⚖All India Muslim Personal Law Board⚖
✔
26.2K subscribers
4.23K photos
223 videos
591 files
3.3K links
Leading NGO of Indian Muslims for their Legal & Constitutional rights.

AIMPLB Teligram Group @AIMPLBgroup1


https://twitter.com/AIMPLB_Official

https://www.youtube.com/AIMPLB_Official

http://fb.me/AIMPLB.Official

Wtsp:8788657771
Download Telegram
khitab e juma 19 Sept 2025 Final.pdf
4.4 MB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 292 ▪️

🗓 برائے تاریخ: 19 ستمبر 2025 مطابق 26 ربیع الاول 1447

🎯 اوقاف کی حفاظت ہر قیمت پر ضروری

📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9603
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464

🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤12👍2
*🔰 تحفظ اوقاف مہم 🔰*
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

*▪️دوسرا مرحلہ*
یکم ستمبر تا 30 نومبر 2025

*📌 Road Map روڈ میپ*

#waqfbachaodastoorbachao
#waqfbachaocampaign
#SaveWaqfSaveConstitution #WithdrawWaqfAmendments #AllIndiaMuslimPersonalLawBoard

👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://www.facebook.com/share/p/17MXfZr1Le/
*🔰 SAVE WAQF CAMPAIGN 🔰*
All India Muslim Personal Law Board

*▪️Phase Two*
1st September to 30 November, 2025

*📌 ROAD MAP*

#waqfbachaodastoorbachao
#waqfbachaocampaign
#SaveWaqfSaveConstitution #WithdrawWaqfAmendments #AllIndiaMuslimPersonalLawBoard

👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://www.facebook.com/share/p/1ZWrMeG6wP/
❤3😢1
*آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کا ہنگامی اجلاس*

سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر قرارداد منظور

https://www.facebook.com/share/p/1JBuntxoBf/
---------------------------------------------
نئی دہلی، 19 ستمبر 2025
آج آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کا ایک ہنگامی آن لائن اجلاس صدر بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں وقف ترمیمی قانون 2025 پر سپریم کورٹ کے عبوری فیصلہ کا تفصیل سے جائزہ لے کر درج ذیل قرارداد منظور کی گئی۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ اللہ رب العزت کا بے پایاں شکر ادا کرتی ہے کہ اس کے فضل وکرم سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، مسلم تنظیمیں اور امت مسلمہ ہندیہ کو متنازعہ، امتیازی، دستور ہند کی بنیادی دفعات سے متصادم اور وقف املاک کو ہڑپنے کے ارادے سے لائے گئے وقف قانون کے خلاف عوامی دباؤ بنانے میں کامیابی حاصل ہوئی، جس کے اثرات عدالت عظمیٰ کے عبوری فیصلے پر بھی نظر آئے۔ اسی کے ساتھ مجلس عاملہ اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ اور حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کا پارلیمنٹ اور جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی میں ان کی غیر معمولی تائید وحمایت کے لئے تہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہے۔ بورڈ کی مجلس عاملہ کا احساس ہے کہ انصاف پسند غیر مسلم برادران وطن، حقوق انسانی کی تنظیمیں، سول سوسائٹی جہد کار اور ملک کے اقلیتی رہنما بھی قدم قدم پر ہمارے ساتھ رہے، ان کے بھی ہم مشکور وممنون ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ آئندہ بھی ان کا تعاون اور حمایت حاصل ہو تی رہے گی۔
مجلس عاملہ کا احساس ہے کہ عدالت عظمیٰ نے اپنے عبوری فیصلہ میں کلکٹر اور حکومت کی طرف سے نامزد افسر کے غیر معمولی اختیارات پر قدغن لگاکر ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ جہاں تک وقف بالاستعمال(Waqf by User) کا تعلق ہے تو سپریم کورٹ نے اپنے عبوری حکم میں سابقہ ’’وقف با لاستعمال‘‘ کو تحفظ عطا کیا ہے، جو یقیناََ ایک بڑی کامیابی ہے۔ البتہ مستقبل میں’’وقف بالاستعمال‘‘ اب کوئی دستیاب یاممکنہ راستہ باقی نہیں رہا اور اس پر کوئی حکم امتناعی جاری نہیں ہوا۔ بورڈ کا یہ بھی احساس ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے عبوری فیصلے میں وقف ترمیمی قانون کی کئی متنازعہ دفعات کو یا تو جواز فراہم کیا ہے یا ان پر خاموشی اختیار کی ہے۔ آثار قدیمہ کے تحت وقف املاک کی وقف حیثیت کے خاتمے، وقف رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے، قبضہ مخالفانہ (Law of Limitation ) سے استثنیٰ کے خاتمے اور سینٹرل وقف کونسل و ریاستی وقف بورڈوں میں غیر مسلموں کی شمولیت کو عدالت عظمیٰ کا جواز فراہم کرنا ناقابل فہم اور مایوس کن ہے۔ مزید برآں واقف کے لئے 5 سال تک اسلام پر عامل ہونے کی شرط کو صرف ریاستوں کے ذریعہ اصول مرتب کرنے تک معطل رکھنا اور قبائلی علاقوں کے مسلمانوں پر اپنی زمین وقف کرنے پر عائد پابندی کو برقرار رکھنا بھی افسوسناک ہے۔ مجلس عاملہ عبوری فیصلے کے درج بالا شقوں پر اپنی تشویش اور دکھ کا اظہار کرتی ہے۔ عزت مآب جج صاحبان نے اپنے فیصلے کی بنیاد ہی اس غلط مفروضے پر قائم کرلی تھی کہ وقف املاک کے متولیان اور وقف بورڈز من مانے طریقے پر کام کرتے ہیں اور اکثر اپنے حدود سے تجاوز کرجاتے ہیں۔
مجلس عاملہ کا احساس ہے کہ جن دیگر مسائل پر عدالت نے حکم امتناعی نہیں دیا، وہ محض ایک عارضی کیفیت ہے۔ ان نکات پر ہم آئندہ بھی قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اصلاََ ہماری لڑائی حکومت کی قانون سازی کی پالیسی سے ہے، جو وقف قوانین کے حوالے سے اختیار کی گئی ہے۔ عدالت کا مرحلہ اس کا دوسرا درجہ ہے۔ہمیں توقع ہے کہ ان شاءاللہ حتمی فیصلہ مزید بہتر آئے گا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عدالت کے رویے اور نقطہ نظر میں وقتاََ قوقتاََ تبدیلی آتی رہتی ہے۔ اس کی مثال ہمیں سبریمالہ جیسے کئی دیگر معاملات میں بھی نظر آتی ہے۔
ہمارا موقف یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے لایا گیا یہ ترمیمی قانون بنیادی طور پر غلط ہے اور ایک مخصوص طبقہ کی جائیدادوں کو نشانہ بنانے کے مقصد سے مرتب کیا گیا ہے۔ لہذا ہماری یہ جدوجہد عدالت کے عبوری فیصلے پر ختم نہیں ہوتی۔ ہم اور ملت اسلامیہ ہندیہ اس بات کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے کہ حکومت اور اس کے ادارے ہندوستانی مسلمانوں کی اوقافی جائیدادوں میں کم از کم یا بالکل بھی مداخلت نہ کر سکیں۔
مجلس عاملہ اس بات کا بھی اعادہ کرتی ہے کہ وہ تحفظ اوقاف کی اپنی تحریک کو پورے عزم اور حوصلے کے ساتھ جاری رکھے گی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں، اقلیتی طبقات اور سول سوسائٹی کےجہد کاروں کے تعاون اور شرکت کے ساتھ اس تحریک کو اس وقت تک جاری رکھے گا، جب تک کہ حکومت ان متنازعہ ترمیمات کو واپس لے کر سابقہ وقف قانون کو بحال نہ کردے۔
❤1👍1
مجلس عاملہ کے اجلاس کی صدارت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے فرمائی اور جنرل سکریٹری بورڈ مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے کاروائی چلائی۔ اجلاس میں درج ذیل ارکان عاملہ نے شرکت فرمائی۔ جناب سید سعادت اللہ حسینی، نائب صدر بورڈ، مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی و مولانا یاسین علی عثمانی، سکریٹریز، ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، ترجمان، مفتی ابوالقاسم نعمانی، مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، مولانا رحمت اللہ میر قاسمی، ڈاکٹر متین الدین قادری، مولانا عبدالشکور قاسمی، مولانا ملک محمد ابراہیم قاسمی، مولانا مفتی احمد دیولوی، جسٹس سید شاہ محمد قادری، مولانا محمود دریابادی، مولانا ابوطالب رحمانی، ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد، ایڈوکیٹ فضیل احمد ایوبی، ایڈوکیٹ طاہر حکیم، ایڈوکیٹ جلیسہ سلطانہ، پروفیسر مونسہ بشریٰ عابدی، پروفیسر حسینہ حاشیہ، محترمہ نگہت پروین خان، جناب محمد ادیب( سابق ایم پی)، سرینگراور ایڈوکیٹ طلحہ عبدالرحمٰن۔

✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر وقار الدین لطیفی*
آفس سکریٹری
👍2❤1
*All India Muslim Personal Law Board Working Committee Emergency Meeting*

Resolution on Supreme Court’s Interim Verdict on Waqf (Amendment) Act 2025

https://www.facebook.com/share/p/17P69Pn5bF/
---------------------------------------------
New Delhi | 19 September 2025
The Working Committee of the All India Muslim Personal Law Board held an emergency online meeting under the chairmanship of Maulana Khalid Saifullah Rahmani to review the Supreme Court’s interim order on the Waqf (Amendment) Act 2025. After deliberation, the following resolution was adopted:
The Board thanked Allah Almighty, the opposition parties, MPs, civil society groups, human rights organizations, minority leaders, and justice-loving citizens for their support in resisting the controversial Waqf law, aimed at undermining constitutional rights of Muslims and Waqf properties.
The Committee welcomed the Court’s decision to curb excessive powers of Collectors and to protect previously existing “Waqf by User,” terming it a major relief. However, it expressed concern over the Court’s silence or validation of other contentious provisions, including:
• Ending Waqf status of properties under Archaeological Survey of India,
• Mandatory registration of waqf properties,
• Abolishing exemption from the Law of Limitation,
• Inclusion of non-Muslims in Waqf bodies,
• Restriction on tribals dedicating land for waqf.
These, the Board said, are disappointing and based on the false presumption that waqf Mutawallies act arbitrarily.
The Board affirmed that its struggle is not limited to this interim verdict but is essentially against the government’s policy of targeting Muslim endowments. It expressed hope that the final judgment will be more just and reiterated its resolve to continue the movement for the protection of waqf properties until the government withdraws the controversial amendments and restores the earlier Waqf Act.
The meeting was presided over by Maulana Khalid Saifullah Rahmani, and the proceedings were conducted by Board General Secretary Maulana Mohammad Fazlur Rahim Mujaddidi. The following members of the Working Committee participated:
Mr. Syed Sadatullah Husaini (Vice President of the Board), Maulana Mohd. Umrain Mahfooz Rahmani and Maulana Yaseen Ali Usmani (Secretaries), Dr. S. Q. R. Ilyas (Spokesperson), Mufti Abul Qasim Nomani, Maulana Khalilur Rahman Sajad Nomani, Maulana Khalid Rasheed Farangi Mahli, Maulana Md. Rahmatullah Meer Qasami (Srinagar), Dr. Md. Mateenuddin Quadari, Maulana Abdul Shakoor Qasmi, Maulana Malack Mohd. Ibrahim Qasmi, Maulana Mufti Ahmad Devlavi, Justice Syed Shah Mohd. Quadri, Maulana Mahmood Dariyabadi, Maulana Abu Talib Rahmani, Advocate M.R. Shamshad, Advocate Fuzail Ahmad Ayyubi, Advocate Tahir Hakim, Advocate Jaleesa Sultana, Prof. Munisa Bushra Abidi, Prof. Haseena Hashia, Mrs. Nighat Praveen Khan, Mr. Mohammad Adeeb (former MP) and Advocate Talha Abdur Rahman.

✍️ Issued by
*Dr. Vaquar Uddin Latifi*
Office Secretary
❤5
*آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ”وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک“ کا دوسرا مرحلہ ”یومِ دعا“ سے آغاز*
*کرناٹک سمیت پورے ملک میں لاکھوں مسلمانوں کی اجتماعی دعائیں*
*اوقاف کی حفاظت اور سیاہ قوانین کی واپسی کے لیے ملت اسلامیہ کی فریاد*


بنگلور، 19؍ ستمبر (پریس ریلیز) : وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے جاری ”وقف بچاؤ، دستور بچاؤ تحریک“ ملک گیر سطح پر بھرپور انداز میں جاری ہے، جس کے تحت احتجاج، دھرنے، عظیم الشان کانفرنسیں منعقد کی جارہی ہیں اور ریلیاں و مارچ بھی نکالے جارہے ہیں۔ اس دوران سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے نے بھی ملتِ اسلامیہ کو سخت مایوسی سے دوچار کیا ہے۔ ان تمام حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بورڈ نے اس تحریک کے دوسرے مرحلے کا آغاز آج بروز جمعہ 19؍ ستمبر 2025 ”یومِ دعا“ کے ذریعہ کیا۔ اس موقع پر ریاستِ کرناٹک سمیت ملک بھر کی مساجد میں اوقاف کی اہمیت اور حالیہ منظور شدہ متنازعہ وقف ترمیمی قانون کے مضر اثرات پر خطباتِ جمعہ دیے گئے اور اوقاف کی حفاظت اور سیاہ قوانین کی واپسی کے لیے اجتماعی دعاؤں کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ کرناٹک کے تقریباً تمام اضلاع میں اس موقع پر بڑے پیمانے پر اہتمام کیا گیا۔ یہ اس حقیقت کا عملی اظہار ہے کہ زمینی تحریک کے ساتھ ساتھ رجوع الی اللہ بھی سب سے بڑی ضرورت ہے، کیونکہ کارساز اور مددگار حقیقی ذات صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، اس کے حکم اور مشیت کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں۔ آج پورے ملک بالخصوص کرناٹک کے لاکھوں مسلمان نمازِ جمعہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوکر یہ دعا کررہے ہیں کہ وہ ملتِ اسلامیہ ہندیہ کی مدد و نصرت فرمائے، اس نازک موقع پر دین و ملت کی حفاظت کرے اور آنے والے دنوں میں اس غیر آئینی، غیر دستوری اور غیر قانونی متنازعہ وقف ترمیمی قانون کو واپس کرادے تاکہ اوقاف جو اللہ کی ملکیت ہیں ان کی حفاظت یقینی ہو۔ قابل ذکر ہے کہ اوقاف کی حفاظت کے لیے بورڈ کی ”وقف بچاؤ، دستور بچاؤ تحریک“ صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کے دستور اور انصاف کے تحفظ کی تحریک ہے، اس لیے ہر انصاف پسند اور باشعور شہری کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ملتِ اسلامیہ کا یہ ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور اپنی نصرت سے نوازے گا اور اوقاف کی حفاظت یقینی ہوگی۔

https://www.facebook.com/share/p/1ERFtjB5n3/

#SaveWaqfSaveConstitution | #WithdrawWaqfAmendments | #WaqfBachaoCampaign | #RejectWaqfAct | #WaqfAmendmentAct
❤3
*🎯 Waqf Act 2025 ke khilaf kya hai All India Muslim Personal Law Board ka agla qadam* | 🎙️ Dr. Qasim Rasool Ilyas Sahab _(National Convener Tahaffuz-e-Auqaf Muhim All India Muslim Personal Law Board)_

👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼
https://youtu.be/Q1UxCVNg_ms?si=25aHdlGmcmyrIDoS

🎯 *وقف ایکٹ 2025 کے خلاف کیا ہے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا اگلا قدم* | 🎙️ ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب _(نیشنل کنوینر تحفظ اوقاف مہم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)_
❤1