Khitab e juma 10 April 2026.pdf
2 MB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 319 ▪️
🗓 برائے تاریخ: 10 اپریل 2026 مطابق 21 شوال المکرم 1447
🎯 یونیفارم سول کوڈ شریعت اور آئینِ ہند کی روشنی میں
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9940
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
🗓 برائے تاریخ: 10 اپریل 2026 مطابق 21 شوال المکرم 1447
🎯 یونیفارم سول کوڈ شریعت اور آئینِ ہند کی روشنی میں
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9940
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤22👍4
Khitab e juma 17 April 2026.pdf
1.7 MB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 320 ▪️
🗓 برائے تاریخ: 17 اپریل 2026 مطابق 28 شوال المکرم 1447
🎯 موجودہ حالات میں اعلی تعلیم کی ناگزیر ضرورت اور مسلمان
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9941
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
🗓 برائے تاریخ: 17 اپریل 2026 مطابق 28 شوال المکرم 1447
🎯 موجودہ حالات میں اعلی تعلیم کی ناگزیر ضرورت اور مسلمان
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9941
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤20👍4
*آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد کا صوبہ اتراکھنڈ کا دورہ*
صوبہ اتراکھنڈ میں مسلمانوں کو درپیش سنگین مسائل، خاص طریقے پر یکساں سول کوڈ (UCC) کے غیر آئینی نفاذ اور مدارس کے خلاف بڑھتی یلغار اور دیگر مسائل و مشکلات کے پیش نظر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد صدرِ بورڈ *حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب* کی قیادت میں اتراکھنڈ پہنچا۔ اس دورے کا مقصد ملتِ اسلامیہ کی حوصلہ افزائی، قانونی رہنمائی اور موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمتِ عملی طے کرنا تھا۔ اس وفد میں صدر محترم کے علاوہ بورڈ کے جنرل سکریٹری *حضرت مولانا شاہ محمد فضل الرحیم مجددی صاحب* اور سکریٹری بورڈ *حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب* نیز بورڈ کے ترجمان *ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب* شریک تھے۔
وفد نے اپنے دورے کا آغاز ریاستی دارالحکومت دہرادون سے کیا۔ اس موقع پر بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے اتراکھنڈ میں یو سی سی کے نفاذ کو دستورِ ہند کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی آزادی پر شب خون مارنا جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے مدارس کو نشانہ بنائے جانے اور مسلمانوں کو درپیش دیگر سماجی و قانونی مشکلات پر بھی بورڈ کا موقف مضبوطی سے پیش کیا۔
شہر کی اہم اور بڑی مساجد میں بورڈ کے معزز عہدیداران کا خطاب بھی ہوا، جس میں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی اور بورڈ کا پیغام سماعت کیا۔
بعد نماز مغرب بندال گارڈن دہرادون میں علماء، خواص اور دانشوران کے لیے ایک اہم نشست کا انعقاد عمل میں آیا جس کی صدارت ڈاکٹر فاروق صاحب نے فرمائی۔ نشست کے آغاز میں جناب قاضی سلیم احمد صاحب(قاضی شریعت دارالقضاء، دہرادون) نے مہمانان کرام تعارف پیش کیا نیز مفتی توفیق الہی قاسمی صاحب نے نشست کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب تفصیلی خطاب کیا اور صدر بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے بھی اپنے مفید بیان کے ذریعے حاضرین کی رہنمائی فرمائی۔
اس نشست کا مرکزی محور اتراکھنڈ کے مسلمانوں کو موجودہ پرآشوب حالات میں لائحہ عمل فراہم کرنا تھا۔ بورڈ کی قیادت نے واضح کیا کہ:
حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں، مسلمانوں کو اپنی خاندانی زندگی اور ملی تشخص کے تحفظ کے لیے شریعتِ اسلامی پر سختی سے کاربند رہنا چاہیے۔ وفد نے مشورہ دیا کہ کسی بھی قسم کے جذباتی تصادم یا قانون سے ٹکرانے کے بجائے، آئینی دائرے میں رہ کر اپنے حقوق کی جنگ لڑی جائے اور قانونی پیچیدگیوں کو سمجھ کر ان کا حل نکالا جائے۔ اسی طرح موجودہ حالات میں باہمی اتحاد اور مقامی و مرکزی تنظیموں کے ساتھ تال میل کو وفد ناگزیر قرار دیا۔
اس نشست میں علاقے کی اہم شخصیات خاص طریقے پر حضرت مولانا شرافت علی قاسمی صاحب، جناب مولانا سید الظفر صاحب وغیرہ شریک ہوئے۔ نشست کے انعقاد میں حافظ شاہ نظر صاحب، ماسٹر عبد الستار صاحب، مولانا عبد المنان صاحب اور ارکان جمعیۃ العلماء اتراکھنڈ پیش پیش رہے۔ مقامی سطح پر عوام و خواص نے بورڈ کے اس اقدام کو بے حد سراہا اور اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
https://www.facebook.com/share/p/1Cqwc9kLTw
دہرادون میں کئی اہم نشستوں کا انعقادصوبہ اتراکھنڈ میں مسلمانوں کو درپیش سنگین مسائل، خاص طریقے پر یکساں سول کوڈ (UCC) کے غیر آئینی نفاذ اور مدارس کے خلاف بڑھتی یلغار اور دیگر مسائل و مشکلات کے پیش نظر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا ایک اعلیٰ سطحی وفد صدرِ بورڈ *حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب* کی قیادت میں اتراکھنڈ پہنچا۔ اس دورے کا مقصد ملتِ اسلامیہ کی حوصلہ افزائی، قانونی رہنمائی اور موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمتِ عملی طے کرنا تھا۔ اس وفد میں صدر محترم کے علاوہ بورڈ کے جنرل سکریٹری *حضرت مولانا شاہ محمد فضل الرحیم مجددی صاحب* اور سکریٹری بورڈ *حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب* نیز بورڈ کے ترجمان *ڈاکٹر قاسم رسول الیاس صاحب* شریک تھے۔
وفد نے اپنے دورے کا آغاز ریاستی دارالحکومت دہرادون سے کیا۔ اس موقع پر بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے اتراکھنڈ میں یو سی سی کے نفاذ کو دستورِ ہند کی روح کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی آزادی پر شب خون مارنا جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے مدارس کو نشانہ بنائے جانے اور مسلمانوں کو درپیش دیگر سماجی و قانونی مشکلات پر بھی بورڈ کا موقف مضبوطی سے پیش کیا۔
شہر کی اہم اور بڑی مساجد میں بورڈ کے معزز عہدیداران کا خطاب بھی ہوا، جس میں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی اور بورڈ کا پیغام سماعت کیا۔
بعد نماز مغرب بندال گارڈن دہرادون میں علماء، خواص اور دانشوران کے لیے ایک اہم نشست کا انعقاد عمل میں آیا جس کی صدارت ڈاکٹر فاروق صاحب نے فرمائی۔ نشست کے آغاز میں جناب قاضی سلیم احمد صاحب(قاضی شریعت دارالقضاء، دہرادون) نے مہمانان کرام تعارف پیش کیا نیز مفتی توفیق الہی قاسمی صاحب نے نشست کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ بعد ازاں حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب تفصیلی خطاب کیا اور صدر بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے بھی اپنے مفید بیان کے ذریعے حاضرین کی رہنمائی فرمائی۔
اس نشست کا مرکزی محور اتراکھنڈ کے مسلمانوں کو موجودہ پرآشوب حالات میں لائحہ عمل فراہم کرنا تھا۔ بورڈ کی قیادت نے واضح کیا کہ:
حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں، مسلمانوں کو اپنی خاندانی زندگی اور ملی تشخص کے تحفظ کے لیے شریعتِ اسلامی پر سختی سے کاربند رہنا چاہیے۔ وفد نے مشورہ دیا کہ کسی بھی قسم کے جذباتی تصادم یا قانون سے ٹکرانے کے بجائے، آئینی دائرے میں رہ کر اپنے حقوق کی جنگ لڑی جائے اور قانونی پیچیدگیوں کو سمجھ کر ان کا حل نکالا جائے۔ اسی طرح موجودہ حالات میں باہمی اتحاد اور مقامی و مرکزی تنظیموں کے ساتھ تال میل کو وفد ناگزیر قرار دیا۔
اس نشست میں علاقے کی اہم شخصیات خاص طریقے پر حضرت مولانا شرافت علی قاسمی صاحب، جناب مولانا سید الظفر صاحب وغیرہ شریک ہوئے۔ نشست کے انعقاد میں حافظ شاہ نظر صاحب، ماسٹر عبد الستار صاحب، مولانا عبد المنان صاحب اور ارکان جمعیۃ العلماء اتراکھنڈ پیش پیش رہے۔ مقامی سطح پر عوام و خواص نے بورڈ کے اس اقدام کو بے حد سراہا اور اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
https://www.facebook.com/share/p/1Cqwc9kLTw
❤10
*منگلور میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے عظیم الشان اجلاس*
_منگلور (ہریدوار):_ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد کے دورہ اتراکھنڈ کے ضمن میں ضلع ہریدوار کے قصبہ منگلور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت بورڈ کے صدر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ مفتی توفیق الہی قاسمی کی دعوت پر منعقد ہونے والے اس اجلاس کا انتظام و انصرام حضرت مولانا مفتی معصوم علی قاسمی صاحب (ناظم جامعہ عربیہ مدرسۃ المؤمنین منگلور وصدر اصلاح معاشرہ کمیٹی اتراکھنڈ) نے بحسن و خوبی انجام دیا۔ اس نشست میں بورڈ کے مرکزی قائدین نے موجودہ حالات کے تناظر میں ملتِ اسلامیہ کی دینی و قانونی رہنمائی کے لیے تفصیلی اور مبنی بر ہمت و حکمت پیغام دیا۔
حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں اس حقیقت پر زور دیا کہ دنیا کا بنایا ہوا کوئی بھی قانون مسلمانوں کو اپنی شریعت پر عمل کرنے اور اس کی حفاظت کرنے سے نہیں روک سکتا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ شریعت کی اصل حفاظت محض قانونی دفعات یا عدالتوں کے سہارے نہیں ہوتی، بلکہ اس کا دارومدار مسلمانوں کے عملی رویے پر ہے۔ آپ نے حاضرین کو یہ پیغام دیا کہ اگر مسلمان اپنی زندگیوں کو اسلامی سانچے میں ڈھال لیں اور شریعت پر مضبوطی کے ساتھ عمل پیرا ہو جائیں، تو کوئی بھی خارجی قوت ان کے مذہبی تشخص کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی صاحب نے مسلم پرسنل لا کی قانونی و سماجی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ پرسنل لا کا تحفظ دراصل ہماری مذہبی شناخت کا تحفظ ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی انفرادی، خاندانی اور سماجی زندگی میں شریعت کے احکامات کو اپنا شعار بنائیں اور حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے دین پر استقامت کا ثبوت دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شریعت پر عمل کرنا ہمارا آئینی حق بھی ہے اور مذہبی فریضہ بھی، جسے کسی بھی قیمت پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے آخر میں اختتامی اور صدارتی خطاب کرتے ہوئے صدرِ بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے علمائے کرام کو ان کی اہم ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ برادرانِ وطن کی جانب سے شریعتِ اسلامیہ پر کیے جانے والے اعتراضات کا "مجادلہ احسن" یعنی بہترین حکمتِ عملی اور مدلل جوابات کے ساتھ ازالہ کرنے کی بھرپور تیاری کریں۔ آپ نے مدارس کے تحفظ کے حوالے سے خاص طریقے پر یہ ہدایت دی کہ موجودہ قانونی محاصرے کو دیکھتے ہوئے ہر مدرسے کو اپنا ایک مستقل "لیگل ایڈوائزر" قائم کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی دشواری کا بروقت اور تکنیکی بنیادوں پر حل نکالا جا سکے۔ یکساں سول کوڈ (UCC) کے نفاذ کے حوالے سے آپ نے نہایت دور اندیشانہ رہنمائی فرمائی کہ قانون سے ٹکرائے بغیر شریعت پر عمل کرنے کا ایک مؤثر راستہ "وصیت کا قانون" ہے؛ مسلمان اپنی میراث کی تقسیم شریعت کے مطابق کرنے کے لیے قانون میں موجود وصیت کے اختیار کو استعمال کریں تاکہ وہ اپنی جائیداد کو اللہ کے حکم کے مطابق تقسیم کر سکیں۔ اس کے علاوہ آپ نے مسلمانوں کو اس بات کی بھی تاکید کی کہ وہ اپنے گھریلو اور عائلی تنازعات کو عدالتوں میں لے جا کر پیچیدہ بنانے کے بجائے مقامی سطح پر علماء کے ذریعے حل کرائیں اور معاشرے میں "فیملی کونسلنگ" کے نظام کو مضبوط بنائیں تاکہ خانگی زندگی میں انتشار کا خاتمہ ہو سکے۔
اس اہم نشست میں حضرت مولانا شرافت علی قاسمی (ناظم عمومی جمعیۃ العلماء اتراکھنڈ)، حضرت مولانا محمد ہارون صاحب (صدر جمعیۃ العلماء ہریدوار)، مفتی سلیم صاحب (رحمانیہ روڑکی)، مولانا طالب اور قاری زاہد (کلیر شریف) سمیت خطے کی دیگر اہم علمی و سماجی شخصیات نے شرکت فرمائی۔ یہ پروگرام اپنی جامعیت اور عملی پیغامات کی بدولت اتراکھنڈ کے مسلمانوں کے لیے موجودہ پرآشوب حالات میں حوصلے اور رہنمائی کا ایک مضبوط ذریعہ ثابت ہوا۔
_منگلور (ہریدوار):_ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد کے دورہ اتراکھنڈ کے ضمن میں ضلع ہریدوار کے قصبہ منگلور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت بورڈ کے صدر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ مفتی توفیق الہی قاسمی کی دعوت پر منعقد ہونے والے اس اجلاس کا انتظام و انصرام حضرت مولانا مفتی معصوم علی قاسمی صاحب (ناظم جامعہ عربیہ مدرسۃ المؤمنین منگلور وصدر اصلاح معاشرہ کمیٹی اتراکھنڈ) نے بحسن و خوبی انجام دیا۔ اس نشست میں بورڈ کے مرکزی قائدین نے موجودہ حالات کے تناظر میں ملتِ اسلامیہ کی دینی و قانونی رہنمائی کے لیے تفصیلی اور مبنی بر ہمت و حکمت پیغام دیا۔
حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں اس حقیقت پر زور دیا کہ دنیا کا بنایا ہوا کوئی بھی قانون مسلمانوں کو اپنی شریعت پر عمل کرنے اور اس کی حفاظت کرنے سے نہیں روک سکتا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ شریعت کی اصل حفاظت محض قانونی دفعات یا عدالتوں کے سہارے نہیں ہوتی، بلکہ اس کا دارومدار مسلمانوں کے عملی رویے پر ہے۔ آپ نے حاضرین کو یہ پیغام دیا کہ اگر مسلمان اپنی زندگیوں کو اسلامی سانچے میں ڈھال لیں اور شریعت پر مضبوطی کے ساتھ عمل پیرا ہو جائیں، تو کوئی بھی خارجی قوت ان کے مذہبی تشخص کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی صاحب نے مسلم پرسنل لا کی قانونی و سماجی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ پرسنل لا کا تحفظ دراصل ہماری مذہبی شناخت کا تحفظ ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی انفرادی، خاندانی اور سماجی زندگی میں شریعت کے احکامات کو اپنا شعار بنائیں اور حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے دین پر استقامت کا ثبوت دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شریعت پر عمل کرنا ہمارا آئینی حق بھی ہے اور مذہبی فریضہ بھی، جسے کسی بھی قیمت پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے آخر میں اختتامی اور صدارتی خطاب کرتے ہوئے صدرِ بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے علمائے کرام کو ان کی اہم ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ برادرانِ وطن کی جانب سے شریعتِ اسلامیہ پر کیے جانے والے اعتراضات کا "مجادلہ احسن" یعنی بہترین حکمتِ عملی اور مدلل جوابات کے ساتھ ازالہ کرنے کی بھرپور تیاری کریں۔ آپ نے مدارس کے تحفظ کے حوالے سے خاص طریقے پر یہ ہدایت دی کہ موجودہ قانونی محاصرے کو دیکھتے ہوئے ہر مدرسے کو اپنا ایک مستقل "لیگل ایڈوائزر" قائم کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی دشواری کا بروقت اور تکنیکی بنیادوں پر حل نکالا جا سکے۔ یکساں سول کوڈ (UCC) کے نفاذ کے حوالے سے آپ نے نہایت دور اندیشانہ رہنمائی فرمائی کہ قانون سے ٹکرائے بغیر شریعت پر عمل کرنے کا ایک مؤثر راستہ "وصیت کا قانون" ہے؛ مسلمان اپنی میراث کی تقسیم شریعت کے مطابق کرنے کے لیے قانون میں موجود وصیت کے اختیار کو استعمال کریں تاکہ وہ اپنی جائیداد کو اللہ کے حکم کے مطابق تقسیم کر سکیں۔ اس کے علاوہ آپ نے مسلمانوں کو اس بات کی بھی تاکید کی کہ وہ اپنے گھریلو اور عائلی تنازعات کو عدالتوں میں لے جا کر پیچیدہ بنانے کے بجائے مقامی سطح پر علماء کے ذریعے حل کرائیں اور معاشرے میں "فیملی کونسلنگ" کے نظام کو مضبوط بنائیں تاکہ خانگی زندگی میں انتشار کا خاتمہ ہو سکے۔
اس اہم نشست میں حضرت مولانا شرافت علی قاسمی (ناظم عمومی جمعیۃ العلماء اتراکھنڈ)، حضرت مولانا محمد ہارون صاحب (صدر جمعیۃ العلماء ہریدوار)، مفتی سلیم صاحب (رحمانیہ روڑکی)، مولانا طالب اور قاری زاہد (کلیر شریف) سمیت خطے کی دیگر اہم علمی و سماجی شخصیات نے شرکت فرمائی۔ یہ پروگرام اپنی جامعیت اور عملی پیغامات کی بدولت اتراکھنڈ کے مسلمانوں کے لیے موجودہ پرآشوب حالات میں حوصلے اور رہنمائی کا ایک مضبوط ذریعہ ثابت ہوا۔
❤15😢1
Khitab e juma 24 April 2026.pdf
5 MB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 321 ▪️
🗓 برائے تاریخ:
🎯 شریعت پر عمل ہی اس کے تحفظ کا اصل ضامن ہے
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9947
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
🗓 برائے تاریخ:
24 اپریل 2026 مطابق 06 ذی القعدہ 1447🎯 شریعت پر عمل ہی اس کے تحفظ کا اصل ضامن ہے
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9947
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤14👍3😢1
📢 *پونے والوں کے لیے ایک اہم اور ضروری پروگرام!* 📢
موجودہ حالات کے تناظر میں، معاشرتی مسائل کے حل اور شرعی رہنمائی کے لیے *"دارالقضاء"* کی اہمیت کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے لیے ایک عظیم الشان جلسہ عام کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
🎯 *موضوع:*
👤 *خصوصی شخصیات:*
*صدرِ مجلس:* حضرت مولانا *مفتی عتیق احمد صاحب قاسمی بستوی* دامت برکاتہم _(کنوینر دارالقضاء کمیٹی، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)_
*زیرِ سرپرستی:* حضرت مولانا *منصور احمد صاحب رحمانی* مدظلہ العالی _(سابق استاذِ حدیث، مدرسہ امداد العلوم یوسفیہ، ڈونڈ)_
*مہمانِ خصوصی:*
حضرت مولانا *محمد فضل الرحیم صاحب مجددی* دامت برکاتہم _(جنرل سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)_
📅 *تاریخ:* 2 مئی 2026ء، بروز سنیچر
🕙 *وقت:* صبح 10 بجے سے نمازِ ظہر تک
📍 *مقام:* آئینہ مسجد، اے ڈی کیمپ چوک، نانا پیٹھ، پونے - 2
*زیرِ اہتمام:* آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
*زیرِ انتظام:* مدرسہ دارالعلوم رشیدیہ، کونڈوا، پونے و دارالقضاء پونے
📌 *آپ تمام حضرات سے مع دوست و احباب شرکت کی مخلصانہ درخواست ہے۔*
✅ *اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ خیر کی یہ بات سب تک پہنچ سکے۔*
*الداعی:* قاضی مفتی محمد شاہد قاسمی (قاضی شریعت، پونے)
https://www.facebook.com/share/p/14e2G85dFcy/
موجودہ حالات کے تناظر میں، معاشرتی مسائل کے حل اور شرعی رہنمائی کے لیے *"دارالقضاء"* کی اہمیت کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی مقصد کے لیے ایک عظیم الشان جلسہ عام کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
🎯 *موضوع:*
موجودہ حالات میں دارالقضاء کی اہمیت و ضرورت👤 *خصوصی شخصیات:*
*صدرِ مجلس:* حضرت مولانا *مفتی عتیق احمد صاحب قاسمی بستوی* دامت برکاتہم _(کنوینر دارالقضاء کمیٹی، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)_
*زیرِ سرپرستی:* حضرت مولانا *منصور احمد صاحب رحمانی* مدظلہ العالی _(سابق استاذِ حدیث، مدرسہ امداد العلوم یوسفیہ، ڈونڈ)_
*مہمانِ خصوصی:*
حضرت مولانا *محمد فضل الرحیم صاحب مجددی* دامت برکاتہم _(جنرل سکریٹری، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)_
📅 *تاریخ:* 2 مئی 2026ء، بروز سنیچر
🕙 *وقت:* صبح 10 بجے سے نمازِ ظہر تک
📍 *مقام:* آئینہ مسجد، اے ڈی کیمپ چوک، نانا پیٹھ، پونے - 2
*زیرِ اہتمام:* آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
*زیرِ انتظام:* مدرسہ دارالعلوم رشیدیہ، کونڈوا، پونے و دارالقضاء پونے
📌 *آپ تمام حضرات سے مع دوست و احباب شرکت کی مخلصانہ درخواست ہے۔*
✅ *اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ خیر کی یہ بات سب تک پہنچ سکے۔*
*الداعی:* قاضی مفتی محمد شاہد قاسمی (قاضی شریعت، پونے)
https://www.facebook.com/share/p/14e2G85dFcy/
❤4
*📢 पुणे वासियों के लिए एक अहम और ज़रूरी प्रोग्राम! 📢*
मौजूदा हालात के मद्देनज़र, सामाजिक समस्याओं के समाधान और शरीअत की रोशनी में रहनुमाई के लिए "दारुल क़ज़ा" की अहमियत को समझना वक़्त की बड़ी ज़रूरत है। इसी मक़सद के लिए एक अज़ीम-उश-शान (भव्य) जल्सा-ए-आम का आयोजन किया जा रहा है।
*🎯 विषय (Topic):*
*👤 मुख्य हस्तियां (Speakers):*
सदर-ए-मजलिस: हज़रत मौलाना *मुफ़्ती अतीक़ अहमद साहब क़ासिमी बस्तवी* दामत बरकातुहुम _(संयोजक दारुल क़ज़ा कमेटी, ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड)_
ज़ेर-ए-सरपरस्ती: हज़रत मौलाना *मंसूर अहमद साहब रहमानी* मदज़िल्लहुल आली _(पूर्व उस्ताद-ए-हदीस, मदरसा इमदादुल उलूम यूसुफ़िया, दौंड)_
मुख्य अतिथि: हज़रत मौलाना *मोहम्मद फ़ज़लुर रहीम साहब मुजद्दिदी* दामत बरकातुहुम _(महासचिव, ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड)_
*📅 तारीख़:* 2 मई 2026, शनिवार
*🕙 समय:* सुबह 10 बजे से नमाज़-ए-ज़ोहर तक
*📍 स्थान:* आईना मस्जिद, ए.डी. कैंप चौक, नाना पेठ, पुणे - 2
*आयोजक:* ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड
*प्रबंधन:* मदरसा दारुल उलूम रशीदिया, कोंढवा, पुणे एवं दारुल क़ज़ा पुणे
*✅ इस पैग़ाम को ज़्यादा से ज़्यादा शेयर करें ताकि नेक काम की यह बात सब तक पहुँच सके।*
▪️ अल्दाई (निवेदक): *क़ाज़ी मुफ़्ती मोहम्मद शाहिद क़ासिमी* (क़ाज़ी-ए-शरीअत, पुणे)
https://www.facebook.com/share/p/1BB2yQ7ZDx/
मौजूदा हालात के मद्देनज़र, सामाजिक समस्याओं के समाधान और शरीअत की रोशनी में रहनुमाई के लिए "दारुल क़ज़ा" की अहमियत को समझना वक़्त की बड़ी ज़रूरत है। इसी मक़सद के लिए एक अज़ीम-उश-शान (भव्य) जल्सा-ए-आम का आयोजन किया जा रहा है।
*🎯 विषय (Topic):*
मौजूदा हालात में दारुल क़ज़ा की अहमियत और ज़रूरत*👤 मुख्य हस्तियां (Speakers):*
सदर-ए-मजलिस: हज़रत मौलाना *मुफ़्ती अतीक़ अहमद साहब क़ासिमी बस्तवी* दामत बरकातुहुम _(संयोजक दारुल क़ज़ा कमेटी, ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड)_
ज़ेर-ए-सरपरस्ती: हज़रत मौलाना *मंसूर अहमद साहब रहमानी* मदज़िल्लहुल आली _(पूर्व उस्ताद-ए-हदीस, मदरसा इमदादुल उलूम यूसुफ़िया, दौंड)_
मुख्य अतिथि: हज़रत मौलाना *मोहम्मद फ़ज़लुर रहीम साहब मुजद्दिदी* दामत बरकातुहुम _(महासचिव, ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड)_
*📅 तारीख़:* 2 मई 2026, शनिवार
*🕙 समय:* सुबह 10 बजे से नमाज़-ए-ज़ोहर तक
*📍 स्थान:* आईना मस्जिद, ए.डी. कैंप चौक, नाना पेठ, पुणे - 2
*आयोजक:* ऑल इंडिया मुस्लिम पर्सनल लॉ बोर्ड
*प्रबंधन:* मदरसा दारुल उलूम रशीदिया, कोंढवा, पुणे एवं दारुल क़ज़ा पुणे
📌 आप तमाम हज़रात से अपने दोस्तों और अज़ीज़ों के साथ शिरकत की पुरखुलूस दरख़्वास्त (विनम्र निवेदन) है।*✅ इस पैग़ाम को ज़्यादा से ज़्यादा शेयर करें ताकि नेक काम की यह बात सब तक पहुँच सके।*
▪️ अल्दाई (निवेदक): *क़ाज़ी मुफ़्ती मोहम्मद शाहिद क़ासिमी* (क़ाज़ी-ए-शरीअत, पुणे)
https://www.facebook.com/share/p/1BB2yQ7ZDx/
❤2
🔰 *آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیر اہتمام* 🔰
*🎯 اجلاس عام*
▪️بعنوان:
🗓️ تاریخ وقت :
*03 مئی 2026، بروز اتوار*
📍مقام: *مسجد جنت البقیع، گینڈا مال قبرستان، ستارا، مہاراشٹرا*
🎙️ زیر صدارت: *حضرت مولانا عتیق احمد بستوی صاحب*
(کنوینر دارالقضاء کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)
🎤 مہمانان خصوصی:
*حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب*
_(جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)_
*حضرت مولانا مفتی تبریز عالم صاحب*
_(آرگنائزر دارالقضاء کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)_
*حضرت مولانا قاضی اشفاق قاسمی صاحب*
(نائب کنوینر دار القضاء کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و قاضی شریعت دار القضاء آکولہ)
📌 *حضرات! ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا یہ فریضہ ہے کہ ہم اپنی زندگی اسلامی سانچے میں ڈھالیں اور اپنے معاملات بالخصوص نکاح، طلاق، وراثت اور عورتوں کے حقوق و دیگر خاندانی و معاشرتی مسائل کا فیصلہ شریعت اسلامیہ کے مطابق کرائیں۔ اسی دینی تقاضے کے پیش نظر ستار میں دارالقضاء کا افتتاحی پروگرام ہونے جارہا ہے، لہذا تمام مسلمانوں سے عموماً اور ستارا شہر و دیہات کے علماء وائمہ حضرات سے خصوصاََ گزارش ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک اجلاس ہو کر علماء کرام سے استفادہ کریں اور نظام قضاء کو استحکام وتقویت بخشیں!*
https://www.facebook.com/share/p/1GLt9z2CJV/
*🎯 اجلاس عام*
▪️بعنوان:
افتتاح دار القضاء و حلف قاضی شریعت، ستارا مہاراشٹرا🗓️ تاریخ وقت :
*03 مئی 2026، بروز اتوار*
بعد نماز مغرب (7:30 بجے سے) 📍مقام: *مسجد جنت البقیع، گینڈا مال قبرستان، ستارا، مہاراشٹرا*
🎙️ زیر صدارت: *حضرت مولانا عتیق احمد بستوی صاحب*
(کنوینر دارالقضاء کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)
🎤 مہمانان خصوصی:
*حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب*
_(جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)_
*حضرت مولانا مفتی تبریز عالم صاحب*
_(آرگنائزر دارالقضاء کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ)_
*حضرت مولانا قاضی اشفاق قاسمی صاحب*
(نائب کنوینر دار القضاء کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و قاضی شریعت دار القضاء آکولہ)
📌 *حضرات! ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا یہ فریضہ ہے کہ ہم اپنی زندگی اسلامی سانچے میں ڈھالیں اور اپنے معاملات بالخصوص نکاح، طلاق، وراثت اور عورتوں کے حقوق و دیگر خاندانی و معاشرتی مسائل کا فیصلہ شریعت اسلامیہ کے مطابق کرائیں۔ اسی دینی تقاضے کے پیش نظر ستار میں دارالقضاء کا افتتاحی پروگرام ہونے جارہا ہے، لہذا تمام مسلمانوں سے عموماً اور ستارا شہر و دیہات کے علماء وائمہ حضرات سے خصوصاََ گزارش ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک اجلاس ہو کر علماء کرام سے استفادہ کریں اور نظام قضاء کو استحکام وتقویت بخشیں!*
https://www.facebook.com/share/p/1GLt9z2CJV/
❤3
Khitab e juma 01 May 2026.pdf
4.4 MB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 322 ▪️
🗓 برائے تاریخ: 01 مئی 2026 مطابق 13 ذی القعدہ 1447
🎯 اسلام میں مزدور کے حقوق اور محنت کی عظمت
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9954
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
🗓 برائے تاریخ: 01 مئی 2026 مطابق 13 ذی القعدہ 1447
🎯 اسلام میں مزدور کے حقوق اور محنت کی عظمت
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9954
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
👍13😢4❤3
khitab e juma 08 MAY 2026.pdf
2 MB
▪️ #سلسلہ_خطاب_جمعہ نمبر: 323 ▪️
🗓 برائے تاریخ: 08 مئی 2026 مطابق 20 ذی القعدہ 1447
🎯 بدلتے ہوئے حالات اور توکل کی حقیقت
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9955
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
🗓 برائے تاریخ: 08 مئی 2026 مطابق 20 ذی القعدہ 1447
🎯 بدلتے ہوئے حالات اور توکل کی حقیقت
📌 خطاب جمعہ ڈاؤنلوڈ کرنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
https://t.me/AIMPLB_Official/9955
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
▪️ہر ہفتہ بورڈ کی طرف سے جاری ہونے والا خطبۂ جمعہ حاصل کرنے کے درج ذیل نمبر پر اپنا نام اور پتہ بذریعہ وہاٹس ایپ ارسال کریں:
http://wa.me/+918657219464
🎁 منجانب: سوشل میڈیا ڈیسک آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ
❤12👍4
*وندے ماترم کو لازمی قرار دینا غیر دستوری، مذہبی آزادی پر حملہ اور ناقابلِ قبول:*
نئی دہلی: 7/ مئی 2026
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی کابینہ کے اُس فیصلے کو سختی سے مسترد کیا ہے جس کے تحت وندے ماترم کو قومی ترانے ’’جن گن من‘‘ کے مساوی درجہ دینے، اس کے تمام چھ بند لازمی قرار دینے اور تمام سرکاری و تعلیمی اداروں کے پروگراموں میں جن گن من سے قبل پڑھنے کو ضروری بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بورڈ نے اسے دستورِ ہند کی بنیادی روح، مذہبی آزادی، سیکولر اقدار اور کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی کے تاریخی فیصلوں کے سراسر خلاف قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر یہ فیصلہ واپس لے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے بیان میں کہا کہ مرکزی کابینہ کا یہ فیصلہ نہ صرف غیر دستوری اور غیر جمہوری ہے بلکہ ملک کے مذہبی تنوع اور آئینی اقدار کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیکولر ریاست کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو تمام شہریوں پر زبردستی مسلط نہیں کر سکتی۔ وندے ماترم کے متعدد بندوں میں درگا اور دیگر دیوی دیوتاؤں کی مدح سرائی اور عبادت کا تصور موجود ہے، جو مسلمانوں کے بنیادی عقیدۂ توحید سے براہِ راست متصادم ہے۔ اسلام صرف ایک اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی تعلیم دیتا ہے اور کسی بھی نوع کے شرک کو قطعی طور پر قبول نہیں کرتا۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ خود کانگریس نے 1937 میں رابندرناتھ ٹیگور کے مشورے کے بعد یہ طے کیا تھا کہ وندے ماترم کے صرف ابتدائی دو بند ہی پڑھے جائیں، کیونکہ بعد کے بند مذہبی نوعیت رکھتے ہیں اور سبھی طبقات کے لئے قابلِ قبول نہیں۔ اسی حقیقت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے 1950 میں کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی نے بھی صرف پہلے دو بندوں کو قومی گیت کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ ایسے میں تمام چھ بندوں کو لازمی قرار دینا نہ صرف تاریخی اتفاقِ رائے سے انحراف ہے بلکہ ایک خطرناک اور اشتعال انگیز اقدام بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی وحدت و سالمیت، جبر، یکسانیت اور مذہبی بالادستی سے نہیں بلکہ آئین، باہمی احترام اور مذہبی آزادی کے تحفظ سے مضبوط ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ملک کے حساس مذہبی معاملات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے سے باز آئے اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہوں۔
بورڈ نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس نہ لیا تو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوگا۔
✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر محمد وقارالدین لطیفی*
_آفس سکریٹری_
https://www.facebook.com/share/p/1E7uWsuek7/
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈنئی دہلی: 7/ مئی 2026
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مرکزی کابینہ کے اُس فیصلے کو سختی سے مسترد کیا ہے جس کے تحت وندے ماترم کو قومی ترانے ’’جن گن من‘‘ کے مساوی درجہ دینے، اس کے تمام چھ بند لازمی قرار دینے اور تمام سرکاری و تعلیمی اداروں کے پروگراموں میں جن گن من سے قبل پڑھنے کو ضروری بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بورڈ نے اسے دستورِ ہند کی بنیادی روح، مذہبی آزادی، سیکولر اقدار اور کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی کے تاریخی فیصلوں کے سراسر خلاف قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر یہ فیصلہ واپس لے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے بیان میں کہا کہ مرکزی کابینہ کا یہ فیصلہ نہ صرف غیر دستوری اور غیر جمہوری ہے بلکہ ملک کے مذہبی تنوع اور آئینی اقدار کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سیکولر ریاست کسی مخصوص مذہبی تصور یا عقیدے کو تمام شہریوں پر زبردستی مسلط نہیں کر سکتی۔ وندے ماترم کے متعدد بندوں میں درگا اور دیگر دیوی دیوتاؤں کی مدح سرائی اور عبادت کا تصور موجود ہے، جو مسلمانوں کے بنیادی عقیدۂ توحید سے براہِ راست متصادم ہے۔ اسلام صرف ایک اللہ وحدہٗ لا شریک کی عبادت کی تعلیم دیتا ہے اور کسی بھی نوع کے شرک کو قطعی طور پر قبول نہیں کرتا۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ خود کانگریس نے 1937 میں رابندرناتھ ٹیگور کے مشورے کے بعد یہ طے کیا تھا کہ وندے ماترم کے صرف ابتدائی دو بند ہی پڑھے جائیں، کیونکہ بعد کے بند مذہبی نوعیت رکھتے ہیں اور سبھی طبقات کے لئے قابلِ قبول نہیں۔ اسی حقیقت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے 1950 میں کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی نے بھی صرف پہلے دو بندوں کو قومی گیت کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ ایسے میں تمام چھ بندوں کو لازمی قرار دینا نہ صرف تاریخی اتفاقِ رائے سے انحراف ہے بلکہ ایک خطرناک اور اشتعال انگیز اقدام بھی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی وحدت و سالمیت، جبر، یکسانیت اور مذہبی بالادستی سے نہیں بلکہ آئین، باہمی احترام اور مذہبی آزادی کے تحفظ سے مضبوط ہوتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ملک کے حساس مذہبی معاملات کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے سے باز آئے اور ایسے فیصلوں سے گریز کرے جو قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہوں۔
بورڈ نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس نہ لیا تو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوگا۔
✍️ جاری کردہ
*ڈاکٹر محمد وقارالدین لطیفی*
_آفس سکریٹری_
https://www.facebook.com/share/p/1E7uWsuek7/
Facebook
Log in or sign up to view
See posts, photos and more on Facebook.
❤3
*Making “Vande Mataram” Mandatory is Unconstitutional, an Assault on Religious Freedom, and Unacceptable:*
New Delhi, May 7, 2026
The All India Muslim Personal Law Board has strongly rejected the decision of the Union Cabinet to accord “Vande Mataram” a status equal to the National Anthem “Jana Gana Mana,” to make all six stanzas of the song compulsory, and to mandate its recitation before the National Anthem in all government and educational institutions. The Board has termed the move a direct violation of the basic spirit of the Constitution of India, religious freedom, secular values, and the historic decisions of the Constituent Assembly, and has demanded that the Government immediately withdraw this decision.
In a press statement, the spokesperson of the All India Muslim Personal Law Board, Dr. S. Q. R. Ilyas, said that the Cabinet’s decision is not only unconstitutional and undemocratic, but also contrary to the religious and cultural diversity and constitutional ethos of the country. He stated that a secular state cannot impose the religious concepts or beliefs of one community upon all citizens by force. Several stanzas of “Vande Mataram” contain invocations and glorification of Goddess Durga and other deities, which are in direct conflict with the Islamic doctrine of Tawheed (the absolute oneness of God). Islam permits worship only of Allah, the One without partner, and does not accept any form of shirk (associating partners with God).
Dr. Ilyas further pointed out that in 1937, following the advice of Rabindranath Tagore, the Congress had itself decided that only the first two stanzas of “Vande Mataram” should be used, since the later stanzas were religious in character and could not be acceptable to all sections of society. Keeping this reality in view, the Constituent Assembly in 1950 also accepted only the first two stanzas as the National Song. In such a situation, making all six stanzas compulsory is not only a departure from the historical consensus but also a dangerous and provocative step.
He further stated that the unity and integrity of the country cannot be strengthened through coercion, enforced uniformity, or religious majoritarianism, but only through adherence to the Constitution, mutual respect, and the protection of religious freedom. The government must refrain from exploiting sensitive religious issues for political purposes and avoid decisions that undermine communal harmony and national cohesion.
The Board made it clear that if the government does not immediately withdraw this decision, the All India Muslim Personal Law Board will be compelled to challenge it in court.
✍️ Issued by:
*Dr. M Vaqaruddin Latifi*
_Office Secretary_
https://www.facebook.com/share/p/1LrEBZwvMU/
All India Muslim Personal Law BoardNew Delhi, May 7, 2026
The All India Muslim Personal Law Board has strongly rejected the decision of the Union Cabinet to accord “Vande Mataram” a status equal to the National Anthem “Jana Gana Mana,” to make all six stanzas of the song compulsory, and to mandate its recitation before the National Anthem in all government and educational institutions. The Board has termed the move a direct violation of the basic spirit of the Constitution of India, religious freedom, secular values, and the historic decisions of the Constituent Assembly, and has demanded that the Government immediately withdraw this decision.
In a press statement, the spokesperson of the All India Muslim Personal Law Board, Dr. S. Q. R. Ilyas, said that the Cabinet’s decision is not only unconstitutional and undemocratic, but also contrary to the religious and cultural diversity and constitutional ethos of the country. He stated that a secular state cannot impose the religious concepts or beliefs of one community upon all citizens by force. Several stanzas of “Vande Mataram” contain invocations and glorification of Goddess Durga and other deities, which are in direct conflict with the Islamic doctrine of Tawheed (the absolute oneness of God). Islam permits worship only of Allah, the One without partner, and does not accept any form of shirk (associating partners with God).
Dr. Ilyas further pointed out that in 1937, following the advice of Rabindranath Tagore, the Congress had itself decided that only the first two stanzas of “Vande Mataram” should be used, since the later stanzas were religious in character and could not be acceptable to all sections of society. Keeping this reality in view, the Constituent Assembly in 1950 also accepted only the first two stanzas as the National Song. In such a situation, making all six stanzas compulsory is not only a departure from the historical consensus but also a dangerous and provocative step.
He further stated that the unity and integrity of the country cannot be strengthened through coercion, enforced uniformity, or religious majoritarianism, but only through adherence to the Constitution, mutual respect, and the protection of religious freedom. The government must refrain from exploiting sensitive religious issues for political purposes and avoid decisions that undermine communal harmony and national cohesion.
The Board made it clear that if the government does not immediately withdraw this decision, the All India Muslim Personal Law Board will be compelled to challenge it in court.
✍️ Issued by:
*Dr. M Vaqaruddin Latifi*
_Office Secretary_
https://www.facebook.com/share/p/1LrEBZwvMU/
❤13