⚖All India Muslim Personal Law Board⚖
✔
26.2K subscribers
4.23K photos
223 videos
590 files
3.3K links
Leading NGO of Indian Muslims for their Legal & Constitutional rights.

AIMPLB Teligram Group @AIMPLBgroup1


https://twitter.com/AIMPLB_Official

https://www.youtube.com/AIMPLB_Official

http://fb.me/AIMPLB.Official

Wtsp:8788657771
Download Telegram
*آسام کے وزیر اعلیٰ کی مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کا سپریم کورٹ از خود نوٹس لے*
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

نئی دہلی: 30؍جنوری 2026
آسام کے وزیر اعلی ہیمنتا بسوا شرما کی مسلمانوں کے خلاف حالیہ زہر افشانی انتہائی قابل مذمت اور تشویشناک ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ آف انڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس کا SUO MOTTO نوٹس لے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی، نفرت انگیز بیانات اور زہریلی تقاریر اب بی جے پی کا طرہ امتیاز بنتی جارہی ہے۔ دوسرے اور تیسرے درجہ کے رہنماء تو آئے دن ایسا کرتے ہی رہتے ہیں مگر اب اس کی اعلی سطح کی قیادت بھی اس میں ملوث ہوتی جارہی ہے۔ اتراکھنڈ، یوپی اور آسام کے وزرائے اعلی اس طرح کی بیان بازیاں کرتے رہتے ہیں۔ آسام کے وزیر اعلیٰ نے تن سکھیا کے ایک سرکاری پروگرام کے موقع پر عوام سے کہا کہ وہ میاں لوگوں کو ستائیں تاکہ وہ پریشان ہوکر آسام چھوڑدیں۔ اس موقعہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا میاں طبقے کو تکلیف پہونچانا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے آسامی لوگوں سے کہا کہ وہ فارم نمبر 7 داخل کرکے 4 تا 5 لاکھ مسلمانوں کو ووٹر لسٹ سے باہر نکال دیں۔ انہوں نے عوام سے مزید کہا کہ وہ مسلمانوں کو معاشی طور پر بھی پریشان کریں۔
ڈاکٹر الیاس نے اس پر انتہائی تعجب سے کہا کہ ایک وہ شخص جو ملک کے دستور پر حلف لے کر وزیر اعلیٰ بنتا ہے کس طرح ایسے غیر قانونی احکامات جاری کرسکتا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن ایسی ناجائز حرکتوں کے آگے سپر ڈال دے تو پھر کس طرح ملک میں صاف ستھرے انتخابات ہوسکتے ہیں۔ ہم سب سے پہلے تو صدر جمہوریہ ہند سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آسام کے وزیر اعلیٰ کے ان متنازعہ اور غیر دستوری بیانات پر سخت کاروائی کریں۔ اسی طرح ہم چیف جسٹس آف انڈیا سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس پر SUO MOTTO نوٹس جاری کریں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اندیشہ ہے کہ اس سے ملک میں بدامنی و انارکی پیدا ہوجائے گی۔
بورڈ کے قومی ترجمان نے ملک کی سیکولر پارٹیوں اور انصاف پسند شہریوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس زہر افشانی اور غیر قانونی حرکت کا سختی سے نوٹس لیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے آسام کے مسلمانوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کی مذموم حرکتوں سے ہرگز بھی پریشان نہ ہوں اور آئینی و قانونی راستوں سے اس کا مقابلہ کریں۔

✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر وقار الدین لطیفی*
آفس سکریٹری

https://www.facebook.com/share/p/14WVSNaMGcs/
❤4👍1
*آسام کے وزیر اعلیٰ کی مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کا سپریم کورٹ از خود نوٹس لے*
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

نئی دہلی: 30؍جنوری 2026
آسام کے وزیر اعلی ہیمنتا بسوا شرما کی مسلمانوں کے خلاف حالیہ زہر افشانی انتہائی قابل مذمت اور تشویشناک ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ آف انڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس کا SUO MOTTO نوٹس لے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی، نفرت انگیز بیانات اور زہریلی تقاریر اب بی جے پی کا طرہ امتیاز بنتی جارہی ہے۔ دوسرے اور تیسرے درجہ کے رہنماء تو آئے دن ایسا کرتے ہی رہتے ہیں مگر اب اس کی اعلی سطح کی قیادت بھی اس میں ملوث ہوتی جارہی ہے۔ اتراکھنڈ، یوپی اور آسام کے وزرائے اعلی اس طرح کی بیان بازیاں کرتے رہتے ہیں۔ آسام کے وزیر اعلیٰ نے تن سکھیا کے ایک سرکاری پروگرام کے موقع پر عوام سے کہا کہ وہ میاں لوگوں کو ستائیں تاکہ وہ پریشان ہوکر آسام چھوڑدیں۔ اس موقعہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا میاں طبقے کو تکلیف پہونچانا ان کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے آسامی لوگوں سے کہا کہ وہ فارم نمبر 7 داخل کرکے 4 تا 5 لاکھ مسلمانوں کو ووٹر لسٹ سے باہر نکال دیں۔ انہوں نے عوام سے مزید کہا کہ وہ مسلمانوں کو معاشی طور پر بھی پریشان کریں۔
ڈاکٹر الیاس نے اس پر انتہائی تعجب سے کہا کہ ایک وہ شخص جو ملک کے دستور پر حلف لے کر وزیر اعلیٰ بنتا ہے کس طرح ایسے غیر قانونی احکامات جاری کرسکتا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن ایسی ناجائز حرکتوں کے آگے سپر ڈال دے تو پھر کس طرح ملک میں صاف ستھرے انتخابات ہوسکتے ہیں۔ ہم سب سے پہلے تو صدر جمہوریہ ہند سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آسام کے وزیر اعلیٰ کے ان متنازعہ اور غیر دستوری بیانات پر سخت کاروائی کریں۔ اسی طرح ہم چیف جسٹس آف انڈیا سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس پر SUO MOTTO نوٹس جاری کریں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو اندیشہ ہے کہ اس سے ملک میں بدامنی و انارکی پیدا ہوجائے گی۔
بورڈ کے قومی ترجمان نے ملک کی سیکولر پارٹیوں اور انصاف پسند شہریوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس زہر افشانی اور غیر قانونی حرکت کا سختی سے نوٹس لیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے آسام کے مسلمانوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس طرح کی مذموم حرکتوں سے ہرگز بھی پریشان نہ ہوں اور آئینی و قانونی راستوں سے اس کا مقابلہ کریں۔

✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر وقار الدین لطیفی*
آفس سکریٹری

https://www.facebook.com/share/p/14WVSNaMGcs/
❤4
*Inflammatory and Poisonous Rhetoric Against Muslims by Assam Chief Minister*
*Supreme Court Must Take SUO MOTU Cognisance*
All India Muslim Personal Law Board

New Delhi, January 30, 2026
The All India Muslim Personal Law Board strongly condemns the recent anti-Muslim and deeply divisive statements made by Assam Chief Minister Himanta Biswa Sarma. The Board has urged the Hon’ble Supreme Court of India to take immediate suo motu cognisance of this grave matter.
In a statement, the Board’s Spokesperson, Dr. S. Q. R. Ilyas, said that hate speech and open incitement against Muslims are fast becoming normalized in the political discourse of the ruling party. What was once limited to fringe voices is now being echoed by those occupying the highest constitutional offices. Chief Ministers of Uttarakhand, Uttar Pradesh, and now Assam have repeatedly made inflammatory and unconstitutional remarks targeting Muslims.
The Assam Chief Minister, while addressing a government function in Tinsukia, reportedly called for the harassment of the “Miyan” community so that they are forced to leave Assam. He is also reported to have said that causing hardship to this community was his responsibility. Additionally, he publicly encouraged people to file Form No. 7 to remove 4–5 lakh Muslims from the voter rolls and called for their economic boycott.
Dr. Ilyas said it is shocking and unacceptable that a Chief Minister, who has sworn to uphold the Constitution, is seen openly advocating discrimination, harassment, and disenfranchisement of a particular community. Such statements strike at the very foundation of constitutional governance, the rule of law, and the principle of equality before law. If constitutional authorities like the Election Commission fail to resist such unlawful pressure, the credibility of free and fair elections itself will be in jeopardy.
The Board has also appealed to the Hon’ble President of India to take appropriate constitutional action against the Assam Chief Minister for these dangerous and unconstitutional remarks. The Chief Justice of India has been urged to intervene without delay. Failure to act firmly and swiftly may embolden further hate speech and create conditions of social unrest and lawlessness.
The Board calls upon all secular political parties, civil society groups, and justice-loving citizens to take serious note of this open call for discrimination and stand united in defense of constitutional values.
At the same time, the Board appeals to the Muslims of Assam to remain calm and respond to these provocations strictly through constitutional and legal means.

✍️ Issued by:
*Dr. Vaquar Uddin Latifi*
Office Secretary

https://www.facebook.com/share/p/1AXRRyfrJ4/
❤6
_شب برات مغفرت سے محروم لوگ_
_Shab E Bar'at Maghfirat Se Mehroom Log_
_शब-ए- बरअत मग़फ़िरत से महरूम लोग_
👇🏻👇👇🏾👇🏻👇👇🏾👇🏾👇👇🏻
*_🌴 ”#تکبیر_مسلسل“🌴_*

*🎯 ویلنٹائن ڈے فحاشی کا دوسرا نام ہے!*

ویلنٹائن ڈے کو منانا مذہبی، اخلاقی اور معاشرتی سطح پر غلط اور ممنوع ہے، اسلام نہ صرف برائی کا سد باب کرتا ہے؛ بلکہ برائی کی طرف جانے والے ہر راستے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ ویلنٹائن ڈے فحاشی کا دوسرا نام ہے، اسے معاشرے میں رواج دینا فحاشی کا دروازہ کھولنا ہے۔ مغربی معاشرے کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں بن بیاہی مائیں اور بغیر باپ کے بچے فروغ پا رہے ہیں نیز خاندانی ومعاشرتی نظام کا شیرازہ بکھرچکا ہے ؛اس لیے یاد رکھیں کہ ہماری آنے والی نسلوں کی عزت و حیا کی بقاء صرف اور صرف اسلام کی روشن تعلیمات میں ہے، لہذا ہمیں اپنے معاشرے سے تمام غیر اسلامی ، غیر اخلاقی اور غیر فطری رواجوں کو ختم کرنا ہوگااور ایک صالح معاشرہ کے وجود میں لانے کے لیے کوشش کرنی ہوگی۔

*_✍ مولانا عبدالرشید طلحہ نعمانی صاحب_*

🎁 پیشکش: *سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ*
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0HgUzpDVr8GZLsRf4FFwkRKKCDhufNpoqmth7kmfPAixLEpLaLZxcsjfNeoqi3mRtl&id=100064780928667&mibextid=Nif5oz
❤1
*_🌴 “#तकबीर_ए_मुसलसल” 🌴_*

*🎯 वैलेंटाइन डे अश्लीलता का दूसरा नाम है!*

वैलेंटाइन डे का जश्न धार्मिक, नैतिक और सामाजिक रूप से ग़लत और निषिद्ध है, इस्लाम न केवल बुराई को समाप्त करता है; बल्कि बुराई की ओर जाने वाले प्रत्येक मार्ग को भी हतोत्साहित करता है। वैलेंटाइन डे अश्लीलता का दूसरा नाम है, इसे समाज में बढ़ावा देना अश्लीलता का मार्ग खोलना है। हमारे पास पश्चिमी समाज का उदाहरण है जहाँ अविवाहित माताएं और पिताविहीन बच्चे फल-फूल रहे हैं और इसके साथ पारिवारिक एवं सामाजिक व्यवस्था बिखर रही है। इसलिए यह याद रखें कि हमारी भावी पीढ़ियों के सम्मान और ह़या (विनय) का अस्तित्व केवल इस्लाम की प्रबुद्ध शिक्षाओं पर निर्भर करता है, इसलिए हमें अपने समाज से सभी ग़ैर-इस्लामी, अनैतिक और अप्राकृतिक रूढ़ियों का समापन करना होगा और एक गुणवान समाज को अस्तित्व में लाने के लिए प्रयत्नशील रहना होगा।

*_✍ मौलाना अब्दुल रशीद तलह़ा नोमानी साहब_*

🎁 प्रस्तुति: *सोशल मीडिया डेस्क ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड*
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid029dpxczchma8FgWxKxX2WSZD9fZK5ZNX6h1YBAkhQcQ2248M4ADNsF7aogfwjz1vMl&id=100064780928667&mibextid=Nif5oz
*🌴 Takbeer_E_Musalsal 🌴*

*🎯 Valentine Day Is Another Name Of Obscenity!*
It is inappropriate and prohibited to celebrate Valentine Day religiously, ethically and socially, Islam not only provides solutions against ill doings but also prevents you from going on every wrong path. Valentine Day is another name of obscenity. Promoting such culture in society will open the doors of obscenity. We have the examples of the Western society where unmarried mothers and children without father are growing up, hence the family and Social system has been shattered. Therefore, it must be remembered that the protection of our forthcoming generation's modesty and chastity lies only and only in Islamic bright teachings.
Therefore, we have to abandon all non-islamic, unnatural and immoral rituals and eradicate them from our society and have to work for the existence of a good society.

*_✍️ Maulana Abdur Rasheed Talha Nomani Sahab_*

🎁 Presented by: *Social Media Desk All India Muslim Personal Law Board*
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid036nbGy8oXiQucfjhcuN9naiWjmwcCEo8e71ue6BwwK4wCwh81GZUkcPRVDnVBEjDol&id=100064780928667&mibextid=Nif5oz
❤2
*06 تا 14 فروری ہفتہ حيا*
*6 फ़रवरी से 14 फ़रवरी सप्ताह हया*
*06 TO 14 FEBRUARY Week of Haya*

_اسلام کی پہچان_
_ह़या इस्लाम की पहचान_


_#HayaWeek_
*#SayNoToValentinesDay*