8 سوال، ایک کامیاب زندگی جینے کے لیے خود سے یہ سوال کیجیے!
(قاسم علی شاہ)
ہر انسان جب صبح اٹھ کرتیار ہوتا ہے تو آئینے میں ضرور دیکھتا ہے ۔وہ اپنے بالوں کو سنوارتا ہے ۔چہرے کو خوبصورت بناتا ہے اور اس بات کی بھرپور کوشش کرتا ہے کہ میں دوسرے انسانوں میں اچھا لگوں ۔ظاہری شکل و صورت کی طرح اپنے باطن کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے لیکن یہ فریضہ کوئی بھی ادا نہیں کرتا ۔ وجہ یہ ہے کہ یہ ایک مشکل ترین کام ہے ۔ہمارے معاشرے میں ہر شخص دوسرے لوگوں کے بارے میں ہر طرح سے باخبر ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن خود سے وہ بے خبر ہی رہتا ہے ۔اپنے آپ کے ساتھ وقت نہیں گزارا جاتا ، اپنے من میں نہیں ڈوبا جاتا اور نہ ہی کبھی خودکو ٹٹولاجاتا ہے ۔اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے اردگردتو ساری دنیا اکھٹی کرلیتا ہے لیکن خود سے وہ بہت دور چلا جاتا ہے ۔انسان کی اپنے آپ سے یہ دوری اس کو اپنے مقصد حیات سے بھی دور کردیتی ہے اورجب اس کو اپنی زندگی کا مقصد پتا نہیں ہوتا توپھر وہ دوسروں کے مقصد میں استعمال ہونا شروع ہوجاتا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ایک بے مقصد زندگی گزارکر دنیا سے چلا جاتا ہے۔
مشہور قول ہے کہ جس نے خود کو جان لیا ، وہ امر ہوگیا۔میں نے کامیاب افراد کی جتنی بھی آپ بیتیاں اور سوانح حیات پڑھی ہیں ان سب میں ایک چیز مشترک دیکھی کہ وہ خود شناس تھے۔وہ اپنے بارے میں یہ آٹھ سوال ضرور جانتے تھے اوران کی کامیابی کی وجہ بھی یہی تھی۔اس کے مقابلے میں جو لوگ ان سوالات سے لاعلم ہوتے ہیں انہیں میں نے ناکام دیکھا ہے۔اِن آٹھ باتوں کو جاننے کے بعد انسان اپنی کارکردگی میں نکھار لاسکتاہے ۔اس کی تخلیقی صلاحیت بہترین ہوسکتی ہے اور وہ اپنی ایک پہچان کے ساتھ جی سکتا ہے۔یہ آٹھ سوال مندرجہ ذیل ہیں:
(1)کون سی چیز آپ کو خوشی دیتی ہے؟
اس سوال کا جواب ڈھونڈنے پر آپ کویہ بھی معلوم ہوگا کہ ہر انسان کے لیے اس کا جواب الگ ہے،کیونکہ خوشی کاتصورمختلف ہوتاہے ۔مثال کے طور پر جب آپ زمانہ طالب علمی میں تھے تو آپ کے لیے خوشی کا تصورالگ تھا ۔جب آپ کچھ سنجیدہ ہوئے تو پھر آپ کے لیے خوشی کا زاویہ کچھ اور بن گیا۔آپ بڑھاپے میں پہنچیں گے توآپ کے لیے خوشی کچھ اور ہوگی ۔اس اعتبار سے آپ ان چیزوں کی فہرست بنائیں جوآپ کو خوشی دیتی ہیں۔ایسا ممکن ہے کہ کسی انسان کو دوسروں کی مدد کرنا خوشی دیتا ہو ،لیکن ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی کو مال اکھٹا کرنا خوشی دیتا ہو۔کسی کے لیے دوسروں کو پیچھے چھوڑ کر کچھ پالینا خوشی ہوتی ہے جبکہ کچھ لوگوں کو سب کو ساتھ لے کر چلنا اور ٹیم ورک کے طورپر کام کرنے میں مزہ آتا ہے۔بعض لوگ کسی کے دُکھ پر بڑے خوش ہوتے ہیں ۔جس کے بارے میں بانو آپا کا قول ہے کہ کسی انسان کے چہرے پر مسکراہٹ کب آتی ہے ؟اگر یہ سمجھااور جانا جائے تو اس کے کردار کا پتا چلتا ہے۔اگر کسی کے نقصان اور دُکھ پراس کو خوشی ملتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کوئی اچھا انسان نہیں ہے،لیکن اگر کسی کے دُکھ پر دُکھی ہوتا ہے اور خوشی پر خوش ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک اچھا انسان ہے۔
آپ کی فکر مندی کہاں ہے ؟ اس سے معلوم ہوگا کہ آپ کی خوشی کہاں پر ہے۔
(2)آپ کی اقدار(Values) کیا ہیں؟
اقدار،قدر کی جمع ہے ۔جس کا معنی ہے :اہم اور ترجیحی چیز۔یعنی آپ کے نزدیک کون سی چیز اہم اور ترجیحی ہے جس پر آپ کوئی سمجھوتانہیں کرسکتے اور جس کے لیے آپ بڑی سے بڑی قربانی دینے کو بھی تیار ہوجاتے ہیں؟
اپنی بنیادی ترجیحی اقدار کو جاننا بہت ضروری ہے۔بعض اوقات ہمیں علم نہیں ہوتا اورکچھ چیزیں ہماری اقدار بن چکی ہوتی ہیں،جوکہ ’’اقدار‘‘ بننے کے قابل نہیں ہوتیں۔لہٰذا اپنی اقدار پر نظر ثانی کریں اور دیکھیں کہ کیا یہ واقعی اقدار بننے کے قابل ہیں یا نہیں ؟ اسی طرح جو آپ کی زندگی میں واقعتا اہم چیزیں ہیں انہیں اپنی اقدار کی فہرست میں شامل کیجیے ۔
(3)آپ کسی بھی مشکل میں کس طرح کا ردِعمل دیتے ہیں؟
کسی بھی مشکل میں آپ کا ردِ عمل بتاتا ہے کہ آپ کس قدر سنجیدہ اور میچور انسان ہیں۔ہر عقل مند انسان پریشانی کو مینج کرنا جانتا ہے ۔’’سٹریس منیجمنٹ‘‘ بہتر ہونے کا مطلب ہے ؛زندگی کا بہتر ہونا ۔ کیونکہ زندگی پریشانی کا دوسرا نام ہے ۔ہماری زندگیوں میں بہت ساری چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن پر ہمارا کنٹرول نہیں چلتا ۔انسان کو ساری زندگی پسندیدہ اور موافق حالات نہیں ملتے ۔اگرآپ اپنے ماضی پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ کہیں تکلیف اورپریشانی میں آپ بے بس ہوگئے تھے اورآپ نے اپنی پریشانی کا ڈھنڈورا پیٹا تھا یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے بڑی بہادری کے ساتھ حالات کا سامنا کیا ہو۔آپ کا ردِ عمل جیسا بھی رہا ہو یہ یاد رکھیں کہ دُکھ انسان کو تباہ کرسکتا ہے لیکن اگرآپ اس کو منیج کرنا جانتے ہیں تو پھر یہ ’’تخریبی ‘‘کے بجائے ’’تعمیری‘‘ بن سکتا ہے۔مثال کے طورپرآپ شاعری کو ہی دیکھ لیں ۔جس قدر بھی معیاری شاعری ہے اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی درد اور دُکھ
(قاسم علی شاہ)
ہر انسان جب صبح اٹھ کرتیار ہوتا ہے تو آئینے میں ضرور دیکھتا ہے ۔وہ اپنے بالوں کو سنوارتا ہے ۔چہرے کو خوبصورت بناتا ہے اور اس بات کی بھرپور کوشش کرتا ہے کہ میں دوسرے انسانوں میں اچھا لگوں ۔ظاہری شکل و صورت کی طرح اپنے باطن کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے لیکن یہ فریضہ کوئی بھی ادا نہیں کرتا ۔ وجہ یہ ہے کہ یہ ایک مشکل ترین کام ہے ۔ہمارے معاشرے میں ہر شخص دوسرے لوگوں کے بارے میں ہر طرح سے باخبر ہونے کی کوشش کرتا ہے لیکن خود سے وہ بے خبر ہی رہتا ہے ۔اپنے آپ کے ساتھ وقت نہیں گزارا جاتا ، اپنے من میں نہیں ڈوبا جاتا اور نہ ہی کبھی خودکو ٹٹولاجاتا ہے ۔اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے اردگردتو ساری دنیا اکھٹی کرلیتا ہے لیکن خود سے وہ بہت دور چلا جاتا ہے ۔انسان کی اپنے آپ سے یہ دوری اس کو اپنے مقصد حیات سے بھی دور کردیتی ہے اورجب اس کو اپنی زندگی کا مقصد پتا نہیں ہوتا توپھر وہ دوسروں کے مقصد میں استعمال ہونا شروع ہوجاتا ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ایک بے مقصد زندگی گزارکر دنیا سے چلا جاتا ہے۔
مشہور قول ہے کہ جس نے خود کو جان لیا ، وہ امر ہوگیا۔میں نے کامیاب افراد کی جتنی بھی آپ بیتیاں اور سوانح حیات پڑھی ہیں ان سب میں ایک چیز مشترک دیکھی کہ وہ خود شناس تھے۔وہ اپنے بارے میں یہ آٹھ سوال ضرور جانتے تھے اوران کی کامیابی کی وجہ بھی یہی تھی۔اس کے مقابلے میں جو لوگ ان سوالات سے لاعلم ہوتے ہیں انہیں میں نے ناکام دیکھا ہے۔اِن آٹھ باتوں کو جاننے کے بعد انسان اپنی کارکردگی میں نکھار لاسکتاہے ۔اس کی تخلیقی صلاحیت بہترین ہوسکتی ہے اور وہ اپنی ایک پہچان کے ساتھ جی سکتا ہے۔یہ آٹھ سوال مندرجہ ذیل ہیں:
(1)کون سی چیز آپ کو خوشی دیتی ہے؟
اس سوال کا جواب ڈھونڈنے پر آپ کویہ بھی معلوم ہوگا کہ ہر انسان کے لیے اس کا جواب الگ ہے،کیونکہ خوشی کاتصورمختلف ہوتاہے ۔مثال کے طور پر جب آپ زمانہ طالب علمی میں تھے تو آپ کے لیے خوشی کا تصورالگ تھا ۔جب آپ کچھ سنجیدہ ہوئے تو پھر آپ کے لیے خوشی کا زاویہ کچھ اور بن گیا۔آپ بڑھاپے میں پہنچیں گے توآپ کے لیے خوشی کچھ اور ہوگی ۔اس اعتبار سے آپ ان چیزوں کی فہرست بنائیں جوآپ کو خوشی دیتی ہیں۔ایسا ممکن ہے کہ کسی انسان کو دوسروں کی مدد کرنا خوشی دیتا ہو ،لیکن ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی کو مال اکھٹا کرنا خوشی دیتا ہو۔کسی کے لیے دوسروں کو پیچھے چھوڑ کر کچھ پالینا خوشی ہوتی ہے جبکہ کچھ لوگوں کو سب کو ساتھ لے کر چلنا اور ٹیم ورک کے طورپر کام کرنے میں مزہ آتا ہے۔بعض لوگ کسی کے دُکھ پر بڑے خوش ہوتے ہیں ۔جس کے بارے میں بانو آپا کا قول ہے کہ کسی انسان کے چہرے پر مسکراہٹ کب آتی ہے ؟اگر یہ سمجھااور جانا جائے تو اس کے کردار کا پتا چلتا ہے۔اگر کسی کے نقصان اور دُکھ پراس کو خوشی ملتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کوئی اچھا انسان نہیں ہے،لیکن اگر کسی کے دُکھ پر دُکھی ہوتا ہے اور خوشی پر خوش ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک اچھا انسان ہے۔
آپ کی فکر مندی کہاں ہے ؟ اس سے معلوم ہوگا کہ آپ کی خوشی کہاں پر ہے۔
(2)آپ کی اقدار(Values) کیا ہیں؟
اقدار،قدر کی جمع ہے ۔جس کا معنی ہے :اہم اور ترجیحی چیز۔یعنی آپ کے نزدیک کون سی چیز اہم اور ترجیحی ہے جس پر آپ کوئی سمجھوتانہیں کرسکتے اور جس کے لیے آپ بڑی سے بڑی قربانی دینے کو بھی تیار ہوجاتے ہیں؟
اپنی بنیادی ترجیحی اقدار کو جاننا بہت ضروری ہے۔بعض اوقات ہمیں علم نہیں ہوتا اورکچھ چیزیں ہماری اقدار بن چکی ہوتی ہیں،جوکہ ’’اقدار‘‘ بننے کے قابل نہیں ہوتیں۔لہٰذا اپنی اقدار پر نظر ثانی کریں اور دیکھیں کہ کیا یہ واقعی اقدار بننے کے قابل ہیں یا نہیں ؟ اسی طرح جو آپ کی زندگی میں واقعتا اہم چیزیں ہیں انہیں اپنی اقدار کی فہرست میں شامل کیجیے ۔
(3)آپ کسی بھی مشکل میں کس طرح کا ردِعمل دیتے ہیں؟
کسی بھی مشکل میں آپ کا ردِ عمل بتاتا ہے کہ آپ کس قدر سنجیدہ اور میچور انسان ہیں۔ہر عقل مند انسان پریشانی کو مینج کرنا جانتا ہے ۔’’سٹریس منیجمنٹ‘‘ بہتر ہونے کا مطلب ہے ؛زندگی کا بہتر ہونا ۔ کیونکہ زندگی پریشانی کا دوسرا نام ہے ۔ہماری زندگیوں میں بہت ساری چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن پر ہمارا کنٹرول نہیں چلتا ۔انسان کو ساری زندگی پسندیدہ اور موافق حالات نہیں ملتے ۔اگرآپ اپنے ماضی پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ کہیں تکلیف اورپریشانی میں آپ بے بس ہوگئے تھے اورآپ نے اپنی پریشانی کا ڈھنڈورا پیٹا تھا یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ نے بڑی بہادری کے ساتھ حالات کا سامنا کیا ہو۔آپ کا ردِ عمل جیسا بھی رہا ہو یہ یاد رکھیں کہ دُکھ انسان کو تباہ کرسکتا ہے لیکن اگرآپ اس کو منیج کرنا جانتے ہیں تو پھر یہ ’’تخریبی ‘‘کے بجائے ’’تعمیری‘‘ بن سکتا ہے۔مثال کے طورپرآپ شاعری کو ہی دیکھ لیں ۔جس قدر بھی معیاری شاعری ہے اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی درد اور دُکھ
👍1🔥1
ہوتا ہے۔دین میں صبر کرنے کا حکم بھی اس لیے ہے کہ اگرآپ کو کوئی دُکھ ہے تو اس کو اپنے اندر سنبھالیں اور جس طرح ایک ہانڈی پکتی ہے اس طرح خو د کو پکائیں توآپ کو صبر کا میٹھا پھل نصیب ہوگا۔
(4)آپ کی صحت کیسی ہے؟
جسم، ذہن ،روح اورجذبات مل کر انسانی شخصیت بناتے ہیں۔آپ کو اپنی جسمانی ،ذہنی ، جذباتی اور روحانی صحت کے بارے میں ضرور علم ہوناچاہیے ۔ انسان جب بھی اپنی صحت کے بارے میں جانتا ہے تووہ اپنے آپ سے پیار کرنا شروع کردیتا ہے۔خود سے پیار کرنا ’’خودغرضی‘‘ بالکل نہیں ہے۔اپنی صحت کے بارے میں جاننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے بارے میں حساس ہیں۔آپ اپنے بارے میں یہ غور کررہے ہیں کہ میرے جسم کو کس چیز کی ضرورت ہے ؟ آرام کی ، خوراک کی یا پھر ورزش کی اور اسی کے مطابق آپ اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں۔
ہمارے ملک میں ہیلتھ کا بزنس اس وجہ سے زیادہ پھیل گیا ہے کہ پوری قوم نے صحت کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔یہاں بندہ جب بالکل ڈھے جاتا ہے تب وہ صحت کے بارے میں فکر کرنا شروع کرتا ہے اور ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے ۔حالانکہ اگر صحت کے بار ے میں آگاہی ہوتی توایسی تدابیر اختیار کی جاتیں کہ بیماری کی صورت ہی پیش نہ آتی اور انسان مہنگے ترین ڈاکٹرز اور ادویات سے بچ جاتا ۔
( 5)آپ کی شخصیت کون سی ہے؟
ایک شخصیت انٹراورڈ ہوتی ہے اور ایک ایکسٹراورڈ۔آپ اپنے بارے میں جانیں کہ آپ کون سی قسم کے ہیں؟آج گوگل اور یوٹیوب پر بڑی آسانی کے ساتھ پرسنالٹی ٹسٹ اور معلوماتی ویڈیوز مل جاتی ہیں،جن سے اپنے بارے میں یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ میری شخصیت کون سی قسم کی ہے۔آپ یہ بھی جان سکتے ہیں کہ آپ ایک سماجی انسان ہیں یاآ پ ایک انٹرپرینور ہیں ۔ آپ ایک فوجی ہیں یا ایک بہترین مبلغ (Communicator) ۔آپ کا اصل ٹیلنٹ کیا ہے؟ جب آپ اپنا ٹسٹ کرلیں گے تو معلوم ہوجائے گا کہ آپ ایک منفرد انسان ہیں۔خود کو موثر بنانے کے لیے اپنی شخصیت کو جاننا بڑا ضروری ہے ۔مجھے اپنی عملی زندگی میں بہت سارے اچھے اور بہترین مواقع ملے لیکن میں نے انہیں اختیار نہیں کیا ، کیونکہ مجھے بڑے درست وقت پر یہ ادراک ہوگیا تھا کہ میری پرسنالٹی کیا ہے اور مجھے کس فیلڈ میں آگے بڑھ جانا چاہیے ۔
اگرآپ نے بڑا کام کرنا ہے لیکن اس میں آ پ کی کیفیت گزارے لائق ہے تو اس سے بہتر ہے کہ کوئی چھوٹاکام ڈھونڈیں لیکن اس کو اس انداز میں کریں کہ وہ ’’دی بیسٹ ‘‘ہو۔آپ کی زندگی میں کوئی ایک کام ایسا ضرور ہو جس کے بارے میں آپ بتاسکیں کہ یہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا۔جب بھی انسان کسی ایک فیلڈ میں محنت کرکے آگے بڑھتا ہے تو پھر کم از کم اپنے ملک کے نقشے پر ضرورنظر آنے لگتاہے۔
(6)آپ کی طاقت (قابلیت)کیا ہے؟
کچھ لوگوں کو اللہ جسمانی قوت دیتا ہے،جس کی وجہ سے وہ سپورٹس میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔کچھ لوگوں کو اللہ معلومات کی طاقت دیتا ہے۔کچھ لوگوں کے پاس مشاہدے کی طاقت ہوتی ہے ۔کچھ لوگوں کے پاس حکمت عملی بنانے کی طاقت ہوتی ہے۔کچھ کے پاس ابلاغ کی طاقت ہوتی ہے توکچھ کے پاس لیڈرشپ کی طاقت۔الغرض ہر انسان کسی نہ کسی قابلیت سے مزین ہوتا ہے۔آ پ کے پاس ایسی کون سی قابلیت ہے جو آپ کی طاقت بن سکتی ہے؟
اس موضوع پر ایک بہترین کتاب ’’Strengths Finder‘‘کے نام سے ہے، جس کے مصنف کا نام ڈونلڈکلفٹن ہے ۔اس کتاب کی تحقیق بتاتی ہے کہ شخصیات کی اقسام 34ہیں اور ہر انسان میں پانچ طاقتورصلاحیتیں ہوتی ہیں جن کے اردگرد اس کی زندگی گھومتی ہے۔اپنی صلاحیت و قابلیت کے بارے میں جاننے کے لیے اس کتاب کامطالعہ آپ کے لیے بے حد مفید رہے گا۔
(7)آپ کی کمزوریاں کیا ہیں؟
سب سے مشکل کام انسان کا اپنی کمزوریوں کا جانچنا ہوتا ہے۔یہ اعتراف کہ میں کہیں نہ کہیں سے کمزور ہوں، بہت مشکل کام ہے۔دراصل انسان کا تکبر اور انا اس سے اس کی کمزوریوں کو چھپادیتی ہے اور اس کویہ تاثر دلاتی ہے کہ تم تو سب سے پرفیکٹ انسان ہو، حالانکہ پرفیکٹ کوئی بھی نہیں ہوتا ۔آپ کے اندر جو بھی کمزوریاں ہیں ان سب کی ایک لسٹ بنائیں اور اپنی ان خامیوں کو خوبیوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔
(8)آپ کا رول ماڈل کون ہے؟
آپ کن لوگوں سے شدید متاثر ہیں ۔آپ کا جو بھی رول ماڈل ہے اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں۔آپ کے اندر کسی بھی انسان کی محبت اور عقیدت ہوتی ہے تووہ آپ کو نکھارتی ہے ۔اس لیے اس بات کا بھی پور ا خیال رکھیں کہ آپ جس انسان کو رول ماڈل بنارہے ہیں کیا وہ واقعی معاشر ے میں ایک مثالی شخصیت ہیں؟ اگر آپ کا دِل مطمئن ہے تو پھر اس کو ضرور فالو کریں اور اس نے جن اصولوں کو اپناکر کامیابی حاصل کی ہے ، آپ بھی انہیں اپنی زندگی میں لائیں ۔
(4)آپ کی صحت کیسی ہے؟
جسم، ذہن ،روح اورجذبات مل کر انسانی شخصیت بناتے ہیں۔آپ کو اپنی جسمانی ،ذہنی ، جذباتی اور روحانی صحت کے بارے میں ضرور علم ہوناچاہیے ۔ انسان جب بھی اپنی صحت کے بارے میں جانتا ہے تووہ اپنے آپ سے پیار کرنا شروع کردیتا ہے۔خود سے پیار کرنا ’’خودغرضی‘‘ بالکل نہیں ہے۔اپنی صحت کے بارے میں جاننے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے بارے میں حساس ہیں۔آپ اپنے بارے میں یہ غور کررہے ہیں کہ میرے جسم کو کس چیز کی ضرورت ہے ؟ آرام کی ، خوراک کی یا پھر ورزش کی اور اسی کے مطابق آپ اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں۔
ہمارے ملک میں ہیلتھ کا بزنس اس وجہ سے زیادہ پھیل گیا ہے کہ پوری قوم نے صحت کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔یہاں بندہ جب بالکل ڈھے جاتا ہے تب وہ صحت کے بارے میں فکر کرنا شروع کرتا ہے اور ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے ۔حالانکہ اگر صحت کے بار ے میں آگاہی ہوتی توایسی تدابیر اختیار کی جاتیں کہ بیماری کی صورت ہی پیش نہ آتی اور انسان مہنگے ترین ڈاکٹرز اور ادویات سے بچ جاتا ۔
( 5)آپ کی شخصیت کون سی ہے؟
ایک شخصیت انٹراورڈ ہوتی ہے اور ایک ایکسٹراورڈ۔آپ اپنے بارے میں جانیں کہ آپ کون سی قسم کے ہیں؟آج گوگل اور یوٹیوب پر بڑی آسانی کے ساتھ پرسنالٹی ٹسٹ اور معلوماتی ویڈیوز مل جاتی ہیں،جن سے اپنے بارے میں یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ میری شخصیت کون سی قسم کی ہے۔آپ یہ بھی جان سکتے ہیں کہ آپ ایک سماجی انسان ہیں یاآ پ ایک انٹرپرینور ہیں ۔ آپ ایک فوجی ہیں یا ایک بہترین مبلغ (Communicator) ۔آپ کا اصل ٹیلنٹ کیا ہے؟ جب آپ اپنا ٹسٹ کرلیں گے تو معلوم ہوجائے گا کہ آپ ایک منفرد انسان ہیں۔خود کو موثر بنانے کے لیے اپنی شخصیت کو جاننا بڑا ضروری ہے ۔مجھے اپنی عملی زندگی میں بہت سارے اچھے اور بہترین مواقع ملے لیکن میں نے انہیں اختیار نہیں کیا ، کیونکہ مجھے بڑے درست وقت پر یہ ادراک ہوگیا تھا کہ میری پرسنالٹی کیا ہے اور مجھے کس فیلڈ میں آگے بڑھ جانا چاہیے ۔
اگرآپ نے بڑا کام کرنا ہے لیکن اس میں آ پ کی کیفیت گزارے لائق ہے تو اس سے بہتر ہے کہ کوئی چھوٹاکام ڈھونڈیں لیکن اس کو اس انداز میں کریں کہ وہ ’’دی بیسٹ ‘‘ہو۔آپ کی زندگی میں کوئی ایک کام ایسا ضرور ہو جس کے بارے میں آپ بتاسکیں کہ یہ مجھ سے بہتر کوئی نہیں کرسکتا۔جب بھی انسان کسی ایک فیلڈ میں محنت کرکے آگے بڑھتا ہے تو پھر کم از کم اپنے ملک کے نقشے پر ضرورنظر آنے لگتاہے۔
(6)آپ کی طاقت (قابلیت)کیا ہے؟
کچھ لوگوں کو اللہ جسمانی قوت دیتا ہے،جس کی وجہ سے وہ سپورٹس میں اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔کچھ لوگوں کو اللہ معلومات کی طاقت دیتا ہے۔کچھ لوگوں کے پاس مشاہدے کی طاقت ہوتی ہے ۔کچھ لوگوں کے پاس حکمت عملی بنانے کی طاقت ہوتی ہے۔کچھ کے پاس ابلاغ کی طاقت ہوتی ہے توکچھ کے پاس لیڈرشپ کی طاقت۔الغرض ہر انسان کسی نہ کسی قابلیت سے مزین ہوتا ہے۔آ پ کے پاس ایسی کون سی قابلیت ہے جو آپ کی طاقت بن سکتی ہے؟
اس موضوع پر ایک بہترین کتاب ’’Strengths Finder‘‘کے نام سے ہے، جس کے مصنف کا نام ڈونلڈکلفٹن ہے ۔اس کتاب کی تحقیق بتاتی ہے کہ شخصیات کی اقسام 34ہیں اور ہر انسان میں پانچ طاقتورصلاحیتیں ہوتی ہیں جن کے اردگرد اس کی زندگی گھومتی ہے۔اپنی صلاحیت و قابلیت کے بارے میں جاننے کے لیے اس کتاب کامطالعہ آپ کے لیے بے حد مفید رہے گا۔
(7)آپ کی کمزوریاں کیا ہیں؟
سب سے مشکل کام انسان کا اپنی کمزوریوں کا جانچنا ہوتا ہے۔یہ اعتراف کہ میں کہیں نہ کہیں سے کمزور ہوں، بہت مشکل کام ہے۔دراصل انسان کا تکبر اور انا اس سے اس کی کمزوریوں کو چھپادیتی ہے اور اس کویہ تاثر دلاتی ہے کہ تم تو سب سے پرفیکٹ انسان ہو، حالانکہ پرفیکٹ کوئی بھی نہیں ہوتا ۔آپ کے اندر جو بھی کمزوریاں ہیں ان سب کی ایک لسٹ بنائیں اور اپنی ان خامیوں کو خوبیوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔
(8)آپ کا رول ماڈل کون ہے؟
آپ کن لوگوں سے شدید متاثر ہیں ۔آپ کا جو بھی رول ماڈل ہے اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں۔آپ کے اندر کسی بھی انسان کی محبت اور عقیدت ہوتی ہے تووہ آپ کو نکھارتی ہے ۔اس لیے اس بات کا بھی پور ا خیال رکھیں کہ آپ جس انسان کو رول ماڈل بنارہے ہیں کیا وہ واقعی معاشر ے میں ایک مثالی شخصیت ہیں؟ اگر آپ کا دِل مطمئن ہے تو پھر اس کو ضرور فالو کریں اور اس نے جن اصولوں کو اپناکر کامیابی حاصل کی ہے ، آپ بھی انہیں اپنی زندگی میں لائیں ۔
👍1
وفائیں درحقیقت میں بڑی انمول ہوتی ہیں
کبھی اپنی وفاؤں کا صلہ مانگا نہیں کرتے
کبھی اپنی وفاؤں کا صلہ مانگا نہیں کرتے
*ان کی چاہت میں دل مجبور ہو گیا*
*جواب نہ دینا ان کا دستور ہو گیا*
*قصور ان کا نہیں قصور ہمارا ہے*
*ہم نے چاہا ہی اتنا وہ مغرور ہو گیا*
*جواب نہ دینا ان کا دستور ہو گیا*
*قصور ان کا نہیں قصور ہمارا ہے*
*ہم نے چاہا ہی اتنا وہ مغرور ہو گیا*
❤1👍1
ساری بات محبت کی ہوتی ہے
ورنہ مرد خود انا کا دوسرا نام ہے
ورنہ مرد خود انا کا دوسرا نام ہے
👍10
Forwarded from FyLook (Jeeshan Ansari)
میں تَصّور سے مُطمئِن ھُوں مگر !!
آرزُو ھے_____تُو رُو برُو آۓ !!
آرزُو ھے_____تُو رُو برُو آۓ !!
👍10👏5❤1
دشمنان اسلام کا خفیہ پلان
مسلم مردوں کو قتل کرو
مسلم عورتوں کو بندو بناؤ
تب انڈیا ہندو راشٹر بنے گا
مسلم مردوں کو قتل کرو
مسلم عورتوں کو بندو بناؤ
تب انڈیا ہندو راشٹر بنے گا
❤5👍4🍌2
