⚖All India Muslim Personal Law Board⚖
✔
26.2K subscribers
4.23K photos
223 videos
590 files
3.3K links
Leading NGO of Indian Muslims for their Legal & Constitutional rights.

AIMPLB Teligram Group @AIMPLBgroup1


https://twitter.com/AIMPLB_Official

https://www.youtube.com/AIMPLB_Official

http://fb.me/AIMPLB.Official

Wtsp:8788657771
Download Telegram
*اتراکھنڈ اور گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ کے خلاف آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی پریس کانفرنس*

📍کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا، رفیع مارگ، نئی دہلی میں جاری پریس کانفرنس

👇👇🏼👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://www.facebook.com/share/p/17Xhp35zZy/
❤2
*اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیں:* آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

--------------------------------------------
https://www.facebook.com/share/p/17XX2xeEQp/
 
نئی دہلی:3/اپریل 2026
 گجرات قانون ساز اسمبلی کی جانب سے منظور کیے گئے نام نہاد یونیفارم سول کوڈ (UCC) بل پر جو اس وقت گورنر کی منظوری کا منتظر ہے، ملک کے محب وطن شہریوں کو بجا طور پرشدید آئینی، قانونی اور جمہوری تحفظات ہیں۔یہ امر نہایت تشویش کا باعث ہے کہ جس قانون کو’’ یونیفارم سول کوڈ “کا نام دیا گیا ہے، وہ بادی النظر میں آئین کی روح سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس قانون کے ذریعے نہ صرف مقننہ کے اختیارات اور آئینی جواز سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں بلکہ یہ آئین کے حصہ سوم میں شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق، مذہبی آزادی، مساوات اور شخصی آزادی سے راست متصادم بھی ہے۔
واضح رہے کہ یونیفارم سول کوڈ آئین کے حصہ چہارم یعنی ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں میں شامل ہے، جو بنیادی حقوق کی طرح براہِ راست قابلِ نفاذ نہیں ہیں۔ عدالتیں اس کے نفاذ کے لیے ریاست کو پابند نہیں کر سکتیں، بلکہ اس ضمن میں قانون سازی کا اختیار صرف مقننہ کو حاصل ہے۔ علاوہ ازیں آرٹیکل 44 کی روح یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی ضابطہ پورے ملک کے تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہو۔ گجرات میں منظور شدہ یہ قانون نہ تو پورے ملک پر نافذ ہے اور نہ ہی خود ریاست کے تمام طبقات پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔جب کہ اس قانون سے شیڈولڈ ٹرائبز اور آئینی طور پر محفوظ روایتی حقوق رکھنے والے طبقات کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے، اس لئے اس کوحقیقی معنوں میں یونیفارم سول کوڈ نہیں کہا جاسکتا۔ اس پس منظر میں اس قانون کو UCC کا نام دینا ایک گمراہ کن اور فریب پر مبنی طرزِ عمل ہے۔
دستور ساز اسمبلی کی بحثوں کے دوران ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر نے واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ ایسا کوئی قانون شہریوں پر زبردستی مسلط نہیں کیا جائے گا اور اس کے نفاذ میں عوامی رضامندی کو بنیادی حیثیت دی جائے گی۔ اسی اصول کے تحت 21ویں اور 22ویں لا کمیشن نے عوامی آراء طلب کی تھیں۔ 21ویں لا کمیشن کی درخواست پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کمیشن میں حاضر ہو کر نہ صرف اس کی مخالفت کی تھی بلکہ اپنے دلائل کو تحریری شکل میں کمیشن کو پیش بھی کیا تھا۔ چنانچہ کمیشن نے واضح طور پر کہا تھا کہ موجودہ حالات میں UCC نہ ضروری ہے اور نہ ہی مناسب۔ جب کہ 22ویں لا کمیشن کی جانب سے کوئی حتمی سفارش سامنے نہیں آئی ہے۔اس کے باوجود گجرات حکومت نےایک کمیٹی تشکیل دے کرعوام سے آراء طلب کیں۔ہماری دانست میں اکثریت نے اس کی مخالفت کی تھی مگر اس کی رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ۔ایسا کرناشفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ اس طرزِ عمل سے یہ تأثر مضبوط ہوتا ہے کہ مشاورتی عمل محض رسمی کارروائی تھا اور عوامی آراء کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔
مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ قانون، جیسا کہ ریاست اتراکھنڈ میں پہلے نافذ کیا گیا، اکثریتی نظریات اور سماجی تصورات کو اقلیتی طبقات، بالخصوص مسلمانوں، پر مسلط کرنے کی نا پاک کوشش ہے۔ اسلامی شریعت سے متعلق متعدد معاملات، مثلاً نکاح، طلاق، وراثت، جانشینی اور خاندانی قوانین، جو مذہبی عقائد اور شخصی قوانین کا حصہ ہیں، ان میں مداخلت آئین کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے بنیادی حق سے متصادم ہے۔گجرات یوسی سی میں اسلامی شریعت سے ماخود متعدد مذہبی احکام اور طریقہ کار کوممنوع اور قابل سزا قرار دیا گیا ہے۔ اور ان کی جگہ ہندو رسوم ونظریات کو مسلمانوں پر نافذ کیا جا رہا ہے، جیسے تعددازدواج کی اجازت، بعض قریبی رشتوں کے درمیان نکاح کی اجازت، طلاق کا اسلامی طریقہ ، وراثت اور جانشینی کے اسلامی اصول وغیرہ۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور متعدد دینی تنظیموں نے اتراکھنڈ کے یوسی سی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جو اس وقت زیر سماعت ہے۔
یہ امر نہایت افسوس ناک ہے کہ ایک غیر لازمی رہنما اصول کو نافذ کرنے کے نام پر شہریوں کے بنیادی حقوق اور مذہبی آزادیوں کو محدود کیا جائے۔ ایسا اقدام آئین کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً سیکولرازم، مساوات اور انصاف کے اصولوں کے صریحاََ منافی ہے۔مزید برآں، اس قانون کے نفاذ کا وقت بھی سوالات کو جنم دیتا ہے، کیونکہ ملک کی بعض ریاستوں میں ریاستی انتخابات اور گجرات کے بلدیاتی انتخابات سے قبل اس کی منظوری سیاسی مقاصد اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ آئینی قانون سازی کو سیاسی مصلحتوں کے تابع کیا جا رہا ہے۔
❤5
آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ اور مسلمانوں کی دینی و ملی تنظیمیں مطالبہ کر تی ہیں کہ اتراکھنڈ اور گجرات میں UCCکے نفاذ کو فوری طور پر روک دیاجائے، انہیں مکمل آئینی جانچ کے عمل سے گزارا جائے، اور عائلی قوانین میں کسی بھی ممکنہ اصلاح کو آئینی تحفظات، اسٹیک ہولڈرس سےوسیع تر مشاورت،اور قانونی تقاضوں کے مطابق ہی آگے بڑھایا جانا چاہئے۔

🎙️پریس کو مخاطب کر نے والے
مولانا محمد علی محسن تقوی، نائب صدر بورڈ ، امام وخطیب شیعہ جامع مسجد دہلی

مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی، نائب صدر بورڈ و صدرمرکزی جمیعت اہل حدیث ہند

جناب ملک معتصم خان، نائب امیر جماعت اسلامی ہند، رکن بورڈ

ایڈوکیٹ طاہرایم حکیم، ممبر مسلم پرسنل لا بورڈ

ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس ترجمان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

https://www.facebook.com/share/p/17XX2xeEQp/
❤1
*AIMPLB Rejects UCC in Uttarakhand and Gujarat, Calls It Constitutionally Unsustainable and Politically Motivated*

👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://www.facebook.com/share/p/1B2GaNQPR4/
New Delhi, April 3, 2026:
The All India Muslim Personal Law Board (AIMPLB) has strongly opposed the so-called Uniform Civil Code (UCC) recently passed by the Gujarat Legislative Assembly and earlier implemented in Uttarakhand, describing it as constitutionally flawed, legally untenable, and fundamentally violative of religious freedom and civil liberties.
Addressing the media in New Delhi, senior representatives of the Board said that the Gujarat UCC Bill, currently awaiting the Governor’s assent, has raised grave constitutional, legal, and democratic concerns among citizens across the country. The Board stated that the legislation, despite being labelled as a “Uniform Civil Code,” does not conform to the constitutional spirit and directly infringes upon the fundamental rights guaranteed under Part III of the Constitution, including the rights to religious freedom, equality, and personal liberty.
The Board underlined that the UCC is mentioned under Article 44 in Part IV of the Constitution as a Directive Principle of State Policy, which is not directly enforceable like fundamental rights. It stressed that any such code, in its true constitutional sense, must be uniformly applicable to all citizens throughout the country. However, the Gujarat law, the Board pointed out, neither applies nationwide nor uniformly within the State itself, as Scheduled Tribes and other constitutionally protected communities have been exempted.
“This legislation cannot be described as a genuine Uniform Civil Code. The nomenclature itself is misleading and deceptive,” the Board said.
Referring to the debates of the Constituent Assembly, the Board recalled that Dr. B. R. Ambedkar had clearly assured that no such law would be imposed upon citizens without public consent. It also noted that both the 21st and 22nd Law Commissions had sought public opinion on the issue, and that the AIMPLB had formally submitted its opposition and written arguments before the 21st Law Commission. The Commission had subsequently observed that, under prevailing circumstances, a UCC was neither necessary nor desirable.
The Board further expressed serious concern over the opacity surrounding the consultative process undertaken by the Gujarat Government. It stated that although a committee was constituted to seek public feedback, the report has not been made public, despite widespread opposition to the proposal.
“This raises serious questions about transparency and suggests that the consultative exercise was merely a procedural formality rather than a genuine democratic process,” the statement said.
The Board also termed the law an attempt to impose majoritarian social and cultural norms upon minority communities, particularly Muslims. It argued that issues such as marriage, divorce, inheritance, succession, and family law are integral to Islamic jurisprudence and religious practice, and any state interference in these matters violates the constitutionally guaranteed right to religious freedom.
According to the Board, several provisions rooted in Islamic personal law have been either criminalised or rendered legally invalid under the new code, while alternative frameworks based on majoritarian customs are being imposed.
The AIMPLB informed the media that the Uttarakhand UCC has already been challenged before the High Court by the Board and several religious organisations, where the matter is currently sub judice.
Expressing concern over the timing of the legislation, the Board said the move appears to be politically motivated, particularly in view of upcoming elections in several states and municipal polls in Gujarat.
❤5
“The timing of this legislation gives rise to a reasonable apprehension that constitutional law-making is being subordinated to electoral considerations and political expediency,” the statement observed.
The Board has demanded an immediate halt to the implementation of the UCC in both Uttarakhand and Gujarat, and called for a comprehensive constitutional review. It further urged that any future reforms in family laws must be undertaken only through broad-based consultation with all stakeholders, within the framework of constitutional guarantees and legal due process.

🎙Those addressing the press
included:
Ml. Md. Ali Mohsin Taqi, Vice President, AIMPLB and Imam & Khatib, Shia Jama Masjid, Delhi

Maulana Asghar Ali Imam Mehdi Salafi, Vice President, AIMPLB and President, Markazi Jamiat Ahl-e-Hadith Hind

Mr. Malik Moatasim Khan, Deputy Ameer, Jamaat-e-Islami Hind and Board Member

Advocate Tahir M. Hakim, Member, AIMPLB

Dr. S. Q. R. Ilyas, Spokesperson, AIMPLB
*فلسطینی قیدیوں کے سلسلے میں اسرائیل کا حالیہ قانون ظلم اور نسلی امتیاز پر مبنی ہے، حکومت ہند کو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے:* مولانا خالد سیف اللہ رحمانی _(صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)_

اسرائیلی پارلیمنٹ نے پچھلے دنوں جو قانون پاس کیا ہے، اس کے تحت جن فلسطینیوں پر اسرائیلی شہری کے قتل کے مرتکب ہونے کا الزام ہے، ان کو پھانسی کی سزا دی جائے گی، اگر اسرائیلی شہری فلسطینیوں کے خلاف اسی جرم کا مرتکب ہو تو اس کے لیے یہ سزا لازم نہیں، یہ سراسر انصاف اور شہریوں کے درمیان مساوات کے خلاف ہے اور بین اقوامی ضوابط کے مغایر ہے، پوری دنیا کی انصاف پسند قوتوں کو شدت کے ساتھ اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے، ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، اس لحاظ سے اس کا فرض ہے کہ وہ اسرائیل کے اس اقدام کی مخالفت کرے اور اپنی سیکولر روایات کو داغ دار نہ ہونے دے۔ ہماری حکومت کو یہ بات بھی ملحوظ رکھنی چاہیے کہ مہاتما گاندھی جی سے لے کر اٹل بہاری واجپائی تک ہندوستان نے ہمیشہ انصاف اور مظلوموں کی حمایت کے تحت فلسطین کے موقف کی حمایت کی ہے، اسرائیل کی توسیع پسندی کی مخالفت کی ہے، نیز بین الاقوامی مفادات اور معاشی وسماجی تعلقات کے پس منظر میں عرب ملکوں سے تعلق کو ترجیح دی گئی ہے؛ کیونکہ یہ ممالک ہمارا تعاون بھی کرتے ہیں اور ہندوستان کے فنی ماہرین کو بڑے پیمانے پر ان ملکوں میں روزگار حاصل ہوتا ہے، اس کے باوجود ہندوستان کا اسرائیل کے تئیں جھکاؤ نہایت افسوسناک ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی اس بدلتی ہوئی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور انصاف کا دامن نہ چھوڑے۔

*✍️ خالد سیف اللہ رحمانی*
صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
13شوال المکرم 1447ھ
2؍ اپریل 2026ء

https://www.facebook.com/share/p/1HeCYk1ThH/
❤9
🎯 *مسلمانان ہند کے نام حضرت مولانا عبداللہ مغیثی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ایک اہم پیغام* ضرور سنیں اور زیادہ سے زیادہ عام کریں۔

👇👇🏼👇👇🏼👇👇🏼👇
https://youtube.com/shorts/gd2VT2gE_L8?si=NvxiLo3NpCIEZACa

*🎯 भारत के मुसलमानों के नाम हज़रत मौलाना अब्दुल्ला मुग़ीसी साहब (रहमतुल्लाह अलैह) का एक अहम पैग़ाम* _ज़रूर सुनें और इसे ज़्यादा से ज़्यादा आम करें।_
*حضرت مولانا محمد عبداللہ مغیثی کی وفات ملت اسلامیہ ہند کےلئے بہت بڑا سانحہ*

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

حضرت مولانا محمد عبد اللہ مغیثی ملک کے اکابر علماء میں تھے ، انہیں اپنے عہد کے جلیل القدر اہل علم حضرت مولانا فخر الدین مرادآبادی ، علامہ بلیاوی رحمہما اللہ جیسے اکابر اساتذہ سے شرف تلمذ حاصل تھا، وہ دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فضلاء میں تھے ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے ان کو بڑا تعلق تھا ، وہ بورڈ کے رکن تاسیسی اور رکن عاملہ تھے ، ان کو حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ سے ارادت کی نسبت حاصل تھی اور ان کے مجاز تھے ، مظاہر علوم وقف کی مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی تھے ، حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ ان پر بے حد اعتماد کرتے تھے ، وہ شروع سے آل انڈیا ملی کونسل میں شامل رہے ، اور حضرت قاضی صاحب کے دست راست بن کر خدمت انجام دی ، وہ تزکیہ و اصلاح کی نسبت سے بھی ملک کے مختلف علاقوں میں مقبول تھے ، ان کے مواعظ بہت مؤثر اور دل آویز ہوتے تھے ، جن کو سن کر بہت سے نوجوانوں کی زندگیاں بدل گئیں ، وہ گلزار حسینیہ اجراڑہ میرٹھ کے ذمہ دار اعلیٰ تھے ، اور ان کی قیادت میں اس ادارہ کو وسعت اور شہرت حاصل ہوئی ، ملک کے مختلف علاقوں اور خاص کر مغربی یوپی میں ان کو بڑی مقبولیت حاصل تھی ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے ، اور ان کے چھوڑے ہوئے کاموں کو جاری رکھے ۔

✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر محمد وقارالدین لطیفی*
آفس سکریٹری
https://www.facebook.com/share/p/1Dqvaj35u1/
*حضرت مولانا محمد عبداللہ مغیثی کی وفات ملت اسلامیہ ہند کےلئے بہت بڑا سانحہ*

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

حضرت مولانا محمد عبد اللہ مغیثی ملک کے اکابر علماء میں تھے ، انہیں اپنے عہد کے جلیل القدر اہل علم حضرت مولانا فخر الدین مرادآبادی ، علامہ بلیاوی رحمہما اللہ جیسے اکابر اساتذہ سے شرف تلمذ حاصل تھا، وہ دارالعلوم دیوبند کے ممتاز فضلاء میں تھے ، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے ان کو بڑا تعلق تھا ، وہ بورڈ کے رکن تاسیسی اور رکن عاملہ تھے ، ان کو حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ سے ارادت کی نسبت حاصل تھی اور ان کے مجاز تھے ، مظاہر علوم وقف کی مجلسِ شوریٰ کے رکن بھی تھے ، حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ ان پر بے حد اعتماد کرتے تھے ، وہ شروع سے آل انڈیا ملی کونسل میں شامل رہے ، اور حضرت قاضی صاحب کے دست راست بن کر خدمت انجام دی ، وہ تزکیہ و اصلاح کی نسبت سے بھی ملک کے مختلف علاقوں میں مقبول تھے ، ان کے مواعظ بہت مؤثر اور دل آویز ہوتے تھے ، جن کو سن کر بہت سے نوجوانوں کی زندگیاں بدل گئیں ، وہ گلزار حسینیہ اجراڑہ میرٹھ کے ذمہ دار اعلیٰ تھے ، اور ان کی قیادت میں اس ادارہ کو وسعت اور شہرت حاصل ہوئی ، ملک کے مختلف علاقوں اور خاص کر مغربی یوپی میں ان کو بڑی مقبولیت حاصل تھی ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے ، اور ان کے چھوڑے ہوئے کاموں کو جاری رکھے ۔

✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر محمد وقارالدین لطیفی*
آفس سکریٹری
https://www.facebook.com/share/p/1Dqvaj35u1/
❤5
*Demise of Hazrat Maulana Hakim Muhammad Abdullah Mughisi: A Great Loss to the Muslim Community of India*
General Secretary, Board

New Delhi: April 5, 2026

The passing of Hazrat Maulana Hakim Muhammad Abdullah Mughisi, founding member and executive member of the All India Muslim Personal Law Board, Rector (Mohtamim) of Jamia Gulzar Husainiya Ijraṛa, President of the All India Milli Council, and a patron and trustee of numerous institutions, has caused a profound loss to the Muslim community of India.

These views were expressed by the General Secretary of the All India Muslim Personal Law Board, Hazrat Maulana Muhammad Fazlur Rahim Mujaddidi, in his statement. He noted that the late Maulana was deeply devoted to the concerns of the community. He regularly participated in the programs of the All India Muslim Personal Law Board and the Milli Council, offering his invaluable insights and guidance. He maintained a keen awareness of the changing conditions of the country.He was also a member of a prestigious institution like Darul Uloom Nadwatul Ulama and served as a member of the Majlis-e-Shura of Mazahir Uloom (Waqf).

The General Secretary further stated that the demise of Hazrat Maulana has created a significant void in the Muslim community of India, and particularly in Jamia Gulzar Husainiya Ijraṛa, where he spent a long span of 65 years. Indeed, he dedicated his entire life to this institution.

He prayed that Almighty Allah may fill this void through His unseen grace and grant a worthy successor to carry forward his unfinished work.

✍️ Issued by:
*Dr. Mohd. Vaquar Uddin Latifi*
_Office Secretary Board Office_

https://www.facebook.com/share/p/14WrAMG6Q5D/
❤6
🎯 *فضول رسموں کے بغیر ایک کامیاب نکاح...ایک دعوتِ عمل*

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
آج کے دور میں نکاح جیسے پاکیزہ اور آسان عمل کو بے جا رسم و رواج، فضول خرچی اور غیر ضروری تقاریب نے مشکل بنا دیا ہے، مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ اب بھی کچھ حضرات اس سنت کو اس کی اصل سادگی کے ساتھ زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسی کی ایک روشن مثال برادرِ مکرم محمد انس اشرفی صاحب (مہتمم مدرسہ مبلغ الاسلام، بیڑ) کا نکاح ہے، جو مکمل طور پر سادگی اور سنت کے مطابق انجام دیا گیا۔
الحمدللہ، اس نکاح کے لیے نہ کوئی شادی کارڈ چھپوایا گیا اور نہ ہی کسی قسم کی نمود و نمائش اختیار کی گئی، بلکہ محدود طور پر اطلاع دے کر اسے سادہ رکھا گیا۔
نکاح کی کارگزاری کچھ اس طرح رہی کہ: 2 اپریل کو بعد نمازِ عصر، مرکز مسجد بیڑ میں مجلس منعقد ہوئی۔ برادرِ محترم مفتی محفوظ الرحمن صاحب نے مختصر اور مؤثر بیان فرمایا، پھر خطبۂ نکاح پڑھایا۔ اس کے بعد باقاعدہ ایجاب و قبول ہوا، نکاح مکمل ہوا اور آخر میں مختصر دعا کے ساتھ مجلس اختتام پذیر ہوئی۔
اس موقع پر رشتہ داروں، احباب اور شہر کے معزز علمائے کرام نے شرکت فرمائی اور مبارکبادی و دعاؤں سے نوازا، تاہم نکاح کے بعد کسی قسم کی باقاعدہ دعوتِ طعام یا رسم کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ جس نے جہاں مناسب سمجھا، وہیں مبارکبادی پیش کی—چاہے مسجد میں یا گھر پر۔
اسی طرح رخصتی بھی نہایت سادہ انداز میں انجام پائی، جس میں لڑکے کی طرف سے صرف چند (4–5) قریبی افراد شریک ہوئے، اور بغیر کسی تکلف یا دعوت کے یہ مرحلہ مکمل ہوا۔
البتہ سنت کی پیروی میں اگلے دن گھر پر محدود پیمانے پر قریبی رشتہ داروں اور چند احباب کے ساتھ سادہ ولیمہ رکھا گیا، جس سے اس اہم سنت کی ادائیگی بھی بحسن و خوبی مکمل ہوئی۔
یہ طرزِ عمل دراصل ایک مضبوط اصلاحی فکر کا نتیجہ ہے۔ برادرِ مکرم کے والدِ محترم، مولانا عبد الباقی صاحب مرحوم، ایک باعمل عالمِ دین اور اصلاحِ معاشرہ کے سرگرم رہنما تھے۔ آپ شہر و ضلع بیڑ میں اصلاحِ معاشرہ کمیٹی کے تحت آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے کنوینر کی حیثیت سے نکاح کو آسان بنانے اور خرافات کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے رہے۔ اسی مقصد کے لیے آپ نے "گھر بنے جنت" کے عنوان سے تربیتی ورکشاپس بھی منعقد کیں، جن میں نوجوانوں اور خواتین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک کامیاب گھریلو زندگی کی رہنمائی دی جاتی تھی۔
چنانچہ محمد انس اشرفی صاحب کا یہ نکاح درحقیقت اسی اصلاحی فکر کا عملی نمونہ ہے، جو اصلاحِ معاشرہ کمیٹی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی "آسان مسنون نکاح مہم" کے تحت ایک قابلِ تقلید مثال بن کر سامنے آیا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس نکاح کو باعثِ برکت بنائے، دونوں کو خوشگوار اور کامیاب زندگی عطا فرمائے، اور ہمیں بھی سادگی کے ساتھ سنتوں کو زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=pfbid0QQgUbtbr6UshhM1bVRPnSniQdNcTUAXrVquhcryUwXmRxtcgsbGCo8Zw3Qze8d76l&id=100064780928667&mibextid=Nif5oz
❤12👍1