Khitab e juma 06 March 2026.pdf
1.8 MB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 315 ▪️
🗓 برائے تاریخ: 06 مارچ 2026 مطابق 16 رمضان المبارک 1447
🎯 پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
موجودہ عالمی و ملکی حالات کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے لیے پیغامِ استقامت اور دعوتِ عمل
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9894
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
🗓 برائے تاریخ: 06 مارچ 2026 مطابق 16 رمضان المبارک 1447
🎯 پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
موجودہ عالمی و ملکی حالات کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے لیے پیغامِ استقامت اور دعوتِ عمل
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9894
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤7👍2
*⚠️ مسلمانوں کے لیے ایک اہم انتباہ! ⚠️*
*مسلکی اختلافات یا عالمی تباہی؟*
👇👇👇👇👇👇👇
https://youtube.com/shorts/WFT0Jt4Nnn8?si=ejJvr2etCLTe6bY0
*⚠️ Musalmano ke liye ek aham intibah! ⚠️*
*MASLAKI IKHTILAFAT YA AALAMI TABAHI?*
*_Maulana Khalil-ur-Rahman Sajjad Nomani Sahab ki Quran ki roshni mein ek fikr-angez pukar._* Is clip ko khud bhi dekhein aur doosron tak bhi pahunchayein.
*مسلکی اختلافات یا عالمی تباہی؟*
مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب کی قرآن کی روشنی میں ایک فکر انگیز پکار۔ اس کلپ کو خود بھی دیکھیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں۔👇👇👇👇👇👇👇
https://youtube.com/shorts/WFT0Jt4Nnn8?si=ejJvr2etCLTe6bY0
*⚠️ Musalmano ke liye ek aham intibah! ⚠️*
*MASLAKI IKHTILAFAT YA AALAMI TABAHI?*
*_Maulana Khalil-ur-Rahman Sajjad Nomani Sahab ki Quran ki roshni mein ek fikr-angez pukar._* Is clip ko khud bhi dekhein aur doosron tak bhi pahunchayein.
YouTube
⚠️Warning/ Musalmano Agar tum ne aisa na kiya to/ Maulana Sajjad Nomani Sahab
اس ویڈیو میں حضرت مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی صاحب نے دورِ حاضر ...
❤16
*📢 حضرت مولانا ولی رحمانی صاحبؒ کا ایک جرات مندانہ پیغام! 📢*
*"ایمان اور بزدلی ایک دل میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔"*
▪️
👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://youtube.com/shorts/9RUDgKxC2s4?si=qCcuVwniSUc4Vw8p
*📢 MAULANA WALI RAHMANI SAHAB KA EK JURRAT-MANDANA PPAIGHAM*
*"Iman aur Buzdili ek dil mein kabhi jama nahi ho sakte."*
▪️_Is imaan-afroz clip ko khud bhi sunein aur apne doston ko bhi share karein._
*"ایمان اور بزدلی ایک دل میں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔"*
▪️
اس ایمان افروز کلپ کو خود بھی سنیں اور اپنے دوستوں کو بھی شیئر کریں۔👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://youtube.com/shorts/9RUDgKxC2s4?si=qCcuVwniSUc4Vw8p
*📢 MAULANA WALI RAHMANI SAHAB KA EK JURRAT-MANDANA PPAIGHAM*
*"Iman aur Buzdili ek dil mein kabhi jama nahi ho sakte."*
▪️_Is imaan-afroz clip ko khud bhi sunein aur apne doston ko bhi share karein._
YouTube
📣Ek Jurrat-mandana Paigham/ Iman aur Buzdili ek dil mein jama nahi ho sakte— Maulana Wali Rahmani Sb
اس مختصر ویڈیو میں حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب (سابق جنرل سکری...
❤8
Khitab e juma 13 March 2026.pdf
1.9 MB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 316 ▪️
🗓 برائے تاریخ: 13 مارچ 2026 مطابق 23 رمضان المبارک 1447
🎯 لیلۃ القدر کی فضیلت، اہمیت اور ہماری ذمہ داری
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9899
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
🗓 برائے تاریخ: 13 مارچ 2026 مطابق 23 رمضان المبارک 1447
🎯 لیلۃ القدر کی فضیلت، اہمیت اور ہماری ذمہ داری
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9899
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤11👍1
*اسلام کے قانون وراثت میں تبدیلی کا مطالبہ ایک شرانگیزی*
*_ایسا کرنا مذہبی آزادی کے بنیادی و دستوری حق کے منافی:_*
نئی دہلی: 12 مارچ 2026
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ عدالت عظمیٰ میں ایک غیر معروف تنظیم نیا ناری فاؤنڈیشن کی جانب سے کئے گئے اس شر انگیز مطالبہ کو کہ اسلام کے قانون وراثت کو کالعدم قرار دیا جائے، اس لئے کہ وہ مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے کو غلط اور مذہبی آزادی کی آئینی دفعہ 25 کے منافی سمجھتا ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ بمبئی ھائی کورٹ نے نارسوایا ماپی کیس کے اپنے مشہور فیصلہ میں واضح طور پر کہا تھا کہ پرسنل لاز کو آئینی جانچ کے دائرے میں نہیں لایا جاسکتا۔ اسی طرح یہ کہنا کہ اسلام کا قانون وراثت لازمی مذہبی عمل Essential Relgious Practice نہیں ہے، شریعت کے عائلی قوانین کی مذہبی حیثیت سے لاعلمی کا مظہر ہے۔ اسلام کے عائلی قوانین براہ راست قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں اور اس پر سختی سے عمل کرنامسلمانوں کے لئے لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ کہ اسلام کے وراثتی قوانین میں مسلم خواتین کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے، دراصل قانون شریعت کی مصلحت اور حکمت سے عدم واقفیت ہے۔ اسلام وہ دین ہے، جس نے مرد اور عورت کو برابری کا درجہ دیا اور ان کے حقوق و ذمہ داریاں متعین کیں۔ عورت کے نان و نفقہ اور گھر کے جملہ اخراجات کی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی اور عورت کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ عورت نے اپنے ماں باپ سے وراثت میں جو کچھ حاصل کیا ہو یا وہ کوئی ملازمت کرتی ہو، اس صورت میں بھی اس پر گھر چلانے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ وہ اپنی ذاتی آمدنی کو اپنے طور پر آزادانہ خرچ بھی کرسکتی ہے۔ اس کے باوجود اسے وراثت میں آدھے حصہ کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔
بورڈ کے ترجمان نے آگے کہا کہ عورت کی کئی ایسی حیثیتیں ہیں جس میں کبھی اس کو مرد کے برابر کبھی مرد سے زیادہ اور کبھی صرف عورت کو ہی حصہ ملتا ہے ۔ اسلام کا قانون فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اسلام نے عورت کا اس وقت حق تسلیم کیا جب وہ کوئی قابل ذکر شئے ہی نہیں سمجھی جاتی تھی۔
انہوں نے آگے کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا کا یہ کہنا کہ اس کا جواب صرف یونیفارم سول کوڈ ہے، دراصل عدالت عظمیٰ کے سابقہ مشاہدات کو دہرانا ہے۔ دستور کے باب IV کی دفعہ 44 صرف ایک اصولی ہدایت ہے اور دستور کے معماروں نے یہ واضح کردیا تھا کہ اسے مسلمانوں کی مرضی کے بغیر ان پر نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دستور کے بنیادی حقوق کی دفعہ 25 سے راست متصادم ہے۔ جہاں تک ریاست اتراکھنڈ کا یونیفارم سول کوڈ ہے وہ غیر قانونی، غیر دستوری اور غیر حکیمانہ ہے اور مسلم پرسنل لا بورڈ اسے ھائی کورٹ میں چیلنج کرچکا ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ دراصل اسلام کے قانون وراثت کو غیر عادلانہ اور مسلم خواتین کے ساتھ امتیاز پر مبنی کہہ کر قانون شریعت میں مداخلت کا راستہ ہموار کرنے کا ایک بہانہ ہے، ہندوستانی مسلمان اسے ہرگز بھی برداشت نہیں کریں گے۔ یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت میں 5 کروڑ سے زائد مسلمانوں، جن میں اکثریت مسلم خواتین کی تھی نے اپنی قراردادیں لاء کمیشن آف انڈیا میں جمع کرائی تھیں۔ یہ کہنا کہ مسلم خواتین خود شرعی قوانین میں تبدیلی چاہتی ہیں دروغ گوئی کے علاوہ کچھ نہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ عدالت عظمیٰ سے اپیل کرتا ہے وہ قانون وراثت میں تبدیلی کی اس درخواست کو مسترد کردے۔
✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر وقار الدین لطیفی*
آفس سکریٹری
https://www.facebook.com/share/p/1D7nGTwJxr/
*_ایسا کرنا مذہبی آزادی کے بنیادی و دستوری حق کے منافی:_*
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈنئی دہلی: 12 مارچ 2026
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ عدالت عظمیٰ میں ایک غیر معروف تنظیم نیا ناری فاؤنڈیشن کی جانب سے کئے گئے اس شر انگیز مطالبہ کو کہ اسلام کے قانون وراثت کو کالعدم قرار دیا جائے، اس لئے کہ وہ مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے کو غلط اور مذہبی آزادی کی آئینی دفعہ 25 کے منافی سمجھتا ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ بمبئی ھائی کورٹ نے نارسوایا ماپی کیس کے اپنے مشہور فیصلہ میں واضح طور پر کہا تھا کہ پرسنل لاز کو آئینی جانچ کے دائرے میں نہیں لایا جاسکتا۔ اسی طرح یہ کہنا کہ اسلام کا قانون وراثت لازمی مذہبی عمل Essential Relgious Practice نہیں ہے، شریعت کے عائلی قوانین کی مذہبی حیثیت سے لاعلمی کا مظہر ہے۔ اسلام کے عائلی قوانین براہ راست قرآن و سنت سے ماخوذ ہیں اور اس پر سختی سے عمل کرنامسلمانوں کے لئے لازمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ کہ اسلام کے وراثتی قوانین میں مسلم خواتین کے ساتھ امتیاز برتا جاتا ہے، دراصل قانون شریعت کی مصلحت اور حکمت سے عدم واقفیت ہے۔ اسلام وہ دین ہے، جس نے مرد اور عورت کو برابری کا درجہ دیا اور ان کے حقوق و ذمہ داریاں متعین کیں۔ عورت کے نان و نفقہ اور گھر کے جملہ اخراجات کی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی اور عورت کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ عورت نے اپنے ماں باپ سے وراثت میں جو کچھ حاصل کیا ہو یا وہ کوئی ملازمت کرتی ہو، اس صورت میں بھی اس پر گھر چلانے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ وہ اپنی ذاتی آمدنی کو اپنے طور پر آزادانہ خرچ بھی کرسکتی ہے۔ اس کے باوجود اسے وراثت میں آدھے حصہ کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔
بورڈ کے ترجمان نے آگے کہا کہ عورت کی کئی ایسی حیثیتیں ہیں جس میں کبھی اس کو مرد کے برابر کبھی مرد سے زیادہ اور کبھی صرف عورت کو ہی حصہ ملتا ہے ۔ اسلام کا قانون فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اسلام نے عورت کا اس وقت حق تسلیم کیا جب وہ کوئی قابل ذکر شئے ہی نہیں سمجھی جاتی تھی۔
انہوں نے آگے کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا کا یہ کہنا کہ اس کا جواب صرف یونیفارم سول کوڈ ہے، دراصل عدالت عظمیٰ کے سابقہ مشاہدات کو دہرانا ہے۔ دستور کے باب IV کی دفعہ 44 صرف ایک اصولی ہدایت ہے اور دستور کے معماروں نے یہ واضح کردیا تھا کہ اسے مسلمانوں کی مرضی کے بغیر ان پر نافذ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ دستور کے بنیادی حقوق کی دفعہ 25 سے راست متصادم ہے۔ جہاں تک ریاست اتراکھنڈ کا یونیفارم سول کوڈ ہے وہ غیر قانونی، غیر دستوری اور غیر حکیمانہ ہے اور مسلم پرسنل لا بورڈ اسے ھائی کورٹ میں چیلنج کرچکا ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ دراصل اسلام کے قانون وراثت کو غیر عادلانہ اور مسلم خواتین کے ساتھ امتیاز پر مبنی کہہ کر قانون شریعت میں مداخلت کا راستہ ہموار کرنے کا ایک بہانہ ہے، ہندوستانی مسلمان اسے ہرگز بھی برداشت نہیں کریں گے۔ یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت میں 5 کروڑ سے زائد مسلمانوں، جن میں اکثریت مسلم خواتین کی تھی نے اپنی قراردادیں لاء کمیشن آف انڈیا میں جمع کرائی تھیں۔ یہ کہنا کہ مسلم خواتین خود شرعی قوانین میں تبدیلی چاہتی ہیں دروغ گوئی کے علاوہ کچھ نہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ عدالت عظمیٰ سے اپیل کرتا ہے وہ قانون وراثت میں تبدیلی کی اس درخواست کو مسترد کردے۔
✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر وقار الدین لطیفی*
آفس سکریٹری
https://www.facebook.com/share/p/1D7nGTwJxr/
❤6
*Demand to Alter Islamic Law of Inheritance is Mischievous and Violates the Fundamental Constitutional Right to Religious Freedom:*
New Delhi, 12 March 2026
The All India Muslim Personal Law Board has strongly condemned the mischievous demand made in the Supreme Court by a little-known organization, Naya Nari Foundation, seeking to invalidate the Islamic law of inheritance on the grounds that it allegedly discriminates against Muslim women. The Board considers this demand baseless and contrary to the constitutional guarantee of religious freedom under Article 25.
In a press statement, the spokesperson of the All India Muslim Personal Law Board, Dr. Syed Qasim Rasool Ilyas, stated that the Bombay High Court, in its well-known judgment in the Narasu Appa Mali case, had clearly held that personal laws cannot be subjected to constitutional scrutiny. Similarly, the claim that Islamic inheritance law is not an Essential Religious Practice reflects a lack of understanding of the religious status of Shariah-based family laws. Islamic family laws are directly derived from the Qur’an and Sunnah, and their observance is obligatory for Muslims.
He further stated that the allegation that Islamic inheritance laws discriminate against Muslim women stems from ignorance of the wisdom and underlying principles of Shariah. Islam is the religion that granted equal dignity to men and women and clearly defined their respective rights and responsibilities. The responsibility of maintenance and all household expenses rests upon the man, while the woman is exempt from such obligations. Whatever a woman receives from her parents as inheritance, or earns through employment, she is not required to spend on household expenses. She may spend her personal income entirely at her own discretion. Despite this exemption from financial responsibilities, she is still entitled to a share in inheritance.
The spokesperson added that there are several situations in Islamic inheritance law where a woman receives a share equal to that of a man, sometimes more than a man, and in certain cases only women inherit. The Islamic system of inheritance is perfectly aligned with the requirements of human nature. Islam recognized the rights of women at a time when they were not even regarded as persons of significance.
Dr. Ilyas further noted that the remark attributed to the Chief Justice of India suggesting that the answer lies in a Uniform Civil Code (UCC) merely reiterates earlier observations of the Supreme Court. Article 44 of the Directive Principles in Part IV of the Constitution is only a guiding principle, and the framers of the Constitution had made it clear that it cannot be imposed upon Muslims without their consent. Imposing it would directly conflict with the fundamental right to religious freedom guaranteed under Article 25. As far as the Uniform Civil Code enacted by the State of Uttarakhand is concerned, it is illegal, unconstitutional, and imprudent, and the Muslim Personal Law Board has already challenged it before the High Court.
Dr. Ilyas said that labeling Islamic inheritance law as unjust or discriminatory against Muslim women is merely a pretext to open the door for interference in Shariah law. Indian Muslims will never tolerate such interference. More than 50 million Muslims, the majority of them women, had submitted their representations to the Law Commission of India opposing the Uniform Civil Code. Therefore, the claim that Muslim women themselves seek changes in Shariah laws is nothing but false propaganda.
The All India Muslim Personal Law Board appeals to the Supreme Court of India to reject this petition seeking changes in the Islamic law of inheritance.
✍️ Issued by:
*Dr. Vaquar Uddin Latifi*
_Office Secretary_
https://www.facebook.com/share/p/1HVaXgsgCE/
All India Muslim Personal Law BoardNew Delhi, 12 March 2026
The All India Muslim Personal Law Board has strongly condemned the mischievous demand made in the Supreme Court by a little-known organization, Naya Nari Foundation, seeking to invalidate the Islamic law of inheritance on the grounds that it allegedly discriminates against Muslim women. The Board considers this demand baseless and contrary to the constitutional guarantee of religious freedom under Article 25.
In a press statement, the spokesperson of the All India Muslim Personal Law Board, Dr. Syed Qasim Rasool Ilyas, stated that the Bombay High Court, in its well-known judgment in the Narasu Appa Mali case, had clearly held that personal laws cannot be subjected to constitutional scrutiny. Similarly, the claim that Islamic inheritance law is not an Essential Religious Practice reflects a lack of understanding of the religious status of Shariah-based family laws. Islamic family laws are directly derived from the Qur’an and Sunnah, and their observance is obligatory for Muslims.
He further stated that the allegation that Islamic inheritance laws discriminate against Muslim women stems from ignorance of the wisdom and underlying principles of Shariah. Islam is the religion that granted equal dignity to men and women and clearly defined their respective rights and responsibilities. The responsibility of maintenance and all household expenses rests upon the man, while the woman is exempt from such obligations. Whatever a woman receives from her parents as inheritance, or earns through employment, she is not required to spend on household expenses. She may spend her personal income entirely at her own discretion. Despite this exemption from financial responsibilities, she is still entitled to a share in inheritance.
The spokesperson added that there are several situations in Islamic inheritance law where a woman receives a share equal to that of a man, sometimes more than a man, and in certain cases only women inherit. The Islamic system of inheritance is perfectly aligned with the requirements of human nature. Islam recognized the rights of women at a time when they were not even regarded as persons of significance.
Dr. Ilyas further noted that the remark attributed to the Chief Justice of India suggesting that the answer lies in a Uniform Civil Code (UCC) merely reiterates earlier observations of the Supreme Court. Article 44 of the Directive Principles in Part IV of the Constitution is only a guiding principle, and the framers of the Constitution had made it clear that it cannot be imposed upon Muslims without their consent. Imposing it would directly conflict with the fundamental right to religious freedom guaranteed under Article 25. As far as the Uniform Civil Code enacted by the State of Uttarakhand is concerned, it is illegal, unconstitutional, and imprudent, and the Muslim Personal Law Board has already challenged it before the High Court.
Dr. Ilyas said that labeling Islamic inheritance law as unjust or discriminatory against Muslim women is merely a pretext to open the door for interference in Shariah law. Indian Muslims will never tolerate such interference. More than 50 million Muslims, the majority of them women, had submitted their representations to the Law Commission of India opposing the Uniform Civil Code. Therefore, the claim that Muslim women themselves seek changes in Shariah laws is nothing but false propaganda.
The All India Muslim Personal Law Board appeals to the Supreme Court of India to reject this petition seeking changes in the Islamic law of inheritance.
✍️ Issued by:
*Dr. Vaquar Uddin Latifi*
_Office Secretary_
https://www.facebook.com/share/p/1HVaXgsgCE/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
❤11
Khitab e juma 20 March 2026.pdf
1.7 MB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 317 ▪️
🗓 برائے تاریخ: 20 مارچ 2026 مطابق 30 رمضان المبارک 1447
🎯 رمضان کے اسباق اور ہماری عملی زندگی
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9905
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
🗓 برائے تاریخ: 20 مارچ 2026 مطابق 30 رمضان المبارک 1447
🎯 رمضان کے اسباق اور ہماری عملی زندگی
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9905
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤9👍3
*ملت اسلامیہ ہندیہ کو عید سعید کی پرخلوص مبارکباد!*
یہ خوشیوں اور برکتوں بھرا دن ہمیں باہمی اتحاد، اخوت، محبت اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے روزوں، نمازوں اور دیگر عبادات کو شرفِ قبولیت بخشے اور ہمارے ملک میں امن و امان، سلامتی اور خوشحالی عطا فرمائے۔ آمین۔
👇🏼👇👇🏼👇👇👇🏼👇
https://x.com/i/status/2035175986623389911
یہ خوشیوں اور برکتوں بھرا دن ہمیں باہمی اتحاد، اخوت، محبت اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے روزوں، نمازوں اور دیگر عبادات کو شرفِ قبولیت بخشے اور ہمارے ملک میں امن و امان، سلامتی اور خوشحالی عطا فرمائے۔ آمین۔
👇🏼👇👇🏼👇👇👇🏼👇
https://x.com/i/status/2035175986623389911
X (formerly Twitter)
All India Muslim Personal Law Board (@AIMPLB_Official) on X
ملت اسلامیہ ہندیہ کو عید سعید کی پرخلوص مبارکباد!
یہ خوشیوں اور برکتوں بھرا دن ہمیں باہمی اتحاد، اخوت، محبت اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے روزوں، نمازوں اور دیگر عبادات کو شرفِ قبولیت بخشے اور ہمارے ملک میں امن و امان، سلامتی اور خوشحالی…
یہ خوشیوں اور برکتوں بھرا دن ہمیں باہمی اتحاد، اخوت، محبت اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے روزوں، نمازوں اور دیگر عبادات کو شرفِ قبولیت بخشے اور ہمارے ملک میں امن و امان، سلامتی اور خوشحالی…
❤17
*🚨 یاد رکھیں: رمضان گیا ہے، اسلام نہیں! 🚨*
کیا ہم واپس غفلت کی طرف تو نہیں لوٹ رہے؟ 🎙️ *حضرت مولانا محمد بلال حسنی ندوی صاحب* کی یہ اہم نصیحت ضرور سنیں!
👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://youtube.com/shorts/WHBfnYLp7Og?feature=share
*🚨 YAAD RAKHEIN: Ramadan Gaya Hai, Islam Nahi! 🚨*
Kya hum wapas ghaflat ki taraf toh nahi laut rahay? *🎙️ Hazrat Maulana Muhammad Bilal Hasani Nadwi Sahab* ki yeh ahem naseehat zaroor sunein!
کیا ہم واپس غفلت کی طرف تو نہیں لوٹ رہے؟ 🎙️ *حضرت مولانا محمد بلال حسنی ندوی صاحب* کی یہ اہم نصیحت ضرور سنیں!
👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://youtube.com/shorts/WHBfnYLp7Og?feature=share
*🚨 YAAD RAKHEIN: Ramadan Gaya Hai, Islam Nahi! 🚨*
Kya hum wapas ghaflat ki taraf toh nahi laut rahay? *🎙️ Hazrat Maulana Muhammad Bilal Hasani Nadwi Sahab* ki yeh ahem naseehat zaroor sunein!
YouTube
Ramadan Gaya Islam Nahi! Maulana Muhammad Bilal Hasani Nadwi/ رمضان گیا اسلام نہیں
اس مختصر اور پراثر ویڈیو میں حضرت مولانا محمد بلال حسنی ندوی صاحب ن...
❤3
Khitab e juma 27 March 2026.pdf
5.4 MB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 318 ▪️
🗓 برائے تاریخ: 27 مارچ 2026 مطابق 07 شوال المکرم 1447
🎯 استقامت: اہمیت و ضرورت
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9910
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
🗓 برائے تاریخ: 27 مارچ 2026 مطابق 07 شوال المکرم 1447
🎯 استقامت: اہمیت و ضرورت
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9910
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤28👍10