تہجد کی نماز میں) یہ منازل پڑھتے تھے تاکہ دن بھر کے دنیاوی کاموں اور جہاد کی مصروفیات کے بعد سکون سے اللہ کے کلام میں غور و فکر کر سکیں۔
* کم از کم وقت: حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کے مطابق، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ہدایت فرمائی تھی کہ قرآن کو کم از کم ایک ہفتے (سات دن) میں ختم کیا جائے تاکہ اس کے الفاظ اور معانی کو اچھی طرح سمجھا جا سکے۔
* رمضان المبارک کا معمول: رمضان کے مہینے میں بہت سے صحابہ کرام کا شوق اور بڑھ جاتا تھا، اور کچھ صحابہ ہر تین دن میں بھی پورا قرآن مکمل کر لیتے تھے۔
صحابہ کرام کی زندگی کا مقصد صرف قرآن پڑھنا نہیں تھا، بلکہ وہ جتنی تلاوت کرتے تھے، اسے اپنی عملی زندگی میں نافذ بھی کرتے تھے۔