*📹 Muslim Personal Law Lecture Series: 02*
*🎯 مسلم پرسنل لا فطرت سے ہم آہنگ قانون*
🎙️ *حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب* _(جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)_
👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼
https://youtu.be/MqDpI5yRo8w?si=g8ao2IaRoEA-s0ar
*📣 MUSLIM PERSONAL LAW FITRAT SE HAM AHANG QANOON*
*🎙️ Hazrat Maulana Mohammad Fazlurraheem Mujaddidi Sahab* (General Secretary AIMPLB)
*🎯 مسلم پرسنل لا فطرت سے ہم آہنگ قانون*
🎙️ *حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب* _(جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)_
▪️مکمل خطاب ضرور 🎧سنیں اور اپنے دوستوں کو بھی بھیجیں۔👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼
https://youtu.be/MqDpI5yRo8w?si=g8ao2IaRoEA-s0ar
*📣 MUSLIM PERSONAL LAW FITRAT SE HAM AHANG QANOON*
*🎙️ Hazrat Maulana Mohammad Fazlurraheem Mujaddidi Sahab* (General Secretary AIMPLB)
▪️पूरा ख़िताब ज़रूर 🎧सुनें और अपने दोस्तों को भी भेजें।YouTube
MUSLIM PERSONAL LAW FITRAT SE HAM AHANG QANOON/ Muslim personal law Series 2/M Fazlurrahim Mujaddidi
📹 Muslim Personal Law Lecture Series: 02
🎯 مسلم پرسنل لا فطرت سے ہم آہنگ قانون
🎙️ حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب (جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
▪️مکمل خطاب ضرور 🎧سنیں اور اپنے دوستوں کو بھی بھیجیں۔
📣 MUSLIM PERSONAL LAW FITRAT…
🎯 مسلم پرسنل لا فطرت سے ہم آہنگ قانون
🎙️ حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب (جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)
▪️مکمل خطاب ضرور 🎧سنیں اور اپنے دوستوں کو بھی بھیجیں۔
📣 MUSLIM PERSONAL LAW FITRAT…
❤5
*🎯 वक़्फ़ कानून 2025 के ख़िलाफ़ कारोबार बंद का एलान* | *🎙️Maulana Mahmood Khan Daryabadi Sahab* | 🔰
👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼
https://youtu.be/mJLZEj4WkP4?si=PNOAYu-0KL0_Gsu7
Nationwide Shutdown Against Waqf Act 2025👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼
https://youtu.be/mJLZEj4WkP4?si=PNOAYu-0KL0_Gsu7
❤3
*آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ”وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک“ کے دوسرے مرحلہ کے نفاذ پر غور!*
*کرناٹک میں اہم مشاورتی اجلاس، سیاہ وقف ترمیمی قانون کی واپسی تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان!*
https://www.facebook.com/share/p/1BFq1ByHxk/
بنگلور، 20؍ ستمبر (پریس ریلیز): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے وقف ترمیمی قانون 2025ء کے خلاف ملک گیر سطح پر جاری ”وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک“ کے سلسلے میں ریاست کرناٹک کی کور کمیٹی کا مشاورتی اجلاس آج دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں صدارت امیر شریعت کرناٹک حضرت مولانا صغیر احمد خان رشادی (کنوینر وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک کرناٹک و رکن تاسیسی بورڈ) کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحریک کے پہلے مرحلے کے پروگراموں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے مختلف کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، ساتھ ہی بورڈ کی جانب سے جاری کردہ دوسرے مرحلے کے روڈ میپ پر بھی غور و خوض کیا گیا اور اہم فیصلے لئے گئے۔
یہ امر باعثِ مسرت ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی رہنمائی میں ریاست کرناٹک میں وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک کے پہلے مرحلے کے دوران مختلف النوع اور منظم پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کئے گئے، جن میں ریاست گیر پیمانے پر کالی پٹی باندھ کر احتجاج، بتی گل تحریک، ہیومن چین، ضلعی کلکٹروں کے توسط سے صدر جمہوریہ ہند کو میمورنڈم پیش کرنا، وزیر اعلیٰ سے ملاقات اور میمورنڈم دینا، ضلعی سطح پر عظیم الشان کانفرنسیں اور احتجاجی دھرنے، ریلیاں، علمائے کرام و عمائدین اور ذمہ داران کی خصوصی نشستیں، مسلم سیاسی قائدین کا اجلاس، غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ راؤنڈ ٹیبل میٹنگ، خواتین کے اجلاس اور سوشل میڈیا کیمپین جیسے اہم اور منفرد اقدامات شامل ہیں۔ ان تمام پروگراموں کو ریاستی سطح پر بھرپور عوامی تعاون کے ساتھ کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا گیا،جس سے یہ ثابت ہوا کہ مسلمانانِ کرناٹک اپنے دینی و ملی وقار اور اوقاف کے تحفظ کے لئے پوری بیداری کے ساتھ میدانِ عمل میں ہیں۔
اجلاس میں سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے پر بھی گفتگو ہوئی جس میں کچھ پہلو اگرچہ وقتی راحت کے حامل ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ فیصلہ تشویشناک اور مایوس کن قرار دیا گیا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ اگر یہ فیصلہ اسی رخ پر آگے بڑھتا ہے تو حکومت کی جانب سے وقف املاک کو ہڑپنے کی سازش کامیاب ہوسکتی ہے، لہٰذا اس صورتِ حال میں مسلسل اور منظم جدوجہد ہی واحد راستہ ہے، جس کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سرگرم عمل ہے۔
ریاستی کور کمیٹی نے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ طے کیا کہ بورڈ کی ہدایات کے مطابق دوسرے مرحلے میں ریاست بھر میں تحریک کو اور زیادہ منظم اور مربوط انداز میں چلایا جائے گا۔ بورڈ کی جانب سے اس مرحلے کے لئے جو پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں ان میں ریاستی قائدین کا احتجاجی دھرنا اور گرفتاری دینا، 03؍ اکتوبر کو بند کا انعقاد، پریس کانفرنسیں، راؤنڈ ٹیبل اور انٹرفیتھ میٹنگ کا اہتمام، اخبارات و رسائل میں مضامین کی اشاعت، سوشل میڈیا کیمپین کو تیز تر کرنا، وزیر اعلیٰ کو میمورنڈم پیش کرنا اور وقف املاک کے دستاویزات کی درستگی و تحریر کا جامع نظام قائم کرنا شامل ہیں۔ ان پروگراموں کو کامیاب بنانے کے لئے مختلف ذمہ داریاں تقسیم کر دی گئیں تاکہ کوئی پہلو تشنہ نہ رہ جائے۔
کور کمیٹی نے واضح کیا کہ بورڈ کی رہنمائی میں یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یہ سیاہ قانون واپس نہیں لیا جاتا اور وقف املاک کو بچانے کی اس جدوجہد میں کسی بھی طرح کی کوتاہی یا سستی نہیں کی جائے گی۔ اجلاس کے آخر میں ریاست کے عامۃ المسلمین اور انصاف پسند شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ بڑھ چڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیں تاکہ حکومت کو اس غیر آئینی اور غیر منصفانہ قانون کو واپس لینے پر مجبور کیا جاسکے۔
اس مشاورتی اجلاس میں حضرت امیر شریعت کرناٹک کے علاوہ تحریک کے ریاستی کور کمیٹی کے اراکین اور ممتاز دینی و ملی قائدین شریک رہے، جن میں مفتی افتخار احمد قاسمی (رکن بورڈ و صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی (امام و خطیب جامع مسجد سٹی بنگلور)، مولانا محمد زین العابدین رشادی و مظاہری (مہتمم دارالعلوم شاہ ولی اللہ بنگلور)، ڈاکٹر محمد سعد بلگامی (امیر جماعت اسلامی کرناٹک)، مولانا عبد الرحیم رشیدی (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، جناب سلیمان خان (معاون جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل)، جناب محب اللہ خان امین (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء کرناٹک)، مولانا نوشاد عالم قاسمی (صدر ملی کونسل کرناٹک)، جناب محمد یوسف کنی (سکریٹری جماعت اسلامی کرناٹک)، جناب تفہیم اللہ معروف، جناب فیاض شریف، مولانا وحید الدین خان عمری (صدر مجلس العلماء کرناٹک) اور جناب محمد فرقان (ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند) شامل ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی وضاحت کی گئی کہ اگرچہ بعض اہم ذمہ داران اپنی مشغولیات کی بنا پر اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے لیکن انہوں نے اپنی
*کرناٹک میں اہم مشاورتی اجلاس، سیاہ وقف ترمیمی قانون کی واپسی تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان!*
https://www.facebook.com/share/p/1BFq1ByHxk/
بنگلور، 20؍ ستمبر (پریس ریلیز): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے وقف ترمیمی قانون 2025ء کے خلاف ملک گیر سطح پر جاری ”وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک“ کے سلسلے میں ریاست کرناٹک کی کور کمیٹی کا مشاورتی اجلاس آج دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں صدارت امیر شریعت کرناٹک حضرت مولانا صغیر احمد خان رشادی (کنوینر وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک کرناٹک و رکن تاسیسی بورڈ) کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تحریک کے پہلے مرحلے کے پروگراموں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے مختلف کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، ساتھ ہی بورڈ کی جانب سے جاری کردہ دوسرے مرحلے کے روڈ میپ پر بھی غور و خوض کیا گیا اور اہم فیصلے لئے گئے۔
یہ امر باعثِ مسرت ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی رہنمائی میں ریاست کرناٹک میں وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک کے پہلے مرحلے کے دوران مختلف النوع اور منظم پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کئے گئے، جن میں ریاست گیر پیمانے پر کالی پٹی باندھ کر احتجاج، بتی گل تحریک، ہیومن چین، ضلعی کلکٹروں کے توسط سے صدر جمہوریہ ہند کو میمورنڈم پیش کرنا، وزیر اعلیٰ سے ملاقات اور میمورنڈم دینا، ضلعی سطح پر عظیم الشان کانفرنسیں اور احتجاجی دھرنے، ریلیاں، علمائے کرام و عمائدین اور ذمہ داران کی خصوصی نشستیں، مسلم سیاسی قائدین کا اجلاس، غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ راؤنڈ ٹیبل میٹنگ، خواتین کے اجلاس اور سوشل میڈیا کیمپین جیسے اہم اور منفرد اقدامات شامل ہیں۔ ان تمام پروگراموں کو ریاستی سطح پر بھرپور عوامی تعاون کے ساتھ کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچایا گیا،جس سے یہ ثابت ہوا کہ مسلمانانِ کرناٹک اپنے دینی و ملی وقار اور اوقاف کے تحفظ کے لئے پوری بیداری کے ساتھ میدانِ عمل میں ہیں۔
اجلاس میں سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے پر بھی گفتگو ہوئی جس میں کچھ پہلو اگرچہ وقتی راحت کے حامل ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ فیصلہ تشویشناک اور مایوس کن قرار دیا گیا۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ اگر یہ فیصلہ اسی رخ پر آگے بڑھتا ہے تو حکومت کی جانب سے وقف املاک کو ہڑپنے کی سازش کامیاب ہوسکتی ہے، لہٰذا اس صورتِ حال میں مسلسل اور منظم جدوجہد ہی واحد راستہ ہے، جس کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سرگرم عمل ہے۔
ریاستی کور کمیٹی نے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ طے کیا کہ بورڈ کی ہدایات کے مطابق دوسرے مرحلے میں ریاست بھر میں تحریک کو اور زیادہ منظم اور مربوط انداز میں چلایا جائے گا۔ بورڈ کی جانب سے اس مرحلے کے لئے جو پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں ان میں ریاستی قائدین کا احتجاجی دھرنا اور گرفتاری دینا، 03؍ اکتوبر کو بند کا انعقاد، پریس کانفرنسیں، راؤنڈ ٹیبل اور انٹرفیتھ میٹنگ کا اہتمام، اخبارات و رسائل میں مضامین کی اشاعت، سوشل میڈیا کیمپین کو تیز تر کرنا، وزیر اعلیٰ کو میمورنڈم پیش کرنا اور وقف املاک کے دستاویزات کی درستگی و تحریر کا جامع نظام قائم کرنا شامل ہیں۔ ان پروگراموں کو کامیاب بنانے کے لئے مختلف ذمہ داریاں تقسیم کر دی گئیں تاکہ کوئی پہلو تشنہ نہ رہ جائے۔
کور کمیٹی نے واضح کیا کہ بورڈ کی رہنمائی میں یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یہ سیاہ قانون واپس نہیں لیا جاتا اور وقف املاک کو بچانے کی اس جدوجہد میں کسی بھی طرح کی کوتاہی یا سستی نہیں کی جائے گی۔ اجلاس کے آخر میں ریاست کے عامۃ المسلمین اور انصاف پسند شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ بڑھ چڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیں تاکہ حکومت کو اس غیر آئینی اور غیر منصفانہ قانون کو واپس لینے پر مجبور کیا جاسکے۔
اس مشاورتی اجلاس میں حضرت امیر شریعت کرناٹک کے علاوہ تحریک کے ریاستی کور کمیٹی کے اراکین اور ممتاز دینی و ملی قائدین شریک رہے، جن میں مفتی افتخار احمد قاسمی (رکن بورڈ و صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی (امام و خطیب جامع مسجد سٹی بنگلور)، مولانا محمد زین العابدین رشادی و مظاہری (مہتمم دارالعلوم شاہ ولی اللہ بنگلور)، ڈاکٹر محمد سعد بلگامی (امیر جماعت اسلامی کرناٹک)، مولانا عبد الرحیم رشیدی (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، جناب سلیمان خان (معاون جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل)، جناب محب اللہ خان امین (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء کرناٹک)، مولانا نوشاد عالم قاسمی (صدر ملی کونسل کرناٹک)، جناب محمد یوسف کنی (سکریٹری جماعت اسلامی کرناٹک)، جناب تفہیم اللہ معروف، جناب فیاض شریف، مولانا وحید الدین خان عمری (صدر مجلس العلماء کرناٹک) اور جناب محمد فرقان (ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند) شامل ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی وضاحت کی گئی کہ اگرچہ بعض اہم ذمہ داران اپنی مشغولیات کی بنا پر اجلاس میں شریک نہیں ہوسکے لیکن انہوں نے اپنی
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
❤3
مکمل تائید اور عزم کا اظہار کیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ہر سطح پر تعاون کریں۔ اجلاس کا اختتام دعا پر ہوا اور یہ عزم کیا گیا کہ وقف املاک اور دستورِ ہند کے تحفظ کے لئے یہ تحریک ہر قیمت پر جاری رہے گی۔
#SaveWaqfSaveConstitution | #WithdrawWaqfAmendments | #WaqfBachaoCampaign | #WaqfAmendmentAct | #AIMPLB
#SaveWaqfSaveConstitution | #WithdrawWaqfAmendments | #WaqfBachaoCampaign | #WaqfAmendmentAct | #AIMPLB
📍مہاراشٹر
*آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اہم پیغام*
ــــــــــــ
پیر کی شام کو مہاراشٹرا کے علاقائی کنوینرز کی میٹنگ میں کئی فیصلے لئے گئے، تفصیل جلد آپ کے سامنے آئے گی ـ ایک انتہائی اہم اضافے پر آپ سب کی فوری توجہ درکار ہے ـ
3 اکتوبر کو بورڈ کی جانب سے صبح 8 بجے تا 2 بجے ملک گیر بند کا اعلان ہے ـ اب اس بند کے موضوع میں وقف کے سیاہ قانون کی مخالفت کے ساتھ ملک میں بار بار توہین رسالت کا سلسلہ اور کانپور ودیگر مقامات پر I love muhammad کا بینر لگانے والوں کے خلاف غیر آئینی کارروائی کے خلاف احتجاج کو بھی شامل کیا گیا ہے ـ
تمام ائمہ مساجد و علماء کرام سے التماس ہے کہ اپنے خطبات وبیانات میں دونوں موضوعات پر بند کے تعلق سے عوام الناس کو آگاہ فرمائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس جزوی بند میں شامل ہوکر آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت وعقیدت کا ثبوت دینے کی ترغیب دیں،........... نیز وقف کے کالے قانون کے خلاف اپنا احتجاج بھی درج کرائیں ـ
دیگر خواص و ملی وسماجی افراد سے بھی درخواست ہے کہ 3 اکتوبر کے بند کے لئے سرگرم تعاون فرمائیں ـ جو احباب اس سے پہلے ویڈیو جاری کرچکے ہیں وہ ایک بار پھر زحمت کریں اور دونوں معاملات پر ویڈیو جاری کریں ـ دیگر حضرات بھی جو یوٹیوب پر سرگرم رہتے ہیں وہ بھی توجہ فرمائیں ـ ........... وہاٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے احباب سے بھی یہی درخواست ہے ـ
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا وقف کے سلسلے میں دوسرا روڈ میپ جاری ہوا ہے اس کی مزید ہدایات سے آئندہ آگاہ کیا جاتا رہے گا ـ
والسلام
*محمود احمد خاں دریابادی*
https://www.facebook.com/share/p/1Lr7qfBQvf/
*آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اہم پیغام*
ائمہ مساجد، علماء کرام اور دیگر خواص کے نامــــــــــــ
پیر کی شام کو مہاراشٹرا کے علاقائی کنوینرز کی میٹنگ میں کئی فیصلے لئے گئے، تفصیل جلد آپ کے سامنے آئے گی ـ ایک انتہائی اہم اضافے پر آپ سب کی فوری توجہ درکار ہے ـ
3 اکتوبر کو بورڈ کی جانب سے صبح 8 بجے تا 2 بجے ملک گیر بند کا اعلان ہے ـ اب اس بند کے موضوع میں وقف کے سیاہ قانون کی مخالفت کے ساتھ ملک میں بار بار توہین رسالت کا سلسلہ اور کانپور ودیگر مقامات پر I love muhammad کا بینر لگانے والوں کے خلاف غیر آئینی کارروائی کے خلاف احتجاج کو بھی شامل کیا گیا ہے ـ
تمام ائمہ مساجد و علماء کرام سے التماس ہے کہ اپنے خطبات وبیانات میں دونوں موضوعات پر بند کے تعلق سے عوام الناس کو آگاہ فرمائیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس جزوی بند میں شامل ہوکر آقا صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی محبت وعقیدت کا ثبوت دینے کی ترغیب دیں،........... نیز وقف کے کالے قانون کے خلاف اپنا احتجاج بھی درج کرائیں ـ
دیگر خواص و ملی وسماجی افراد سے بھی درخواست ہے کہ 3 اکتوبر کے بند کے لئے سرگرم تعاون فرمائیں ـ جو احباب اس سے پہلے ویڈیو جاری کرچکے ہیں وہ ایک بار پھر زحمت کریں اور دونوں معاملات پر ویڈیو جاری کریں ـ دیگر حضرات بھی جو یوٹیوب پر سرگرم رہتے ہیں وہ بھی توجہ فرمائیں ـ ........... وہاٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کام کرنے والے احباب سے بھی یہی درخواست ہے ـ
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا وقف کے سلسلے میں دوسرا روڈ میپ جاری ہوا ہے اس کی مزید ہدایات سے آئندہ آگاہ کیا جاتا رہے گا ـ
والسلام
*محمود احمد خاں دریابادی*
کنوینر مہاراشٹراhttps://www.facebook.com/share/p/1Lr7qfBQvf/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
❤13
Khitab E Juma 26 September 2025.pdf
935.5 KB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 293 ▪️
🗓 برائے تاریخ: 26 ستمبر 2025 مطابق 03 ربیع الثانی 1447
🎯 محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان اور اپنی اولاد سے بڑھ کر!
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9636
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
🗓 برائے تاریخ: 26 ستمبر 2025 مطابق 03 ربیع الثانی 1447
🎯 محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان اور اپنی اولاد سے بڑھ کر!
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9636
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤16👍2
*آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا وقف ترمیمی قانون کے خلاف منظم روڈ میپ*
*”وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک“ کے تحت کرناٹک میں مختلف پروگراموں کا اعلان!*
https://www.facebook.com/share/p/1CD1diWxHt/
بنگلور، 25؍ ستمبر (پریس ریلیز): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف جاری ”وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک“ کے دوسرے مرحلہ کا آغاز منظم اور مرتب انداز میں ہوچکا ہے۔ اس سلسلے میں چند روز قبل ریاست کرناٹک کی کور کمیٹی کا ایک اہم اجلاس امیر شریعت کرناٹک حضرت مولانا صغیر احمد خان رشادی صاحب (کنوینر وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک کرناٹک و رکن تاسیسی بورڈ) کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا، جس میں ریاست بھر میں اس مرحلے کو نافذ کرنے کے سلسلے میں غور و خوض اور لائحہ عمل مرتب کیا گیا۔
اس کے بعد آج دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں تحریک کے ذمہ داران نے ریاست بھر اور ملک گیر سطح پر طے کئے گئے پروگراموں اور سرگرمیوں کی تفصیلات پیش کیں۔ ذمہ داران نے بتایا کہ تحریک کے دوسرے مرحلے کے تحت ایک جامع روڈ میپ تیار کیا گیا ہے، جس کے مطابق وقف ترمیمی قانون کے خلاف مختلف النوع پروگرام منظم کئے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ 03؍ اکتوبر کو صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک بند کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں اپنے کاروبار اور آفس وغیرہ بطور احتجاج بند رکھا جائے گا، برادرانِ اسلام کے ساتھ ساتھ انصاف پسند شہریوں اور سول سوسائٹی سے وابستہ طبقات کی سے بھرپور شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔ اسی طرح 11؍ اکتوبر کو مرکزی قائدین دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی دھرنا دیں گے اور گرفتاریاں پیش کریں گے، جس کے بعد ریاستی سطح پر بھی دھرنے اور گرفتاریاں دی جائیں گی۔ تحریک کے ذمہ داران نے مزید کہا کہ اس دوران آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داران کی انفرادی پریس کانفرنسیں اور مختلف اقلیتوں و سول سوسائٹی کی مشترکہ پریس کانفرنسیں بھی منعقد ہوں گی، راؤنڈ ٹیبل اور انٹرفیتھ میٹنگز کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ ملک کے عوام تک اس مسئلہ کی سنگینی کو واضح طور پر پہنچایا جاسکے۔ پریس کانفرنس میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ ”وقف ترمیمی قانون ہمیں منظور نہیں“ کے عنوان سے ایک کتابچہ بورڈ کی جانب سے تیار کیا جارہا ہے جسے مختلف زبانوں میں ترجمہ کروا کر عام کیا جائے گا تاکہ عوامی شعور بیدار ہو، غلط فہمیوں کا ازالہ ہو اور پروپیگنڈے کا پردہ فاش کیا جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو، انگریزی، ہندی اور کنڑا اخبارات و رسائل میں وقف ترمیمی قانون کے نقصانات اور مضر اثرات پر مضامین شائع کئے جائیں گے، سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چلائی جائے گی، پروگراموں کو لائیو نشر کیا جائے گا اور ایکس (ٹویٹر) سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر بھی بھرپور ہیش ٹیگ مہم چلائی جائے گی۔ اس کے علاوہ ریاستی نمائندہ وفد وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرکے میمورنڈم پیش کرے گا اور وقف املاک کے دستاویزات کی درستگی اور تحریر کا جامع نظام قائم کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔
ذمہ داران نے بتایا کہ اس تحریک کے دوسرے مرحلہ کا باضابطہ آغاز 19؍ ستمبر بروز جمعہ کو یوم دعا کے ذریعہ ہوچکا ہے اور یہ مرحلہ نومبر کے اختتام تک جاری رہے گا۔ اس دوران سب سے بڑا اور تاریخی پروگرام 16؍ نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ملکی سطح پر عظیم الشان احتجاجی کانفرنس ہوگی۔ ان تمام پروگراموں کو کامیاب بنانے کے لئے مختلف ذمہ داریاں تقسیم کردی گئی ہیں تاکہ تحریک کا کوئی پہلو تشنہ نہ رہ جائے۔ کرناٹک میں اس تحریک کے پہلے مرحلے کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی تھی اور امید ظاہر کی گئی کہ یہ دوسرا مرحلہ بھی کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔
پریس کانفرنس کے دوران تحریک کے ذمہ داران نے برادرانِ اسلام اور انصاف پسند شہریوں بالخصوص سول سوسائٹی اور اقلیتی برادریوں سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اسے کامیاب بنائیں، کیونکہ یہ صرف وقف کی حفاظت کی لڑائی نہیں ہے بلکہ دستور ہند کے تحفظ کی لڑائی ہے، جس میں ہر شہری کی شمولیت بنیادی ذمہ داری ہے۔ ریاستی سطح کے ذمہ داران نے واضح پیغام دیا کہ جب تک یہ سیاہ وقف ترمیمی قانون واپس نہیں لیا جاتا تب تک یہ تحریک کسی قیمت پر نہیں رکے گی۔
پریس کانفرنس سے وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک کرناٹک کے معاون کنوینرز مفتی افتخار احمد قاسمی (رکن بورڈ و صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)اور جناب سلیمان خان (معاون جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل) نے خطاب کیا۔ اس موقع پر مولانا محمد زین العابدین رشادی و مظاہری (مہتمم دارالعلوم شاہ ولی اللہ بنگلور)، ڈاکٹرمحمد سعد بلگامی (امیر جماعت اسلامی کرناٹک)، مولانا اعجاز احمد ندوی (امام و خطیب جامع مسجد اہلحدیث بنگلور)، مولانا عبد الرحیم رشیدی (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، مولانا شبیر احمد ندوی (مہتمم اصلاح البنات بنگلور)،جناب محمد یوسف کنی (سکریٹری جماعت اسلامی کرناٹک)، جناب محب اللہ خان امین (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء
*”وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک“ کے تحت کرناٹک میں مختلف پروگراموں کا اعلان!*
https://www.facebook.com/share/p/1CD1diWxHt/
بنگلور، 25؍ ستمبر (پریس ریلیز): آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر اہتمام وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف جاری ”وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک“ کے دوسرے مرحلہ کا آغاز منظم اور مرتب انداز میں ہوچکا ہے۔ اس سلسلے میں چند روز قبل ریاست کرناٹک کی کور کمیٹی کا ایک اہم اجلاس امیر شریعت کرناٹک حضرت مولانا صغیر احمد خان رشادی صاحب (کنوینر وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک کرناٹک و رکن تاسیسی بورڈ) کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا، جس میں ریاست بھر میں اس مرحلے کو نافذ کرنے کے سلسلے میں غور و خوض اور لائحہ عمل مرتب کیا گیا۔
اس کے بعد آج دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں تحریک کے ذمہ داران نے ریاست بھر اور ملک گیر سطح پر طے کئے گئے پروگراموں اور سرگرمیوں کی تفصیلات پیش کیں۔ ذمہ داران نے بتایا کہ تحریک کے دوسرے مرحلے کے تحت ایک جامع روڈ میپ تیار کیا گیا ہے، جس کے مطابق وقف ترمیمی قانون کے خلاف مختلف النوع پروگرام منظم کئے جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ 03؍ اکتوبر کو صبح 8 بجے سے دوپہر 2 بجے تک بند کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں اپنے کاروبار اور آفس وغیرہ بطور احتجاج بند رکھا جائے گا، برادرانِ اسلام کے ساتھ ساتھ انصاف پسند شہریوں اور سول سوسائٹی سے وابستہ طبقات کی سے بھرپور شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔ اسی طرح 11؍ اکتوبر کو مرکزی قائدین دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی دھرنا دیں گے اور گرفتاریاں پیش کریں گے، جس کے بعد ریاستی سطح پر بھی دھرنے اور گرفتاریاں دی جائیں گی۔ تحریک کے ذمہ داران نے مزید کہا کہ اس دوران آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذمہ داران کی انفرادی پریس کانفرنسیں اور مختلف اقلیتوں و سول سوسائٹی کی مشترکہ پریس کانفرنسیں بھی منعقد ہوں گی، راؤنڈ ٹیبل اور انٹرفیتھ میٹنگز کا اہتمام کیا جائے گا تاکہ ملک کے عوام تک اس مسئلہ کی سنگینی کو واضح طور پر پہنچایا جاسکے۔ پریس کانفرنس میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ ”وقف ترمیمی قانون ہمیں منظور نہیں“ کے عنوان سے ایک کتابچہ بورڈ کی جانب سے تیار کیا جارہا ہے جسے مختلف زبانوں میں ترجمہ کروا کر عام کیا جائے گا تاکہ عوامی شعور بیدار ہو، غلط فہمیوں کا ازالہ ہو اور پروپیگنڈے کا پردہ فاش کیا جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو، انگریزی، ہندی اور کنڑا اخبارات و رسائل میں وقف ترمیمی قانون کے نقصانات اور مضر اثرات پر مضامین شائع کئے جائیں گے، سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چلائی جائے گی، پروگراموں کو لائیو نشر کیا جائے گا اور ایکس (ٹویٹر) سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر بھی بھرپور ہیش ٹیگ مہم چلائی جائے گی۔ اس کے علاوہ ریاستی نمائندہ وفد وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرکے میمورنڈم پیش کرے گا اور وقف املاک کے دستاویزات کی درستگی اور تحریر کا جامع نظام قائم کرنے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں گے۔
ذمہ داران نے بتایا کہ اس تحریک کے دوسرے مرحلہ کا باضابطہ آغاز 19؍ ستمبر بروز جمعہ کو یوم دعا کے ذریعہ ہوچکا ہے اور یہ مرحلہ نومبر کے اختتام تک جاری رہے گا۔ اس دوران سب سے بڑا اور تاریخی پروگرام 16؍ نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ملکی سطح پر عظیم الشان احتجاجی کانفرنس ہوگی۔ ان تمام پروگراموں کو کامیاب بنانے کے لئے مختلف ذمہ داریاں تقسیم کردی گئی ہیں تاکہ تحریک کا کوئی پہلو تشنہ نہ رہ جائے۔ کرناٹک میں اس تحریک کے پہلے مرحلے کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی تھی اور امید ظاہر کی گئی کہ یہ دوسرا مرحلہ بھی کامیابی سے ہمکنار ہوگا۔
پریس کانفرنس کے دوران تحریک کے ذمہ داران نے برادرانِ اسلام اور انصاف پسند شہریوں بالخصوص سول سوسائٹی اور اقلیتی برادریوں سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اسے کامیاب بنائیں، کیونکہ یہ صرف وقف کی حفاظت کی لڑائی نہیں ہے بلکہ دستور ہند کے تحفظ کی لڑائی ہے، جس میں ہر شہری کی شمولیت بنیادی ذمہ داری ہے۔ ریاستی سطح کے ذمہ داران نے واضح پیغام دیا کہ جب تک یہ سیاہ وقف ترمیمی قانون واپس نہیں لیا جاتا تب تک یہ تحریک کسی قیمت پر نہیں رکے گی۔
پریس کانفرنس سے وقف بچاؤ دستور بچاؤ تحریک کرناٹک کے معاون کنوینرز مفتی افتخار احمد قاسمی (رکن بورڈ و صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)اور جناب سلیمان خان (معاون جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل) نے خطاب کیا۔ اس موقع پر مولانا محمد زین العابدین رشادی و مظاہری (مہتمم دارالعلوم شاہ ولی اللہ بنگلور)، ڈاکٹرمحمد سعد بلگامی (امیر جماعت اسلامی کرناٹک)، مولانا اعجاز احمد ندوی (امام و خطیب جامع مسجد اہلحدیث بنگلور)، مولانا عبد الرحیم رشیدی (صدر جمعیۃ علماء کرناٹک)، مولانا شبیر احمد ندوی (مہتمم اصلاح البنات بنگلور)،جناب محمد یوسف کنی (سکریٹری جماعت اسلامی کرناٹک)، جناب محب اللہ خان امین (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
❤2
کرناٹک)، مولانامحمد نوشاد عالم قاسمی (صدر ملی کونسل کرناٹک)، جناب منصور احمد قریشی (جمعیۃ اہلحدیث کرناٹک)، مفتی شمس الدین بجلی قاسمی (جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء کرناٹک)، جناب فیاض شریف، جناب سید شفیع اللہ اور جناب محمد فرقان (ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند) سمیت مختلف ملی قائدین بطور خاص شریک ہوئے۔ یہ وضاحت بھی کی گئی کہ اگرچہ بعض اہم ذمہ داران بالخصوص کور کمیٹی کے ایک اہم رکن اور تحریک کے معاون کنوینر مفتی ڈاکٹر محمد مقصود عمران رشادی (امام و خطیب جامع مسجد سٹی بنگلور) اپنی مشغولیات کی بنا پر پریس کانفرنس میں شریک نہ ہوسکے، لیکن ان تمام حضرات نے اپنی مکمل تائید اور عزم کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر سطح پر تعاون کرکے اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کریں۔ یہ پریس کانفرنس اس بات کا عزم لئے ختم ہوئی کہ وقف اور دستور کے تحفظ کی یہ جدوجہد ملک بھر میں پورے عزم و استقلال کے ساتھ جاری رہے گی اور ان شاء اللہ فتح و کامیابی اسی کی ہوگی۔
#SaveWaqfSaveConstitution | #WithdrawWaqfAmendments | #WaqfBachaoCampaign | #WaqfAmendmentAct | #AIMPLB
#SaveWaqfSaveConstitution | #WithdrawWaqfAmendments | #WaqfBachaoCampaign | #WaqfAmendmentAct | #AIMPLB
❤8
*وقف قانون کے تحت وقف بورڈ کی تشکیل نہ کر نے کا تامل ناڈو حکومت کا فیصلہ بر وقت اور مناسب*
27 ستمبر 2025
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے تامل ناڈو حکومت کے اس فیصلے کو خوش آئند بر وقت، مناسب اور جرأت مندانہ قرار دیا جس میں اس نے سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ آنے تک نئے وقف ایکٹ کے تحت وقف بورڈ کی تشکیل نہ کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن اور حکومت تامل ناڈو کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا جس کے تحت اس نے سپریم کورٹ کے حتمی فیصلہ آنے تک نئے وقف قانون کے تحت وقف بورڈ کی تشکیل نو نہ کر نے کا فیصلہ کیا۔ ریاستی اقلیتی امور کے وزیر ایس ایم نصر نے ایک پریس بیان میں اس فیصلہ کی اطلاع دی۔ انہوں نے کہا تامل ناڈو حکومت نہ صرف وقف ترمیمی ایکٹ2025 کی مخالفت کر تی ہے بلکہ اس نے اس قانون کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں بھی چیلنج کر رکھاہے۔
تامل ناڈو حکومت کا یہ فیصلہ کہ جب تک سپریم کورٹ مذکورہ ترمیمی قانون پر اپنا حتمی فیصلہ نہ دے دے اس وقت تک ریاستی حکومت نئے قانون کے تحت ریاستی وقف بورڈ کی تشکیل نو نہیں کرے گی اور سابقہ وقف بورڈ جس کی مدت ختم ہو رہی ہے کو ہی بحال رکھے گی، بہت مناسب، بروقت اور جرأت مندانہ ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ حکومت تامل ناڈو کے اس اقدام کی نہ صرف پزیرائی کر تا ہے بلکہ دیگر ریاستی حکومتوں سے بھی اپیل کر تا ہے کہ وہ خود اپنی ریاستوں میں بھی اس طرح کے فیصلے کر کے سیکولر اور جمہوری اقدار اور دستور ہند کے اصولوں کی پاسداری کریں۔
ڈاکٹر الیاس نے آخر میں وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کو اس جرأت مندانہ اقدام کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ، مسلمانان ہند اور تمام انصاف پسند افراد کی جانب سے مبارکباد پیش کی۔
جاری کردہ ✍️
*ڈاکٹر وقارالدین لطیفی*
آفس سکریٹری
https://www.facebook.com/share/p/16vo4NPeVB/
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کو اس کے لئے مبارکباد پیش کر تا ہے۔27 ستمبر 2025
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے تامل ناڈو حکومت کے اس فیصلے کو خوش آئند بر وقت، مناسب اور جرأت مندانہ قرار دیا جس میں اس نے سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ آنے تک نئے وقف ایکٹ کے تحت وقف بورڈ کی تشکیل نہ کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن اور حکومت تامل ناڈو کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا جس کے تحت اس نے سپریم کورٹ کے حتمی فیصلہ آنے تک نئے وقف قانون کے تحت وقف بورڈ کی تشکیل نو نہ کر نے کا فیصلہ کیا۔ ریاستی اقلیتی امور کے وزیر ایس ایم نصر نے ایک پریس بیان میں اس فیصلہ کی اطلاع دی۔ انہوں نے کہا تامل ناڈو حکومت نہ صرف وقف ترمیمی ایکٹ2025 کی مخالفت کر تی ہے بلکہ اس نے اس قانون کو سپریم کورٹ آف انڈیا میں بھی چیلنج کر رکھاہے۔
تامل ناڈو حکومت کا یہ فیصلہ کہ جب تک سپریم کورٹ مذکورہ ترمیمی قانون پر اپنا حتمی فیصلہ نہ دے دے اس وقت تک ریاستی حکومت نئے قانون کے تحت ریاستی وقف بورڈ کی تشکیل نو نہیں کرے گی اور سابقہ وقف بورڈ جس کی مدت ختم ہو رہی ہے کو ہی بحال رکھے گی، بہت مناسب، بروقت اور جرأت مندانہ ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ حکومت تامل ناڈو کے اس اقدام کی نہ صرف پزیرائی کر تا ہے بلکہ دیگر ریاستی حکومتوں سے بھی اپیل کر تا ہے کہ وہ خود اپنی ریاستوں میں بھی اس طرح کے فیصلے کر کے سیکولر اور جمہوری اقدار اور دستور ہند کے اصولوں کی پاسداری کریں۔
ڈاکٹر الیاس نے آخر میں وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کو اس جرأت مندانہ اقدام کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ، مسلمانان ہند اور تمام انصاف پسند افراد کی جانب سے مبارکباد پیش کی۔
جاری کردہ ✍️
*ڈاکٹر وقارالدین لطیفی*
آفس سکریٹری
https://www.facebook.com/share/p/16vo4NPeVB/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
❤4
*Tamil Nadu Government’s Decision Not to Constitute Waqf Board under Present Waqf Law is Timely and Appropriate;*
New Delhi, 27 September 2025:
The All India Muslim Personal Law Board (AIMPLB) has welcomed the Tamil Nadu government’s decision, calling it timely, appropriate, and courageous, whereby the state has decided not to constitute a Waqf Board under the new Waqf Act until the Supreme Court delivers its final judgment.
Dr. S. Q. R. Ilyas, spokesperson of the AIMPLB, in a press statement, appreciated Chief Minister M.K. Stalin and the Tamil Nadu government for this step. The decision ensures that the state will not reorganize the Waqf Board under the new law until the Supreme Court’s final verdict is issued.
State Minister for Minority Affairs, S.M. Nasar, also informed the public of this decision in a press release. He stated that the Tamil Nadu government not only opposes the Waqf (Amendment) Act 2025 but has also challenged it in the Supreme Court of India.
The Tamil Nadu government’s decision to maintain the existing Waqf Board until the Supreme Court’s final ruling on the amended law and refrain from constituting a new board under the 2025 Act is timely, and courageous.
The AIMPLB not only appreciates this step by the Tamil Nadu government but also appeals to other state governments to take similar decisions in their respective states, thereby upholding secular and democratic values as well as the principles of the Constitution of India.
Finally, Dr. Ilyas extended congratulations to Chief Minister M.K. Stalin for this courageous initiative on behalf of the Muslim Personal Law Board, Indian Muslims and all justice-seeking individuals.
✍️ Issued by:
*Dr Vaquar Uddin Latifi*
_Office Secretary_
https://www.facebook.com/share/p/17cBdsb5o5/
All India Muslim Personal Law Board Congratulates Chief Minister M.K. StalinNew Delhi, 27 September 2025:
The All India Muslim Personal Law Board (AIMPLB) has welcomed the Tamil Nadu government’s decision, calling it timely, appropriate, and courageous, whereby the state has decided not to constitute a Waqf Board under the new Waqf Act until the Supreme Court delivers its final judgment.
Dr. S. Q. R. Ilyas, spokesperson of the AIMPLB, in a press statement, appreciated Chief Minister M.K. Stalin and the Tamil Nadu government for this step. The decision ensures that the state will not reorganize the Waqf Board under the new law until the Supreme Court’s final verdict is issued.
State Minister for Minority Affairs, S.M. Nasar, also informed the public of this decision in a press release. He stated that the Tamil Nadu government not only opposes the Waqf (Amendment) Act 2025 but has also challenged it in the Supreme Court of India.
The Tamil Nadu government’s decision to maintain the existing Waqf Board until the Supreme Court’s final ruling on the amended law and refrain from constituting a new board under the 2025 Act is timely, and courageous.
The AIMPLB not only appreciates this step by the Tamil Nadu government but also appeals to other state governments to take similar decisions in their respective states, thereby upholding secular and democratic values as well as the principles of the Constitution of India.
Finally, Dr. Ilyas extended congratulations to Chief Minister M.K. Stalin for this courageous initiative on behalf of the Muslim Personal Law Board, Indian Muslims and all justice-seeking individuals.
✍️ Issued by:
*Dr Vaquar Uddin Latifi*
_Office Secretary_
https://www.facebook.com/share/p/17cBdsb5o5/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
❤1